کسی شرط پر طلاق دینے کا بیان

مسئلہ1۔ نکاح کرنے سے پہلے کسی عورت کو کہا اگر میں تجھ سے نکاح کروں تو تجھ کو طلاق ہے تو جب اس عورت سے نکاح کرے گا تو نکاح کرتے ہی طلاق بائن پڑ جائے گی۔ اب بے نکاح کیے اس کو نہیں رکھ سکتا۔ اور اگر یوں کہا ہو اگر تجھ سے نکاح کروں تو تجھ پر دو طلاق۔ تو دو طلاق بائن پڑ گئیں اور اگر تین طلاق کو کہا تھا تو تینوں پڑ گئیں اور اب طلاق مغلظہ ہو گئی۔

مسئلہ2۔ نکاح ہوتے ہی جب اس پر طلاق پڑ گئی تو اس نے اسی عورت سے پھر نکاح کر لیا تو اب اس دوسرے نکاح کرنے سے طلاق نہ پڑے گی۔ ہاں اگر یوں کہا ہو جس دفعہ تجھ سے نکاح کروں ہر مرتبہ تجھ کو طلاق ہے تو جب نکاح کرے گا ہر دفعہ طلاق پڑ جایا کرے گی۔ اب اس عورت کو رکھنے کی کوئی صورت نہیں۔ دوسرا خاوند کر کے اگر اس مرد سے نکاح کرے گی تب بھی طلاق پڑ جائے گی۔

مسئلہ3۔ کسی نے کہا جس عورت سے نکاح کروں اس کو طلاق تو جس سے نکاح کرے گا اس پر طلاق پڑ جائے گی۔ البتہ طلاق پڑنے کے بعد اگر پھر اسی عورت سے نکاح کر لیا تو طلاق نہیں پڑی۔

مسئلہ4۔ کسی غیر عورت سے جس سے ابھی نکاح نہیں کیا ہے اس طرح کہا اگر تو فلانا کام کرے تو تجھ کو طلاق۔ اس کا کچھ اعتبار نہیں اگر اس سے نکاح کر لیا اور نکاح کے بعد اس نے وہی کام کیا تب بھی طلاق نہیں پڑی۔ کیونکہ غیر عورت کو طلاق دینے کی یہی صورت ہے کہ یوں کہے اگر تجھ سے نکاح کروں تو طلاق۔ کسی اور طرح طلاق نہیں پڑ سکتی۔

مسئلہ5۔ اور اگر اپنی بی بی سے کہا اگر تو فلانا کام کرے تو تجھ کو طلاق اگر تو میرے پاس سے جائے تو تجھ کو طلاق۔ اگر تو اس گھر میں جائے تو تجھ کو طلاق یا اور کسی بات کے ہونے پر طلاق دی تو جب وہ کام کرے گی تب طلاق پڑ جائے گی اگر نہ کرے گی تو نہ پڑے گی اور طلاق رجعی پڑے گی جس میں بے نکاح بھی روک رکھنے کا اختیار ہوتا ہے۔ البتہ اگر کوئی گول لفظ کہتا ہے جیسے یوں کہے اگر تو فلانا کام کرے تو مجھ تجھ سے کچھ واسطہ نہیں تو جب وہ کام کرے گی تب طلاق بائن پڑے گی بشرطیکہ مرد نے اس لفظ کے کہتے وقت طلاق کی نیت کی ہو۔

مسئلہ6۔ اگر یوں کہا اگر فلانا کام کرے تو تجھ کو دو طلاق یا تین طلاق تو جو طلاق کہی اتنی پڑیں گی۔

مسئلہ7۔ اپنی بی بی سے کہا تھا گر اس گھر میں جائے تو تجھ کو طلاق اور وہ چلی گئی اور طلاق پڑ گئی۔ پھر عدت کے اندر اندر اس نے روک رکھا یا پھر سے نکاح کر لیا تو اب پھر گھر میں جانے سے طلاق نہ پڑے گی۔ البتہ اگر یوں کہا ہو جتنی مرتبہ اس گھر میں جائے ہر مرتبہ تجھ کو طلاق۔ یا یوں کہا ہو جب کبھی تو گھر میں جائے ہر مرتبہ تجھ کو طلاق۔ تو اس صورت میں عدت کے اندر یا پھر نکاح کر لینے کے بعد دوسری مرتبہ گھر میں جانے سے دوسری طلاق ہو گئی پھر عدت کے اندر یا تیسرے نکاح کے بعد اگر تیسری دفعہ گھر میں جائے گی تو تیسری طلاق پڑ جائے گی۔ اب تین طلاق کے بعد اس سے نکاح درست نہیں۔ البتہ اگر دوسرا خاوند کر کے پھر اسی مرد سے نکاح کرے تو اب اس گھر میں جانے سے طلاق نہ پڑے گی۔

مسئلہ8۔ کسی نے اپنی عورت سے کہا اگر تو فلانا کام کرے تو تجھ کو طلاق۔ ابھی اس نے وہ کام نہیں کیا تھا کہ اس نے اپنی طرف سے ایک اور طلاق دے دی اور چھوڑ دیا اور کچھ مدت بعد پھر اسی عورت سے نکاح کیا اور اس نکاح کے بعد اب اس نے وہی کام کیا تو پھر طلاق پڑ گئی۔ البتہ اگر طلاق پانے اور عدت گزر جانے کے بعد اس نکاح سے پہلے اس نے وہی کام کر لیا ہو تو اب اس نکاح کے بعد اس کام کے کرنے سے طلاق نہ پڑے گی۔ اور اگر طلاق پانے کے بعد عدت کے اندر اس نے وہی کام کیا ہو تب بھی دوسری طلاق پڑ گئی۔

مسئلہ10۔ اگر کسی نے بی بی سے کہا اگر تو روزہ رکھے تو تجھ کو طلاق تو روزہ رکھتے ہی فورا طلاق پڑی گئی البتہ اگر یوں کہا اگر تو ایک روزہ رکھے یا دن بھر کا روزہ رکھے تو تجھ کو طلاق۔ تو روزہ کے ختم پر طلاق پڑے گی۔ اگر روزہ توڑ ڈالے تو طلاق نہ پڑے گی۔

مسئلہ11۔ عورت نے گھر سے باہر جانے کا ارادہ کیا مرد نے کہا ابھی مت جاؤ۔ عورت نہ مانی۔ اس پر مرد نے کہا اگر تو باہر جائے تو تجھ کو طلاق۔ تو اس کا حکم یہ ہے کہ اگر ابھی باہر جائے گی تو طلاق پڑے گی اور اگر ابھی نہ گئی کچھ دیر میں گئی تو طلاق نہ پڑے گی۔ کیونکہ اس کا مطلب یہی تھا کہ ابھی نہ جاؤ پھر جانا۔ یہ مطلب نہیں کہ عمر بھر کبھی نہ جانا۔

مسئلہ12۔ کسی نے یوں کہا جس دن تجھ سے نکاح کروں تجھ کو طلاق۔ پھررات کے وقت نکاح کیا تب بھی طلاق پڑ گئی۔ کیونکہ بول چال میں اس کا مطلب یہ ہے کہ جس وقت تجھ سے نکاح کروں تجھ کو طلاق۔

تین طلاق دینے کا بیان

مسئلہ1۔ اگر کسی نے اپنی عورت کو تین طلاقیں دے دیں تو اب وہ عورت بالکل اس مرد کے لیے حرام ہو گئی اب اگر پھر سے نکاح کرے تب بھی عورت کو اس مرد کے پاس رہنا حرام ہے اور یہ نکاح نہیں ہوا چاہے صاف لفظوں میں تین طلاقیں دی ہوں یا گول لفظوں میں سب کا ایک حکم ہے۔

مسئلہ2۔ تین طلاقیں ایک دم سے دے دیں۔ جیسے یوں کہہ دیا تجھ کو تین طلاق یا یوں کہا تجھ کو طلاق ہے طلاق ہے طلاق ہے یا الگ کر کے تین طلاقیں دیں جیسے ایک آج دی ایک کل ایک پرسوں۔ یا ایک اس مہینہ میں ایک دوسرے مہینہ میں ایک تیسرے میں یعنی عدت کے اندر اندر تینوں طلاقیں دے دیں سب کا ایک حکم ہے اور صاف لفظوں میں طلاق دے کر پھر روک رکھنے کا اختیار اس وقت ہوتا ہے جب تین طلاقیں نہ دے فقط ایک یا دو دے۔ جب تین طلاقیں دے دیں تو اب کچھ نہیں ہو سکتا۔

مسئلہ3۔ کسی نے اپنی عورت کو ایک طلاق رجعی دی۔ پھر میاں راضی ہو گیا اور روک رکھا۔ پھر دو چار برس میں کسی بات پر غصہ آیا تو ایک طلاق رجعی اور دے دی جس میں روک رکھنے کا اختیار ہوتا ہے۔ پھر جب غصہ اترا تو روک رکھا اور نہیں چھوڑا۔ یہ دو طلاقیں ہو چکیں اب اس کے بعد اگر کبھی ایک طلاق اور دے دے گا تو تین پوری ہو جائیں گی اور اس کا وہی حکم ہو گا کہ بے دوسرا خاوند کیے اس مرد سے نکاح نہیں ہو سکتا۔ اسی طرح اگر کسی نے طلاق بائن دی جس میں روک رکھنے کا اختیار نہیں ہوتا نکاح ٹوٹ جاتا ہے۔ پھر پشیمان ہوا اور میاں بی بی نے راضی ہو کر پھر سے نکاح پڑھوا لیا۔ کچھ زمانہ کے بعد پھر غصہ آیا اور ایک طلاق بائن دے دی اور غصہ اترنے کے بعد پھر نکاح پڑھوا لیا یہ دو طلاقیں ہوئیں۔ اب تیسری دفعہ اگر طلاق دے گا تو پھر وہی حکم ہے کہ بے دوسرا خاوند کیے اس سے نکاح نہیں کر سکتی۔

رخصتی سے پہلے طلاق ہو جانے کا بیان

مسئلہ1۔ ابھی میاں کے پاس نہ جانے پائی تھی کہ اس نے طلاق دے دی۔ یا رخصتی تو ہو گئی لیکن ابھی میاں بی بی میں ویسی تنہائی نہیں ہونے پائی جو شرع میں معتبر ہے جس کا بیان مہر کے باب میں ہو چکا ہے۔ تنہائی و یکجائی رہنے سے پہلے ہی طلاق دے دی تو طلاق بائن پڑی۔ چاہے صاف لفظوں سے دی ہو یا گول لفظوں میں۔ ایسی عورت کو جب طلاق دی جائے تو پہلی ہی قسم کی یعنی بائن طلاق پڑتی ہے اور ایسی عورت کے لیے طلاق کی عدت بھی کچھ نہیں ہے۔ طلاق ملنے کے بعد فورا دوسرے مرد سے نکاح کر سکتی ہے اور ایسی عورت کو ایک طلاق دینے کے بعد اب دوسری تیسری طلاق بھی دینے کا اختیار نہیں اگر دیوے گا تو نہ پڑے گی۔ البتہ اگر پہلی ہی دفعہ یوں کہہ دے کہ تجھ کو دو طلاق یا تین طلاق تو جتنی دی ہیں سب پڑ گئیں اور اگر یوں کہا تجھ کو طلاق ہے طلاق ہے تب بھی ایسی عورت کو ایک ہی طلاق پڑے گی۔

طلاق دینے کا بیان

مسئلہ1۔ طلاق دینے کا اختیار فقط مرد کو ہے۔ جب مرد نے طلاق دے دی تو پڑ گئی۔ عورت کا اس میں کچھ بس نہیں چاہے منظور کرے چاہے نہ کرے ہر طرح طلاق ہو گئی۔ اور عورت اپنے مرد کو طلاق نہیں دے سکتی۔

مسئلہ2۔ مرد کو فقط تین طلاق دینے کا اختیار ہے اس سے زیادہ کا اختیار نہیں۔ تو اگر چار پانچ طلاق دے دیں تب بھی تین ہی طلاقیں ہوئیں۔

مسئلہ3۔ جب مرد نے زبان سے کہہ دیا کہ میں نے اپنی بی بی کو طلاق دے دی اور اتنے زور سے کہا کہ خود ان الفاظ کو سن لیا۔ بس اتنا کہتے ہی طلاق پڑ گئی چاہے کسی کے سامنے کہے چاہے تنہائی میں اور چاہے بی بی سنے یا نہ سنے ۔ ہر حال میں طلاق ہو گئی۔

مسئلہ4۔ طلاق تین قسم کی ہے۔ ایک تو ایسی طلاق جس میں نکاح بالکل ٹوٹ جاتا ہے اور بے نکاح کیے اس مرد کے پاس رہنا جائز نہیں۔ اگر پھر اسی کے پاس رہنا چاہے اور مرد بھی اس کو رکھنے پر راضی ہو تو پھر سے نکاح کرنا پڑے گا ایسی طلاق کو بائن طلاق کہتے ہیں۔ دوسری وہ جس میں نکاح ایسا ٹوٹا کہ دوبارہ نکاح بھی کرنا چاہیں تو بعد عدت کسی دوسرے سے اول نکاح کرنا پڑے گا اور جب وہاں طلاق ہو جائے تب بعد عدت اس سے نکاح ہو سکے گا۔ ایسی طلاق کو مغلظہ کہتے ہیں۔ تیسری وہ جس میں نکاح ابھی نہیں ٹوٹا صاف لفظوں میں ایک یا دو طلاق دینے کے بعد اگر مرد پشیمان ہوا تو پھر سے نکاح کرنا ضروری نہیں۔ بے نکاح کیے بھی اس کو رکھ سکتا ہے۔ پھر میاں بی بی کی طرح رہنے لگیں تو درست ہے البتہ اگر مرد طلاق دے کر اسی پر قائم رہا اور اس سے نہیں پھرا تو جب طلاق کی مدت گزر جائے گی تب نکاح ٹوٹ جائے گا اور عورت جدا ہو جائے گی۔ اور جب تک عدت نہ گزرے تب تک رکھنے نہ رکھنے دونوں باتوں کا اختیار ہے۔ ایسی طلاق کو رجعی طلاق کہتے ہیں۔ البتہ اگر تین طلاقیں دے دیں تو اب اختیار نہیں۔

مسئلہ5۔ طلاق دینے کی دو قسمیں ہیں۔ ایک تو یہ کہ صاف صاف لفظوں میں کہہ دیا کہ میں نے تجھ کو طلاق دے دی یا یوں کہا کہ میں نے اپنی بی بی کو طلاق دے دی۔ غرضیکہ ایسی صاف بات کہہ دی جس میں طلاق دینے کے سوا کوئی اور معنی نہیں نکل سکتے ایسی طلاق کو صریح کہتے ہیں۔ دوسری قسم یہ کہ صاف صاف لفظ نہیں کہے بلکہ ایسے گول گول لفظ کہے جس میں طلاق کا مطلب بھی بن سکتا ہے اور طلاق کے سوا اور دوسرے معنے بھی نکل سکتے ہیں۔ جیسے کوئی کہے میں نے تجھ کو دور کر دیا۔ تو اس کا ایک مطلب تو یہ ہے کہ میں نے تجھ کو طلاق دے دی۔ دوسرا مطلب یہ ہو سکتا ہے کہ طلاق تو نہیں دی لیکن اب تجھ کو اپنے پاس نہ رکھوں گا۔ ہمیشہ اپنے میکے میں پڑی رہ۔ تیری خبر نہ لوں گا۔ یا یوں کہے مجھ سے تجھ سے کچھ واسطہ نہیں۔ مجھ سے تجھ سے کچھ مطلب نہیں تو مجھ سے جدا ہو گئی۔ میں نے تجھ کو الگ کر دیا۔ جدا کر دیا میرے گھر سے چلی جا۔ نکل جا۔ ہٹ دور ہو۔ اپنے ماں باپ کے سرجا کے بیٹھ۔ اپنے گھر جا۔ میرا تیرا نباہ نہ ہو گا۔ اسی طرح کے اور الفاظ جن میں دونوں مطلب نکل سکتے ہیں ایسی طلاق کو کنایہ کہتے ہیں۔

مسئلہ6۔ اگر صاف صاف لفظوں میں طلاق دی تو زبان سے نکلتے ہی طلاق پڑ گئی۔ چاہے طلاق دینے کی نیت ہو چاہے نہ ہو۔ بلکہ ہنسی دل لگی میں کہا ہو ہر طرح طلاق ہو گئی اور صاف لفظوں میں طلاق دینے سے تیسری قسم کی طلاق پڑتی ہے یعنی عدت کے ختم ہونے تک اس کے رکھنے نہ رکھنے کا اختیار ہے اور ایک مرتبہ کہنے سے ایک ہی طلاق پڑے گی نہ دو پڑیں گی نہ تین۔ البتہ اگر تین دفعہ کہے یا یوں کہے تجھ کو تین طلاق دیں تو تین طلاقیں پڑیں۔

مسئلہ7۔ کسی نے ایک طلاق دی تو جب تک عورت عدت میں رہے تب تک دوسری طلاق اور تیسری طلاق اور دینے کا اختیار رہتا ہے اگر دے گا تو پڑ جائے گی۔

مسئلہ8۔ کسی نے یوں کہا تجھ کو طلاق دے دوں گا تو اس سے طلاق نہیں ہوئی۔ اسی طرح اگر کسی بات پر یوں کہا کہ اگر فلانا کام کرے گی تو طلاق دے دوں گا تب بھی طلاق نہیں ہوئی چاہے وہ کام کرے چاہے نہ کرے۔ ہاں اگر یوں کہہ دے اگر فلانا کام کرے تو طلاق ہے تو اس کے کرنے سے طلاق پڑ جائے گی۔

مسئلہ9۔ کسی نے طلاق دے کر اس کے ساتھ ہی انشاء اللہ بھی کہہ دیا تو طلاق نہیں پڑی۔ اسی طرح اگر یوں کہا اگر خدا چاہے تو تجھ کو طلاق۔ اس سے بھی کسی قسم کی طلاق نہیں پڑتی۔

البتہ اگر طلاق دے کر ذرا ٹھیر گیا پھر انشاء اللہ کہا تو طلاق پڑ گئی۔

مسئلہ10۔ کسی نے اپنی بی بی کو طلاقن کہہ کر پکارا تب بھی طلاق پڑ گئی اگرچہ ہنسی میں کہا ہو۔

مسئلہ11۔ کسی نے کہا جب تو لکھنو جائے تو تجھ کو طلاق ہے تو جب تک لکھنو نہ جائے گی طلاق نہ پڑے گی جب وہاں جائے گی تب پڑے گی۔

مسئلہ12۔ اور اگر صاف صاف طلاق نہیں دی بلکہ گول گول الفاظ کہے اور اشارہ کنایہ سے طلاق دی تو ان لفظوں کے کہنے کے وقت اگر طلاق دینے کی نیت تھی تو طلاق ہو گئی اور اول قسم کی یعنی بائن طلاق ہوئی۔ اب بے نکاح کیے نہیں رکھ سکتا۔ اور اگر طلاق کی نیت نہ تھی بلکہ دوسرے معنی کے اعتبار سے کہا تھا تو طلاق نہیں ہوئی۔ البتہ اگر کہنے سے معلوم ہو جائے کہ طلاق ہی دینے کی نیت تھی اب وہ جھوٹ بکتا ہے تو اب عورت اس کے پاس نہ رہے اور یہی سمجھے کہ مجھے طلاق مل گئی۔ جیسے بی بی نے غصہ میں آ کر کہا کہ میرا تیرا نباہ نہ ہو گا مجھ کو طلاق دے دے اس نے کہا اچھا میں نے چھوڑ دیا تو یہاں عورت یہی سمجھے کہ مجھے طلاق دے دی۔

مسئلہ13۔ کسی نے تین دفعہ کہا کہ تجھ کو طلاق طلاق طلاق تو تینوں طلاقیں پڑ گئیں یا گول الفاظ میں تنئ مرتبہ کہا تب بھی تنی پڑ گئیں۔ لیکن اگر نیت ایک ہی طلاق کی کی ہے فقط مضبوطی کے لیے تین دفعہ کہا تھا کہ بات خوب پکی ہو جائے تو ایک طلاق ہوئی۔ لیکن عورت کو اس کے دل کا حال تو معلوم نہیں اس لیے یہی سمجھے کہ تین طلاقیں مل گئیں۔

طلاق کا بیان

مسئلہ1۔ جو شوہر جوان ہو چکا ہو اور دیوانہ پاگل نہ ہو اس کے طلاق دینے سے طلاق پڑ جائے گی۔ اور جو لڑکا ابھی جوان نہیں ہوا۔ اور دیوانہ پاگل جس کی عقل ٹھیک نہیں ان دونوں کے طلاق دینے سے طلاق نہیں پڑتی۔

مسئلہ2۔ سوتے ہوئے آدمی کے منہ سے نکلا کہ تجھ کو طلاق ہے یا یوں کہہ دیا کہ میری بی بی کو طلاق تو اس بڑبڑانے سے طلاق نہ پڑے گی۔

مسئلہ3۔ کسی نے زبردستی کسی سے طلاق دلوادی۔ بہت مارا کوٹا دھمکایا کہ طلاق دے دے نہیں تو تجھے مار ڈالوں گی اس مجبوری سے اس نے طلاق دے دی تب بھی طلاق پڑ گئی۔

مسئلہ4۔ کسی نے شراب وغیرہ کے نشہ میں اپنی بی بی کو طلاق دے دی جب ہوش آیا تو پشیمان ہوا تب بھی طلاق پڑ گئی۔ اسی طرح غصے میں طلاق دینے سے بھی طلاق پڑ جاتی ہے۔

مسئلہ5۔ شوہر کے سوا کسی اور کو طلاق دینے کا اختیار نہیں ہے البتہ اگر شوہر نے کہہ دیا ہو کہ تو اس کو طلاق دے تو وہ بھی دے سکتا ہے۔

دودھ پینے اور پلانے کا بیان

مسئلہ1۔ جب بچہ پیدا ہو تو ماں پر دودھ پلانا واجب ہے۔ البتہ اگر باپ مال دار ہو اور کوئی انا تلاش کر سکے تو دودھ نہ پلانے میں کچھ گناہ بھی نہیں۔

مسئلہ2۔ کسی اور کے لڑکے کو بغیر میاں کی اجازت لیے دودھ پلانا درست نہیں ہاں البتہ اگر کوئی بچہ بھوک کے مارے تڑپتا ہو اور اس کے ضائع ہو جانے کا ڈر ہو تو ایسے وقت بے اجازت بھی دودھ پلا دے۔

مسئلہ3۔ زیادہ سے زیادہ دودھ پلانے کی مدت دو برس ہیں۔ دو سال کے بعد دودھ پلانا حرام ہے بالکل درست نہیں۔

مسئلہ4۔ اگر بچہ کچھ کھانے پینے لگا اور اس وجہ سے دو برس سے پہلے ہی دودھ چھڑا دیا تب بھی کچھ حرج نہیں۔

مسئلہ5۔ جب بچہ نے کسی اور عورت کا دودھ پیا تو وہ عورت اس کی ماں بن گئی۔ اور اس انا کا شوہر جس کے بچہ کا یہ دودھ ہے اس بچہ کا باپ ہو گیا اور اس کی اولاد اس کے دودھ شریکی بھائی بہن ہو گئے اور نکاح حرام ہو گیا اور جو رشتے نسب کے اعتبار سے حرام ہیں وہ رشتے دودھ کے اعتبار سے بھی حرام ہو جاتے ہیں لیکن بہت سے عالموں کے فتوے میں یہ حکم جب ہی ہے کہ بچہ نے دو برس کے اندر ہی اندر دودھ پیا ہو۔ اگر بچہ دو برس کا ہو چکا اس کے بعد کسی عورت کا دودھ پیا تو اس پینے کا کچھ اعتبار نہیں نہ وہ پلانے والی ماں بنی اور نہ اس کی اولاد اس بچہ کے بھائی بہن ہوئے۔ اس لیے اگر آپس میں نکاح کر دیں تو درست ہے لیکن امام اعظم جو بہت بڑے امام ہیں وہ فرماتے ہیں کہ اگر ڈھائی برس کے اندر اندر بھی دودھ پیا ہو تب بھی نکاح درست نہیں۔ البتہ اگر ڈھائی برس کے بعد دودھ پیا ہو تو اس کا بالکل اعتبار نہیں بے کھٹکے سب کے نزدیک نکاح درست ہے۔

مسئلہ6۔ جب بچہ کے حلق میں دودھ چلا گیا تو سب رشتے جو ہم نے اوپر لکھے ہیں حرام ہو گئے چاہے تھوڑا دودھ گیا ہو یا بہت اس کا کچھ اعتبار نہیں۔

مسئلہ7۔ اگر بچہ نے چھاتی سے دودھ نہیں پات بلکہ اس نے اپنا دودھ نکال کر اس کے حلق میں ڈال دیا تو اس سے بھی وہ سب رشتے حرام ہو گئے۔ اسی طرح اگر بچہ کی ناک میں دودھ ڈال دیا تب بھی سب رشتے حرام ہو گئے اور اگر کان میں ڈالا تو اس کا کچھ اعتبار نہیں۔

مسئلہ8۔ اگر عورت کا دودھ پانی میں یا کسی دوا میں ملا کر بچہ کو پلایا تو دیکھو کہ دودھ زیادہ ہے یا پانی یا دونوں برابر۔ اگر دودھ زیادہ ہو یا دونوں برابر ہوں تو جس عورت کا دودھ ہے وہ ماں ہو گئی اور سب رشتے حرام ہو گئے۔ اور اگر پانی یا دوا زیادہ ہے تو اس کا کچھ اعتبار نہیں وہ عورت ماں نہیں بنی۔

مسئلہ9۔ عورت کا دودھ بکری یا گائے کے دودھ میں مل گیا اور بچہ نے کھا لیا تو دیکھو زیادہ کونسا ہے اگر عورت کا دودھ زیادہ یا دونوں برابر ہوں تو سب رشتے حرام ہو گئے اور جس عورت کا دودھ ہے یہ بچہ اس کی اولاد بن گیا۔ اور اگر بکری یا گائے کا دودھ زیادہ ہے تو اس کا کچھ اعتبار نہیں ایسا سمجھیں گے کہ گویا اس نے پیا ہی نہیں۔

مسئلہ10۔ اگر کسی کنواری لڑکی کے دودھ اتر آیا۔ اس کو کسی بچہ نے پی لیا تو اس سے بھی سب رشتے حرام ہو گئے۔

مسئلہ11۔ مردہ عورت کا دودھ دوہ کر کسی بچہ کو پلا دیا۔ تو اس سے بھی سب رشتے حرام ہو گئے۔

مسئلہ12۔ دو لڑکوں نے ایک بکری یا ایک گائے کا دودھ پیا تو اس سے کچھ نہیں ہوتا وہ بھائی بہن نہیں ہوتے۔

مسئلہ13۔ جوان مرد نے اپنی بی بی کا دودھ پیا تو وہ حرام نہیں ہوئی۔ البتہ بہت گناہ ہوا۔ کیونکہ دو برس کے بعد دودھ پینا بالکل حرام ہے۔

مسئلہ14۔ ایک لڑکا ایک لڑکی ہے دونوں نے ایک ہی عورت کا دودھ پیا ہے تو ان میں نکاح نہیں ہو سکتا خواہ ایک ہی زمانہ میں پیا ہو۔ یا ایک نے پہلے دوسرے نے کئی برس کے بعد دونوں کا ایک حکم ہے۔

مسئلہ15۔ ایک لڑکی نے باقر کی بیوی کا دودھ پیا تو اس لڑکی کا نکاح نہ باقر سے ہو سکتا ہے نہ اس کے باپ دادا کے ساتھ نہ باقر کی اولاد کے ساتھ بلکہ باقر کے جو اولاد دوسری بیوی سے ہے اس سے بھی نکاح درست نہیں۔

مسئلہ16۔ عباس نے خدیجہ کا دودھ پیا اور خدیجہ کے شوہر قادر کے ایک دوسری بی بی زینب تھی جس کو طلاق مل چکی ہے تو اب زینب بھی عباس سے نکاح نہیں کر سکتی۔ کیونکہ عباس زینب کے میاں کی اولاد ہے اور میاں کی اولاد سے نکاح درست نہیں۔ اسی طرح اگر عباس اپنی عورت کو چھوڑ دے تو وہ عورت قادر کے ساتھ نکاح نہیں کر سکتی کیونکہ وہ اس کا خسر ہوا۔ اور قادر کی بہن اور عباس کا نکاح نہیں ہوسکتا کیونکہ یہ دونوں پھوپھی بھتیجے ہوئے۔ چاہے وہ قادر کی سگی بہن ہو یا دودھ شریک بہن ہو۔ دونوں کا ایک حکم ہے البتہ عباس کی بہن سے قادر نکاح کر سکتا ہے۔

مسئلہ17۔ عباس کی ایک بہن ساجدہ ہے۔ ساجدہ نے ایک عورت کا دودھ پیا۔ لیکن عباس نے نہیں پیا تو اس دودھ پلانے والی عورت کا نکاح عباس سے ہو سکتا ہے۔

مسئلہ18۔ عباس کے لڑکے نے زاہدہ کا دودھ پیا تو زاہدہ کا نکاح عباس کے ساتھ ہو سکتا ہے۔

مسئلہ19۔ قادر اور ذاکر دو بھائی ہیں۔ اور ذاکر کے ایک دودھ شریکی بہن ہے تو قادر کے ساتھ اس کا نکاح ہو سکتا ہے البتہ ذاکر کے ساتھ نہیں ہو سکتا۔ خوب اچھی طرح سمجھ لو۔ چونکہ اس قسم کے مسئلے مشکل ہیں کہ کم سمجھ میں آتے ہیں اس لیے ہم زیادہ نہیں لکھتے جب کبھی ضرورت پڑے تو کسی سمجھدار بڑے عالم سے سمجھ لینا چاہیے۔

مسئلہ20۔ کسی مرد کا کسی عورت سے رشتہ ہونے لگا۔ پھر ایک عورت آئی اور اس نے کہا کہ میں نے تو ان دونوں کو دودھ پلایا ہے اور سوائے اس عورت کے کوئی اور اس دودھ پینے کو نہیں بیان کرتا تو فقط اس عورت کے کہنے سے دودھ کا رشتہ ثابت نہ ہو گا۔ ان دونوں کا نکاح درست ہے بلکہ جب دو معتبر اور دیندار مرد یا ایک دیندار مرد اور دو دیندار عورتیں دودھ پینے کی گواہی دیں تب اس رشتہ کا ثبوت ہو گا اب البتہ نکاح حرام ہو گیا۔ بے ایسی گواہی کے ثبوت نہ ہو گا لیکن اگر فقط ایک مرد یا ایک عورت کے کہنے سے یا دو تین عورتوں کے کہنے سے دل گواہی دینے لگے کہ یہ سچ کہتی ہوں گی ضرور ایسا ہوا ہو گا تو ایسے وقت نکاح نہ کرنا چاہیے کہ خواہ مخواہ شک میں پڑنے سے کیا فائدہ۔ اور اگر کسی نے کر لیا تب بھی خیر ہو گیا۔

مسئلہ21۔ عورت کا دودھ کسی دوا میں ڈالنا جائز نہیں۔ اور اگر ڈال دیا تو اب اس کا کھانا اور لگانا ناجائز اور حرام ہے۔ اسی طرح دوا کے لیے آنکھ میں یا کان میں دودھ ڈالنا بھی جائز نہیں۔ خلاصہ یہ کہ آدمی کے دودھ سے کسی طرح کا نفع اٹھانا اور اس کو اپنے کام میں لانا درست نہیں۔

بیبیوں میں برابری کرنے کا بیان

مسئلہ1۔ جس کے کئی بیبیاں ہوں تو مرد پر واجب ہے کہ سب کو برابر رکھے جتنا ایک عورت کو دیا ہے دوسری بھی اتنے کی دعویدار ہو سکتی ہے۔ چاہے دونوں کنواری ہوں یا دونوں بیاہی ہوں۔ یا ایک تو کنواری ہو اور دوسری بیاہی بیاہ لایا۔ سب کا ایک حکم ہے۔ اگر ایک کے پاس ایک رات رہا تو دوسری کے پاس بھی ایک رات رہے۔ اس کے پاس دو یا تین راتیں رہا تو اس کے پاس بھی دو یا تین راتیں رہے۔ جتنا مال زیور کپڑے اس کو دیئے اتنے ہی کی دوسری عورت بھی دعویدار ہے۔

مسئلہ2۔ جس کا نیا نکاح ہوا اور جو پرانی ہو چکی دونوں کا حق برابر ہے کچھ فرق نہیں۔

مسئلہ3۔ برابری فقط رات کے رہنے میں ہے دن کے رہنے میں برابری ہونا ضروری نہیں۔ اگر دن میں ایک کے پاس زیادہ رہا اور دوسری کے پاس کم رہا تو کچھ حرج نہیں اور رات میں برابری واجب ہے۔ اگر ایک کے پاس مغرب کے بعد ہی آ گیا اور دوسری کے پاس عشاء کے بعد آیا تو گناہ ہوا۔ البتہ جو شخص رات کو نوکری میں لگا رہتا ہو اور دن کو گھر میں رہتا ہو جیسے چوکیدار پہرہ دار اس کے لیے دن کو برابری کا حکم ہے۔

مسئلہ5۔ مرد چاہے بیمار ہو چاہے تندرست بہرحال رہنے میں برابری کرے۔

مسئلہ6۔ ایک عورت سے زیادہ محبت ہے اور دوسری سے کم تو اس میں کچھ گناہ نہیں۔ چونکہ دل اپنے اختیار میں نہیں ہوتا۔

مسئلہ7۔ سفر میں جاتے وقت برابری واجب نہیں جس کو جی چاہے ساتھ لے جائے اور بہتر یہ ہے کہ نام نکال لے جس کا نام نکلے اس کو لے جائے تاکہ کوئی اپنے جی میں ناخوش نہ ہو۔

کافروں کے نکاح کا بیان

مسئلہ1۔ کافر لوگ اپنے اپنے مذہب کے اعتبار سے جس طریقہ سے نکاح کرتے ہوں شریعت اس کو بھی معتبر رکھتی ہے اور اگر وہ دونوں ساتھ مسلمان ہو جائیں تو اب نکاح دہرانے کی کچھ ضرورت نہیں وہی نکاح اب بھی باقی ہے۔

مسئلہ2۔ اگر دونوں میں سے ایک مسلمان ہو گیا دوسرا نہیں ہوا تو نکاح جاتا رہا۔ اب میاں بی بی کی طرح رہنا سہنا درست ہیں۔

مہر مثل کا بیان

مسئلہ1۔ خاندانی مہر یعنی مہر مثل کا مطلب یہ ہے کہ عورت کے باپ کے گھرانے میں سے کوئی دوسری عورت دیکھو جو اس کے مثل ہو یعنی اگر یہ کم عمر ہے تو وہ بھی نکاح کے وقت کم عمر ہو۔ اگر یہ خوبصورت ہے تو وہ بھی خوبصورت ہو۔ اس کا نکاح کنوارے پن میں ہوا اور اس کا نکاح بھی کنوارے پن میں ہوا ہو۔ نکاح کے وقت جتنی مالدار یہ ہے اتنی ہی وہ بھی تھی۔ جس کی یہ رہنے والی ہے اسی دیس کی وہ بھی ہے۔ اگر یہ دیندار ہوشیار سلیقہ دار پڑھی لکھی ہے تو وہ بھی ایسی ہی ہو۔ غرض جس وقت اس کا نکاح ہوا ہے اس وقت ان باتوں میں وہ بھی اسی کے مثل تھی جس کا اب نکاح ہوا۔ تو جو مہر اس کا مقرر ہوا تھا وہی اس کا مہر مثل ہے۔

مسئلہ2۔ باپ کے گھرانے کی عورتوں سے مراد جیسے اس کی بہن پھوپھی۔ چچا زاد بہن وغیرہ یعنی اس کی دادھیالی لڑکیاں۔ مہر مثل کے دیکھنے میں ماں کا مہر نہ دیکھیں گے ہاں اگر ماں بھی باپ ہی کے گھرانے میں سے ہو جیسے باپ نے اپنے چچا کی لڑکی سے نکاح کر لیا تھا تو اس کا مہر بھی مہر مثل کہا جائے گا۔

ولی کا بیان

لڑکی اور لڑکے کے نکاح کرنے کا جس کو اختیار ہوتا ہے اس کو ولی کہتے ہیں

مسئلہ1۔ لڑکی اور لڑکے کا ولی سب سے پہلے اس کا باپ ہے۔ اگر باپ نہ ہو تو دادا۔ وہ نہ ہو تو پردادا۔ اگر یہ لوگ کوئی نہ ہوں تو سگا بھائی۔ سگا بھائی نہ ہو تو سوتیلا بھائی یعنی باپ شریک بھائی پھر بھتیجا پھر بھتیجے کا لڑکا پھر بھتیجے کا پوتا یہ لوگ نہ ہوں تو سگا چچا پھر سوتیلا چچا یعنی باپ کا سوتیلا بھائی پھر سگے چچا کا لڑکا پھر اس کا پوتا پھر سوتیلے چچا کا لڑکا پھر اس کا پوتا۔ یہ کوئی نہ ہوں تو باپ کا چچا ولی ہے۔ پھر اس کی اولاد۔ اگر باپ کا چچا اور اس کے لڑکے پوتے پڑپوتے کوئی نہ ہوں تو دادا کا چچا پھر اس کے لڑکے پوتے پھر پڑپوتے وغیرہ۔ یہ کوئی نہ ہوں تب ماں ولی ہے پھر دادی پھر نانی پھر نانا پھر حقیقی بہن پھر سوتیلی بہن جو باپ شریک ہو۔ پھر جو بھائی بہن ماں شریک ہوں۔ پھر پھوپھی۔ پھر ماموں پھر خالہ وغیرہ۔

مسئلہ2۔ نابالغ شخص کسی کا ولی نہیں ہو سکتا۔ اور کافر کسی مسلمان کا ولی نہیں ہو سکتا۔ اور مجنون پاگل بھی کسی کا ولی نہیں ہے۔

مسئلہ3۔ بالغ یعنی جوان عورت خود مختار ہے چاہے نکاح کرے چاہے نہ کرے۔ اور جس کے ساتھ جی چاہے کرے کوئی شخص اس پر زبردستی نہیں کر سکتا۔ اگر وہ خود اپنا نکاح کسی سے کر لے تو نکاح ہو جائے گا۔ چاہے ولی کو خبر ہو چاہے نہ ہو۔ اور ولی چاہے خوش ہو یا ناخوش ہر طرح نکاح درست ہے۔ ہاں البتہ اگر اپنے میل میں نکاح نہیں کیا اپنے سے کم ذات والے سے نکاح کر لیا اور ولی خوش ہے فتوی اس پر ہے کہ نکاح درست نہ ہو گا۔ اور اگر نکاح تو اپنے میل ہی میں کیا لیکن جتنا مہر اس کے دادھیالی خاندان میں باندھا جاتا ہے جس کو شرع میں مہر مثل کہتے ہیں اس سے بہت کم پر نکاح کر لیا تو ان صورتوں میں نکاح تو ہو گیا لیکن اس کا ولی اس نکاح کو توڑوا سکتا ہے۔ مسلمان حاکم کے پاس فریاد کرے وہ نکاح توڑ دے۔ لیکن اس فریاد کا حق اس ولی کو ہے جس کا ذکر ماں سے پہلے آیا ہے۔ یعنی باپ سے لے کر دادا کے چچا کے بیٹوں پوتوں تک۔

مسئلہ4۔ کسی ولی نے جوان لڑکی کا نکاح بے اس سے پوچھے اور اجازت لیے کر دیا تو وہ نکاح اس کی جازت پر موقوف ہے۔ اگروہ لڑکی اجازت دے تو نکاح ہو گیا اور اگر وہ راضی نہ ہو اور اجازت نہ دے تو نہیں ہوا۔ اور اجازت کا طریقہ آگے آتا ہے۔

مسئلہ5۔ جوان کنواری لڑکی سے ولی نے کہا کہ میں تمہارا نکاح فلانے کے ساتھ کیے دیتا ہوں یا کر دیا ہے اس پر وہ چپ ہو رہی یا مسکرا دی یا رونے لگی تو بس ہی اجازت ہے۔ اب وہ ولی نکاح کر دے تو صحیح ہو جائے گا۔ یا کر چکا تھا تو صحیح ہو گیا۔ یہ بات نہیں ہے کہ جب زبان سے کہے تب ہی اجازت سمجھی جائے۔ جو لوگ زبردستی کر کے زبان سے قبول کراتے ہیں برا کرتے ہیں۔

مسئلہ6۔ ولی نے اجازت لیتے وقت شوہر کا نام نہیں لیا نہ اس کو پہلے سے معلوم ہے تو ایسے وقت چپ رہنے سے رضا مندی ثابت نہ ہو گی اور اجازت نہ سمجھیں گے بلکہ نام و نشان بتلانا ضروری ہے جس سے لڑکی اتنا سمجھ جائے کہ یہ فلانا شخص ہے۔ اسی طرح اگر مہر نہیں بتلایا اور مہر مثل سے بہت کم پر نکاح پڑھ دیا تو بدون اجازت عورت کے نکاح نہ ہو گا۔ اس کے لیے قاعدہ کے موافق پھر اجازت لینی چاہیے۔

مسئلہ7۔ اگر وہ لڑکی کنواری نہیں ہے بلکہ ایک نکاح پہلے ہو چکا ہے یہ دوسرا نکاح ہے اس سے اس کے ولی نے اجازت لی اور پوچھا تو فقط چپ رہنے سے اجازت نہ ہو گی بلکہ زبان سے کہنا چاہیے اگر اس نے زبان سے نہیں کہا فقط چپ رہنے کی وجہ سے ولی نے نکاح کر دیا تو نکاح موقوف رہا بعد میں اگر وہ زبان سے منظور کر لے تو نکاح ہو گیا۔ اور اگر منظور نہ کرے تو نہیں ہوا۔

مسئلہ8۔ باپ کے ہوتے ہوئے چچا یا بھائی وغیرہ کسی اور ولی نے کنواری لڑکی سے اجازت مانگی تو اب فقط چپ رہنے سے اجازت نہ ہو گی بلکہ زبان سے اجازت دے دے تب اجازت ہو گی۔ ہاں اگر باپ ہی نے ان کو اجازت لینے کے واسطے بھیجا ہو تو فقط چھپ رہنے سے اجازت ہو جائے گی۔ خلاصہ یہ ہے کہ جو ولی سب سے مقدم ہو اور شرع سے اسی کو پوچھنے کا حق ہو۔ جب وہ خود یا اس کا بھیجا ہوا آدمی اجازت لے تب چپ رہنے سے اجازت نہ ہو گی۔

مسئلہ9۔ ولی نے بے پوچھے اور بے اجازت لیے نکاح کر دیا۔ پھر نکاح کے بعد خود ولی نے یا اس کے بھیجے ہوئے کسی آدمی نے آ کر خبر کر دی کہ تمہارا نکاح فلانے کے ساتھ کر دیا گیا۔ تو اس صورت میں بھی چھپ رہنے سے اجازت ہو جائے گی اور نکاح صحیح ہو جائے گا۔ اور اگر کسی نے خبر دی تو اگر وہ خبر دینے والا نیک معتبر آدمی ہے یا وہ شخص ہیں تب بھی چھپ رہنے سے نکاح صحیح ہو جائے گا۔ اور اگر خبر دینے والا ایک شخص اور غیر معتبر ہے تو چپ رہنے سے نکاح صحیح نہ ہو گا بلکہ موقوف رہے گا۔ جب زبان سے اجازت دے دے یا کوئی اور ایسی بات پائی جائے جس سے اجازت سمجھ لی جائے تب نکاح صحیح ہو گا

مسئلہ11۔ یہی حکم لڑکے کا ہے کہ اگر جوان ہو تو اس پر زبردستی نہیں کرسکتے اور ولی بے اس کی اجازت کے نکاح نہیں کر سکتا اگر بے پوچھے نکاح کر دے گا تو اجازت پر موقوف رہے گا۔ اگر اجازت دے دی تو ہو گیا نہیں تو نہیں ہوا۔ البتہ اتنا فرق ہے کہ لڑکے کے فقط چپ رہنے سے اجازت نہیں ہوتی۔ زبان سے کہنا اور بولنا چاہیے۔

مسئلہ12۔ اگر لڑکی یا لڑکا نابالغ ہو تو وہ خود مختار نہیں ہے۔ بغیر ولی کے اس کا نکاح نہیں ہوتا۔ اگر اس نے بے ولی کے اپنا نکاح کر لیا یا کسی اور نے کر دیا تو ولی کہ اجازت پر موقوف ہے اگر ولی اجازت دے گا تو نکاح ہو گا نہیں تو نہ ہو گا۔ اور ولی کو اس کے نکاح کرنے نہ کرنے کا پورا اختیار ہے۔ جس سے چاہے کر دے۔ نابالغ لڑکی اور لڑکے اس نکاح کو اس وقت رد نہیں کر سکتے چاہے وہ نابالغ لڑکی کنواری ہو یا پہلے کوئی اور نکاح ہو چکا ہو اور رخصتی بھی ہو چکی ہو۔ دونوں کا ایک حکم ہے۔

مسئلہ13۔ نابالغ لڑکی یا لڑکے کا نکاح اگر باپ نے یا دادا نے کیا ہے تو جوان ہونے کے بعد بھی اس نکاح کو رد نہیں کر سکتے۔ چاہے اپنے میل میں کیا ہو یا بے میل کم ذات والے سے کر دیا ہو۔ اور چاہے مہر مثل پر نکاح کیا ہو یا اس سے بہت کم پر نکاح کر دیا ہو ہر طرح نکاح صحیح ہے اور جوان ہونے کے بعد بھی وہ کچھ نہیں کر سکتے۔

مسئلہ14۔ اور اگر باپ دادا کے سوا کسی اور ولی نے نکاح کیا ہے اور جس کے ساتھ نکاح کیا ہے وہ لڑکا ذات میں برابر درجہ کا بھی ہے اور مہر بھی مہر مثل مقرر کیا ہے۔ اس صورت میں اس وقت تو نکاح صحیح ہو جائے گا لیکن جوان ہونے کے بعد ان کو اختیار ہے چاہے اس نکاح کو باقی رکھیں چاہے مسلمان حاکم کے پاس نالش کر کے توڑ ڈالیں اور اگر اس ولی نے لڑکی کا نکاح کم ذات والے مرد سے کر دیا۔ یا مہر مثل سے بہت کم پر نکاح کر دیا ہے یا لڑکے کا نکاح جس عورت سے کیا ہے اس کا مہر اس عورت کر مہر مثل سے بہت زیادہ مقرر کر دیا تو وہ نکاح نہیں ہوا

نوٹ۔ مسئلہ نمبر15،و نمبر 16ص 53 پر درج کئے گئے۔

مسئلہ17۔ قاعدے سے جس ولی کو نابالغہ کے نکاح کرنے کا حق ہے وہ پردیس میں ہے اور اتنی دور ہے کہ اگر اس کا انتظار کریں اور اس سے مشورہ لیں تو یہ موقع ہاتھ سے جاتا رہے گا اور پیغام دینے والا اتنا انتظار نہ کرے گا اور پھر ایسی جگہ مشکل سے ملے گی۔ تو ایسی صورت میں اس کے بعد والا ولی بھی نکاح کر سکتا ہے۔ اگر اس نے بے اس کے پوچھے نکاح کر دیا تو نکاح ہو گیا۔ اور اگر اتنی دور نہ ہو تو بغیر اس کی رائے لیے دوسرے ولی کو نکاح نہ کرنا چاہیے۔ اگر کرے گا تو اسی ولی کی اجازت پر موقوف رہے گا جب وہ اجازت دے گا تب صحیح ہو گا۔

مسئلہ18۔ اسی طرح اگر حقدار ولی کے ہوتے دوسرے ولی نے نابالغ کا نکاح کر دیا جیسے حق تو تھا باپ کا اور نکاح کر دیا دادا نے اور باپ سے بالکل رائے نہیں لی تو وہ نکاح باپ کی اجازت پر موقوف رہے گا یا حق تو تھا بھائی کا اور نکاح کر دیا چچا نے بھائی کی اجازت پر موقوف ہے۔

مسئلہ19۔ کوئی عورت پاگل ہو گئی اور عقل جاتی رہی اور اس کا جو اب لڑکا بھی موجود ہے اور باپ بھی ہے۔ اس کا نکاح کرنا اگر منظور ہو تو اس کا ولی لڑا ہے کیونکہ ولی ہونے میں لڑکا باپ سے بھی مقدم ہے۔

مہر کا بیان

مسئلہ1۔ نکاح میں چاہے مہر کا کچھ ذکر کرے چاہے نہ کرے ہر حال میں نکاح ہو جائے گا۔ لیکن مہر دینا پڑے گا بلکہ اگر کوئی یہ شرط کر لے کہ ہم مہر نہ دیں گے بے مہر کا نکاح کرتے ہیں تب بھی مہر دینا پڑے گا۔

مسئلہ2۔ کم سے کم مہر کی مقدار تخمینا پونے تین روپے بھر چاندی ہے اور زیادہ کی کوئی حد نہیں چاہے جتنا مقرر کرے لیکن مہر کا بہت بڑھانا اچھا نہیں۔ سو اگر کسی نے فقط ایک روپیہ بھر چاندی یا ایک روپیہ یا ایک اٹھنی مہر مقرر کر کے نکاح کیا تب بھی پونے تین روپے بھر چاندی دینی پڑے گی شریعت میں اس سے کم مہر نہیں ہو سکتا۔ اور اگر رخصتی سے پہلے ہی طلاق دے دے تو اس کا آدھا دے۔

مسئلہ7۔ اگر نکاح کے وقت مہر کا بالکل ذکر ہی نہیں کیا گیا کہ کتنا ہے یا اس شرط پر نکاح کیا کہ بغیر مہر کے نکاح کرتا ہوں کچھ مہر نہ دوں گا۔ پھر دونوں میں سے کوئی مر گیا یا ویسی تنہائی و یکجائی ہو گئی جو شرع میں معتبر ہے تب بھی مہر دلایا جائے گا اور اس صورت میں مہر مثل دینا ہو گا۔ اور اگر اس صورت میں ویسی تنہائی سے پہلے مرد نے طلاق دے دی تو مہر پانے کی مستحق نہیں ہے بلکہ فقط ایک جوڑا کپڑا پائے گی اور یہ جوڑا دینا مرد پر واجب ہے نہ دے گا تو گنہگار ہو گا۔

مسئلہ8۔ جوڑے میں فقط چار کپڑے مرد پر واجب ہیں ایک کرتہ ایک سربند یعنی اوڑھنی ایک پائجامہ یا ساڑھی جس چیز کا دستور ہے۔ ایک بڑی چادر جس میں سر سے پیر تک لپٹ سکے اس کے سوا اور کوئی کپڑا واجب نہیں۔

مسئلہ9۔ مرد کی جیسی حیثیت ہو ویسے کپڑے دینا چاہیے۔ اگر معمولی غریب آدمی ہو تو سوتی کپڑے اور اگر بہت غریب آدمی نہیں لیکن بہت امیر بھی نہیں تو ٹسرکے۔ اور جو بہت امیر کبیر ہو تو عمدہ ریشمی کپڑے دینا چاہیے لیکن بہرحال اس میں یہ خیال رہے کہ اس جوڑے کی قیمت مہر مثل کے آدھے سے نہ بڑھے اور ایک روپیہ چھ آنے یعنی ایک روپیہ اور ایک چونی اور ایک دونی بھر چاندی کے جتنے دام ہوں اس سے کم قیمت بھی نہ ہو۔ یعنی بہت قیمتی کپڑے جن کی قیمت مہر مثل کے آدھے سے بڑھ جائے مرد پر واجب نہیں۔ یوں اپنی خوشی سے اگر وہ بہت قیمتی اس سے زیادہ بڑھیا کپڑے دے دے تو اور بات ہے۔

مسئلہ10۔ نکاح کے وقت تو کچھ مہر مقرر نہیں کیا گیا لیکن نکاح کے بعد میاں بی بی دونوں نے اپنی خوشی سے کچھ مقرر کر لیا تو اب مہر مثل نہ دلایا جائے گا بلکہ دونوں نے اپنی خوشی سے جتنا مقرر کر لیا ہے وہی دلایا جائے گا۔ البتہ اگر ویسی تنہائی و یکجائی ہونے سے پہلے ہی طلاق مل گئی تو اس صورت میں مہر پانے کی مستحق نہیں ہے بلکہ صرف وہی جوڑا کپڑا ملے گا جس کا بیان اوپر ہو چکا ہے۔

مسئلہ11۔ سو روپے یا ہزار روپے اپنی حیثیت کے موافق مہر مقرر کیا۔ پھر شوہر نے اپنی خوشی سے کچھ مہر اور بڑھا دیا اور کہا کہ ہم سو روپے کی جگہ ڈیڑھ سو دے دیں گے تو جتنے روپے زیادہ دینے کو کہے اس میں وہ بھی واجب ہو گئے نہ دے گا تو گنہگار ہو گا۔ اور اگر ویسی تنہائی و یکجائی سے پہلے طلاق ہو گئی تو جس قدر اصل مہر تھا اسی کا آدھا دیا جائے گا جتنا بعد میں بڑھایا تھا اس کو شمار نہ کریں گے۔ اسی طرح عورت نے اپنی خوشی و رضامندی سے اگر کچھ مہر معاف کر دیا تو جتنا معاف کیا ہے اتنا معاف ہو گیا۔ اور اگر پورا معاف کر دیا تو پورا مہر معاف ہو گیا۔ اب اس کے پانے کی مستحق نہیں ہے۔

مسئلہ12۔ اگر شوہر نے کچھ دباؤ ڈال کر دھمکا کر دق کر کے معاف کر لیا تو اس معاف کرانے سے معاف نہیں ہوا۔ اب بھی اس کے ذمہ ادا کرنا واجب ہے۔

مسئلہ13۔ مہر میں روپیہ پیسہ سونا چاندی کچھ مقرر نہیں کیا بلکہ کوئی گاؤں یا کوئی باغ یا کچھ زمین مقرر ہوئی تو یہ بھی درست ہے۔ جو باغ وغیرہ مقرر کیا ہے وہی دینا پڑے گا۔

مسئلہ14۔ مہر میں کوئی گھوڑا یا ہاتھی یا اور کوئی جانور مقرر کیا لیکن یہ مقرر نہیں کیا کہ فلانا گھوڑا دوں گا یہ بھی درست ہے۔ ایک منجھولا گھوڑا جو نہ بہت بڑھیا ہو نہ بہت گھٹیا دینا چاہیے یا اس کی قیمت دے دے۔ البتہ اگر فقط اتنا ہی کہا کہ ایک جانور دے دوں گا۔ اور یہ نہیں بتلایا کہ کون سا جانور دوں گا تو یہ مہر مقرر کرنا صحیح نہیں ہوا۔ مہر مثل دینا پڑے گا۔

مسئلہ17۔ جہاں کہیں پہلی ہی رات کو سب مہر دے دینے کا دستور ہو وہاں اول ہی رات سارا مہر لے لینے کا عورت کو اختیار ہے۔ اگر اول رات نہ مانگا تو جب مانگے تب مرد کو دینا واجب ہے دیر نہ کر سکتا۔

مسئلہ18۔ ہندوستان میں دستور ہے کہ مہر کا لین دین طلاق کے بعد مر جانے کے بعد ہوتا ہے کہ جب طلاق مل جاتی ہے تب مہر کا دعوی کرتی ہے یا مرد مر گیا اور کچھ مال چھوڑ گیا تو اس مال میں سے لے لیتی ہے۔ اور اگر عورت مر گئی تو اس کے وارث مہر کے دعویدار ہوتے ہیں۔ اور جب تک میاں بی بی ساتھ رہتے ہیں تب تک نہ کوئی دیتا ہے نہ وہ مانگتی ہے تو ایسی جگہ اس دستور کی وجہ سے طلاق ملنے سے پہلے مہر کا دعوی نہیں کر سکتی۔ البتہ پہلی رات کو جتنے مہر کے پیشگی دینے کا دستور ہے اتنا مہر پہلے دینا واجب ہے ہاں اگر کسی قوم میں یہ دستور نہ ہو تو اس کا یہ حکم نہ ہو گا

مسئلہ20۔ مہر کی نیت سے شوہر نے کچھ دیا تو جتنا دیا ہے اتنا مہر ادا ہو گیا۔ دیتے وقت عورت سے یہ بتلانا ضروری نہیں ہے کہ میں مہر دے رہا ہوں۔

مسئلہ21۔ مرد نے کچھ دیا لیکن عورت تو کہتی ہے کہ یہ چیز تم نے مجھ کو یوں ہی دی۔ مہر میں نہیں دی اور مرد کہتا ہے کہ یہ میں نے مہر میں دیا ہے تو مرد ہی کی بات کا اعتبار کیا جائے گا۔ البتہ اگر کھانے پینے کی کوئی چیز تھی تو اس کو مہر میں نہ سمجھیں گے اور مرد کی اس بات کا اعتبار نہ کریں گے۔