قران مجید پڑھنے کی فضیلت کا بیان

حدیث میں  ہے کہ جس وقت چاہے کوئی تم میں کا اپنے پروردگار سے گفتگو کرنا۔ سو چاہیے کہ قرآن پڑھے یعنی قرآن مجید کی تلاوت کرنا گویا حق تعالی سے بات چیت کرنا ہے زیادہ غنی لوگوں میں قرآن کے اٹھانے والے ہیں یعنی وہ لوگ کہ جن کے سینہ میں اللہ تعالی نے اس کو یعنی قرآن کو رکھا ہے مطلب یہ ہے کہ جس نے قرآن پڑھا اور اس پر عمل کیا اس سے بڑھ کر کوئی غنی نہیں۔ اس پر عمل کرنے کی برکت سے حق تعالی باطنی غنا مرحمت فرماتے ہیں اور ظاہری کشائش بھی میسر ہوتی ہے۔ چنانچہ حضرت امام حسن بصری رحمۃ اللہ علیہ سے روایات ہے کہ ایک مرد کثرت سے حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ کے دروازے پر تا تھا دنیاوی حاجتوں کے لیے سو کہا حضرت عمر نے اس مرد سے کہ جا اور پڑھ خد اکی کتاب یعنی قرآن مجید سو چلا گیا وہ مرد پس نہ پایا اس کو حضرت عمر نے ۔ پھر آپ اس سے ملے اور آپ اس کے شاکی ہوئے یعنی اس وجہ سے کچھ شکایت فرمائی کہ تمہاری ہم کو تلاش تھی بلا اطلاع کہاں چلے گئے۔ جب کوئی کثرت سے آمد و رفت رکھتا ہو پھر دفعۃ نا چھوڑ دے تو انسان کو فکری ہو ہی جاتی ہے کہ نہ معلوم کہاں چلا گیا کس حال میں ہے سو اس نے جواب میں عرض کیا کہ میں نے اللہ کی کتاب میں وہ چیز پا لی جس نے مجھے عمر کے دروازے سے غنی اور بے پرواہکر دیا۔ یعنی قرآن مجید میں ایسی آیت مل گئی جس کی برکت سے میری نظر مخلوق سے ہٹ گئی اور خدا تعالی پر بھروسہ ہو گیا۔ تمہارے پاس دنیا کی حاجت کے لیے تا تھا اب کر کیا کروں۔ غالباً مراد اس سے اس قسم کے مضامین ہوں گے جو اس آیت میں مذکور ہیں وفی السماء رزقکم وما توعدون۔ یعنی تمہاری روزی آسمان ہی میں ہے اور جس چیز کا تم وعدہ کیے گئے ہو وہ بھی آسمان میں ہے یعنی تمہاری روزی وغیرہ سب کاموں کا بندوبست ہمارے ہی دربار سے ہوتا ہے پھر دوسری طرف متوجہ ہونے سے کیا نتیجہ۔ حدیث2،26۔

میں ہے کہ افضل عبادت قرآن کی قراۃ ہے یعنی بعد فرائض کے تمام نفل عبادت میں قرآن پڑھنا افضل ہے حدیث میں ہے کہ تعظیم کرو قرآن کے یاد رکھنے والوں کی جس نے ان کی تعظیم کی پس بے شک اس نے میری تعظیم کی اور آپ کی تعظیم کا واجب ہونا ظاہر ہے حدیث میں ہے تم میں بہتر وہ لوگ ہیں جنھوں نے قرآن پڑھا اور قرآن پڑھایا۔ حدیث میں ہے جس نے قرآن پڑھایا اور عمل کیا اس چیز پر جو اس میں ہے یعنی اس کے احکام پر عمل کیا پہنائے جائیں گے اس والدین کو تاج قیامت کے دن جس کی روشنی زیادہ عمدہ ہو گی آیت کی روشنی سے دنیا کے مکانوں میں جبکہ وہ آیت تم میں ہو یعنی دنیا میں جبکہ تمہارے گھروں میں آیت روشن ہو جیسی اس کی روشنی ہوتی ہے اس سے بڑھ کر اس تاج کی روشنی ہو گی پس کیا گمان ہے تمہارا اس شخص کے ثواب کے بارے میں جس نے خود عمل کیا اس پر یعنی قرآن پر جس نے عمل کیا اس کا کیا کچھ بڑا درجہ ہو گا جبکہ اس کے طفیل سے اس کے والدین کو یہ رتبہ عنایت ہوا حدیث میں ہے جس نے قرآن پڑھا پھر خیال کیا اس نے کہ کوئی خدا کی مخلوق میں سے اس نعمت سے بڑھ کر نعمت دا گیا ہے جو جاننے والے کو تیزی کرنا اس شخص سے جو اس سے تیزی کرے اور نہ جہالت کرنا اس شخص سے جو اس سے جہالت کرے اور ایسا نہ کرے لیکن معاف کرے اور درگزر کرے بسبب عزت قرآن کے یعنی اہل علم اور قرآن کے جاننے والوں کو چاہیے کہ دنیا کی تمام نعمتوں سے قرآن کے علم کو اعلی اور افضل سمجھیں۔ اگر انہوں نے قرآن کو علم سے بڑھ کر کسی چیز کو سمجھا تو جس ویز کو خدا نے بڑا کیا تھا۔ اس کو حقیر کر دیا۔ اور حاکم جس چیز کو بڑا کرے اس کا حقیر کرنا کس قدر بڑا جرم ہے۔ اور اہل قرآن کو چاہیے کہ لوگوں سے جہالت اور بد اخلاقی سے پیش نہآئیں کہ قرآن کی عزت اور عظمت اسی بات کو چاہتی ہے اور اگر ان سے کوئی جہالت کرے تو اس کی جہالت کو معاف کریں۔ حدیث میں ہے کہ فرمایا جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ قرآن زیادہ محبوب ہے اللہ تعالی کو سمانوں سے اور زمین سے اور ان لوگوں سے جو ان سمانوں اور زمین میں ہیں یعنی قرں مجید کا درجہ تمام مخلوق سے اعلی ہے اور قرآن مجید خدا تعالی کو سب سے زیادہ پیارا ہے رواہ ابو نعیم عن ابن عمر مرفوعا بلفظ القرآن احب الی اللہ من السموات والارض ومن فیہن

حدیث میں ہے جس نے سکھائی کسی اللہ کے بندے کو ایک آیت خدا کی کتاب کی۔ سو وہ یعنی سکھانے والا آقا ہو گیا اس پڑھنے والے کا نہیں لائق ہے اس طالب علم کو اس کی مدد نہ کرنا موقع پر اور نہ اس استاد پر کسی دوسرے کو ترجیح دینا جس کا رتبہ استاد سے بڑا نہ ہو پس اگر وہ یعنی طالب علم ایسا کرے تو اس نے توڑ دیا ایک حلقہ کو اسلام کے حلقوں میں سے یعنی ایسی حرکت کرنے سے اس نے اسلام میں بڑا فتنہ ڈالا اور بڑے عظیم الشان شریعت کے حکم کی تعمیل نہ کی جس کی بے برکتی اور سزا کا دارین میں سخت اندیشہ ہے حدیث میں ہے کہ تحقیق فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہیں ہے میری امت سے وہ شخص جس نے نہ بزرگی کی ہمارے بڑے کی اور نہ رحم کیا ہمارے چھوٹے پر اور نہ پہچانا ہمارے عالم کا حق اور عالم کے اندر قرآن کے پڑھنے پڑھانے والے بھی گئے اور مطلب یہ ہے کہ ایسا شخص جس کی یہ حالت ہو ہماری جماعت سے خارج ہے اور اس کا ایمان ضعیف ہے لہذا بڑوں کی تعظیم اور چھوٹوں پر رحم کرنا اور علماء کے حق پہچاننا اور ان کی تعظیم و خدمت کرنا ضرور چاہیے۔ رواہ احمد والطبرانی فی الکبیر عن عبادۃ بن الصامت ان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قال لیس من امتی من لم یبجل کبیرنا ویرحم صغیرنا و یعرف لعالمنا حقہ واسنادہ حسن حدیث میں ہے جس نے قرآن پڑھا اور اس کی تفسیر اور اس کے معنے سمجھے اور اس پر عمل نہ کیا تو دوزخ میں اپنا ٹھکانا بنایا یعنی قرآن پڑھ کر اس پر عمل نہ کرنا بہت بڑا سخت گناہ ہے مگر جاہل لوگ خوش نہ ہوں کہ ہم نے پڑھا ہی نہیں سو ہم اگر اس کے احکام پر عمل نہ کریں گے تو کچھ مضائقہ نہیں اس لیے کہ ایسے جاہل کو دو گناہ ہوں گے ایک علم حاصل نہ کرنے کا دوسرا عمل نہ کرنے کا حدیث میں ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا گیا کہ تحقیق فلاں شخص تمام رات قرآن پڑھتا ہے پھر جب صبح قریب ہوتی ہے تو چوری کرتا ہے۔

آپ نے فرمایا عنقریب اس کو روک دے گا اس کا قرآن پڑھنا یعنی قرآن کی تلاوت کی برکت سے یہ حرکت چھوٹ جائے گی۔ رواہ سعید بن منصور عن جابر بلفظ قیل یا رسول اللہ ان فلانا یقرا باللیل کلہ فاذا اصبح سی ق قال سنتہاہ قرامتہ۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص قرآن شریف پڑھے اور اس کو حفظ کر لے اور اس کے حلال کو حلال سمجھے اور اس کے حرام کو حرام سمجھے داخل کرے گا اس کو اللہ تعالی جنت میں اور شفاعت قبول کرے گا اس کی دس آدمیوں کے حق میں اس کے خاندان والوں میں سے کہ ان میں سب کے سب ایسے ہوں گے کہ ان کے لیے دوزخ واجب ہو چکی ہو گی۔

حدیث میں ہے کہ جس نے سنا ایک حرف خدا کی کتاب سے با وضو لکھی جائیں گی اس کے لیے دس نیکیاں یعنی دس نیکیوں کا ثواب اور دور کر دیئے جائیں گے اس کے دن گناہ اور بلند کیے جائیں گے اس کے دس درجے اور جس نے پڑھا ایک حرف اللہ کی کتاب سے نماز میں بیٹھ کر یعنی جبکہ نماز بیٹھ کر پڑھے اور نماز نفل مراد ہے اس لیے کہ فرض نماز بغیر عذر بیٹھ کر جائز نہیں اور عذر کے ساتھ جائز ہے سو عذر کے ساتھ جب بیٹھ کر نماز پڑھے تو کھڑے ہونے کے برابر ثواب ملتا ہے ہاں نفل نماز بھی اگر کسی عذر سے بیٹھ کر پڑھے تو کھڑے ہونے کی برابر ثواب ملتا ہے تو لکھی جائیں گی اس کے لیے پچاس نیکیاں یعنی اس قدر نیکیوں کا ثواب اور دور کر دیئے جائیں گے اس کے پچاس گناہ اور بلند کیے جائیں گے اس کے لیے پچاس درجے اور جس نے پڑھا اللہ کی کتاب میں سے ایک حرف کھڑے ہو کر لکھی جائیں گی اس کے لیے سو نیکیاں اور دور کیے جائیں گے اس کے سو گناہ اور بلند کیے جائیں گے اس کے سو درجے اور جس نے قرآن پڑھا اور اس کو ختم کیا لکھے گا اللہ تعالی اپنے پاس اس کے لیے ایک دعا جو فی الحال مقبول ہو جائے یا بعد چندے مقبول ہو۔ حدیث میں ہے جس نے قرآن پڑھا اور پروردگار کی حمد کی اور درود بھجا نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر اور مغفرت مانگی اپنے پروردگار سے سو بے شک اس نے بھلائی کو مانگ لیا اس کے مقام سے مطلب یہ ہے کہ بھلائی کو اس کی جگہ سے طلب کر لیا۔ یعنی جو طریق دعا کے قبول ہونے کا تھا اس کو برتا جس سے دعا جلد قبول ہونے کی امید ہے۔ اور خدا کی تعریف میں خواہ الحمد للہ کہے یا کوئی اسی معنی کا کلمہ اور قرآن کی تلاوت کے بعد اس خاص طریقہ سے دعا مانگنا قبولیت میں خاص اثر رکھتا ہے جیسا کہ اس حدیث سے معلوم ہوا

حدیث میں ہے کہ اپنی عورتوں کو سورہ واقعہ سکھلاؤ اس لیے کہ بے شک وہ سورۃ تونگری کی ہے یعنی اس کے پڑھنے سے تونگری میسر ہوتی ہے اور ضروری خرچ اچھی طرح میسر ہو جاتا ہے اور غنائے باطن بھی میسر ہوتا ہے جیسا کہ دوسری حدیث میں ہے کہ جو شخص سورہ واقعہ ہر شب کو پڑھے تو اس کو تنگی رزق کبھی نہ ہو گی اور عورتیں چونکہ ضعیف القلب ہوتی ہیں ذرا سی تنگی میں بہت پریشان ہو جاتی ہیں اس لیے ان کی خصوصیت فرمائی ورنہ اس کا پڑھنا غنا کے حاصل ہونے کے لیے سب کو مفید ہے خواہ مرد ہو یا عورت حدیث میں ہے کہ زیادہ اچھا لوگوں میں قرآن پڑھنے کے اعتبار سے وہ شخص ہے کہ جس وقت وہ قرآن پڑھے تو یہ سمجھے کہ وہ خدا سے ڈر رہا ہے یعنی تلاوت کرنے والے کو دیکھنے والا یہ سمجھے کہ وہ خدا سے ڈر رہا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اس طرح اہتمام سے پڑھے جیسے کہ ڈرنے والا اہتمام سے کلام کرتا ہے کہ کوئی حرکت حاکم کے سامنے بے موقع نہ ہو جائے اور قرآن مجید کے پڑھنے کا عمدہ طریق یہ ہے کہ با وضو قبلہ کی طرف بیٹھ کر عاجزی سے تلاوت کرے اور سمجھے کہ اللہ تعالی سے باتیں کر رہا ہوں اور اگر معنے جانتا ہو تو معنی پر غور کرے اور جہاں رحمت کی آیت آئے وہاں رحمت کی دعا مانگے اور جہاں عذاب کا ذکر ہو وہاں دوزخ سے پناہ مانگے اور جب تمام کر چکے تو خدا کی حمد اور جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر درود پڑھ کے مغفرت طلب کرے اور جو چاہے دعا مانگے اور پھر درود شریف پڑھے اور حتی المقدور قرآن پڑھنے میں دوسرا خیال نہ آنے دے اگر کوئی خیال آئے تو ادھر توجہ نہ کرے وہ خیال خود جاتا رہے گا اور تلاوت کے وقت لباس بھی جہاں تک ہو سکے صاف پہنے ۔

طلاق کی مذمت کا بیان

حدیث میں ہے البغض الحلال الی اللہ الطلاق راہ الحاکم وابوداودو ابن ماجہ عن ابن عمر مرفوعا وسندہ صحیح یعنی زیاہ مبغوض اور زیادہ بری چیز حلال چیزوں میں خدا کے نزدیک طلاق ہے۔ مطلب یہ ہے کہ طلاق حاجت کے وقت جائز رکھی گئی ہے اور حلال ہے مگر بلا حاجت بہت بری بات ہے اس کے لیے کہ نکاح تو باہم الفت و محبت اور زوج وزوجہ کی راحت کے واسطے ہوتا ہے اور طلاق سے یہ سب باتیں جاتی رہتی ہیں اور حق تعالی کی نعمت کی ناشکری ہوتی ہے ایک دوسرے کو کلفت ہوتی ہے باہم عداوت ہوتی ہے نیز اس کی وجہ سے بیوی کے اور اہل قرابت سے بھی عداوت پڑتی ہے۔ جہاں تک ہو سکے ہرگز ایسا قصد نہ کرنا چاہیے۔ میاں بیوی کو معاملات میں باہم ایک دوسرے کی برداست چاہیے اور خوب محبت سے رہنا چاہیے۔ جب کوئی صورت نباہ کی نہ ہو تو مضائقہ نہیں خوب سمجھ لو۔ حدیث میں ہے کہ نکاح کرو اور طلاق نہ دو یعنی بلا وجہ اس لیے کہ بے شک اللہ تعالی نہیں دوست رکھتا ہے بہت مزہ چکھنے والے مردوں اور بہت مزہ چکھنے والی عورتوں کو یعنی اللہ پاک کو یہ بات پسند نہیں کہ طلاق ہو بلا ضرورت اور میاں دوسرا نکاح کرے اور بی بی دوسرا نکاح کرے ہاں اگر کوئی ضرورت ہو تو کوئی مضائقہ نہیں حدیث میں ہے کہ نہ طلاق دی جائیں عورتیں مگر بدچلنی سے۔ اس لیے کہ اللہ تعالی نہیں دوست رکھتا بہت مزہ چکھنے والے مردوں اور بہت مزہ چکھنے والی عورتوں کو اس سے معلوم ہوا کہ اگر اس کی پارسائی اور پاکدامنی کے باب میں کوئی خلل ہو جائے تو اس کی وجہ سے طلاق دے دینا درست ہے۔ اسی طرح اور بھی کوئی سبب ہو تو کچھ حرج نہیں حدیث میں ہے کہ نکاح کرو اور طلاق نہ دو اس لیے کہ طلاق دینے سے عرش ہلتا ہے۔ حدیث میں ہے کہ شیطان اپنے تخت کو پانی پر رکھتا ہے پھر اپنے لشکروں کو بھیجتا ہے لوگوں کے بہکانے کو پس زیادہ قریب ان لشکروں کے لوگوں میں از روئے رتبہ کے وہ شخص ہوتا ہے جو ان میں سب سے بڑا ہو از روئے فتنہ کے یعنی بڑا محبوب شیطان کو وہ شخص ہوتا ہے جو بہت بڑا فتنہ برپا کرتا ہے اس کے پاس ایک ان میں کا پھر کہتا ہے میں نے یہ کیا اور یہ کیا یعنی یہ فتنہ برپا کیا اور یہ فتنہ برپا کیا سو کہتا ہے شیطان تو نے کچھ نہیں کیا یعنی تو نے کوئی برا کام نہیں کیا اور کہتا ہے ایک ان میں کا پس کہتا ہے نہیں چھوڑا میں نے فلاں شخص کو یہاں تک کہ جدائی کر دی میں نے اس شوہر کے اور اس کی بیوی کے درمیان سو قریب کر لیتا ہے اس شخص کو اپنی ذات سے یعنی اپنے گلے لگا لیتا ہے اور کہتا ہے کہ ہاں تو نے بہت بڑا کام کیا یعنی شیطان کی بہت بڑی خوشی یہ ہے کہ میاں بی بی میں جدائی کر دی جائے۔ لہذا جہاں تک ہو سکے مسلمان شیطان کو خوش نہ کرے حدیث میں ہے کہ جو عورت خود طلاق طلب کرے بغیر سخت مجبوری کے تو جنت کی خوشبو اس پر حرام ہے۔ یعنی سخت گناہ ہو گا۔ گو بشرط اسلام پر خاتمہ ہونے کے اپنے اعمال کا بدلہ بھگت کر آخر میں جنت میں داخل ہو جائے گی حدیث  میں ہے کہ منتزعات اور مختلعات وہ منافعات ہیں (منتزعات وہ عورتیں جو اپنی ذات کو مرد کے قبضہ سے نکالیں شرارت کر کے یعنی ایسی حرکتیں کریں جس سے مرد ناراض ہو کر طلاق دے دے۔ اور مختلعات وہ عورتیں جو خاوندوں سے بلا مجبوری خلع طلب کریں۔ اور منافقات سے مراد یہ ہے کہ یہ خصلت منافقوں کی سی ہے کہ ظاہر کچھ باطن کچھ ظاہر تو نکاح ہمیشہ کے لیے ہوتا ہے اور یہ اس میں جدائی طلب کرتی ہیں اس لیے گنہگار ہوں گی گو کافر نہ ہوں گی)۔

نکاح کی فضیلت اور اس کے حقوق کا بیان

حدیث میں ہے کہ دنیا صرف ایک استعمال کی چیز ہے اور دنیا کی استعمالی چیزوں میں سے کوئی چیز نیک عورت سے افضل نہیں یعنی دنیا میں اگر نیک عورت میسر جائے تو بہت بڑی غنیمت اور حق تعالی کی رحمت ہے کہ خاوند کی راحت اور اس کی فلاح دارین کا سبب ہے دنیا میں بھی ایسی عورت سے راحت میسر ہوتی ہے اور آخرت کے کاموں میں بھی مدد ملتی ہے حدیث میں ہے کہ فرمایا جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نکاح میرا طریقہ اور میری سنت موکدہ ہے سو جو نہ عمل کرے میری سنت موکدہ پر تو وہ مجھ سے نہیں ہے یعنی مجھ سے اور اس سے کوئی علاقہ نہیں۔ یہ زجر اور ڈانٹ ہے ایسے شخص کو جو سنت پر عمل نہ کرے اور جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خفگی کا بیان ہے ایسے شخص پر سو اس سے بہت کچھ پرہیز لازم ہے اور مسلمان کو کیسے چین پڑسکتا ہے کہ ذرا دیر بھی جناب رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم اس سے ناراض رہیں اللہ اس دن سے پہلے موت دے دیں جس روز مسلمان کو اللہ و رسول کی ناراضی گوارا ہو اور حدیث میں ہے نکاح کرو اس لیے کہ میں فخر کروں گا قیامت میں تمہارے ذریعہ سے اور امتوں پر یعنی جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات بہت پسند ہے کہ آپ کی امت کثرت سے ہو اور دوسری امتوں سے زیادہ ہو تاکہ ان کی کثرت اعمال کی وجہ سے آپ کو بھی ثواب اور قرب الٰہی زیادہ میسر ہو۔ اس لیے کہ جو کوئی آپ کی امت میں جو کچھ بھی عمل کرتا ہے وہ آپ ہی کی تعلیم کے سبب کرتا ہے۔ پس جس قدر زیادہ عمل کرنے والے ہوں گے اسی قدر آپ کو ان کی تعلیم کرنے کا ثواب زیادہ ہو گا۔ یہاں سے یہ بات بھی معلوم ہو گئی کہ جہاں تک بھی اور جس طرح بھی ہو سکے قرب الٰہی کے وسیلے اور اعمال کثرت سے اختیار کرے اور اس میں کوتاہی نہ کرے۔

اور حدیث میں ہے کہ قیامت کے دن کل صفیں ایک سو بیس ہوں گی جن میں چالیس صفیں اور امتوں کے لوگوں کی ہوں گی اور اسی صفیں جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کی ہوں گی۔ سبحان اللہ کیا دلداری منظور ہے حق تعالی کو جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اور جو شخص صاحب وسعت ہو یعنی روزہ رکھے اس سے شہوت میں کمی ہو جائے گی پس بے شک روزہ اس کے لیے مثل رگ شہوت مل دینے کے ہے اگر عورت کی خواہش مرد کو بہت زیادہ نہ ہو بلکہ معتدل اور درمیانی درہ کی ہو اور عورت کے ضروری خرچ اٹھانے پر قادر ہو تو ایسے شخص کے لیے نکاح سنت موکدہ ہے۔ اور جس کو اعلی درجہ کا تقاضا ہو یعنی بہت خواہش ہو تو ایسے شخص کے لیے نکاح واجب اور ضروری ہے اس لیے کہ اندیشہ ہے خوانخواستہ زنا میں مبتلاہو گیا تو حرام کاری کا گناہ ہو گا۔ اور اگر باوجود سخت تقاضائے شہوت کے اس قدر طاقت نہیں کہ عورت کے ضروری حقوق ادا کر سکے گا تو یہ شخص کثرت سے روزے رکھے پھر جب اتنی گنجائش ہو جائے کہ عورت کے حقوق ادا کرنے پر قادر ہو تو نکاح کر لے حدیث میں ہے کہ اولاد جنت کا پھول ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جنت کے پھولوں سے جیسی مسرت اور فرحت حاصل ہو گی ویسی ہی راحت اور مسرت اولاد کو دیکھ کر حاصل ہتی ہے اور اولاد نکاح کے ذریعہ سے میسر تی ہے حدیث میں ہے کہ تحقیق آدمی کا درجہ جنت میں بلند کیا جاتا ہے سو وہ کہتا ہے کہاں سے ہے میرے لیے یہ یعنی وہ کہتا ہے کہ یہ رتبہ مجھے کیسا ملا میں نے تو ایسا عمل کوئی نہیں کیا جس کا یہ ثواب ہو پس کہا جاتا ہے اس آدمی سے یہ بسبب مغفرت طلب کرنے تیری اولاد کے ہے تیرے لیے یعنی تیری اولاد نے ہم سے تیرے لیے استغفار کی اس کی بدولت یہ درجہ تجھ کو عنایت ہوا حدیث 5۔

میں ہے تحقیق وہ بچہ جو حمل سے گر جاتا ہے یعنی بغیر دن پورے ہوئے پیدا ہو جاتا ہے اپنے پروردگار سے جھگڑے گا جبکہ اس کے ماں باپ جہنم میں داخل ہوں گے یعنی حق تعالی سے مبالغہ کے ساتھ سفارش کرے گا کہ میرے والدین کو دوزخ سے نکال دو اور حق تعالی اپنی عنایت کی وجہ سے اس کے اس جھگڑنے کو قبول فرمائیں گے اور اس کی ناز برداری کریں گے پس کہا جائے گا اے سقط جھگڑا کرنے والے اپنے رب سے داخل کر دے اپنے والدین کو جنت میں۔ پس کھینچ لے گا بچہ ان دونوں کو اپنے نار سے یہاں تک کہ داخل کرے گا ان دونوں کو جنت میں معلوم ہوا کہ آخرت میں ایسی اولاد بھی کام آئے گی جو نکاح کا نتیجہ ہے

حدیث  میں ہے کہ بے شک جس وقت دیکھتا ہے مرد اپنی عورت کی طرف اور عورت دیکھتی ہے مرد کی طرف تو دیکھتا ہے اللہ تعالی دونوں کی طرف رحمت کی نظر سے۔ رواہ میسرۃ بن علی فے مشیختہ والرافعی فی تاریخہ عن ابن سعید مرفوعہ بلفظ ان الرجل اذا نظرالی امراتہ ونظرت الیہ نظر اللہ تعالی الیہما نظرۃ رحمۃ الخ حدیث  میں ہے کہ حق تعالی پر حق ہے یعنی حق تعالی نے اپنی رحمت سے اپنے ذمہ یہ بات مقرر فرمائی ہے مدد کرنی اس شخص کی جو نکاح کرے پاکدامنی حاصل کرنے کو اس چیز سے جسے اللہ نے حرام کیا ہے۔ یعنی زنا سے محفوظ رہنے کے لیے جو شادی کرے اور نیت اطاعت حق کی ہو تو خرچ وغیرہ میں اللہ تعالی اس کی مدد فرمائیں گے حدیث  میں ہے کہ عیالدار شخص کی دو رکعتیں نماز کی بہتر ہیں مجرد شخص کی بیاسی رکعتوں سے اور دوسری حدیث میں بجائے بیاسی کے ستر کا عدد یا ہے سو مطلب یہ ہو سکتا ہے کہ ستر اس شخص کے حق میں ہے جو ضروری حق اہل و عیال کا ادا کرے اور بیاسی اس کے حق میں ہیں جو ضروری حقوق سے زیادہ ان کی خدمت کرے جان اور مال اور اچھی عادت سے والحدیث رواۃ تمامر فی فوائدہ والضیائ عن انس مرفوعابلفظ رکعتان من المتاہل خیر من اثنین و تمانین رکعۃ من العرب وسندہ صحیح حدیث میں ہے بے شک بہت بڑا گناہ خدا کے نزدیک ضائع کرنا اور ان کی ضروری خدمت میں کمی کرنا ہے مرد کا ان لوگوں کو جن کا خرچ اس کے ذمہ ہے۔ رواہ الطبرانی عن ابن عمرو مرفوعا بلفظ ان اکبر الاثم عنداللہ ان یضیح الرجل من یقوت کذافی کنزالعمال حدیث  میں ہے کہ میں نے نہیں چھوڑا اپنے بعد کوئی فتنہ جو زیادہ ضرر دینے والا ہو مردوں کو عورتوں کے فتنہ سے یعنی مردوں کے حق میں عورت کے فتنہ سے بڑھ کر کوئی فتنہ ضرر دینے والا نہیں کہ ان کی محبت میں بے حس ہو جاتے ہیں اور خدا اور رسول کے حکم کی پرواہ نہیں کرتے۔

لہذا چاہیے کہ ایسی محبت عورتوں سے کرے کہ جس میں شریعت کے خلاف کام کرنے پڑیں مثلاً وہ مرد کی حیثیت سے زیادہ کھانے پہننے کو مانگیں تو ہرگز ان کی خاطر کرنے کو رشوت وغیرہ نہ لے بلکہ مال حلال سے جو اللہ تعالی دے ان کی خدمت کر دے۔ اور عورتوں کو تعلیم و تادیب کرتا رہے اور بیباک و گستاخ نہ کر دے۔ عورتوں کی عقل ناقص ہوتی ہے ان کی اصلاح کا خاص طور پر انتظام لازم ہے۔ حدیث  میں ہے کہ پیغام نکاح کا کوئی تم میں سے نہ دے اپنے بھائی کے پیغام پر یہاں تک کہ وہ بھائی نکاح کر لے یا چھوڑ دے یعنی جب ایک شخص نے کہیں پیغام نکاح کا دیا ہو اور ان لوگوں کی کچھ مرضی بھی پائی جاتی ہو کہ وہ اس شخص سے نکاح کرنے کو کچھ راضی ہیں تو دوسرے شخص کو اس جگہ ہرگز پیغام نہ دینا چاہیے۔ ہاں اگر وہ لوگ خود اس پہلے شخص کو انکار کر دیں یا وہ خود ہی وہاں سے اپنا ارادہ منقطع کر دے یا ان لوگوں کی ابھی بالکل مرضی اس شخص کے ساتھ نکاح کرنے کی نہیں پائی جاتی تو اب دوسرے کو اس لڑکی کا پیغام دینا درست ہے۔ اور یہی حکم خرید و فروخت کے بھاؤ کرنے کا ہے کہ جب ایک شخص کسی سے خریدنے یا فروخت کرنے کا بھاؤ کر را ہے تو دوسرے کو جب تک اس کا معاملہ علیحدہ نہ ہو جائے اس کے بھاؤ پر بھاؤ کرنا نہیں چاہیے جبکہ باہم خریدو فروخت کی کچھ مرضی معلوم ہوتی ہو خوب سمجھ لو اور اس حکم میں کافر بھی داخل ہے۔ یعنی اگر کوئی کافر کسی سے لین دین کا بھاؤ کر را ہے اور دوسرے شخص کے معاملہ کرنے کی اس کے ساتھ کچھ مرضی بھی معلوم ہوتی ہے تو مسلمان کو زیبا نہیں کہ اس کافر کے بھاؤ پر اپنا بھاؤ پیش کرے۔

حدیث میں ہے کہ تحقیق عورت نکاح کی جاتی ہے اپنے دین کی وجہ سے اور اپنے مال کی وجہ سے اور اپنے حسن کی وجہ سے سو تو لازم پکڑ لے صاحب ن کو تیرے ہاتھ خاک میں ملیں یعنی کوئی مرد تو عورت دیندار پسند کرتا ہے اور کوئی مالدار اور کوئی خوبصورت تو جناب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ بد شکل ہے کہ طبیعت کسی طرح اسے قبول نہیں کرتی اور اندیشہ ہے کہ اگر ایسی عورت سے نکاح کیا جائے تو باہم میاں بی بی میں موافقت نہ رہے گی اور عورت کے حق ادا کرنے میں کوتاہی ہو گی تو ایسے وقت ایسی عورت سے نکاح نہ کرے اور تیرے ہاتھ خاک مل جائیں یہ عربی محاورہ ہے اور مختلف موقعوں پر استعمال ہوتا ہے۔ یہاں پر اس سے دیندار عورت کی رغبت دلانا مراد ہے۔ حدیث   میں ہے بیبیوں میں بہتر وہ بی بی ہے جس کا مہر بہت آسان ہو یعنی مرد سہولت سے اس کو ادا کر سکے۔ آجکل زیادتی مہر کا دستور بہت ہو گیا ہے لوگوں کو اس رسم سے بچنا چاہیے۔ حدیث  میں ہے کہ اپنے نطفوں کے لیے عمدہ محل وجہ پسند کرو اس لیے کہ عورتیں بچے جنتی ہیں اپنے بھائیوں اور بہنوں کی مانند یعنی نیک بخت اور شریف خاندان کی عورت سے نکاح کرو اس لیے کہ اولاد میں ننھیال کی مشابہت ہوتی ہے اور گو باپ کا بھی اثر ہوتا ہے مگر اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ ماں کا اثر زیادہ ہوتا ہے تو اگر ماں ایسے لوگوں میں سے ہو گی جو بد اخلاق ہیں اور دیندار اور شریف نہیں ہیں تو اولاد بھی ان ہی لوگوں کی مثل پیدا ہو گی ورنہ اولاد اچھی اور نیک بخت ہو گی۔ رواہ ابن عدی و ابن عساکر عن عائشۃ مرفوعا بلفظ تخیر والنطفکم فان النساء یلدن اشباہ اخوانہن واخواتہن حدیث میں ہے کہ سب سے بڑا حق لوگوں میں خاوند کا ہے عورت پر اور مرد پر سب سے بڑا حق لوگوں میں اس کی ماں کا ہے یعنی بعد اللہ و رسول کے حقوق کے عورت کے ذمہ خاوند کا بہت بڑا حق ہے حتی کہ اس کے ماں باپ سے بھی خاوند کا زیادہ حق ہے اور مرد کے ذمہ سب سے زیادہ حق بعد اللہ و رسول کے حق کے ماں کا حق ہے اس سے معلوم ہوا کہ مرد کے ذمہ ماں کا حق باپ سے بڑھ کر ہے رواہ الحاکم عن عائشۃ مرفوعا بلفظ اعظم الناس حقا علی المراۃ زوجہا واعظم الناس حقا علی الرجل امہ وسندہ صحیح۔ حدیث 16۔ میں ہے اگر کوئی تم میں ارادہ کرے اپنی بیوی سے ہم بستری کا تو کہے بسم اللہ جنبا الشیطان وجنب الشیطان مارزقتنا تو اگر ان کی تقدیر میں کوئی بچہ مقدر ہو گا اس صحبت سے نہ ضرر دے گا اس کو شیطان کبھی۔ حدیث۔ ایک لانبی حدیث  میں ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عبدالرحمن بن عوف سے فرمایا اولم ولوبشاۃ یعنی ولیمہ کرو اگرچہ ایک ہی بکری ہو۔ مطلب یہ ہے گو تھوڑا ہی سامان ہو مگر دینا چاہیے۔ بہتر یہ ہے کہ عورت سے ہمبستری کرنے کے بعد ولیمہ کیا جائے گو بہت علماء نے صرف نکاح کے بعد بھی جائز فرمایا ہے اور ولیمہ مستحب ہے۔

لڑکے کے حلالی ہونے کا بیان

مسئلہ1۔ جب کسی شوہر والی عورت کے اولاد ہو گی تو وہ اسی کے شوہر کی کہلائے گی کسی شبہ پر یہ کہنا کہ یہ لڑکا اس کے میاں کا نہیں ہے بلکہ فلانے کا ہے درست نہیں اور اس لڑکے کو حرامی کہنا بھی درست نہیں۔ اگر اسلام کی حکومت ہو تو ایسا کہنے والے کو کوڑے مارے جائیں۔

مسئلہ2۔ حمل کی مدت کم سے کم چھ مہینے ہیں اور زیادہ سے زیادہ دو برس یعنی کم سے کم چھ مہینے بچہ پیٹ میں رہتا ہے پھر پیدا ہوتا ہے۔ چھ مہینے سے پہلے نہیں پیدا ہوتا۔ اور زیادہ سے زیادہ دو برس پیٹ میں رہ سکتا ہے اس سے زیادہ پیٹ میں نہیں رہ سکتا۔

مسئلہ3۔ شریعت کا قاعدہ ہے کہ جب تک ہو سکے تب تک بچہ کو حرامی نہ کہیں گے جب بالکل مجبوری ہو جائے تب حرامی ہونے کا حکم لگائیں گے اور عورت کو گنہگار ٹھیرائیں گے۔

مسئلہ4۔ کسی نے اپنی بی بی کو طلاق رجعی دے دی۔ پھر دو برس سے کم میں اس کے کوئی بچہ پیدا ہوا تو لڑکا اسی شوہر کا ہے اس کو حرامی کہنا درست نہیں۔ شریعت سے اس کا نسب ٹھیک ہے۔ اگر دو برس سے ایک دن بھی کم ہو تب بھی یہی حکم ہے ایسا سمجھیں گے کہ طلاق سے پہلے کا پیٹ ہے اور دو برس تک بچہ پیٹ میں رہا اور اب بچہ ہونے کے بعد اس کی عدت ختم ہوئی اور نکاح سے الگ ہوئی۔ ہاں اگر وہ عورت اس جننے سے پہلے خود ہی اقرار کر چکی ہو کہ میری عدت ختم ہو گئی تو مجبوری ہے اب یہ بچہ حرامی ہے بلکہ ایسی عورت کے اگر دو برس کے بعد بچہ ہوا اور ابھی تک عورت نے اپنی عدت ختم ہونے کا اقرار نہیں کیا ہے تب بھی وہ بچہ اسی شوہر ہی کا ہے چاہے جس برس میں ہوا ہو۔ اور ایسا سمجھیں گے کہ طلاق دے دینے کے بعد عدت میں صحبت کی تھی اور طلاق سے باز آ گیا تھا اس لیے وہ عورت اب بچہ پیدا ہونے کے بعد اسی کی بی بی ہے اور نکاح دونوں کا نہیں ٹوٹا۔ اگر مرد کا بچہ نہ ہو تو وہ کہہ دے کہ میرا نہیں ہے اور جب انکار کرے گا تو لعان کا حکم ہو گا۔

مسئلہ5۔ اگر طلاق بائن دے دی تو اس کا حکم یہ ہے کہ اگر دو برس کے اندر اندر پیدا ہوا تب تو اسی مرد کا ہو گا اور اگر دو برس کے بعد ہو تو وہ حرامی ہے۔ ہاں اگر دو برس کے بعد پیدا ہونے پر بھی مرد دعوی کرے کہ یہ بچہ میرا ہے تو حرامی نہ ہو گا اور ایسا سمجھیں گے کہ عدت کے اندر دھوکے سے صحبت کر لی ہو گی اس سے پیٹ رہ گیا۔

مسئلہ6۔ اگر نابالغ لڑکی کو طلاق مل گئی جو ابھی جوان تو نہیں ہوئی لیکن جوانی کے قریب قریب ہو گئی ہے پھر طلاق کے بعد پورے نو مہینے میں بچہ پیدا ہوا تو وہ حرامی ہے اور اگر نو مہینے سے کم میں پیدا ہوا تو شوہر کا ہے۔ البتہ وہ لڑکی عدت کے اندر ہی یعنی تین مہینے سے پہلے اقرار کر لے کہ مجھ کو پیٹ ہے تو وہ بچہ حرامی نہ ہو گا۔ دو برس کے اندر اندر پیدا ہونے سے باپ کا کہلائے گا۔

مسئلہ7۔ کسی کا شوہر مر گیا تو مرنے کے وقت اسے اگر دو برس کے اندر بچہ پیدا ہوا تو وہ حرامی نہیں بلکہ شوہر کا بچہ ہے ہاں اگر وہ عورت اپنی عدت ختم ہو جانے کا اقرار کر چکی ہو تو مجبوری ہے۔ اب حرامی کہا جائے گا۔ اور اگر دو برس کے بعد پیدا ہوا تب بھی حرامی ہے۔

تنبیہ ان مسئلوں سے معلوم ہوا کہ جاہل لوگوں کی جو عادت ہے کہ کسی کے مرے پیچھے نو مہینہ سے ایک دو مہینہ بھی زیادہ گزر کر بچہ پیدا ہو تو اس عورت کو بدکار سمجھتے ہیں یہ بڑا گناہ ہے۔

مسئلہ8۔ نکاح کے بعد چھ مہینے سے کم میں بچہ پیدا ہوا تو وہ حرامی ہے اور اگر پورے چھ مہینے یا اس سے زیادہ مدت میں ہوا ہو تو وہ شوہر کا ہے اس پر بھی شبہ کرنا گناہ ہے۔ البتہ اگر شوہر انکار کرے اور کہے کہ میرا نہیں ہے تو لعان کا حکم ہو گا۔

مسئلہ9۔ نکاح تو ہو گیا لیکن ابھی (رواج کے موافق) رخصتی نہیں ہوئی تھی کہ بچہ پیدا ہو گیا (اور شوہر انکار نہیں کرتا کہ میرا بچہ نہیں ہے) تو وہ بچہ شوہر ہی سے (کہا جائے گا) حرامی نہیں ( کہا جائے گا) اور( دوسروں کو) اس کا حرامی کہنا درست نہیں۔ اگر شوہر کا نہ ہو تو وہ انکار کرے اور انکار کرنے پر لعان کاحکم ہو گا۔

مسئلہ10۔ میاں پردیس میں ہے اور مدت ہو گئی برسیں گزر گئیں کہ گھر نہیں آ یا (اور یہاں لڑکا پیدا ہو گیا اور شوہر اس کو اپنا ہی بتاتا ہے) تب بھی وہ (از روئے قانون شرعی) حرامی نہیں اسی شوہر کا ہے۔ البتہ اگر شوہر پا کر انکار کرے گا تو لعان کا حکم ہو گا۔

روٹی کپڑے کا بیان

مسئلہ1۔ بی بی کا روٹی کپڑا مرد کے ذمہ واجب ہے کہ بی بی کے رہنے کے لیے کوئی اییا جگہ دے جس میں شوہر کا کوئی رشتہ دار نہ رہتا ہو بلکہ خالی ہو تاکہ میاں بی بی بالکل بے تکلفی سے رہ سکیں البتہ اگر عورت خود سب کے ساتھ رہنا گوارا کر لے تو ساجھے کے گھر میں بھی رکھنا درست ہے۔

مسئلہ2۔ گھر میں سے ایک جگہ عورت کو الگ کر دے کہ وہ اپنا مال اسباب حفاظت سے رکھے اور خود اس میں رہے سہے اور اس کی قفل کنجی اپنے پاس رکھے کسی اور کو اس میں دخل نہ ہو۔ فقط عورت اسی کے قبضے میں رہے تو بس حق ادا ہو گیا۔ عورت کو اس سے زیادہ کا دعوی نہیں ہو سکتا اور یہ نہیں کہہ سکتی کہ پورا گھر میرے لیے الگ کر دو۔

مسئلہ3۔ جس طرح عورت کو اختیار ہے کہ اپنے لیے کوئی الگ گھر مانگے جس میں مرد کا کوئی رشتہ دار نہ رہنے پائے فقط عورت ہی کے قبضے میں رہے۔ اسی طرح مرد کو اختیار ہے کہ جس گھر میں عورت رہتی ہے وہاں اس کے رشتہ داروں کو نہ آنے دے نہ ماں کو نہ باپ کو نہ بھائی کو نہ کسی اور رشتہ دار کو۔

مسئلہ4۔ عورت اپنے ماں باپ کو دیکھنے کے لیے ہفتہ میں ایک دفعہ جا سکتی ہے۔ اور ماں باپ کے سوا اور رشتہ داروں کے لیے سال بھر میں ایک دفعہ اس سے زیادہ کا اختیار نہیں۔ اسی طرح اس کے ماں باپ بھی ہفتہ میں فقط ایک مرتبہ یہاں آ سکتے ہیں۔ مرد کو اختیار ہے کہ اس سے زیادہ جلدی جلدی نہ آنے دے۔ اور ماں باپ کے سوا اور رشتہ دار سال بھر میں فقط ایک دفعہ آ سکتے ہیں۔ اس سے زیادہ آ نے کا اختیار نہیں۔ لیکن مرد کو اختیار ہے کہ زیادہ دیر نہ ٹھیرنے دے نہ ماں باپ کو نہ کسی اور کو اور جاننا چاہیے کہ رشتہ داروں سے مطلب وہ رشتہ دار ہیں جن سے نکاح ہمیشہ ہمیشہ کے لیے حرام ہے۔ اور جو ایسے نہ ہوں وہ شرع میں غیر کے برابر ہیں۔

مسئلہ5۔ اگر باپ بہت بیمار ہے اور اس کا کوئی خبر لینے والا نہیں تو ضرورت کے موافق وہاں روز جایا کرے اگر باپ بے دین کافر ہو تب بھی یہی حکم ہے بلکہ اگر شوہر منع بھی کرے تب بھی جانا چاہیے۔ لیکن شوہر کے منع کرنے پر جانے سے روٹی کپڑے کا حق نہ رہے گا۔

مسئلہ6۔ غیر لوگوں کے گھر نہ جانا چاہیے۔ اگر بیاہ شادی وغیرہ کی کوئی محفل ہو اور شوہر اجازت بھی دے تو بھی جانا درست نہیں۔ شوہر اجازت دے گا تو وہ بھی گنہگار ہو گا۔ بلکہ محفل کے زمانہ میں اپنے محرم رشتہ دار کے یہاں جانا بھی درست نہیں۔

مسئلہ7۔ جس عورت کو طلاق مل گئی وہ بھی عدت تک روٹی کپڑا اور رہنے کا گھر پانے کی مستحق ہے البتہ جس کا خاوند مر گیا اس کو روٹی کپڑا اور گھر ملنے کا حق نہیں۔ ہاں اس کو میراث سب چیزوں میں ملے گی۔

سوگ کرنے کا بیان

مسئلہ1۔ جس عورت کو طلاق رجعی ملی ہے اس کے عدت تو فقط یہی ہے کہ اتنی مدت تک گھر سے باہر نہ نکلے نہ کسی اور مرد سے نکاح کرے۔ اس کو بناؤ سنگار وغیرہ درست ہے اور جس کو تین طلاقیں مل گئیں یا ایک طلاق بائن ملی یا اور کسی طرح سے نکاح ٹوٹ گیا یا مرد مر گیا۔ ان سب صورتوں کا حکم یہ ہے کہ جب تک عدت میں رہے تب تک نہ تو گھر سے باہر نکلے نہ اپنا دوسرا نکاح کرے نہ کچھ بناؤ سنگار کرے یہ سب باتیں اس پر حرام ہیں۔ اس سنگار نہ کرنے اور میلے کچیلے رہنے کو سوگ کہتے ہیں۔

مسئلہ2۔ جب تک عدت ختم نہ ہو تب تک خوشبو لگانا کپڑے بسانا زیور گہنا پہننا پھول پہننا سرمہ لگانا پان کھا کر منہ لال کرنا مسی ملنا سر میں تیل ڈالنا کنگھی کرنا مہندی لگانا اچھے کپڑے پہننا ریشمی اور رنگے ہوئے بہار دار کپڑے پہننا یہ سب باتیں حرام ہیں۔ البتہ اگر بہار دار نہ ہوں تو درست ہے چاہے جیسا رنگ ہو مطلب یہ ہے کہ زینت کا کپڑا نہ ہو۔

مسئلہ3۔ سر میں درد ہونے کی وجہ سے تیل ڈالنے کی ضرورت پڑے تو جس میں خوشبو نہ ہو وہ تیل ڈالنا درست ہے۔ اسی طرح دوا کے لیے سرمہ لگانا بھی ضرورت کے وقت درست ہے لیکن رات کو لگائے اور دن کو پونچھ ڈالے۔ اور سر ملنا اور نہانا بھی درست ہے۔ ضرورت کے وقت کنگھی کرنا بھی درست ہے جیسے کسی نے سر ملایا جوں پڑ گئی۔ لیکن پٹی نہ جھکائے نہ باریک کنگھی سے کنگھی کرے جس میں بال چکنے ہو جاتے ہیں بلکہ موٹے دندانے والی کنگھی کرے کہ خوبصورتی نہ آنے پائے۔

مسئلہ4۔ سوگ کرنا اسی عورت پر واجب ہے جو بالغ ہو۔ نابالغ لڑکی پر واجب نہیں۔ اس کو یہ سب باتیں درست ہیں۔ البتہ گھر سے نکلنا اور دوسرا نکاح کرنا اس کو بھی درست نہیں۔

مسئلہ5۔ جس کا نکاح صحیح نہیں ہوا تھا بے قاعدہ ہو گیا تھا وہ توڑ دیا گیا یا مرد مر گیا تو ایسی عورت پر بھی سوگ کرنا واجب نہیں

مسئلہ6۔ شوہر کے علاوہ کسی اور کے مرنے پر سوگ کرنا درست نہیں۔ البتہ اگر شوہر منع نہ کرے تو اپنے عزیز اور رشتہ دار کے مرنے پر بھ تین دن تک بناؤ سنگار چھوڑ دینا درست ہے۔ اس سے زیادہ بالکل حرام ہے اور اگر منع کرے تو تین دن بھی نہ چھوڑے۔

میاں کے لاپتہ ہو جانے کا بیان

جس کا شوہر بالکل لاپتہ ہو گیا معلوم نہیں مر گیا یا زندہ ہے تو وہ عورت اپنا دوسرا نکاح نہیں کر سکتی بلکہ انتظار کرتی ہے کہ شاید آ جائے۔ جب انتظار کرتے کرتے اتنی مدت گزر جائے کہ شوہر کی عمر نوے برس کی ہو جائے تو اب حکم لگا دیں گے کہ وہ مر گیا ہو گا۔ سو اگر وہ عورت ابھی جوان ہو اور نکاح کرنا چاہے تو شوہر کی عمر نوے برس کی ہونے کے بعد عدت پوری کر کے نکاح کر سکتی ہے مگر شرط یہ ہے کہ اس لاپتہ مرد کے مرنے کا حکم کسی شرعی حاکم نے لگایا ہو۔

مزید احکام ان صفحات پر دیکھیں

مفقود الخبر شوہر کا حکم

لاپتہ شوہر کا حکم

خلع کا بیان

مسئلہ1۔ اگر میاں بی بی میں کسی طرح نباہ نہ ہو سکے اور مرد طلاق بھی نہ دیتا ہو تو عورت کو جائز ہے کہ کچھ مال دے کر یا اپنا مہر دے کر اپنے مرد سے کہے کہ اتنا روپیہ لے کر میری جان چھوڑ دے۔ یا یوں کہے جو میرا مہر تیرے ذمہ ہے اس کے عوض میں میری جان چھوڑ دے۔ اس کے جواب میں مرد کہے میں نے چھوڑ دی تو اس سے عورت پر ایک طلاق بائن پڑ گئی۔ روک رکھنے کا اختیار مرد کو نہیں ہے البتہ اگر مرد نے اسی جگہ بیٹھے بیٹھے جواب نہیں دیا بلکہ اٹھ کھڑا ہوا یا مرد تو نہیں اٹھا عورت اٹھ کھڑی ہوئی تب مرد نے کہا اچھا میں نے چھوڑ دی تو اس سے کچھ نہیں ہوا۔ جواب سوال دونوں ایک ہی جگہ ہونے چاہیں۔ اس طرح جان چھڑانے کو شرع میں خلع کہتے ہیں۔

مسئلہ2۔ مرد نے کہا میں نے تجھ سے خلع کیا۔ عورت نے کہا میں نے قبول کیا تو خلع ہو گیا۔ البتہ اگر عورت نے اسی جگہ جواب نہ دیا ہو وہاں سے کھڑی ہو گئی ہو یا عورت نے قبول ہی نہیں کیا تو کچھ نہیں ہوا۔ لیکن عورت اگر اپنی جگہ بیٹھی رہی اور مرد یہ کہہ کر کھڑا ہوا اور عورت نے اس کے اٹھنے کے بعد قبول کیا تب بھی خلع ہو گیا۔

مسئلہ3۔ مرد نے فقط اتنا کہا میں نے تجھ سے خلع کیا اور عورت نے قبول کر لیا روپے پیسے کا ذکر نہ مرد نے کیا نہ عورت نے تب بھی جو حق مرد کا عورت پر ہے اور جو حق عورت کا مرد پر ہے سب معاف ہوا۔ اگر مرد کے ذمے مہرباقی ہو تو وہ بھی معاف ہو گیا۔ اور اگر عورت پا چکی ہے تو خیر اب اس کا پھیرنا واجب نہیں البتہ عدت کے ختم ہونے تک روٹی کپڑا اور رہنے کا گھر دینا پڑے گا۔ ہاں اگر عورت نے کہہ دیا ہو کہ عدت کا روٹی کپڑا اور رہنے کا گھر بھی تجھ سے نہ لوں گی تو وہ بھی معاف ہو گا۔

مسئلہ4۔ اور اگر اس کے ساتھ مال کا بھی ذکر کر دیا جیسے یوں کہا سو روپے کے عوض میں نے تجھ سے خلع کیا پھر عورت نے قبول کر لیا تو خلع ہو گیا اب عورت کے ذمے سو روپے دینے واجب ہو گئے۔ اپنا مہر پا چکی ہو تب بھی سو روپے دینے پڑیں گے اور اگر مہر ابھی نہ پایا ہو تب بھی دینے پڑیں گے اور مہر بھی نہ ملے گا کیونکہ وہ بوجہ خلع معاف ہو گیا۔

مسئلہ5۔ خلع میں اگر مرد کے ذمے مہر باقی ہو تو وہ بھی معاف نہیں ہوا۔

مسئلہ7۔ یہ سب باتیں اس وقت ہیں جب خلع کا لفظ کہا ہو یا یوں کہا ہو سو روپے پر یا ہزار روپے کے عوض میں میری جان چھوڑ دے یا یوں کہا میرے مہر کے عوض میں مجھ کو چھوڑ دے اور اگر اس طرح نہیں کہا بلکہ طلاق کا لفظ کہا جیسے یوں کہے سو روپے کے عوض میں مجھے طلاق دے دے تو اس کو خلع نہ کہیں گے اگر مرد نے اس مال کے عوض طلاق دے دی تو ایک طلاق بائن پڑ گئی اور اس میں کوئی حق معاف نہیں ہوا نہ وہ حق معاف ہوئے جو مرد کے اوپر ہیں نہ وہ جو عورت پر ہی مرد نے اگر مہر نہ دیا ہو تو وہ بھی معاف نہیں ہوا۔ عورت اس کی دعویدار ہو سکتی ہے اور مرد یہ سو روپے عورت سے لے لے گا۔

مسئلہ8۔ مرد نے کہا میں نے سو روپے کے عوض میں طلاق دی تو عورت کے قبول کرنے پر موقوف ہے۔ اگر نہ قبول کرے تو نہ پڑے گی اور اگر قبول کر لے تو ایک طلاق بائن پڑ گئی۔ لیکن اگر جگہ بدل جانے کے بعد قبول کیا تو طلاق نہیں پڑی۔

مسئلہ9۔ عورت نے کہا مجھے طلاق دے دے مرد نے کہا تو اپنا مہر وغیرہ اپنے سب حق معاف کر دے تو طلاق دے دوں۔ اس پر عورت نے کہا اچھا میں نے معاف کیا اس کے بعد مرد نے طلاق نہیں دی تو کچھ معاف نہیں ہوا۔ اور اگر اسی مجلس میں طلاق دے دی تو معاف ہو گیا۔

مسئلہ10۔ عورت نے کہا تین سو روپے کے عوض میں مجھ کو تین طلاقیں دے دے۔ اس پر مرد نے ایک ہی طلاق دی تو فقط ایک سو روپے مرد کو ملے گا۔ اور اگر دو طلاقیں دی ہوں تو دو سو روپے اور اگر تینوں دے دیں تو پورے تین سو روپے عورت سے دلائے جائیں گے اور سب صورتوں میں طلاق بائن پڑ گئی۔ کیونکہ مال کا بدلہ ہے۔

مسئلہ11۔ نابالغ لڑکا اور دیوانہ پاگل آدمی اپنی بی بی سے خلع نہیں کرسکتا۔

طلاق رجعی میں رجعت کر لینے یعنی روک رکھنے کا بیان

مسئلہ1۔ جب کسی نے رجعی ایک طلاق یا دو طلاقیں دیں تو عدت ختم ہونے سے پہلے پہلے مرد کو اختیار ہے کہ اس کو روک رکھے پھر سے نکاح کرنے کی ضرورت نہیں۔ اور عورت چاہے راضی ہو یا راضی نہ ہو اس کو کچھ اختیار نہیں ہے اور اگر تین طلاقیں دیں دے تو اس کا حکم اوپر بیان ہو چکا اس میں یہ اختیار نہیں ہے۔

مسئلہ2۔ رجعت کرنے یعنی روک رکھنے کا طریقہ یہ ہے کہ یا یہ صاف صاف زبان سے کہہ دے کہ میں تجھ کو پھر رکھے لیتا ہوں تجھ کو نہ چھوڑوں گا۔ یا یوں کہہ دے کہ میں اپنے نکاح میں تجھ کو رجوع کرتا ہوں یا عورت سے نہیں کہا کسی اور سے کہا کہ میں نے اپنی بی بی کو پھر رکھ لیا اور طلاق سے باز آیا۔بس اتنا کہہ دینے سے وہ پھر اس کی بی بی ہو گئی۔

مسئلہ3۔ جب عورت کا روک رکھنا منظور ہو تو بہتر ہے کہ دو چار لوگوں کو گواہ بنا لے کہ شاید کبھی کچھ جھگڑا پڑے تو کوئی مکر نہ سکے۔ اگر کسی کو گواہ نہ بنایا تنہائی میں ایسا کر لیا تب بھی صحیح ہے۔ مطلب تو حاصل ہی ہو گیا۔

مسئلہ4۔ اگر عورت کی عدت گزر چکی تب ایسا کرنا چاہا تو کچھ نہیں ہو سکتا۔ اب اگر عورت منظور کرے اور راضی ہو تو پھر سے نکاح کرنا پڑے گا بے نکاح کیے نہیں رکھ سکتا۔ اگر وہ رکھے بھی تو عورت کو اس کے پاس رہنا درست نہیں۔

مسئلہ8۔ جس عورت کو ایک یا دو طلاق رجعی ملی ہوں جس میں مرد کو طلاق سے باز آنے کا اختیار ہوتا ہے ایسی عورت کو مناسب ہے کہ خوب بناؤ سنگار کر کے رہا کرے کہ شاید مرد کا جی اس کی طرف جھک پڑے اور رجعت کرلے۔ اور مرد کا قصد اگر باز آنے کا نہ ہو تو اس کو مناسب ہے کہ جب گھر میں آئے تو کھانس کھنگار کے آئے کہ وہ اپنا بدن اگر کچھ کھلا ہو تو ڈھک لے اور کسی بے موقع جگہ نگاہ نہ پڑے۔ اور جب عدت پوری ہو چکے تو عورت کہیں اور جا کے رہے۔

مسئلہ9۔ اگر ابھی رجعت نہ کی ہو تو اس عورت کو اپنے ساتھ سفر میں لے جانا جائز نہیں اور عورت کو اس کے ساتھ جانا بھی درست نہیں۔

مسئلہ10۔ جس عورت کو ایک یا دو طلاق بائن دے دیں جس میں روک رکھنے کا اختیار نہیں ہوتا اس کا حکم یہ ہے کہ اگر کسی اور مرد سے نکاح کرنا چاہیے تو عدت کے بعد نکاح کرے۔ عدت کے اندر نکاح درست نہیں۔ اور خود اسی سے نکاح کرنا منظور ہو تو عدت کے اندر بھی ہو سکتا ہے۔

بیمار کے طلاق دینے کا بیان

مسئلہ1۔ بیماری کی حالت میں کسی نے اپنی عورت کو طلاق دے دی پھر عورت کی عدت ابھی ختم نہ ہونے پائی تھی کہ اس بیماری میں مر گا۔ تو شوہر کے مال میں سے بی بی کا جتنا حصہ ہوتا ہے اتنا اس عورت کو بھی ملے گا چاہے ایک طلاق دی ہو یا دو تین۔ اور چاہے طلاق رجعی دی ہو یا بائن سب کا ایک حکم ہے۔ اگر عدت ختم ہو چکی تھی تب وہ مرا تو حصہ نہ پائے گی۔ اسی طرح اگر مرد اسی بیماری میں نہیں مرا بلکہ اس سے اچھا ہو گیا پھر بیمار ہو گیا تب بھی حصہ نہ پائے گی۔ چاہے عدت ختم ہو چکی ہو یا نہ ختم ہوئی ہو۔

مسئلہ2۔ عورت نے طلاق مانگی تھی اس لیے مرد نے طلاق دے دی۔ تب بھی عورت حصہ پانے کی مستحق نہیں چاہے عدت کے اندر مرے یا عدت کے بعد۔ دونوں کا ایک حکم ہے۔ البتہ اگر طلاق رجعی دی ہو اور عدت کے اندر مرے تو حصہ پائے گی۔

مسئلہ3۔ بیماری کی حالت میں عورت سے کہا اگر تو گھر سے باہر جائے تو تجھ کو بائن طلاق ہے۔ پھر عورت باہر گئی اور طلاق بائن پڑ گئی تو اس صورت میں حصہ نہ پائے گی کہ اس نے خود ایسا کام کیوں کیا جس سے طلاق پڑی۔ اور اگر یوں کہا اگر تو کھانا کھائے تو تجھ کو طلاق بائن ہے یا یوں کہا اگر تو نماز پڑھے تو تجھ کو طلاق بائن ہے ایسی صورت میں اگر وہ عدت کے اندر مر جائے گا تو عورت کو حصہ ملے گا کیونکہ عورت کے اختیار سے طلاق نہیں پڑی۔ کھانا کھانا اور نماز پڑھنا تو ضروری ہے اس کو کیسے چھوڑتی۔ اور اگر طلاق رجعی دی ہو تو پہلی صورت میں عدت کے اندر اندر مرنے سے حصہ پائے گی۔ غرضیکہ طلاق رجعی میں بہرحال حصہ ملتا ہے۔ بشرطیکہ عدت کے اندر مرا ہو۔

مسئلہ4۔ کسی بھلے چنگے آدمی نے کہا جب تو گھر سے باہر نکلے تو تجھ کو طلاق بائن ہے۔ پھر جس وقت وہ گھر سے باہر نکلی اس وقت وہ بیمار تھا اور اسی بیماری میں عدت کے اندر مر گیا تب بھی حصہ نہ پائے گی۔

مسئلہ5۔ تندرستی کے زمانہ میں کہا جب تیرا باپ پردیس سے آئے تو تجھ کو بائن طلاق۔ جب وہ پردیس سے آیا اس وقت مرد بیمار تھا اور اسی بیماری میں مر گیا تو حصہ نہ پائے گی۔ اور اگر بیماری کی حالت میں یہ کہا ہو اور اسی میں عدت کے اندر مر گیا ہو تو حصہ پائے گی۔