نفع لے کر دام کے دام پر بیچنے کا بیان

مسئلہ۔ ایک چیز ہم نے ایک روپیہ کو خریدی تھی تو اب اپنی چیز کا ہم کو اختیار ہے چاہے ایک ہی روپیہ کو بیچ ڈالیں اور چاہے دس بیس روپے کو بیچیں اس میں کوئی گناہ نہیں۔ لیکن اگر معاملہ اس طرح طے ہوا۔ کہ اس نے کہا ایک آنہ روپیہ منافع لے کر ہمارے ہاتھ بیچ ڈالو۔ اس پر تم نے کہا اچھا ہم نے روپے پیچھے ایک آنہ نفع پر بیچا تو اب ایک آنہ روپیہ سے زیادہ نفع لینا جائز نہیں۔ یا یوں ٹھہرا کہ جتنے کو خریدا ہے اس پر چار آنہ نفع لے لو۔ اب بھی ٹھیک دام بتلا دینا واجب ہے اور چار نے سے زیادہ نفع لینا درست نہیں۔ اسی طرح اگر تم نے کہا کہ یہ چیز ہم تم کو خرید کے دام پر دیں گے کچھ نفع نہ لیں گے۔ تو اب کچھ نفع لینا درست نہیں۔ خرید ہی کے دام ٹھیک ٹھیک بتلا دینا واجب ہے۔

مسئلہ۔ کسی سودے کا یوں مول کیا کہ ایک روپیہ کے نفع پر بیچ ڈالو۔ اس نے کہا کہ اچھا میں نے اتنے ہی نفع پر بیچا۔ یا تم نے کہا کہ جتنے کو لیا ہے اتنے ہی دام پر بیچ ڈالو۔ اس نے کہا اچھا تم وہی دے دو نفع کچھ نہ دینا لیکن اس نے ابھی یہ نہیں بتلایا کہ یہ چیز کتنے کی خرید ہے تو دیکھو اگر اسی جگہ اٹھنے سے پہلے وہ اپنی خرید کے دام بتلا دے تو تب تو یہ بیع صحیح ہے۔ اور اگر اسی جگہ نہ بتلا دے بلکہ یوں کہے آپ لے جائیے حساب دیکھ کر بتلایا جائے گا یا اور کچھ کہا تو وہ بیع فاسد ہے۔

مسئلہ۔ لینے کے بعد اگر معلوم ہوا کہ اس نے چالاکی سے اپنی خرید غلط بتلائی ہے اور نفع وعدہ سے زیادہ لیا ہے تو خریدنے والے کو دام کم دینے کا اختیار نہیں ہے بلکہ اگر خریدنا نامنظور ہے تو وہی دام دینا پڑیں گے جتنے کو اس نے بیچا ہے۔ البتہ یہ اختیار ہے کہ اگر لینا منظور نہ ہو تو پھیر دے۔ اور اگر خرید کے دام پے بیچ دینے کا اقرار تھا اور یہ وعدہ تھا کہ ہم نفع نہ لیں گے پھر اس نے اپنی خرید غلط او ر زیادہ بتلائی تو جتنا زیادہ بتلایا ہے اس کے لینے کا حق نہیں ہے لینے والی کو اختیار ہے کہ فقط خرید کے دام دے اور جو زیادہ بتلایا ہے وہ نہ دے۔

مسئلہ۔ کوئی چیز تم نے ادھار خریدی تو اب جب تک دوسرے خریدنے والے کو یہ نہ بتلا دو کہ بھائی ہم نے یہ چیز ادھار لی ہے اس وقت تک اس کو نفع پر بیچنا یا خرید کے دام پر بیچنا ناجائز ہے بلکہ بتلا دے کہ یہ چیز میں نے ادھار خریدی تھی پھر اس طرح نفع لے کر یا دام کے دام پر بیچنا درست ہے البتہ اگر اپنی خرید کے داموں کا کچھ ذکر نہ کرے پھر چاہے جتنے دام پر بیچ دے تو درست ہے۔

مسئلہ۔ ایک کپڑا ایک روپیہ کا خریدا۔ پھر چار نے دے کر اس کو رنگوایا۔ یا اس کو دھلوایا۔ یا سلوایا تو اب ایسا سمجھیں گے کہ سوا روپے کو اس نے مول لیا۔ لہذا اب سوا روپیہ اس کی اصلی قیمت ظاہر کر کے نفع لینا درست ہے مگر یوں نہ کہے کہ سوا روپے کو میں نے لیا ہے بلکہ یوں کہے کہ سوا روپے میں یہ چیز مجھ کو پڑی ہے تاکہ جھوٹ نہ ہونے پائے۔

مسئلہ۔ ایک بکری چار روپے کو مول لی۔ پھر مہینہ بھر تک رہی اور ایک روپیہ اس کی خوراک میں لگ گیا تو اب پانچ روپے اس کی اصلی قیمت ظاہر کر کے نفع لینا درست ہے۔ البتہ اگر وہ دودھ دیتی ہو تو جتنا دودھ دیا ہے اتنا گھٹا دینا پڑے گا۔ مثلاً اگر مہینہ بھر میں آٹھ آنے کا دودھ دیا ہے تو اب اصل قیمت ساڑھے چار روپے ظاہر کرے اور یوں کہے کہ ساڑھے چار مجھ کو پڑی۔ اور چونکہ عورتوں کو اس قسم کی ضرورت زیادہ نہیں پڑتی اس لیے ہم اور مسائل نہیں بیان کرتے۔

بیع باطل اور فاسد وغیرہ کا بیان

مسئلہ۔ جو بیع شرع میں بالکل ہی غیر معتبر اور لغو ہو اور ایسا سمجھیں کہ اس نے بالکل خریدا ہی نہیں۔ اور اس نے بیچا ہی نہیں اس کو باطل کہتے ہیں اس کا حکم یہ ہے کہ خرید نے والا اس کا مالک نہیں ہوا۔ وہ چیز اب تک اسی بیچنے والے کی ملک میں ہے اس لیے خرید نے والی کو نہ تو اس کا کھانا جائز نہ کسی کو دینا جائز۔ کسی طرح سے اپنے کام میں لانا درست نہیں۔ اور جو بیع ہو تو گئی ہو لیکن اس میں کچھ خرابی گئی ہے اس کو بیع فاسد کہتے ہیں۔ اس کا حکم یہ ہے کہ جب تک خریدنے والی کے قبضہ میں نہ آئے تب تک وہ خریدی ہوئی چیز اس کی ملک میں نہیں تی۔ اور جب قبضہ کر لیا تو ملک میں تو گئی لیکن حلال طیب نہیں ہے۔ اس لیے اس کو کھانا پینا یا کسی اور طرح سے اپنے کام میں لانا درست نہیں۔ بلکہ ایسی بیع کا توڑ دینا واجب ہے۔ لینا ہو تو پھر سے بیع کریں اور مول لیں۔ اگر یہ بیع نہیں توڑی بلکہ کسی اور کے ہاتھ وہ چیز بیچ ڈالی تو گناہ ہوا اور اس دوسری خریدنے والی کے لیے اس کا کھانا پینا اور استعمال کرنا جائز ہے اور یہ دوسری بیع درست ہو گئی۔ اگر نفع لے کر بیچا ہو تو نفع کا خیرات کر دینا واجب ہے اپنے کام میں لانا درست نہیں۔ مسئلہ۔ زمینداروں کے یہاں یہ جو دستور ہے کہ تالاب کی مچھلیاں بیچ دیتے ہیں یہ بیع باطل ہے۔ تالاب کے اندر جتنی مچھلیاں ہوتی ہیں جب تک شکار کر کے پکڑی نہ جائیں تب تک ان کا کوئی مالک نہیں ہے شکار کر کے جو کوئی پکڑے وہی ان کا مالک بن جاتا ہے۔ جب یہ بات سمجھ میں گئی تو اب سجھو کہ جب یہ زمیندار ان کا مالک ہی نہیں تو بیچنا کیسے درست ہو گا۔ ہاں اگر زمیندار خود مچھلیاں پکڑ کر بیچا کریں تو البتہ درست ہے۔ اگر کسی اور سے پکڑوا دیں گے تو وہی مالک بن جائے گا۔ زمیندار کا اس پکڑی ہوئی مچھلی میں کچھ حق نہیں ہے۔ اسی طرح مچھلیوں کے پکڑنے سے لوگوں کو منع کرنا بھی درست نہیں ہے۔ مسئلہ۔

کسی کی زمین میں خود بخود گھاس اگی نہ اس نے لگایا نہ اس کو پانی دے کر سینچا تو یہ گھاس بھی کسی کی ملک نہیں ہے جس کا جی چاہے کاٹ لے جائے نہ اس کا بیچنا درست ہے اور نہ کاٹنے سے کسی کو منع کرنا درست ہے البتہ اگر پانی دے کر سینچا اور خدمت کی ہو تو اس کی ملک ہو جائے گی۔ اب بیچنا بھی جائز ہے اور لوگوں کو منع کرنا بھی درست ہے۔ مسئلہ۔ جانور کے پیٹ میں جو بچہ ہے پیدا ہونے سے پہلے اس بچہ کو بیچنا باطل ہے۔ اور اگر پورا جانور بیچ دیا تو درست ہے۔ لیکن اگر یوں کہہ دیا کہ میں یہ بکری تو بیچتی ہوں لیکن اس کے پیٹ کا بچہ نہیں بیچتی ہوں جب پیدا ہو تو وہ میرا ہے تو یہ بیع فاسد ہے۔ مسئلہ۔ جانور کے تھن میں جو دودھ بھرا ہوا ہے دوہنے کے پہلے اس کا بیچنا باطل ہے پہلے دوہ لے تب بیچے۔ اسی طرح بھیڑ دنبہ وغیرہ کے بال جب تک کاٹ نہ لے تب تک بالوں کا بیچنا جائز اور باطل ہے۔ مسئلہ۔ جو دہنی یا لکڑی مکان میں یا چھت میں لگی ہوئی ہے کھودنے یا نکالنے سے پہلے اس کا بیچنا درست نہیں ہے۔ مسئلہ۔ آدمی کے ہاں اور ہڈی وغیرہ کسی چیز کا بیچنا جائز اور باطل ہے اور ان چیزوں کا اپنے کام میں لانا اور برتنا بھی درست نہیں ہے۔ مسئلہ۔ بجز خنزیر کے دوسرے مردار کی ہڈی اور بال اور سینگ پاک ہیں ان سے کام لینا بھی جائز ہے اور بیچنا بھی جائز ہے۔ مسئلہ۔ تم نے ایک بکری یا اور کوئی چیز کسی سے پانچ روپے کو مول لی اور اس بکری پر قبضہ کر لیا اور اپنے گھر منگا کر بندھوا لی لیکن ابھی دام نہیں دیئے پھر اتفاق سے اس کے دام نہ دے سکی یا اب اس کا رکھنا منظور نہ ہوا اس لیے تم نے کہا کہ یہ بکری چار روپے میں لے جاؤ ایک روپیہ ہم تم کو اور دیں گے۔ یہ بیچنا اور لینا جائز نہیں جب تک اس کو روپے نہ دے چکے اس وقت تک کم داموں پر اس کے ہاتھ بیچنا درست نہیں ہے۔ مسئلہ۔ کسی نے اس شرط پر اپنا مکان بیچا کہ ایک مہینے تک ہم نہ دیں گے بلکہ خود اس میں رہیں گے۔

یا یہ شرط ٹھہرائی کہ اتنے روپے تم ہم کو قرض دے دو۔ یا کپڑا اس شرط پر خریدا کہ تم ہی قطع کر کے سی دینا۔ یا یہ شرط کی کہ ہمارے گھر تک پہنچا دینا۔ اور کوئی ایسی شرط مقر رکی جو شریعت سے واہیات اور ناجائز ہے تو یہ سب بیع فاسد ہے۔ مسئلہ۔ یہ شرط کر کے ایک گائے خریدی کہ یہ چار سیر دودھ دیتی ہے تو بیع فاسد ہے البتہ اگر کچھ مقدار نہیں مقرر کی فقط یہ شرط کی کہ یہ گائے بہت دودہیاری ہے تو بیع جائز ہے۔ مسئلہ۔ مٹی یا چینی کے کھلونے یعنی تصویریں بچوں کے لیے خریدے تو یہ بیع باطل ہے شرع میں ان کھلونوں کی کچھ قیمت نہیں لہذا اس کے کچھ دام نہ دلائے جائیں گے اگر کوئی توڑ دے تو کچھ تاوان بھی دینا نہ پڑے گا۔ مسئلہ۔ کچھ اناج گھی تیل وغیرہ روپے کے دس سیر یا اور کچھ نرخ طے کر کے خریدا تو دیکھو کہ اس بیع ہونے کے بعد اس نے تمہارے یا تمہارے بھیجے ہوئے آدمی کے سامنے تول کر دیا ہے یا تمہارے اور تمہارے بھیجے ہوئے آدمی کے سامنے نہیں تولا بلکہ کہا تم جاؤ ہم تول کر گھر بھیجے دیتے ہیں یا پہلے سے الگ تولا ہوا رکھا تھا اس نے اسی طرح اٹھا دیا پھر نہیں تولا۔ یہ تین صورتیں ہوئیں۔ پہلی صورت کا حکم یہ ہے کہ گھر میں لا کر اب اس کا تولنا ضروری نہیں ہے بغیر تولے بھی اس کا کھانا پینا بیچنا وغیرہ سب صحیح ہے۔ اور دوسری اور تیسری صورت کا حکم یہ ہے کہ جب تک خود نہ تول لے تب تک اس کا کھانا پینا بیچنا وغیرہ کچھ درست نہیں۔ اگر بے تولے بیچ دیا تو یہ بیع فاسد ہو گئی پھر اگر تول بھی لے تب بھی یہ بیع درست نہیں ہوئی۔

مسئلہ۔ بیچنے سے پہلے اس نے تول کر تم کو دکھایا اس کے بعد تم نے خرید لیا اور پھر دوبارہ اس نے نہیں تولا تو اس صورت میں بھی خریدنے والی کو پھر تولنا ضروری ہے بغیر تولے کھانا اور بیچنادرست نہیں۔ اور بیچنے سے پہلے اگرچہ اس نے تول کر دکھا دیا ہے لیکن اس کا کچھ اعتبار نہیں۔ مسئلہ۔ زمین اور گاؤں اور مکان وغیرہ کے علاوہ اور جتنی چیزیں ہیں ان کے خریدنے کے بعد جب تک قبضہ نہ کر لے تب تک بیچنا درست نہیں۔ مسئلہ۔ ایک بکری یا اور کوئی چیز خریدی کچھ دن بعد ایک اور شخص یا اور کہا کہ یہ بکری تو میری ہے کسی نے یونہی پکڑ کر بیچ لی اس کی نہیں تھی تو اگر وہ اپنا دعوی قاضی مسلم کے یہاں دو گواہوں سے ثابت کر دے تو قضائے قاضی کے بعد بکری اسی کو دے دینا پڑے گی اور بکری کے دام سے کچھ نہیں لے سکتے بلکہ جب وہ بیچنے والا ملے تو اس سے اپنے دام وصول کرو اس آدمی سے کچھ نہیں لے سکتے۔ مسئلہ۔ کوئی مرغی یا بکری گائے وغیرہ مر گئی تو اس کی بیع حرام اور باطل ہے۔ بلکہ اس مری چیز کو بھنگی یا چمار کو کھانے کے لیے دینا بھی جائز نہیں۔ البتہ چمار بھنگیوں سے پھینکنے کے لیے اٹھوا دیا پھر انھوں نے کھا لیا تو تم پر کچھ الزام نہیں اور اس کی کھال نکلوا کر درست کر لینے اور بنا لینے کے بعد بیچنا اور اپنے کام میں لانا درست ہے جیسا کہ پہلے حصہ میں صفحہ پر ہم نے بیان کیا ہے وہاں دیکھ لو۔

مسئلہ۔ جب ایک نے مول تول کر کے ایک دام ٹھہرائے اور وہ بیچنے والا اتنے داموں پر رضا مند بھی ہو تو اس وقت کسی دوسرے کو دام بڑھا کر خود لے لینا جائز نہیں۔ اسی طرح یوں کہنا بھی درست نہیں کہ تم اس سے نہ لو ایسی چیز میں تم کو اس سے کم داموں پر دے دوں گی۔

مسئلہ۔ ایک کنجڑن نے تم کو پیسہ کے چار امرود دیئے پھر کسی نے زیادہ تکرار کر کے پیسہ کے پانچ لیے تو اب تم کو اس سے ایک امرود لینے کا حق نہیں زبردستی کر کے لینا ظلم اور حرام ہے جس سے جو کچھ طے ہو بس اتنا ہی لینے کا اختیار ہے۔

مسئلہ۔ کوئی شخص کچھ بیچتا ہے لیکن تمہارے ہاتھ بیچنے پر راضی نہیں ہوتا تو اس سے زبردستی لے کر دام دے دینا جائز نہیں کیونکہ وہ اپنی چیز کا مالک ہے چاہے بیچے یا نہ بیچے اور جس کے ہاتھ چاہے بیچے۔ پولیس والے اکثر زبردستی سے لے لیتے ہیں یہ بالکل حرام ہے۔ اگر کسی کا میاں پولیس میں نوکر ہو تو ایسے موقع پر میاں سے تحقیق کر لیا کرے یوں ہی نہ برت لے۔

مسئلہ۔ ٹکے کے سیر بھر لو لیے اس کے بعد تین چار لو زبردستی اور لے لیے یہ درست نہیں البتہ اگر وہ خود اپنی خوشی سے کچھ اور دے دے تو اس کا لینا جائز ہے۔ اسی طرح جو دام طے کر لیے ہیں چیز لے لینے کے بعد اب اس سے کم دام دینا درست نہیں البتہ اگر وہ اپنی خوشی سے کچھ کم کر دے تو کم دے سکتی ہے۔

مسئلہ۔ جس کے گھر میں شہد کا چھتہ لگا ہے وہی مالک ہے کسی غیر کو اس کا توڑنا اور لینا درست نہیں۔ اور اگر اس کے گھر میں کسی پرندے نے بچے دیئے تو وہ گھر والے کی ملک نہیں بلکہ جو پکڑے اسی کے ہیں لیکن بچوں کو پکڑنا اور ستانا درست نہیں ہے۔

سودے میں عیب نکل آنے کا بیان

مسئلہ۔ جب کوئی چیز بیچے تو واجب ہے جو کچھ اس میں عیب و خرابی ہو سب بتلا دے نہ بتلانا اور دھوکہ دے کر بیچ ڈالنا حرام ہے۔ مسئلہ۔ جب خرید چکی تو دیکھا اس میں کوئی عیب ہے جیسے تھان کو چوہوں نے کتر ڈالا ہے یا دوشالے میں کیڑا لگ گیا ہے یا اور کوئی عیب نکل آیا تو اب اس خریدنے والی کو اختیار ہے چاہے رکھ لے اور لے لیوے چاہے پھیر دے لیکن اگر رکھ لے تو پورے دام دینا پڑیں گے اس عیب کے عوض میں کچھ دام کاٹ لینا درست نہیں البتہ اگر دام کی کمی پردہ بیچنے والا بھی راضی ہو جائے تو کم کر کے دینا درست ہے۔ مسئلہ۔ کسی نے کوئی تھان خرید کر رکھا تھا کہ کسی لڑکے نے اس کا ایک کونا پھاڑ ڈالا یا قینچی سے کتر ڈالا۔ اس کے بعد دیکھا کہ وہ اندر سے خراب ہے جا بجا چوہے کتر گئے ہیں تو اب اس کو نہیں پھیر سکتی کیونکہ ایک اور عیب تو اس کے گھر ہو گیا ہے البتہ اس عیب کے بدلے میں جو کہ بیچنے والی کے گھر کا ہے دام کم کر دیئے جائیں۔ لوگوں کو دکھایا جائے جو وہ تجویز کریں اتنا کم کر دو۔ مسئلہ۔ اسی طرح اگر کپڑا قطع کیا ہوا دے دو اور اپنے سب دام لے لو میں دام کم نہیں کرتی تو اس کو یہ اختیار حاصل ہے خریدنے والی انکار نہیں کر سکتی۔ اگر قطع کر کے سی بھی لیا تھا پھر عیب معلوم ہوا تو عیب کے بدلے دام کم کر دیئے جائیں گے اور بیچنے والی اس صورت میں اپنا کپڑا نہیں لے سکتی۔ اور اگر اس خریدنے والی نے وہ کپڑا بیچ ڈالا یا اپنے نابالغ بچہ کے پہنانے کی نیت سے قطع کر ڈالا بشرطیکہ بالکل اس کے دے ڈالنے کی نیت کی ہو اور پھر اس میں عیب نکلا تو اب دام کم نہیں کیے جائیں گے۔ اور اگر بالغ اولاد کی نیت سے قطع کیا تھا اور پھر عیب نکلا تو اب دام کم کر دیئے جائیں گے۔ مسئلہ۔ کسی نے فی انڈا ایک پیسہ کے حساب سے کچھ انڈے خریدے جب توڑے تو سب گندے نکلے بعضے اچھے تو گندوں کے دام پھیر سکتی ہے۔

اور اگر سی نے بیس پچیس انڈوں کے یکمشت دام لگا کر خرید لیے کہ یہ سب انڈے پانچ آنے کو میں نے لیے تو دیکھو کتنے خراب نکلے اگر سو میں پانچ چھ خراب نکلے تو اس کا کچھ اعتبار نہیں اور اگر زیادہ خراب نکلے تو خراب کے دام حساب سے پھر لیے۔ مسئلہ۔ کھیرا ککڑی خربوزہ تربوز لوکی بادام اخروٹ وغیرہ کچھ خریدا۔ جب توڑے اندر سے بالکل خراب نکلے تو دیکھو کہ کام میں آ سکتے ہیں یا بالکل نکمے اور پھینک دینے کے قابل ہیں۔ اگر بالکل خراب اور نکمے ہوں تب تو یہ بیع بالکل صحیح نہیں ہوئی اپنے سب دام پھیر لے اور اگر کسی کام میں آ سکتے ہوں تو جتنے دام بازار میں لگیں اتنے دیئے جائیں پوری قیمت نہ دی جائے گی۔ مسئلہ۔ اگر سو بادام میں چار پانچ ہی خراب نکلے تو کچھ اعتبار نہیں۔ اور اگر زیادہ خراب نکلے تو جتنے خراب ہیں ان کے دام کاٹ لینے کا اختیار ہے۔ مسئلہ۔ ایک روپیہ کے پندرہ سیر گیہوں خریدے یا ایک روپیہ کا ڈیڑھ سیر گھی لیا۔ اس میں سے کچھ تو اچھا نکلا اور کچھ خراب نکلا تو یہ درست نہیں ہے کہ اچھا اچھا لوں ے اور خراب خراب پھیر دیوے اور خراب خراب پھیر دے بلکہ اگر لیوے تو سب لینا پڑے گا اور پھیرے تو سب پھیرے ہاں البتہ اگر بیچنے والی خود راضی ہو جائے کہ اچھا اچھا لے اور جتنا خراب ہے وہ پھیر دو تو ایسا کرنا درست ہے بے اس کی مرضی کے نہیں کر سکتی۔ مسئلہ۔ عیب نکلنے کے وقت پھیر دینے کا اختیار اس وقت ہے جبکہ عیب دار چیز کے لیے پر کسی طرح رضا مندی ثابت نہ ہوتی ہو اور اگر اسی کے لیے پر راضی ہو جائے تو اب اس کا پھیرنا جائز نہیں البتہ بیچنے والی خوشی سے پھیر لے تو پھیرنا درست ہے جیسے کسی نے ایک بکری یا گائے وغیرہ کوئی چیز خریدی جب گھر آئی تو معلوم ہوا کہ یہ بیمار ہے یا اس کے بدن میں کہیں زخم ہے پس اگر دیکھنے کے بعد اپنی رضا مندی ظاہر کرے کہ خیر ہم نے عیب دار ہی لے لی تو اب پھیرنے کا اختیار نہیں رہا۔

اور اگر زبان سے نہیں کہا لیکن ایسے کام کیے جس سے رضا مندی معلوم ہوتی ہے جیسے اس کی دوا علاج کرنے لگی تب بھی پھیرنے کا اختیار نہیں رہا۔ مسئلہ۔ بکری کا گوشت خریدا پھر معلوم ہوا کہ بھیڑ کا گوشت ہے تو پھیر سکتی ہے۔ مسئلہ۔ موتیوں کا ہار یا اور کوئی زیور خریدا اور کسی وقت اس کو پہن لیا یا جوتہ خریدا اور پہنے پہنے چلنے پھرنے لگی تو اب عیب کی وجہ سے پھیرنے کا اختیار نہیں رہا۔ ہاں اگر اس وجہ سے پہنا ہو کہ پاؤں میں دیکھوں آتا ہے یا نہیں اور پیر کو چلنے میں کچھ تکلیف تو نہیں ہوتی تو اس آزمائش کے لیے ذرا دیر کے پہننے سے کچھ حرج نہیں اب بھی پھیر سکتی ہے۔ اسی طرح اگر کوئی چار پائی یا تخت خریدا اور کسی ضرورت سے اس کو بچھا کر بیٹھی یا تخت پر نماز پڑھی اور استعمال کرنے لگی تو اب پھیرنے کا اختیار نہیں رہا۔ اسی طرح اور سب چیزوں کو سمجھ لو۔ اگر اس سے کام لینے لگے تو پھیرنے کا اختیار نہیں رہتا۔ مسئلہ۔ بیچتے وقت اس نے کہہ دیا کہ خوب دیکھ بھال لو اگر اس میں کچھ عیب نکلے یا خراب ہو تو میں ذمہ دار نہیں۔ اس کہنے پر بھی اس نے لے لیا تو اب چاہے جتنے عیب اس میں نکلیں پھیرنے کا اختیار نہیں ہے اور اس طرح بیچنا بھی درست ہے۔ اس کہہ دینے کے بعد عیب کا بتلانا واجب نہیں ہے

بے دیکھی ہوئی چیز کے خریدنے کا بیان

مسئلہ۔ کسی نے کوئی چیز بے دیکھے ہوئے خرید لی تو یہ بیع درست ہے۔ لیکن جب دیکھے تو اس کو اختیار ہے پسند ہو تو رکھے نہیں تو پھیر دے اگرچہ اس میں کوئی عیب بھی نہ ہو۔ اور جیسی ٹھہرائی تھی ویسی ہی ہو تب بھی رکھنے نہ رکھنے کا اختیار ہے۔ مسئلہ۔ کسی نے بے دیکھے اپنی چیز بیچ ڈالی تو اس بیچنے والی کو دیکھنے کے بعد پھیر لینے کا اختیار نہیں ہے دیکھنے کے بعد اختیار فقط لنیے والی کو ہوتا ہے۔ مسئلہ۔ کوئی کنجڑن مٹر کی پھلیاں بیچنے کو لائی اس میں اوپر تو اچھی اچھی تھیں ان کو دیکھ کر پورا ٹوکرا لے لیا لیکن نیچے خراب نکلیں تو اب بھی اس کو پھیر دینے کا اختیار ہے البتہ اگر سب پھلیاں یکساں ہوں تو تھوڑی سی پھلیاں دیکھ لینا کافی ہے چاہے سب پھلیاں دیکھے چاہے نہ دیکھے پھیرنے کا اختیار نہ رہے گا۔ مسئلہ۔ امرود یا انار یا نارنگی وغیرہ کوئی ایسی چیز خریدی کہ سب یکساں نہیں ہوا کرتیں تو جب تک سب نہ دیکھے تب تک اختیار رہتا ہے تھوڑے کے دیکھ لینے سے اختیار نہیں جاتا۔ مسئلہ۔ اگر کوئی چیز کھانے پینے کی خریدی تو اس میں فقط دیکھ لینے سے اختیار نہیں جائے گا بلکہ چکھنا بھی چاہیے اگر چکھنے کے بعد ناپسند ٹھہرے تو پھیر دینے کا اختیار ہے۔ مسئلہ۔ بہت زمانہ ہو گیا کہ کوئی چیز دیکھی تھی اب آج اس کو خرید لیا لیکن ابھی دیکھا نہیں۔ پھر جب گھر لا کر دیکھا تو جیسی دیکھی تھی بالکل ویسی ہی اس کو پایا تو اب دیکھنے کے بعد پھیر دینے کا اختیار نہیں ہے۔ ہاں اگر اتنے دنوں میں کچھ فرق ہو گیا ہو تو دیکھنے کے بعد اس کے لینے نہ لینے کا اختیار ہو گا۔

پھیر دینے کی شرط کر لینے کا بیان اور اس کو شرع میں خیار شرط کہتے ہیں

مسئلہ۔ خریدتے وقت یوں کہہ دیا کہ ایک دن یا دو دن یا تین دن تک ہم کو لینے نہ لینے کا اختیار ہے جی چاہے گا لے لیں گے نہیں تو پھرد دیں گے تو یہ درست ہے۔ جتنے دن کا اقرار کیا ہے اتنے دن تک پھیر دینے کا اختیار ہے چاہے لیوے چاہے پھیر دے۔ مسئلہ۔ کسی نے کہا کہ تین دن تک مجھ کو لینے نہ لینے کا اختیار ہے پھر تین دن گزر گئے اور اس نے کچھ نہیں جواب دیا نہ وہ چیز پھیری تو اب وہ چیزی لینی پڑے گی پھیرنے کا اختیار نہیں رہا۔ ہاں اگر وہ رعایت کر کے پھیر لے تو خیر پھر دے۔ بے رضا مندی کے نہیں پھیر سکتی۔ مسئلہ۔ تین دن سے زیادہ کی شرط کرنا درست نہیں ہے اگر کسی نے چار یا پانچ دن کی شرط کی تو دیکھو تین دن کے اندر اس نے کچھ جواب دیا یا نہیں۔ اگر تین دن کے اندر اس نے پھیر دیا تو بیع پھر گئی اور اگر کہہ دیا کہ میں نے لے لیا تو بیع درست ہو گئی اور اگر تین دن گزر گئے اور کچھ حال معلوم نہ ہوا کہ لے لیوے گی یا نہ لے گی تو بیع فاسد ہو گئی۔ مسئلہ۔ اسی طرح بیچنے والی بھی کہہ سکتی ہے کہ تین دن تک مجھ کو اختیار ہے اگر چاہوں گی تو تین دن کے اندر پھیر لوں گی تو یہ بھی جائز ہے۔ مسئلہ۔ خریدتے وقت کہہ دیا تھا کہ تین دن تک مجھے پھیر دینے کا اختیار ہے پھر دوسرے دن آئی اور کہہ دیا کہ میں نے وہ چیز لے لی اب نہ پھیروں گی تو اب وہ اختیار جاتا رہا اب نہیں پھیر سکتی بلکہ اگر اپنے گھر میں آ کر کہہ دیا کہ میں نے یہ چیز لے لی اب نہ پھیروں گی تب بھی وہ اختیار جاتا رہا۔ اور جب بیع کا توڑنا اور پھیرنا منظور ہو تو بیچنے والے کے سامنے توڑنا چاہیے اس کی پیٹھ پیچھے توڑنا درست نہیں ہے۔ مسئلہ۔ کسی نے کہا تین دن تک میری ماں کو اختیار ہے اگر کہے گی تو لے لوں گی نہیں تو پھیر دوں گی تو یہ بھی درست ہے اب تین دن کے اندر وہ یا اس کی ماں پھیر سکتی ہیں۔

اور اگر خود وہ یا اس کی ماں کہہ دے کہ میں نے لے لی اب نہ پھیروں گی تو اب پھیرنے کا اختیار نہیں رہا۔ مسئلہ۔ دو یا تین تھان لیے اور کہا کہ تین دن تک ہم کو اختیار ہے کہ اس میں سے جو پسند ہو گا ایک تھان دس روپے کو لے لیں گے تو یہ درست ہے تین دن کے اندر اس میں سے ایک تھان پسند کر لے اور چار یا پانچ تھان اگر لیے اور کہا کہ اس میں سے ایک پسند کر لیں گے تو یہ بیع فاسد ہے۔ مسئلہ۔ کسی نے تین دن تک پھیر دینے کی شرط ٹھیرالی تھی پھر وہ چیز اپنے گھر برتنا شروع کر دی جیسے اوڑھنے کی چیز تھی تو اوڑھنے لگی یا پہننے کی چیز تھی اس کو پہن لیا یا بچھانے کی چیز تھی اس کو بچھانے لگی تو اب پھیر دینے کا اختیار نہیں رہا۔ مسئلہ۔ ہاں اگر استعمال صرف دیکھنے کے واسطے ہوا ہے تو پھیر دینے کا حق ہے مثلاً سلا ہوا کرتا یا چادر یا دری خریدی تو یہ دیکھنے کے لیے کہ یہ کرتہ ٹھیک بھی تا ہے یا نہیں ایک مرتبہ پہن کر دیکھا اور فورا اتار دیا۔ یا چادر کی لمبائی چوڑائی اوڑھ کر دیکھی یا دری کی لمبائی چوڑائی بچھا کر دیکھی تو بھر پھیر دینے کا حق حاصل ہے۔

ادھار لینے کا بیان

مسئلہ۔ کسی نے اگر کوئی سودا ادھار خریدا تو یہ بھی درست ہے لیکن اتنی بات ضروری ہے کہ کچھ مدت مقرر کر کے کہہ دے کہ پندرہ دن میں یا مہینے بھر میں یا چار مہینے میں تمہارے دام دے دوں گی اگر کچھ مدت مقرر نہیں کی مطلقا اتنا کہہ دیا کہ ابھی دام نہیں ہیں پھر دے دوں گی۔ سو اگر یوں کہا ہے کہ میں اس شرط سے خریدتی ہوں کہ دام پھر دوں گی تو بیع فاسد ہو گئی اور اگر خریدنے کے اندر یہ شرط نہیں لگائی خرید کر کہہ دیا کہ دام پھر دوں گی تو کچھ ڈر نہیں اور اگر نہ خریدنے کے اندر کچھ کہا نہ خرید کر کچھ کہا تب بھی بیع درست ہو گئی۔ اور ان دونوں صورتوں میں اس چیز کے دام ابھی دینا پڑیں گے۔ ہاں اگر بیچنے والی کچھ دن کی مہلت دے دے تو اور بات ہے لیکن اگر مہلت نہ دے اور ابھی دام مانگے تو دینا پڑیں گے۔

مسئلہ۔ کسی نے خریدتے وقت یوں کہا کہ فلانی چیز ہم کو دے دو جب خرچ آئے گا تب آدا لے لینا یا یوں کہا جب میرا بھائی آئے گا تب دے دوں گی یا یوں کہا جب کھیتی کٹے گی تب دے دوں گی یا اس نے اس طرح کہا بی بی تم لے لو جب جی چاہے دام دے دینا یہ بیع فاسد ہو گئی بلکہ کچھ نہ کچھ مدت مقرر کر کے لینا چاہیے اور اگر خرید کر ایسی بات کہہ دی تو بیع ہو گئی اور سودے والی کو اختیار ہے کہ ابھی دام مانگ لے لیکن صرف کھیتی کٹنے کے مسئلہ میں کہ اس صورت میں کھیتی کٹنے سے پہلے نہیں مانگ سکتی۔

مسئلہ۔ نقد داموں پر ایک روپیہ کے بیس سیر گیہوں بکتے ہیں مگر کسی کو ادھار لینے کی وجہ سے اس نے روپیہ کے پندرہ سیر گیہوں دیئے تو یہ بیع درست ہے مگر اسی وقت معلوم ہو جانا چاہیے کہ ادھارمول لے گی۔ مسئلہ۔ یہ حکم اس وقت ہے جبکہ خریدار سے اول پوچھ لیا ہو کہ نقد لو گے یا ادھار۔ اگر اس نے نقد کہا تو بیس سیر دے دیئے اور اگر ادھار کہا تو پندرہ سیر دے دیئے۔ اور اگر معاملہ اس طرح کیا کہ خریدار سے یوں کہا کہ اگر نقد لو گے تو ایک روپیہ کے بیس سیر ہوں گے اور ادھار لو گے تو پندرہ سیر ہوں گے یہ جائز نہیں۔

مسئلہ۔ ایک مہینے کے وعدے پر کوئی چیز خریدی پھر ایک مہینہ ہو چکا۔ تب کہہ سن کر کچھ اور مدت بڑھوالی کہ پندرہ دن کی مہلت اور دے دے تو تمہارے دام ادا کر دوں گا۔ اور وہ بیچنے والی بھی اس پر رضا مند ہو گئی تو پندرہ دن کی مہلت اور مل گئی اور اگر وہ راضی نہ ہو تو ابھی مانگ سکتی ہے۔

مسئلہ۔ جب اپنے پاس دام موجود ہوں تو ناحق کسی کو ٹالنا کہ آج نہیں کل آنا۔ اس وقت نہیں اس وقت آنا ابھی روپیہ توڑوایا نہیں ہے جب توڑوایا جائے گا تب دام ملیں گے یہ سب باتیں حرام ہیں جب وہ مانگے اسی وقت روپیہ توڑ کر دام دے دینا چاہیے۔ ہاں البتہ اگر ادھار خریدا ہے تو جتنے دن کے وعدے پر خریدا ہے اتنے دن کے بعد دینا واجب ہو گا اب وعدہ پورا ہونے کے بعد ٹالنا اور دوڑانا جائز نہیں ہے لیکن اگر سچ مچ اس کے پاس ہیں ہی نہیں۔ نہ کہیں سے بندوبست کر سکتی ہے تو مجبوری ہے جب آئے اس وقت نہ ٹالے۔

سودا معلوم ہونے کا بیان

مسئلہ۔ اناج غلہ وغیرہ سب چیزوں میں اختیار ہے چاہے تول کے حساب سے لے اور یوں کہہ دے کہ ایک روپے کے بیس سیر گیہوں میں نے خریدے اور چاہے یوں ہی مول کر کے لے لیوے اور یوں کہہ دے کہ گیہوں کی یہ ڈھیری میں نے ایک روپیہ کو خریدی پھر اس ڈھیری میں چاہے جتنے گیہوں نکلیں سب اسی کے ہیں۔ مسئلہ۔ کنڈے میں  امرود نارنگی وغیرہ میں بھی اختیار ہے کہ گنتی کے حساب سے لے یا ویسے ہی ڈھیر کاموں کو کر لے۔ اگر ایک ٹوکری کے سب آم اس نے خرید لیے اور گنتی اس کی کچھ معلوم نہیں کہ کتنے ہیں تو بیع درست ہے اور سب آم اسی کے ہیں چاہے کم نکلیں چاہے زیادہ۔ مسئلہ۔ کوئی عورت بیر وغیرہ کوئی چیز بیچنے آئی اس سے کہا کہ ایک پیسہ کو اس اینٹ کے برابر تول دے اور وہ بھی اس اینٹ کے برابر تول دینے پر راضی ہو گئی اور اس اینٹ کا وزن کسی کو نہیں معلوم کہ کتنی بھاری نکلے گی تو یہ بیع بھی درست ہے۔ مسئلہ۔ آم کا یا امرود نارنگی وغیرہ کا پورا ٹوکرا ایک روپے کو اس شرط پر خریدا کہ اس میں چار سو آم ہیں پھر جب گنے گئے تو اس میں تین سو ہی نکلے۔ لینے والی کو اختیار ہے چاہے لے چاہے نہ لے اگر لے گی تو پورا ایک روپیہ نہ دینا پڑے گا بلکہ ایک سیکڑے کے دام کم کر کے فقط بارہ نے دے اور اگر ساڑھے تین سو نکلیں تو چودہ آنے دے غرضیکہ جتنے آم کم ہوں اتنے دام بھی کم ہو جائیں گے اور اگر اس ٹوکرے میں چار سو سے زیادہ آم ہوں تو جتنے زیادہ ہیں وہ بیچنے والی کے ہیں اس کو چار سو سے زیادہ لینے کا حق نہیں ہے ہاں اگر پورا ٹوکرا خرید لیا اور کچھ مقرر نہیں کیا کہ اس میں کتنے آم ہیں تو جو کچھ نکلے سب اسی کا ہے چاہے کم نکلیں اور چاہے زیادہ۔ مسئلہ۔ بنارسی ڈوپٹہ یا چکن کا دوپٹہ یا پلنگ پوش یا زار بند وغیرہ کوئی ایسا کپڑا خریدا کہ اگر اس میں سے کچھ پھاڑ لیں تو نکما اور خراب ہو جائے گا۔

اور خریدتے وقت یہ شرط کر لی تھی کہ یہ دوپٹہ تین گزر کا ہے پھر جب ناپا تو کچھ کم نکلا تو جتنا کم نکلا ہے اس کے بدلے میں دام نہ کم ہوں گے بلکہ جتنے دام طے ہوئے ہیں وہ پورے دینا پڑیں گے۔ ہاں کم نکلنے کی وجہ سے بس اتنی رعایت کی جائے گی کہ دونوں طرف سے پکی بیع ہو جانے پر بھی اس کو اختیار ہے چاہے لے چاہے نہ لے اور اگر کچھ زیادہ نکلا تو وہ بھی اسی کا ہے اور اس کے بدلے میں دام کچھ زیادہ دینا نہ پڑیں گے۔ مسئلہ۔ کسی نے رات کو دو ریشمی ازار بند ایک روپے کے لیے جب صبح کو دیکھا تو معلوم ہوا کہ ایک ان میں کا سوتی ہے تو دونوں کی بیع جائز نہیں ہوئی نہ ریشمی کی نہ سوتی کی۔ اسی طرح اگر دو انگوٹھیاں شرط کر کے خریدیں کہ دونوں کا رنگ فیروزہ کا ہے پھر معلوم ہوا کہ ایک میں فیروزہ نہیں ہے کچھ اور ہے تو دونوں کی بیع ناجائز ہے اب اگر ان میں سے ایک کا یا دونوں کا لینا منظور ہو تو اس کی ترکیب یہ ہے کہ پھر سے بات جیت کر کے خریدے۔

بیچنے اور مول لینے کا بیان

مسئلہ 1۔جب ایک شخص نے کہا میں نے یہ چیز اتنے داموں پر بیچ دی اور دوسرے نے کہا میں نے لے لی تو وہ چیز بک گئی اور جس نے مول لیا ہے وہی اس کی مالک بن گئی۔ اب اگر وہ یہ چاہے کہ میں نہ بیچوں اپنے پاس ہی رہنے دوں۔ یا یہ چاہے کہ میں نہ خریدوں تو کچھ نہیں ہو سکتا ہے اس کو دینا پڑے گا اور اس کو لینا پڑے گا اور اس بک جانے کو بیع کہتے ہیں

مسئلہ2۔ ایک نے کہا کہ میں نے یہ چیز دو پیسے کو تمہارے ہاتھ بیچی۔ دوسری نے کہا مجھے منظور ہے یا یوں کہا میں اتنے داموں پر راضی ہوں اچھا میں نے لے لیا تو ان سب باتوں سے وہ چیز بک گئی۔ اب نہ تو بیچنے والے کو یہ اختیار ہے کہ نہ دے اور نہ لینے والے کو یہ اختیار ہے کہ نہ خریدے۔ لیکن یہ حکم اس وقت ہے کہ دونوں طرف سے یہ بات چیت ایک ہی جگہ بیٹے بیٹھے ہوئی ہو۔ اگر ایک نے کہا میں نے یہ چیز چار پیسے کو تمہارے ہاتھ بیچی اور وہ دوسری چار پیسے کا نام سن کر کچھ نہیں بولی اٹھ کھڑی ہوئی ہو یا کسی اور سے صلاح لینے چلی گئی یا اور کسی کام کو چلی گئی اور جگہ بدل گئی تب اس نے کہا اچھا میں نے چار پیسے کو خرید لی تو ابھی وہ چیز نہیں بکی۔ ہاں اگر اس کے بعد وہ بیچنے والی کنجڑن وغیرہ یوں کہہ دے کہ میں نے دے دی یا یوں کہے اچھا لے لو تو البتہ بک جائے گی اسی طرح اگر وہ کنجڑن اٹھ کھڑی ہوئی یا کسی کا م کو چل گئی تب دوسری نے کہا میں نے لے لیا تب بھی وہ چیز نہیں بکی۔ خلاصہ مطلب یہ ہوا کہ جب ایک ہی جگہ دونوں طرف سے بات چیت ہو گئی تب وہ چیز بکے گی۔

مسئلہ 3۔ کسی نے کہا یہ چیز ایک پیسہ کو دے دو اس نے کہا میں نے دے دی اس میں بیع نہیں ہوئی البتہ اس کے بعد اگر مول لینے والی نے پھر کہہ دیا کہ میں نے لے لیا تو بک گئی۔ مسئلہ

4۔ کسی نے کہا یہ چیز ایک پیسہ کو میں نے لے لی اس نے کہا لے لو تو بیع ہو گئی۔

مسئلہ 5۔ کسی نے کسی چیز کے دام چکا کر اتنے دام اس کے ہاتھ پر رکھے اور وہ چیز اٹھا لی اور اس نے خوشی سے دام لے لیے پھر نہ اس نے زبان سے کہا کہ میں نے اتنے داموں پر یہ چیز بیچی نہ اس نے کہا میں نے خریدی تو اس لین دین ہو جانے سے بھی چیز بک جاتی ہے اور بیع درست ہو جاتی ہے۔

مسئلہ 6۔ کوئی کنجڑن امرود بیچنے آئی بے پوچھے گچھ بڑے بڑے چار امرود اس کی ٹوکری میں سے نکالے اور ایک پیسہ اس کے ہاتھ پر رکھ دیا اور اس نے خوشی سے پیسہ لے لیا تو بیع ہو گئی چاہے زبان سے کسی نے کچھ کہا ہو چاہے نہ کہا ہو۔ مسئلہ 7۔ کسی نے موتیوں کی ایک لڑی کو کہا یہ لڑی دس پیسہ کو تمہارے ہاتھ بیچی۔ اس پر خریدنے والی نے کہا اس میں سے انچ موتی میں نے لے لیے یا یوں کہا آدھے موتی میں نے خرید لیے تو جب تک وہ بیچنے والا اس پر راضی نہ ہو بیع نہیں ہو گی۔ کیونکہ اس نے تو پوری لڑی کا مول کیا ہے تو جب تک وہ راضی نہ ہو لینے والے کو یہ اختیار نہیں ہے کہ اس میں سے کچھ لے اور کچھ نہ لے اگر لیوے تو پوری لڑی لینا پڑے گی۔ ہاں البتہ اگر اس نے یہ کہہ دیا ہو کہ ہر موتی ایک ایک پیسے کو اس پر اس نے کہا اس میں سے پانچ موتی میں نے خریدے تو پانچ موتی بک گے۔ مسئلہ 8۔ کسی کے پاس چار چیزیں ہیں بجلی بالی بندے پتے۔ اس نے کہا یہ سب میں نے چار آنہ کو بیچا تو اس کی منظوری کے یہ اختیار نہیں ہے کہ بعضی چیزیں لیوے اور بعضی چھوڑ دے کیونکہ وہ سب کو ساتھ ملا کر بیچنا چاہتی ہے ہاں البتہ اگر ہر چیز کی قیمت الگ الگ بتلا دے تو اس میں سے ایک آدھ چیز بھی خرید سکتی ہے۔ مسئلہ 9۔ بیچنے اور مول لینے میں یہ بھی ضروری ہے کہ جو سودا خریدے ہر طرح اس کو صاف کر لے کوئی بات ایسی گول مول نہ رکھے جس سے جھگڑا بکھیڑا پڑے۔ اسی طرح قیمت بھی صاف صاف مقرر اور طے ہو جانا چاہیے۔ اگر دونوں میں سے ایک چیز بھی اچھی طرح معلوم اور طے نہ ہو گی تو بیع صحیح نہ ہو گی۔ مسئلہ 10۔ کسی نے روپے کی یا پیسے کی کوئی چیز خریدی اب وہ کہتی ہے پہلے تم روپے دو تب میں چیز دوں گی اور یہ کہتی ہے پہلے تو چیز دے دے تب میں روپے دوں گی۔

تو پہلے اس سے دام دلوائے جائیں گے جب یہ دام دے دے تو اس سے وہ چیز دلوا دیں گے دام کے وصول پانے تک اس چیز کے نہ دینے کو اس کو اختیار ہے اور اگر دونوں طرف ایک سی چیز ہے مثلاً دونوں طرف دام ہیں یا دونوں طرف سودا ہے۔ جیسے روپے کے پیسے لینے لگیں یا کپڑے کے بدلے کپڑا لینے لگیں اور دونوں میں یہی جھگڑا پن پڑے تو دونوں سے کہا جائے گا کہ تم اس کے ہاتھ پر رکھو اور وہ تمہارے ہاتھ پر رکھے۔

رخصتی سے پہلے طلاق ہو جانے کا بیان

جناب مولانا مولوی سعید احمد صاحب مرحوم مفتی مدرسہ عالیہ مظاہر علوم سہارنپور نے مندرجہ ذیل سوال حضرت حکیم الامۃ مولانا مولوی اشرف علی صاحب تھانوی نور اللہ مرقدہ کی خدمت اقدس میں روانہ کیا تھا حضرت نے اس کا جو جواب مرحمت فرمایا وہ ذیل میں درج ہے

سوال مسئلہ 2۔ ایسی عورت سے یوں کہا اگر فلانا کام کرے تو طلاق ہے طلاق ہے طلاق ہے اور اس نے وہ کام کر لیا تو اس کے کرتے ہی تینوں طلاقیں پڑ گئیں۔

اس صورت میں تین طلاق پڑنے میں تامل ہے کیونکہ جس وقت شرط مقدم ہو اور طلاق کا لفظ مکرر ہو تو اس کی دو صورتیں ہیں ایک تکرار بذریعہ حرف عطف دوسرے بلا حرف عطف۔ اول صورت میں امام صاحب کے نزدیک شرط کے پائے جانے کے وقت ایک طلاق واقع ہوتی ہے اور باقی طلاقیں لغو ہو جاتی ہیں اور صاحبین کے نزدیک تینوں واقع ہوتی ہیں اور اگر تکرار بلا حرف عطف ہو جیسے کہ مولف نے کیا ہے تو اس صورت میں اول طلاق معلق ہوتی ہے اور دوسری فی الحال واقع ہوتی ہے اور تیسری لغو ہو جاتی ہے۔

وان علق الطلاق بالشرط ان کان الشرط مقدما فقال ان دخلت الدارفانت طالق و طالق وطالق وہی غیر مدخلولۃ بانت بواحدۃ عندوجود الشرط فے قول ابی حنیفۃ رحمہ اللہ تعالی و لغا الباقی وعدہما یقح الثلاث ہذا کلہ اذا ذکرہ بحرف العطف فان ذکرہ بغیر حرف العطف ان کان الشرط مقدما فقال ان دخلت الدارفانت طالق طالق طالق وہی غیر مدخلوۃ فالاول معلق بالشرط والثانی یقع للحال والثالث لغو ثم اذا تروجہاو دخلت الدار ینزل المعلق وان دخلت بعد البینونۃ قبل التزوج حنث ولا یقح شئی عالمگیری مختصر ص آج مصری وفی البحر آج ص وقید بحرف العطف لانہ لوذکر بغیر عطف اصلانحوان دخلت الدار فانت طالق واحدۃ واحدۃ ففی فتح القدیر یقح اتفاقا محمد وجود الشرط ویلغوما بعدہ لعدم مایوجب التشریک اھ وقال العلامۃ ابن عابدین علی قولہ وقید بحرف العطف فی ایمان البزازیۃ من الثالث فی یمین الطلاق ان دخلت الدارفانت طالق طالق طالق وہی غیر ملموسۃ فالاول معلق بالشرط والثانی ینزل فی الحال ویلغو الثالث وان تزوجہا ودخلت الدار نزل المعلق ولود خلت بعد البینونۃ قل التزوج انحل الیمین لا الی جزائ ولو موطوۃ تعلق الاول ونزل الثانی والثالث اھ وہذا کما تری مخالف لما نقلہ ہنا عن الفتح الا ان نفرق بین واحدۃ واحدۃ وطالق طالق وہو الظاہر اھ ہذا ماظہر لی واللہ اعلم بالصواب۔ اگر یہ اشکال صحیح ہے اور عبارت میں کسی ترمیم کی ضرورت ہے تو ترمیم فرما دی جائے تاکہ اصل مسئلہ کی جگہ لکھ کر اس پر حاشیہ میں نوٹ لکھ دیا جائے۔

سعید احمد غفرلہ 21 ربیع الاول56 ھ

جواب از حضرت حکیم الامۃ مولانا مولوی اشرف علی صاحب تھانوی نور اللہ مرقدہ

الجواب۔ ومنہ الصدق والصواب۔ طلاق ثلاث معلق میں باعتبار مطلقہ مدخول بہاوغیرہ مدخول بہاوباعتبار تقدیم شرط و تاخیر شرط و باعتبار عطف و عدم عطف بالواو آٹھ صورتیں ہیں جن کو ذیل میں اولا نقشہ کی شکل میں ثانیا عبارت میں ضبط کرتا ہوں پھر سب کے احکام نقل کر کے سوال کا جواب عرض کروں گا۔

عبارت یہ ہے: نمبر1: لغیر اللمدخول بابتقدیم الشرط مع العطف نمبر2: لغیر المدخول بہابتقدیم الشرط بلا عطف نمبر3: لغیر المدخول بہابتاخیر الشرط مع العطف نمبر4: لغیر المدخول خول بہابتا خیر الشرط بلاعطف نمبر5 للمدخول بہا بتقدیم الشرط مع العطف نمبر6 للمدخلو بہا بتقدیم الشرط بلاعطف نمبر 7 للمدخول بہا بتاخیر الشرط مع العطف نمبر8 للمدخول بہا بتا خیر الشرط بلا عطف۔

احکام یہ ہیں فی العالمگیریۃ الفصل الرابع من الباب الثانی من کتاب الطلاق وان علق الطلاق بالشرط ان کان الشرط مقدما نفقال ان دخلت الدار فانت طالق وطالق وطالق وہی غیر مدخولۃ وہی الصورۃ الاولی بانت بواحدۃ عندوجودالشرط فی قول ابی حنیفۃ والغاالباقی وعندہما یفع الثلث وان کانت مدخولۃ وہی الصورۃ الخامسۃ بانت بثلث اجماعا الا علی قول ابی حنیفۃ یتبع بعضہا بعضا فی الوقوع وعندہما یقح الثلاث جملۃ واحدۃ وان کان الشرط موخرا فقال انت طالق وطالق وطالق ان دخلت الدار وذکرہ بالفائ الظن انہا اومکان الواد فدخلت الدار بانت بثلث اجماعا سوئ کانت مدخلوۃ او غیر مدخولۃ وہی الصورۃ الثالثۃ والسابعۃ ہذا کلہ اذا ذکرہ بحرف العطف فان ذکرہ بغیر حرف العطف ان کان الشرط مقدما فقال ان دخلت الدار فانت طالق طالق طالق وہی غیر مدحولۃ وہی الصورۃ الثانیۃ المذکورۃ فی بہشتی زیور فلاول معلق بالشرط والثانی یقح للحال والحالث لغو وہوالذی ذکرہ المستفتی ثم اذا ترزوجہا و دخلت الدار ینزل المعلق وان دخلت بعد السینونۃ قبل التزوج حنث ولا یقح شئی وان کانت مدخولۃ وہی الصورۃ السادسۃ فالاول معلق بالشرط والثانی والثالث یقعان فی الحال وان اخرالشرط فقال انت طالق طالق طالق ان دخلت الداروہی غیر مدخولۃ وہی الصورۃ الرابعۃ فلاول ینزل المحال ولغا الباقی وان کانت مدحولۃ وہی الصورۃ الثانیۃ ینزل الاول والثانی للحال ویتعلق الثالث بالشرط کذافی السراج الوہاج وفی الدر المختار باب طلاق غیر المدخول بہا فی نظیر المسئلۃ وتقع واحدۃ ان قدم الشرط وفی ردالمختار ہذا عندہ ہما ثنتان ایضا ورجحہ الکمال فی فتح القدیر واقرہ فی البحراہ۔

اب سوال کا جواب عرض کرتا ہوں کہ بہشتی زیور کا مسئلہ مبحوث عنہا ظاہرا صورۃ ثانیہ ہے جس کا حکم یہ ہے کہ پہلی طلاق معلق ہو گی اور دوسری فی الحال واقع ہو گی اور تیسری لغو ہو گی جیسا سوال میں بھی بقل کیا گیا ہے اور روایات جواب میں بھی۔ اس بنائ پر بہشتی زیور کی عبارت پر اشکال صحیح اور اس کی تصحیح کے لیے عبارت کی ترمیم کافی نہیں بلکہ اس مسئلہ کو حذف ہی کر دینا چاہیے یہ امر قابل تامل ہے کہ اس حکم کی بنائ پر تکرار بلا عطف ہے جیسا صیغہ مفروضہ سے ظاہر ہے اور اردو کے محاورات میں عام اہل لسان اس صورت میں عطف ہی کا قصد کرتے ہیں ممکن ہے کہ مولف بہشتی زیور نے کہ مولوی احمد علی صاحب ہیں جیسا کہ احقر اپنی بعض تحریرات میں اس کو شائع بھی کر چکا ہے اس کو عطف ہی میں داخل کیا ہو جو صور ثمانیہ سے صورۃ اولی ہے اور اس میں امام صاحب اور صاحبین اختلاف کرتے ہیں مولف نے صاحبین کے قول کو راجح سمجھ کر کیا ہو۔ جیسا روایات بالا میں فتح القدیر و بحر سے اس کا راجح ہونا نقل کیا گیا ہے اس صورت میں اشکال رفع ہو جائے گا۔ خلاصہ یہ کہ اس حکم مذکور بہشتی زیور کی صحت دو مقدموں پر موقوف ہے ایک یہ کہ عطف و عدم عطف ہمارے محاورہ میں یکساں ہیں دوسرے یہ کہ صاحبین کا قول راجح ہے پس اگر یہ مقدمات مسلم ہوں تو حکم صحیح ہے ورنہ غلط اور بہشتی زیور میں درمختار کے جس مقام کا حوالہ دیا گیا ہے وہ مقام باوجود تلاش کے نہیں ملا۔ نہ مستفتی نے اس سے تعرض کیا ممکن ہے کہ اس کے دیکھنے سے مزید بصیرت حاصل ہو سکتی۔ بہرحال اگر ہذف کیا جائے تو کسی تکلف کی ضرورت نہیں۔ لیکن احتیاط یہ ہے کہ یہ حاشیہ کسی پاس والے مسئلہ پر لکھ دیا جائے کہ اس مقام پر ایک مسئلہ تھا جو ظاہر عبارات فقہاء کے خلاف تھا اس کو با اجازت اشرف علی حذف کر دیا گیا ہے۔ اس حاشیہ سے یہ فائدہ ہو گا کہ دوسرے نسخے دکھ کر یہ شبہ نہ ہو گا کہ شاید اس کو سہوا نہیں لکھا گیا۔

اور اگر باقی رکھا جائے تو ایک حاشیہ اس پر لکھ دیا جائے کہ یہ مسئلہ ظاہر عبارات فقہاء پر صحیح نہیں لیکن اگر محاورہ اردو کی بنا پر اس کو عطف میں بحذف عاطف داخل کیا جائے اور اس مسئلہ میں جو اختلاف ہے اس میں صاحبین کا قول لے لیا جائے تو اس توجیہ پر مسئلہ صحیح ہو سکتا ہے اب عوام کو چاہیے کہ اپنے معقتدفیہ عالم کے فتوے پر عمل کریں۔ واللہ اعلم۔ (26 ربیع الاول56 ) اشرف علی

طلاق کےمسئلے

مسئلہ 1۔ طلاق دینے کے جب کسی ضرورت سے طلاق دی جائے تین طریقے ہیں۔ ایک بہت اچھا دوسرا اچھا تیسرا بدعت اور حرام۔ سو بہت اچھا طریق یہ ہے کہ مرد بیوی کو پاکی کے زمانے میں یعنی ایسے وقت میں جس میں حیض وغیرہ سے عورت پاک ہو ایک طلاق دے مگر یہ بھی شرط ہے کہ اس تمام پاکی کے زمانہ میں صحبت نہ کی ہو اور عدت گزرنے تک پھر کوئی طلاق نہ دے عدت گزرنے سے خود ہی نکاح جاتا رہے گا ایک سے زیادہ طلاق دینے کی حاجت نہیں اس لیے کہ طلاق سخت مجبوری میں جائز رکھی گئی ہے لہذا بقدر ضرورت کافی ہے بہت سی طلاقوں کی کیا حاجت ہے اور اچھا طریقہ یہ ہے کہ اس کو تین پاکی کے زمانوں میں تین طلاقں ا دے دو حیضوں کے درمیان جو پاکی رہتی ہے اس کو ایک زمانہ کی پاکی کہتے ہیں سو ہر پاکی کے زمانہ میں ایک طلاق دے اور ان پاکی کے زمانوں میں بھی صحبت نہ کرے اور بدعت اور حرام طریق وہ ہے جو ان دونوں صورتوں کے خلاف ہو مثلاً تین طلاق یکبارگی دے دے یا حیض کی حالت میں طلاق دے یا جس پاکی میں صحبت کی تھی اس میں طلاق دی تو اس اخیر قسم کی سب صورتوں میں گو طلاق واقع ہو جائے گی مگر گناہ ہو گا۔ خوب سمجھ لو اور یہ سب تفصیل اس صورت میں ہے کہ عورت سے صحبت یا خلوت صحیحہ ہوئی ہو اور جس سے ایسا تفاق نہ ہوا ہو اس کا حکم ابھی گے تا ہے۔ مسئلہ2۔ جس عورت سے نکاح کر لیا مگر صحبت نہیں کی ایسی عورت کو خواہ حیض کے زمانہ میں طلاق دے یا پاکی کے زمانہ میں ہر طرح درست ہے مگر ایک طلاق دے۔

ضمیمہ ثانیہ بہشتی زیور حصہ چہار مسماۃ بہ تصحیح الاغلاط

اصل صفحہ س۔ چاہے صاف لفظوں میں الخ۔ تحقیق۔ مطلب یہ ہے کہ جب طلاقیں تین پڑ جائیں گی خواہ صاف لفظوں سے پڑیں یا گول لفظوں سے حرمت مغلظہ ثابت ہو جائے گی اور یہ امر کو گول لفظوں کی تکرار سے کب تین طلاقیں ہوں گی کب نہ ہوں گی اس سے اس جگہ بحث نہیں پس اس پر وہ شبہ واقع نہیں ہوتا جو اس پر کیا گیا ہے اور نہ اس جواب کی ضرورت ہے جو دیا گیا ہے۔

اصل صفحہ س۔ کسی نے یوں کہا کہ تجھ کو رکھوں تو ماں کو رکھوں الخ تحقیق۔ عالمگیری میں ہے۔ لوقال ان وطئتک وطئت امی فلاشئی علیہ کذافی غایۃ السراجی اور مولوی احمد حسن صاحب نے اپنے حاشیہ میں لکھا ہے ان دونوں صورتوں کا یہ حکم کہ اس کہنے سے کچھ نہیں ہوا اس حالت میں ہے جبکہ کچھ نیت نہ ہو۔ اگر نیت طلاق کی ہو تو طلاق پڑ جائے گی اور جو نیت ظہار کی ہو تو ظہار ہو جائے گا انتہی۔ اور امداد الفتاوی مبوب کی جلد دوم کے ضمیمہ میں کتاب الطلاق میں مولانا نے عدم وقوع طلاق مطلقا ہی کو ترجیح دی ہے لیکن اس میں مراجعت الی العلمائ کا بھی مشورہ دیا ہے فلیتحقق۔

اس صورت میں اگر ایلاء کی نیت کی ہے تو ایلاء ہو جائے گا فی العالمگیریۃ اذا قال انت علی حرام کامی ونوی الطلاق اوالظہار اوالایلاء فہوعلی مانوی وان لم ینوشیئا یکون ظہار افی قول محمد وذکر الخصاف والصحیح من مذہب ابی حنیفۃ ماقال محمد کذا فی فتاوی قاضی خان۔ عالمگیریۃ۔

۔ نکاح ہو گیا لیکن ابھی رخصتی نہیں ہوئی میاں پردیس میں ہے الخ تحقیق۔ ان دونوں مسئلوں پر بعض عوام اعتراض کیا کرتے ہیں لہذا ضرورت ہے کہ ان کی ضرورت توضیح کر دی جائے۔

توضیح مسئلہ 1۔ نکاح ہو گیا لیکن ابھی رواہ کے موافق رخصتی نہیں ہوئی تھی کہ لڑکا پیدا ہو گیا اور شوہر انکار نہیں کرتا کہ بچہ میرا نہیں ہے تو وہ لڑکا شوہر ہی سے ہے حرامی نہیں۔ کیونکہ ممکن ہے کہ کسی طریق سے خفیہ طور پر خاوند بیوی کے پاس پہنچ گیا ہو۔ اور گھر والوں کو یا غیروں کو اس کی خبر نہ ہوئی ہو اور اس کا حرامی کہنا درست نہیں کیونکہ یہ بلا حجت شرعی مرد کو جھٹلانا اور عورت پر زنا کی تہمت لگانا ہے ہاں اگر شوہر کا نہ ہو اور وہ جانتا ہو کہ یہ بچہ میرا نہیں ہے اور میں اس عورت کے پاس نہیں گیا تو انکار کرے۔ انکار کرنے پر چونکہ وہ عورت پر زنا کا الزام لگاتا ہے اگر عورت اس الزام کو تسلیم نہ کرے اور لعان کی شرائط پائی جائیں تو لعان کا حکم ہو گا اور بعد تحقیقی لعان بچہ کا نسب شوہر سے منقطع کر دیا جائے گا اس توضیح کے بعد مطلب بہشی زیور بالکل صاف ہو گا اور اس پر کسی شبہ کی گنجائش نہ رہی۔

توضیح مسئلہ2۔ میاں پردیس میں ہے اور مدت ہو گئی برسیں گزر گئیں کہ گھر نہیں اور اس کے نے کی خبر کسی کو نہ ہوئی ہو۔ جیسے اشتہاری لوگ چھپ کر اپنے گھر جاتے ہیں اور لوگوں کو ان کے نے کی خبر نہیں ہوتی یا بذریعہ کسی عمل مثل تسخیر جن وغیرہ کے یا بذریعہ کرامت کسی بزرگ کے وہ اپنی بیوی کے پاس پہنچ گیا ہو۔ یا اپنی بیوی کو اپنے پاس بلا لیا ہو اور کسی کو اس کی خبر نہ ہوئی ہو پس جبکہ خاوند اس بچہ کے اپنا بیٹا ہونے سے انکار نہیں کرتا تو گویا وہ دعوی کرتا ہے کہ میں نے اپنی بیوی سے صحبت کی ہے اور یہ شبہ کہ وہ تو پردیس میں تھا کیسے صحبت کر سکتا ہے اس لیے صحیح نہیں ہے کہ بذریعہ کرامت یا بذریعہ جن وغیرہ کے ایسا ہونا ممکن ہے تو شوہر کو جھوٹا نہ کہا جائے گا اور بچہ کو حرامی نہ کہا جائے گا۔ البتہ چونکہ شوہر کو علم ہے کہ میں نے صحبت کی ہے یا نہیں اس لیے اس کو انکار کا حق حاصل ہے اس بنا پر اگر وہ خبر پا کر انکار کرے گا تو چونکہ اس انکار میں عورت پر زنا کا الزام ہے اس لیے اگر زوجہ زنا سے انکار کرے اور دیگر شرائط لعان پائی جاتی ہیں تو لعان کا حکم ہو گا اور بعد لعان کے بچہ کا نسب شوہر سے منقطع کر دیا جائے گا اس توضیح کے بعد وسرے مسئلہ پر بھی شبہ نہیں ہو سکتا۔ یہ مختصر توضیح تھی ان دونوں مسئلوں کو جو انشاء اللہ سمجھدار اور غیر متعصب حضرات کی تشفی کے لیے کافی ہے۔

اگر کسی کو زیادہ تفصیل دیکھنا ہو تو رسالہ رفع الارتیاب مصنفہ مکرمی مولوی عبداللہ صاحب منگا کر دیکھے اس میں زیادہ تفصیل ملے گی نیز ان مسائل پر شبہ اور اس کا جواب حضرت مولانا نور اللہ مرقدہ کی طرف سے تتمہ اولی امداد الفتاوی صفحہ میں مذکور ہے اس کو بھی دیکھ لیا جائے۔ آخر میں کہا جاتا ہے کہ روافض خذلہم اللہ بھی بہشتی زیور کے یہ مسائل جاہل لوگوں کو دکھلا کر ان کو مذہب اسلام سے نفرت دلانا چاہتے ہیں اور اس طرح دھوکہ دے کر ان کو مذہب رفض کا پابند کرنا چاہتے ہیں جو کہ منافق یہودیوں کا بنایا ہوا دین ہے اور جاہل چونکہ نہ اپنے مذہب سے واقف ہوتے ہیں نہ رافضیوں کے اس لیے وہ پریشان ہو جاتے ہیں اور ان کو جواب نہیں دینا پڑتا۔ اس لیے کہا جاتا ہے کہ اگر کوئی رافضی ان مسائل میں گفتگو کرے تو ان کو چاہیے کہ وہ بہشتی زیور کا مطلب سمجھا کر ان کے اعتراض کو دفع کریں اور ان سے کہیں کہ تمہارے مذہب میں یہ تین مسئلے بہشتی زیور سے زیادہ قابل اعتراض ہیں ان کا جواب دو۔

سوال۔ بہشتی زیور حصہ چہارم کے بیان لڑکے کے حلالی ہونے کے آخری دو مسئلوں نکاح ہو گیا لیکن ابھی رخصتی نہیں ہوئی تھی الخ و میاں پردیس میں ہے اور مدت ہو گئی برسیں گزر گئیں الخ پر لوگ مختلف خیال والے اعتراض کر رہے ہیں۔ براہ عنایت ہر دو مسائل کا مشرح و مدلل حال تحریر فرمائیے تاکہ معترضین کو چپ کیا جائے۔

الجواب۔ السلام علیکم و رحمۃ اللہ اب تک جس نے اس بارہ میں زبانی یا تحریری دریافت کیا اعتراض کے رنگ میں دریافت کیا اس لیے خطاب کرنے کو جی نہ چاہا۔ آپ کے الفاظ سے چونکہ سمجھنے کا قصد معلوم ہوتا ہے اس لیے جواب لکھتا ہوں ذرا غور سے سمجھئے۔ بہشتی زیور کے ان مسئلوں کا یہ مطلب نہیں کہ بدون صحبت کے حمل رہ جاتا ہے اور وہ حمل اس شوہر کا ہو جاتا ہے بلکہ مطلب یہ ہے کہ ان صورتوں میں اوپر کے دیکھنے والوں کو خود اسی کا یقین کرنے کا کوئی ذریعہ نہیں کہ ان میں صحبت نہیں ہوئی۔ پس ان کو شرعاً یہ اجازت نہیں کہ محض ظاہری دوری کو زن و شوہر میں دیکھ کر یہ کہہ دیں کہ جب ہمارے علم میں ان کے درمیان صحبت واقع نہیں ہوئی تو واقع میں بھی صحبت نہیں ہوئی اور یہ حمل حرام کا ہے اور یہ عورت حرام کار ہے اور یہ بچہ ولد الحرام۔ پس دیکھنے والوں کو یہ حکم لگانے کا حق نہیں۔ کیونکہ کسی کو حرام کار یا حرام زادہ کہنا بہت بڑی تہمت ہے۔ اور گناہ عظیم ہے اس کا منہ سے نکالنا بدون دلیل قطعی کے جائز نہیں۔ بلکہ جب تک بعید سے بعید احتمال بھی وقوع صحبت کا رہے گا یوں سمجھیں گے کہ شاید یہی بعید صورت صحبت کی واقع ہوئی ہو اور دوسروں کو اس کی اطلاع نہ ہوئی ہو اور وہ بعید احتمال یہاں دور ہو سکتے ہیں۔ ایک یہ کہ کسی بزرگ کی کرامت سے زن و شوہر ایک جگہ جمع ہو گئے ہوں اور ان میں صحبت واقع ہوئی ہو۔ دوسرے یہ کہ کسی جن نے دونوں کو ایک جگہ جمع کر دیا ہو اور صحبت ہو گئی ہو اور حمل رہ گیا ہو۔ اور بزرگوں کی کرامت اور جن کا تصرف اہل سنت و الجماعت کے نزدیک شرعاً و عقلاً وقوعاً ثابت ہے اور گو اس کا احتمال بعید ہی ہو مگر ہم مسلمان عورت کو تہمت سے بچانے کے لیے اور بچہ کو عار سے بچانے کے لیے اس احتمال کو ممکن مانیں گے اور یوں کہیں گے کہ شاید ایسی ہی صورت ہوئی ہو اور بعض صورتوں میں ممکن ہے۔

مسئلہ1۔ اگر کوئی شخص اپنی بیوی کے پاخانہ کے مقام میں صرف حشفہ داخل کر دے اور انزال ہو جائے اور اس عورت کے اس وقت چھ مہینے بعد انتہائی مدت حمل سے پہلے بچہ پیدا ہوا ہو تو وہ بچہ خاوند ہی کا ہے۔ ( بتلاؤ کہ پاخانہ کے مقام میں صحبت کرنے سے رحم میں نطفہ کیسے پہنچ گیا)

مسئلہ 2۔ اگر کوئی مرد اپنی عورت کے پاخانہ کے مقام میں حشفہ داخل کر دے اور انزال بھی نہ ہو تب بھی بچہ خاوند ہی کا ہو گا بشرطیکہ وہ چھ مہینے کے بعد اور انتہائی مدت حمل سے پہلے پیدا ہوا ہو بتلاؤ کہ پاخانہ کے مقام میں صحبت کرنے سے اور وہ بھی بغیر انزال ہوئے حمل کیسے قرار پا گیا۔

مسئلہ3۔ اگر کوئی مرد اپنی عورت سے آگے کی راہ سے صحبت کرے اور انزال نہ ہو تب بھی جو بچہ پیدا ہو گا وہ خاوند ہی کا ہو گا بشرطیکہ وہ چھ مہینے کے بعد اور انتہائی مدت حمل سے پہلے پیدا ہو۔ بتلاؤ کہ بدون انزال کے حمل کیسے رہ گیا۔ ان مسئلوں کا جواب ان سے کچھ نہ بن پڑے گا اور وہ فہت الذی کفر کا مصداق ہوں گے لیکن اگر وہ انکار کریں اور کہیں کہ ہمارے مذہب میں یہ مسئلے نہیں ہیں تو ان سے کہو کہ یہ تینوں مسئلے شرح و مشفیہ میں موجود ہیں اور عبارت اس کی یہ ہے

یلحق الولد بالزوج الدائم نکاحہ بالدخول بالزوجۃ ومضے ستت اشہر ہلالیۃ من حین الوطی والمرادبہ علی مایظہرمن اطلاقہم وصرح بہ المصنف فی قواعدہ غیبوبۃ الخشفۃ قبلا اودبراوان لم ینزل۔ ولا یخلو ذلک من اشکال ان لم یکن مجمعا علیہ علیہ للقطع بانتفائ التولد عادۃ فی کثیر من مواردہ ولم اقف علی شئی ینافی مانقلناہ و یعتمد علیہ وعدم تجاوز اقصے مدۃ الحمل وقد اختلف الاصحاب فی تحدیدہ فقیل تسعۃ اشہر وقیل عشرۃ وغایۃ ماقیل مافیہ عندنا سنۃ ومستند الکل مفہوم الروایات وعدل امص عن ترجیح قول لعدم دلیل قوی علی الترجیح ویمکن حمل الروایات علی اختلاف عادات النسائ فان بعضہن تلد لتسعۃ وبعضہن لعشرۃ وقدیتفق نادرابلوغ سنۃ واتفق الاصحاب علی انہ لایذید عن السنۃ مع انہم رووا ان النبی صلی اللہ علیہ والہ وسلم حملت بہ امہ ایام التشریق واتفقوا علی انہ ولدفی شہرربیع الاول فاقل مایکون لبث فی بطن امہ سنۃ وثلثۃ اشہر وما نقل احد من العلمائ انہ من خصائصہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم اھ بلفظہ۔

اس عبارت میں یہ تینوں مسئلے موجود ہیں اور لطف یہ ہے کہ خود صاحب کتاب کا اقرار ہے کہ یہ مسائل ضرور قابل اعتراض ہیں ان صورتوں میں بچہ کا اس مرد سے پیدا ہونا عادتاً ناممکن ہے مگر کسی رافضی عالم کا قول مجھے ان کے مخالف نہیں ملا۔

ہذا ما عندنا واللہ یہدی من یشاء الی صراط مستقیم

کہ شوہر ایسی طرح خفیہ آیا ہو کہ کسی کو خبر نہ ہو جیسے بعض اشتہاری مجرم رات کو اپنے گھر جاتا ہے اور رات ہی کو چلا جاتا ہے اس لیے اس حمل کو اس شوہر کی طرف منسوب سمجھیں گے اور نسب کو ثابت مانیں گے البتہ خود شوہر کو اس کا علم قطعی ہو سکتا ہے کہ میں نے صحبت کی ہے یا نہیں۔ سو اس کو شرعاً مجبور نہیں کیا گیا کہ خواہ مخواہ تو اس بچہ کو اپنا ہی مان بلکہ اس کو اختیار دیا گیا ہے کہ اگر تو نے صحبت نہیں کی ہے تو اس نسب کو نفی کر سکتا ہے۔ مگر چونکہ حاکم شرع کو کسی دلیل قطعی سے خود شوہر کا راست گو ہونا یقینی طور پر معلوم نہیں ہو سکتا بلکہ احتمال ہے کہ کسی اور رنج و غصہ سے عورت کو بدنام کرتا ہو اس لیے اس کی نفی کرنے پر حاکم شرع سکوت نہ کرے گا بلکہ مقدمہ قائم کر کے لعان کا قانون نافذ کرے گا پھر لعان کے بعد دوسروں کو بھی شرعاً اجازت ہے کہ اس بچہ کو اس شوہر کا نہ کہیں گے کیونکہ قانون شرعی سے اس کا نسب قطع ہو چکا یعنی شرعاً جبر نہیں کہ اب بھی اسی کا مانو بلکہ قانوناً اس سے منقطع سمجھیں گے اور واقع کے اعتبار سے پھر بھی یوں کہیں گے کہ غیب کا علم خدا تعالی کو ہے اسی طرح عورت کی نسبت کہیں گے کہ خدا کو خبر ہے کہ مرد سچا ہے یا عورت۔

27شعبان 1328ھ