حج کی فضیلت کا بیان

حدیث میں ہے کہ ملائکہ مصافحہ کرتے ہیں ان حاجیوں سے جو سواری پر جاتے ہیں اور معانقہ کرتے ہیں ان حاجیوں سے جو پیدل جاتے ہیں۔ حدیث میں ہے کہ سوار حاجی کے لیے ہر قدم پر کہ جس کو اس کی اونٹنی طے کرتی ہے اونٹنی ہو یا کوئی دوسری سواری ہو سب کا یہی حکم ہے ستر نیکیاں یعنی ستر نیکیوں کا ثواب لکھا جاتا ہے۔ اور پیدل حاجی کے لیے ہر قدم پر جس کو وہ طے کرتا ہے سات سو نیکیاں لکھی جاتی ہیں یعنی پیدل چلنے والے کو ہر قدم پر سات سو نیکیوں کا ثواب ملتا ہے۔ حدیث میں ہے کہ حج کرنے والے اور جہاد کرنے والے اللہ عزوجل کے مہمان ہیں اگر اس سے یعنی اللہ سے دعا کریں تو ان کی دعا قبول فرمائے اگر اس سے مغفرت طلب کریں تو ان کو بخش دے۔ حدیث میں ہے کہ حج کرنے والا چار سو آدمیوں کی اپنے اہل قرابت میں سے قیامت کے روز شفاعت کرے گا۔ اور وہ پاک ہو جاتا ہے اپنے گناہوں سے اس طرح جیسا کہ اس کا بدن پاک تھا جس دن کے اس کو اس کی ماں نے جنا تھا بشرطیکہ حج قبول ہو جائے پس چاہیے کہ ایسی بڑی نعمت کو حلال روپیہ صرف کر کے اور عمدہ طور پر اس کے احکام بجا لا کر حاصل کرے۔ اے اللہ مجھ کو بھی ایسا ہی حج نصیب فرما۔ آمین۔ اور معافی سے یہ مراد نہیں ہے کہ جو اعمال ایسے فوت ہو گئے تھے جن کی قضا ادا کر سکتا ہے یا اس پر قرض ہے ان سے بھی سبکدوش ہو گیا ان کی تو قضا کرنا ضرور ہے اس لیے کہ یہ حقوق ہیں گناہ نہیں ہیں۔ حدیث میں ہے جو حج کرے مال حرام سے پس کہے لبیک اللہ لبیک یہ دعا ہے جو حج میں پڑھی جاتی ہے۔

یعنی تیری تابعداری میں حاضر ہوں اے اللہ میں تیری تابعداری میں حاضر ہوں فرماتا ہے اللہ عز و جل لالبیک ولا سعدیک وحجک مردود علیک یعنی نہ تیری لبیک قبول ہے اور نہ سعدیک قبول ہے اور تیرا حج تیرے منہ پر مارا گیا مطلب یہ ہے کہ تو ہماری اطاعت میں حاضر نہیں ہے اس لیے کہ ہماری اطاعت میں حاضر ہوتا تو مال حلال خرچ کر کے آتا اور تیرا حج ہمارے عالی اور پاک دربار میں نجس مال کی وجہ سے مقبول نہیں اور اس کا پورا ثواب نہ ملے گا گو فرض ادا ہو جائے گا۔ حدیث میں ہے کہ جب تو حاجی سے ملے تو اس کو سلام کر اور اس سے مصافحہ کر اور اس سے درخواست کر اس بات کی کہ وہ تیرے لیے مغفرت کی دعا کرے اس سے پہلے کہ وہ اپنے مکان میں داخل ہو۔ اس لیے کہ اس کے گناہ بخش دیئے گے پس وہ مقبول بارگاہ الٰہی ہے اس کی دعا مقبول ہونے کی خاص طور پر امید ہے اور جو دعا چاہے اس سے وہ دعا کرائے دن کی یا دنیا کی مگر اس کے مکان میں پہنچنے سے پہلے

خیرات کرنے کے ثواب کا بیان

حدیث میں ہے کہ سخاوت اللہ پاک کی بہت بڑی عادت ہے یعنی حق تعالی بہت بڑے سخی ہیں۔ حدیث میں ہے کہ تحقیق بندہ صدقہ کرتا ہے روٹی کا ٹکڑا پھر وہ بڑھتا ہے اللہ کے نزدیک یہاں تک کہ ہو جاتا ہے مثل احد پہاڑ کے یعنی اللہ پاک اس کا ثواب بڑھاتے ہیں اور اس قدر ثواب بڑھ جاتا ہے جیسے کہ احد کی برابر خرچ کرتا اور اس کا ثواب اس کو ملتا۔ لہذا تھوڑے بہت کا خیال نہ چاہیے جو کچھ میسر ہو خیرات کر دے۔ حدیث میں ہے کہ دوزخ سے بچو اگرچہ ایک چھوارے کا ٹکڑا ہی دے کر یعنی اگرچہ تھوڑی ہی چیز ہو اس کو خیرات کرو اور یہ خیال نہ کرو تھوڑی سی چیز کیا خیرات کریں یہ بھی ذریعہ بن جائے گی دوزخ سے نجات حاصل کرنے کا۔ حدیث میں ہے روزی طلب کرو اللہ سے صدقہ کے ذریعہ سے یعنی خیرات کرو اس کی برکت سے روزی میں ترقی ہو گی۔ حدیث میں ہے کہ احسان کے کام بری ہلاکتوں سے بچاتے ہیں اور پوشیدہ خیرات دینا اللہ تعالی کے غصہ کو بجھاتا ہے۔ اور اہل قرابت سے سلوک کرنا عمر بڑھاتا ہے اگر نیک کام کرتے دیکھ کر دوسرے کو رغبت ہو تو ایسے موقع پر اس کام کا ظاہر طور پر کرنا بہتر ہے اور جو یہ امید نہ ہو تو خفیہ کرنا افضل ہے بشرطیکہ کوئی اور بھی خاص وجہ خفیہ یا ظاہر کرنے کی نہ ہو۔ حدیث میں ہے کہ سائل کا حق ہے اس پر جس سے کہ وہ سوال کرے اگرچہ وہ گھوڑے پر سوار آوے۔ یعنی اگر گھوڑے کا سوار سوال کرے اس کو بھی دینا چاہیے اس لیے کہ ایسا شخص بظاہر کسی مجبوری سے سوال کرے گا یہ خیال نہ کرے کہ اس کے پاس تو گھوڑا ہے سو یہ کیسے محتاج ہو سکتا ہے پھر ہم اس کو کیوں دیں ہاں اگر کسی قوم قرینہ سے معلوم ہو جائے کہ یہ شخص حقیقت میں محتاج نہیں ہے بلکہ اس نے کھانے کمانے کا یہی پیشہ کر لیا ہے کہ بھیک مانگتا ہے تو ایسے شخص کو خیرات دینا حرام ہے اور اس کو مانگنا بھی حرام ہے خوب سمجھ لو۔

حدیث میں ہے کہ اللہ تعالی کریم ہے اور کرم کو پسند کرتا ہے اور دوست رکھتا ہے عالی اخلاق کو یعنی ہمت کے نیک کاموں کو جیسے خیرات کرنا ذلت سے بچنا دوسرے کی وجہ سے اپنی ذات پر تکلیف برداشت کرنا وغیرہ اور ناپسند کرتا ہے حقیر اخلاق و عادتوں کو جیسے پست ہمتی دینی امور ہیں۔ حدیث میں ہے کہ بے شک صدقہ بجھاتا ہے اپنے اہل سے یعنی صدقہ کرنے والے سے گرمی قبر کی اور ضرور یہی بات ہے کہ سایہ حاصل کرے گا مسلمان اپنے صدقہ کے سایہ میں قیامت کے روز یعنی صدقہ کی برکت سے قبر کی گرمی دور ہوتی ہے اور قامت کے دن سایہ میسر ہو گا۔ حدیث میں ہے کہ تحقیق اللہ تعالی کے خاص بندے ہیں جن کو اس نے خاص کیا ہے لوگوں کی حاجتوں کے پورا کرنے کے لیے اور مضطر ہوتے ہیں ان کی طرف لوگ اپنی حاجتوں میں یعنی لوگ مجبور ہو کر ان کے پاس جاتے ہیں اور حق جل شانہ نے ان حضرات کو لوگوں کی نفع رسانی کے لیے منتخب فرما لیا ہے یہ لوگ حاجتوں کے پورا کرنے والے امن پانے والے ہیں۔ اللہ کے عذب سے۔ حدیث میں ہے کہ خرچ کر اے بلال اور مت اندیشہ کر عرش کے مالک سے کمی کا یعنی مناسب موقعوں پر خوب خرچ کرو اور تنگی کا اندیشہ حق تعالی سے نہ کرو اور اس جگہ عرش کی ملکیت اللہ تعالی کی خاص طور پر فرمائی گئی اگرچہ وہ تمام چیزوں کا مالک ہے سو یہ خصوصیت اس لیے فرمائی گئی کہ عرش نہایت عظیم الشان مخلوق ہے پس اس کو ذکر میں خاص کیا اور بتلا دیا کہ جس ذات کے قبضہ و تحت میں ایسی عظیم الشان چیز ہے اور وہ ایسی بڑی چیز کا مالک ہے تو اس سے تنگی کا اندیشہ نہ چاہیے۔ کیا یہ گمان ہو سکتا ہے کہ ایسا بادشاہ اپنے کسی بندے کو دو روٹی نہ دے گا ہرگز یہ گمان نہیں ہو سکتا اور اس حدیث کا یہ مطلب نہیں ہے کہ بے حد ہر شخص خرچ کر ڈالے اور پھر پریشان ہو اور گھبرائے۔

غرض یہ ہے کہ جو لوگ دل کے پختہ ہیں اور صبر کی ان میں پوری قوت ہے تو وہ جس قدر چاہیں نیک کاموں میں صرف کریں کیونکہ وہ تکلیف سے پریشان نہیں ہوتے اچھی طرح سمجھتے ہیں کہ جو قسمت میں لکھا ہے وہ تو ہم کو ضرور ملے گا خیرات سے کمی نہ ہو گی بلکہ برکت ہو گی تو ایسی ہمت کی حالت میں بشرطیکہ کسی کی حق تلفی بھی نہ ہو ان کو اجازت ہے اور ان کے لیے یہی اچھا ہے کہ ہر طرح کے نیک کاموں میں خوب صرف کریں۔ اور جن کا دل کمزور ہے صبر کی ان میں قوت کم ہے آج خرچ کر دیں گے کل کو تنگی سے پریشان ہوں گے دل ڈاواں ڈول ہو گا اور نیت خراب ہو گی تو ایسے لوگ فقط ضروری موقعوں پر جیسے زکوٰۃ و صدقہ فطر وغیرہ اور مروت کے موقعوں پر صرف کریں اس سے کمی نہ کریں خوب سمجھ لو۔

حضرت سیدنا ابوبکر صدیق خلیفہ اول جناب رسول مقبول علیہ الصلوۃ والسلام نے ایک بار حضور کی خدمت میں تمام مال چندہ اسلامی میں پیش کر دیا۔ حضور نے فرمایا کہ کچھ گھر بھی باقی رکھا ہے یا نہیں۔ عرض کیا گھر تو اللہ و رسول کا نام چھوڑ آیا ہوں اور بس۔ آپ نے وہ تمام مال قبول کر لیا۔ کیونکہ حضرت خلیفہ اول نہایت دل کے پختہ اور با ہمت اور اعلی درجہ کے خدا تعالی کی راہ میں مال و جان نثار کرنے والے تھے ان سے یہ اندیشہ نہ تھا کہ پریشان ہوں گے اور ایک دوسرے صحابی رضی اللہ عنہ نے تھوڑا سا سونا اللہ کی راہ میں پیش کیا۔ آپ نے قبول نہ فرمایا اس وجہ سے کہ وہ کمزور دل کے تھے۔ اور اس قدر باہمت نہ تھے جیسے کہ حضرت ابوبکر تھے خوب سمجھ لو۔ حدیث میں ہے کہ ایک سائل ایک عورت کے پاس اس حالت میں آیا کہ اس عورت کے منہ میں لقمہ تھا سو اس عورت نے وہ لقمہ منہ سے نکالا اور اس سائل کو دے دیا اس کے پاس اور کچھ دینے کو نہ تھا اس لیے ایسا کیا پھر تھوڑی ہی مدت میں ایک لڑکا اس عورت کے پیدا ہوا۔ پھر جب وہ لڑکا کچھ بڑا ہوا تو ایک بھیڑیا یا اور اس کو اٹھا لے گیا پس نکلی وہ عورت دوڑتی ہوئی بھیڑئیے کے پیچھے اور کہتی ہوئی میرا بیٹا میرا بیٹا میرے بیٹے کو بھیڑیا لیے جاتا ہے جو مدد کر سکے اس کی مدد کرے۔ سو حکم فرمایا اللہ تعالی نے ایک فرشتے کو کہ بھیڑیئے کے پاس جا اور لڑکے کو اس کے منہ سے چھڑا لے اور فرمایا حق عز شانہ نے فرشتے سے اس کی ماں سے کہہ کہ اللہ تجھ کو سلام فرماتا ہے اور یہ بھی کہ یہ لقمہ بدلہ اس لقمہ کا ہے دیکھو صدقہ کی یہ برکت ہوئی کہ لڑکا جان سے بچ گیا اور ثواب بھی ہوا۔ خوب صدقہ کیا کرو تاکہ دین و دنیا میں چین سے رہو۔

حدیث میں ہے کہ نیکی کی جگہ بتلانے والا مثل نیکی کرنے والے کے ثواب میں ہے یعنی جو شخص خود کوئی سلوک نہ کرے مگر اہل ضرور کو ایسی جگہ کا پتہ بتلا دے یا اس کی سفارش کر دے جہاں اس کا کام ہو جائے تو اس بتلانے والے کو مثل اس نیکی کرنے والے کے ثواب ملے گا جو خود اپنی ذات سے کسی کی مدد کرے۔ حدیث میں ہے کہ تین آدمی تھے جن میں سے ایک کے پاس دس دینار تھے سو صدقہ کر دیا اس نے ان میں سے ایک دینار۔ اور دوسرے کے پاس دس اوقیہ تھے۔ سو صدقہ کر دیا اس نے اس میں سے ایک اوقیہ۔ اور تیسرے کے پاس سو اوقیہ تھے سو صدقہ کر دیئے اس نے ان میں سے دس اوقیہ تو یہ سب لوگ ثواب میں برابر ہیں اس لیے کہ ہر ایک نے دسواں حصہ اپنے مال کا خیرات کیا ہے یعنی اگرچہ بظاہر خیرات ان میں سے بعضوں نے زیادہ کی ہے اور بعض نے کم مگر حق تعالی تو نیت پر ثواب دیتے ہیں۔ چونکہ ہر ایک نے اپنے مال کے اعتبار سے دسواں حصہ خیرات کیا اس لیے سب کو برابر ثواب ملے گا۔ ایک دینار دس درہم کا ہوتا ہے اور ایک درہم چار آنے سے کچھ زائد کا اور اوقیہ چالیس درہم کا ہوتا ہے۔ حدیث میں ہے بڑھ گیا ایک درہم ایک لاکھ درہم سے اور وہ یہ صورت ہے کہ ایک شخص ہے کہ اس کے پاس دو درہم ہیں ان میں سے ایک درہم اس نے خیرات کر دیا۔ اور دوسرا شخص ہے کہ اس کے پاس بہت سا مال ہے پس اس نے اپنے مال میں سے ایک لاکھ درہم صدقہ کر دئے یعنی دونوں کے ثواب میں یہ فرق ہوا کہ پہلا شخص باوجود تھوڑا خیرات کرنے کے ثواب میں بڑھ گیا کیونکہ اپنا آدھا مال اس نے خیرات کر دیا۔ اور دوسرے نے اگرچہ ایک لاکھ صدقہ کی لیکن چونکہ یہ عدد اس کے مال کثیر کے مقابلے میں آدھے سے کم تھا اس لیے اس کو پہلے شخص سے کم ثواب ملا خوب سمجھ لو۔ حق تعالی کی کیسی رحمت ہے اس کی قدر کرو جناب رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی سائل سے انکار نہیں فرمایا۔

اگر ہوا دے دیا ورنہ وعدہ فرما لیا کہ جب حق تعالی دے گا اس وقت تم کو دیں گے اور تا حیات آپ نے اور آپ کے اہلبیت نے دو روز برابر بھی شکم سیر ہو کر جو کی روٹی بھی نہیں کھائی۔ کیسی بے رحمی کی بات ہے کہ باوجود گنجائش کے اپنے بھائی مسلمانوں کی مدد نہ کرے اور خود چین کرے۔ حدیث میں ہے کہ اللہ کا ہدیہ ہے مومن کے لیے سائل اس کے دروازے پر اور ظاہر ہے کہ ہدیہ اچھی طرح قبول کرنا چاہیے خصوصاً اللہ تعالی کا ہدیہ پس سائل کی خوب خدمت کرنی چاہیے۔ حدیث میں ہے کہ صدقہ کرو اور اپنے مریضوں کی دوا کرو صدقہ کے ذریعے سے اس لیے کہ صدقہ دفعہ کرتا ہے مرضوں کو اور بیماریوں کو اور وہ زیادتی کرتا ہے تمہاری عمروں اور نیکیوں میں۔ حدیث میں ہے کہ کوئی ولی اللہ عزوجل کا نہیں پیدا کیا گیا مگر سخاوت اور اچھی عادت پر (یعنی اللہ کے دوستوں میں سخاوت اور اچھی عادت ضرور ہوتی ہے۔)

عیدین کی راتوں کی فضیلت کا بیان

حدیث میں ہے جو بیدار رہا عید الفطر کی رات اور عید الاضحی کی رات میں نہ مردہ ہو گا اس کا دل جس دن دل مردہ ہوں گے یعنی قیامت کے دن کی دہشتوں سے محفوظ رہے گا جس روز کہ لوگ قیامت کی سختیوں سے پریشان ہوں گے۔

تراویح کی فضیلت کا بیان

حدیث میں ہے کہ بے شک اللہ تعالی نے فرض کات ہے تم پر رمضان کا روزہ اور سنت کیا ہے اس کی رات کا قیام یعنی تراویح پڑھنا پس جو شخص اس کا روزہ رکھے اور اس کی رات میں قیام کرے یعنی تراویح پڑھے ایمان کے اعتبار سے یعنی روزے اور تراویح کو دین کا حکم سمجھے اور ثواب طلب کرنے کی نیت سے اور یقین ثواب کا سمجھ کر۔ تو ہو گا وہ یعنی روزہ اور تراویح کفارہ یعنی مٹانے والا اس کے لیے جو گذرا یعنی جو اس سے صغیرہ گناہ ہوئے وہ سب معاف ہو جائیں گے۔ پس اس مہینہ میں بہت نیکیاں کرنی چاہئیں۔ ایک فرض ادا کرنے سے ستر فرض کا اور نفل کام کرنے سے فرض کام کرنے کے برابر ثواب ملتا ہے۔

لیلۃ القدر کی فضیلت کا بیان

حق تعالی فرماتے ہیں لیلۃ القدر خیر من الف شہر یعنی لیلۃ القدر بہتر ہے ہزار مہینوں سے۔ مطلب یہ ہے کہ اس رات میں عبادت کرنے کا اس قدر ثواب ہے کہ اس کے سوا اور ایام میں ہزار مہینے کرنے سے بھی اس قدر ثواب نہیں میسر ہو سکتا جتنا ثواب کہ اس ایک رات عبادت کرنے میں مل جاتا ہے۔ اس آیت کا شان نزول امام سیوطی نے لباب النقول میں یہ نقل کیا ہے کہ تحقیق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ذکر فرمایا ایک مرد کا جو بنی اسرائیل کی قوم میں سے تھا اور جس نے ہزار مہینے اللہ تعالی کے راستے یعنی جہاد میں ہتھیار لگائے تھے پس تعجب کیا مسلمانوں نے اس بات سے اور افسوس کیا کہ ہم کو یہ نعمت کسی طرح میسر ہو سکتی ہے سو نازل فرمائیں اللہ تعالی نے یہ آیتیں انا انزلناہ فی لیلۃ القدر وما ادرک مالیلۃ القدر لیلۃ القدر خیر من الف شہر۔ یعنی یہ شب قدر بہتر ہے ان ہزار مہینوں سے جن میں اس مرد نے اللہ تعالی کے راستہ میں ہتھیار لگائے تھے یعنی جہاد کیا تھا اور دوسری روایت میں ہے کہ بنی اسرائیل میں ایک مرد تھا جو رات کو عبادت کرتا تھا صبح تک پھر جہاد کرتا تھا یعنی لڑتا تھا دشمن دین سے دن میں شام تک سو عمل کیا اس نے ہزار مہینے یہی عمل کہ رات و عبادت کرتا تھا اور دن کو جہاد کرتا تھا پس نازل فرمائی اللہ تعالی نے آیۃ لیلۃ القدر خیر من الف شہر۔ یعنی ان ہزار مہینوں سے جن میں اس مرد نے عبادت و جہاد کیا تھا یہ رات بہتر ہے آؤ اے بھائیو اور بہنو اس مبارک رات کی قدر کرو کہ تھوڑی سی محنت میں کس قدر ثواب میسر ہوتا ہے اور اس رات میں خاص طور پر دعا قبول ہوتی ہے اگر تمام رات نہ جاگ سکو تو جس قدر بھی ہو سکے جاگو یہ نہ کرو کہ پست ہمتی سے بالکل ہی محروم رہو۔۔

حدیث میں ہے کہ یہ مہینہ یعنی رمضان تمہارے پاس آ گیا اور اس میں ایک ایسی رات ہے جو ہزار مہینوں سے بہتر ہے جو شخص اس رات کی برکت و اطاعت و عبادت سے محروم کیا گیا وہ تمام بھلائیوں سے محروم کیا گیا۔ اور انہیں محروم کیا جاتا ہے اس رات کی برکتوں سے مگر محروم یعنی ایسی بے بہا رات کی برکت جسے نہ ملی اور جس نے کچھ بھی عبادت اس شب میں نہ کی تو وہ بڑا بھاری محروم ہے جو ایسی نعمت سے محروم رہا۔ حدیث میں ہے کہ بے شک اگر اللہ چاہتا تو تم کو لیلۃ القدر پر مطلع کر دیتا لیکن بعض حکمتوں سے بالتعیین اس پر مطلع نہیں کیا اس کو رمضان کی سات اخیر راتوں میں تلاش کرو کہ ان راتوں میں غالب گمان شب قدر کا ہے اور تلاش کرنے کا مطلب یہ ہے کہ ان راتوں میں جاگو اور عبادت کرو تاکہ لیلۃ القدر میسر ہو جائے۔ حدیث میں ہے کہ لیلۃ القدر ستائیسویں شب رمضان کو ہوتی ہے اس رات کی تعیین میں بڑا اختلاف ہے مگر مشہور قول یہی ہے کہ ستائیسویں شب کو ہوتی ہے۔ بہتر یہ ہے کہ اگر ہمت اور قوت ہو تو اخیر کی دس راتوں میں جاگے اور اس میں یہ ضرور نہیں کہ کچھ نظر آئے جب ہی اس کی برکت میسر ہو بلکہ کچھ نظر آئے یا نہ آئے عبادت کرے اور برکت حاصل کرے۔ اور مقصود یہی ہے کہ اس رات کی برکت اور اس قدر ثواب جو مذکور ہوا حاصل کرے۔ کسی چیز کا نظر آنا مقصود نہیں۔

اعتکاف کی فضیلت کا بیان

حدیث میں ہے جس نے اعتکاف کیا دس دن اخیر عشرہ رمضان میں ہو گا وہ اعتکاف مثل دو حج اور دو عمروں کے یعنی اس کو دو حج اور دو عمروں کا ثواب ملے گا۔ حدیث میں ہے جس نے اعتکاف کیا اس کو دین کی عبادت یقین کر کے اور ثواب حاصل کرنے کے لیے تو اس کے گذشتہ گناہ بخش دیئے جائیں گے یعنی گناہ صغیرہ۔ حدیث میں ہے کہ پوری حفاظت سرحد اسلام کی چالیس دن تک ہوتی ہے اور جو چالیس دن تک سرحد اسلام کی حفاظت کرے اس طرح کہ نہ فروخت کرے کچھ اور نہ خریدے اور نہ کرے کوئی بدعت پاک ہو جائے گا۔ اپنے گناہوں سے مثل گناہوں سے پاک ہونے اس دن کے جس دن اس کو اس کی ماں نے جنا تھا یعنی گناہوں سے بالکل پاک ہو جائے گا۔ اور حدیث میں حفاظت سرحد اسلام کی تشبیہا اس کو فرمایا ہے کہ رباط سے اسلامی سرحد پر ملک اسلام کے تمام علاقے دنیا کے چھوڑ کر روزے نماز وغیرہ میں مشغول ہونا اور نفس کی ظاہری و باطنی حفاظت کرنا اور گناہوں سے بچنا مراد ہے اور گناہوں سے صغیرہ گناہ مراد ہیں۔ اور یہی صورت چلہ نشینی کی صوفیہ کرام میں متعارف ہے۔ رواہ الطبرانی عن ابی امامۃ بلفظ تمام الرباط قال المناوی ای المرابطۃ یعنی مرابطۃ النفس بالاقامۃ علی مجاہد تہالتتبدل اخلاقہا الردینۃ بالحسنہ اربعون یوما ومن رابط اربعین یوما لم یبع ولم یشترولم یحدث حدثنا ای لم یفعل شیئا م الامور الدنیویۃ الغیر الضروریۃ خرج من ذنوبہ کیوم دلدلۃ امہ کذا فی شرح الجامع الصغیر العزیزی۔

روزے کی فضیلت کا بیان

حدیث میں ہے کہ فرمایا جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے روزہ دار کا سونا عبادت ہے اور اس کا خاموش رہنا تسبیح ہے یعنی روزہ دار اگر خاموش رہے تو اسے تسبیح یعنی سبحان اللہ پڑھنے کا ثواب ملتا ہے اور اس کا عمل ثواب میں بڑھ جاتا ہے یعنی اس کے اعمال کا ثواب بہ نسبت اور دنوں کے ان مبارک دنوں میں زیادہ ہوتا ہے اور اس کی دعا مقبول ہے یعنی روزے کی حالت کو قبولیت دعا میں خاص دخل ہے اور اس کے گناہ بخش دئیے جاتے ہیں یعنی گناہ صغیرہ معاف ہو جاتے ہیں حدیث میں ہے کہ روزہ ڈھال ہے اور مضبوط قلعہ ہے دوزخ سے بچانے کے لیے یعنی جس طرح ڈھال اور مضبوط قلعہ سے انسان پناہ لیتا ہے اور دشمن سے بچتا ہے اسی طرح روزے کے ذریعہ سے دوزخ سے نجات حاصل ہوتی ہے اس طرح کہ انسان کی قوت گناہوں کی کمزور ہو جاتی ہے اور نیکی کا مادہ بڑھتا ہے سو جب انسان باقاعدہ روزہ دار رہے گا اور اچھی طرح روزے کے آداب بجا لائے گا تو گناہ اس سے چھوٹ جائیں گے اور دوزخ سے نجات ملے گی۔ حدیث میں ہے کہ روزہ ڈھال ہے جب تک کہ نہ پھاڑے یعنی برباد نہ کرے روزہ دار اس کو جھوٹ غیبت سے یعنی روزہ ڈھال کا کام دیتا ہے جیساکہ اوپر بیان ہو چکا ہے مگر جبکہ اس کو گناہوں سے محفوظ رکھے اور اگر روزہ رکھا اور غیبت اور جھوٹ وغیرہ گناہوں سے باز نہ آئے تو گو فرض ادا ہو جائے گا مگر بہت بڑا گناہ ہو گا۔ اور روزے کی جو برکت حاصل ہوتی اس سے محرومی ہو گی۔

حدیث میں ہے روزہ ڈھال ہے دوزخ سے سو جو شخص صبح کرے اس حال میں کہ وہ روزہ دار ہو پس نہ جہالت کرے اس روز اور جبکہ کوئی آدمی اس سے جہالت سے پیش آئے تو اسے بدلہ میں برا نہ کہے اور اس سے بری گفتگو نہ کرے اور چاہیے کہ کہہ دے تحقیق میں روزہ دار ہوں اور قسم اس ذات کی جس کے قبضہ میں محمد کی جان ہے بے شک بدبو روزہ دار کے منہ کی زیادہ محبوب ہے خدا کے نزدیک مشک کی خوشبو سے یعنی قیامت کے روز اس بدبو کے عوض جو روزے کی حالت روزے دار کے منہ کے اندر دنیا میں پیدا ہوتی ہے وہ سبب ہے اس خوشبو کے حاصل ہونے کا جو قیامت کو میسر ہو گی۔ حدیث میں ہے کہ روزہ دار کو ہر افطار کے وقت ایک ایسی دعا کی اجازت ہوتی ہے جس کے قبول کرنے کا خاص وعدہ ہے۔ حدیث میں ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو آدمیوں سے فرمایا کہ تم روزہ رکھو اس لیے کہ روزہ ڈھال ہے دوزخ سے بچنے کے لیے اور زمانہ کی مصیبتوں سے بچنے کے لیے یعنی روزہ کی برکت سے دوزخ اور مصائب و تکالیف سے نجات ملتی ہے۔ حدیث میں ہے کہ تین ایسے آدمی ہیں کہ ان سے کھانے کا حساب قیامت میں نہ ہو گا جو کچھ بھی کھائیں جبکہ وہ کھانا حلال ہو اور وہ روزہ دار ہے اور سحری کھانے والا اور محافظ خدا تعالی کے راستہ میں یعنی جو اسلام کی سرحد میں مقیم ہوا اور کافروں سے ملک اسلام کی حفاظت کرے یہاں سے بہت بڑی رعایت روزہ دار کی اور سحری کھانے والے کی ور محافظ اسلام کی ثابت ہوئی کہ ان سے کھانے کا حساب ہی معاف کر دیا گیا لیکن اس رعایت پر بہت سے لذیذ کھانوں میں مصروف نہ ہونا چاہیے۔ بہت سی لذتوں میں مصروف ہونے سے خدا کی یاد غفلت پیدا ہو جاتی ہے اور گناہ کی قوت کو ترقی ہوتی ہے خوب سمجھ لو بلکہ خدا کی اس نعمت کی بہت قدر ہونی چاہیے اور اس کا شکر اس طرح ادا کرنا چاہیے کہ حق تعالی کی خوب اطاعت کرے۔۔

حدیث میں ہے کہ جو روزہ دار کو روزہ افطار کرائے تو اس روزہ افطار کرانے والے کو اس روزہ رکھنے والے کے ثواب کے برابر ثواب ملے گا بغیر اس بات کے کہ روزہ دار کا کچھ ثواب کم ہو یعنی روزہ دار کا ثواب کچھ کم نہ ہو گا بلکہ حق تعالی اپنے فضل و کرم سے اپنی طرف سے روزہ افطار کرانے والے کو اس روزہ دار کی برابر ثواب مرحمت فرمائیں گے اگرچہ کسی معمولی ہی کھانے سے روزہ افطار کرا دے گو وہ پانی ہی ہو۔

حدیث میں ہے بے شک اللہ تعالی نے ثواب مقرر کیا ہے بنی دم کی نیکیوں کا دس گنے سے سات سو گنے تک۔ فرماتا ہے اللہ تعالی مگر روزہ یعنی روزہ میں سات سو کی حد نہیں ہے اور روزہ خاص میرے لیے ہے اور میں ہی اس کی جزا دوں گا اس سے روزہ کے ثواب کی عظمت کا اندازہ کرنا چاہیے کہ جس کا حساب ہی نہیں معلوم کہ وہ ثواب کس قدر ہے اور خود حق تعالی اس کو عطا فرمائیں گے اور اس کا بندوبست ملائکہ کے ذریعہ سے نہ ہو گا۔ سبحان اللہ کیا قدر دانی ہے حق تعالی کی تھوڑی سی محنت پر کس قدر عوض مرحمت فرماتے ہیں مگر یہ ضرور ہے کہ روزے کی یہ تمام فضیلتیں جب ہی اپنا اثر دکھلائیں گی جبکہ روزہ کا حق ادا کرے اور اس میں جھوٹ غیبت اور تمام گناہوں سے بچے۔ بعضے لوگ بالکل اور بعضے صبح کی نماز رمضان میں بے پروائی سے قضا کر دیتے ہیں ان کو اس قدر برکت اور ایسا ثواب میسر نہ ہو گا۔ اور اس حدیث سے یہ شبہ نہ ہو کہ روزہ نماز سے بھی افضل ہے اس لیے کہ نماز تمام عبادات میں افضل ہے۔ مراد اس مضمون سے یہ ہے کہ روزہ کا بہت بڑا ثواب ہے اور بس۔ یہ غرض نہیں ہے کہ تمام عبادتوں سے روزہ افضل ہے اور بے شک روزہ دار کے لیے دو خوشیاں ہیں۔ ایک خوشی جب ہوتی ہے جبکہ روزہ افطار کرتا ہے اور دوسری خوشی قیامت کو ہو گی۔ خدا تعالی سے ملنے کے وقت جیسا کہ بعض احادیث میں تصریح بھی آئی ہے۔ حدیث میں ہے جبکہ رمضان مبارک کی پہلی رات ہوتی ہے کھول دئیے جاتے ہیں دروازے آسمان کے اور ان دروازوں میں سے کوئی دروازہ رمضان کی آخر رات تک بھی بند نہیں کیا جاتا۔ اور ایسا کوئی مسلمان نہیں ہے کہ نماز پڑھے کسی رات میں رمضان کی راتوں میں سے مگر یہ بات ہے کہ لکھے گا اللہ تعالی اس کے لیے ڈھائی ہزار نیکیاں عوض ہر رکعت کے یعنی ایک رکعت کے عوض ڈھائی ہزار نیکیوں کا ثواب لکھا جاتا ہے اور بنا دے گا حق تعالی اس کے لیے ایک مکان جنت میں سرخ یاقوت سے جس کے ساٹھ دروازے ہوں گے اور ہر دروازے کے لیے ایک سونے کا محل ہو گا جو راستہ ہو گا سرخ یاقوت سے پھر جب روزہ دار روزہ رکھتا ہے رمضان کے پہلے دن کا تو اس کے گناہ معاف کر دیئے جاتے ہیں جو رمضان گذشتہ کی اس تاریخ تک کے ہیں۔ پچھلے رمضان کی پہلی تاریخ تک یعنی گناہ صغیرہ اس سال کے جو گزر گیا معاف کر دیئے جاتے ہیں اور مغفرت طلب کرتے ہیں اس کے لیے روز مرہ ستر ہزار فرشتے صبح کی نماز سے آیت چھپنے تک اور ملے گا اس کو بدلے میں ہر رکعت کے جس کو پڑھتا ہے رمضان کے مہینہ میں رات میں یا دن میں ایک درخت جنت میں ایسا جس کے سایہ میں سوار پانچ سو برس چل سکتا ہے۔ کس قدر بڑی فضیلت ہے روزے کی مسلمانو کبھی قضا نہ ہونے دو بلکہ ہمت ہو تو نفل روزوں سے بھی مشرف ہو لیا کرو اور اللہ تعالی سے پورے طور پر محبت کرو جس نے اس قدر رحمت سے کام لیا کہ معمولی محنت میں اس قدر ثواب مرحمت فرمایا۔ کم سے کم اپنے مطلب ہی کے لیے کہ جنت میں بڑی بڑی نعمتیں ملیں خدا کو اپنا محبوب بنا لو۔ حدیث میں ہے کہ بے شک جنت سجائی جاتی ہے ابتدائے سال سے آخر سال تک رمضان کے مہینے کے لیے اور بے شک حوریں بڑی بڑی آنکھوں والی بناؤ سنگار کرتی ہیں ابتدائے سال سے آخر سال تک رمضان کے روزہ داروں کے لیے۔ پس جبکہ رمضان آتا ہے جنت کہتی ہے اے اللہ میرے اندر داخل کر دے اس مہینہ میں اپنے بندوں کو یعنی حکم فرما دیجئے کہ قیامت کو میرے اندر داخل ہوں اور بڑی بڑی آنکھوں والی حوریں کہتی ہیں اے اللہ مقرر فرما دے ہمارے لیے اس مہینہ میں خاوند اپنے بندوں میں سے۔

سو جس شخص نے نہ لگائی اس مہینہ میں کسی مسلمان کو تہمت اور نہ پی اس مہینہ میں کوئی نشہ لانے والی چیز۔ مٹا دے گا اللہ تعالی اس کے گناہ۔ اور جس شخص نے تہمت لگائی اس ماہ میں کسی مسلمان کو یا پی اس مہینہ میں کوئی نشہ والی چیز مٹا دے گا حق تعالی اس کے سال بھر کے نیک اعمال یعنی بہت گناہ ہو گا۔ کیونکہ بزرگ زمانہ میں جس طرح نیکیوں کا ثواب زیادہ ملتا ہے اسی طرح گناہوں کا عذاب بھی زیادہ ہوتا ہے۔ ان لفظوں میں کس قدر دھمکی ہے غور تو کرو۔ سو ڈرو رمضان کے مہینے سے اس لیے کہ تحقیق وہ مہینہ اللہ کا ہے جس میں بندوں کو حکم ہوتا ہے کہ اللہ کی عادت اختیار کریں کھانا پینا چھوڑ دیں جیسا کہ اللہ تعالی ہمیشہ کھانے پینے سے پاک رہتا ہے اسی واسطے یہ مہینہ خاص کیا گیا حق تعالی کے ساتھ۔

ورنہ سب مہینے اللہ تعالی ہی کے ہیں تمہارے لیے گیارہ مہینے خدائے تعالی نے مقرر کر دیئے ہیں جن میں تم کھانا کھاتے ہو اور پانی پیتے ہو اور لذت حاصل کرتے ہو اور اپنی ذات کے لیے ایک مہینہ مقرر کیا ہے جس میں کھانے پینے وغیرہ سے تم کو روکا گیا ہے پس ڈرو رمضان کے مہینے سے اس لیے کہ بے شک وہ مہینہ اللہ تبارک و تعالی کا ہے تو اچھی طرح اس میں اطاعت حق بجا لاؤ اور گناہ نہ کرو اگرچہ اطاعت ہمیشہ ضرور ہے لیکن خاص جگہ جیسے مکہ معظمہ و مدینہ منورہ اور خاص ایام مثلاً رمضان مبارک وغیرہ میں نیکیوں کے کرنے اور گناہوں سے بچنے کا خاص اہتمام کرنا چاہیے کہ بزرگ جگہ اور بزرگ دنوں میں نیکیوں کا ثواب زیادہ اور اسی طرح گناہوں کا عذاب بھی زیادہ ہوتا ہے۔حدیث۔میں ہے کہ جب تم میں سے کسی کے سامنے کھانا قریب کیا جائے اس حال میں کہ وہ روزہ دار ہو یعنی روزہ افطار کرنے کے لیے کوئی چیز اس کے پاس رکھی جائے تو چاہیے کہ کہے یعنی افطار سے پہلے یہ دعا پڑھے بسم اللہ والحمدللہ اللہم لک صمت وعلی رزک افطرت وعلیک توکلت سبحانک وبحمدک تقبل منی انک انت السمیع العلیم۔ حدیث میں ہے کہ جب تم میں سے کوئی روزہ افطار کرے تو مناسب ہے کہ چھوہارے سے افطار کرے اس لیے کہ وہ برکت ہے۔ پھر اگر نہ پائے چھوہارہ تو مناسب ہے کہ افطار کرے پانی سے اس لیے کہ تحقیق وہ پاک کرنے والی چیز ہے۔ بعض احادیث میں پانی ملے ہوئے دودھ سے افطار کرنے کا بھی حکم وارد ہوا ہے۔۔

حدیث میں ہے کہ جس نے روزے رکھے چالیس دن اس حال میں کہ وہ نہیں طلب کرتا ہے اس روزہ رکھنے سے مگر خدا کی رضا مندی یعنی فقط رضائے الٰہی مطلوب ہو کوئی اور غرض ریا وغیرہ مطلوب نہ ہو تو نہ مانگے گا وہ اللہ سے کچھ مگر یہ بات ہے کہ دے گا اللہ اس کو وہ چیز یعنی چالیس دن محض حق تعالی کے راضی کرنے کے لیے روزے رکھنے سے دعاء قبول ہونے لگتی ہے اور ایسا شخص حق تعالی کا ایسا مقبول ہو جاتا ہے کہ اس کی ہر دعا جو اللہ کے نزدیک اس کے لیے بہتر ہو گی ضرور ہو گی۔ حضرات صوفیہ رضی اللہ عنہم نے چلہ نشینی تجویز فرمائی ہے یعنی چالیس روز تک تمام تعلقات دنیا کو چھوڑ کر کسی مسجد میں عبادت کرنا اور روزے سے رہنا اس سے بہت بڑا نفع ہوتا ہے دن کا۔ اور نیکیوں کی عمدہ قوت پیدا ہو جاتی ہے اور اس کی برکت سے اللہ پاک کی طرف سے خاص خاص علوم عطا ہوتے ہیں اور فہم عمدہ ہو جاتا ہے رواہ الدیلمی عن واثلۃ ولفظہ من صام اربعین صیاما مایریدبہ الاوجہ اللہ تعالی لم یسال اللہ تعالی شیئا الا اعطاہ۔ حدیث میں ہے کہ جس نے روزہ رکھا ہر محترم مہینہ میں جمعرات اور جمعہ اور سینچر کو لکھے گا اللہ تعالی اس کے لیے سات سو برس کی عبادت یعنی سات سو برس کی عبادت کا ثواب اس کے لیے لکھا جاتا ہے اور محترم مہینے یعنی عزت کے مہینے چار ہیں۔ رجب ذیقعدہ عشرہ ذی الحجہ یعنی بقر عید کے مہینے کے اول کے دس دن اور محترم مگر دسویں گیارہویں بارہویں تیرہویں ذی الحجہ کو روزہ رکھنا منع ہے۔ روا ابن شاہین فی الترغیب وابن عساکر عن انس بسند ضعیف ولفظہ من صام فی کل شہر حرام الخمیس والجمعۃ والسبت کتب اللہ تعالی لہ عبادۃ سبع مائۃ سنۃ۔

حدیث میں ہے کہ جس نے روزہ رکھا تین دن کسی محترم مہینے میں جمعرات اور جمعہ اور سینچر کے دن لکھے گا حق تعالی اس کے لیے دو سال کی عبادت یعنی اللہ تعالی اس کو دو سال کی عبادت کا ثواب ان تین روزوں کے عوض قیامت کے دن مرحمت فرمائیں گے اور اس وقت یہ ثواب نامہ اعمال میں لکھ لیا جائے گا۔ رواہ الطبرانی فی الاوسط عن ابن عباس لفظ من صام ثلثۃ ایام من شہر حرام الخمیس والجمعۃ والسبت کتب اللہ تعالی لہ عبادۃ سنتین انتہی۔

نوٹ رسالہ فضائل رمضان مصنفہ حضرت مولانا محمد زکریا صاحب شیخ الحدیث سہارنپور میں پوری تفصیلات ملاحظہ فرمائیں

جن وجہوں سے روزہ نہ رکھنا جائز ہے ان کا بیان

مسئلہ۔ عورت کو حیض آ گیا یا بچہ پیدا ہوا اور نفاس ہو گیا تو حیض اور نفاس رہنے تک روزہ رکھنا درست نہیں۔

مسئلہ۔ اگر رات کو پاک ہو گئی تو اب صبح کو روزہ نہ چھوڑے۔ اگر رات کو نہ نہائی ہو تب بھی روزہ رکھ لے اور صبح کو نہا لے۔ اور اگر صبح ہونے کے بعد پاک ہوئی تو اب پاک ہونے کے بعد روزہ کی نیت کرنا درست نہیں۔ لیکن کچھ کھانا پینا بھی درست نہیں ہے اب دن بھر روزہ داروں کی طرح رہنا چاہیے۔

جن چیزوں سے روزہ نہیں ٹوٹتا اور جن سے ٹوٹ جاتا ہے

مسئلہ۔ دن کو سو گئی ایسا خواب دیکھا جس سے نہانے کی ضرورت ہو گئی تو روزہ نہیں ٹوٹا۔

مسئلہ۔ مرد اور عورت کا ساتھ لیٹنا ہاتھ لگانا پیار کرنا یہ سب درست ہے لیکن اگر جوانی کا اتنا جوش ہو کہ ان باتوں سے صحبت کرنے کا ڈر ہو تو ایسا نہ کرنا چاہیے مکروہ ہے۔

مسئلہ۔ رات کو نہانے کی ضرورت ہوئی مگر غسل نہیں کیا دن کو نہائی تب بھی روزہ ہو گیا بلکہ اگر دن بھر نہ نہائے تب بھی روزہ نہیں جاتا البتہ اس کا گناہ الگ ہو گا۔

مسئلہ۔ اگر مرد سے ہمبستری ہوئی تب بھی روزہ جاتا رہا اس کی قضا بھی رکھے اور کفارہ بھی دے دے۔ جب مرد کے پیشاب کے مقام کی سپاری اندر چلی گئی تو روزہ ٹوٹ گیا اور قضا و کفارہ واجب ہو گئے چاہے منی نکلے یہ نہ نکلے۔

مسئلہ۔ اگر مرد نے پاخانہ کی جگہ اپنا عضو کر دیا اور سپاری اندر چلی گئی تب بھی عورت مرد دونوں کا روزہ جاتا رہا قضا و کفارہ دونوں واجب ہیں۔

مسئلہ۔ روزہ میں پیشاب کی جگہ کوئی دوا رکھنا یا تیل وغیرہ کوئی چیز ڈالنا درست نہیں اگر کسی نے دوا رکھ لی تو روزہ جاتا رہا قضا واجب ہے کفارہ واجب نہیں۔

مسئلہ۔ کسی ضرورت سے دائی نے پیشاب کی جگہ انگلی ڈالی یا خود سے اپنی انگلی ڈالی پھر ساری انگلی یاتھوڑی سی انگلی نکالنے کے بعد پھر کر دی تو روزہ جاتا رہا لیکن کفارہ واجب نہیں اور اگر نکالنے کے بعد پھر نہیں کی تو روزہ نہیں گیا ہاں اگر پہلے ہی سے پانی وغیرہ کسی چیز میں انگلی بھیگی ہوئی ہو تو اول ہی دفعہ کرنے سے روزہ جاتا رہے گا۔

مسئلہ۔ کوئی عورت غافل سو رہی تھی یا بیہوش پڑی تھی اس سے کسی نے صحبت کی تو روزہ جاتا رہا فقط قضا واجب ہے کفارہ واجب نہیں اور مرد پر کفارہ بھی واجب ہے۔

کوئی چیز پڑی پانے کا بیان

مسئلہ۔ کہیں راستہ گلی میں یا بیبیوں کی محفل میں یا اپنے یہاں کوئی مہمانداری ہوئی تھی یا وعظ کہلوایا تھا سب کے جانے کے بعد کچھ ملایا اور کہیں کوئی چیز پڑی پائی تو اس کو خود لے لینا درست نہیں حرام ہے اگر اٹھائے تو اس نیت سے اٹھائے کہ اس کے مالک کو تلاش کر کے دے دوں گی۔

مسئلہ۔ اگر کوئی چیز پائی اور اس کو نہ اٹھایا تو کوئی گناہ نہیں لیکن اگر یہ ڈر ہو کہ اگر میں نہ اٹھاؤں گی تو کوئی اور لے لے گا اور جس کی چیز ہے اس کو نہ ملے گی تو اس کا اٹھا لینا اور مالک کو پہنچا دینا واجب ہے۔

مسئلہ۔ جب کسی نے پڑی ہوئی چیز اٹھائی تو اب مالک کا تلاش کرنا اور تلاش کر کے دے دینا اس کے ذمے ہو گیا اب اگر پھر وہیں ڈال دیں یا اٹھا کر اپنے گھر لے آئی لیکن مالک کو تلاش نہیں کیا تو گنہگار ہوئی۔ خواہ ایسی جگہ پڑی ہو کہ اٹھانا اس کے ذمے واجب نہ تھا یعنی کسی محفوظ جگہ پڑی تھی کہ ضائع ہو جانے کا ڈر نہیں تھا یا ایسی جگہ ہو کہ اٹھا لینا واجب تھا۔ دونوں کا یہی حکم ہے کہ اٹھا لینے کے بعد مالک کو تلاش کر کر پہنانا واجب ہو جاتا ہے پھر وہیں ڈال دینا جائز نہیں۔

مسئلہ۔ محفلوں میں مردوں اور عورتوں کے جماؤ جم گھٹے میں خوب پکارے تلاش کرے اگر مردوں میں خود نہ جا سکے نہ پکار سکے تو اپنے میاں وغیرہ کسی اور سے پکڑوائے اور خوب مشہور کرا دے کہ ہم نے ایک چیز پائی ہے جس کی ہو ہم سے کر لے لیوے یہ ٹھیک پتہ نہ دے کہ کیا چیز پائی ہے تاکہ کوئی جھوٹ فریب کر کے نہ لے سکے۔ البتہ کچھ گول مول ادھورا پتہ بتلا دینا چاہیے۔ مثلاً یہ کہ ایک زیور ہے یا ایک کپڑا ہے یا ایک بٹوا ہے جس میں کچھ نقد ہے۔ اگر کوئی آئے اور اپنی چیز کا ٹھیک ٹھیک پتہ دے دے تو اس کے حوالہ کر دینا چاہیے۔

مسئلہ۔ بہت تلاش کرنے اور مشہور کرنے کے بعد جب بالکل مایوسی ہو جائے کہ اب اس کا کوئی وارث نہ ملے گا تو اس چیز کو خیرات کر دے اپنے پاس نہ رکھے البتہ اگر وہ خود غریب محتاج ہو تو خود ہی اپنے کام میں لائے لیکن خیرات کرنے کے بعد اگر اس کا مالک گیا تو اس کے دام لے سکتاہے اور اگر خیرات کرنے کو منظور کر لیا تو اس کو اس خیرات کا ثواب مل جائے گا۔

مسئلہ۔ پالتو کبوتر یا طوطا مینا اور کوئی چڑیا اس کے گھر گر پڑی اور اس نے اس کو پکڑ لیا تو مالک کو تلاش کر کے پہنچانا واجب ہو گیا خود لے لینا حرام ہے۔

مسئلہ۔ باغ میں آیا امرود وغیرہ پڑے ہیں تو ان کو بلا اجازت اٹھانا اور کھانا حرام ہے البتہ اگر کوئی ایسی کم قدر چیز ہے کہ ایسی چیز کو کوئی تلاش نہیں کرتا اور نہ اس کے لینے کھانے سے کوئی برا مانتا ہے تو اس کو خرچ میں لانا درست ہے مثلاً راہ میں ایک بیر پڑا ملا یا ایک مٹھی چنے کے بوٹ ملے۔

مسئلہ۔ کسی مکان یا جنگل میں خزانہ یعنی کچھ گڑا ہوا مال نکل آیا تو اس کا بھی وہی حکم ہے جو پڑی ہوئی چیز کا حکم ہے خود لے لینا جائز نہیں تلاش و کوشش کرنے کے بعد اگر مالک کا پتہ نہ چلے تو اس کو خیرات کر دے اور غریب ہو تو خود بھی لے سکتی ہے۔