( ملفوظ 426 ) مقصود معین نہ ہونے کی مثال

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ ان کیفیات کے متعلق جو میں نے بیان کیا تھا کہ اگر مقصود کی معین ہوں تو محمود ہیں مگر مقصود نہیں ۔
اس کی ایسی مثال ہے جیسے ایک بہلی ہے اس کو دو بیل لئے جا رہے ہیں مگر آہستہ آہستہ ایک اور تیسرا قوی بیل جوڑ دیا تو اب بہلی زیادہ زور سے چلنے لگی لیکن یہ تیسرا بیل نہ ہوتا تب بھی مسافت تو طے ہو رہی تھی اس تیسرے بیل کے نہ ہونے پر یاس نہ ہونا چاہئے کہ ہائے اب کیسے منزل مقصود پر پہنچیں گے انشاء اللہ پہنچ جاؤ گے گو وقت کچھ زیادہ صرف ہو ۔ اس سے معلوم ہو گیا ہوگا کہ ان کیفیات کا درجہ اس سے زیادہ نہیں اب اگر کوئی بیلوں ہی کو مقصود سمجھے یا اپنی شان شوکت تین ہی بیلوں پر سمجھتا ہو تو اس کا کسی کے پاس کیا علاج ہے ۔

( ملفوظ 424 )کیفیات کے پیچھے پڑنا درست نہیں

فرمایا کہ اس طریق کی حقیقت معلوم نہ ہونے کی وجہ سے بہت لوگ کیفیات کے پیچھے پڑے ہوئے ہیں چنانچہ کثرت سے ایسے خطوط آتے ہیں کہ ان میں یہی بھرا ہوتا ہے یہ نہیں ہوتا وہ نہیں ہوتا ۔ آج بھی ایسا ہی ایک خط آیا جس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ شخص بھی اپنے زعم باطل میں کیفیات ہی کو مقصود سمجھے ہوئے ہیں ایسے شخص کی کسی کیفیت میں اگر کبھی کمی آ جاتی ہے تو اس کو سخت پریشانی یا پشیمانی کا سامنا ہوتا ہے چنانچہ ایک بزرگ بڑھاپے میں روتے تھے کسی نے رونے کا سبب دریافت کیا تو فرمایا کہ میں تیس برس تک جہل میں مبتلا رہا حرارت غریزیہ کے نشاط کو جو جوانی میں ہوتا ہے نماز کی کیفیت سمجھتا رہا ۔ اب بڑھاپے میں جو وہ حالت نہیں رہی تب معلوم ہوا کہ وہ نماز کی کیفیت نہ تھی بلکہ جوانی کا جوش تھا اگر نماز کی کیفیت ہوتی تو بڑھاپے میں اس میں اور قوت ہوتی اسی لئے کہ اس کی تو یہ کیفیت ہوتی ہے جس کو فرماتے ہیں :
خود قوی تر میشود خمر کہن خاصہ آں خمرے کہ باشد من لدن
( پرانی شراب زیادہ قوی ہوتی ہے خاص کر وہ شراب جو قرب حق کی ہو ۔ 12 )
اور حقیقت میں یہ کیفیات نفسانی ہوتے ہیں عوارض نفسانیہ کے تغیر سے ان میں تغیر ہو جاتا ہے ۔ اس ہی لئے محققین اہل فن کہتے ہیں کہ یہ مقصود نہیں ہاں اگر کسی وقت مقصود کے معین بن جائیں تو محمود ہیں مگر مقصود نہیں ۔ اور اگر دین میں معین نہ ہوں تو پھر محمود بھی نہیں چنانچہ ریاضیات یا دوسرے عوارض سے یہ کیفیات کافر کو بھی حاصل ہو جاتی ہیں اور جو چیز کافر ، مسلم میں مشترک ہو وہ کبھی مقصود نہیں ہو سکتی ایسی کیفیات کافر کو حاصل ہو سکنے پر ایک واقعہ یاد آیا ۔
ایک مقام پر کلکٹر اور سپرنٹنڈنٹ پولیس کو کہ دونوں انگریز تھے مجلس سماع میں مدعو کیا گیا ۔ تھوڑی دیر کے بعد ایک نے دوسرے سے کہا کہ اس وقت ایسی حالت ہے کہ اگر تھوڑی دیر رہی تو شاید کرسی سے گر پڑوں دوسرے نے کہا میرا بھی یہی حال ہے ۔
آخر باہم مشورہ کر کے اٹھ کر چل دئیے اب بتلائیے کہ کیا کلکٹر اور سپرنٹنڈنٹ بھی بزرگ تھے یہ کیفیت تو ان پر بھی طاری ہوئی ۔ بس ان کیفیات کا درجہ اس سے زیادہ نہیں کہ اگر یہ کیفیات مقصود میں معین ہوں محمود ہیں ورنہ محمود بھی نہیں اور مقصود تو کسی حال میں نہیں آج لاکھوں اہل طریق ان فضولیات کی بدولت اصل مقصود سے لاکھوں بلکہ کروڑوں کوس دور پڑے ہوئے ہیں اور اگر یہ ہی کیفیات حاصل بھی ہو جاویں ، تب بھی ان کی آخرت میں کچھ بھی قدر نہ ہو گی وہاں صرف اعمال کی پوچھ ہو گی ۔ ظاہر کی بھی باطن کی بھی ان ہی اعمال کے رسوخ کے لئے یہ تمام مجاہدات ریاضات مراقبات مکاشفات اشغال ہیں جو ایک تدبیر کے درجہ میں ہیں باقی اصل مقصود عبادات ہیں وہاں وہی کام آئیں گے اور ان ہی کی قدر ہو گی اور جب ان کیفیات کا درجہ معلوم ہو گیا تو اگر ساری عمر بھی کسی پر کیفیات نہ طاری ہوں مگر وہ اعمال کی پابندی اور ان کی ادا کی کوشش و سعی میں لگا رہے تو اس کی عبادت میں ذرہ برابر کوئی نقص نہیں اور راز اس میں یہ ہے کہ یہ کیفیات وغیرہ نہ اختیاری ہیں اور نہ مامور بہ ۔ مامور بہ بھی وہی چیزیں ہیں جو اختیاری ہیں اور انسان ان ہی کا مکلف ہے اس ہی لئے میں کہا کرتا ہوں کہ شیخ کامل کی ضرورت ہے کہ وہ ان حقائق سے مطلع کرتا ہے اور غیر مقصود سے مقصود کی طرف لے جاتا ہے مگر آج کل اس تحقیق ہی سے لوگ گھبراتے ہیں اس ہی لئے میں اول مرتبہ میں سب معاملات طے کر لیتا ہوں اور بیعت کرنے میں عجلت نہیں کرتا کہ لوگ اس طریق کی حقیقت سے بے خبر ہیں ۔ بے خبری میں بیعت ہی کیا مفید ہو سکتی ہے اور یہ سب خلط مبحث ہوا جاہل صوفیوں اور پیروں کی بدولت ایسے ہی پیروں کی نسبت میں کہا کرتا ہوں کہ ان کے سب کے سب کمالات کا مقصود مالات ( یعنی مالیات ) ہیں مردہ دوزخ میں جائے یا بہشت میں انہیں اپنے حلوے مانڈے سے کام ۔

( ملفوظ 425 )کیفیات مقصود نہیں

ایک مولوی صاحب کے جواب میں فرمایا کہ آپ نے میری تقریر میں غور نہیں کیا جس کی وجہ سے آپ کو یہ شبہ ہوا میں تو کہہ چکا ہوں کہ یہ کیفیات مقصود نہیں ہاں اگر مقصود میں معین بن جائیں تو محمود ہیں مطلقا تو میں نے ان کی نفی نہیں کی بلا وجہ آپ مجھ پر الزام رکھتے ہیں قصور تو اپنے سننے کا اور ذمہ دار اس کا میں اس وقت خواہ مخواہ آپ نے طبیعت کو منقبض کر دیا ۔ آپ لوگوں کو کیا ہو گیا ۔ اب ایک ہی بات کو بیٹھا ہوا کھرل کئے جاؤں اور ہندی کی چندی کئے جاؤں اتنا دماغ کہاں سے لاؤں آپ جیسے لوگوں سے تعجب ہے کہ پوری بات نہ سنیں اور اس پر اعتراض کی صورت میں سوال وارد کر دیں مجھ کو اس وقت آپ کی وجہ سے سخت کلفت ہوئی آدمی کو کچھ تو فہم سے کام لینا چاہئے نواب بنے بیٹھے ہیں کچھ حس ہی نہیں آپ تو سوئی چھبو کر الگ ہوئے ۔ اب دوسرا کم بخت اس کی سوزش سے جھلا رہا ہے بلبلا رہا ہے ۔
عرض کیا کہ معافی چاہتا ہوں قصور ہوا فرمایا کہ کیا ان الفاظ سے وہ تکلیف بھی جاتی رہے گی معافی کو معاف ہے میں خدانخواستہ کوئی انتقام تھوڑا ہی لے رہا ہوں ۔ مگر آئندہ ایسی حرکت سے اجتناب رکھئے آپ کو معلوم نہیں کہ اس سے دوسرے کو کیا تکلیف پہنچتی ہے عرض کیا کہ اب آئندہ کبھی ایسی حرکت نہ کروں گا فرمایا کہ میں سوال کرنے کو منع نہیں کرتا ۔ مگر تمام تقریر کو محفوظ رکھتے ہوئے اگر کوئی شبہ وارد ہو ضرور سوال کیجئے میں انشاء اللہ ضرور جواب دوں گا ۔ باقی ویسے ہی بدوں سوچے سمجھے جو جی میں آیا ہانک دینا یہ تو رنج کا سبب ہو ہی گا ۔ میں تو کہا کرتا ہوں کہ تکلیف پہنچانے کا قصد تو نہیں ہوتا مگر اس کا بھی قصد نہیں ہوتا کہ تکلیف نہ پہنچے ساری خرابی بے فکری کی ہے ۔

( ملفوظ 423 )اہل بدعت کا جواب دینے کے لئے مجبورا اہل حق کو بولنا پڑا

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ فرق باطلہ اور اہل بدعت کی وجہ سے اہل حق کو کلام کرنا پڑا ورنہ اہل حق فی نفسہ اس قسم کے کلام کرنے کو پسند نہیں کرتے اس لئے کہ سلف سے منقول نہیں اور میں بھی پسند نہیں کرتا مجھ کو ہمیشہ سے اس قسم کے قیل و قال سے نفرت ہے مگر بیچارے اہل حق کو اہل باطل کی گڑبڑ کی وجہ سے بولنا پڑا اور یہ ان کا بولنا ضرورت کی وجہ سے تھا یعنی اول اہل بدعت نے دین میں شبہات نکالے اہل حق نے ان کو دلیل کے ساتھ دفع کیا جس سے صورت مناظرہ کی پیدا ہو گئی اور علم کلام مدون ہو گیا پس ایسے مسائل میں اہل حق مدعی نہیں بلکہ اہل بدعت مدعی ہیں اور اہل حق ان کے مقابلہ میں مانع ہیں پھر اضطرار کے ساتھ ہی یہ بھی تھا کہ اس کلام و مناظرہ کے کچھ حدود اور شرائط بھی تھے مگر بعض متاخرین نے اس کو بڑھا لیا اس حد تک رکھا نہیں اور تامل و تجربہ سے معلوم ہوا کہ اس قسم کے غیر ضروری قیل و قل کا کوئی نتیجہ بھی نہیں نکلتا ۔ بے کار وقت کھوتے ہیں اسی قیل و قال کو دین سمجھنے لگے اور اپنی فکر چھوڑ دی حالانکہ دوسروں کے درپے تو جب ہو جب اپنی حالت پر پہلے اطمینان ہو چکا ہو پہلے اپنی خبر لینی چاہئے حیدرآباد والے ماموں صاحب فرمایا کرتے تھے کہ بیٹا کہیں دوسروں کی جوتیوں کی حفاظت کی بدولت اپنی گٹھڑی نہ اٹھوا دینا ۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ دوسرے کی اصلاح اس قدر ضروری نہیں جس قدر اپنے دین کی حفاظت ضروری ہے ۔ پھر فرمایا کہ آج کل کے مناظروں میں اصول بے اصول کچھ نہیں دیکھا جاتا بس ہانکے چلے جاتے ہیں خواہ سیدھی ہو یا الٹی دیکھنے والے سمجھتے ہیں بڑا بولنے والا ہے اور خود مناظرین کو بھی یہ ہی پچ ہوتی ہے کہ حق منہ سے نکلے یا ناحق کسی طرح ہیٹی نہ ہو ۔ نیز اس شغل میں ایک خرابی یہ ہے کہ بعضے مضامین جن کو رد کیا جاتا ہے ایسے ہوتے ہیں کہ ان کا اظہار ہی گو رد ہی کے لئے مضر ہے ان کا اخفاء اور امانت ہی مناسب ہوتا ہے فرمایا کہ اظہار کر کے رد کرنے پر ایک حکایت یاد آئی ایک ولائتی ہندوستان آیا تھا اتفاق سے چور یا ڈاکوؤں سے مقابلہ ہوا اس میں زخمی ہو گیا ایک ہندوستانی نے غریب الوطن مسافر سمجھ کر اپنے مکان پر رکھ کر مرہم پٹی کی اور ہر قسم کی خبر گیری کی تندرست ہو گیا جب رخصت ہوا تو کہا کہ ہمارا یہ پتہ ہے تم اگر کبھی ہمارے وطن آئے گا ہم بھی تمہاری خدمت کرے گا تم ہمارا محسن ہے ہم کو بڑا آرام پہنچایا ایک عرصہ کے بعد بعض اتفاقات سے ایسا ہوا کہ یہ ہندوستانی اس طرف پہنچ گیا ۔ خیال ہوا کہ یہاں پر ہمارا ایک دوست ہے لاؤ اس سے ملاقات کر لیں تلاش کر کے اس ولائتی کے مکان پر پہنچا وہ ولائتی بڑا خوش ہوا اور ان کو مکان پر بٹھلا کر اور جلدی واپسی کا وعدہ کر کے کہیں چلا گیا گھر والوں نے دریافت کیا کہ آپ کون ہیں اور کہاں سے آئے ہیں اس نے سب واقعہ بیان کیا کہ میں ان کا دوست ہوں اور ہندوستان سے آیا ہوں اور میں نے اسکی یہ خدمت کی تھی گھر والوں نے کہا کہ تم اگر اپنی خیریت چاہتے ہو تو فورا واپس چلے جاؤ اسی لئے کہ وہ کہا کرتے ہیں کہ اگر کبھی ہمارا ہندوستانی دوست آ گیا تو ہم اس کو اسکے احسان کا بدلہ دے گا اس طرح سے کہ اس کو زخمی کر کے پھر اس کا علاج کرائے گا ھل جزاء الاحسان الا الاحسان تاکہ احسان کا بدلہ ہو سکے یہ سن کر بے چارا بھاگا ۔ سو ان مضامین کا اظہار کر کے ان کو رد کرنا بالکل ایسا ہی ہے جیسا اس ولائتی کا زخمی کر کے علاج کرانا مناظرین کو یہ طرز چھوڑ دینا چاہئے یہ طرز خطرہ سے خالی نہیں

( ملفوظ 422 )حقوق مدرسہ اور حقوق مدرسین جمع فرمانا :

ایک صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ میں ہمیشہ اس کی رعایت رکھتا ہوں کہ اہل علم پر کسی کی حکومت نہ ہو ۔ میں جب مدرسہ کانپور میں تھا وہاں ایک رجسٹر مدرسین کی حاضری کا تھا وہ مدرسہ کے کسی کارکن کے سپرد نہ تھا محض مدرسین کی دیانت پر ایک خاص موقع پر رکھ دیا گیا تھا کہ وہ مدرسہ میں اپنے آنے کا وقت اس میں خود لکھ دیا کریں ۔ میں نے محض اس خیال سے ایسا کیا تھا کہ ان پر کسی کی حکومت کرنا ان کے حقوق عظمت کے خلاف تھا اور مدرسہ کی رقم زائد دے دینا مدرسہ کے حقوق دیانت کے خلاف تھا اور اس معمول سے دونوں کے حقوق کا تحفظ ہو گیا مہینہ کے ختم پر منٹ تک جمع کر کے ان کی تنخواہ سے وضع کر لیا جاتا تھا اور میں خود بھی بلا واسطہ یا بواسطہ اہل علم پر حکومت کرنا پسند نہیں کرتا ۔

( ملفوظ 421 )طریقیت سے عدم مناسبت کا ایک واقعہ

فرمایا کہ اس طریق سے عدم مناسبت اور حقیقت سے بے خبری یہاں تک ہو گئی ہے کہ ایک صاحب مجھ سے خود اپنی حالت بیان کرتے تھے کہ میں ذکر و شغل کی حالت میں کبائر میں مبتلا تھا اور اس کو طریق کے لئے مضر نہ سمجھتا تھا کیا ٹھکانہ ہے اس جہل کا اس لئے سخت ضرورت ہے شیخ کامل کی تعلیم کی اور اس کی صحبت کی وہ اس طریق کا واقف ہے وہ اس راہ سے گذر چکا ہے اور یہ تعلیم تدریجا حالات کے پیش آنے پر ہوتی رہتی ہے اس لئے طالب کو مدت طویل تک استفادہ کے لئے آمادہ رہنا چاہئے واقعات مستقبلہ محتملہ کی ایک دم سے تحقیق نہ کرے کیونکہ شیخ بھی ایک جلسہ میں ایک تقریر میں سب اجزاء کے بیان کرنے پر قادر نہیں ہوتا ۔ اس لئے کہ بعض چیزیں ایسی ہیں کہ ان کا تعلق وقوع کی خصوصیات سے ہے جیسے طبیب کی تقریر متعدد تغیرات کے کل نسخے اور مرض کے کل اسباب ایک ہی جلسہ میں بیان نہیں ہوتے ۔ مثلا کبر کے اسباب مختلف ہیں اس کے علاج بھی مختلف ہیں اب یہ تشخیص کہ کبر ہے یا نہیں اور اگر ہے تو اس کا سبب کیا ہے یہ سب کچھ وقت پر شیخ ہی سمجھ سکتا ہے تو پہلے سے کلیات معلوم کرنے سے وقت پر انطباق کون کرے گا یہ ہی وجہ ہے کہ میں کہا کرتا ہوں کہ چندے شیخ کے پاس رہنے کی ضرورت ہے کیونکہ وقت وقت پر حالت بدلتی رہتی ہے جیسے مریض کو طبیب کے پاس رہ کر علاج کرانے کی ضرورت ہے ۔
بالکل اسی طرح مرید کو شیخ کے پاس رہ کر علاج کرانے کی ضرورت ہے اور یہ بالکل موٹی بات ہے جس کو میں بیان کر رہا ہوں کوئی باریک بات نہیں کہ کسی کی سمجھ میں نہ آئے غرض پاس رہ کر کام کرنے سے بڑی سہولت سے شیخ اس گھاٹی سے نکال کر لے جائے گا ۔ لیکن یہ نہ سمجھ لیا جاوے کہ سب کچھ شیخ ہی کرے گا وہ تو تدابیر کہلائے گا اور سہولت سے یہ ہی مراد ہے کہ طالب پر فکر کا بوجھ نہیں پڑے گا ۔ سب تدبیریں وہی بتلائے دے گا مگر اس تعلیم میں گو شیخ اس کی ہر ممکن رعایت کرے گا مگر اس کے تابع نہ ہو گا اس کی ایسی مثال ہے کہ ایک شخص نماز پڑھنا چاہتا ہے اور اس کو نماز نہیں آتی وہ کہتا ہے کہ مجھ کو نماز پڑھا دو تو اس سے کہا جائے گا کہ بھائی پہلے وضو کرو یا عذر ہو تو تیمم کرو تب نماز پڑھ سکتے ہو اس پر بجائے اس کے کہ اس کا تابع ہو اس کو اپنا تابع بنا کر وہ احمق یہ کہے کہ میرا مطلوب اور مقصود تو نماز ہے وضو یا تیمم تو میں نہیں کر سکتا ۔
اب بتلائیے نماز کیا خاک ہو گئی ہر کام طریق سے ہوتا ہے اب وہ وضو کی تنگی خیال کرے اور مقصود سے بے تعلق خیال کرے تو اس وقت یہ جواب دیا جاوے گا کہ جہاں بدوں وضو نماز پڑھائی جاتی ہو وہاں جا کر پڑھ لو ہم تو بے وضو نماز نہیں پڑھا سکتے غرض اس کا علاج شیخ کے پاس بھی نہیں کہ وہ خود کچھ نہ کرے اور اگر کرے تو اپنی رائے کو دخل دے یا جو طریق ہے کام کا اس سے اعراض کرے اور شیخ کی تعلیم کو تنگی پر محمول کرے ۔
ایک حکایت یاد آ گئی اس تنگی پر حضرت مولانا فضل الرحمن صاحب رحمۃ اللہ علیہ گنج مراد آبادی سے ایک صاحب نے عرض کیا کہ حضرت حنیفہ کا جو مذہب ہے مفقود الخبر کے متعلق اس میں حرج ہے حلانکہ ما جعل علیکم فی الدین من حرج ( اور تم پر دین میں کسی قسم کی تنگی نہیں کی ) فرمایا گیا ہے فرمایا ہاں جی واقعی اس میں بڑی حرج ہے اور جہاد میں اس سے بھی زیادہ حرج ہے جان دینی پڑتی ہے ۔ اس کو بھی دین سے خارج کرو ۔ فرمایا مولانا نے خوب ہی جواب فرمایا واقعی اگر ایسا ہے تو پھر تو کوئی چیز بھی اس حرج سے خالی نہ ملے گی ۔ پھر بے خبری پر فرمایا کہ ایک حکایت بیان کرتا ہوں اس سے بے خبری کا اندازہ ہو جائے گا کہ اس طریق کی تو کیا خبر ہوتی یہ تو پھر کسی قدر غامض ہے بعضے لوگ ایسی ضروری اور واضح چیزوں سے بے خبر ہیں جن کا تعلق عقائد اور ایمان سے ہے الہ آباد میں ایک بیرسٹر تھے مولوی کے لقب سے مشہور تھے انہوں نے مولانا محمد حسین صاحب الہ آبادی سے کہا کہ اب تو مسلمانوں کو سود لینے کی ضرورت ہے علماء کو چاہئے کہ اب اس کی اجازت دے دیں اس پر مولانا نے کہا کہ سود کو تو خود اللہ تعالی نے حرام فرمایا ہے علماء کو حلال کرنے کا کیا اختیار ہے اور ان کو وہ آیت تحریم کی پڑھ کر سنائی گئی بے چارے چونک اٹھے اور دونوں ہاتھوں سے اپنا منہ پیٹا کہ توبہ توبہ اور یہ کہا کہ خدا کی قسم مجھے معلوم نہیں تھا کہ سود کو خدا تعالی نے حرام فرمایا ہے میں تو یہ سمجھتا تھا کہ مولویوں نے یہ مسئلہ گھڑ رکھا ہے یہی اس کو بدل بھی سکتے ہیں ۔ حضرت یہ حالت ہے دینی معلومات کی ۔ کہ بیرسٹر تھے اور یہ خبر نہ تھی کہ یہ دین کا حکم ہے یا مولویوں نے اپنے گھر سے مسئلہ بنا رکھا ہے ۔
27 شوال المکرم 1350 ھ مجلس خاص بوقت صبح یوم یکشنبہ

( ملفوظ420 )جلالین کی تفسیر کے افتتاح کے لئے حضرت حکیم الامت کو دارالعلوم دیوبند بلانے کی دعوت

فرمایا کہ ایک بار بعض حضرات مدرسہ دیوبند سے مجھ کو لے جانے کے لۓ تشریف لاۓ تھے خصوص فلاں مولوی صاحب کا اس پر بے حد اصرار تھا اور خدمت یہ فرمائی تھی کہ مدرسہ میں حدیث شریف کا دورہ تو مدت سے ہوتا ہی ہے مگر تفسیر میں صرف جلالین شریف ہوتی ہے اب تجویز ہے کہ اور بعض کتب تفاسیر بھی نصاب میں بڑھا دی جائیں اور یہ کتابیں بھی سال بھر میں مثل حدیث شریف کے ہو جایا کریں ۔ بس اس کے افتتاح میں میری شرکت چاہتے تھے کہ تو شروع کرا دے ۔ میں نے سفر سے اپنی معذوری پیش کی مگر اس طرف سے برابر اصرار رہا میں نے کہا کہ اگر آپ کا ایسا ہی خیال ہے اس کی دوسری صورت یہ ہو سکتی ہے کہ بیس طلباء یہاں پر آ جائیں ان کا خرچ بھی میرے ذمہ ہو گا میں ان کو یہاں ہی شروع کرا دوں گا اور مقصود حاصل ہو جائے گا کہنے لگے مدرسہ دیوبند میں تو یہ تقریب نہ ہوتی ۔ میں نے کہا میں اس جگہ کو مستقل جگہ خیال نہیں کرتا بلکہ مدرسہ دیوبند ہی کی ایک شاخ سمجھتا ہوں آپ بھی یہ ہی خیال فرما لیں کہ جیسے مدرسہ کے متعدد کمرے اور حجرے ہیں یہ بھی اسی کی ایک دسگاہ ہے پھر اس طرف سے عرض کیا گیا کہ حضرت نے ایک مرتبہ دیوبند تشریف لانے کا وعدہ فرمایا تھا فرمایا جس حالت کی ضرورت سے میں نے وعدہ کیا تھا اب بحمد اللہ وہ حالت نہیں رہی ۔ ارتفاع علت سے معلول کا بھی ارتفاع ہو جاتا ہے اس واقعہ کو ختم کر کے پھر فرمایا خدا کا فضل و کرم ہے کہ یہ درس و تدریس کا کام اور جگہ اچھا ہو رہا ہے اب ہر شخص ایک ہی کام میں لگ جائے ۔ اس کی کون ضرورت ہے اور میں تو اب اس کام کا رہا ہی نہیں سب بھول بھال گیا جو کچھ لکھا پڑھا تھا ۔ اب مجھ سے وہ کام لینا چاہئے جس کام کو میں کر رہا ہوں ۔ سنار سے سونا چاندی کی چیز بنوانا چاہئے جیسے چھاگل پہنچی جھومکے اور لوہار سے لوہے کی چیز بنوانا چاہئے جیسے پھاوڑا کھرپہ ۔

(ملفوظ 419 )عملیات میں مؤثر چیز عامل کا خیال ہے :

ایک صاحب نے عرض کیا کہ میری عزیزہ پر آسیب کا اثر ہے اس کے لۓ تعویذ کی ضرورت ہے فرمایا کہ یہ کام عامل کا ہے میں اس فن سے واقف نہیں گو میں تعویذ لکھ دوں گا انکار نہیں مگر اس کا اتنا فائدہ نہ ہو گا جتنا کسی عامل کے تعویذ سے نفع ہوتا ہے ـ فرمایا کہ عملیات میں اصل مؤثر جو چیز ہے وہ عامل کا خیال ہے جو اس کو کرتا رہتا ہے اور مشتاق ہو جاتا ہے اکثر فورا اثر مرتب ہو جاتا ہے بخلاف غیر مشتاق کے کہ اس کا اس قدر اور جلد نفع نہیں ہوتا اور مجھ کو تو اس فن سے بالکل ہی مناسبت نہیں ـ ایک خرابی اس میں یہ دیکھی گئی کہ اکثر لوگ تعویذ گنڈہ کرنے والے کی بزرگی کے معتقد ہو جاتے ہیں خصوص جس کے تعویذ گنڈوں سے نفع ہو جاتا ہے حالانکہ بزرگی سے اس کو کوئی تعلق نہیں یہ تو ایسا ہی ہے جیسے کسی طبیب کے کسی نسخہ سے مرض کو شفاء ہو جاۓ اور اس کو بزرگ خیال کرنے لگیں مگر تعویذ دینے والے کے معتقد ہیں نہ معلوم اس میں اور اس میں کیا فرق کرتے ہیں ـ میرے نزدیک تو کوئ فرق نہیں دنیوی فن ہیں ـ
وجہ فرق کی صرف ایک سمجھ میں آتی ہے کہ طبیب کے علاج کو امر دنیوی سمجھتے ہیں اور عامل کے علاج کو امر دینی خیال کرتے ہیں اور عوام کا یہ خیال اس وجہ سے ہے کہ عملیات کا امور عالیہ قدسیہ سے تعلق ہے نیز اس کے علاوہ بھی ان تعویذ گنڈوں کے متعلق اکثر لوگوں کے عقائد بہت ہی خراب ہیں جس کا سبب جہل اور حقیقت سے بے خبری ہے ـ میں تعویذ لکھ ضرور دیتا ہوں مگر مجھ کو اس سے قطعا دل چسپی نہیں ـ

( ملفوظ 418 )مبارک خواب

فرمایا کہ ایک خط آیا ہے بہت سے خواب لکھے ہیں عجیب و غریب خواب ہیں مگر مجھ کو خواب کی تعبیر سے مناسبت نہیں ، اب اگر یہ عذر لکھتا ہوں تو ان کو مایوسی ہوتی ہے اگر نہیں لکھتا تو جہل میں مبتلا رہتے ہیں یہی کہیں گے کہ تعبیر جانتا ہے اسی لئے میں نے لکھ دیا ہے کہ یہ خواب اگر خیال بھی ہو تو ایسے خیال بھی مبارک ہیں ۔
26 شوال المکرم 1950 ھ مجلس بعد نماز ظہر یوم شنبہ

( ملفوظ 417 )تقوی کب کامل ہو گا ؟

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ تقوی اسی وقت کامل ہو گا کہ جب اس کے خلاف کے مقتضی اسباب ہوں اور پھر ان کو دبائے مثلا شہوت ہے اگر کوئی عنین ہو اور فجور سے بچے تو اس کو تقوی کا وہ خاص نور میسر نہ ہو گا جو ایسے شخص کو میسر ہو گا جو مرد ہو اور پھر اس سے اجتناب کرے عارف رومی فرماتے ہیں
شہوت دنیا مثال گلفن است کہ از و حمال تقوی روشن است
( دنیا کی شہوت مثل بھٹی ہے کہ جس سے تقوی کا حمام گرم ہوتا ہے ۔ 12 )
مثلا اگر کوئی عنین کہے کہ میں برا کام نہیں کرتا یا اندھا کہے کہ میں کبھی بدنگاہی نہیں کرتا تو کون سا کمال ہے جیسے مثلا یہ سامنے والی دیوار کہے کہ میں چوری نہیں کرتی تو کیا کمال ہوا ہاں اسباب ہوں اور اور پھر اجتناب ہو یہ ہے مجاہدہ جس سے لوگ گھبراتے ہیں یوں نہیں سمجھتے کہ انسان دنیا میں آسانی کے لئے تو نہیں آیا ارشاد فرماتے ہیں لقد خلقنا الانسان فی کبد کہ ہم نے انسان کو بڑی مشقت میں پیدا کیا ہے مگر اس مشقت کے سہل ہونے کے لئے ارادہ اور ہمت بھی ساتھ ساتھ پیدا فرما دی ہے اسی لئے یہ چاہئے کہ خواہ کیسی ہی کوئی مشکل آ پڑے صبر و استقلال کے ساتھ اس کو نکال دیا جاوے بس یہی جوہر انسانی ہے اسی استقلال کی مداومت اور استحضار سے بڑے بڑے رذائل اور جبلی چیزیں دب جاتی ہیں اور بڑے بڑے مشکل کام آسان ہو جاتے ہیں ۔