متفرقات

مسئلہ۔ ہر ہفتہ نہا دھو کر ناف سے نیچے اور بغل وغیرہ کے بال دور کر کے بدن کو صاف ستھرا کرنا مستحب ہے۔ ہر ہفتہ نہ ہو تو پندرہویں دن سہی زیادہ سے زیادہ چالیس دن اس سے زیادہ کی اجازت نہیں اگر چالیس دن گزر گئے اور بال صاف نہ کیے تو گناہ ہوا۔

مسئلہ۔ اپنے ماں باپ شوہر وغیرہ کو نام لے کر پکارنا مکروہ اور منع ہے کیونکہ اس میں بے ادبی ہے لیکن ضرورت کے وقت جس طرح ماں باپ کا نام لینا درست ہے اسی طرح شوہر کا نام لینا بھی درست ہے اسی طرح اٹھتے بیٹھتے بات چیت کرتے ہر بات میں ادب تعظیم کا لحاظ رکھنا چاہیے۔

مسئلہ۔ کسی جاندار چیز کو آگ میں جلانا درست نہیں جیسے بھڑوں کا پھونکنا۔ کھٹمل وغیرہ پکڑ کر آگ میں ڈال دینا یہ سب ناجائز ہے البتہ اگر مجبوری ہو کہ بغیر پھونکے کا م نہ چلے تو بھڑوں کا پھونک دینا یا چارپائی میں کھولتا ہوا پانی ڈال دینا درست ہے۔

مسئلہ۔ کسی بات کی شرط باندھنا جائز نہیں جیسے کوئی کہے سیر بھر مٹھائی کھا جاؤ تو ہم ایک روپیہ دیں گے اور اگر نہ کھا سکے تو ایک روپیہ ہم تم سے لیں گے غرض جب دونوں طرف سے شرط ہو تو جائز نہیں البتہ اگر ایک ہی طرف سے ہو تو درست ہے۔

مسئلہ۔ جب کوئی دو آدمی چپکے چپکے باتیں کرتے ہوں تو ان کے پاس نہ جانا چاہیے۔ چھپ کران کو سننا بڑا گناہ ہے۔ حدیث شریف میں آیا ہے جو کوئی دوسروں کی بات کی طرف کان لگائے اور ان کو ناگوار ہو تو قیامت کے دن اس کے کان میں گرم گرم سیسہ ڈالا جائے گا اس سے معلوم ہوا کہ بیاہ شادی میں دولہا دلہن کی باتیں سننا دیکھنا بہت بڑا گناہ ہے۔

مسئلہ۔ شوہر کے ساتھ جو باتیں ہوئی ہوں جو کچھ معاملہ پیش آیا ہو کسی اور سے کہنا بڑا گناہ ہے۔ حدیث میں آیا ہے کہ ان بھیدوں کے بتلانے والے پر سب سے زیادہ اللہ تعالی کا غصہ اور غضب ہوتا ہے۔

مسئلہ۔ اسی طرح کسی کے ساتھ ہنسی اور چہل کرنا کہ اس کو ناگوار ہو یا تکلیف ہو درست نہیں۔ آدمی وہیں تک گدگدائے جہاں تک ہنسی آئے۔

مسئلہ۔ مصلحت کے وقت موت کی تمنا کرنا اپنے کو کوسنا درست نہیں۔

مسئلہ۔ پچیسی، چوسر، تاش وغیرہ کھیلنا درست نہیں اور اگر بازی بد کر کھیلے تو یہ صریح جوا اور حرام ہے۔

مسئلہ۔ جب لڑکا لڑکی دس برس کے ہو جائیں تو لڑکوں کو ماں بہن بھائی وغیرہ کے پاس اور لڑکیوں کو بھائی اور باپ کے پاس لٹانا درست نہیں۔ البتہ لڑکا اگر باپ کے پاس اور لڑکی ماں کے پاس لیٹے تو جائز ہے۔

مسئلہ۔ جب کسی کو چھینک آئے تو الحمد للہ کہہ لینا بہتر ہے اور جب الحمد للہ کہہ لیا تو سننے والے پر اس کے جواب میں یرحمک اللہ کہنا واجب ہے نہ کہے گی تو گنہگار ہو گی اور یہ بھی خیال رکھو کہ اگر چھینکنے والی عورت یا لڑکی ہے تو کاف کا زیر کہو اور اگر مرد یا لڑکا ہے تو کاف کا زبر کہو۔ پھر چھینکنے والی اس کے جواب میں کہے یغفراللہ لنا ولکم لیکن چھیننے والی کے ذمہ یہ جواب واجب نہیں بلکہ بہتر ہے۔

مسئلہ۔ چھینک کے بعد الحمد للہ کہتے کئی آدمیوں نے سنا تو سب کو یرحمک اللہ کہنا واجب نہیں اگر ان میں سے ایک کہہ دے تو سب کی طرف سے ادا ہو جائے گا لیکن اگر کسی نے جواب نہ دیا تو سب گنہگار ہوں گے۔

مسئلہ۔ اگر کوئی بار بار چھینکے اور الحمدللہ کہے تو فقط تین بار یرحمک اللہ کہنا واجب ہے اس کے بعد واجب نہیں۔

مسئلہ۔ جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا نام مبارک لے یا پڑھے یا سنے تو درود شریف پڑھنا واجب ہو جاتا ہے اگر نہ پڑھا تو گناہ ہوا لیکن اگر ایک ہی جگہ کئی دفعہ نام لیا تو ہر دفعہ درود شریف پڑھنا واجب نہیں ایک ہی دفعہ پڑھ لینا کافی ہے البتہ اگر جگہ بدل جانے کے بعد پھر نام لیا یا سناتو پھر درود پڑھنا واجب ہو گیا۔

مسئلہ۔ بچوں کی بابری وغیرہ بنوانا جائز نہیں یا تو سارا سرمنڈوا دو یا سارے سر پر بال رکھواؤ۔

مسئلہ۔ عطر وغیرہ کسی خوشبو میں اپنے کپڑے بسانا اس طرح کہ غیر مردوں تک اس کی خوشبو جائے درست نہیں۔

مسئلہ۔ ناجائز لباس کا سی کر دینا بھی جائز نہیں مثلاً شوہر ایسا لباس سلوا دے جو اس کو پہننا جائز نہیں تو عذر کر دے اسی طرح درزن سلائی پر ایسا کپڑا نہ سئے۔

مسئلہ۔ جھوٹے قصے اور بے سند حدیثیں جو جاہلوں نے اردو کتابوں میں لکھ دیں اور معتبر کتابوں میں ان کا کہیں ثبوت نہیں جسے نور نامہ وغیرہ اور حسن و عشق کی کتابیں دیکھنا اور پڑھنا جائز نہیں اسی طرح غزل اور قصیدوں کی کتابیں خاص کر آجکل کے ناول عورتوں کو ہرگز نہ دیکھنا چاہیے۔ ان کا خریدنا بھی جائز نہیں اگر اپنی لڑکیوں کے پاس دیکھو جلا دو۔

مسئلہ۔ عورتوں میں بھی السلام علیکم اور مصافحہ کرنا سنت ہے اس کو رواج دینا چاہیے پس میں کیا کرو۔

مسئلہ۔ جہاں تم مہمان جاؤ کسی فقیر و غیرہ کو روٹی کھانا مت دو بغیر گھر والے سے اجازت لیے دینا گناہ ہے۔

٭٭٭

لباس اور پردے کا بیان

مسئلہ۔ چھوٹے لڑکوں کو کڑے ہنسلی وغیرہ کوئی زیور اور ریشمی کپڑا پہنانا مخمل پہنانا جائز نہیں اسی طرح ریشمی اور چاندی سونے کا تعویذ بنا کر پہنانا اور کسم و زعفران کا رنگا ہوا کپڑا پہنانا بھی درست نہیں۔ غرض جو چیزیں مردوں کو حرام ہیں وہ لڑکوں کو بھی نہ پہنانا چاہیے۔ البتہ اگر بانا سوت کا ہو اور تانا ریشمی ایسا کپڑا لڑکوں کو پہنانا جائز ہے۔ اسی طرح اگر کسی مخمل کا رواں ریشم کا نہ ہو وہ بھی درست ہے اور یہ سب مردوں کو بھی درست ہے اور گوٹہ لچکہ لگا کر کپڑے پہنانا بھی درست ہے لیکن وہ لچکہ چار انگل سے زیادہ چوڑا نہ ہونا چاہیے۔

مسئلہ۔ سچی کامدار ٹوپی یا کوئی کپڑا لڑکوں کو اس وقت جائز ہے جب بہت گھنا کام نہ ہو اگر اتنا زیادہ کام ہے کہ ذرا دور سے دیکھنے سے سب کام ہی کام معلوم ہوتا ہے کپڑا بالکل دکھائی نہیں دیتا تو اس کا پہنانا جائز ہیں۔ یہی حال ریشمی کام کا ہے کہ اگر اتنا گھنا ہو تو لڑکوں کو پہنانا جائز نہیں۔

مسئلہ۔ بہت باریک کپڑا جیسے ململ، جالی، بک، آب رواں ان کا پہننا اور ننگے رہنا دونوں برابر ہیں۔ حدیث شریف میں آیا ہے کہ بہتیری کپڑا پہننے والیاں قیامت کے دن ننگی سمجھی جائیں گی۔ اگر کرتہ دوپٹہ دونوں باریک ہوں اور بھی غضب ہے۔

مسئلہ۔ مردانہ جوتا پہننا اور مردانی صورت بنانا جائز نہیں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسی عورتوں پر لعنت فرمائی ہے۔

مسئلہ۔ عورتوں کو ان کے زیور پہننا جائز ہے لیکن زیادہ نہ پہننا بہتر ہے جس نے دنیا میں نہ پہنا اس کو آخرت میں ملے گا اور بجتا زیور پہننا درست نہیں جیسے جھانجھ چھاگل پازیب وغیرہ اور بجتا زیور چھوٹی لڑکیوں کو پہنانا بھی جائز نہیں چاندی سونے کے علاوہ اور کسی چیز کا زیور پہننا بھی درست ہے جسے پیتل گلٹ رانگا وغیرہ مگر انگوٹھی سونے چاندی کے علاوہ اور کسی چیز کی درست نہیں۔

مسئلہ۔ عورت کو سارا بدن سے سر پیر تک چھپائے رکھنے کا حکم ہے غیر محرم کے سامنے کھولنا درست نہیں۔ البتہ بوڑھی عورت کو صرف منہ اور ہتھیلی اور ٹخنے سے نیچے پیر کھولنا درست ہے باقی اور بدن کا کھولنا کسی طرح درست نہیں۔ ماتھے پر سے اکثر دوپٹہ سرک جاتا ہے اور اسی طرح غیر محرم کے سامنے جاتی ہیں یہ جائز نہیں۔ غیر محرم کے سامنے ایک بال بھی نہ کھولنا چاہیے بلکہ جو بال کنگھی میں ٹوٹے ہیں اور کٹے ہوئے ناخن بھی کسی ایسی جگہ ڈالے کہ کسی غیر محرم کی نگاہ نہ پڑے نہیں تو گنہگار ہو گی اسی طرح اپنے کسی بدن کو یعنی ہاتھ پاؤں وغیرہ کسی عضو کا نامحرم کے مرد کے بدن سے لگانا بھی درست نہیں۔

مسئلہ۔ جوان عورت کو غیر مرد کے سامنے اپنا منہ کھولنا درست نہیں۔ نہ ایسی جگہ کھڑی ہو جہاں کوئی دوسرا دیکھ سکے۔ اسی سے معلوم ہو گیا کہ نئی دلہن کا منہ دکھائی کا جو دستور ہے کہ کنبے کے سارے مرد منہ دیکھتے ہیں یہ ہرگز جائز نہیں اور بڑا گناہ ہے۔

مسئلہ۔ اپنے محرم کے سامنے منہ اور سر اور سینہ اور باہیں اور پنڈلی کھل جائے تو کچھ گناہ نہیں اور پیٹ اور پیٹھ اور ران ان کے سامنے بھی نہ کھلنا چاہیے۔

مسئلہ۔ ناف سے لے کر زانوں کے نیچے تک کسی عورت کے سامنے بھی کھولنا درست نہیں بعضی عورتیں ننگی سامنے نہاتی ہیں یہ بڑی بے غیرتی اور ناجائز بات ہے۔ چھٹی چھلے میں ننگی کر کے نہلانا اور اس پر مجبور کرنا درست نہیں۔ ناف سے زانو تک ہرگز بدن کو ننگا نہ کرنا چاہیے۔

مسئلہ۔ اگر کوئی مجبوری ہو تو ضرورت کے موافق اپنا بدن دکھلا دینا درست ہے مثلاً ران میں پھوڑا ہے تو صرف پھوڑے کی جگہ کھولو زیادہ ہرگز نہ کھولو۔ اس کی صورت یہ ہے کہ پرانا پائجامہ یا چادر پہن لو اور پھوڑے کی جگہ کاٹ دو اس کو جراح دیکھ لے۔ لیکن جراح کے سوا اور کسی کو دیکھنا جائز نہیں کسی مرد کو نہ عورت کو البتہ اگر ناف اور زانو کے درمیان نہ ہو کہیں اور ہو تو عورت کو دکھلانا درست ہے۔ اسی طرح عمل لیتے وقت صرف ضرورت کے موافق اتنا ہی بدن کھولنا درست ہے زیادہ کھولنا درست نہیں۔ یہی حکم دائی جنائی کا ہے کہ ضرورت کے وقت اس کے سامنے بدن کھولنا درست ہے لیکن جتنی ضرورت ہے اس سے زیادہ کھولنا درست نہیں۔ بچہ پیدا ہونے کے وقت یا کوئی دوا لیتے وقت فقط اتنا ہی بدن کھولنا چاہیے بالکل ننگی ہو جانا جائز نہیں اس کی صورت یہ ہے کہ کوئی چادر وغیرہ بندھوا دی جائے اور ضرورت کے موافق دائی کے سامنے بدن کھول دیا جائے رانیں وغیرہ نہ کھلنے پائیں اور دائی کے سوا کسی اور کو بدن دیکھنا درست نہیں بالکل ننگی کر دینا اور ساری عورتوں کا سامنے بیٹھ کر دیکھنا حرام ہے۔ حضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے ستر دیکھنے والی اور دکھلانے والی دونوں پر خدا کی لعنت ہو۔ اس قسم کے مسئلوں کا بہت خیال رکھنا چاہیے۔

مسئلہ۔ زمانہ حمل وغیرہ میں اگر دائی سے پیٹ ملوانا ہو تو ناف سے نیچے بدن کا کھولنا درست نہیں۔ دوپٹہ وغیرہ ڈال لینا چاہیے۔ بلا ضرورت دائی کو بھی دکھانا جائز نہیں۔ یہ دستور ہے کہ پیٹ ملتے وقت دائی بھی دیکھتی ہے اور دوسری گھر والی ماں بہن وغیرہ بھی دیکھتی ہے یہ جائز نہیں۔

مسئلہ۔ جتنے بدن کا دیکھنا جائز نہیں وہاں ہاتھ لگانا بھی جائز نہیں اس لیے نہاتے وقت اگر بدن بھی نہ کھولے تب بھی نائن وغیرہ سے رانیں ملوانا درست نہیں اگرچہ کپڑے کے اندر ہاتھ ڈال کر ملے البتہ اگر نائن اپنے ہاتھ میں کیسہ پہن کر کپڑے کے اندر ہاتھ ڈال کر ملے تو جائز ہے۔

مسئلہ۔ کافر عورتیں جیسے اہیرن تنبوان تیلن کولن دھوبن بھنگن چماری وغیرہ جو گھروں میں جاتی ہیں ان کا حکم یہ ہے کہ جتنا پردہ نامحرم مرد سے ہے اتنا ہی ان عورتوں سے بھی واجب ہے سوائے منہ اور گٹے تک ہاتھ اور ٹخنے تک پیر کے اور کسی ایک بال کا کھولنا بھی درست نہیں اس مسئلہ کو خوب یاد رکھو سب عورتیں اس کے خلاف کرتی ہیں غرض سر اور سارا ہاتھ اور پنڈلی ان کے سامنے مت کھولو اور اس سے یہ بھی سمجھ لو کہ اگر دائی جنائی ہندو یا میم ہو تو بچہ پیدا ہونے کا مقام تو اس کو دکھلانا درست ہے اور سر وغیرہ اور اعضا اس کے سامنے کھولنا درست نہیں۔

مسئلہ۔ اپنے شوہر سے کسی جگہ کا پردہ نہیں ہے تم کو اس کے سامنے اور اس کو تمہارے سامنے سارے بدن کا کھولنا درست ہے مگر بے ضرورت ایسا کرنا اچھا نہیں۔

مسئلہ۔ جس طرح خود مردوں کے سامنے آنا اور بدن کھولنا درست نہیں اسی طرح جھانک تاک کے مردوں کو دیکھنا بھی درست نہیں۔ عورتیں یوں سمجھتی ہیں کہ مرد ہم کو نہ دیکھیں ہم ان کو دیکھ لیں تو کچھ حرج نہیں یہ بالکل غلط ہے۔ کواڑ کی راہ یا کوٹھے پر سے مردوں کو دیکھنا دولہا کے سامنے جانا یا اور کسی دولہا کو دیکھنا یہ سب ناجائز ہے۔

مسئلہ۔ نامحرم کے ساتھ تنہائی کی جگہ بیٹھنا لیٹنا درست نہیں اگرچہ دونوں الگ الگ اور کچھ فاصلہ پر ہوں تب بھی جائز نہیں۔

مسئلہ۔ اپنے پیر کے سامنے نا ایسا ہی ہے جیسے کسی غیر محرم کے سامنے آنا اس لیے یہ بھی جائز نہیں۔ اسی طرح لے پالک لڑکا بالکل غیر ہوتا ہے لڑکا بنانے سے سچ مچ لڑکا نہیں بن جاتا سب کو اس سے وہی برتاؤ کرنا چاہیے جو بالکل غیروں کے ساتھ ہوتا ہے۔ اس طرح جو نامحرم رشتہ دار ہیں جیسے دیور جیٹھ بہنوئی نندوئی چچا زاد پھوپھی زاد ماموں زاد بھائی وغیرہ یہ سب شرع میں غیر ہیں سب سے گہرا پردہ ہونا چاہیے۔

مسئلہ۔ ہیجڑے خوجے اندھے کے سامنے آنا بھی جائز نہیں۔

مسئلہ۔ بعضی بعضی منہیار سے چوڑیا پہنتی ہیں یہ بڑی بیہودہ بات ہے اور حرام ہے بلکہ جو عورتیں باہر نکلتی ہیں ا نکو بھی اس سے چوڑیاں پہننا جائز نہیں۔

چاندی سونے کے برتنوں کا بیان

مسئلہ۔ سونے چاندی کے برتن میں کھانا پینا جائز نہیں بلکہ ان کی چیزوں کا کسی طرح سے استعمال کرنا درست نہیں جیسے چاندی سونے کے چمچہ سے کھانا پینا خلال سے دانت صاف کرنا گلاب پاش سے گلاب چھڑکنا سرمہ دانی سے یا سلائی سے سرمہ لگانا عطردان سے عطر لگانا خاصدان میں پان رکھنا ان کی پیالی سے تیل لگانا جس پلنگ کے پائے چاندی کے ہوں پر اس لیٹنا بیٹھنا چاندی سونے کی رسی میں منہ دیکھنا یہ سب حرام ہے۔ البتہ رسی کا زینت کے لیے پہنے رہنا درست ہے مگر منہ ہرگز نہ دیکھے غرض ان کی چیز کا کسی طرح استعمال کرنا درست نہیں۔

نشہ کی چیزوں کا بیان

مسئلہ۔ جتنی شرابیں ہیں سب حرام اور نجس ہیں۔ تاڑی کا بھی یہی حکم ہے دوا کے لیے بھی ان کا کھانا پینا درست نہیں بلکہ جس دوا میں اییر چیز پڑی ہو اس کا لگانا بھی درست نہیں۔

مسئلہ۔ شراب کے سوا اور جتنے نشے ہیں جیسے افیون جائے چھل زعفران وغیرہ کا حکم یہ ہے کہ دوا کے لیے اتنی مقدار کھا لینا درست ہے کہ بالکل نشہ نہ آئے اور اس دوا کا لگانا بھی درست ہے جس میں یہ چیزیں پڑی ہوں اور اتنا کھانا کہ نشہ ہو جائے حرام ہے۔

مسئلہ۔ تاڑی اور شراب کے سرکہ کا کھانا درست ہے۔

مسئلہ۔ بعضی عورتیں بچوں کو افیون دے کر لٹا دیتی ہے کہ نشہ میں پڑے رہیں روئیں دھوئیں نہیں یہ حرام ہے۔

حلال و حرام چیزوں کا بیان

مسئلہ۔ جو جانور اور جو پرندے شکار کر کے کھاتے رہتے ہیں یا ان کی غذا فقط گندگی ہے ان کا کھانا جائز نہیں جیسے شیر بھیڑ یا گیدڑ بلی کتا بندر شکرا باز گدھ وغیرہ۔ اور جو ایسے نہ ہوں جیسے طوطا مینا فاختہ چڑیا بٹیر مرغابی کبوتر نیل گائے ہرن بطخ خرگوش وغیرہ سب جائز ہیں۔

مسئلہ۔ بجو گوہ کچھوا خچر گدھا گدھی کا گوشت کھانا اور گدھی کا دودھ پینا درست نہیں۔ گھوڑے کا کھانا جائز ہے لیکن بہتر نہیں۔ دریائی جانوروں میں سے فقط مچھلی حلال ہے باقی سب حرام۔

مسئلہ۔ مچھلی اور ٹڈی بغیر ذبح کیے ہوئے بھی کھانا درست ہے ان کے سوا اور کوئی جاندار چیز بغیر ذبح کیے کھانا درست نہیں جب کوئی چیز مر گئی تو حرام ہو گئی۔

مسئلہ۔ جو مچھلی مر کر پانی کے اوپر الٹی تیرنے لگی اس کا کھانا درست نہیں۔

مسئلہ۔ اوجھڑی کھانا حلال ہے۔ حرام یا مکروہ نہیں۔

مسئلہ۔ کسی چیز میں چیونٹیاں مر گئیں تو بغیر نکالے کھانا جائز نہیں اگر ایک آدھ چیونٹی حلق میں چلی گئی تو مردار کھانے کا گناہ ہوا۔ بعضے بچے بلکہ بڑے بھی گولر کے اندر کے بھنگےسمیت گولر کھا جاتے ہیں اور یوں سمجھتے ہیں کہ اس کے کھانے سے آنکھیں نہیں آتیں یہ حرام ہے۔ مردار کھانے کا گناہ ہوتا ہے۔

مسئلہ۔ جو گوشت ہندو بیچتا ہے اور یوں کہتا ہے کہ میں نے مسلمان سے ذبح کرایا ہے اس سے مول لے کر کھانا درست نہیں البتہ جس وقت سے مسلمان نے ذبح کیا ہے اگر اسی وقت سے کوئی مسلمان برابر بیٹھا دیکھ رہا ہے یا وہ جانے لگا تو دوسرا کوئی اس کی جگہ بیٹھ گیا تب درست ہے۔

مسئلہ۔ جو مرغی گندی چیزیں کھاتی پھرتی ہو اس کو تین دن بند رکھ کر ذبح کرنا چاہیے بغیر بند کیے کھانا مکروہ ہے۔

ذبح کرنے کا بیان

مسئلہ۔ ذبح کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ جانور کا منہ قبلہ کی طرف کر کے تیز چھری ہاتھ میں لے کر بسم اللہ اللہ اکبر کہہ کے اس کے گلے کو کاٹے یہاں تک کہ چار رگیں کٹ جائیں۔ ایک نرخرہ سے سانس لیتا ہے دوسری وہ رگ جس سے دانہ پانی جاتا ہے اور دو شہ رگیں جو نرخرہ کے دائیں بائیں ہوتی ہیں۔ اگر ان چار میں سے تین ہی رگیں کٹیں تب بھی ذبح درست ہے اس کا کھانا حلال ہے اور اگر دو ہی رگیں کٹیں تو وہ جانور مردار ہو گیا اس کا کھانا درست نہیں۔

مسئلہ۔ ذبح کے وقت بسم اللہ قصداً نہیں کہا تو وہ مردار ہے اور اس کا کھانا حرام ہے اور اگر بھول جائے تو کھانا درست ہے۔

مسئلہ۔ کند چھری سے ذبح کرنا مکروہ ہے اور منع ہے کہ اس میں جانور کو بہت تکلیف ہوتی ہے اسی طرح ٹھنڈا ہونے سے پہلے اس کی کھال کھینچنا ہاتھ پاؤں توڑنا کاٹنا اور ان چاروں رگوں کے کٹ جانے کے بعد بھی گلا کاٹے جانا یہ سب مکروہ ہے۔

مسئلہ۔ ذبح کرنے میں مرغی کا گلا کٹ گیا تو اس کا کھانا درست ہے مکروہ بھی نہیں البتہ اتنا زیادہ ذبح کر دینا یہ بات مکروہ ہے مرغی مکروہ نہیں ہوئی۔

مسئلہ۔ مسلمان کا ذبح کرنا بہرحال درست ہے چاہے عورت ذبح کرے یا مرد اور چاہے پاک ہو یا ناپاک ہو ہر حال میں اس کا ذبح کیا ہوا جانور کھانا حلال ہے اور کافر کا ذبح کیا ہوا جانور کھانا حرام ہے۔

مسئلہ۔ جو چیز دھار دار ہو جیسے دھار دار پتھر گنے یا بانس کا چھلکا سب سے ذبح کرنا درست ہے۔

دین سے پھر جانے کا بیان

مسئلہ۔ اگر خدانخواستہ کوئی اپنے ایمان اور دین سے پھر گئی تو تنہ دن کی مہلت دی جائے گی اور جو اس کو شبہ پڑا ہو اس شبہ کا جواب دے دیا جائے گا۔ اگر اتنی مدت میں مسلمان ہو گئی تو خیر نہیں تو ہمیشہ کے لیے قید کر دیں گے جب توبہ کرے گی تب چھوڑیں گے۔

مسئلہ۔ جب کسی نے کفر کا کلمہ زبان سے نکالا تو ایمان جاتا رہا اور جتنی نیکیاں اور عبادت اس نے کی تھی سب اکارت گئی نکاح ٹوٹ گیا۔ اگر فرض حج کر چکی ہے تو وہ بھی ٹوٹ گیا۔ اب اگر توبہ کر کے پھر مسلمان ہوئی تو اپنا نکاح پھر سے پڑھوائے اور پھر دوسرا حج کرے۔

مسئلہ۔ اسی طرح اگر کسی کا میاں توبہ توبہ بے دین ہو جائے تو بھی نکاح جاتا رہا اب وہ جب تک توبہ کر کے پھر سے نکاح نہ کرے عورت اس سے کچھ واسطہ نہ رکھے۔ اگر کوئی معاملہ میاں بی بی کا سوا تو عورت کو بھی گناہ ہو گا اور اگر وہ زبردستی کرے تو اس کو سب سے ظاہر کر دے شرمائے نہیں دین کی بات میں کیا شرم۔

مسئلہ۔ جب کفر کا کلمہ زبان سے نکالا تو ایمان جاتا رہا۔ اگر ہنسی دل لگی میں کفر کی بات کہے اور دل میں نہ ہو تب بھی یہی حکم ہے جیسے کسی نے کہا کیا خدا کو اتنی قدرت نہیں جو فلانا کام کر دے۔ اس کا جواب دیا ہاں نہیں ہے تو اس کہنے سے کافر ہو گئی۔

مسئلہ۔ کسی نے کہا اٹھو نماز پڑھو جواب دیا کون اٹھک بیٹھک کرے یا کسی نے روزہ رکھنے کو کہا تو جواب دیا کون بھوکا مرے یا کہا روزہ وہ رکھے جس کے گھر کھانا نہ ہو یہ سب کفر ہے۔

مسئلہ۔ اس کو کوئی گناہ کرتے دیکھ کر کسی نے کہا خدا سے ڈرتی نہیں جواب دیا ہاں نہیں ڈرتی تو کافر ہو گئی۔

مسئلہ۔ کسی کو برا کام کرتے دیکھ کر کہا کیا تو مسلمان نہیں ہے جو اییز بات کرتی ہے جواب دیا ہاں نہیں ہوں تو کافر ہو گئی اگر ہنسی میں کہا ہو تب بھی یہی حکم ہے۔

مسئلہ۔ کسی نے نماز پڑھنا شروع کی اتفاق سے اس پر کوئی مصیبت پڑ گی اس لیے کہا کہ یہ سب نماز ہی کی نحوست ہے تو کافر ہو گئی۔

مسئلہ۔ کسی کافر کی کوئی بات اچھی معلوم ہوئی اس لیے تمنا کر کے کہا ہم بھی کافر ہوتے تو اچھا تھا کہ ہم بھی ایسا کرتے تو کافر ہو گئی۔ مسئلہ۔ کسی کا لڑکا مر گیا اس نے یوں کہا یا اللہ یہ ظلم مجھ پر کیوں کیا مجھے کیوں ستایا تو اس کہنے سے وہ کافر ہو گئی۔ مسئلہ۔ کسی نے یوں کہا اگر خدا بھی مجھ سے کہے تو یہ کام نہ کروں۔ یا یوں کہا جبرئیل بھی اترآئیں تو ان کا کہا نہ مانوں تو کافر ہو گئی۔ مسئلہ۔ کسی نے کہا میں ایسا کام کرتی ہوں کہ خدا بھی نہیں جانتا تو کافر ہو گئی۔ مسئلہ۔ جب اللہ تعالی کی یا اس کے کسی رسول کی کچھ حقارت کی یا شریعت کی بات کو برا جانا عیب نکالا کفر کی بات پسند کی ان سب باتوں سے ایمان جاتا رہتا ہے اور کفر کی باتوں کو جن سے ایمان جاتا رہتا ہے ہم نے پہلے ہی حصہ میں سب عقیدوں کے بیان کرنے کے بعد بھی بیان کیا ہے وہاں دیکھ لینا چاہیے اور اپنے ایمان کو سنبھالنے میں بہت احتیاط کرنا چاہیے۔ اللہ تعالی ہم سب کا ایمان ٹھیک رکھے اور ایمان ہی پر خاتمہ کرے۔ مین یا رب العالمین۔

قسم کے کفارہ کا بیان

مسئلہ۔ اگر کسی نے قسم توڑ ڈالی تو اس کا کفارہ یہ ہے کہ دس محتاجوں کو دو وقتہ کھانا کھلائے یا کچا اناج دے اور ہر فقیر کو انگریزی تول سے آدھی چھٹانک اوپر پونے دو سیر گیہوں دینا چاہیے بلکہ احتیاطا پورے دو سیر دے دے اور اگر جو دیے تو اس کے دونے دے باقی اور سب ترکیب فقیر کھانے کی وہی ہے جو روزے کے کفارے میں بیان ہو چکی یا دس فقیروں کو کپڑا پہنا دے ہر فقیر کو اتنا بڑا کپڑا دے جس سے بدن کا زیادہ حصہ ڈھک جائے جیسے چادر یا بڑا لمبا کرتہ دے دیا تو کفارہ ادا ہو گیا۔ لیکن وہ کپڑا بہت پرانا نہ ہونا چاہیے۔ اگر ہر فقیر کو فقط ایک ایک لنگی یا فقط ایک ایک پاجامہ دے دیا تو کفارہ ادا نہیں ہوا اور اگر لنگی کے ساتھ کرتہ بھی ہو تو ادا ہو گیا۔ ان دونوں باتوں میں اختیار ہے چاہے کپڑا دے اور چاہے کھانا کھلائے ہر طرح کفارہ ادا ہو گیا۔ اور یہ حکم جو بیان ہوا جب ہے کہ مرد کو کپڑا دے اور اگر کسی غریب عورت کو کپڑا دیا تو اتنا بڑا کپڑا ہونا چاہیے کہ سارا بدن ڈھک جائے اور اس سے نماز پڑھ سکے اس سے کم ہو گا تو کفارہ ادا نہ ہو گا۔

مسئلہ۔ اگر کوئی ایسی غریب ہو کہ نہ تو کھانا کھلا سکتی ہے اور نہ کپڑا دے سکتی ہے تو لگاتار تین روزے رکھے اگر الگ الگ کر کے تین روزے پورے کر لیے تو کفارہ ادا نہیں ہوا تینوں لگاتار رکھنا چاہیے۔ اگر دو روزے رکھنے کے بعد بیچ میں کسی عذر سے ایک روزہ چھوٹ گیا تو اب پھر تینوں رکھے۔

مسئلہ۔ قسم توڑنے سے پہلے ہی کفارہ ادا کر دیا اس کے بعد قسم توڑی تو کفارہ صحیح نہیں ہوا۔ اب قسم توڑنے کے بعد پھر کفارہ دینا چاہیے اور جو کچھ فقیروں کو دے چکی ہے اس کو پھیر لینا درست نہیں۔

مسئلہ۔ کسی نے کئی دفعہ قسم کھائی جیسے ایک دفعہ کہا خدا قسم فلانا کام نہ کروں گی اس کے بعد پھر کہا خدا قسم فلانا کام نہ کروں گی۔ اسی دن یا اس کے دوسرے تیسرے دن غرض اسی طرح کئی مرتبہ کہا یا یوں کہا خدا کی قسم اللہ کی قسم کلام اللہ کی قسم فلانا کام ضرور کروں گی پھر وہ قسم توڑ دی تو ان سب قسموں کا ایک ہی کفارہ دے دے۔

مسئلہ۔ کسی کے ذمہ قسموں کے بہت کفارے جمع ہو گئے تو بقول مشہور ہر ایک کا جدا کفارہ دینا چاہیے۔ زندگی میں نہ دے تو مرتے وقت وصیت کر جانا واجب ہے۔

مسئلہ۔ کفارہ میں انہی مساکین کو کپڑا یا کھانا دینا درست ہے جن کو زکوٰۃ دینا درست ہے۔

قسم کھانے کا بیان

مسئلہ۔ بے ضرورت بات بات میں قسم کھانا بری بات ہے اس میں اللہ تعالی کے نام کی بڑی بے تعظیمی اور بے حرمتی ہوتی ہے جہاں تک ہو سکے سچی بات پر بھی قسم نہ کھانا چاہیے۔

مسئلہ۔ جس نے اللہ تعالی کی قسم کھائی اور یوں کہا اللہ قسم خدا قسم خدا کی عزت و جلال کی قسم خدا کی بزرگی اور بڑائی کی قسم تو قسم ہو گئی اب اس کے خلاف کرنا درست نہیں۔ اگر خدا کا نام نہی لیا فقط اتنا کہہ دیا میں قسم کھاتی ہوں کہ فلاں کام نہ کروں گی بھی قسم ہو گئی۔

مسئلہ۔ اگر یوں کہا خدا گواہ ہے خدا کو گواہ کر کے کہتی ہوں خدا کو حاضر و ناظر جان کے کہتی ہوں تب بھی قسم ہو گئی۔

مسئلہ۔ قرآن کی قسم کلام اللہ کی قسم کلام مجید کی قسم کھا کر کوئی بات کہی تو قسم ہو گئی اور اگر کلام مجید کو ہاتھ میں لے کر آیا اس پر ہاتھ رکھ کر کوئی بات کہی لیکن قسم نہیں کھائی تو قسم نہیں ہوئی۔

مسئلہ۔ یوں کہا اگر فلانا کام کروں تو بے ایمان ہو کر مروں مرتے وقت ایمان نہ نصیب ہو بے ایمان ہو جاؤں یا اس طرح کہا اگر فلانا کام کروں تو میں مسلمان نہیں تو قسم ہو گئی اس کے خلاف کرنے سے کفارہ دینا پڑے گا اور ایمان نہ جائے گا۔

مسئلہ۔ اگر فلانا کام کروں تو ہاتھ ٹوٹیں دے دے پھوٹیں کوڑھی ہو جائے بدن پھوٹ نکلے خدا کا غضب ٹوٹے آسمان پھٹ پڑے دانے دانے کی محتاج ہو جائے خدا کی مار پڑے خدا کی پھٹکار پڑے اگر فلانا کام کروں تو سور کھاؤں مرتے وقت کلمہ نہ نصیب ہو قیامت کے دن خدا اور رسول کے سامنے زرد رو ہوں ان باتوں سے قسم نہیں ہوتی اس کے خلاف کرنے سے کفارہ نہ دینا پڑے گا۔

مسئلہ۔ خدا کے سوا اور کسی کی قسم کھانے سے قسم نہیں ہوتی جیسے رسول اللہ کی قسم کعبہ کی قسم اپنی آنکھوں کی قسم اپنی جوانی کی قسم اپنے ہاتھ پیروں کی قسم اپنے باپ کی قسم اپنے بچے کی قسم اپنے پیاروں کی قسم تمہارے سر کی قسم تمہاری جان کی قسم تمہاری قسم اپنی قسم اس طرح قسم کھا کے پھر اس کے خلاف کرے تو کفارہ نہ دینا پڑے گا۔ لیکن اللہ تعالی کے سوا کسی اور کی قسم کھانا بڑا گناہ ہے۔ حدیث شریف میں اس کی بڑی ممانعت آئی ہے۔ اللہ کو چھوڑ کر اور کسی کی قسم کھانا شرک کی بات ہے اس سے بہت بچنا چاہیے۔

مسئلہ۔ کسی نے کہا تیرے گھر کا کھانا مجھ پر حرام ہے یا یوں کہا فلانی چیز میں نے اپنے اوپر حرام کر لی تو اس کہنے سے وہ چیز حرام نہیں ہوئی لیکن یہ قسم ہو گئی اب اگر کھائے گی تو کفارہ دینا پڑے گا۔

مسئلہ۔ کسی دوسرے کی قسم دلانے سے قسم نہیں ہوتی جیسے کسی نے تم سے کہا تمہیں خدا کی قسم یہ کام ضرور کرو تو یہ قسم نہیں ہوئی اس کے خلاف کرنا درست ہے۔

مسئلہ۔ قسم کھا کر اس کے ساتھ ہی انشاء اللہ کا لفظ کہہ دیا جیسے کوئی اس طرح کہے خدا کی قسم فلانا کام انشاء اللہ نہ کروں گی تو قسم نہیں ہوئی۔

مسئلہ۔ جو بات ہو چکی ہے اس پر جھوٹی قسم کھانا بڑا گناہ ہے جیسے کسی نے نماز نہیں پڑھی اور جب کسی نے پوچھا تو کہہ دیا خدا کی قسم میں نماز پڑھ چکی یا کسی سے گلاس ٹوٹ گیا اور جب پوچھا گیا تو کہہ دیا خدا کی قسم میں نے نہیں توڑا جان بوجھ کر جھوٹی قسم کھا لی تو اس کے گناہ کی کوئی حد نہیں اور اس کا کوئی کفارہ نہیں۔ بس دن رات اللہ سے توبہ و استغفار کر کے اپنا گناہ معاف کرائے سوائے اس کے اور کچھ نہیں ہو سکتا اور اگر غلطی اور دھوکہ میں جھوٹی قسم کھا لی جیسے کسی نے کہا خدا کی قسم ابھی فلانا آدمی نہیں آیا اور اپنے دل میں یقین کے ساتھ یہی سمجھتی ہے کہ سچی قسم کھا رہی ہوں پھر معلوم ہوا کہ اس وقت گیا تھا تو معاف ہے اس میں گناہ نہ ہو گا اور کچھ کفارہ بھی نہیں۔

مسئلہ۔ اگر ایسی بات پر قسم کھائی جو ابھی نہیں ہوئی بلکہ آئندہ ہو گی جیسے کوئی کہے خدا کی قسم آج پانی برسے گا خدا کی قسم آج میرا بھائی آئے گا پھر وہ نہیں آیا اور پانی نہیں برسا تو کفارہ دینا پڑے گا۔

مسئلہ۔ کسی نے قسم کھائی خدا قسم آج قرآن ضرور پڑھوں گی تو اب قرآن پڑھنا واجب ہو گیا نہ پڑھے گی تو گناہ ہو گا اور کفارہ دینا پڑے گا اور کسی نے قسم کھائی خدا کی قسم آج فلانا کام نہ کروں گی تو وہ کام کرنا درست نہیں اگر کرے گی تو قسم توڑنے کا کفارہ دینا پڑے گا۔

مسئلہ۔ کسی نے گناہ کرنے کی قسم کھائی کہ خدا قسم آج فلانے کی چیز چراؤں گی خدا قسم آج نماز نہ پڑھوں گی۔ خدا قسم اپنے ماں باپ سے کبھی نہ بولوں گی تو ایسے وقت قسم کا توڑ دینا واجب ہے توڑ کے کفارہ دے دے نہیں تو گناہ ہو گا۔

مسئلہ۔ کسی نے قسم کھائی کہ آج میں فلانی چیز نہ کھاؤں گی پھر بھولے سے کھا لی اور قسم یاد نہیں رہی یا کسی نے زبرستی منہ چیر کر کھلا دی تب بھی کفارہ دے۔

مسئلہ۔ غصہ میں قسم کھائی کہ تجھ کو کبھی ایک کوڑی نہ دوں گی پھر ایک پیسہ یا ایک روپیہ دے دیا تب بھی قسم ٹوٹ گئی کفارہ دے۔

منت ماننے کا بیان

مسئلہ۔ کسی کام پر عبادت کی بات کی کوئی منت مانی پھر وہ کام پورا ہو گیا جس کے واسطے منت مانی تھی تو اب منت کا پورا کرنا واجب ہے اگر منت پوری نہ کرے گی تو بہت گناہ ہو گا لیکن اگر کوئی واہیات منت ہو جس کا شرع میں کچھ اعتبار نہیں تو اس کا پورا کرنا واجب نہیں جیسا کہ ہم آگے بیان کرتے ہیں۔

مسئلہ۔ کسی نے کہا یا اللہ اگر میرا فلانا کام ہو جائے تو پانچ روزے رکھوں گی تو جب کام ہو جائے گا پانچ روزے رکھنے پڑیں گے اور اگر کام نہیں ہوا تو نہ رکھنا پڑیں گے۔ اگر فقط اتنا ہی کہا ہے کہ پانچ روزے رکھوں گی تو اختیار ہے چاہے پانچوں روزے ایکدم سے لگاتار رکھے اور چاہے ایک ایک دو دو کر کے پورے پانچ کر لے دونوں باتیں درست ہیں اور اگر نذر کر تے وقت یہ کہہ دیا کہ پانچوں روزے لگاتار رکھوں گی یا دل میں یہ نیت تھی تو سب ایکدم رکھنے پڑیں گے اگر بیچ میں ایک آدھ چھوٹ جائے تو پھر سے رکھے۔

مسئلہ۔ اگر یوں کہا کہ جمعہ کا روزہ رکھوں گی محرم کی پہلی تاریخ سے دسویں تاریخ تک روزے رکھوں گی تو خاص جمعہ کو روزہ رکھنا واجب نہیں اور محرم کی خاص انہی تاریخوں میں روزہ رکھنا واجب نہیں جب چاہے دس روزے رکھ لے لیکن دسوں لگاتار رکھنا پڑیں گے چاہے محرم میں رکھے چاہے کسی اور مہینے میں سب جائز ہے اسی طرح اگر یہ کہا کہ اگر آج میرا یہ کام ہو جائے تو کل ہی روزہ رکھوں گی جب بھی اختیار ہو جب چاہے رکھے۔

مسئلہ۔ کسی نے نذر کرتے وقت یوں کہا محرم کے مہینے کو روزے رکھوں گی تو محرم کے پورے مہینے کے روزے لگاتار رکھنا پڑیں گے اگر بیچ میں کسی وجہ سے دس پانچ روزے چھوٹ جائیں تو اس کے بدلے اتنے روزے اور رکھ لے سارے روزے نہ دہرائے اور یہ بھی اختیار ہے کہ محرم کے مہینہ میں نہ رکھے اور مہینہ میں رکھے لیکن سب لگاتار رکھے۔

مسئلہ۔ کسی نے منت مانی کہ میری کھوئی ہوئی چیز مل جائے تو میں آٹھ رکعت نماز پڑھوں گی تو اس کے مل جانے پر آٹھ رکعت نماز پڑھنا پڑے گی چاہے ایکدم سے آٹھوں رکعتوں کی نیت باندھے یا چار چار کی نیت باندھے یا دو دو کی سب اختیار ہے اور اگر چار رکعت کی منت مانی تو چاروں ایک ہی سلام سے پڑھناہوں گی الگ الگ دو دو پڑھنے سے نذر ادا نہ ہو گی۔

مسئلہ۔ کسی نے ایک رکعت پڑھنے کی منت مانی تو پوری دو رکعتیں پڑھنی پڑیں گی اگر تین کی منت کی تو پوری چار۔ اگر پانچ کی منت کی تو پوری چھ رکعتیں پڑھے۔ اسی طرح آگے کا بھی یہی حکم ہے۔

مسئلہ۔ یوں منت مانی کہ دس روپے خیرات کروں گی یا ایک روپیہ خیرات کروں گی تو جتنا کہا ہے اتنا خیرات کرے۔ اگر یوں کہا کہ پچاس روپے خیرات کروں گی اور اس کے پاس اس وقت فقط دس ہی روپے کی کائنات ہے تو دس ہی روپے دینا پڑیں گے۔ البتہ اگر دس روپے کے سوا کچھ مال اسباب بھی ہے تو اس کی قیمت بھی لگا لیں اس کی مثال یہ سمجھو کہ دس روپے نقد ہیں اور سب مال اسباب پندرہ روپے کا ہے یہ سب پچیس روپے ہوئے تو فقط پچیس روپے خیرات کرنا واجب ہے اس سے زیادہ واجب نہیں۔

مسئلہ۔ اگر یوں منت مانی کہ دس مسکین کھلاؤں گی تو اگر دل میں کچھ خیال ہے کہ ایک وقت یا دو وقت کھلاؤں گی تب تو اسی طرح کھلا دے اور اگر کچھ خیال نہیں تو دو وقتہ دس مسکین کھلائے اور اگر کچا اناج دے تو اس میں بھی یہی بات ہے کہ اگر دل میں کچھ خیال تھا کہ اتنا اتنا ہر ایک کو دوں گی تو اسی قدر دے اور اگر کچھ خیال نہ تھا تو ہر ایک کو اتنا دے جتنا ہم نے صدقہ فطر میں بیان کیا ہے۔

مسئلہ۔ اگر یوں کہا ایک روپیہ کی روٹی فقیروں کو بانٹوں گی تو اختیار ہے چاہے ایک روپیہ کی روٹی دے چاہے ایک روپیہ کی کوئی اور چیز یا ایک روپیہ نقد دے دے۔

مسئلہ۔ کسی نے یوں کہا دس روپے خیرات کروں گی ہر فقیر کو ایک ایک روپیہ پھر دسوں روپے ایک ہی فقیر کو دے دے تو بھی جائز ہے ہر فقیر کو ایک ایک روپیہ دینا واجب نہیں۔ اگر دس روپے بیس فقیروں کو دے دیئے تو بھی جائز ہے اور اگر یوں کہا دس روپے دس فقیروں پر خیرات کروں گی تو بھی اختیار ہے چاہے دس کو دے چاہے کم زیادہ کو۔

مسئلہ۔ اگر یوں کہا دس نمازی کھلاؤں گی یا دس حافظ کھلاؤں گی تو دس فقیر کھلا دے چاہے وہ نمازی اور حافظ ہوں یا نہ ہوں۔

مسئلہ۔ کسی نے یوں کہ کہ دس روپے مکہ میں خیرات کروں گی تو مکہ میں خیرات کرنا واجب نہیں جہاں چاہے خیرات کرے۔ یا یوں کہا تھا جمعہ کے دن خیرات کروں گی فلانے فقیر کو دوں گی تو جمعہ کے دن خیرات کرنا اور اسی فقیر کو دینا ضروری نہیں اسی طرح اگر روپے مقرر کر کے کہا کہ یہی روپے اللہ تعالی کی راہ میں دوں گی تو بعینہ وہی روپے دینا واجب نہیں چاہے وہ دے یا اتنے ہی اور دے دے۔

مسئلہ۔ اسی طرح اگر منت مانی کہ جامع مسجد میں نماز پڑھوں گی یا مکہ میں نماز پڑھوں گی تو بھی اختیار ہے جہاں چاہے پڑھے۔

مسئلہ۔ کسی نے کہ اگر میرا بھائی اچھا ہو جائے تو ایک بکری ذبح کروں گی یا یوں کہا ایک بکری کا گوشت خیرات کروں گی تو منت ہو گئی اگر یوں کہا کہ قربانی کروں گی تو قربانی کے دنوں میں ذبح کرنا چاہئے اور دونوں صورتوں میں اس کا گوشت فقیروں کے سوا اور کسی کو دینا اور خود کھانا درست نہیں جتنا خود کھائے یا امیروں کو دے دے اتنا پھر خیرات کرنا پڑے گا۔

مسئلہ۔ ایک گائے قربانی کرنے کی منت مانی پھر گائے نہیں ملی تو سات بکریاں کر دے۔

مسئلہ۔ یوں منت مانی تھی کہ جب میرا بھائی آئے تو دس روپے خیرات کروں گی پھر آنے کی خبر پا کر اس نے آنے سے پہلے ہی روپے خیرات کر دیئے تو منت پوری نہیں ہوئی آنے کے بعد پھر خیرات کرے۔

مسئلہ۔ اگر ایسے کام کے ہونے پر منت مانی جس کے ہونے کو چاہتی اور تمنا کرتی ہو کہ یہ کام ہو جائے جیسے یوں کہے اگر میں اچھی ہو جاؤں تو ایسا کروں۔ اگر میرا بھائی خیریت سے آ جائے تو ایسا کروں۔ اگر میرا باپ مقدمہ سے بری ہو جائے یا نوکر ہو جائے تو ایساکروں تو جب وہ کام ہو جائے منت پوری کرے۔ اور اگر اس طرح کہا کہ اگر میں تجھ سے بولوں تو دو روزے رکھوں۔ یا یہ کہا اگر آج میں نماز نہ پڑھوں تو ایک روپیہ خیرات کروں پھر اس سے بولدی یا نماز نہ پڑھی تو اختیار ہے چاہے قسم کا کفارہ دے دے اور چاہے دو روزے رکھے اور ایک روپیہ خیرات کرے۔

مسئلہ۔ یہ منت مانی کہ ایک ہزار مرتبہ درود شریف پڑھوں گی یا ہزار مرتبہ کلمہ پڑھوں گی تو منت ہو گئی اور پڑھنا واجب ہو گیا اور اگر کہا ہزار دفعہ سبحان اللہ سبحان اللہ پڑھوں گی یا ہزار دفعہ لاحول پڑھوں گی تو منت نہیں ہوئی اور پڑھنا واجب نہیں۔

مسئلہ۔ منت مانی کہ دس کلام مجید ختم کروں گی یا ایک پارہ پڑھوں گی تو منت ہو گئی۔

مسئلہ۔ یہ منت مانی کہ اگر فلانا کام ہو جائے تو مولود پڑھواؤں گی تو منت نہیں ہوئی یا یہ منت کی کہ فلانی بات ہو جائے تو فلانے مزار پر چادر چڑھاؤں یہ منت بھی نہیں ہوئی یا شاہ عبدالحق صاحب کا توشہ مانا یا سہ منی یا سید کبیر کی گائے مانی یا مسجد میں گلگلے چڑھانے اور اللہ میاں کے طاق بھرنے کی منت مانی یا بڑے پیر کی گیارہویں کی منت مانی تو یہ منت صحیح نہیں ہوئی اس کا پورا کرنا واجب نہیں۔

مسئلہ۔ مولی مشکل کشا کا روزہ آس بی بی کا کونڈا یہ سب واہیات خرافات ہے۔ اور مشکل کشا کا روزہ ماننا شرک ہے۔

مسئلہ۔ یہ منت مانی کہ فلانی مسجد جو ٹوٹی پڑی ہے اس کو بنوا دوں گی یا فلانا پل بندھوا دوں گی تو یہ منت بھی صحیح نہیں ہے اس کے ذمہ کچھ واجب نہیں ہوا۔

مسئلہ۔ اگر یوں کہا کہ میرا بھائی اچھا ہو جائے تو ناچ کراؤں گی یا باجہ بجواؤں گی تو یہ منت گناہ ہے اچھا ہونے کے بعد ایسا کرنا جائز نہیں۔

مسئلہ۔ اللہ تعالی کے علاوہ کسی اور سے منت ماننا مثلاً یوں کہنا اے بڑے پیر اگر میر اکام ہو جائے تو میں تمہاری یہ بات کروں گی یا قبروں اور مزاروں پر جانا یا جہاں جن رہتے ہوں وہاں جانا اور درخواست کرنا حرام اور شرک ہے بلکہ اس منت کی چیز کا کھانا بھی حرام ہے اور قبروں پر جانے کی عورتوں کے لیے حدیث میں ممانعت آئی ہے حضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسی عورتوں پر لعنت فرمائی ہے۔