ایک لفافہ پرٹکٹ بالکل صاف تھا ڈاکخانہ کی مہر سے بھی بچ گیا تھا حضرت والا نے اس کو فورا چاک کرڈالا اور فرمایا کہ بعض لوگ تو استعمال کوجائز کہتے ہیں مگر میں کہتا ہوں کہ اگرجائزنا جائز کا بھی خیال نہ ہوتب بھی اپنے نفس کا تو معالجہ ضروری ہے ایسی جائز چیزوں سے بھی ناجائز کی عادت پڑتی ہے نفس کو اور میں توایسے دوبارہ انتفاع حاصل کرنے کو ناجائز سمجھتا ہوں ایسی باتوں سے عوام کی جرات بڑھتی ہے ایسی جزیات میں سخت احتیاط کی ضرورت ہے ۔
20 شوال المکرم 1350 ھ مجلس بعد نماز ظہر یوم یک شنبہ
(ملفوظ 385) جیوہتیاں کوانسان ہتیا کی پرواہ نہیں
ایک گفتگو کے سلسلہ میں فرمایا کہ جتنے فرقے جیوہتیا پر معترض ہیں ان کو انسان ہتیا کی ذرہ برابر پرواہ نہیں ان کے یہاں سانپ بچھو بھنگا مچھر کیڑی مکوڑے سب کی حفاظت ہے اگر نہیں تو آدمی کی حفاظت نہ یں ۔
(ملفوظ 384)رعایا کی مصلحت ضروری ہے
فرمایا کہ آج کل لوگ حکومت کے بعض قواعد سے ناخوش ہیں اس کا اصلی سبب یہ ہے کہ ان قواعد کے تحت ہروقت روپیہ گھسیٹنے کی فکر میں رہتے ہیں رعایا کی مصلحت اوررعایا کی راحت کی ذرہ برابر پرواہ نہیں پہلے سلاطین میں یہ بات نہ تھی گواور قسم کے ظلم ہوں ۔
(ملفوظ 383)شریعت مقدسہ کے اصول
فرمایا کہ آج کل اکثر لوگ محل بے محل جوش میں کہہ دیتے ہیں کہ دین کے لئے جانیں دے دینی چاہئیں اس سے ہم بھی متفق ہیں بشرط یہ کہ قاعدہ سے ہو مراد قاعدہ سے شرعی قاعدہ ہے قاعدہ سے جان دینے میں ارمان نہیں ہوتا یہ تو اطمینان ہوتا ہے کہ محل میں جان صرف ہوئی اور بے قاعدہ اور بے اصول کس طرح دے دی جائے اس کے دینے کے لئے بھی تو شریعت مقدسہ نے اصول بیان کئے ہیں اور جب ہم کو معمولی معمولی باتوں میں احکام کا مکلف بنایا ہے تو اتنی بڑی چیز جان دینے کے باب میں کیسے آزاد چھوڑ دیا جاتا ۔
(ملفوظ 382) تبحر فی العلوم فرض ہونے میں حکمت
ایک صاحب نے عرض کیا کہ حضرت نے ایک بار فرمایا تھا کہ آج کل تبحر فی العلوم قریب قریب عین ہے فرمایا جی ہاں وجہ اس کی یہ ہے کہ پہلے زمانہ میں عام لوگوں میں انقیاد اور بزرگوں پراعتماد زیادہ ہوتا تھا انکی تقلید علم و عمل کے لئے کافی ہوتی تھی اب یہ نہیں رہا تو پھراب کونسی صورت ہے حفاظت دین کی بس یہ حفاظت اسی میں ہے کہ شخص ضرویات کا درسی عالم ہو اس لئے ایسا نہ کرنے میں نہ تو خود دین کو سمجھ سکتے ہیں اور سمجھانے والے پراعتماد کرنے سے عار ہے تو اب دین کی حفاظت کی واحد صورت یہی ہے کہ ہرشخص اس قدر علم دین حاصل کرے کہ جس سے دین کو سمجھ سکے ورنہ آگے چل کراندیشہ ہے گمراہی میں پھنس جانے کا اس وجہ سے میں تبحرفی العلوم کو تقریبا فرض عین کہتا ہوں ۔
(ملفوظ 381)طبیعت کا ضیعف ہونا
حضرت والا نے ایک صاحب سے پانی کے لئے منگایا کٹورہ میں پانی زائد دیکھ کر فرمایا کہ اس کوکم کرکے لاؤ طبیعت اس قدر ضیعف ہے کہ زائد پانی ہونے کی وجہ سے طبیعت گھبراتی ہے تھوڑا سا بھی نہیں پیا جاتا دسترخوان پرا گر روٹی زائد آجائے توایک روٹی بھی راحت سے نہیں کھا سکتا اب بتلایئے بعضے انتظامات کی یہ بناء کیسے سمجھاؤں میرے اس مواخذہ کرنے پرکہ تکنے سے تکلیف ہوتی ہے کہتے تھے کہ یہ سمجھ میں نہیں آتا کہ دیکھنے سے بھی تکلیف ہوتی ہے ۔
(ملفوظ 380)اولیاء اللہ کے تذکرہ میں برکت
ایک گفتگو کے سلسلہ میں فرمایا کہ ایک آوارہ لڑکے کے متعلق اس کے والدہ کو میں نے مشورہ دیا ہے کہ اس کو بزرگوں کے حالات کی کتاب نزہتہ البسا تین پڑھنے کودے دی جائے اولیاءاللہ کے تذکرہ میں بڑی برکت ہوتی ہے اور میں نے یہ بھی کہدیا ہے کہ جو حکایت سمجھ میں نہ آوے اس کوچھوڑ دیا جاوے اس میں خوض نہ کیا جاوے اس میں خوض نہ کیا جاوے اس لئے کہ اس میں بعض حکایت ایسی ہیں کہ ظاہر نظر میں انکا مضمون شریعت معلوم ہوتا ہے پھر اس مشورہ کے متعلق یہ فرمایا کہ میں تو یہ چاہتا ہوں کہ مشقت نہ ہو اور اصلاح ہوجائے اوریہ طریقہ بزرگوں کی حکایتوں کے دیکھنے سے حاصل ہوجاتا ہے کہ ظاہر میں کوئی خاص مجاہدہ نہیں اوراندراندرسب کچھ اثر ہورہاہے فرمایا کہ مقبولین کے حالات دیکھنے اور پڑھنے کے بارہ میں حق تعالی بھی اپنے کلام پاک میں فرماتے ہیں وکلا نقص علیک من انباء الرسل مانشبت ید فوادک یعنی ہم آپ سے انبیاء کے ایسے قصے بیان کرتے ہیں جس سے آپ کے دل کو مضبوطی دیں فرمایا کہ نزہتہ البساطین میں ایک ہزار سے زیادہ حکایات ہیں تو جہاں ایک ہزار نشتر لگیں گے کہاں تک مادہ فاسد نہ نکلے گا ۔
( ملفوظ 379)تقریر کے وقت عزم راسخ :
فرمایا کہ میں جب تقریر کرتا ہوں اس وقت دل میں یہ عزم راسخ ہوتا ہے کہ مخاطب میں دین پیدا ہوجائے ۔
20 شوال المکرم 1350ھ مجلس خاص بوقت صبح یوم یکشنبہ
(ملفوظ 378)جدید تعلیم یافتہ کو نصف تعطیلات ، اہل اللہ کی صحبت کا مشورہ
فرمایا کہ میں تو انگریزی کے جدید تعلیم یافتہ طلبا کے متعلق ایک رائے دیا کرتا ہوں کہ مختصر چھٹیاں اور تعطیلات جو ان کوتو وہ اپنے کھیل کود کے لئے رکھیں اوربڑی تعطیل کا نصف حصہ بھی کھیل کود میں صرف کریں اور نصف کسی اہل باطن اہل علم کی صحبت میں گزاریں اور جو کچھ وہ کہیں اس کو سنا کریں اگر اعتقاد سے بھی نہ سنیں تو انکار سے بھی نہ سنیں خلو ذہن کی ساتھ سنا کریں میرا تو یہ دعوٰٰی ہے کہ انشاءاللہ تعالٰی اس طرز سے چند روز میں ان کے قلب میں دین پیدا ہوجائے گا حضرت اس کی بڑی ضرورت ہے کہ آدمی مسلمان توہو اب تو اسی کے لالے پڑگئے کہ مسلمان بھی ہے یا نہیں اس میں ایمان بھی ہے یا نہیں بریلی میں ایک انگریزی دان لڑکا تھا بری صحبت سے اس کے عقائد خراب ہوگئے تھے میں بریلی گیا ہوا تھا ان کے دادا نے مجھ سے کہا کہ اس کو نماز پڑھنے کو کہہ دیجئے میں نے بدون کسی تمہید کے صاف لفظوں میں پوچھا کہ تم نماز کیوں نہیں پڑھتے کہا کہ میں اللہ تعالٰی کا قائل نہیں نماز کس کی پڑھوں وہ لڑکا ایک مسلم کالج میں تعلیم پاتا تھا میں نے اس لڑکے کے دادا سے کہا کہ آپ نماز کی تبلیغ کراتے ہیں یہ تو مسلمان بھی نہیں اس کو اول اسلام کی تعلیم کی ضرورت ہے ان بیچاروں کو یہ سنکر بے حد صدمہ ہوا اور مجھ سے مشورہ لیا کہ اب کیا کروں میں نے کہا کہ اس کو اس کالج سے اٹھا کر گورنمنٹ اسکول یا کالج میں داخل کرو ان کو تعجب ہوا کہ یہ کیا بات ہے اسلامی کالج میں تو یہ کافرہوا اور غیر اسلامی میں مسلمان ہوجاوے گا میں نے کہا کہ میں اس وقت تک اس کی حکمت نہ بتلاؤں گا غرض انھوں نے ایسا ہی کیا سو چونکہ اسلامی کالج میں سب ایک ہی مذہب کے تھے اس لئے آزادی کے ساتھ جوچاہتا تھا کیا سو چونکہ اسلامی کالک میں سب ایک ہی مذہب کے تھے اس لئے آزادی کے ساتھ ہوچاہتا تھا بکتا تھا اور گورنمنٹ کالج میں بہت سے غیر مسلم بھی تھے وہ اسلام پراعتراض کرتے تو قومیت کی محبت میں اس کو باگوار ہوتا ان کو جواب دیتا اس طرح اسلام کا اثر قلب میں پیدا ہوتا رہا اور چند روز میں پکا اور کٹر مسلمان ہوگیا یہ حکمت تھی اس صورت میں اورایک تدبیر تھی نہایت دقیق اور میں تو بحمد اللہ اکثر تدابیر ہی سے کام لیتا ہوں وجہ یہ کہ اول تو مجھ میں قوت باطنی ہے نہیں ہاں قوت بطنی تو ہے دونوں وقت پیٹ بھرکر کھا لیا لیکن میں کہتا ہوں کہ اگرقوت باطنی ہوتی بھی تو میں اس سے کام نہ لیتا اس لئے کہ یہ انبیاء علیہم السلام کی سنت نہیں مجال تھی کہ ابولہب اور انو جہل ایمان سے رہ جاتے اگرحضور قوت باطنی سے کام لیتے نیز عبدیت کے بھی خلاف ہے خدا پرچھوڑدینا چاہئے اور تبلیغ وتدبیراس تفویض کے خلاف نہیں کیونکہ اس کا حکم خدا تعالٰی ہی نے کیا ہے پھر فرمایا جی یہ چاہتا ہے کہ مسلمان مسلمان ہوں ہندو نہ ہوں دیکھیئے میں صرف یہ چاہتا ہوں نہ امارت کا مخالف ہوں نہ سلطنت کا مگر لوگ مولویوں کے متعلق نہ معلوم کیا کیا خیال پکائے بیٹھے ہیں کہ یہ مسلمانوں کو پستی سکھلاتے ہیں ۔
(ملفوظ 377)ہم ترقی کے دشمن نہیں
فرمایا کہ ہم کو ترقی کا دشمن کہا جاتا ہے حالانکہ ایسی دشمنی کو اپنی غرض کے لئے خود بھی پسند کرتے ہیں چنانچہ میں نے ایک صاحب سے سلسلہ گفتگو میں اس کی ایک مثال بیان کی تھی عجیب مثال ہے کہ باورچی آپ کا دس روپے کا ملازم ہے اس کو کسی شخص نے کہا کہ ہم تجھ کو بیس ورپیہ دیں گے تم ہمارے یہاں آجاؤ اوروہ اس کو قبول کرلے اور آپ کو معلوم ہوتو کیا کہیں گے آپ یہ ہی کہیں گے کہ بڑا ہی بے وفا تھا ہمارا کچھ بھی خیال نہ کیا اور اگر وہ انکار کردے اوراس دس روپیہ ہی پرقناعت کرے اور بعد میں اس واقعہ میں اس کی ترقی قبول کرنے پر آپ جفا اورترقی سے انکا ر کرنے پرخوش ہوئے سواگر علماء بھی رضائے حق کے واسطے ایسا ہی کریں تو ان پرکیوں الزام ہے یہ مثال سن کرہرمنصف پر بے حد اثر ہوگا اور بہت ہی خوش ہوگا (بشرط یہ کہ علماء بھی ایسے ہوں وقلیل ماہم ۔

You must be logged in to post a comment.