(ملفوظ 406) خانقاہ میں انسان بنانے کا کام

کسی نے علمی مسئلہ کی تحقیق کی اس پر فرمایا کہ کام بڑے کام جیسے درس و افتاء وامثالہا بڑے حضرات کررہے ہیں دوسرے یہ کام اور جگہ یہاں سے اچھا ہورہا ہے میں تو وہ کام کررہا ہوں کہ اور جگہ ہو بھی نہیں رہا ۔ اور ہے بھی چھوٹا کام اسی لئے مجھ سے بڑے کام لینا انصاف کے خلاف ہے یہ ایسا ہی ہے کہ جیسے کوئی شخص لوہار سے سنار کا کام لے یہ کتنی بے انصافی کی بات ہے ۔ پھر فرمایا کہ نہ میں عالم بنانا جانتا ہوں نہ میں بزرگ بنانا جانتا ہوں میں تو آدمی بنانا جانتا ہوں اگر اس سے آگ کوئی چاہے تو وہ کہیں اور جائے پھرآدمی بنانے کا جو طریقہ میرے یہاں ہے یہ چونکہ اس وقت دوسری جگہ ہے نہیں اس وجہ سے لوگوں کی نظر میں بات نئی ہوگی ۔ ورنہ واقع میں پرانی ہی ہے پھر فرمایا جن لوگوں مجھ سے بے تکلفی کا تعلق نہیں ان کو مجھ سے ایسی علمی گفتگو کرنا نہ چاہئے ۔ ہاں جن کو پہلے سے یعنی اس تعلق تربیت کے قبل سے بھی مجھ سے بے تکلفی بھی ہے ان وکو اجازت ہے ۔
25 شوال المکرم 1350 ھ مجلس بعد نماز ظہر یوم جمع

(ملفوظ 405 )مشایخ نے ایک زمانہ میں بیعت کرنا چھوڑ دیا تھا

فرمایا کہ ہاتھ پرہاتھ رکھ کر بیعت کرنے کی رسم ایک زمانہ میں مشائخ نے بھی خلفاء کے بدگمان ہونے کی وجہ سے چھوڑ دی تھیں اس لئے کہ خلفاء کو اس سے شبہ ہوتا تھا کہ یہ بھی مثل سلاطین کے بیعت لیتے ہیں حالانکہ سلاطین اورمشائخ کی بیعت میں فرق تھا ان کی اور قسم کی تھی ان کی اور قسم کی تھی اور اگر یہ ہیت بیعت کی ایسی ضروری چیز ہوتی جیسا اکثر اہل رواج سمجھتے ہیں کہ بدوں ہاتھ درہاتھ بیعت ہوہی نہیں سکتی تو لازم آئے گا کہ عورتیں کبھی بیعت ہی نہیں ہوسکتیں اس لئے کہ ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر ان کو بیعت کرنا بوجہ حرمت مس اجنبیہ کے جائز نہیں ۔

(مفلوظ 404)دوسروں کے اخلاق درست فرمانا :

ایک ذاکر شاغل مقیم خانقاہ سے حضرت والا نے انکی کسی کوتاہی پرمواخذہ فرماتے ہوئے فرمایا کہ مجھ کوتو بدنام کیاجاتا ہے کہ سخت ہے ان کی نرمی کوکوئی نہیں دیکھتا یہ کیا کرتے ہیں ۔ اب اگر ان کے اخلاق درست کروں تم میرے اخلاق خراب ہوتے ہیں اور اگراپنے اخلاق کی درستی کرتا ہوں اورمتعارف اخلاق اختیار کرتا ہوں تو ان کے اخلاق بگڑتے ہیں میں سوچ رہا ہوں کہ اپنے ہی اخلاق درست کروں ۔

(ملفوظ 403)بلا ضرورت شدید شرعی ذریعہ معاش چھوڑنا مناسب نہیں

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ ایک شخص نے بلا وجہ نوکری چھوڑدی تھی پھرباوجود بے کوشش اور سعی کے بھی تمام عمر نوکری نہیں ملی ۔ فرمایا کہ اپنے ذریعہ معاش کو چھوڑنا بلا ضرورت شدید شرعی مناسب نہیں یہ بھی ایک قسم کی ناشکری اور کفران نعمت ہے ۔ حضرت حاجی صاحب رحمتہ اللہ علیہ فرماتے کرتے تھے کہ ضعفاء کو نا جائز ذریعہ کی کوشش میں لگارہے اورحکمت یہ بیان فرمایا کرتے تھے کہ اب معصیت ہی میں مبتلا ہے اسباب معاش چھوڑ دینے کے بعد افلاس ہوگا اور اسی سے جو پریشانی ہوگی اس میں اندیشہ کفرکا ہے اوراب معصیت وقایہ ہورہی ہے کفر کا ۔ فرمایا کہ کیس حکیمانہ بات فرمائی ہاں اگر جائزصورت مل جائے تو اس وقت اس ناجائز کو چھوڑ دے ۔

(مفلوظ 402)عذر کی اطلاع دینا بھی ایفاء عہد ہے

فرمایا میں ایک مرتبہ دیوبند سے کسی جگہ جاتا ہوا شاہ عبدلرحیم صاحب رحمتہ اللہ علیہ رائے پوری کے پیر سے ملا ہوں ان کا نام بھی شاہ عبدالرحیم ہی تھا ۔ اچھے بزرگ تھے سہارنپور ہی میں ملاقات ہوئی ۔ یہ مجھے صحیح یا د نہیں رہا انھوں نے فرمایا تھا کہ پھر بھی ملنا یا میں نے خود غرض کیا تھا کہ میں اس سفر سے واپسی میں حاضر ہونگا مگر دیوبند دوسری طرف سے چلا آیا دیوبند پہنچکر خیال آیا کہ بزرگوں سے وعدہ کرکے خلاف کرنا اچھا نہیں خلاف ادب ہے میں نے دیوبند سے لکھا کہ میں اس عذر کی وجہ سے کہ دیوبند دوسرے راستہ سے چلا آیا حاضری سے مجبوررہا عذر کی وجہ سے وعدہ خلافی ہوئی جوابی ٹکٹ بھی بھیجا تھا مگر جواب آیا کہ عذر کی اطلاع دے دینا بھی ایفاء وعدہ ہی ہے وعدہ خلافی نہیں فرمایا کہ بزرگوں کی باتیں بھی بزرگ ہوتی ہیں ۔ کیسے کام کی بات فرمائی اور انھوں نے میرے لیئے دعائیں کیں ۔ میرے پاس بزرگوں کی دعاؤں کی ہی پونجی ہے اورعمل وغیرہ جیسے کچھ ہیں ان کی حقیقت تومجھ کو ہی معلوم ہے ۔

(ملفوظ 401)عورتوں کے لئے بلا وجہ سفرکا حکم

عورتوں کے پردہ کے متعلق ذکر تھا کہ بے حد بے احتیاطیاں ہورہی ہیں ۔ فرمایا کہ والد صاحب مرحوم کا قصہ ہے وہ اسکے سخت مخالف تھے کہ عورتوں کو ریل میں سفر کرایا جائے ۔ فرمایا کرتے تھے کہ پردہ کی احتیاط ریل کے سفر میں رہ نہیں سکتی اسلیئے اس سے منع فرمایا کرتے تھے ۔ ایک مرتبہ والدہ صاحبہ کو کانپور لے گئے یہاں سے کانپور تک بیل گاڑی میں سفرکیا البتہ حج کے سفر میں مجبور تھے ۔ پھر فرمایا کہ میں عورتوں کے سفر کو بلا ضرورت اچھا نہیں سمجھتا حتی کہ بیعت کے لئے بھی سفر کرنے کو منع کرتا ہون ۔ ایک بی بی سفر کرکے بیعت کے لیے آئی تھیں میں ان پربہت ناراض ہوا کہ محض بیعت لے لئے سفر کرنے کی کیا ضرورت تھی اور میں نے انکوبیعت نہیں کیا ۔ بلا بیعت کیے ہوئے واپس کیا ۔ اس میں مصلحت تھی کہ یہ اوروں سے جاکر کہیں گی اس لئے اورعورتیں بھی ہمت نہ کریں گی ۔
ایک قصبہ ہے یہاں سے قریب وہاں سے ایک مجمع عورتوں کا چھکڑا پھرا ہوا آیا دریافت کرنے پر معلوم ہوا کہ سب بیعت کے ارادہ سے آئی ہیں ۔ میں نے ان کو ڈانٹا اور بیعت نہیں کیا ۔ اور یہ کہا کہ یہ غرض توخط کے ذریعے سے بھی پوری ہوسکتی تھی پھر بلا ضرورت سفر کیوں کیا انکونا گوار بھی ہوا آپس میں ذکر کیا کہ یہ مولوی اچھا نہیں گنگوہ والا مولوی بہت اچھا تھا ترت (یعنی برا ہونے پرتو میں بھی متفق ہوں مگر بیعت نہ کروں گا۔

(ملفوظ 400)شوہر کے لئے کھانا پکانے کا حکم :

ایک صاحب نے سوال کیا کہ عورتیں جوکھانا پکاتی ہیں کیا یہ شرعا ان کے ذمہ ہے فرمایا کہ میں تو ذمہ نہیں سمجھتا ۔ مگر ایک مولوی صاحب فرماتے ہیں کہ قضاء تو نہیں مگر دیانتہ ان کے ذمہ ہے اور میں سمجھتا ہوں کہ دیانتہ بھی ان کے ذمہ نہیں البتہ جس وقت شوہر حکم دے وہ اطاعت روج کے تحت میں لازم ہوجاویگا اور میں اس آیت سے استدلال کرتا ہوں ومن ایتہ ان خلق لکم من انفسکم ازواجا التسکنوا الیھا وجعل بینکم مودۃ ورحمۃ لتسکنوا سے معلوم ہوتا ہے کہ عورت جی بہلانے کے واسطے ہے روٹیاں پکانے کے واسطے نہیں ، وہ مولوی صاحب اس کو فی نفسہ واجب فرماتے ہیں میں اس کوفی نفسہ واجب نہیں سمجھتا ایک صاحب نووارد جن کو ایسی مخاطبت کی اجازت نہ تھی مجلس میں حاضر تھے انھوں نے عرض کیا کہ ان کا مستدل کیا ہے ۔ فرمایا کہ کیا یہاں پرفقہی مسائل کی تحقیق کے لئے آپ تشریف کائے ہیں یہ کام تو اور بہت جگہ ہورہا ہے اور یہاں سے اچھا ہورہا ہے یہاں پرجس کام کے لئے آئے ہو اس کے متعلق پوچھو بتاؤنگا میں نے تو یہ نسبت دوسری جگہوں کے بڑے کاموں کے ایک چھوٹا سا کام اپنے ذمہ لے رکھا ہے کہ قاعدہ بغدادی پڑھاتا ہوں فقہ کی تحقیق کے لئے بڑے بڑے حضرات بڑی بڑی جگہ میں موجود ہیں خواہ مخواہ غیر ضروری سوال کرکے مجھ کو پریشان کیا مجھے ایسی باتوں سے بڑی کلفت ہوتی ہے ۔ اب دنیا بھر کے استدلالات بھی میں ہی بیان کروں کہ ان کا یہ مستدل ہے ۔ ایسی باتوں سے دل تنگ ہوتا ہے البتہ اگر کوئی مصلح خود اپنی رائے سے ایسے گفتگو کرے تو یہ اس کا تبرع ہے جیسے حضرت حاجی صاحب رحمتہ اللہ علیہ نے مکہ معظمہ میں ایک غیرمقلد عالم سے گفتگو فرمائی تھی ۔ گفتگو اس پر تھی کہ وہ غیر مقلد صاحب یہ کہتے تھے کہ مدینہ شریف کا سفر قصدا اس نیت سے کرنا کہ حضورصلی اللہ علیہ وسلم کے مزار مبارک کی زیارت کروں گا جائز نہیں حضرت انکی تمام باتوں کا نہایت مدلل جواب فرماتے رہے ۔ اخیر میں وہ غیرمقلد صاحب کہنے لگے کہ خیر مسجد نبوی کی زیارت کا قصد کرے ورضہ مبارک کی زیارت کا قصد نہ کرے حضرت نے فرمایا کہ آپ کی عقل بھی عجیب ہے کہ جس کی فضیلت بالذات ہے اس کا تو قصد نہ کرے اورجس کی فضیلت بالعرض ہے کیونکہ مسجد نبوی کی فضیلت تو آپ کی ذات مقدس ہی کی بدولت ہوئی ہے اس کا قصد کرے انھوں نے کہا کہ فرض وواجب توہے ہی نہیں جس کا اس قدر اہتمام کیا جائے حضرت نے فرمایا کہ بے شک فتوے سے تو واجب نہیں مگر طریق عشق سے توواجب ہے اخیر میں حضرت نے فرمایا کہ اللہ تعالٰٰ آپکو ہدایت فرما دے کہنے لگے مجھ کو اسکی ہدایت نہ کرے مگر اتفاقی بات کہ اسی روز بیت الحرام میں حکومت کی طرف سے غیرمقلدوں کی پکڑ دھکڑ شروع ہوگئی ۔ یہ حضرت بھی پکڑے گئے ان سے بھی توبہ کرائی گئی اور یہ کہا گیا کہ توبہ اس پر معلق ہے کہ مدینہ کا سفر کریں تو انھوں نے بھی اونٹ کرایہ کیا اور مدینہ شریف پہنچ گئے ۔

(ملفوظ 399)مولانا محمد قاسم نانوتوی صاحب متعلق حق تلفی :

ایک صاحب نے آجکل کی حالت بیان کرتے ہوئے عرض کیا کہ دغا بازی اورحق تلفی تو عام ہوگئی ہے فرمایا کہ حضرت مولانا محمد قاسم صاحب رحمتہ اللہ علیہ اس کے متعلق ایک عجیب لطیفہ فرمایا کرتے تھے کہ اگر کوئی مسلمان حق تلفی کبھی کرے تو مسلمان ہی کے ساتھ کرے کافر کے ساتھ نہ کرے تاکہ گھر کی نعمت گھرہی رہے اسلیئے کہ مسلمان کی نیکیاں مسلمان ہی کومل جائیں گی ۔ اسی سلسلہ میں فرمایا کہ ایک بزرگ تھے انکو ایک شخص گالیاں دیا کرتا تھا وہ بزرگ اسکی مالی امداد روپیہ پیسے سے کرتے تھے اس نے محسن سمجھ کر گالیاں دینی چھوڑ دیں ان بزرگ نے روپے پیسے دینے بند کردیئے اس شخص نے تعجب سے پوچھا حضرت یہ کیا بات ۔ فرمایا کہ بھائی دنیا لینے دینے کی جگہ ہے ۔ تم نے مجھے دینا چھوڑدیا ۔ میں نے تمھیں دینا بند کردیا تم مجھ کو نیکیاں دیتے تھے کہ نماز ورزہ کرو خود اور دیدو مجھے ، میں تمھیں روپیہ پیسے دیدیا کرتا تھا تم دینا شروع کردو ۔ دیکھوپھرہم دیتے ہیں یا نہیں بھائی میں تو تم کو اپنا محسن سمجھتا تھا کہ اپنی نیکیاں مجھ کو دیتے تھے پھر فرمایا کہ اللہ والوں کی شان ہی جدا ہوتی ہے ۔
25 شوال المکرم 1350 ھ مجلس خاص بوقت صبح یوم جمعہ

(ملفوظ 398) متعدد حکایات متعلق تعویذ :

فرمایا ایک عورت کا خط آیا ہے لکھا ہے کہ میں انڑیس پاس کرنا چاہتی ہوں ۔ میں نے امتحان دیا تھا ناکامیاب رہی آپ کوئی تعویذ دیدیں کہ میں کامیاب ہوجاؤں فرمایا کہ ان عورتوں کو کس مصیبت نے مارا یہ ان چیزوں کو حاصل کرکے کیا تیرچلائیں گی سوائے دین برباد کرنے کے اور یہ تو بے چاری عورتیں ہیں اس علم دنیا خصوص انگریزی کی بدولت تو مردوں کا دین بھی برباد ہوگیا ۔ پھر تعویذ کی مناسبت سے فرمایا کہ حضرت سید صاحبہ ہرکام کے لئے ایک ہی تعویذ یعنی یہ لکھ دیا کرتے تھے ،، خداوندااگر منظورداری حاجتش رابرآری ۔ اور اس ہی سے لوگوں کے کام نکل جاتے تھے ۔ حضرت شاہ عبدالقادرصاحب رحمتہ اللہ علیہ کے پاس ایک شخص بھنگ بیچنے آیا آکر عرض کیا کہ حضرت دکان نہیں چلتی بھنگ نہیں بکتی ایک تعویذ دیدیجئے آپ نے ایک پرچہ پرکچھ لکھ کردے اور فرمایا کہ جس سونٹے سے بھنگ گھونٹا کرتے ہو اس کو اس میں باندھ دینا خوب بھنگ بکنا شروع ہوگئی ، بعض طالب علموں کو شبہ ہوا کر بھنگ ایک حرام چیز اس کے لئے تعویذ دیدیا یہ تواعانت علی المعصیۃ ہے اتفاق سے وہ شخص اطلاع کرنے حاضرہوا آپ کو اس وسوسہ کا بھی علم ہوگیا اس شخص پینا لکھا ہے وہ تو پیویں ہی گے سواسی کی دکان سے لے لیا کریں ،، تب لوگوں کی آنکھیں کھلیں کہ اس میں اعانت علی المعصیۃ کیا ہوئی ۔
معلوم ہوا کہ ان حجرات پراعتراض کرنا ہی لغو ہے البتہ یہ شبہ ہوسکتا ہے کہ اس شخص کو نہی عن المنکر کیوں نہ کیا ۔ سویہ کیا فرض ہے کہ اسی مجلس میں کیا کریں کسی مناسب موقع پرکردیا ہوگا پھر اس مناسبت سے کہ یہ حضرات متعارف تعویذات کے پابند نہیں ہوتے ان کے معمولی الفاظ میں بھی برکت ہوتی ہے یہ حکایت بیاب فرمائی ۔ کہ ایک مرتبہ حضرت گنگوہی رحمتہ اللہ علیہ کے پاس ایک شخص آیا نکاح کے لئے ایک جگہ بے حد کوشش کرتا تھا مگر نکاح نہ ہوتا تھا حضرت مولانا سے عرض کیا کہ یہ صورت ہے حضرت نے ایک تعویذ لکھا مضمون اس کا یہ تھا کہ ،، اے اللہ ! میں کچھ نہیں جانتا اور یہ تمہارا بندہ مانتا نہیں یہ تمہارا غلام تم جانو تمہارا کام ،، اس کی برکت سے نکاح ہوگیا حاصل اس کا یہ تھا کہ اس شخص کے معاملہ کوخدا کے سپرد کردیا اس کی برکت سے کام ہوگیا اللہ اکبر!ان حضرات کی باتیں کیسی عجیب وغریب ہوتی ہیں اوریہ سب فضل ہے ۔
پھر فرمایا کہ اس بات پرکہ ان حضرات پراعتراض کرنا حماقت ہے ایک قصہ یاد آیا کہ دہلی میں ایک درویش تھے وہ بیٹھے ہوئے یہ کہ رہے تھے کہ ،، نہ تو میرا خدا نہ میں تیرا بندہ ۔ پھرمیں تیراکہنا کیوں کروں ،، اس پرلوگوں کو غصہ بھڑک رہا تھا اورکفر فتوے دے رہے تھے آخر ایک آدمی ان کو پکڑ کر قاضی کے اجلاس میں لے گئے کہ دیکھئے ! کہ کہہ رہا ہے کہ شرعی حکم اور سزا دیجئے ۔ قاضی صاحب نے درویش سے سوال کیا کہ شاہ صاحب یہ آپ کس کو کہہ رہے ہو؟ درویش ہنسا اورکہا کہ تمام دہلی شہر میں ایک شخص کوتو عقل ہے ورنہ سارے بے وقوف ہی آباد ہیں ۔ میں اپنے نفس سے خطاب کررہا ہوں میرا نفس مجھ سے کوئی چیز طلب کررہا ہے میں اسے کہتا ہوں کہ نہ تو میرا خدا نہ میں تیرا بندہ میں تیرا کہنا کیوں کروں ۔ توحضرت !اکثر حقیقت سے بے خبری اعتراض کا سبب ہوتی ہے ۔ پھر فرمایا کہ تعویذ گنڈوں کے بارہ میںلوگوں کے خصوص عوام کے عقائد بہت خراب ہوگئے ہیں چنانچہ عام طور پرایک غلط خیال یہ پھیل رہاہے کہ نفع شرط اجازت کو سمجھتے ہیں خود بعض لوگ مجھ کو لکھتے ہیں کہ اعمال قرآنی آپ کی کتاب ہے آپ اس کی اجازت دیدیں میں لکھ دیتا ہوں کہ مجھے خود کی عامل کی اجازت نہیں کیا ایسے شخص کا اجازت دینا کافی ہوسکتا ہے اس کاکوئی جواب ہی نہیں آتا ۔
سود سے متعلق اپنی رائے پوچھنے پراظہار افسوس :
ایک سلسلہ مضمون پرفرمایا کہ ایک ڈپٹی کلکڑ یہاں پرآئے تھے مجھ سے سوال کیا کہ آپ کا سود کے متعلق کیا خیال ہے یہ سوال کا طرز بھی جدید تعلیم یافتہ لوگوں کا ہے آپ کا کیا خیال ہے میں نے کہا کہ میرا کیا خیال ہوتا میں تو مسلمان آدمی ہوں مذہبی آدمی ہوں ۔ اللہ ورسول کا جو حکم ہے وہی خیال ہے وہ یہ ہے کہ حق تعالٰی فرمانے ہیں واحل اللہ البیع وحرم الربوا ( حالانکہ اللہ تعالٰی نے بیع کو حلال فرمایا ہے اور سود کو حرام کردیا ہے ) کہنے لگے کہ فلاں صاحب ( ایک جاہل ) دہلوی اس آیت کی اور تفسیر کرتے ہیں میں نے کہا اگر اسکی تفسیر معتبر ہے تو وہ قانون جس سے آپ فیصلے کرتے ہیں مجھ کودیجئے میں اسکی شرح لکھوں گا پھر آپ اس شرح کی موافق فیصلے کیا کیجئے جو یقینا فلاں شخص کی شرح کے موافق ہے جولکھا پڑھا ہے اس پرجوجواب آپ گورنمنٹ کی طرف سے ملے گا وہ ہی جواب میری طرف سے ہے اورجن کا آپ نام لے رہے ہیں وہ کیا جانیں کہ تفسیر کسے کہتے ہیں ۔

(ملفوظ 397)غیرمقلدوں کے مذہب کا حاصل :

ایک سلسلہ مضمون میں فرمایا کہ ایک مولوی صاحب نے مجھ سے ایک حکایت بیان کی کہ ایک شخص نے ان سے کہا کہ فلاں فلاں بزرگ سماع سنتے تھے ان مولوی صاحب نے جواب دیا کہ ہربزرگ میں کچھ کمزوری ہوتی ہے اگر ہرایک میں اس کی کمزوری کو لے کر جمع کرکے عمل کیا جاوے تودین تو کچھ رہے گا ہی نہیں ۔
پھرفرمایا کہ حضرت مولانا محمد یعقوب رحمتہ اللہ علیہ فرمایا کرتے تھے کہ اکثر غیر مقلدوں کے مذہب کا حاصل مجموعہ رخص ( رخصتوں پرعمل کرنا ) ہے جس کا نتیجہ اکثر بددینی ہے ۔
21شوال المکرم 1350 ھ مجلس بعد نماز ظہر یوم دوشنبہ