ایک صاحب کی بے ڈھنگی پن کی گفتگو سے حضرت والا کو اذیت پہنچی اس کی شکایت کا اظہار فرماتے ہوئے فرمایا کہ میں یہ واقعہ اس واسطے ظاہر کرتا ہوں کہ سب کے کانوں میں پڑجائے اور سب کو معلوم ہوجائے کہ ایسی بات دوسروں کی اذیت کا سبب ہوتی ہے گودارو گیر کے اس طرز سے میں بدنام ہوتا ہوں مگر بدنامی ہوا کرے اورحضرت عام نیک نامی تو کسی حالت میں بھی نہیں ہوسکتی پھر اس پر ایک حکایت بیان فرمائی کہ ایک شخص مع اہل وعیال سفر میں چلا خود گھوڑی پرسوار بیوی بچوں کو پیدل ہمراہ لیا ایک گاؤں پرگذر ہوا لوگوں نے دیکھ کر کہا کہ کیسا سنگدل ادمی ہے بچوں اور بیوی کو پیدل مار رکھا ہے اور ہٹا کٹا خود چڑھا جارہا ہے سمجھا کہ ٹھیک کہہ رہے ہیں خود اترلیا اور بیوی کو سوار کردیا پھر ایک گاؤں پر گذر ہوا لوگوں نے کہا کہ زن مرید ایسے ہی ہوتے ہیں جورو کا غلام ۔ خود پیدل مصیبت اٹھا رہا ہے اور اس کو بیگم بناکر سوار کر رکھا ہے سمجھا کہ یہ بھی ٹھیک کہہ رہے سب سوار ہوگئے ایک گاؤں ملا لوگوں نے دیکھ کرکہا کہ ارے ! اس گھوڑے کو کیوں ترسا ترسا کر مارا ایک گولی نہ ماردی دیکھ ! کتنے آدمی لئے آخرسب اترلئے اورلگام پکڑ کر چلا ۔ لوگوں نے دیکھ کرکہا کہ دیکھو نا شکرے ایسے ہوتے ہیں خدا تعالٰی نے گھر کی سواری دی پھر سب مررہے ہیں۔ارے باری باری چڑھتے اترچلے جاتے دوسرے جب سوارہی ہونا نہ تھا تو ساتھ لے کر چلنے کی کون سی ضرورت تھی گھر پر ہی باندھ آنا تھا ۔ تب یہ سمجھا کہ جب کو ئی شق بھی اعتراض سے محفوظ نہ رہی اورسب پر ہاتھ صاف کیا گیا تو ایسی تیسی میں جائیں اب جو اپنے جی میں آئے گا اس پر عمل کرینگے تو حضرت کس کس کی مرضی کو ٌپورا کیا جائے اگرآدمی اسکے پیچھے پڑے تو کوئی کام بھی نہیں کرسکتا ۔
(ملفوظ 395)اول بارہدیہ قبول کرنے میں خرابی :
فرمایا کہا ایک صاحب جو بہت متمول ہیں یہاں پرآئے اور ان کے آنے کا پہلا موقع تھا وہ صاحب بہت سے کپڑے وغیرہ لائے تھے بطور ہدیہ مجھ کو دینے لگے میں نے بوجہ مخالفت شرائط عذر کردیا میں پہلے ان قواعد پربہت سختی سے پابند تھا بطول مزاح فرمایا کہ جوں جوں سن بڑھنے سے بدن ڈھیلا ہوتا جاتا ہے قواعد بھی ڈھیلے ہوتے جاتے ہیں انہوں نے اپنے ایک رفیق سے شکایت کی انہوں نے کہا کہ خدا کا لاکھ لاکھ شکر کیجئے کہ جس چیز کی تلاش لے لئے آپ نے سفر کیا تھا وہ چیز مل گئی آپ اس سفر میں جہاں جہاں گئے ہرجگہ آپ کے نام کا وظیفہ پڑھا جاتا تھا اور یہاں پریہ برتاؤ ہوا کہ کسی نے پوچھا بھی نہیں تو وہ چیز یہاں ہے ان کا سفر سے مقصود تھا کہ کسی کو اپنا رہبر بناؤں اور دین کا تعلق پیدا کروں گا اس سے ان کی تسلی ہوگئی ایک اور صاحب علم کا واقعہ ہے جن کو یہاں آکر اپنے کھانے کا خود انتظام کرنا پڑا جو ظاہرا خشکی ہے مگر بعد میں معلوم ہوا کہ یہ صاحب چند شرائط ذہن میں لے کرچلے جاتے تھے کہ ایسے شخص سے تعلق پیدا کروں گا جن میں یہ صفات ہوں ماشاءاللہ آدمی فہیم اور سمجدار ہیں وہ صفات یہ ہیں کہ ایک تو آنے والوں کو کھانا نہ کھلایا جاتا ہو ورنہ دکانداری کا شبہ ہوگا دوسرے پڑھا لکھا ہو تیسرے اس کے یہاں ڈانٹ ڈپٹ ہوتی ہو چاپلوسی نہ ہو ایسے شخص سے بیعت کا تعلق کروں گا تو فہیم آدمی پرجلدی ہدیہ نہ لینے کا کھانے وغیرہ کی مدارت نہ کرنے کا اچھا اثرہوتا ہے پھرفرمایا کہ اول بارمیں ہدیہ قبول کرنے میں ایک خرابی یہ ہے کہ یہ تو معلوم نہیں ہوتا کہ ہدیہ دینے والا اپنی کوئی غرض لے ایا ہے یا کوئی اور مصلحت ہے سو بعض دفعہ ایسا ہوا کہ کوئی چیز میں نے قبول کرلی مگر اس شخص نے ساتھ ہی ساتھ کو ئی فرمائش کردی جس سے معلوم ہوا کہ یہ ہدیہ اسکی تمہید تھی اس وقت ایک غیرت سی معلوم ہوتی تھی کہ تجارت کی مشابہت ہوگئی اس لئے میں نے یہ قاعدہ مقرر کردیا کہ بدون بے تکلفی ہوئے ہدیہ قبول نہ کیا جاوے گا ۔
(ملفوظ 394)خاوند کے تسخیر کے تعویذ کے احکام
ایک بی بی نے ایک صاحب کے ذریعہ سے اپنے خاوند کی تسخیر کے لئے تعویذ لینا چاہا حضرت والا نے فرمایا فقہاء نے فرمایا ہے کہ خاوند کے لئے تسخیر کا تعویذ کرانا حرام ہے گو اس فتوے کی عبارت مطلق ہے مگر قواعد سے اس کی شرح یہ ہے کہ حقوق دو طرح کے ہیں ایک تو وہ حقوق جوشرعا شوہر پرواجب ہیں اور ایک وہ ہیں جوشرعا واجب نہیں سوجو حقوق واجب نہیں ان میں کسی تعویذ و عمل کے ذریعہ سے اس کو مجبور کرنا یعنی تسخیر کی ایسی تدبیر جس سے وہ مغلوب اور پاگل ہوجائے اور اپنے مصالح کی کچھ خبر نہ رہے یہ غیر واجب پر مجبور کرنا ہے یہ حرام ہے ہاں اگر حقوق واجبہ میں کوتاہی کرتا تواس کے لیے مجبورکرنا بھی جائز ہے اور چونکہ ان عملیات میں اثر تابع ہوتا ہے قصد کے اس لئے عمل کے وقت غیر واجبہ حقوق حاصل ہونے کا قصد کرنا بھی گناہ ہے اور اثر کا تابع قصد ہونے کی وجہ یہ ہے کہ یہ عملیات بھی ایک قسم کا مسمریزم ہے جس سے کسی کے دل ودماغ پرقابوحاصل کیا جاتا ہے پھر فرمایا کہ یہ جزئیہ بے حد یا د رکھنے کے قابل ہے اگرکسی کو یہ شرح معلوم نہ وہوتو وہ فقہاء پر اعتراض کرے گا اس لئے کہ فقہاء کے اس جزئیہ میں اس تفصیل کی تصریح نہیں جیسے طب کی کتابوں میں بعضے نسخے ہیں جن میں خاص اس مقام پرقیود کی تصریح نہیں مگر قواعد سے وہ مقید ہیں پھر اس پرایک بزرگ کا قصہ بطور تفریع کے فرمایا کہ ان سے کسی شخص کو عداوت تھی اور ان کو بہت ستایا تھا ایک مرتبہ ان بزرگ نے اس کے لئے بددعا کی اس کے بعد وہ ہلاک ہوگیا ان بزرگ نے بطور استفتاء کے مجھے لکھا کہ ایسا واقع پیش آگیا ہے مجھکو یہ خوف ہے کہ کہیں قتل کا گناہ نہ ہوا ہو یہ ان کی دین داری کی بات تھی کہ خشیت کا غلبہ ہوا اگر آجکل کسی پیر سے ایسا ہوجاوے تو مریدوں میں بڑے فخر کے ساتھ بیٹھ کر اپنی کرامت بیان کرے کہ دیکھو ہماری بددعا سے ہلاک ہو گیا ہماری بددعاء خالی تھوڑا ہی جاسکتی ہے اور ایک بزرگ ہیں کہ بیچاروں کو اس سے خوف ہوا بس رسم پرستوں اورحق پرستوں میں یہ ہی تو فرق ہوتا ہے وہ ہروقت لرزاں ترساں رہتے ہیں اورکسی چیز پر بھی نازاں نہیں ہوتے مجھ پراس خط کا بڑا اثر ہوا اور ان کی بزرگی کا معتقد ہوگیا یہ سوال ایسا تھا کہ ساری عمر بھی مجھ سے کبھی ایسا سوال نہیں کیا گیا تھا کہ جوحادثہ مشابہ کرامت ہواوراس پریہ شبہ کیا جاوے میں نے جواب لکھا کہ آپ کا اندیشہ صحیح ہے مگر اس میں تفصیل ہے وہ یہ کہ یہ دیکھا جاوے کہ آپ صاحب تصرف ہیں یا نہیں اگر نہیں تو آپ کے ذمہ اہلاک کا تو گناہ نہیں ہوا باقی بددعا کا گناہ سو اگر شرعا ایسی بددعا جائز تھی تو اس کا بھی گناہ نہیں اور اگر جائز نہ تھی توصرف بددعا کا گناہ ہوا یہ تو اس وقت ہے جب آپ صاحب تصرف نہ ہوں اور اگر آپ صاحب تصرف ہیں تو یہ دیکھنا چاہئے کہ بددعاء کے وقت آپ نے اپنے دل اور خیال کو اس کی ہلاکت کی طرف متوجہ کیا یا نہیں اگرنہیں کیا تو قتل کا گناہ نہ ہوگا ہاں بددعا ء کا گناہ بعض صورت میں ہوا جسیی ابھی اوپر مذکر ہوا اس میں توبہ استغفار کرنا چاہئے اورایک صورت یہ ہے کہ اگراس شخص کو اپنا صاحب تصرف نہ ہونا تجربہ سے معلوم ہے مثلا بارہا تصرف کا قصد کیا مگر کبھی کچھ نہیں ہوا تو اس صورت میں اگر ہلاکت کا خیال بھی کیا تب بھی قتل کا گناہ نہیں ہوا البتہ اس صورت میں اگروہ شرعا مستحق قتل نہ تھا تواس کی ہلاکت کی تمنا کا گناہ ہوگا اور تجربہ سے اپنا صاحب تصرف ہونا معلوم ہے اور پھر اس کا خیال بھی کیا اور وہ مستحق قتل نہیں تویہ شخص قاتل ہے کیونکہ تلوار سے قتل کرنا اور تصرف سے قتل کرنا دونوں سبب قتل ہونے میں برابر ہیں صرف فرق اتنا ہے کہ تلوار سے قتل عمد ہے جس میں قصاص ہے اور یہ شبہ عمد اس صورت میں دیت اورکفارہ دینا ہوگا وہ بزرگ اس مفصل جواب س بہت مسرور ہوئے پھر فرمایا کہ مسلمان کو ہرقدم پرعلم کی ضرورت ہے نہ معلوم یہ جاہل پیر کیسے بے خوف اور مستغنی ہیں کہ جائز نا جائز کی فکر ہی نہیں۔
21شوال المکرم 1350 ھ مجلس خاص بوقت صبح یوم دو شنبہ
(ملفوظ 393)مجوزہ حالت میں بندوں کے مصالح :
فرمایا کہ حق سبحانہ وتعالٰی نے اپنے بندوں کے لئے جوحالت بھی تجویذ فرمائی ہے اس میں ان کے مصالح کی رعایت رکھی ہے جس کے اسباب سب کے لئے جدا جدا ہیں حضرت قاضی ثناءاللہ صاحب پانی پتی رحمتہ اللہ علیہ نے تفسیر مظہری میں ایک حدیث لکھی ہے یہ حدیث قدسی ہے حق تعالٰی فرماتے ہیں بعضے بندوں کے متعلق مجھے معلوم ہے کہ وہ اگر دولت مند رہیں تو ان کا ایمان رہے گا اور اگرمفلس ہوجاویں تو ایمان نہ رہے گا اور بعضے بالعکس بعضوں کو اگرتندرست رکھوں تو ایمان رہے گا اور اگر بیمار رکھوں تو شکوہ شکایت کرتا پھرے گا اور ایمان برباد کردے گا اور بعضوں کو بیمار رکھوں تو ایمان درست رہے گا اور اگرتندرست رکھوں تو ایمان کھو بیٹھے گا میں اپنے بندوں کو خوب جانتا ہوں اھ اور اگر دوسرے وقت دوسری حالت ہوجاوے اس لئے کہ حالات میں ستغیر تبدل بھی ہوتا رہتا ہے تو سمجھنا چاہئے اس وقت وہی حالت حافظ ایمان ہوگی خوب کہا گیا ہے ۔ کہ خواجہ خودروش بندہ پروری داند
(ملفوظ 392)عرفی خوش اخلاقی نے عوام کے دماغ خراب کردیئے :
ایک گفتگو کے سلسلہ میں فرمایا کہ الحمداللہ تجربہ سے معلوم ہوتا ہے کہ میرے معمولات سب کے سب نہایت مفید وراحت بخش ہیں مگر آج کل کے علماء ومشائخ کی عرفی خوش اخلاقی نے عوام کے دماغ بگاڑدیئے کہ وہ ان معلومات کو تشدد سمجھتے ہیں ۔
(ملفوظ 391)صحابہ کرام کا عشق رسول
کدو کا ذکر تھا حضرت والا نے فرمایا کہ صحابہ کے عشق کی کیا عجیب حالت ہے حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب سے میں نے حضور کو کدو کھاتے ہوئے دیکھا مجھ کو اس سے محبت ہوگئی غیر طبعی کا طبعی بن جانا بدون کسی بڑے قوی مؤثر کے ممکن نہیں اوریہ بھی فرمایا عورتیں جو ہاتھ میں مہندی لگائی ہیں حضور کو رائحہ (خوشبو) پسند نہ تھا وجہ یہ معلوم ہوتی ہے کہ اس کی خوش بو میں ایک قسم کی تیزی ہوتی ہے جو لطافت کے خلاف ہے اور یہ حضور کا عمل طبعی تھا ورنہ داڑھی
میں مہندی لگانے کی حضور نے خود ترغیب فرمائی ہے سواس وجہ سے حضرت عاشہ مہندی نہ لگاتی تھیں اپنی زینت کو محبوب کی خاطر چھوڑ دینا بدون کامل محبت کے نہیں ہوسکتا مگر یہ سنن عادات ہیں سنن عبادات نہیں ان میں اتباع دین میں مقصود نہیں اور اس میں غلوبھی مناسب نہیں اسی کی ایک تفریح میں فرمایا کہ مجھ سے ایک شخص نے سوال کیا کہ حضور کا عمامہ اور عصاء تو سنت عادات میں سے ہے اسی کی تفریح میں ایک بزرگ کی حکایت بیان فرمائی وہ حضرت خواجہ بہاءالدین نقشبندی رحمتہ اللہ علیہ کا قصہ ہے کہ آپ نے مریدین سے فرمایا کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم جوکی ورٹی اس طرح تناول فرماتے تھے کہ غلہ کو پیس لیا اور پھونک سے بھوسی اڑادی کوئی باقاعدہ آٹا چھاننے کا التزام نہ تھا اور ہم لوگ چھان کرکھاتے ہیں اب اس سے سنت پرعمل کیا کرو چنانچہ جو کے آٹے کی ورٹی بغیر چھاننے پکائی گئی چونکہ اس کا چھلکا سخت ہوتا ہے اس لئے اس کے کھانے سے لوگوں کے پیٹ میں درد ہوا اور سب نے شکایت کی مگر دیکھئے کیا ادب تھا سنت کا کہ اس میں کسی مضرت کے وسوسہ کا ایہام بھی نہیں کیا بلکہ یہ فرمایا کہ ہم نے بے ادبی کی کہ مساوات چاہی حضورصلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مساوات کا دعوٰی کیا عزیمت پر عمل کرنا ہمارا منصب نہیں ہم رخصت ہی کے لائق ہیں اور حکم دیا کہ آئندہ سے حسب معمول آٹا چھا نا جایا کرے تو خواجہ صاحب کا معمول بدل دینا اسی بناء پرتھا ایسی سنن مقصود وفی الدین نہیں البتہ فضیلت اور علامات محبت سے ہے مگرعوارض سے حکم بدل جاتا ہے ایک صاحب نے سوال کیا کہ حضور کی عادیہ چیزوں کو جس کو سنن عادات کہا گیا ہے اختیار کرنا کیسا ہے فرمایا کہ بہ نیت اتباع سنت کے موجب قرب ہے مگر اتنا مؤکد نہیں کہ اگر کوئی نہ اختیار کرے تو اس کو مطعون کرے ان کے اتنا درپے ہونا یہ حدود شرعیہ سے تجاوز ہے ۔
(مفلوظ 390)حضرت ام حبیبہ کے مہر کی مقدار
فرمایا کہ بڑوں میں جونکاح پرمہر کی مقدار اسی ہزار ٹکے اور دودینار سرخ تھی اس کی حقیقت اب قریب چارماہ کے معلوم ہوئی کہ حساب کرنے سے یہ تعداد حضرت ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کے مہر کی بیٹھتی ہے تقریبا گیارہ سوروپیہ اس وقت اس مقدار میں کچھ فرق ہوتا ہے ممکن ہے کہ اس وقت ٹکے سکہ سے برابر بیٹھتی ہو بزرگی کو معمول لغو تھوڑا ہی ہے ۔
(ملفوظ 389)عمل مجرب کی قید کا کوئی عمل یاد نہیں
فرمایا کہ ایک صاحب کا خط آیا ہے کچھ اپنی پریشانیاں لکھی ہیں مقدمہ وغیرہ کی اور یہ بھی ہے کہ کوئی وظیفہ یا عمل مجرب بتلا دیں میں نے جواب لکھا ہے کہ مجرب کی قید کا مجھے کو ئی عمل یا د نہیں فرمایا کہ میں اس کام کا آدمی ہوں ہی نہیں میں نے کسی عمل کا بھی تجربہ نہیں کیا اور نہ کسی عامل سے آج تک حاصل کیا اگر مجرب کی قید سے نہ پوچھتے جومناسب سمجھتا لکھ دیتا ۔
(ملفوظ 388)حضرت عمرکے عارف کامل ہونے کی شان
ایک گفتگو کے سلسلہ میں فرمایا کہ حضرت عمررضی اللہ عنہ کے عارف کامل ہونے کی شان اس سے معلوم ہوتی ہے کہ بعد فتح فارس کے جب وہاں کے خزائن حاضر کئے گئے
(اوریہ سلطنت بہت ہی مالدار تھی اور خزانہ اس کا برابرمحفوظ چلا آتا تھا ) اور وجہ اس کی یہ تھی کہ اس سلطنت پرکسی نے چڑھائی نہ کی تھی اورخزائن کو دیکھ کر حضرت عمررضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ اے اللہ آپ کا ارشاد ہے : زین للناس حب الشھوات من النسآء والنبین والقناطیرالمقنطرۃ من الذھب والفضۃ ، ( خوش نما معلوم ہوتی ہے لوگوں کو محبت مرغوب چیزوں کی عورتیں ہوئی بیٹے ہوئے لگے ہوئے ڈھیر ہوئے سونے اور چاندی کے ) جس سے معلوم ہوتا ہے کہ ان چیزوں کی طرف میلان اور رغبت اوران کی محبت آپ نے طبعی طور پرنفوس میں رکھی ہے یہ ایک خاص تفسیر پرمبنی ہے کہ تزئین کا فاعل اللہ تعالٰی کو قرار دیا جاوے اور اس صورت میں یہ تزئین حکمت کے لئے ہوگی خواہ وہ حکمت کچھ ہی ہو اور جب یہ محبت طبعی ہے تو اس سے ہم بھی بری نہیں اور نہ اس کے ازالہ کی ہم دعاکرتے ہیں البتہ یہ ضرور دعا کرتے ہیں کہ اس کی محبت معین ہوجائے آپ کی محبت میں اللہ اکبر ان حضرات کی حقائق پرکیسی نظر تھی ۔
(ملفوظ 387)چھوٹے بچوں سے مشغول ہونے سے مریض کا دل بہلنا :
اصول طب کا ذکر تھا اس سلسلہ میں حضرت والا نے فرمایا کہ میں کہا کرتا ہوں کہ طب میں جہاں تفریح کی اور چیزوں کو مدون کیا ہے دوچیزوں کو مدون نہیں کیا ایک تو مال کا مالک بننا اور چھوٹے بچوں سے مشغول ہونا ایک طبیب بھی مجلس میں موجود تھے انہوں نے عرض کیا کہ شیخ بوعلی سینا نے لکھا ہے دق کے علاج میں کہ اس کو مال کثیر کا مالک بنادیا جاوے یہ بھی اس مریض کے اچھا ہونے کی تدبیر ہے فرمایا کہ یہ بھی لکھا ہے فرمایا واقعہ حکیم تھا ان چیزوں سے طبیعت کواور خیال کو قوت پہنچتی ہے اور خیال کو ایسے آثار میں بڑا دخل ہوتا ہے اس قوت خیالیہ پرایک حکایت یا د آئی سہارنپور میں ایک گنوارکا مقدمہ حاکم کے سامنے پیش ہوا جن کا نام ظہیر عالم تھا کہنے لگا ذرا ٹھہرجا میں نے دیوبند والے حاجی سے ترے واسطے ایک ( تویج ) تعویذ لکھوالیا تھا وہ میں باہر بھول آیا وہ لے آؤں تب پوچھیو کیا پوچھے گا حاکم اس وقت تک آزاد خیال کے تھے ایسی چیزوں کے یہ لوگ معتقد نہیں ہوتے حکم دیا جالے آدیکھیں ترے تعویز سے کیا ہوتا ہے وہ گنوار اجلاس سے باہر آیا اور اپنے کسی رفیق سے تعویذ لیا اور اس کو پگڑی میں رکھ کراجلاس پرحاکم کے سامنے حاضر ہوا اور کہا کہ دیکھ یہ رکھا ہے پگڑی میں اب پوچھ لے جو پوچھنا ہے اس نے اظہار لے کر اور اس کو بگاڑ کرمقدمہ اس شخص کے خلاف کرنے کے ارادہ سے فیصلہ لکھنا شروع کیا مگر فیصلہ لکھنے کے بعد جو اس کو بڑھتے ہیں دیکھا تو فیصلہ اس کے موافق لکھا ہوا پاتے ہیں اتنا بڑا تصرف ہوتا ہے خیال کا حاکم سخت متحیر ہونے اور دیوبند حاضر ہوکر حاجی صاحب کے سامنے اپنے پہلے خیال سے تائب ہوئے ۔

You must be logged in to post a comment.