مضاربت کا بیان یعنی ایک کا روپیہ ایک کا کام

مسئلہ۔ تم نے تجارت کے لیے کسی کو کچھ روپے دیئے کہ اس سے تجارت کرو جو کچھ نفع ہو گا وہ ہم تم بانٹ لیں گے یہ جائز ہے اس کو مضاربت کہتے ہیں۔ لیکن اس کی کئی شرطیں ہیں اگر ان شرطوں کے موافق ہو تو صحیح ہے نہیں تو ناجائز اور فاسد ہے۔ ایک تو جتنا روپیہ دینا ہو وہ بتلا دو اور اس کو تجارت کے لیے دے بھی دو اپنے پاس نہ رکھو۔ اگر روپیہ اس کے حوالہ نہ کیا اپنے ہی پاس رکھا تو یہ معاملہ فاسد ہے۔ دوسرے یہ کہ نفع بانٹنے کی صورت طے کر لو اور بتلا دو کہ تم کو کتنا ملے گا اور اس کو کتنا۔ اگر یہ بات طے نہیں ہوئی بس اتنا ہی کہا کہ نفع ہم تم دونوں بانٹ لیں گے تو یہ فاسد ہے تیسرے یہ کہ نفع تقسیم کرنے کو اس طرح نہ طے کرو کہ جس قدر نفع ہو اس میں سے دس روپے ہمارے باقی تمہارے۔ یا دس روپے تمہارے باقی ہمارے۔ غرضیکہ کچھ خاص رقم مقرر نہ کرو کہ اتنی ہماری یا اتنی تمہاری بلکہ یوں طے کرو کہ آدھا ہمارا آدھا تمہارا۔ یا ایک حصہ اس کا دو حصے اس کے یا ایک حصہ ایک کا باقی تین حصے دوسرے کے۔ غرضیکہ نفع کی تقسیم حصوں کے اعتبار سے کرنا چاہیے نہیں تو معاملہ فاسد ہو جائے گا۔ اگر کچھ نفع ہو گا تب تو وہ کام کرنے والا اس سے اپنا حصہ پائے گا اور اگر کچھ نفع نہ ہوا تو کچھ نہ پائے گا۔ اگر یہ شرط کر لی کہ اگر نفع نہ ہوا تب بھی ہم تم کو اصل مال میں سے اتنا دیں گے تو یہ معاملہ فاسد ہے۔ اسی طرح اگر یہ شرط کی کہ اگر نقصان ہو گا تو اس کام کرنے والے کے ذمہ پڑے گا یا دونوں کے ذمہ ہو گا یہ بھی فاسد ہے۔ بلکہ حکم یہ ہے کہ جو کچھ نقصان ہو وہ مالک کے ذمہ ہے اسی کا روپیہ گیا۔

مسئلہ۔ جب تک اس کے پاس روپیہ موجود ہو اور اس نے اسباب نہ خریدا ہو تب تک تم کو اس کے موقوف کر دینے اور روپیہ واپس لے لینے کا اختیار ہے اور جب وہ مال خرید چکا تو اب موقوفی کا اختیار نہیں ہے۔

مسئلہ۔ اگر یہ شرط کی کہ تمہارے ساتھ ہم کام کریں گے یا ہمارا فلاں آدمی تمہارے ساتھ کام کرے گا تو یہ معاملہ فاسد ہے۔

مسئلہ۔ اس کا حکم یہ ہے کہ اگر وہ معاملہ صحیح ہوا ہے کوئی واہیات شرط نہیں لگائی ہے تو نفع میں دونوں شریک ہیں جس طرح طے کیا ہو بانٹ لیں۔ اور اگر کچھ نفع نہ ہوا یا نقصان ہوا تو اس آدمی کو کچھ نہ ملے گا اور نقصان کا تاوان اس کو نہ دینا پڑے گا۔ اور اگر وہ معاملہ فاسد ہو گیا ہے تو پھر وہ کام کرنے والا نفع میں شریک نہیں ہے بلکہ وہ بمنزلہ نوکر کے ہے۔ یہ دیکھو کہ اگر ایسا آدمی نوکر رکھا جائے تو کتنی تنخواہ دینی پڑے گی بس اتنی ہی تنخواہ اس کو ملے گی نفع ہو تب بھی اور نہ ہو تب بھی بہرحال تنخواہ پائے گا اور نفع سب مالک کا ہے لیکن اگر تنخواہ زیادہ بیٹھتی ہے۔ اور جو نفع ٹھیرا تھا اگر اس کے حساب سے دیں تو کم بیٹھتا ہے تو اس صورت میں تنخواہ نہ دیں گے نفع بانٹ دیں گے۔

تنبیہ چونکہ اس قسم کے مسئلوں کی عورتوں کو نہایت کم ضرورت پڑتی ہے اس لیے ہم زیادہ نہیں لکھتے جب کبھی ایسا معاملہ ہوا کرے اس کی ہر بات کو کسی مولوی سے پوچھ لیا کرو تاکہ گناہ نہ ہو۔

اپنا قرضہ دوسرے پر اتار دینے کا بیان

مسئلہ۔ شفیعہ کا تمہارے ذمہ کچھ قرض ہے اور رابعہ تمہاری قرض دار ہے۔ شفیعہ نے تم سے تقاضا کیا تم نے کہا کہ رابعہ ہماری قرض دار ہے تم اپنا قرضہ اسی سے لے لو۔ ہم سے نہ مانگو۔ اگر اسی وقت شفیعہ یہ بات منظور کر لے اور رابعہ بھی اس پر راضی ہو جائے تو شفیعہ کا قرضہ تمہارے ذمہ سے اتر گیا۔ اب شفیعہ تم سے بالکل تقاضا نہیں کر سکتی بلکہ اسی رابعہ سے مانگنے چاہے جب ملے اور جتنا قرضہ تم نے شفیعہ کو دلایا ہے اتنا اب تم رابعہ سے نہیں لے سکتیں۔ البتہ اگر رابعہ اس سے زیادہ کی قرض دار ہے تو جو کچھ زیادہ ہے وہ لے سکتی ہو۔ پھر اگر رابعہ نے شفیعہ کو دے دیا تب تو خیر اور اگر نہ دیا اور مر گئی تو جو کچھ مال و اسباب چھوڑا ہے وہ بیچ کر شفیعہ کو دلا دیں گے اور اگر اس نے کچھ مال نہیں چھوڑا جس سے قرضہ دلائیں یا اپنی زندگی ہی میں مکر گئی اور قسم کھا لی کہ تمہارے قرض سے مجھ سے کچھ واسطہ نہیں اور گواہ بھی نہیں ہیں تو اب اس صورت میں پھر شفیعہ تم سے تقاضا کر سکتی ہے اور اپنا قرضہ تم سے لے سکتی ہے اور اگر تمہارے کہنے پر شفیعہ رابعہ سے لینا منظور نہ کرے یا رابعہ اس کو دینے پر راضی نہ ہو تو قرضہ تم سے نہیں اترا۔

مسئلہ۔ رابعہ تمہاری قرض دار نہ تھی تم نے یوں ہی اپنا قرضہ اس پر اتار دیا اور رابعہ نے مان لیا اور شفیعہ نے بھی قبول و منظور کر لیا تب بھی تمہارے ذمہ سے شفیعہ کا قرض اتر کر رابعہ کے ذمہ ہو گیا اس لیے اس کا بھی وہی حکم ہے جو ابھی بیان ہوا اور جتنا روپیہ رابعہ کو دینا پڑے گا دینے کے بعد تم سے لے لیوے اور دینے سے پہلے ہی لے لینا کا حق نہیں ہے۔

مسئلہ۔ اگر رابعہ کے پاس تمہارے روپے امانت رکھے تھے اس لیے تم نے اپنا قرض رابعہ پر اتار دیا پھر وہ روپے کسی طرح ضائع ہو گئے تو اب رابعہ ذمہ دار نہیں رہی بلکہ اب شفیعہ تم ہی سے تقاضا کرے گی اور تم ہی سے لے گی۔ اب رابعہ سے مانگنے اور لینے کا حق نہیں رہا۔

مسئلہ۔ رابعہ پر قرضہ اتار دینے کے بعد اگر تم ہی وہ قرضہ ادا کر دو اور شفیعہ کو دے دو یہ بھی صحیح ہے۔ شفیعہ یہ نہیں کہہ سکتی کہ میں تم سے نہ لوں گی بلکہ رابعہ ہی سے لوں گی۔

وکیل کے برطرف کر دینے کا بیان

وکیل کے موقوف اور برطرف کرنے کا تم کو ہر وقت اختیار ہے مثلاً تم نے کسی سے کہا تھا ہم کو ایک بکری کی ضرورت ہے کہیں مل جائے تو لے لینا۔ پھر منع کر دیا کہ اب نہ لینا تو اب اس کو لینے کا اختیار نہیں اگر اب لیوے گا تو اسی کے سر پڑے گی تم کو نہ لینا پڑے گی۔

مسئلہ۔ اگر خود اس کو نہیں منع کیا بلکہ خط لکھ بھیجا یا آدمی بھیج کر اطلاع کر دی کہ اب نہ لینا تب بھی وہ برطرف ہو گیا۔ اور اگر تم نے اطلاع نہیں دی کسی اور آدمی نے اپنے طور پر اس سے کہہ دیا کہ تم کو فلانے نے برطرف کر دیا ہے اب نہ خریدنا تو اگر دو آدمیوں نے اطلاع دی ہو یا ایک ہی نے اطلاع دی مگر وہ معتبر اور پابند شرع ہے تو برطرف ہو گیا۔ اور اگر ایسا نہ ہو تو برطرف نہیں ہوا۔ اگر وہ خرید لے تو تم کو لینا پڑے گا۔

کسی کو وکیل کر دینے کا بیان

مسئلہ۔ جس کام کو آدمی خود کر سکتا ہے اس میں یہ بھی اختیار ہے کہ کسی اور سے کہہ دے کہ تم ہمارا یہ کام کر دو۔ جیسے بیچنا مول لینا کرایہ پر لینا دینا نکاح کرنا وغیرہ۔ مثلاً ماما کو بازار سودا لینے بھیجا یا ماما کے ذریعہ سے کوئی چیز بکوائی یا یکہ بہلی کرایہ پر منگوایا۔ اور جس سے کام کرایا ہے شریعت میں اس کو وکیل کہتے ہیں ماما کو یا کسی نوکر کو سودا لینے بھیجا تو وہ تمہارا وکیل کہلائے گا۔

مسئلہ۔ تم نے ماما سے گوشت منگوایا وہ ادھار لے آئی تو گوشت والا تم سے دام کا تقاضا نہیں کر سکتا۔ اس ماما سے تقاضا کرے اور وہ ماما تم سے تقاضا کرے گی۔ اسی طرح اگر کوئی چیز تم نے ماما سے بکوائی تو اس لینے والے سے تم کو تقاضا کرنے اور دام کے وصول کرنے کا حق نہیں ہے اس نے جس سے چیز پائی ہے اس کو دام بھی دے گا اور اگر وہ خود تمہیں کو دام دے دے تب بھی جائز ہے مطلب یہ ہے کہ اگر وہ تم کو نہ دے تو تم زبردستی نہیں کر سکتیں۔

مسئلہ۔ تم نے نوکر سے کوئی چیز منگوائی وہ لے آیا تو اس کو اختیار ہے کہ جب تک تم سے دام نہ لے لیوے تب تک وہ چیز تم کو نہ دیوے چاہے اس نے اپنے پاس سے دام دے دیئے ہوں یا ابھی نہ دیئے ہوں دونوں کا ایک حکم ہے۔ البتہ اگر وہ دس پانچ دن کے وعدے پر ادھار لایا ہو تو جتنے دن کا وعدہ کر آیا ہے اس سے پہلے دام نہیں مانگ سکتا۔

مسئلہ۔ تم نے سیر بھر گوشت منگوایا تھا وہ ڈیڑھ سیر اٹھا لایا تو پورا ڈیڑھ سیر لینا واجب نہیں۔ اگر تم نہ لو تو آدھ سیر اس کو لینا پڑے گا۔

مسئلہ۔ تم نے کسی سے کہا کہ فلانی بکری جو فلانے کے یہاں ہے اس کو جا کر دو روپے میں لے آؤ تو اب وہ وکیل وہی بکری خود اپنے لیے نہیں خرید سکتا۔ غرضیکہ جو چیز خاص تم مقرر کر کے بتلا دو اس وقت اس کو اپنے لیے خریدنا درست نہیں۔ البتہ جو دام تم نے بتلائے ہیں اس سے زیادہ میں خرید لیا تو اپنے لیے خریدنا درست ہے اور اگر تم نے کچھ دام نہ بتلائے ہوں تو کسی طرح اپنے لیے نہیں خرید سکتا۔

مسئلہ۔ اگر تم نے کوئی خاص بکری نہیں  بتلائی بس اتنا کہا کہ ایک بکری کی ضرورت ہے ہم کو خرید دو تو وہ اپنے لیے بھی خرید سکتا ہے جو بکری چاہے اپنے لیے خریدے اور جو چاہے تمہارے لیے۔ اگر خود لینے کی نیت سے خریدے تو اس کی ہوئی۔ اور اگر تمہاری نیت سے خریدے تو تمہاری ہوئی اور اگر تمہارے دئیے داموں سے خریدی تو بھی تمہاری ہوئی چاہے جس نیت سے خریدے۔

مسئلہ۔ تمہارے لیے اس نے بکری خریدی پھر ابھی تم کو دینے نہ پایا تھا کہ بکری مر گئی یا چوری ہو گئی تو اس بکری کے دام تم کو دینا پڑیں گے اگر تم کہو کہ تو نے اپنے لیے خریدی تھی ہمارے لیے نہیں خریدی تو اگر تم پہلے اس کو دام دے چکی ہو تو تمہارے گئے۔ اور اگر تم نے ابھی دام نہیں دیئے اور وہ اب دام مانتا ہے تو تم اگر قسم کھا جاؤ کہ تو نے اپنے لیے خریدی تھی تو اس کی بکری گئی اور اگر قسم نہ کھا سکو تو اس کی بات کا اعتبار کرو۔

مسئلہ۔ اگر نوکر یا ماما کوئی چیز گراں خرید لائی تو اگر تھوڑا ہی فرق ہو تب تو تم کو لینا پڑے گا اور دام دینا پڑیں گے اور اگر بہت زیادہ گراں لے آئی کہ اتنے دام کوئی نہیں لگا سکتا تو اس کا لینا واجب نہیں اگر نہ لو تو اس کو لینا پڑے گا۔

مسئلہ۔ تم نے کسی کو کوئی چیز بیچنے کو دی تو اس کو یہ جائز نہیں کہ خود لے لے اور دام تم کو دیوے۔ اسی طرح اگر تم نے کچھ منگوایا کہ فلانی چیز خرید لاؤ تو وہ اپنی چیز تم کو نہیں دے سکتا۔ اگر اپنی چیز دینا یا خود لینا منظور ہو تو صاف صاف کہہ دے کہ یہ چیز میں لیتا ہوں مجھ کو دے دو یا یوں کہہ دے کہ یہ میری چیز تم لے لو۔ اور اتنے دام دے دو۔ بغیر بتلائے ہوئے ایسا کرنا جائز نہیں۔

مسئلہ۔ تم نے ماما سے بکری کا گوشت منگوایا وہ گائے کا لے آئی تو تم کو اختیار ہے چاہے لو چاہے نہ لو۔ اسی طرح تم نے آلو منگوائے وہ بھنڈی یا کچھ اور لے آئی تو اس کا لینا ضروری نہیں۔ اگر تم انکار کرو تو اس کو لینا پڑے گا۔

مسئلہ۔ تم نے ایک پیسہ کی چیز منگوائی وہ دو پیسہ کی لے آئی تو تم کو اختیار ہے کہ ایک ہی پیسہ کے موافق لو۔ اور ایک پیسہ کی جو زائد لائی وہ اسی کے سر ڈالو۔

مسئلہ۔ تم نے دو شخصوں کو بھیجا کہ جاؤ فلانی چیز خرید لاؤ تو خریدتے وقت دونوں کو موجود رہنا چاہیے۔ فقط ایک آدمی کو خریدنا جائز نہیں اگر ایک ہی آدمی خریدے تو وہ بیع موقوف ہے جب تم منظور کر لو گی تو صحیح ہو جائے گی۔

مسئلہ۔ تم نے کسی سے کہا کہ ہمیں ایک گائے یا بکری یا اور کچھ کہا کہ فلانی چیز خرید لا دو۔ اس نے خود نہیں خریدا بلکہ کسی اور سے کہہ دیا اس نے خریدا تو اس کا لینا تمہارے ذمہ واجب نہیں۔ چاہے لو چاہے نہ لو۔ دونوں اختیار ہیں البتہ اگر وہ خود تمہارے لیے خریدے تو تم کو لینا پڑے گا۔

کسی کی ذمہ داری کر لینے کا بیان

مسئلہ۔ نعیمہ کے ذمہ کسی کے کچھ روپے یا پیسے ہوتے تھے تم نے اس کی ذمہ داری کر لی کہ اگر یہ نہ دے گی تو ہم سے لے لینا یا یوں کہا کہ ہم اس کے ذمہ دار ہیں یا دیندار ہیں یا اور کوئی ایسا لفظ کہا جس سے ذمہ داری معلوم ہوئی۔ اور اس حقدار نے تمہاری ذمہ داری منظور بھی کر لی تو اب اس کی ادائیگی تمہارے ذمہ واجب ہو گئی اگر نعیمہ نہ دے تو تم کو دینا پڑیں گے اور اس حقدار کو اختیار ہے جس سے چاہے تقاضا کرے چاہے تم سے اور چاہے نعیمہ سے۔ اب جب تک نعیمہ اپنا قرض ادا نہ کر دے یا معاف نہ کرا لے تب تک برابر تم ذمہ دار ہو گی۔ البتہ اگر وہ حقدار تمہاری ذمہ داری نہیں رہی اور اگر تمہاری ذمہ داری کے وقت ہی اس حق دار نے منظور نہیں کیا اور کہا تمہاری ذمہ داری کا ہم کو اعتبار نہیں یا اور کچھ کہا تو تم ذمہ داری نہیں ہوئیں۔

مسئلہ۔ تم نے کسی کی ذمہ داری کر لی تھی اور اس کے پاس روپے ابھی نہ تھے اس لیے تم کو دینا پڑے تو اگر تم نے اس قرض دار کے کہنے سے ذمہ داری کی ہے تب تو جتنا تم نے حقدار کو دیا ہے اس قرض دار سے لے سکتی ہو۔ اور اگر تم نے اپنی خوشی سے ذمہ داری کی ہے تو دیکھو تمہاری ذمہ داری کو پہلے کس نے منظور کیا ہے اس قرض دار نے یا حقدار نے اگر پہلے قرض دار نے منظور کیا تب تو ایسا ہی سمجھیں گے کہ تم نے اس کو کہنے سے ذمہ داری کی۔ لہذا اپنا روپیہ اس سے لے سکتی ہو اور اگر پہلے حق دار نے منظور کر لیا تو جو کچھ تم نے دیا ہے قرض دار سے لینے کا حق نہیں ہے بلکہ اس کے ساتھ تمہاری طرف سے احسان سمجھا جائے گا کہ ویسے ہی اس کا قرض تم نے ادا کر دیا وہ خود دے دے تو اور بات ہے۔

مسئلہ۔ اگر حقدار نے قرض دار کو مہینہ بھر یا پندرہ دن وغیرہ کی مہلت دے دی تو اب اتنے دن اس ذمہ داری کرنے والے سے بھی تقاضا نہیں کر سکتا۔

مسئلہ۔ اور اگر تم نے اپنے پاس سے دینے کی ذمہ داری نہیں کی تھی بلکہ اس قرض دار کا روپیہ تمہارے پاس امانت رکھا تھا اس لیے تم نے کہا تھا کہ ہمارے پاس اس شخص کی امانت رکھی ہے ہم اس میں سے دے دیں گے پھر وہ روپیہ چوری ہو گیا اور کسی طرح جاتا رہا تو اب تمہاری ذمہ داری نہیں رہی۔ نہ اب تم پر اس کا دینا واجب ہے اور نہ وہ حق دار تم سے تقاضا کر سکتا ہے۔

مسئلہ۔ کہیں جانے کے لیے تم نے کوئی یکہ یا بہلی کرایہ پر کی اور اس بہلی والے کی کسی نے ذمہ داری کر لی کہ اگر یہ نہ لے گیا تو میں اپنی بہلی دے دوں گا تو یہ ذمہ داری درست ہے اگر وہ نہ دے تو اس ذمہ دار کو دینا پڑے گی۔

مسئلہ۔ تم نے اپنی چیز کسی کو دی کہ جاؤ اس کو بیچ لاؤ۔ وہ بیچ آیا۔ لیکن دام نہیں لایا اور کہا کہ دام کہیں نہیں جا سکتے۔ دام کا میں ذمہ دار ہوں اس سے نہ ملیں تو مجھ سے لے لینا تو یہ ذمہ داری صحیح نہیں۔

مسئلہ۔ کسی نے کہا کہ اپنی مرغی اسی میں بند رہنے دو اگر بلی لے جائے تو میرا ذمہ مجھ سے لے لینا۔ یا بکری کو کہا اگر بھیڑیا لے جائے تو مجھ سے لے لینا تو یہ ذمہ داری صحیح نہیں۔

مسئلہ۔ نابالغ لڑکا یا لڑکی اگر کسی کی ذمہ داری کرے تو وہ ذمہ داری صحیح نہیں۔

قرض لینے کا بیان

مسئلہ۔ جو چیز ایسی ہو کہ اس طرح کی چیز تم دے سکتے ہو اس کا قرض لینا درست ہے۔ جیسے اناج انڈے گوشت وغیرہ اور جو چیز ایسی ہو کہ اسی طرح کی چیز دینا مشکل ہے تو اس کا قرض لینا درست نہیں جیسے امرود نارنگی بکری مرغی وغیرہ۔

مسئلہ۔ جس زمانے میں روپے کے دس سیر گیہوں ملتے تھے اس وقت تم نے پانچ سیر گیہوں قرض لیے پھر گیہوں سستے ہو گئے اور روپے کے بیس سری ملنے لگے تو تم کو وہی پانچ سیر گیہوں دینا پڑیں گے۔ اسی طرح اگر گراں ہو گئے تب بھی جتنے لیے ہیں اتنے ہی دینا پڑیں گے۔

مسئلہ۔ جیسے گیہوں تم نے دیئے تھے اس نے اس سے اچھے گیہوں ادا کیے تو اس کا لینا جائز ہے یہ سود نہیں مگر قرض لینے کے وقت یہ کہنا درست نہیں کہ ہم اس سے اچھے لیں گے البتہ وزن میں زیادہ نہ ہونا چاہیے۔ اگر تم نے دیئے ہوئے گیہوں سے زیادہ لیے تو یہ ناجائز ہو گیا۔ خوب ٹھیک تول کر لینا دینا چاہیے لیکن اگر تھوڑا جھکتا تول دیا تو کچھ ڈر نہیں۔

مسئلہ۔ کسی سے کچھ روپیہ یا غلہ اس وعدہ پر قرض لیا کہ ایک مہینہ یا پندرہ دن کے بعد ہم ادا کر دیں گے اور اس نے منظور کر لیا تب بھی یہ مدت کا بیان کرنا لغو بلکہ ناجائز ہے۔ اگر اس کو مدت سے پہلے ضرورت پڑے اور تم سے مانگے یا بے ضرورت ہی مانگے تو تم کو ابھی دینا پڑے گا۔

مسئلہ۔ تم نے دو سیر گیہوں یا آٹا وغیرہ کچھ قرض لیا جب اس نے مانگا تو تم نے کہا بہن اس وقت گیہوں تو نہیں ہیں اس کے بدلے تم دو نہ پیسے لے لو اس نے کہا اچھا۔ تو یہ پیسے اسی وقت سامنے رہتے رہتے دے دینا چاہیے۔ اگر پیسے نکالنے اندر گئی اور اس کے پاس سے الگ ہو گئی تو وہ معاملہ باطل ہو گیا۔ اب پھر سے کہنا چاہیے کہ تم اس ادھار گیہوں کے بدلے دو آنے لے لو۔

مسئلہ۔ ایک روپے کے پیسے قرض لیے پھر پیسے گراں ہو گئے اور روپے کے ساڑھے پندرہ آنے چلنے لگے تو اب سولہ آنے دینا واجب نہیں ہیں بلکہ اس کے بدلے روپیہ دے دینا چاہیے۔ وہ یوں نہیں کہہ سکتی کہ میں روپیہ نہیں لیتی پیسے لیے تھے وہی لاؤ۔

مسئلہ۔ گھروں میں دستور ہے کہ دوسرے گھر سے اس وقت دس پانچ روٹی قرض منگا لی۔ پھر جب اپنے گھر پک گئی گن کر بھیج دی یہ درست ہے۔

بیع سلم کا بیان

مسئلہ۔ فصل کٹنے سے پہلے یا کٹنے کے بعد کسی کو دس روپے دیئے اور یوں کہا کہ دو مہینے یا تین مہینے کے بعد فلانے مہینے میں فلاں تاریخ میں ہم تم سے ان دس روپے کے گیہوں لیں گے اور نرخ اسی وقت طے کر لیا کہ روپے کے پندرہ سیر یا روپے کے بیس سیر کے حساب سے لیں گے تو یہ بیع درست ہے جس مہینے کا وعدہ ہوا ہے اس مہینے میں اس کو اسی بھاؤ گیہوں دینا پڑیں گے چاہے بازار میں گراں بکیں چاہے سستے بازار کے بھاؤ کا کچھ اعتبار نہیں ہے اور اس بیع کو سلم کہتے ہیں لیکن اس کے جائز ہونے کی کئی شرطیں ہیں ان کو خوب غور سے سمجھو اول شرط یہ ہے کہ گیہوں وغیرہ کی کیفیت خوب صاف صاف ایسی طرح بتلا دے کہ لیتے وقت دونوں میں جھگڑا نہ پڑے مثلاً کہہ دے کہ فلاں قسم کا گیہوں دینا۔ بہت پتلا نہ ہو نہ پالا مارا ہوا ہو۔ عمدہ ہو خراب نہ ہو۔ اس میں کوئی اور چیز چنے مٹر وغیرہ نہ ملی ہو۔ خوب سوکھے ہوں گیلے نہ ہوں۔ غرضیکہ جس قسم کی چیز لینا ہو ویسی بتلا دینا چاہیے تاکہ اس وقت بکھیڑا نہ ہو۔ اگر اس وقت صرف اتنا کہہ دیا کہ دس روپے کے گیہوں دے دینا تو یہ ناجائز ہوا۔ یا یوں کہا کہ ان دس روپے کے دھان دے دینا یا چاول دے دینا اس کی قسم کچھ نہیں بتلائی یہ سب ناجائز ہے دوسری شرط یہ ہے کہ نرخ بھی اسی وقت طے کر لے کہ روپے کے پندرہ سیر یا بیس سیر کے حساب سے لے لیں گے۔ اگر یوں کہا کہ اس وقت جو بازار کا بھاؤ ہو اس حساب سے اس کو دینا یا اس سے دو سیر زیادہ دینا تو یہ جائز نہیں بازار کے بھاؤ کا کچھ اعتبار نہ کرو۔ اسی وقت اپنے لینے کا نرخ مقرر کر لو۔ وقت آنے پر اسی مقرر کیے ہوئے بھاؤ سے لے لو۔ تیسری شرط یہ ہے کہ جتنے روپے کے لینا ہوں اسی وقت بتلا دو کہ ہم دس روپے یا بیس روپے کے گیہوں لیں گے۔ اگر یہ نہیں بتلایا اور یوں ہی گول مول کہہ دیا کہ تھوڑے روپے کے ہم بھی لیں گے تو یہ صحیح نہیں۔

چوتھی شرط یہ ہے کہ اسی وقت اسی جگہ رہتے رہتے سب روپے دے دے اگر معاملہ کرنے کے بعد الگ ہو کر پھر روپے دیئے تو وہ معاملہ باطل ہو گیا اب پھر سے کرنا چاہیے۔ اسی طرح اگر پانچ روپے تو اسی وقت دے دیئے اور پانچ روپے دوسرے وقت دیئے تو پانچ روپے میں بیع سلم باقی رہی اور پانچ روپے میں باطل ہو گئی۔ پانچویں شرط یہ ہے کہ اپنے لینے کی مدت کم سے کم ایک مہینہ مقرر کرے کہ ایک مہینے کے بعد فلانی تاریخ ہم گیہوں لیوں گے مہینے سے کم مدت مقرر کرنا صحیح نہیں اور زیادہ چاہیے جتنی مقرر کرے جائز ہے لیکن دن تاریخ مہینہ سب مقرر کر دے تاکہ بکھیڑا نہ پڑے کہ وہ کہے میں ابھی نہ دوں گا۔ تم کہو نہیں آج ہی دو۔ اس لیے پہلے ہی سے سب طے کر لو۔ اگر دن تاریخ مہینہ مقرر نہ کیا بلکہ یوں کہا کہ جب فصل کٹے گی تب دے دینا تو یہ صحیح نہیں۔ چھٹی شرط یہ ہے کہ یہ بھی مقرر کر دے کہ فلانی جگہ وہ گیہوں دینا یعنی اس شہر میں یا کسی دوسرے شہر میں جہاں لینا ہو وہاں پہنچانے کے لیے کہہ دے یا یوں کہہ دے کہ ہمارے گھر پہنچا دینا۔ غرضیکہ جو منظور ہو صاف بتلا دے۔ اگر یہ نہیں بتلایا تو صحیح نہیں۔ البتہ اگر کوئی ہلکی چیز ہو جس کے لانے اور لے جانے میں کچھ مزدوری نہیں لگتی مثلاً مشک خریدا یا سچے موتی یا اور کچھ تو لینے کی جگہ بتلانا ضروری نہیں۔ جہاں یہ ملے اس کو دے دے اگر ان شرطوں کے موافق کیا تو بیع سلم درست ہے۔ ورنہ درست نہیں۔

مسئلہ۔ گیہوں وغیرہ غلہ کے علاوہ اور جو چیزیں ایسی ہوں کہ ان کی کیفیت بیان کر کے مقرر کر دی جائے کہ لیتے وقت کچھ جھگڑا ہونے کا ڈر نہ رہے ان کی بیع سلم بھی درست ہے جیسے انڈے اینٹیں کپڑا مگر سب باتیں طے کر لے کہ اتنی بڑی اینٹ ہو۔ اتنی لمبی۔ اتنی چوڑی۔ کپڑا سوتی ہو اتنا باریک ہو اتنا موٹا ہو۔ دیسی ہو یا ولایتی ہو غرضیکہ سب باتیں بتا دینا چاہئیں۔ کچھ گنجلک باقی نہ رہے۔

مسئلہ۔ روپے کی پانچ گٹھڑی یا پانچ کھانچی کے حساب سے بھوسا بطور بیع سلم کے لیا تو یہ درست نہیں کیونکہ گٹھڑی اور کھانچی کی مقدار میں بہت فرق ہوتا ہے البتہ اگر کسی طرح سے سب کچھ مقرر اور طے کر لے یا وزن کے حساب سے بیع کرے تو درست ہے۔

مسئلہ۔ سلم کے صحیح ہونے کی یہ بھی شرط ہے کہ جس وقت معاملہ آیا ہے اس وقت سے لینے اور وصول پانے کے زمانے تک وہ چیز بازار میں ملتی رہے نایاب نہ ہو۔ اگر اس درمیان میں وہ چیز بالکل نایاب ہو جائے کہ اس ملک میں بازاروں میں نہ ملے گو دوسری جگہ سے بہت مصیبت جھیل کر منگوا سکے تو وہ بیع سلم باطل ہو گئی۔

مسئلہ۔ معاملہ کرتے وقت یہ شرط کر دی کہ فصل کے کٹنے پر فلاں مہینے میں ہم نئے گیہوں لیں گے یا فلانے کھیت کے گیہوں لیں گے تو یہ معاملہ جائز نہیں ہے اس لیے یہ شرط نہ کرنا چاہیے پھر وقت مقررہ پر اس کو اختیار ہے چاہے نئے دے یا پرانے ۔ البتہ اگر نئے گیہوں کٹ چکے ہوں تو نئے کی شرط کرنا بھی درست ہے۔

مسئلہ۔ تم نے دس روپے کے گیہوں لینے کا معاملہ کیا تھا وہ مدت گزر گئی بلکہ زیاد ہو گئی مگر اس نے اب تک گیہوں نہیں دیئے نہ دینے کی امید ہے تو اب یہ کہنا جائز نہیں کہ اچھا تم گیہوں نہ دو بلکہ اس گیہوں کے بدلے اتنے چنے یا اتنے دھان یا اتنی فلاں چیز دے دو۔ گیہوں کے عوض کسی اور چیز کا لینا جائز نہیں یا تو اس کو کچھ مہلت دے دو اور بعد مہلت گیہوں لو۔ یا اپنا روپیہ واپس لے لو۔ اسی طرح اگر بیع سلم کو تم دونوں نے توڑ دیا کہ ہم وہ معاملہ توڑتے ہیں گیہوں نہ لیں گے روپیہ واپس دے دیا یا تم نے نہیں توڑا بلکہ وہ معاملہ خود ہی ٹوٹ گیا جیسے وہ چیز نایاب ہو گئی کہیں نہیں ملتی تو اس صورت میں تم کو صرف روپے لینے کا اختیار ہے اس روپے کے عوض اس سے کوئی اور چیز لینا درست نہیں۔ پہلے روپیہ لیلو لینے کے بعد اس سے جو چیز چاہو خریدو۔

جو چیزیں تل کر بکتی ہیں ان کا بیان

مسئلہ۔ اب ان چیزوں کا حکم سنو جو تول کر بکتی ہیں جیسے اناج گوشت لوہا تانبا ترکاری نمک وغیرہ اس قسم کی چیزوں میں سے اگر اک چیز کو اسی قسم کی چیز سے بیچنا اور بدلنا چاہو مثلاً ایک گیہوں دے کر دوسرے گیہوں لیے یا ایک دھان دے کر دوسرے دھان لیے یا آٹے کے عوض آٹا یا اسی طرح کوئی اور چیز غرضیکہ دونوں طرف ایک ہی قسم کی چیز ہے تو اس میں بھی ان دونوں باتوں کا خیال رکھنا واجب ہے ایک تو یہ کہ دونوں طرف بالکل برابر ہو ذرا بھی کسی طرف کمی بیشی نہ ہو ورنہ سود ہو جائے گا۔ دوسری یہ کہ اسی وقت ہاتھ در ہاتھ دونوں طرف سے لین دین اور قبضہ ہو جائے۔ اگر قبضہ نہ ہو تو کم سے کم اتنا ضرور ہو کہ دونوں گیہوں الگ کر کے رکھ دیئے جائیں تم اپنے گیہوں تول کر الگ رکھ دو کہ دیکھو یہ رکھے ہیں جب تمہارا جی چاہے لے جانا۔ اسی طرح وہ بھی اپنے گیہوں تول کر الگ کر دے اور کہہ دے کہ یہ تمہارے الگ رکھے ہیں جب چاہو لے جانا۔ اگر یہ بھی نہ کیا اور ایک دوسرے سے الگ ہو گئی تو سود کا گناہ ہوا۔ مسئلہ۔ خراب گیہوں دے کر اچھے گیہوں لینا منظور ہے یا برا آٹا دے کر اچھا آٹا لینا ہے اس لیے اس کے برابر کوئی نہیں دیتا تو سود سے بچنے کی ترکیب یہ ہے کہ اس گیہوں یا آٹے وغیرہ کو پیسوں سے بیچ دو کہ ہم نے اتنا آٹا دو نے کو بیچا۔ پھر اسی دو نے کے عوض اس سے وہ اچھے گیہوں یا آٹا لے لو یہ جائز ہے۔ مسئلہ۔ اور اگر ایسی چیزوں میں جو تول کر بکتی ہیں ایک طرح کی چیز نہ ہو جیسے گیہوں دے کر دھان لیے یا جو۔ چنا۔ جوار۔ نمک۔ گوشت۔

ترکاری وغیرہ کوئی اور چیز لی غرضیکہ ادھر اور چیز ہے اور ادھر اور چیز دونوں طرف ایک چیز نہیں تو اس صورت میں دونوں کا وزن برابر ہونا واجب نہیں۔ سیر بھر گیہوں دے کر چاہے دس سیر دھان وغیرہ لے لو یا چھٹانک ہی بھر لو تو سب جائز ہے۔ البتہ وہ دوسری بات یہاں بھی واجب ہے کہ سامنے رہتے رہتے دونوں طرف سے لین دین ہو جائے یا کم سے کم اتنا ہو کہ دونوں کی چیزیں الگ کر کے رکھ دی جائیں اگر ایسا نہ کیا تو سود کا گناہ ہو گیا۔ مسئلہ۔ سیر بھر چنے کے عوض میں کنجڑن سے کوئی ترکاری لی پھر گیہوں نکالنے کے لیے اندر کوٹھڑی میں گئی وہاں سے الگ ہو گئی تو یہ ناجائز اور حرام ہے اب پھر سے معاملہ کرے۔ مسئلہ۔ اگر اس قسم کی چیز جو تول کر بکتی ہے روپے پیسے سے خریدی یا کپڑے وغیرہ کسی ایسی چیز سے بدلی ہے جو تول کر نہیں بکتی بلکہ گز سے ناپ کر بکتی ہے یا گنتی سے بکتی ہے مثلاً ایک تھان کپڑا دے کر گیہوں وغیرہ لے یا گیہوں چنے دے کر امرود نارنگی ناشپاتی انڈے ایسی چیزیں لیں جو گن کر بکتی ہیں غرضیکہ ایک طرف ایسی چیز ہے جو تول کر بکتی ہے اور دوسری طرف گنتی سے یا گز سے ناپ کر بکنے والی چیز ہے تو اس صورت میں ان دونوں باتوں میں سے کوئی بات بھی واجب نہیں۔ ایک پیسہ کے چاہے جتنے گیہوں آٹا ترکاری خریدے اسی طرح کپڑا دے کر چاہے جتنا اناج لیوے گیہوں چنے وغیرہ دے کر چاہے جتنے امرود نارنگی وغیرہ لیوے اور چاہے اسی وقت اس جگہ رہتے رہتے لین دین ہو جائے اور چاہے الگ ہو نے کے بعد ہر طرح یہ معاملہ درست ہے۔ مسئلہ۔ ایک طرف چھنا ہوا آٹا ہے دوسری طرف بے چھنا یا ایک طرف موٹا ہے دوسری طرف باریک۔ تو بدلتے وقت ان دونوں کا برابر ہونا واجب ہے کمی زیادتی جائز نہیں اگر ضرورت پڑے تو اس کی وہی ترکیب ہے جو بیان ہوئی۔

اور اگر ایک طرف گیہوں کا آٹا ہے دوسری طرف چنے کا یا جوار وغیرہ کا تو اب وزن میں دونوں کا برابر ہونا واجب نہیں مگر وہ دوسری بات بہرحال واجب ہے کہ ہاتھ در ہاتھ لین دین ہو جائے۔ مسئلہ۔ گہوں کو ٹے سے بدلنا کسی طرح درست نہیں چاہے سیر بھر گیہوں دے کر سیر ہی بھر آٹا لو چاہے کچھ کم زیادہ لو۔ بہرحال ناجائز ہے البتہ اگر گیہوں دے کر گیہوں کا آٹا نہیں لیا بلکہ چنے وغیرہ کسی اور چیز کا آٹا لیا تو جائز ہے مگر ہاتھ در ہاتھ ہو۔ مسئلہ۔ سرسوں دے کر سرسوں کا تیل لیا یا تل دے کر تلی کا تیل لیا تو دیکھو اگر یہ تیل جو تم نے لیا ہے یقیناً اس تیل سے زیادہ ہے جو اس سرسوں اور تل میں نکلے گا تو یہ بدلنا ہاتھ در ہاتھ صحیح ہے اور اگر اس کے برابر یا کم ہو یا شبہ ہو کہ شاید اس سے زیادہ نہ ہو تو درست نہیں بلکہ سود ہے۔

مسئلہ۔ گائے کا گوشت دے کر بکری کا گوشت لیا تو دونوں کا برابر ہونا واجب نہیں کمی بیشی جائز ہے مگر ہاتھ در ہاتھ ہو۔ مسئلہ۔ اپنا لوٹا دے کر دوسرے کا لوٹا لیا یا لوٹے کو پتیلی وغیرہ کسی اور برتن سے بدلا تو وزن میں دونوں کا برابر ہونا اور ہاتھ در ہاتھ ہونا شرط ہے اگر ذرا بھی کمی بیشی ہوئی تو سود ہو گیا کیونکہ دونوں چیزیں تانبے کی ہیں اس لیے وہ ایک ہی قسم کی سمجھی جائیں گی۔ اسی طرح اگر وزن میں برابر ہو مگر ہاتھ در ہاتھ نہ ہوئی تب بھی سود ہوا۔ البتہ اگر ایک طرف تانبے کا برتن ہو دوسری طرف لوہے کا یا پیتل وغیرہ کا تو وزن کی کمی بیشی جائز ہے مگر ہاتھ در ہاتھ ہو۔ مسئلہ۔ کسی سے سیر بھر گیہوں قرض لیے اور یوں کہا ہمارے پاس گیہوں تو ہیں نہیں ہم اس کے عوض دو سیر چنے دے دیں گے تو جائز نہیں کیونکہ اس کا مطلب تو یہ ہوا کہ گیہوں کو چنے سے بدلتی ہے اور بدلتے وقت ایسی دونوں چیزوں کا اسی وقت لین دین ہو جانا چاہیے کچھ ادھار نہ رہنا چاہیے۔ اگر کبھی ایسی ضرورت پڑے تو یوں کرے کہ گیہوں ادھار لے جائے اس وقت یہ نہ کہے کہ اس کے بدلے ہم چنے دیں گے بلکہ کسی دوسرے وقت چنے لا کر کہے۔ بہن اس گیہوں کے بدلے تم یہ چنے لے لو یہ جائز ہے۔ مسئلہ۔ یہ جتنے مسئلے بیان ہوئے سب میں اسی وقت رہتے رہتے سامنے لین دین ہو جانا یا کم سے کم اسی وقت سامنے دونوں چیزیں الگ کر کے رکھ دینا شرط ہے۔ اگر ایسا نہ کیا تو سودی معاملہ ہوا۔

مسئلہ۔ جو چیزیں تول کر نہیں بکتیں بلکہ گز سے ناپ کر یا گن کر بکتی ہیں ان کا حکم یہ ہے کہ اگر ایک ہی قسم کی چیز دے کر اسی قسم کی چز لو جیسے امرود دے کر دوسرے امرود لے یا نارنگی دے کر نارنگی یا کپڑا دے کر دوسرا ویسا کپڑا لیا۔ تو برابر ہونا شرط نہیں کمی بیشی جائز ہے لیکن اسی وقت لین دین ہو جانا واجب ہے اور اگر ادھر اور چیز ہے اور اس طرف اور چیز مثلاً امرود دے کر نارنگی لی یا گیہوں دے کر امرود لیے یا تنزیب دے کر لٹھا یا گاڑھا لیا تو بہرحال جائز ہے نہ تو دونوں کا برابر ہونا واجب ہے اور نہ اسی وقت لین دین ہونا واجب ہے۔

مسئلہ۔ سب کا خلاصہ یہ ہوا کہ علاوہ چاندی سونے کے اگر دونوں طرف ایک ہی چیز ہو اور وہ چیز تول کر بکتی ہو جیسے گیہوں کے عوض گیہوں چنے کے عوض چنا وغیرہ تب تو وزن میں برابر ہونا بھی واجب ہے اور اسی وقت سامنے رہتے رہتے لین دن ہو جانا بھی واجب ہے اور اگر دونوں طرف ایک ہی چیز ہے اس طرف سے اور چیز لیکن دونوں تول کر بکتی ہیں جیسے گیہوں کے بدلے چنا چنے کے بدلے جوار لینا۔ ان دونوں صورتوں میں وزن میں برابر ہونا واجب نہیں۔ کمی بیشی جائز ہے البتہ اسی وقت لین دین ہونا واجب ہے اور جہاں دونوں باتیں نہ ہوں یعنی دونوں طرف ایک ہی چیز نہیں اس طرف کچھ اور ہے اس طرف کچھ اور۔ اور وہ دونوں وزن کے حساب سے بھی نہیں بکتیں وہاں کمی بیشی بھی جائز ہے اور اسی وقت لین دین کرنا بھی واجب نہیں جیسے امرود دے کر نارنگی لینا۔ خوب سمجھ لو۔

مسئلہ۔ چینی کا ایک برتن دوسرے چینی کے برتن سے بدل لیا۔ یا چینی کو تام چینی سے بدلا تو اس میں برابری واجب نہیں ایک کے بدلے دو لیوے تب بھی جائز ہے۔ اسی طرح ایک سوئی دے کر دو سوئیاں یا تین یا چار لینا بھی جائز ہے لیکن اگر دونوں طرف چینی یا دونوں طرف تام چینی ہو تو اس وقت سامنے رہتے ہوئے لین دین ہو جانا چاہیے اور اگر قسم بدل جائے مثلاً چینی سے تام چینی بدلی تو یہ بھی واجب نہیں۔

مسئلہ۔ تمہارے پاس پڑوسن آئی کہ تم نے جو سیر بھر آٹا پکایا ہے وہ روٹی ہم کو دے دو۔ ہمارے گھر مہمان آ گئے ہیں اور سیر بھر یا سوا سیر آٹا یا گیہوں لے لو یا اس وقت روٹی دے دو پھر ہم سے آٹا یا گیہوں لے لے لینا۔ یہ درست ہے۔

مسئلہ۔ اگر نوکر ماما سے کوئی چیز منگاؤ تو اس کو خوب سمجھا دو کہ اس چیز کو اس طرح خرید کر لانا کبھی ایسا نہ ہو کہ وہ بے قاعدہ خرید لائے جس میں سود ہو جائے پھر تم اور سب بال بچے اس کو کھائیں اور حرام کھانا کھانے کے وبال میں سب گرفتار ہوں اور جس جس کو تم کھلاؤ مثلاً میاں کو مہمان کو سب کا گناہ تمہارے اوپر پڑے۔

سونے چاندی اور ان کی چیزوں کا بیان

مسئلہ۔ چاندی سونے کے خریدنے کی کئی صورتیں ہیں۔ ایک تو یہ کہ چاندی کو چاندی سے اور سونے کو سونے سے خریدا۔ جیسے ایک روپیہ کی چاندی خریدنا منظور ہے یا آٹھ نے کی چاندی خریدی اور دام میں اٹھنی دی یا اشرفی سے سونا خریدا۔ غرض کہ دونوں طرف ایک ہی قسم کی چیز ہے تو ایسے وقت دو باتیں واجب ہیں ایک تو یہ کہ دونوں طرف کی چاندی یا دونوں طرف کا سونا برابر ہو۔ دوسرے یہ کہ جدا ہونے سے پہلے ہی پہلے دونوں طرف سے لین دین ہو جائے کچھ ادھار باقی نہ رہے اگر ان دونوں باتوں میں سے کسی بات کے خلاف کیا تو سود ہو گیا مثلاً ایک روپے کی چاندی تم نے لی تو وزن میں ایک روپے کے برابر لینا چاہیے اگر روپے بھر سے کم لی یا اس سے زیادہ لی تو یہ سود ہو گیا۔ اسی طرح اگر تم نے روپیہ تو دے دیا لیکن اس نے چاندی ابھی نہیں دی تھوڑی دیر میں تم سے الگ ہو کر دینے کا وعدہ کیا یا اسی طرح تم نے ابھی روپیہ نہیں دیا چاندی ادھار لے لی تو یہ بھی سود ہے۔

مسئلہ۔ دوسری صورت یہ ہے کہ دونوں طرف ایک قسم کی چیز نہیں بلکہ ایک طرف چاندی اور ایک طرف سونا ہے اس کا حکم یہ ہے کہ وزن کا برابر ہونا ضروری نہیں ایک روپے کا چاہے جتنا سونا ملے جائز ہے اسی طرح ایک اشرفی کی چاہے جتنی چاندی ملے جائز ہے لیکن جدا ہونے سے پہلے ہی لین دین ہو جانا کچھ ادھار نہ رہنا یہاں بھی واجب ہے جیسا کہ ابھی بیان ہوا۔

مسئلہ۔ بازار میں چاندی کا بھاؤ بہت تیز ہے یعنی اٹھارہ آنے کی روپیہ بھر چاندی ملتی ہے روپے کی روپے بھر کوئی نہیں دیتا یا چاندی کا زی بہت عمدہ بنا ہوا ہے اور دس روپے بھر اس کا وزن ہے مگر بارہ سے کم میں نہیں ملتا تو سود سے بچنے کی ترکیب یہ ہے کہ روپے سے نہ خریدو بلکہ پیسوں سے خریدو اور اگر زیادہ لینا ہو تو اشرفیوں سے خریدو یعنی اٹھارہ آنے پیسوں کی عوض میں روپیہ بھر چاندی لے لو یا کچھ ریزگاری یعنی ایک روپے سے کم اور کچھ پیسے دے کر خرید لو تو گناہ نہ ہو گا لیکن ایک روپیہ نقد اور دو نے پیسے نہ دینا چاہیے نہیں تو سود ہو جائے گا اسی طرح اگر آٹھ روپے بھر چاندی نو روپے میں لینا منظور ہے تو سات روپے اور دو روپے کے پیسے دے دو تو سات روپے کے عوض میں سات روپے بھر چاندی ہو گئی باقی سب چاندی ان پیسوں کی عوض میں گئی۔ اگر دو روپے کے پیسے نہ دو تو کم سے کم اٹھارہ آنے کے پیسے ضرور دینا چاہیے یعنی سات روپے اور چودہ آنے کی ریزگاری اور اٹھارہ آنے کے پیسے دیئے تو چاندی کے مقابلہ میں تو اسی کے برابر چاندی آئی جو کچھ بچی وہ سب پیسوں کی عوض میں ہو گئی اگر آٹھ روپے اور ایک روپے کے پیسے دو گی تو گناہ سے نہ بچ سکو گی کیونکہ آٹھ روپے کی عوض میں آٹھ روپے بھر چاندی ہونی چاہیے پھر یہ پیسے کیسے اس لیے سود ہو گیا۔ غرضیکہ اتنی بات ہمیشہ خیال میں رکھو کہ جتنی چاندی لی ہے تم اس سے کم چاندی دو اور باقی پیسے شامل کر دو تو سود نہ ہو گا اور یہ بھی یاد رکھو کہ اس طرح ہرگز سود نہ طے کرو کہ نو روپے کی اتنی چاندی دے دو بلکہ یوں کہو کہ سات روپے اور دو۔ روپے کے پیسوں کے عوض میں یہ چاندی دے دو۔ اور اگر اس طرح کہا تو پھر سود ہو گیا خوب سمجھ لو۔

مسئلہ۔ اور اگر دونوں لینے دینے والے رضا مند ہو جائیں تو ایک آسان بات یہ ہے کہ جس طرف چاندی وزن میں کم ہو اس طرف پیسے شامل ہونے چائیں۔

مسئلہ۔ اور ایک اس سے بھی آسان بات یہ ہے کہ دونوں آدمی جتنے چاہیں روپے رکھیں اور جتنی چاہیں چاندی رکھیں مگر دونوں آدمی ایک ایک پیسہ بھی شامل کر دیں اور یوں کہہ دیں کہ ہم اس چاندی اور اس پیسہ کو اس روپے اور اس پیسہ کے بدلے لیتے ہیں سارے بکھیڑوں سے بچ جاؤ گی۔

مسئلہ۔ اگر چاندی سستی ہے اور ایک روپے کی ڈیڑھ روپیہ بھر ملت ہے روپے کی روپیہ بھر لینے میں اپنا نقصان ہے تو اس کے لینے اور سود سے بچنے کی یہ صورت ہے کہ داموں میں کچھ نہ کچھ پیسے ضرور ملا دو۔ کم سے کم دو ہی نے یا ایک نہ یا ایک پیسہ ہی سہی۔ مثلاً دس روپے کی چاندی پندرہ روپے بھر خریدی تو نو روپے اور ایک روپے کے پیسے دے دو یا دو ہی آنے کے پیسے دے دو۔ باقی روپے اور ریزگاری دے دو تو ایسا سمجھیں گے کہ چاندی کے عوض میں اس کے برابر چاندی لی باقی سب چاندی ان پیسوں کی عوض میں ہے اس طرح گناہ نہ ہو گا اور وہ بات یہاں بھی ضرور خیال رکھو کہ یوں نہ کہو کہ اس روپے کی چاندی دے دو بلکہ یوں کہو کہ نو روپے اور ایک روپے کے پیسوں کے عوض میں یہ چاندی دے دو۔ غرض جتنے پیسے شامل کرنا منظور ہیں معاملہ کرتے وقت ان کو صاف کہہ بھی دو ورنہ سود سے بچاؤ نہ ہو گا۔

مسئلہ۔ عورتیں اکثر بازار سے سچا گوٹہ ٹھپہ لچکہ خریدتی ہیں اس میں ان مسئلوں کا خیال رکھو کیونکہ وہ بھی چاندی ہے اور روپیہ چاندی کا اس کے عوض دیا جاتا ہے یہاں بھی آسان بات وہی ہے کہ دونوں طرف ایک ایک پیسہ ملا لیا جائے۔

مسئلہ۔ اگر چاندی یا سونے کی بنی ہوئی کوئی ایسی چیز خریدی جس میں فقط چاندی ہی چاندی ہے یا فقط سونا ہے کوئی اور چیز نہیں ہے تو اس کا بھی یہی حکم ہے کہ اگر سونے کی چیز چاندی یا روپوں سے خریدے یا چاندی کی چیز اشرفی سے خریدے تو وزن میں چاہے جتنی ہو جائز ہے فقط اتنا خیال رکھے کہ اسی وقت لین دین ہو جائے کسی کے ذمہ کچھ باقی نہ رہے۔ اور اگر چاندی کی چیز روپوں سے اور سونے کی چیز اشرفیوں سے خریدے تو وزن میں برابر ہونا واجب ہے اگر کسی طرف کچھ کمی بیشی ہو تو اسی ترکیب سے خریدو جو اوپر بیان ہوئی۔

مسئلہ۔ اور اگر کوئی ایسی چیز ہے کہ چاندی کے علاوہ اس میں کچھ اور بھی لگا ہوا ہے مثلاً جو شن کے اندر لاکھ بھری ہوئی ہے اور نو رنگوں پر رنگ جڑے ہیں انگوٹھیوں پر نگینے رکھے ہیں یا جوشنوں میں لاکھ تو نہیں ہے لیکن تاگوں میں گندھے ہوئے ہیں۔ ان چیزوں کو روپوں سے خریدا تو دیکھو اس چیز میں کتنی چاندی ہے وزن میں اتنے ہی روپوں کے برابر ہے جتنے کو تم نے خریدا ہے۔ یا اس سے کم ہے یا اس سے زیادہ اگر روپوں کی چاندی سے اس چیز کی چاندی یقیناً کم ہو تو یہ معاملہ جائز ہے اور اگر برابر یا زیادہ ہو تو سود ہو گیا اور اس سے بچنے کی وہی ترکیب ہے جو اوپر بیان ہوئی کہ دام کی چاندی اس زیور کی چاندی سے کم رکھو اور باقی پیسے شامل کر دو اور اسی وقت لین دین کا ہو جانا ان سب مسئلوں میں بھی شرط ہے۔

مسئلہ۔ اپنی انگوٹھی سے کسی کی انگوٹھی بدل لی تو دیکھو اگر دونوں پر نگ لگا ہو تب تو بہرحال یہ بدل لینا جائز ہے چاہے دونوں کی چاندی برابر ہو یا کم زیادہ سب درست ہے البتہ ہاتھ در ہاتھ ہونا ضروری ہے اور اگر دونوں سادی یعنی بے رنگ کی ہوں تو برابر ہونا شرط ہے اگر ذرا بھی کمی بیشی ہو گئی تو سود ہو جائے گا اگر ایک پر رنگ ہے اور دوسری سادی تو اگر سادی میں زیادہ چاندی ہو تو یہ بدلنا جائز ہے ورنہ حرام اور سود ہے۔ اسی طرح اگر اسی وقت دونوں طرف سے لین دین نہ ہو ایک نے تو ابھی دے دی دوسری نے کہا بہن میں ذرا دیر میں دے دوں گی تو یہاں بھی سود ہو گیا۔

مسئلہ۔ جن مسئلوں میں اسی وقت لین دین ہونا شرط ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ دونوں کے جدا اور علیحدہ ہونے سے پہلے ہی پہلے لین دین ہو جائے اگر ایک آدمی دوسرے سے الگ ہو گیا اس کے بعد لین دین ہوا تو اس کا اعتبار نہیں یہ بھی سود میں داخل ہے مثلاً تم نے دس روپے کی چاندی یا سونا یا چاندی سونے کی کوئی چیز سنار سے خریدی تو تم کو چاہیے کہ روپے اسی وقت دے دو اور اس کو چاہیے کہ وہ چیز اس وقت دے دے۔ اگر سنار چاندی اپنے ساتھ نہیں لایا اور یوں کہا کہ میں گھر جا کر ابھی بھیج دوں گا تو یہ جائز نہیں بلکہ اس کو چاہیے کہ یہیں منگوا دے اور اس کے منگوانے تک لینے والا بھی وہاں سے نہ ہلے اور نہ اس کو اپنے سے الگ ہونے دے اگر اس نے کہا تم میرے ساتھ چلو میں گھر پہنچ کر دے دوں گا تو جہاں جہاں وہ جائے برابر اس کے ساتھ ساتھ رہنا چاہیے اگر وہ اندر چلا گیا یا اور کسی طرح الگ ہو گیا تو گناہ ہوا اور وہ بیع ناجائز ہو گئی اب پھر سے معاملہ کریں۔

مسئلہ۔ خریدنے کے بعد تم گھر میں روپیہ لینے آئیں یا وہ کہیں پیشاب وغیرہ کے لیے چلا گیا یا اپنی دوکان کے اندر ہی کسی کام کو گیا اور ایک دوسرے سے الگ ہو گیا تو یہ ناجائز اور سودی معاملہ ہو گیا۔

مسئلہ۔ اگر تمہارے پاس اس وقت روپیہ نہ ہو اور ادھار لینا چاہو تو اس کی تدبیر یہ ہے کہ جتنے دام تم کو دینا چاہئیں اتنے روپے اس سے قرض لے کر اس خریدی ہوئی چیز کے دام بیباق کر دو قرض کی ادائیگی تمہارے ذمہ رہ جائے گی اس کو جب چاہے دے دینا۔

 مسئلہ۔ ایک کا مدار دوپٹہ یا ٹوپی وغیرہ دس روپے کو خریدا تو دیکھو اس میں کے روپے بھر چاندی نکلے گی جے روپے چاندی اس میں ہو اتنے روپے اسی وقت پاس رہتے رہتے دے دینا واجب ہیں باقی روپے جب چاہو دو۔ یہی حکم جڑاؤ زیوروں وغیرہ کی خرید کا ہے مثلاً پانچ روپے کا زیور خریدا اور اس میں دو روپے بھر چاندی ہے تو دو روپے اسی وقت دے دو باقی جب چاہے دینا۔

مسئلہ۔ ایک روپیہ یا کئی روپے کے پیسے لیے یا پیسے دے کر روپیہ لیا تو اس کا حکم یہ ہے کہ دونوں طرف سے لین دین ہونا ضروری نہیں ہے بلکہ ایک طرف سے ہو جانا کافی ہے مثلاً تم نے روپیہ تو اسی وقت دے دیا لیکن اس نے پیسے ذرا دیر بعد دیئے یا اس نے پیسے اسی وقت دے دیئے تم نے روپیہ علیحدہ ہونے کے بعد دیا یہ درست ہے البتہ اگر پیسوں کے ساتھ کچھ ریزگاری بھی لی ہو تو ان کا لین دین دونوں طرف سے اسی وقت ہو جانا چاہیے کہ یہ روپیہ دے دے اور وہ ریزگاری دے دے لیکن یاد رکھو کہ پیسوں کا یہ حکم اسی وقت ہے جب دوکاندار کے پاس پیسے ہیں تو سہی لیکن کسی وجہ سے دے نہیں سکتا یا گھر پر تھے وہاں جا کر لا دے گا تب دے گا۔ اور اگر پیسے نہیں تھے یوں کہا جب سودا بکے اور پیسےآئیں تو لے لینا یا کچھ پیسے ابھی دے دیئے اور باقی سبت کہا جب بکری ہو اور پیسےآئیں تو لے لینا یہ درست نہیں اور چونکہ اکثر پیسوں کے موجود نہ ہونے ہی سے یہ ادھار ہوتا ہے۔ اس لیے مناسب یہی ہے کہ بالکل پیسے ادھار کے نہ چھوڑے۔ اور اگر کبھی ایسی ضرورت پڑے تو یوں کرو کہ جتنے یہ پیسے موجود ہیں وہ قرض لے لو اور روپیہ امانت رکھا دو جب سب پیسے دے اس وقت بیع کر لینا۔

مسئلہ۔ اگر اشرفی دے کر روپے لیے تو دونوں طرف سے لین دین سامنے رہتے رہتے ہو جانا واجب ہے۔

مسئلہ۔ چاندی سونے کی چیز روپے یا اشرفیوں سے خریدی اور شرط کر لی کہ ایک دن تک یا تین دن تک ہم کو لینے نہ لینے کا اختیار ہے تو یہ جائز نہیں ایسے معاملہ میں یہ اقرار نہ کرنا چاہیے۔

سودی لین دین کا بیان

سودی لین دین کا بڑا بھاری گناہ ہے۔ قرآن مجید اور حدیث شریف میں اس کی بڑی برائی اور اس سے بچنے کی بڑی تاکید آئی ہے۔ حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سود دینے والے اور لینے والے اور بیچ میں پڑ کے سود دلانے والے سودی دستاویز لکھنے والے گواہ شاہد وغیرہ سب پر لعنت فرمائی ہے اور فرمایا ہے کہ سود دینے والا اور لینے والا گناہ میں دونوں برابر ہیں اس لیے اس سے بہت بچنا چاہیے اس کے مسائل بہت نازک ہیں۔ ذرا ذرا سی بات میں سود کا گناہ ہو جاتا ہے اور انجان لوگوں کو پتہ بھی نہیں لگتا کہ کیا گناہ ہوا۔ ہم ضروری ضروری مسئلے یہاں بیان کرتے ہیں لین دین کے وقت ہمیشہ ان کا خیال رکھا کرو۔ مسئلہ۔ ہندو پاکستان کے رواج سے سب چیزیں چار قسم کی ہیں۔ ایک تو خود سونا چاندی یا ان کی بنی ہوئی چیز۔ دوسرے اس کے سوا اور وہ چیزیں جو تول کر بکتی ہیں جیسے اناج غلہ لوہا تانبہ روٹی ترکاری وغیرہ۔ تیسرے وہ چیزیں جو گز سے ناپ کر بکتی ہیں جیسے کپڑا چوتھے وہ جو گنتی کے حساب سے بکتی ہیں جیسے انڈے م امرود نارنگی بکری گائے گھوڑا وغیرہ۔ ان سب چیزوں کا حکم الگ الگ سمجھ لو۔

نوٹ بوقت تالیف بہشتی زیور روپیہ اور رپز گاری چاندی کے رائج تھے لہذا روپیہ وغیرہ سے چاندی وغیرہ خرید نے کے مسائل لکھے گئے تھے۔ اب چونکہ روپیہ اور ریزگاری دوسری دھات کے ہیں اس لیے موجودہ روپیہ سے اس کے وزن سے کم و بیش بھی خریدی جا سکتی ہے۔ ہاں ہاتھ در ہاتھ ہونا اب بھی شرط ہے اور ان مسائل کو اب بھی باقی اس لیے رکھا گیا ہے کہ اگر پھر کبھی روپیہ وغیرہ چاندی کا رائج ہو جائے تو مسائل معلوم رہیں۔ شبیر علی۔