زیارت مدینہ کا بیان

اگر گنجائش ہو تو حج کے بعد یا حج سے پہلے مدینہ منورہ حاضر ہو کر جناب رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم کے روضہ مبارک اور مسجد نبوی کی زیارت سے برکت حاصل کرے۔ اس کی نسبت رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ جس شخص نے میری وفات کے بعد میری زیارت کی اس کو وہی برکت ملے گی جیسے میری زندگی میں کسی نے زیارت کی۔ اور یہ بھی فرمایا ہے کہ جو شخص خالی حج کر لے اور میری زیارت کو نہ آئے اس نے میرے ساتھ بڑی بے مروتی کی اور اس مسجد کے حق میں آپ نے فرمایا ہے کہ جو شخص اس میں ایک نماز پڑھے اس کو پچاس ہزار نماز کے برابر ثواب ملے گا۔ اللہ تعالی ہم سب کو یہ دولت نصیب کرے اور نیک کاموں کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین یا رب العالمین۔

حج کا بیان

جس شخص کے پاس ضروریات سے زائد اتنا خرچ ہو کہ سواری پر متوسط گزارن سے کھاتا پیتا چلا جائے اور حج کر کے چلا آئے اس کے ذمہ حج فرض ہو جاتا ہے اور حج کی بڑی بزرگی آئی ہے چنانچہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ جو حج گناہوں اور خرابیوں سے پاک ہو اس کا بدلہ بجز بہشت کے اور کچھ نہیں۔ اسی طرح عمرہ پر بھی بڑے ثواب کا وعدہ فرمایا گیا ہے چنانچہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ حج اور عمرہ دونوں کے دونوں گناہوں کو اس طرح دور کرتے ہیں جیسے بھٹی لوہے کے میل کو دور کر دیتی ہے اور جس کے ذمہ حج فرض ہوا اور وہ نہ کرے اس کے لیے بڑی دھمکی آئی ہے۔ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے جس شخص کے پاس کھانے پینے اور سواری کا اتنا سامان ہو جس سے وہ بیت اللہ شریف جا سکے اور پھر وہ حج نہ کرے تو وہ یہودی ہو کر مرے یا نصرانی ہو کر مرے خدا کو اس کی کچھ پرواہ نہیں۔ اور یہ بھی فرمایا ہے کہ حج کا ترک کرنا اسلام کا طریقہ نہیں ہے۔

مسئلہ۔ عمر بھر میں ایک مرتبہ حج کرنا فرض ہے۔ اگر کئی حج کیے تو ایک فرض ہوا اور سب نفل ہیں اور ان کا بھی بہت بڑا ثواب ہے۔

مسئلہ۔ جوانی سے پہلے لڑکپن میں اگر کوئی حج کیا ہے تو اس کا کچھ اعتبار نہیں ہے۔ اگر مالدار ہے تو جوان ہونے کے بعد پھر حج کرنا فرض ہے۔ اور جو حج لڑکپن میں کیا ہے وہ نفل ہے۔

مسئلہ۔ اندھی پر حج فرض نہیں ہے چاہے جتنی مالدار ہو۔

مسئلہ۔ جب کسی پر حج فرض ہو گیا تو فورا اسی سال حج کرنا واجب ہے بلا عذر دیر کرنا اور یہ خیال کرنا کہ ابھی عمر پڑی ہے پھر کسی سال حج کر لیں گے درست نہیں ہے۔ پھر دو چار برس کے بعد بھی اگر حج کر لیا تو ادا ہو گیا لیکن گنہگار ہوئی۔

مسئلہ۔ حج کرنے کے لیے راستہ میں اپنے شوہر کا یا کسی محرم کا ساتھ ہونا بھی ضروری ہے۔ بغیر اس کے حج کے لیے جانا درست نہیں ہے۔ ہاں البتہ اگر مکہ سے اتنی دور پر رہتی ہو کہ اس کے گھر سے مکہ تک تنہا منزل نہ ہو تو بے شوہر اور محرم کے ساتھ ہوئے بھی جانا درست ہے۔

مسئلہ۔ اگر وہ محرم نابالغ ہو یا ایسا بد دین ہو کہ ماں بہن وغیرہ سے بھی اس پر اطمینان نہیں تو اس کے ساتھ جانا درست نہیں۔

مسئلہ۔ جب کوئی محرم قابل اطمینان ساتھ جانے کے لیے مل جائے تو اب حج کو جانے سے شوہر کا روکنا درست نہیں ہے اگر شوہر روکے بھی تو اس کی بات نہ مانے اور چلی جائے۔

مسئلہ۔ جو لڑکی ابھی جوان نہیں ہوئی لیکن جوانی کے قریب ہو چکی ہے اس کو بھی بغیر شرعی محرم کے جانا درست نہیں اور غیر محرم کے ساتھ جانا بھی درست نہیں۔

مسئلہ۔ جو محرم اس کو حج کرانے کے لیے جائے اس کا سارا خرچ اسی پر واجب ہے کہ جو کچھ خرچ ہو دے۔

مسئلہ۔ اگر ساری عمر ایسا محرم نہ ملا جس کے ساتھ سفر کرے تو حج نہ کرنے کا گناہ نہ ہو گا۔ لیکن مرتے وقت یہ وصیت کر جانا واجب ہے کہ میری طرف سے حج کرا دینا۔ مر جانے کے بعد اس کے وارث اسی کے مال میں سے کسی آدمی کو خرچ دے کر بھیجیں کہ وہ جا کر مردہ کی طرف سے حج کرائے۔ اس سے اس کے ذمہ کا حج اتر جائے گا اور اس حج کو جو دوسرے کی طرف سے کیا جاتا ہے حج بدل کہتے ہیں۔

مسئلہ۔ اگر کسی کے ذمہ حج فرض تھا اور اس نے سستی سے دیر کر دی پھر وہ اندھی ہو گئی یا ایسی بیمار ہو گئی کہ سفر کے قابل نہ رہی تو اس کو بھی حج بدل کی وصیت کر جانا چاہیے۔ مسئلہ۔ اگر وہ اتنا مال چھوڑ کر مری ہو کہ قرض وغیرہ دے کر تہائی مال میں سے حج بدل کرا سکتے ہیں تب تو وارث پر اس کی وصیت کا پورا کرنا اور حج بدل کرانا واجب ہے۔ اور اگر مال تھوڑا ہے کہ ایک تہائی میں سے حج بدل نہیں ہو سکتا تو اس کا ولی حج نہ کرائے۔ ہاں اگر ایسا کرے کہ تہائی مال مردہ کا دے اور جتنا زیادہ لگے وہ خود دے تو البتہ حج بدل کرا سکتا ہے غرض یہ ہے کہ مردے کا تہائی مال سے زیادہ نہ دے۔ ہاں اگر اس کے سب وارث بخوشی راضی ہو جائیں کہ ہم اپنا حصہ نہ لیں گے تم حج بدل کرا دو تو تہائی مال سے زیادہ لگا دینا بھی درست ہے لیکن نابالغ وارثوں کی اجازت کا شرع میں کچھ اعتبار نہیں ہے اس لیے ان کا حصہ ہرگز نہ لے۔

مسئلہ۔ اگر وہ حج بدل کی وصیت کر کے مر گئی لیکن مال کم تھا اس لیے تہائی مال میں حج بدل نہ ہو سکا اور تہائی سے زیادہ لگانے کو وارثوں نے خوشی سے منظور نہ کیا اس لیے حج نہیں کرایا گیا تو اس بیچاری پر کوئی گناہ نہیں۔

مسئلہ۔ سب وصیتوں کا یہی حکم ہے۔ سو اگر کسی کے ذمے بہت روزے یا نمازیں قضا باقی تھیں یا زکوٰۃ باقی تھی اور وصیت کر کے مر گئی تو فقط تہائی مال سے یہ سب کچھ کیا جائے گا۔ تہائی سے زیادہ بغیر وارثوں کی دلی رضا مندی کے لگانا جائز نہیں ہے۔ اور اس کا بیان پہلے بھی ہوچکا ہے۔

مسئلہ۔ بغیر وصیت کے اس کے مال میں سے حج بدل کرانا درست نہیں ہے۔ ہاں اگر سب وارث خوشی سے منظور کر لیں تو جائز ہے۔ اور انشاء اللہ حج فرض ادا ہو جائے گا مگر نابالغ کی اجازت کا کچھ اعتبار نہیں۔

مسئلہ۔ اگر یہ عورت عدت میں ہو تو عدت چھوڑ کر حج کو جانا درست نہیں۔

مسئلہ۔ جس کے پاس مکہ آمدورفت کے لائق خرچ ہو اور مدینہ کا خرچ نہ ہو اس کے ذمہ حج فرض ہو گا بعضے آدمی سمجھتے ہیں کہ جب تک مدینہ کا بھی خرچ نہ ہو جانا فرض نہیں یہ بالکل غلط خیال ہے۔

مسئلہ۔ احرام میں عورت کو منہ ڈھانکنے میں منہ سے کپڑا لگانا درست نہیں۔ آج کل اس کام کے لیے ایسا جالی دار پنکھا بکتا ہے اس کو چہرہ پر باندھ لیا جائے اور آنکھوں کے روبرو جالی رہے۔ اس پر برقعہ پڑا رہے یہ درست ہے۔

مسئلہ۔ مسائل حج کے بدون حج کیے نہ سمجھ میں آ سکتے ہیں نہ یاد رہ سکتے ہیں۔ اور جب حج کو جاتے ہیں وہاں معلم لوگ سب بتلا دیتے ہیں۔ اس لیے لکھنے کی ضرورت نہیں سمجھی۔ اسی طرح عمرہ کی ترکیب بھی وہاں جا کر معلوم ہو جاتی ہے۔

عقیقے کا بیان

مسئلہ۔ جس کے کوئی لڑکا یا لڑکی پیدا ہو تو بہتر ہے کہ ساتویں دن اس کا نام رکھ دے اور عقیقہ کر دے۔ عقیقہ کر دینے سے بچہ کی سب الا بلا دور ہو جاتی ہے اور فتنوں سے حفاظت رہتی ہے۔

مسئلہ۔ عقیقہ کا طریقہ یہ ہے کہ اگر لڑکا ہو تو دو بکری یا دو بھیڑ اور لڑکی ہو تو ایک بکری یا بھیڑ ذبح کرے یا قربانی کی گائے میں لڑکے کے واسطے دو حصے اور لڑکی کے واسطے ایک حصہ لے۔ اور سر کے بال منڈوا دے اور بال کے برابر چاندی یا سونا تول کر خیرات کر دے اور بچہ کے سر میں اگر دل چاہے تو زعفران لگا دے۔

مسئلہ۔ اگر ساتویں دن عقیقہ نہ کرے تو جب کرے ساتویں دن ہونے کا خیال کرنا بہتر ہے۔ اور اس کا طریقہ یہ ہے کہ جس دن بچہ پیدا ہوا ہو اس سے ایک دن پہلے عقیقہ کر دے۔ یعنی اگر جمعہ کو پیدا ہوا ہو تو جمعرات کو عقیقہ کر دے اور اگر جمعرات کو پیدا ہوا ہو تو بدھ کو کرے چاہے جب کرے وہ حساب سے ساتواں دن پڑے گا۔

مسئلہ۔ یہ جو دستور ہے کہ جس وقت بچہ کے سر پر استرا رکھا جائے اور نائی سر مونڈنا شروع کرے فورا اسی وقت بکری ذبح ہو۔ یہ محض مہمل رسم ہے۔ شریعت سے سب جائز ہے چاہے سر مونڈنے کے بعد ذبح کرے یا ذبح  کر لے تب سر مونڈے۔ بے وجہ ایسی باتیں تراش لینا برا ہے۔

مسئلہ۔ جس جانور کی قربانی جائز نہیں اس کا عقیقہ بھی درست نہیں اور جس کی قربانی درست ہے اس کا عقیقہ بھی درست ہے۔

مسئلہ۔ عقیقہ کا گوشت چاہے کچا تقسیم کرے چاہے پکا کر بانٹے چاہے دعوت کر کے کھلا دے سب درست ہے۔

مسئلہ۔ عقیقہ کا گوشت باپ دادا نانا نانی دادی وغیرہ سب کو کھانا درست ہے۔

مسئلہ۔ کسی کو زیادہ توفیق نہیں اس نے لڑکے کی طرف سے ایک ہی بکری کا عقیقہ کیا تو اس کا بھی کچھ حرج نہیں ہے۔ اور اگر بالکل عقیقہ ہی نہ کرے تو بھی کچھ حرج نہیں۔

قربانی کا بیان

قربانی کا بڑا ثواب ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ قربانی کے دنوں میں قربانی سے زیادہ کوئی چیز اللہ تعالی کو پسند نہیں ان دونوں میں یہ نیک کام سب نیکیوں سے بڑھ کر ہے اور قربانی کرتے وقت یعنی ذبح کرتے وقت خون کا جو قطرہ زمین پر گرتا ہے تو زمین تک پہنچنے سے پہلے ہی اللہ تعالی کے پاس مقبول ہو جاتا ہے تو خوب خوشی سے اور خوب دل کھول کر قربانی کیا کرو اور حضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ قربانی کے بدن پر جتنے بال ہوتے ہیں ہر ہر بال کے بدلے میں ایک ایک نیکی لکھی جاتی ہے۔ سبحان اللہ بھلا سوچو تو کہ اس سے بڑھ کر اور کیا ثواب ہو گا کہ ایک قربانی کرنے سے ہزاروں لاکھوں نیکیاں مل جاتی ہیں۔ بھیڑ کے بدن پر جتنے بال ہوتے ہیں اگر کوئی صبح سے شام تک گنے تب بھی نہ گن پائے۔ پس سوچو تو کتنی نیکیاں ہوئیں بڑی دینداری کی بات تو یہ ہے کہ اگر کسی پر قربانی کرنا واجب بھی نہ ہو تب بھی اتنے بے حساب ثواب کے لالچ سے قربانی کر دنا چاہیے کہ جب یہ دن چلے جائیں تو یہ دولت کہاں نصیب ہو گئی اور اتنی آسانی سے اتنی نیکیاں کیسے کما سکے گی اور اگر اللہ نے مالدار اور امیر بنایا ہو تو مناسب ہے کہ جہاں اپنی طرف سے قربانی کرے جو رشتہ دار مر گئے ہیں جیسے ماں باپ وغیرہ ان کی طرف سے بھی قربانی کر دے کہ ان کی رو کو اتنا بڑا ثواب پہنچ جائے۔ حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے آپ کی بیبیوں کی طرف سے اپنے پیر وغیرہ کی طرف سے کر دے اور نہیں تو کم سے کم اتنا تو ضرور کرے کہ اپنی طرف سے قربانی کرے کیونکہ مالدار پر تو واجب ہے جس کے پاس مال و دولت سب کچھ موجود ہے اور قربانی کرنا اس پر واجب ہے پھر بھی اس نے قربانی نہ کی اس سے بڑھ کر بدنصیب اور محروم اور کون ہو گا اور گناہ رہا سو الگ۔ جب قربانی کا جانور قبلہ رخ لٹا دے تو پہلے یہ دعا پڑھے۔

انی وجہت وجہی للذی فطر السموات والارض حنیفا وما انا من المشرکین ان صلوتی ونسلی ومحیای وممانی للہ رب العلمین لا شریک لہ وبذلک امرت وانا من المسلمین اللہم منک ولک پھر بسم اللہ اللہ اکبر کہہ کر ذبح کرے اور ذبح کرنے کے بعد یہ دعا پڑھے۔ اللہم تقبلہ منی کما تقبلت من حبیبک محمد وخلیلک ابراہیم علیہما الصلوۃ والسلام۔

مسئلہ۔ جس پر صدقہ فطر واجب ہے اس پر بقر عید کے دنوں قربانی کرنا بھی واجب ہے اور اگر اتنا مال نہ ہو جتنے کے ہونے سے صدق فطر واجب ہوتا ہے تو اس پر قربانی واجب نہیں ہے لیکن پھر بھی اگر کر دے تو بہت ثواب پائے۔

مسئلہ۔ مسافر پر قربانی واجب نہیں

مسئلہ۔ بقر عید کی دسویں تاریخ سے لے کر بارہویں تاریخ کی شام تک قربانی کرنے کا وقت ہے چاہے جس دن قربانی کرے لیکن قربانی کرنے کا سب سے بہتر دن عید کا دن ہے پھر گیارہویں تاریخ پھر بارہویں تاریخ۔

مسئلہ۔ بقر عید کی نماز ہونے سے پہلے قربانی کرنا درست نہیں ہے جب لوگ نماز پڑ چکیں تب کرے البتہ اگر کوئی کسی دیہات میں اور گاؤں میں رہتی ہو تو وہاں طلوع صبح صادق کے بعد بھی قربانی کر دینا درست ہے۔ شہر کے اور قصبہ میں رہنے والے نماز کے بعد کریں۔

مسئلہ۔ اگر کوئی شہر کی رہنے والی اپنی قربانی کا جانور کسی گاؤں بھیج دے تو اس کی قربانی بقر عید کی نماز سے پہلے درست ہے اگرچہ خود وہ شہر ہی میں موجود ہے۔ لیکن جب قربانی دیہات میں بھیج دے تو نماز سے پہلے قربانی کرنا درست ہو گیا۔ ذبح ہو جانے کے بعد اس کو منگوا لے اور گوشت کھائے۔

مسئلہ۔ بارہویں تاریخ سورج ڈوبنے سے پہلے پہلے قربانی کرنا درست ہے جب سورج ڈوب گیا تو اب قربانی کرنا درست نہیں۔

مسئلہ۔ دسویں سے بارہویں تک جب جی چاہے قربانی کرے چاہے دن میں چاہے رات میں لیکن رات کو ذبح کرنا بہتر نہیں کہ شاید کوئی رگ نہ کٹے اور قربانی درست نہ ہو۔

مسئلہ۔ دسویں گیارہویں بارہویں تاریخ سفر میں تھی پھر بارہویں تاریخ سورج ڈوبنے سے پہلے گھرپہنچ گئی یا پندرہ دن کہیں ٹھیرنے کی نیت کر لی تو اب قربانی کرنا واجب ہو گیا اسی طرح اگر پہلے اتنا مال نہ تھا اس لیے قربانی واجب نہ تھی پھر بارہویں تاریخ سورج ڈوبنے سے پہلے کہیں سے مال مل گار تو قربانی کرنا واجب ہے۔

مسئلہ۔ اپنی قربانی کو اپنے ہاتھ سے ذبح کرنا بہتر ہے اگر خود ذبح کرنا نہ جانتی ہو تو کسی اور سے ذبح کروا لے اور ذبح کے وقت وہاں جانور کے سامنے کھڑی ہو جانا بہتر ہے اور اگر ایسی جگہ ہے کہ پردہ کی وجہ سے سامنے نہیں کھڑی ہو سکتی تو بھی کچھ حرج نہیں۔

مسئلہ۔ قربانی کرتے وقت زبان سے نیت پڑھنا اور دعا پڑھنا ضروری نہیں ہے اگر دل میں خیال کر لیا کہ میں قربانی کرتی ہوں اور زبان سے کچھ نہیں پڑھا فقط بسم اللہ اللہ اکبر کہہ کر ذبح کر دیا تو بھی قربانی درست ہو گئی لیکن اگر یاد ہو تو وہ دعا پڑھ لینا بہتر ہے جو اوپر بیان ہوئی۔

مسئلہ۔ قربانی فقط اپنی طرف سے کرنا واجب ہے اولاد کی طرف سے واجب نہیں بلکہ اگر نابالغ اولاد مالدار بھی ہو تب بھی اس کی طرف سے کرنا واجب نہیں نہ اپنے مال میں سے نہ اس کے مال میں سے۔ اگر کسی نے اس کی طرف سے قربانی کر دی تو نفل ہو گئی لیکن اپنے ہی مال میں سے کرے اس کے مال میں سے ہرگز نہ کرے۔

مسئلہ۔ بکری بکرا بھیڑ دنبہ گائے بیل بھنس  بھینسا اونٹ اونٹنی اتنے جانوروں کی قربانی درست ہے اور کسی جانور کی قربانی درست نہیں۔

مسئلہ۔ گائے بھینس اونٹ میں اگر سات آدمی شریک ہو کر قربانی کریں تو بھی درست ہے لیکن شرط یہ ہے کہ کسی کا حصہ ساتویں حصہ سے کم نہ ہو اور سب کی نیت قربانی کرنے کی یا عقیقہ کی ہو صرف گوشت کھانے کی نیت نہ ہو۔ اگر کسی کا حصہ ساتویں حصہ سے کم ہو گا تو کسی کی قربانی درست نہ ہو گی نہ اس کی جس کا پورا حصہ ہے نہ اس کی جس کا ساتویں سے کم ہے۔

مسئلہ۔ اگر گائے میں سات آدمیوں سے کم لوگ شریک ہوئے جیسے پانچ آدمی شریک ہوئے یا چھ آدمی شریک ہوئے اور کسی کا حصہ ساتویں حصہ سے کم نہیں تب بھی سب کی قربانی درست ہے۔ اور اگر آٹھ آدمی شریک ہو گئے تو کسی کی قربانی صحیح نہیں ہوئی۔

مسئلہ۔ قربانی کے لیے کسی نے گائے خریدی اور خریدتے وقت یہ نیت کی کہ اگر کوئی اور ملے گا تواس کو بھی اس گائے میں شریک کر لیں گے اور ساجھے میں قربانی کریں گے۔ اس کے بعد کچھ اور لوگ اس گائے میں شریک ہو گئے تو یہ درست ہے۔ اور اگر خریدتے وقت اس کی نیت شریک کرنے کی نہ تھی بلکی پوری گائے اپنی طرف سے قربانی کرنے کا ارادہ تھا تو اب اس میں کسی اور کا شریک ہونا بہتر تو نہیں ہے لیکن اگر کسی کو شریک کر لیا تو دیکھنا چاہیے جس نے شریک کیا وہ امیر ہے کہ اس پر قربانی واجب ہے یا غریب ہے جس پر قربانی واجب نہیں۔ اگر امیر ہے تو درست ہے اور اگر غریب ہے تو درست نہیں۔

مسئلہ۔ اگر قربانی کا جانور کہیں گم ہو گیا اس لیے دوسرا خریدا پھر وہ پہلا بھی مل گیا۔ اگر امیر آدمی کو ایسا اتفاق ہوا تو ایک ہی جانور کی قربانی اس پر واجب ہے اور اگر غریب آدمی کو ایسا اتفاق ہوا تو دونوں جانوروں کی قربانی اس پر واجب ہو گی۔

مسئلہ۔ سات آدمی گائے میں شریک ہوئے تو گوشت بانٹتے وقت اٹکل سے نہ بانٹیں بلکہ خوب ٹھیک ٹھیک تول کر بانٹیں نہیں تو اگر کوئی حصہ زیادہ کم رہے گا تو سود ہو جائے گا۔ اور گناہ ہو گا البتہ اگر گوشت کے ساتھ کلہ پائے اور کھال کو بھی شریک کر لیا تو جس طرف کلہ پائے یا کھال ہو اس طرف اگر گوشت کم ہو درست ہے چاہے جتنا کم ہو۔ جس طرف گوشت زیادہ تھا اس طرف کلہ پائے شریک کیے تو بھی سود ہو گیا اور گنا ہوا۔

مسئلہ۔ بکری سال بھر سے کم کی درست نہیں۔ جب پورے سال بھر کی ہو تب قربانی درست ہے۔ اور گائے بھینس دو برس سے کم کی درست نہیں۔ پورے دو برس ہو چکیں تب قربانی درست ہے۔ اور اونٹ پانچ برس سے کم کا درست نہیں ہے اور دنبہ یا بھیڑ اگر اتنا موٹا تازہ ہو کہ سال بھر کا معلوم ہوتا ہو اور سال بھر والے بھیڑ دنبوں میں اگر چھوڑ دو تو کچھ فرق نہ معلوم ہوتا ہو تو ایسے وقت چھ مہینے کے دنبہ اور بھیڑ کی بھی قربانی درست ہے۔ اور اگر ایسا نہ ہو تو سال بھر کا ہونا چاہیے۔

مسئلہ۔ جو جانور اندھا ہو یا کانا ہو۔ ایک آنکھ کی تہائی روشنی یا اس سے زیادہ جاتی رہی ہو یا ایک کان تہائی یا تہائی سے زیادہ کٹ گیا۔ یا تہائی دم یا تہائی سے زیادہ کٹ گئی تو اس جانور کی قربانی درست نہیں۔

مسئلہ۔ جو جانور اتنا لنگڑا ہے کہ فقط تین پاؤں سے چلتا ہے چوتھا پاؤں رکھا ہی نہیں جاتا چوتھا پاؤں رکھتا تو ہے لیکن اس سے چل نہیں سکتا اس کی بھی قربانی درست نہیں اور اگر چلتے وقت وہ پاؤں زمین پر ٹیک کر چلتا ہے اور چلنے میں اس سے سہارا لگتا ہے لیکن لنگڑا کر کے چلتا ہے تو اس کی قربانی درست ہے۔

مسئلہ۔ اتنا دبلا بالکل مریل جانور جس کی ہڈیوں میں بالکل گودا نہ رہا ہو اس کی قربانی درست نہیں ہے اور اگر اتنا دبلا نہ ہو تو دبلے ہونے سے کچھ حرج نہیں اس کی قربانی درست ہے لیکن موٹے تازہ جانور کی قربانی کرنا زیادہ بہتر ہے۔

مسئلہ۔ جس جانور کے بالکل دانت نہ ہوں اس کی قربانی درست نہیں۔ اور اگر کچھ دانت گر گئے لیکن جتنے گرے ہیں ان سے زیادہ ہیں تو اس کی قربانی درست ہے۔

مسئلہ۔ جس جانور کی پیدائش ہی سے کان نہیں ہیں اس کی بھی قربانی درست نہیں ہے اور اگر کان تو ہیں لیکن بالکل ذرا ذرا سے چھوٹے چھوٹے ہیں تو اس کی قربانی درست ہے۔

مسئلہ۔ جس جانور کے پیدائش ہی سے سینگ نہیں یا سینگ تو تھے لیکن ٹوٹ گئے اس کی قربانی درست ہے البتہ اگر بالکل جڑ سے ٹوٹ گئے تو قربانی درست نہیں۔

مسئلہ۔ خصی یعنی بدھیا بکرے اور مینڈھے وغیرہ کی قربانی درست ہے۔ جس جانور کے خارش ہو اس کی بھی قربانی درست ہے۔ البتہ اگر خارش کی وجہ سے بالکل لاغر ہو گیا ہو تو درست نہیں۔

مسئلہ۔ اگر جانور قربانی کے لیے خرید لیا تب کوئی ایسا عیب پیدا ہو گیا جس سے قربانی درست نہیں تو اس کے بدلے دوسرا جانور خرید کر کے قربان کرے۔ ہاں اگر غریب آدمی ہو جس پر قربانی کرنا واجب نہیں تو اس کے واسطے درست ہے وہی جانور قربانی کر دے۔

مسئلہ۔ قربانی کا گوشت آپ کھائے اور اپنے رشتہ ناتے کے لوگوں کو دے دے اور فقیروں محتاجوں کو خیرات کرے۔ اور بہتر یہ ہے کہ کم سے کم تہائی حصہ خیرات کرے۔ خیرات میں تہائی سے کمی نہ کرے لیکن اگر کسی نے تھوڑا ہی گوشت خیرات کیا تو بھی کوئی گناہ نہیں ہے۔

مسئلہ۔ قربانی کی کھال یا تو یوں ہی خیرات کر دے اور یا بیچ کر اس کی قیمت خیرات کر دے وہ قیمت ایسے لوگوں کو دے جن کو زکوٰۃ کا پیسہ دنا درست ہے اور قیمت میں جو پیسے ملے ہیں بعینہ وہی پیسے خیرات کرنا چاہیے اگر وہ پیسے کسی کام میں خرچ کر ڈالے اور اتنے ہی پیسے اور اپنے پاس سے دے دیئے تو بری بات ہے مگر ادا ہو جائیں گے۔

مسئلہ۔ اس کھال کی قیمت کو مسجد کی مرمت یا اور کسی نیک کام میں لگانا درست نہیں۔ خیرات ہی کرنا چاہیے۔

مسئلہ۔ اگر کھال کو اپنے کام میں لائے جیسے اس کی چھلنی بنوائی یا مشک یا ڈول یا جائے نماز بنوالی یہ بھی درست ہے۔

مسئلہ۔ کچھ گوشت یا چربی یا چھیچھڑے قصائی کو مزدوری میں نہ دے بلکہ مزدوری اپنے پاس سے الگ دے۔

مسئلہ۔ قربانی کی رسی جھول وغیرہ سب چیزیں خیرات کر دی۔ مسئلہ۔ کسی پر قربانی واجب نہیں تھی لیکن اس نے قربانی کی نیت سے جانور خرید لیا تو اب اس جانور کی قربانی واجب ہو گئی۔

مسئلہ۔ کسی پر قربانی واجب تھی لیکن قربانی کے تینوں دن گزر گئے اور اس نے قربانی نہیں کی تو ایک بکری یا بھیڑ کی قیمت خیرات کر دے۔ اور اگر بکری خرید لی تھی وہی بکری بعینہ خیرات کر دے۔

مسئلہ۔ جس نے قربانی کرنے کی منت مانی پھر وہ کام پورا ہو گیا جس کے واسطے منت مانی تھی تو اب قربانی کرنا واجب ہے چاہے مالدار ہو یا نہ ہو اور منت کی قربانی کا سب گوشت فقیروں کو خیرات کر دے۔ نہ آپ کھائے نہ امیروں کو دے۔ جتنا آپ کھایا ہو یا امیروں کو دیا ہو اتنا پھر خیرات کرنا پڑے گا۔

مسئلہ۔ اگر اپنی خوشی سے کسی مردے کے ثواب پہنچانے کے لیے قربانی کرے تو اس گوشت میں سے خود کھانا کھلانا بانٹنا سب درست ہے جس طرح اپنی قربانی کا حکم ہے۔

مسئلہ۔ اگر کوئی مردہ وصیت کر گیا ہو کہ میرے ترکہ میں سے میری طرف سے قربانی کی جائے اور اس کی وصیت پر اس کے مال سے قربانی کی گئی تو اس قربانی کے تمام گوشت وغیرہ کا خیرات کر دینا واجب ہے۔

مسئلہ۔ اگر کوئی شخص یہاں موجود نہیں اور دوسرے شخص نے اس کی طرف سے بغیر اس کے امر کے قربانی کر دی تو یہ قربانی صحیح نہیں ہوئی اور اگر کسی جانور میں کسی غائب کا حصہ بدون اس کے امر کے تجویز کر لیا تو اور حصہ داروں کی قربانی بھی صحیح نہ ہو گی۔

مسئلہ۔ اگر کوئی جانور کسی کو حصہ پر دیا ہے تو یہ جانور اس پرورش کرنے والی کی ملک نہیں ہوا بلکہ اصل مالکہ کا ہی ہے۔ اس لیے اگر کسی نے اس پالنے والی سے خرید کر قربانی کر دی تو قربانی نہیں ہوئی۔ اگر ایسا جانور خریدنا ہو تو اصل مالک سے جس نے حصہ پر دیا ہے خرید لیں۔

مسئلہ۔ اگر ایک جانور میں کئی آدمی شریک ہیں اور وہ سب گوشت کو آپس میں تقسیم نہیں کرتے بلکہ یکجا ہی فقراء و احباب کو تقسیم کرنا یا کھانا پکا کر کھلانا چاہیں تو بھی جائز ہے اگر تقسیم کریں گے تو اس میں برابری ضروری ہے۔

مسئلہ۔ قربانی کی کھال کی قیمت کسی کو اجرت میں دینا جائز نہیں کیونکہ اس کا خیرات کرنا ضروری ہے۔

مسئلہ۔ قربانی کا گوشت کافروں کو بھی دینا جائز ہے بشرطیکہ اجرت میں نہ دیا جائے۔

مسئلہ۔ اگر کوئی جانور گابھن ہو تو اس کی قربانی جائز ہے پھر اگر بچہ زندہ نکلے تو اس کو بھی ذبح کر دے۔

صدقہ فطر کا بیان

مسئلہ۔ جو مسلمان اتنا مالدار ہو کہ اس پر زکوٰۃ واجب ہو یا اس پر زکوٰۃ تو واجب نہیں لیکن ضروری اسباب سے زائد اتنی قیمت کا مال و اسباب ہے جتنی قیمت پر زکوٰۃ واجب ہو تو اس پر عید کے دن صدقہ دینا واجب ہے چاہے وہ سوداگری کا مال ہو یا سوداگری کا نہ ہو اور چاہے سال پورا گذر چکا ہو یا نہ گذرا ہو اور اس صدقہ کو شرع میں صدقہ فطر کہتے ہیں۔

مسئلہ۔ کسی کے پاس رہنے کا بڑا بھاری گھر ہے کہ اگر بیچا جائے تو ہزار پانسو کا بکے اور پہننے کے بڑے قیمتی قیمتی کپڑے ہیں مگر ان میں گوٹہ لچکا نہیں اور خدمت کے لیے دو چار خدمت گار ہیں۔ گھر میں ہزار پانسو کا ضروری اسباب بھی ہے مگر زیور نہیں اور وہ سب کام میں آیا کرتا ہے یا کچھ اسباب ضرورت سے زیادہ بھی ہے اور کچھ گوٹہ لچکہ اور زیور بھی ہے لیکن وہ اتنا نہیں جتنے پر زکوٰۃ واجب ہوتی ہے تو ایسے پر صدقہ فطر واجب نہیں ہے۔

مسئلہ۔ کسی کے دو گھر ہیں ایک میں خود رہتی ہے اور ایک خالی پڑا ہے یا کرایہ پر دے دیا ہے تو یہ دوسرا مکان ضرورت سے زائد ہے اگر اس کی قیمت اتنی ہو جتنی پر زکوٰۃ واجب ہوتی ہے تو اس پر صدقہ فطر واجب ہے اور ایسے کو زکوٰۃ کا پیسہ دینا بھی جائز نہیں۔ البتہ اگر اسی پر اس کا گذارا ہو تو یہ مکان بھی ضروری اسباب میں داخل ہو جائے گا اور اس پر صدقہ فطر واجب نہ ہو گا اور زکوٰۃ کا پیسہ لینا اور دینا بھی درست ہو گا۔ خلاصہ یہ ہوا کہ جس کو زکوٰۃ اور صدقہ واجبہ لینا درست ہے اس پر صدقہ فطر واجب نہیں اور جس کو صدقہ اور زکوٰۃ کا لینا درست نہیں اس پر صدقہ فطر واجب ہے۔

مسئلہ۔ کسی کے پاس ضروری اسباب سے زائد مال اسباب ہے لیکن وہ قرض دار بھی ہے تو قرضہ مجرا کر کے دیکھو کیا بچتا ہے اگر اتنی قیمت کا اسباب بچ رہے جتنے میں زکوٰۃ یا صدقہ واجب ہو جائے تو صدقہ فطر واجب ہے اور اگر اس سے کم بچے تو واجب نہیں۔

جن لوگوں کو زکوٰۃ دینا جائز ہے ان کا بیان

مسئلہ۔ جس کے پاس ساڑھے باون تولہ چاندی یا ساڑھے سات تولہ سونا یا اتنی ہی قیمت کا سوداگری کا اسباب ہو اس کو شریعت میں مالدار کہتے ہیں ایسے شخص کو زکوٰۃ کا پیسہ دینا درست نہیں اور اس کو زکوٰۃ کا پیسہ لینا اور کھانا بھی حلال نہیں۔ اسی طرح جس کے پاس اتنی ہی قیمت کا کوئی مال ہو جو سوداگری کا اسباب تو نہیں لیکن ضرورت سے زائد ہے وہ بھی مالدار ہے ایسے شخص کو بھی زکوٰۃ کا پیسہ دینا درست نہیں اگرچہ خود اس قسم کے مالدار پر زکوٰۃ بھی واجب نہیں۔

مسئلہ۔ اور جس کے پاس اتنا مال نہیں بلکہ تھوڑا مال ہے یا کچھ بھی نہیں یعنی ایک دن کے گزارہ کے موافق بھی نہیں اس کو غریب کہتے ہیں ایسے لوگوں کو زکوٰۃ کا پیسہ دینا درست ہے اور ان لوگوں کو لینا بھی درست ہے۔

مسئلہ۔ بڑی بڑی دیگیں اور بڑے بڑے فرش فروش اور شامیانے جن کی برسوں میں ایک آدھ دفعہ کہیں شادی بیاہ میں ضرورت پڑتی ہے اور روزہ مرہ ان کی ضرورت نہیں ہوتی وہ ضروری اسباب میں داخل نہیں۔

مسئلہ۔ رہنے کا گھر اور پہننے کے کپڑے اور کام کاج کے لیے نوکر چاکر اور گھر کی گھرستی جو اکثر کام میں رہتی ہے یہ سب ضروری اسباب میں داخل ہیں اس کے ہونے سے مالدار نہیں ہو گی چاہے جتنی قیمت کی ہو اس لیے اس کو زکوٰۃ کا پیسہ دینا درست ہے اسی طرح پڑھے ہوئے آدمی کے پاس اس کی سمجھ اور برتاؤ کی کتابیں بھی ضروری اسباب میں داخل ہیں۔

مسئلہ۔ کسی کے پاس دس پانچ مکان ہیں جن کو کرایہ پر چلاتی ہے اور اس کی آمدنی سے گزر کرتی ہے یا ایک آدھ گاؤں ہے جس کی آمدنی آتی ہے لیکن بال بچے اور گھر میں کھانے پینے والے لوگ اتنے زیادہ ہیں کہ اچھی طرح بسر نہیں ہوتی اور تنگی رہتی ہے اور اس کے پاس کوئی ایسا مال بھی نہیں جس میں زکوٰۃ واجب ہو تو ایسے شخص کو بھی زکوٰۃ کا پیسہ دینا درست ہے۔

مسئلہ۔ کسی کے پاس ہزار روپے نقد موجود ہیں لیکن وہ پورے ہزار روپے کا یا اس سے بھی زائد کا قرض دار ہے تو اس کو بھی زکوٰۃ کا پیسہ دینا درست ہے اور اگر قرضہ ہزار روپے سے کم ہو تو دیکھو قرضہ دے کر کتنے روپے بچتے ہیں اگر اتنے بچیں جتنے میں زکوٰۃ واجب ہوتی ہے تو اس کو زکوٰۃ کا پیسہ دینا درست نہیں اور اور اگر اس سے کم بچیں تو دنیا درست ہے۔

مسئلہ۔ ایک شخص اپنے گھر کا بڑا مالدار ہے لیکن کہیں سفر میں ایسا اتفاق ہوا کہ اس کے پاس کچھ خرچ نہیں رہا سارا مال چوری ہو گیا اور کوئی وجہ ایسی ہوئی کہ اب گھر تک پہنچنے کا بھی خرچ نہیں ہے ایسے شخص کو بھی زکوٰۃ کا پیسہ دینا درست ہے۔ ایسے ہی اگر حاجی کے پاس راستے میں خرچ مک گیا اور اس کے گھر میں بہت مال و دولت ہے اس کو بھی دینا درست ہے۔

مسئلہ۔ زکوٰۃ کا پیسہ کسی کافر کو دینا درست نہیں مسلمان ہی کو دے۔ اور زکوٰۃ اور عشر اور صدقہ فطر اور نذر اور کفارہ کے سوا اور خیر خیرات کافر کو بھی دینا درست ہے۔

مسئلہ۔ زکوٰۃ کا پیسہ کسی کافر کو دینا درست نہیں مسلمان ہی کو دے دے۔ اور زکوٰۃ اور عشر اور صدقہ فطر اور نذر اور کفارہ کے سوا اور خیر خیرات کافر کو بھی دینا درست ہے۔

مسئلہ۔ زکوٰۃ کے پیسہ سے مسجد بنوانا یا کسی لا وارث مردہ کا گور و کفن کر دینا یا مردے کی طرف سے اس کا قرضہ ادا کر دینا یا کسی اور نیک کام میں لگا دینا درست نہیں جب تک کسی مستحق کو دے نہ دیا جائے زکوٰۃ ادا نہ ہو گی۔

مسئلہ۔ اپنی زکوٰۃ کا پیسہ اپنے ماں باپ دادا دادی نانا نانی پر دادا وغیرہ جن لوگوں سے یہ پیدا ہوئی ہے ان کو دینا درست نہیں ہے۔ اسی طرح اپنی اولاد اور پوتے پڑپوتے نواسے وغیرہ جو لوگ اس کی اولاد میں داخل ہیں ان کو بھی دینا درست نہیں۔ ایسے ہی بی بی اپنے میاں کو اور میاں بی بی کو زکوٰۃ نہیں دے سکتے۔

مسئلہ۔ ان رشتہ داروں کے سوا سب کو زکوٰۃ دینا درست ہے۔ جیسے بھائی بہن بھتیجی بھانجی چچا پھوپی خالہ ماموں سوتلی ماں سوتیلا باپ سوتیلا دادا ساس خسر وغیرہ سب کو دینا درست ہے۔

مسئلہ۔ نابالغ لڑکے کا باپ اگر مالدار ہو تو اس کو زکوٰۃ دینا درست نہیں اور اگر لڑکا لڑکی بالغ ہو گئے اور خود وہ مالدار نہیں لیکن ان کا باپ مالدار ہے تو ان کو دینا درست ہے۔

مسئلہ۔ اگر چھوٹے بچے کا باپ تو مالدار نہیں لیکن ماں مالدار ہے تو اس بچے کو زکوٰۃ کا پیسہ دینا درست ہے۔

مسئلہ۔ سیدوں کو اور علویوں کو اسی طرح جو حضرت عباس کی یا حضرت جعفر کی یا حضرت عقیل یا حضرت حارث بن عبدالمطلب کی اولاد میں ہوں ان کو زکوٰۃ کا پیسہ دینا درست نہیں اسی طرح جو صدقہ شریعت سے واجب ہو اس کا دینا بھی درست نہیں جیسے نذر کفارہ عشر صدقہ فطر اور اس کے سوا اور کسی صدقہ خیرات کا دینا درست ہے۔

مسئلہ۔ گھر کے نوکر چاکر خدمت گار ماما دائی کھلائی وغیرہ کو بھی زکوٰۃ کا پیسہ دینا درست ہے لیکن ان کی تنخواہ میں نہ حساب کرے بلکہ تنخواہ سے زائد بطور انعام اکرام کے دے دے اور دل میں زکوٰۃ دینے کی نیت رکھے تو درست ہے۔

مسئلہ۔ جس لڑکے کو تم نے دودھ پلایا ہے اس کو اور جس نے بچپن میں تم کو دودھ پلایا ہے اس کو بھی زکوٰۃ کا پیسہ دینا درست ہے۔

مسئلہ۔ ایک عورت کا مہر ہزار روپیہ ہے لیکن اس کا شوہر بہت غریب ہے کہ ادا نہیں کر سکتا تو ایسی عورت کو بھی زکوٰۃ کا پیسہ دینا درست ہے اور اگر اس کا شوہر امیر ہے لیکن مہر دیتا نہیں یا اس نے اپنا مہر معاف کر دیا تو بھی زکوٰۃ کا پیسہ دینا درست ہے اور اگر یہ امید ہے کہ جب مانگوں گی تو وہ ادا کر دے گا کچھ تامل نہ کرے گا تو ایسی عورت کو زکوٰۃ کا پیسہ دینا درست نہیں۔

مسئلہ۔ ایک شخص کو مستحق سمجھ کر زکوٰۃ دے دی پھر معلوم ہوا کہ وہ تو مالدار ہے یا سید ہے یا اندھیاری رات میں کسی کو دے دیا پھر معلوم ہوا کہ وہ تو میری ماں تھی یا میری لڑکی تھی یا اور کوئی ایسا رشتہ دار ہے جس کو زکوٰۃ دینا درست نہیں تو ان سب صورتوں میں زکوٰۃ ادا ہو گئی دوبارہ ادا کرنا واجب نہیں لیکن لینے والے کو اگر معلوم ہو جائے کہ یہ زکوٰۃ کا پیسہ ہے اور میں زکوٰۃ لنیے کا مستحق نہیں ہوں تو نہ لے اور پھرا دے۔ اور اگر دینے کے بعد معلوم ہوا کہ جس کو دیا ہے وہ کافر ہے تو زکوٰۃ ادا نہیں ہوئی پھر ادا کرے۔

مسئلہ۔ اگر کسی پر شبہ ہو کہ معلوم نہیں مالدار ہے یا محتاج ہے تو جب تک تحقیق نہ ہو جائے اس کو زکوٰۃ نہ دے۔ اگر بے تحقیق کیے دے دیا تو دیکھو دل زیادہ کدھر جاتا ہے اگر دل یہ گواہی دیتا ہے کہ وہ فقیر ہے تو زکوٰۃ ادا ہو گئی اور اگر دل یہ کہے کہ وہ مالدار ہے تو زکوٰۃ ادا نہیں ہوئی پھر سے دے۔ لیکن اگر دینے کے بعد معلوم ہو جائے کہ وہ غریب ہی ہے تو پھر زکوٰۃ ادا ہو گئی۔

مسئلہ۔ زکوٰۃ کے دینے میں اور زکوٰۃ کے سوا اور صدقہ خیرات میں سب سے زیادہ اپنے رشتہ ناتہ کے لوگوں کا خیال رکھو کہ پہلے ان ہی لوگوں کو دو لیکن ان کو یہ نہ بتاؤ کہ یہ زکوٰۃ یا صدقہ اور خیرات کی چیز ہے تاکہ وہ برا نہ مانیں۔ حدیث شریف میں آیا ہے کہ قرابت والوں کو خیرات دینے سے دہرا ثواب ملتا ہے۔ ایک تو خیرات کا دوسرا اپنے عزیزوں کے ساتھ سلوک و احسان کرنے کا پھر جو کچھ ان سے بچے وہ اور لوگوں کو دو۔

مسئلہ۔ ایک شہر کی زکوٰۃ دوسرے شہر میں بھیجنا مکروہ ہے ہاں اگر دوسرے شہر میں اس کے رشتہ دار رہتے ہوں ان کو بھیج دیا یا یہاں والوں کے اعتبار سے وہاں کے لوگ زیادہ محتاج ہیں یا وہ لوگ دین کے کام میں لگے ہیں ان کو بھیج دیا تو مکروہ نہیں کہ طالب علموں اور دیندار عالموں کو دینا بڑا ثواب ہے۔

پیداوار کی زکوٰۃ کا بیان

مسئلہ۔ کوئی شہر کافروں کے قبضہ میں تھا وہی لوگ وہاں رہتے سہتے تھے پھر مسلمان ان پر چڑھ آئے اور لڑ کر وہ شہر ان سے چھین لیا اور وہاں دین اسلام پھیلایا اور مسلمان بادشاہ نے کافروں سے لے کر شہر کی ساری زمین ان ہی مسلمانوں کو بانٹ دی تو ایسی زمین کو شرع میں عشری کہتے ہیں اور اگر اس شہر کے رہنے والے لوگ سب کے سب اپنی خوشی سے مسلمان ہو گئے لڑنے کی ضرورت نہیں پڑی تب بھی اس شہر کی سب زمین عشری کہلائے گی اور عرب کے ملک کی بھی ساری زمین عشری ہے۔

مسئلہ۔ اگر کسی کے باپ دادا سے یہی عشری زمین برابر چلی آتی ہو یا کسی ایسے مسلمان سے خریدی جس کے پاس اسی طرح چلی آتی ہو تو ایسی زمین میں جو کچھ پیدا ہوا اس میں بھی زکوٰۃ واجب ہے۔ اور طریقہ اس کا یہ ہے کہ اگر کھیت کو سینچنا نہ پڑھے فقط بارش کے پانی سے پیداوار ہو گئی یا ندی اور دریا کے کنارے پر ترائی میں کوئی چیز بوئی اور بے سنچے پیدا ہو گئی تو ایسے کھیت میں جتنا پیدا ہوا ہے اس کا دسواں حصہ خیرات کر دینا واجب ہے یعنی دس من میں ایک من اور دس سیر میں ایک سیر اور اگر کھیت کو پرچلا کر کے یا کسی اور طریق سے سینچا ہے تو پیداوار کا بیسواں حصہ خیرات کرے یعنی بیس من میں ایک من اور بیس سیر میں ایک سیر اور یہی حکم ہے باغ کا ایسی زمین میں کتنی ہی تھوڑی چیز پیدا ہوئی ہو بہرحال یہ صدقہ خیرات کرنا واجب ہے کم اور زیادہ ہونے میں کچھ فرق نہیں ہے۔

مسئلہ۔ اناج ساگ ترکاری میوہ پھل پھول وغیرہ جو کچھ پیدا ہو سب کا یہی حکم ہے۔

مسئلہ۔ عشری زمین یا پہاڑ یا جنگل سے اگر شہد نکالا تو اس میں بھی یہ صدقہ واجب ہے۔

مسئلہ۔ کسی نے اپنے گھر کے اندر کوئی درخت لگایا یا کوئی چیز ترکاری کی قسم سے ہے اور کچھ بویا اور اس میں پھل آیا تو اس میں یہ صدقہ واجب نہیں ہے۔

مسئلہ۔ اگر عشری زمین کوئی کافر خرید لے تو وہ عشری نہیں رہتی پھر اگر اس سے مسلمان بھی خرید  لے یا کسی اور طور پر اس کو مل جائے تب بھی وہ عشری نہ ہو گی۔

مسئلہ۔ یہ بات کہ یہ دسواں یا بیسواں حصہ کس کے ذمہ ہے یعنی زمین کے مالک پر ہے یا پیداوار کے مالک پر ہے۔ اس میں بڑا عالموں کا اختلاف ہے مگر ہم آسانی کے واسطے یہی بتلایا کرتے ہیں کہ پیداوار والے کے ذمہ ہے۔ سو اگر کھیت ٹھیکہ پر ہو خواہ نقد پر یا غلہ پر تو کسان کے ذمہ ہو گا اور اگر کھیت بٹائی پر ہو تو زمیندار اور کسان دونوں اپنے اپنے حصہ کا دیں۔

زکوٰۃ کے ادا کرنے کا بیان

مسئلہ۔ جب مال پر پورا سال گزر جائے تو فورا زکوٰۃ ادا کر دے نیک کام میں دیر لگانا اچھا نہیں کہ شاید اچانک موت آ جائے اور یہ مواخذہ اپنی گردن پر رہ جائے اگر سال گزرنے پر زکوٰۃ ادا نہیں کی یہاں تک کہ دوسرا سال بھی گزر گیا تو گنہگار ہوئی اب بھی توبہ کر کے دونوں سال کی زکوٰۃ دے دے غرض عمر بھر میں کبھی نہ کبھی ضرور دے دے باقی نہ رکھے۔

مسئلہ۔ جتنا مال ہے اس کا چالیسواں حصہ زکوٰۃ میں دینا واجب ہے یعنی سو روپے میں ڈھائی روپے اور چالیس روپے میں ایک روپیہ۔

مسئلہ۔ جس وقت زکوٰۃ کا روپیہ کسی غریب کو دے دے اس وقت اپنے دل میں اتنا ضرور خیال کر لے کہ میں زکوٰۃ میں دیتی ہوں اگر یہ نیت نہیں کہ یوں ہی دے دیا تو زکوٰۃ ادا نہیں ہوئی پھر سے دینا چاہیے اور جتنا دیا ہے اس کا ثواب الگ ملے گا۔

مسئلہ۔ اگر فقیر کو دیتے وقت یہ نیت نہیں کی تو جب تک وہ مال فقیر کے پاس رہے اس وقت تک یہ نیت کر لینا درست ہے اب نیت کر لینے سے بھی زکوٰۃ ادا ہو جائے گی۔ البتہ جب فقیر نے خرچ کر ڈالا اس وقت نیت کرنے کا اعتبار نہیں ہے اب پھر سے زکوٰۃ دے۔

مسئلہ۔ کسی نے زکوٰۃ کی نیت سے دو روپے نکال کر الگ رکھ لیے کہ جب کوئی مستحق ملے گا اس کو دے دوں گی پھر جب فقیر کو دے دیا اس وقت زکوٰۃ کی نیت کرنا بھول گئی تو بھی زکوٰۃ ادا ہو گئی۔ البتہ زکوٰۃ کی نیت سے نکال کر الگ نہ رکھتی تو ادا نہ ہوتی۔

مسئلہ۔ کسی نے زکوٰۃ کے روپے نکالے تو اختیار ہے چاہے ایک ہی کو سب دے دے یا تھوڑا تھوڑا کر کے کئی غریبوں کو دے اور چاہے اسی دن سب دے یا تھوڑا تھوڑا کر کے کئی مہینے میں دے۔

مسئلہ۔ بہتر یہ ہے کہ ایک غریب کو کم سے کم اتنا دے دے کہ اس دن کے لیے کافی ہو جائے کسی اور سے مانگنا نہ پڑے۔

مسئلہ۔ ایک ہی فقیر کو اتنا مال دے دینا جتنے مال کے ہونے سے زکوٰۃ واجب ہوتی ہے مکروہ ہے لیکن اگر دے دیا تو زکوٰۃ ادا ہو گئی اور اس سے کم دینا جائز ہے مکروہ بھی نہیں۔

مسئلہ۔ کوئی عورت قرض مانگنے آئی اور یہ معلوم ہے کہ وہ اتنی تنگدست اور مفلس ہے کہ کبھی ادا نہ کر سکے گی یا ایسی نا دہندہ ہے کہ قرض لے کر کبھی ادا نہیں کرتی اس کو قرض کے نام سے زکوٰۃ کا روپیہ پیسہ دے دیا اور اپنے دل میں سوچ لیا کہ میں زکوٰۃ دیتی ہوں تو زکوٰۃ ادا ہو گئی اگرچہ وہ اپنے دل میں یہی سمجھے کہ مجھے قرض دیا ہے۔

مسئلہ۔ اگر کسی کو انعام کے نام سے کچھ دیا مگر دل میں یہی نیت ہے کہ میں زکوٰۃ دیتی ہوں تب بھی زکوٰۃ ادا ہو گئی۔

مسئلہ۔ کسی غریب آدمی پر تمہارے دس روپے قرض ہیںل اور تمہارے مال کی زکوٰۃ بھی دس روپے یا اس سے زیادہ ہے اس کو اپنا قرض زکوٰۃ کی نیت سے معاف کر دیا تو زکوٰۃ ادا نہیں ہوئی البتہ اس کو دس روپے زکوٰۃ کی نیت سے دے دو تو زکوٰۃ ادا ہو گئی اب یہی روپے اپنے قرض میں اس سے لے لینا درست ہیں۔

مسئلہ۔ کسی کے پاس چاندی کا اتنا زیور ہے کہ حساب س تین تولہ چاندی زکوٰۃ کی ہوتی ہے اور بازار میں تین تولہ چاندی دو روپے بکتی ہے تو زکوٰۃ میں دو روپے چاندی کے دے دینا درست نہیں کیونکہ دو روپے کا وزن تنت تولہ نہیں ہوتا اور چاندی کی زکوٰۃ میں جب چاندی دی جائے تو وزن کا اعتبار ہوتا ہے قیمت کا اعتبار نہیں ہوتا۔ ہاں اس صورت میں اگر دو روپے کا سونا خرید کر کے دے دیا یا دو روپے گلٹ کے یا دو روپے کے پیسے یا دو روپے کی گلٹ کی ریزگاری یا دو روپے کا کپڑا یا اور کوئی چیز دے دی یا خود تین تولہ چاندی دے دی تو درست ہے زکوٰۃ ادا ہو جائے گی۔

مسئلہ۔ زکوٰۃ کا روپیہ خود نہیں دیا بلکہ کسی اور کو دے دیا کہ تم کسی کو دے دینا یہ بھی جائز ہے اب وہ شخص دیتے وقت اگر زکوٰۃ کی نیت نہ بھی کرے تب بھی زکوٰۃ ادا ہو جائے گی۔

مسئلہ۔ کسی غریب کو دینے کے لیے تم نے دو روپے کسی کو دیئے لیکن اس نے بعینہ وہی دو روپے فقیر کو نہیں دیئے جو تم نے دیئے تھے بلکہ اپنے پاس سے دو روپے تمہاری طرف سے دے دیئے اور یہ خیال کیا کہ وہ روپے میں لے لوں گا تب بھی زکوٰۃ ادا ہو گئی بشرطیکہ تمہارے روپے اس کے پاس موجود ہوں اور اب وہ شخص اپنے دور روپے کے بدلے میں تمہارے وہ دونوں روپے لے لیوے البتہ اگر تمہارے دیئے ہوئے روپے اس نے پہلے خرچ کر ڈالے اس کے بعد اپنے روپے غریب کو دیئے تو زکوٰۃ ادا نہیں ہوئی یا تمہارے روپے اس کے پاس رکھے تو ہیں لیکن اپنے روپے دیتے وقت یہ نیت نہ تھی کہ میں وہ روپے لے لوں گا تب بھی زکوٰۃ ادا نہیں ہوئی۔ اب وہ دونوں روپے پھر زکوٰۃ میں دے دے۔

مسئلہ۔ اگر تم نے روپے نہیں دیئے لیکن اتنا کہہ دیا کہ تم ہماری طرف سے زکوٰۃ دے دینا اس لیے اس نے تمہاری طرف سے زکوٰۃ دے دی تو ادا ہو گئی اور جتنا اس نے تمہاری طرف سے دیا ہے اب تم سےلے لیوے۔

مسئلہ۔ اگر تم نے کسی سے کچھ نہیں کہا اس نے بلا تمہاری اجازت کے تمہاری طرف سے زکوٰۃ دے دی تو زکوٰۃ ادا نہیں ہوئی اب اگر تم منظور بھی کر لو تب بھی درست نہیں اور جتنا تمہاری طرف سے دیا ہے تم سے وصول کرنے کا اس کو حق نہیں۔

مسئلہ۔ تم نے ایک شخص کو اپنی زکوٰۃ دینے کے لیے دو روپے دیئے تو اس کو اختیار ہے چاہے خود کسی غریب کو دے دے یا کسی اور کے سپرد کر دے کہ تم یہ روپیہ زکوٰۃ میں دے دینا اور نام کا بتلانا ضروری نہیں ہے کہ فلانی کی طرف سے یہ زکوٰۃ دینا۔ اور وہ شخص وہ روپیہ اگر اپنے کسی رشتہ دار یا ماں باپ کو غریب دیکھ کر دے دے تو بھی درست ہے۔ لیکن اگر وہ خود غریب ہو تو آپ ہی لے لینا درست نہیں۔ البتہ اگر تم نے یہ کہہ دیا ہو کہ جو چاہے کرو اور جسے چاہے دے دو تو آپ بھی لے لینا درست ہے۔

زکوٰۃ کا بیان

جس کے پاس مال ہو اور اس کی زکوٰۃ نہ نکالتی ہو وہ اللہ تعالی کے نزدیک بڑی گنہگار ہے قیامت کے دن اس پر بڑا سخت عذاب ہو گا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے جس کے پاس سونا چاندی ہو اور وہ اس کی زکوٰۃ نہ دیتا ہو قیامت کے دن اس کے لیے آگ کی تختیاں بنائی جائیں گی پھر ان کو دوزخ کی آگ میں گرم کر کے اس کی دونوں کروٹیں اور پیشانی اور پیٹھ داغی جائے گی اور جب ٹھنڈی ہو جائیں گی پھر گرم کر لی جائیں گی اور نبی علیہ السلام نے فرمایا ہے جس کو اللہ نے مال دیا اور اس نے زکوٰۃ نہ ادا کی تو قیامت کے دن اس کا مال بڑا زہریلا گنجا سانپ بنایا جائے گا اور اس کی گردن میں لپٹ جائے گا پھر اس کے دونوں جبڑے نوچے گا اور کہے گا میں ہوں تیرا مال اور میں ہی تیرا خزانہ ہوں۔ خدا کی پناہ بھلا اتنے عذاب کی کون سہار کرسکتا ہے تھوڑے سے لالچ کے بدلے یہ مصیبت بھگتنا بڑی بیوقوفی کی بات ہے خدا ہی کی دی ہوئی دولت کو خدا کی راہ میں نہ دینا کتنی بے جا بات ہے۔

مسئلہ۔ جس کے پاس ساڑھے باون تولے چاندی یا ساڑھے سات تولہ سونا ہو ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت کے برابر روپیہ ہو۔ شبیر علی اور ایک سال تک باقی رہے تو سال گزرنے پر اس کی زکوٰۃ دینا واجب ہے اور اگر اس سے کم ہو تو اس پر زکوٰۃ واجب نہیں۔ اور اگر اس سے زیادہ ہو تو بھی زکوٰۃ واجب ہے۔

مسئلہ۔ کسی کے پاس آٹھ تولہ سونا چار مہینے یا چھ مہینے تک رہا پھر وہ کم ہو گیا اور وہ تین مہینے کے بعد ملے گا تب بھی زکوٰۃ دینا واجب ہے غرضیکہ جب سال کے اول و آخر میں مالدار ہو جائے اور سال کے بیچ میں کچھ دن اس مقدار سے کم رہ جائے تو بھی زکوٰۃ واجب ہوتی ہے۔ بیچ میں تھوڑے دن کم ہو جانے سے زکوٰۃ معاف نہیں ہوتی البتہ اگر سب مال جاتا رہے اس کے بعد پھر مال ملے تو جب سے پھر ملا ہے تب سے سال کا حساب کیا جائے گا۔

مسئلہ۔ کسی کے پاس آٹھ نو تولہ سونا تھا لیکن سال گزرنے سے پہلے پہلے جاتا رہا پورا سال نہیں گزرنے پایا تو زکوٰۃ واجب نہیں۔

مسئلہ۔ کسی کے پاس ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت ہے۔ اور اتنے ہی روپوں کی وہ قرض دار ہے تو بھی زکوٰۃ واجب نہیں۔

مسئلہ۔ اگر اتنے کی قرض دار ہے کہ قرضہ ادا ہو کر ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت بچتی ہے تو زکوٰۃ واجب ہے۔

مسئلہ۔ سونے چاندی کے زیور اور برتن اور سچا گوٹہ ٹھپہ سب پر زکوٰۃ واجب ہے۔ چاہے پہنتی رہتی ہو یا بند رکھے ہوں اور کبھی نہ پہنتی ہو۔ غرضیکہ چاندی و سونے کی ہر چیز پر زکوٰۃ واجب ہے۔ البتہ اگر اتنی مقدار سے کم ہو جو اوپر بیان ہوئی تو زکوٰۃ واجب نہ ہو گی۔

مسئلہ۔ سونا چاندی اگر کھرا نہ ہو بلکہ اس میں کچھ میل ہو جیسے مثلاً چاندی میں رانگا ملا ہوا ہے تو دیکھو چاندی زیادہ ہے یا رانگا۔ اگر چاندی زیادہ ہو تو اس کا وہی حکم ہے جو چاندی کا حکم ہے یعنی اگر اتنی مقدار ہو جو اوپر بیان ہوئی تو زکوٰۃ واجب ہے اور اگر رانگا زادہ ہے تو اس کو چاندی نہ سمجھیں گے۔ پس جو حکم پیتل تانبے لوہے رانگے وغیرہ اسباب کا آگے آئے گا وہی اس کا بھی حکم ہے۔

مسئلہ۔ کسی کے پاس نہ تو پوری مقدار سونے کی ہے نہ پوری مقدار چاندی کی بلکہ تھوڑا سونا ہے اور تھوڑی چاندی تو اگر دونوں کی قیمت ملا کر ساڑھے باون تولہ چاندی کے برابر ہو جائے یا ساڑھے سات تولہ سونا کے برابر ہو جائے تو زکوٰۃ واجب ہے اور اگر دونوں چیزیں اتنی تھوڑی تھوڑی ہیں کہ دونوں کی قیمت نہ اتنی چاندی کے برابر ہے نہ اتنے سونے کے برابر تو زکوٰۃ واجب نہیں اور اگر سونے اور چاندی دونوں کی مقدار پوری پوری ہے تو قیمت لگانے کی ضرورت نہیں۔

مسئلہ۔ فرض کرو کہ کسی زمانہ میں پچیس روپے کا ایک تولہ سونا ملتا ہے اور ایک روپے کی ڈیڑھ تولہ چاندی ملتی ہے اور کسی کے پاس دو تولہ سونا اور پانچ روپے ضرورت سے زائد ہیں اور سال پھر تک وہ رہ گئے تو اس پر زکوٰۃ واجب ہے۔ کیونکہ دو تولہ سونا پچاس روپے کا ہوا اور پچاس روپے کی چاندی پچھتر تولہ ہوئی تو دو تولہ سونے کی چاندی اگر خریدو گی تو پچھتر تولہ ملے گی اور پانچ روپے تمہارے پاس ہیں اس حساب سے اتنی مقدار سے بہت زیادہ مال ہو گیا جتنے پر زکوٰۃ واجب ہوتی ہے۔ البتہ اگر فقط دو تولہ سونا ہو اس کے ساتھ روپے اور چاندی کچھ نہ ہو تو زکوٰۃ واجب نہ ہو گی۔

مسئلہ۔ ایک روپیہ کی چاندی مثلاً دو تولہ ملتی ہے اور کسی کے پاس فقط تیس روپے چاندی کے ہیں تو اس پر زکوٰۃ واجب نہیں اور یہ حساب نہ لگائیں گے کہ تیس روپے کی چاندی ساٹھ تولہ ہوئی کیونکہ روپیہ تو چاندی کا ہوتا ہے اور جب فقط چاندی یا فقط سونا پاس ہو تو وزن کا اعتبار ہے قیمت کا اعتبار نہیں۔ یہ حکم اس وقت کا ہے جب روپیہ چاندی کا ہوتا تھا۔ آجکل عام طور پر روپیہ گلٹ کا مستعمل ہے اور نوٹ کے عوض میں بھی وہی ملتا ہے اس لیے اب حکم یہ ہے کہ جس شخص کے پاس اتنے روپیہ یا نوٹ موجود ہوں جن کی ساڑھے باون تولہ چاندی بازار کے بھاؤ کے مطابق آ سکے اس پر زکوٰۃ واجب ہو گی

مسئلہ۔ کسی کے پاس سو روپے ضرورت سے زائد رکھے تھے پھر سال پورا ہونے سے پہلے پہلے پچاس روپے اور مل گئے تو ان پچاس روپے کا حساب الگ نہ کریں گے بلکہ اسی سو روپے کے ساتھ اس کو ملا دیں گے اور جب ان سو روپے کا سال پورا ہو گا تو پورے ڈیڑھ سو کی زکوٰۃ واجب ہو گی اور ایسا سمجھیں گے کہ پورے ڈیڑھ سو پر سال گزر گیا۔

مسئلہ۔ کسی کے پاس سو تولہ چاندی رکھی تھی پھر سال گزرنے سے پہلے دو چار تولہ سونا آ گیا یا نو دس تولہ سونا مل گیا تب بھی اس کا حساب الگ نہ کیا جائے گا بلکہ اس چاندی کے ساتھ ملا کر کے زکوٰۃ کا حساب ہو گا پس جب اس چاندی کا سال پورا ہو جائے گا تو اس سب مال کی زکوٰۃ واجب ہو گی۔

مسئلہ۔ سونے چاندی کے سوا اور جتنی چیزیں ہیں جیسے لوہا تانبا پیتل گلٹ رانگا وغیرہ اور ان چیزوں کے بنے ہوئے برتن وغیرہ اور کپڑے جوتے اور اس کے سوا جو کچھ اسباب ہو اس کا حکم یہ ہے کہ اگر اس کو بیچتی اور سوداگری کرتی ہو تو دیکھو وہ اسباب کتنا ہے اگر اتنا ہے کہ اس کی قیمت ساڑھے باون تولہ چاندی یا ساڑھے سات تولہ سونے کے برابر ہے تو جب سال گزر جائے تو اس سوداگری کے اسباب میں زکوٰۃ واجب ہے اور اگر اتنا نہ ہو تو اس میں زکوٰۃ واجب نہیں اور اگر وہ مال سوداگری کے لیے نہیں ہے تو اس میں زکوٰۃ واجب نہیں ہے چاہے جتنا مال ہو اگر ہزاروں روپے کا مال ہو تب بھی زکوٰۃ واجب ہے۔

مسئلہ۔ گھر کا اسباب جیسے پتیلی دیگچہ بڑی دیگ سینی لگن اور کھانے پینے کے برتن اور رہنے سہنے کا مکان اور پہننے کے کپڑے سچے موتیوں کا ہار وغیرہ ان چیزوں میں زکوٰۃ واجب نہیں چاہے جتنا ہو اور چاہے روز مرہ کے کاروبار میں آتا ہو یا نہ آتا ہو کسی طرح زکوٰۃ واجب نہیں۔ ہاں اگر یہ سوداگری کا اسباب ہو تو پھر اس میں زکوٰۃ واجب ہے۔ خلاصہ یہ کہ سونے چاندی کے سوا اور جتنا مال اسباب ہو اگر وہ سوداگری کا اسباب ہے تو زکوٰۃ واجب ہے نہیں تو اس میں زکوٰۃ واجب نہیں ہے۔

مسئلہ۔ کسی کے پاس دس پانچ گھر ہیں ان کو کرایہ پر چلاتی ہے تو ان مکانوں پر بھی زکوٰۃ واجب نہیں چاہے جتنی قیمت کے ہوں۔ ایسے ہی اگر کسی نے دوچار سو روپے کے برتن خرید لیے اور ان کو کرایہ پر چلاتی رہتی ہے تو اس پر بھی زکوٰۃ واجب نہیں غرضیکہ کرایہ پر چلانے سے مال میں زکوٰۃ واجب نہیں ہوتی۔

مسئلہ۔ پہننے کے دھراؤ جوڑے چاہے جتنے زیادہ قیمتی ہوں اس میں زکوٰۃ واجب نہیں لیکن اگر ان میں سچا کام ہے اور اتنا کام ہے کہ اگر چاندی چھڑائی جائے تو ساڑھے باون تولہ یا اس سے زیادہ نکلے گی تو اس چاندی پر زکوٰۃ واجب ہے اور اگر اتنا نہ ہو تو زکوٰۃ واجب نہیں۔

مسئلہ۔ کسی کے پاس کچھ چاندی یا سونا ہے اور کچھ سوداگری کا مال ہے تو سب کو ملا کر دیکھو اگر اس کی قیمت ساڑھے باون تولہ چاندی یا ساڑھے سات تولہ سونے کے برابر ہو جائے تو زکوٰۃ واجب ہے اور اگر اتنا نہ ہو تو واجب نہیں۔

مسئلہ۔ سوداگری کا مال وہ کہلائے گا جس کو اسی ارادہ سے مول لیا ہو کہ اس کی سوداگری کریں گے تو اگر کسی نے اپنے گھر کے خرچ کے لیے یا شادی وغیرہ کے خرچ کے لیے چاول مول لیے پھر ارادہ ہو گیا کہ لاؤ اس کی سوداگری کر لیں تو یہ مال سوداگری کا نہیں ہے اور اس پر زکوٰۃ واجب نہیں ہے۔

مسئلہ۔ اگر کسی پر تمہارا قرض آتا ہے تو اس قرض پر بھی زکوٰۃ واجب ہے لیکن قرض کی تین قسمیں ہیں ایک یہ کہ نقد روپیہ یا سونا چاندی کسی کو قرض دیا یا سوداگری کا اسباب بیچا اس کی قیمت باقی ہے اور ایک سال کے بعد یا دو تین برس کے بعد وصول ہوا تو اگر اتنی مقدار ہو جنتی پر زکوٰۃ واجب ہوتی ہے تو ان سب برسوں کی زکوٰۃ دینا واجب ہے اور اگر یکمشت نہ وصول ہو تو جب اس میں گیارہ تولہ چاندی کی قیمت وصول ہو تب اتنے کی زکوٰۃ ادا کرنا واجب ہے اور اگر گیارہ تولہ چاندی کی قیمت بھی متفرق ہی ہو کر ملے تو جب بھی یہ مقدار پوری ہو جائے اتنی مقدار کی زکوٰۃ ادا کرتی رہے اور جب دے تو سب برسوں کی دے اور اگر قرضہ اس سے کم ہو تو زکوٰۃ واجب نہ ہو گی البتہ اگر اس کے پاس کچھ اور مال بھی ہو اور دونوں ملا کر مقدار پوری ہو جائے تو زکوٰۃ واجب ہو گی۔

مسئلہ۔ اور اگر نقد نہیں دیا نہ سوداگری کا مال بیچا بلکہ کوئی اور چیز بیچی تھی جو سوداگری کی نہ تھی جیسے پہننے کے کپڑے بیچ ڈالے یا گھرہستی کا اسباب بیچ دیا یا اس کی قیمت باقی ہے اور اتنی ہے جتنی میں زکوٰۃ واجب ہوتی ہے پھر وہ قیمت کئی برس کے بعد وصول ہو تو سب برسوں کی زکوٰۃ دینا واجب ہے اور اگر سب ایک دفعہ کر کے نہ وصول ہو بلکہ تھوڑا تھوڑا کر کے ملے تو جب تک اتنی رقم نہ وصول ہو جائے جو نرخ بازار سے ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت ہو تب تک زکوٰۃ واجب نہیں ہے۔ جب مذکورہ رقم وصول ہو تو سب برسوں کی زکوٰۃ کا حساب ملنے کے دن سے ہے پچھلے برسوں کی زکوٰۃ واجب نہیں بلکہ اگر اب اس کے پاس رکھا رہے اور اس پر سال گزر جائے تو زکوٰۃ واجب ہو گی نہیں تو واجب نہیں۔

مسئلہ۔ اگر کوئی مالدار آدمی جس پر زکوٰۃ واجب ہے سال گزرنے سے پہلے ہی زکوٰۃ دے دے اور سال کے پورے ہونے کا انتظار نہ کرے تو یہ بھی جائز ہے اور زکوٰۃ ادا ہو جاتی ہے اور اگر مالدار نہیں ہے بلکہ کہیں سے مال ملنے کی امید تھی اس امید پر مال ملنے سے پہلے ہی زکوٰۃ دے دی تو یہ زکوٰۃ ادا نہیں ہو گی۔ جب مال مل جائے اور اس پر سال گزر جائے تو پھر زکوٰۃ دینا چاہیے۔

مسئلہ۔ مالدار آدمی اگر کئی سال کی زکوٰۃ پیشگی دے دے یہ بھی جائز ہے لیکن اگر کسی سال مال بڑھ گیا تو بڑھتی کی زکوٰۃ پھر دینا پڑے گی۔

مسئلہ۔ کسی کے پاس سو روپے ضرورت سے زیادہ رکھے ہوئے ہیں اور سو روپے کہیں اور سے ملنے کی امید ہے اس نے پورے دو سو روپے کی زکوٰۃ سال پورا ہونے سے پہلے پیشگی دے دی یہ بھی درست ہے لیکن اگر ختم سال پر روپیہ نصاب سے کم ہو گیا تو زکوٰۃ معاف ہو گئی اور وہ دیا ہوا صدقہ نافلہ ہو گیا۔

مسئلہ۔ کسی کے مال پر پورا سال گزر گیا لیکن ابھی زکوٰۃ نہیں نکالی تھی کہ سارا مال چوری ہو گیا یا اور کسی طرح سے جاتا رہا تو زکوٰۃ بھی معاف ہو گئی۔ اگر خود اپنا مال کسی کو دے دیا یا اور کسی طرح اپنے اختیار سے ہلاک کر ڈالا تو جتنی زکوٰۃ واجب ہوئی تھی وہ معاف نہیں ہوئی بلکہ دینا پڑے گی۔

مسئلہ۔ سال پورا ہونے کے بعد کسی نے اپنا سارا مال خیرات کر دیا تب بھی زکوٰۃ معاف ہو گئی۔

مسئلہ۔ کسی کے پاس دو سو روپے تھے ایک سال کے بعد اس میں سے ایک سو چوری ہو گئے یا ایک سو روپے خیرات کر دیئے تو ایک سو کی زکوٰۃ معاف ہو گئی فقط ایک سو کی زکوٰۃ دینا پڑے گی۔

اعتکاف کا بیان

رمضان شریف کی بیسویں تاریخ کے دن چھپنے سے ذرا پہلے سے رمضان کی انتیس یا تیس تاریخ یعنی جس دن عید کا چاند نظر آ جائے اس تاریخ کے دن چھپنے تک اپنے گھر میں جہاں نماز پڑھنے کے لیے جگہ مقرر کر رکھی ہو اس جگہ پر پابندی سے جم کر بیٹھے اس کو اعتکاف کہتے ہیں اس کا بڑا ثواب ہے اگر اعتکاف شروع کرے تو فقط پیشاب پاخانہ یا کھانے پینے کی ناچاری سے تو وہاں سے اٹھنا درست ہے اور اگر کوئی کھانا پانی دینے والا ہو تو اس کے لیے بھی نہ اٹھے۔ ہر وقت اسی جگہ رہے اور وہیں سو وے اور بہتر یہ ہے کہ بیکار نہ رہے قرآن پڑھتی رہے نفلیں اور تسبیحیں جو توفیق ہو اس میں لگی رہے اور اگر حیض یا نفاس آ جائے تو اعتکاف چھوڑ دے اس یں  درست نہیں اور اعتکاف میں مرد سے ہمبستر ہونا لپٹنا چمٹنا بھی درست نہیں۔