( ملفوظ 415 )جبلی اخلاق کا امالہ

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ جس قدر رذائل ہیں وہ مجاہدات ریاضیات سے دب جاتے ہیں زائل نہیں ہوتے بعنوان دیگر ازالہ نہیں ہوتا جبلت نہیں بدلتی ۔ جبلی اخلاق مجاہدہ و مقاومت کے بعد بھی باقی رہتے ہیں مگر مغلوب ہو جاتے ہیں یا یوں کہئے کہ دوسرے محل کی طرف راجع ہو جاتے ہیں ۔

( ملفوظ 416 )اسراف بخل سے زیادہ مذموم ہے

ایک صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ بخل اپنی ذات میں مذموم نہیں خاص مصرف کے اعتبار سے برا ہے ورنہ بدوں تھوڑے سے بخل کے انتظام مشکل ہے یہ تو بخل لغوی ہے باقی اگر شرعی بخل بھی ہو اس کی نسبت بھی میں ہمیشہ کہا کرتا ہوں کہ ایسا بخل برا ہے مگر اسراف اس سے بھی زیادہ برا ہے مگر عرف میں جس قدر بخل پر مطعون کرتے ہیں اسراف پر نہیں کرتے بلکہ اس کو مستحسن سمجھتے ہیں اور فضول اور بے ہودہ طریق پر مال ضائع اور برباد کرتے ہیں مثلا بیاہ شادی کے موقع پر یا کوئی مر گیا تو تیجہ اور چہلم پر کس قدر صرف کرتے ہیں یہ نہیں سوچتے کہ جہاں بخل کی مذمت ہے وہاں اسراف کی بھی تو مذمت ہے چنانچہ فرماتے ہیں :
ان اللہ لا یحب المسرفین
( بے شک اللہ تعالی پسند نہیں کرتے حد سے نکل جانے والوں کو )
بلکہ باعتبار آثار کے اسراف زیادہ مذموم ہے چنانچہ بخل کا نتیجہ صرف دوسرے کو نفع نہ پہنچانا ہے اور اسراف کا دوسروں کو ضرر پہنچانا کیونکہ جب اپنے پاس نہیں دوسروں کا مال ان کو دھوکے دیکر قرض وغیرہ کے نام سے لیکر اڑاتا ہے پھر ادا بھی نہیں کرتا نیز ہم نے مسرفین کو مرتد ہوتے دیکھا ہے مگر بخلیوں کو نہیں ۔

( ملفوظ 413 ) عورت پیر کو بھی بلا اذن شوہر خط نہیں لکھ سکتی

فرمایا کہ ایک بی بی کا خط آیا ہے کہ پہلے بھی انکا خط آیا تھا بیعت ہونے کو لکھا تھا مگر اس خط میں شوہر کی اجازت اور دستخط نہ تھے میں نے لکھا تھا کہ تمہارے اس خط میں نہ تمہارے شوہر کی اجازت ہے اور نہ دستخط ہیں اس لئے تمہارا یہ خط بھیجنا بیعت کے لئے بے اصول ہے ۔ آج کے خط میں ان کے شوہر کے دستخط ہیں اور لکھا ہے کہ میں بھی آپ ہی سی بیعت ہوں ان بی بی کو بیعت فرما لیجئے گا ۔ فرمایا کہ اب بتلائیے کہ میں نے ایسی کون سی سخت شرط لگائی تھی ۔ جس کو وہ پورا نہ کر سکتیں ۔ اس شرط میں یہ مصلحت ہوتی ہے کہ آئندہ جس کو جی چاہے خط لکھنا نہ شروع کر دیں اس سے ان کو یہ معلوم ہو گیا کہ جب پیر ہی کو بلا شوہر کی اجازت کے خط نہیں لکھ سکتی تو اور کسی کو لکھنا تو کب جائز ہو سکتا ہے اس میں دین کی حفاظت مقصود تھی نیز شوہر بھی خوش ہو گیا ہو گا کہ بیوی بڑی ہی فرمانبردار ہے بلا اجازت کچھ نہیں کرتی اصول کے تابع جو کام ہوتا ہے اس میں بڑی ہی مصلحت اور حکمت ہوتی ہے ۔

( ملفوظ 414 ) طریق عشق اور طریق اعمال

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ جب بزرگوں سے عقیدت نہیں تو نفع کیا خاک ہو گا اب تو ہوا پرستوں اور باطل پرستوں سے عقیدت ہوتی ہے جو شعبدے بازی دکھلا دیتے ہیں مگر ہمارے بزرگ ایسی باتوں کو پسند نہ فرماتے تھے یہی ضرر مجھ کو محبوب ہے ۔
پھر فرمایا کہ ایک طریق عشق ہے اور ایک طریق اعمال ہے اور اعمال دونوں میں ہوتے ہیں مگر اول میں اعمال باطنی کا غلبہ ہوتا ہے اور دوسرے میں اعمال ظاہرہ کا ۔ اور ایسے شخص کو قلندر کہتے ہیں جس کے اعمال ظاہری سے اعمال باطنی زیادہ ہوں مگر آج کل نہ ظاہر کو دیکھتے ہیں نہ باطن کو ۔ بلکہ یہ دیکھتے ہیں کہ شریعت یعنی احکام الہیہ سے اس شخص کو کس قدر بعد اور دوری ہے جس قدر بعد ہوتا ہے اسی قدر اس کو کامل اور پہنچا ہوا سمجھا جاتا ہے لیکن ایسوں کی گذر یہاں کہاں یہاں نہ شعبدہ ہے نہ کرامت نہ کشف نہ کیفیات بلکہ اس کا عکس ہے کہ قدم قدم پر روک ٹوک محاسبہ معاقبہ مواخذہ مطالبہ کہیں ریا کا علاج بتایا جاتا ہے کہیں حسد کا کہیں کہیں جاہ کا کہیں تکبر کا تو بھلا اس سے کیا جی خوش ہو کہیں خود رائی کو منع کرتے ہیں کہ اپنی رائے پر عمل نہ کرو اور مزید برآں یہ کہ اگر اپنے سے تعلق رکھنا بوجہ عدم مناسبت کے نافع ثابت نہیں ہوتا تو کسی دوسرے مصلح کا پتہ بتلا دیتا ہوں تو ایسے شخص سے تعلق ہی کیوں رکھئے جو اتنے بکھیڑے سر پڑیں اور جب مبادی ہی میں میری تمہاری رائے میں فرق ہے تو مقاصد میں کیسے اجتماع ہو سکتا ہے ۔

( ملفوظ 412 )ایک خط میں ایک مرض کا علاج

فرمایا کہ ایک خط آیا ہے لکھا ہے کہ میرے اندر چند امراض ہیں میں ان کو لکھ کر علاج چاہتا ہوں اگر اجازت ہو جواب میں یہ استفسار کیا گیا کہ ایک ہی خط میں یا ایک ایک مرض ایک ایک خط میں ۔ فرمایا کہ بعض لوگ ایک دم لکھتے چلے جاتے ہیں ایک ہی خط میں اچھی خاصی کتاب تصنیف ہو جاتی ہے ۔ سو اس طرح علاج نہیں ہوتا ۔

( ملفوظ 411 )مسلمان کو پریشانی سے بچانا عاقبت کا پہلا قدم ہے

فرمایا کہ ایک خط آیا لکھا ہے کہ صرف اس نیت سے حاضری کا ارادہ ہے کہ آنحضرت کے فیوض و برکات سے ہم تہی دامن بھی اپنی عاقبت سنوار سکیں جواب یہ دیا گیا کہ جس قدر آنے کے قبل سنوار سکتے ہیں وہ تو سنوار لیجئے پھر آنے کی گفتگو کیجئے ۔ مسلمان کو پریشانی سے بچانا بھی عاقبت سنوارنے کا اول اور ادنی قدم ہے آپ نے اپنا پتہ اردو کا نہ خط میں لکھا نہ لفافہ پر لکھا نہ لفافہ پتہ کا جواب کے لئے رکھا نہ میں انگریزی جانتا ہوں پھر فرمائیے کہ روانگی جواب کے وقت میں پریشان ہو گا یا نہیں سو اول اس کی اصلاح کیجئے پھر آگے لکھتے ہیں کہ میں فلاں خاں بہادر صاحب حاضر خدمت ہونا چاہتے ہیں جواب لکھا گیا کہ اگر ان کا خط آتا تو ان کو جواب دیتا آپ کو ان کے متعلق کچھ لکھنا خلاف اصول ہے ۔

( ملفوظ 410 )اظہار اسلام کا طریقہ :

فرمایا کہ ایک مولوی صاحب نے بھوپال میں ایک ہندوعورت کو مسلمان کیا اس پر مقدمہ چلا ان کی عدالت میں طلبی ہوئی حاکم نے دریافت کیا کہ تم نے اس عورت کو مسلمان کیا انہوں نے بیان میں کہا کہ مسلمان تو پہلے ہی ہو چکی تھی ( کیونکہ جب دل سے اسلام کو حق مان لیا تو باطن میں تو وہ شخص مسلمان ہو گیا ) میں نے مسلمان نہیں کیا اس نے مجھ سے اظہار اسلام کا طریقہ معلوم کیا میں نے وہ طریقہ بتلا دیا کہ کلمہ پڑھ لو اسلام کا اظہار ہو جائے گا اس پر عدالت دنگ رہ گئی ۔ جب اللہ تعالی عقل اور فہم فرماتے ہیں بڑی مشکل سے مشکل بات سہل اور آسان ہو جاتی ہے ۔

( ملفوظ 409 )مشتبہ نومسلم کے پیچھے نماز کا حکم

فرمایا کہ ایک خط آیا ہے لکھا ہے کہ اس شہر میں تین شخص نومسلم انگریرزی داں وارد ہوئے ہیں اب وہ نماز پڑھانے تک کے لئے تیار ہیں ایسے نومسلم مشتبہ الحال کے پیچھے امام راتب ( جو پہلے سے مقرر ہو ) کے ہوتے ہوئے اقتداء صحیح ہے یا نہیں اختلاف ہو رہا ہے ۔
فرمایا کہ یہ آج کل ایسا عام مرض چلا ہے کہ لوگ نئے آنیوالے کے بہت جلد معتقد ہو جاتے ہیں اور پرانوں کو چھوڑ دیتے ہیں اس کی بھی تحقیق نہیں کرتے کہ کس خیال کا ہے اور کس عقیدہ کا ہے اس خط میں یہ بھی لکھا ہے کہ یہاں پر کمیٹی ہو کر اس پر فیصلہ ہو گیا ہے کہ حضرت کو ثالث بنایا جائے جو حضرت والا طے فرما دیں اس پر سب کو عمل کر لینا چاہئے اس پر سب راضی ہیں کوئی خلاف نہیں ۔ جواب میں یہ لکھا گیا کہ اگر میری ثالثی پر راضی ہیں تو میں یہ فیصلہ کرتا ہوں کہ امام راتب ب تک باقاعدہ معزول نہ ہو اس سے افضل کو بھی حق امامت نہیں اور اگر معزول کرنے کی تجویز ہو تو معزول ہونے کے وجوہ اور دوسرے کی تقدیم کی وجوہ لکھ کر استفتاء کیا جاوے ۔

( ملفوظ 408 )آمین بالشر :

فرمایا کہ ایک مقام میں غیر مقلدوں اور حنفیوں کا آمین بالجہر پر جھگڑا تھا مقدمہ بازی کی نوبت آئی ایک انگریز تحقیق واقعہ کے لئے مقرر کیا گیا اس رپورٹ میں عجیب و غریب مضمون لکھا کہ میں نے تحقیق کیا تو احادیث میں آمین بالجہر اور آمین بالسر دونوں کا ثبوت معلوم ہو گیا مگر آمین بالشر کا کہیں ثبوت نہیں ہوا لہذا آمین کی تین قسمیں ہوئیں ، آمین بالجہر ، آمین بالسر ، آمین بالشر ، پہلی دو قسموں کی اجازت ہونا چاہئے اور آمین بالشر کی ممانعت ہونا چاہئے ۔
فرمایا کہ بعض غیر قوم کے لوگ بھی بڑے عالی دماغ ہوتے ہیں یہ شخص کیسا واقعہ کی حقیقت تک پہنچ گیا ۔ اور واقعی بعضے مدعیان عمل بالحدیث سنت سمجھ کر آمین بالجہر نہیں کہتے بلکہ شورش کی نیت سے وہ آمین بالشر ہی ہو جاتی ہے ۔

(ملفوظ 407)علم دین اور علم دنیا میں فرق :

فرمایا کہ ایک خط آیا ہے بڑی حسرت سے لکھا ہے کہ میرے پیٹ میں درد رہتا ہے اب ایم ۔ اے کے سخت امتحان کی کس طرح تیاری کروں فرمایا کہ ایک شخص نے ایسے امتحانوں کے متعلق خوب کہا ہے کہ :
آسان ہے حساب روز محشر ٭ مشکل ہے پر امتحاں روڈ کی
اور بالکل صحیح کہا ہے جس نے کہا ، نہ اس لئے کہ وہ اس سے زیادہ عظیم الشان ہے بلکہ اس لئے کہ وہاں تو رحیم وکریم سے سابقہ ہوگا یہاں بے رحم ڈاکوؤں سے اب یہ یچارے ناکامی کے احتمال پر پریشان ہیں ان کے دل کو کوئی چیز اطمینان دلانے والی نہیں سوائے یاس اور حسرت کے بخلاف علم دین کے کہ اس کا ہرجز ہرحال میں کار آمد ہے اس میں کسی وقت بھی طالب کو یاس اور حسرت نہیں ہوسکتی خواہ قلیل ہو یا کثیر خواہ اس کی تحصیل کے بعد دنیوی کا میابی نوکری وغیرہ ہو یا نہ ہو وجہ یہ کہ علم معاش میں تو مقصود دنیوی کامیابی ہی ہے وہ نہ ہوتو پھر حسرت ہی حسرت ہے بخلاف علم دین کے کہ وہاں مقصود آخرت کی کامیابی ہے اگر دنیوی کا میابی بھی نہ ہوتو آخرت کی کامیابی سے تو یاس نہیں اس لئے حسرت کی کوئی وجہ نہیں یہ فرق ہے علم دنیا اور علم دین میں پھر فرمایا کہ دنیوی مصیبت کے موقع کے لئے جناب رسول مقبول صلی اللہ علیہ و سلم نے ایک مراقبہ سکھایا ہے وہ یہ کہ جب کوئی مصیبت آتی ہے تو اس پر اجر ملتا ہے گناہ معاف ہوتے ہیں درجات بلند ہوتے ہیں اس مراقبہ سے آدھی مصیبت رہ جاتی ہے بلکہ بلکل ہی جاتی رہتی ہے دیکھئے اس میں بھی دین ہی کا کام آیا ۔