فدیہ کا بیان

مسئلہ۔ جس کو اتنا بڑھاپا ہو گیا ہو کہ روزہ رکھنے کی طاقت نہیں رہی یا اتنی بیمار ہے کہ اب اچھے ہونے کی امید نہیں نہ روزے رکھنے کی طاقت ہے تو وہ روزے نہ رکھے اور ہر روزہ کے بدلے ایک مسکین کو صدقہ فطر کے برابر غلہ دے دے یا صبح شام پیٹ بھر کے اس کو کھلا دے شرع میں اس کو فدیہ کہتے ہیں اور اگر غلہ کے بدلے اسی قدر غلہ کی قیمت دے دے تب بھی درست ہے۔

مسئلہ۔ وہ گیہوں اگر تھوڑے تھوڑے کر کے کئی مسکینوں کو بانٹ دیے تو بھی صحیح ہے۔

مسئلہ۔ پھر اگر کبھی طاقت آ گئی یا بیماری سے اچھی ہو گئی تو سب روزے قضا رکھنے پڑیں گے اور جو فدیہ دیا ہے اس کا ثواب الگ ملے گا۔

مسئلہ۔ کسی کے ذمہ کئی روزے قضا تھے اور مرتے وقت وصیت کر گئی کہ میرے روزوں کے بدلے فدیہ دے دینا تو اس کے مال میں اس کا ولی فدیہ دے دے اور کفن دفن اور قرض ادا کر کے جتنا مال بچے اس کی ایک تہائی میں سے اگر سب فدیہ نکل آئے تو دینا واجب ہو گا۔

مسئلہ۔ اگر اس نے وصیت نہیں کی مگر ولی نے اپنے مال میں سے فدیہ دے دیا تب بھی خدا سے امید رکھے کہ شاید قبول کر لے اور اب روزوں کا مواخذہ نہ کرے اور بغیر وصیت کیے خود مردے کے مال میں سے فدیہ دینا جائز نہیں ہے اسی طرح اگر تہائی مال سے فدیہ زیادہ ہو جائے تو باوجود وصیت کے بھی زیادہ دینا بدون رضا مندی سب وارثوں کے جائز نہیں ہاں اگر سب وارث خوش دل سے راضی ہو جائیں تو دونوں صورتوں میں فدیہ دینا درست ہے لیک نابالغ وارث کی اجازت کا شرع میں کچھ اعتبار نہیں۔ بالغ وارث اپنا حصہ جدا کر کے اس میں سے دے دیں تو درست ہے۔

مسئلہ۔ اگر کس کی نماز قضا ہو گئی ہوں اور وصیت کر کے مر گئی کہ میری نمازوں کے بدلے میں فدیہ دے دینا اس کا بھی یہی حکم ہے۔

مسئلہ۔ ہر وقت کی نماز کا اتنا ہی فدیہ ہے جتنا ایک روزہ کا فدیہ ہے اس حساب سے دن رات کے پانچ فرض اور ایک وتر چھ نمازوں کی طرف سے ایک چھٹانک کم پونے گیارہ سیر گہیوں اسی روپے کے سیر سے دے مگر احتیاطا پورے بارہ سیر دے۔

مسئلہ۔ کسی کے ذمہ زکوٰۃ باقی ہے ابھی ادا نہیں کی تو وصیت کر جانے سے اس کا بھی ادا کر دینا وارثوں پر واجب ہے۔ اگر وصیت نہیں کی اور وارثوں نے اپنی خوشی سے دے دی تو زکوٰۃ ادا نہیں ہوئی۔

مسئلہ۔ اگر ولی مردے کی طرف سے قضا روزے رکھ لے یا اس کی طرف سے قضا نمازیں پڑھ لے تو یہ درست نہیں یعنی اس کے ذمہ سے نہ اتریں گی۔

مسئلہ۔ بے وجہ رمضان کا روزہ چھوڑ دینا درست نہیں اور بڑا گناہ ہے یہ نہ سمجھے کہ اس کے بدلے ایک روزہ قضا رکھ لوں گی کیونکہ حدیث شریف میں آیا ہے کہ رمضان کے ایک روزے کے بدلے میں اگر سال برابر روزے رکھتی رہے تب بھی اتنا ثواب نہ ملے گا جتنا رمضان میں ایک روزے کا ثواب ملتا ہے۔

مسئلہ۔ اگر کسی نے شامت اعمال سے روزہ نہ رکھا تو اور لوگوں کے سامنے کچھ کھائے نہ پئے نہ یہ ظاہر کرے کہ آج میرا روزہ نہیں ہے اس لیے کہ گناہ کر کے اس کو ظاہر کرنا بھی گناہ ہے اگر سب سے کہہ دے گی تو دہرا گناہ ہو گا۔ ایک تو روزہ نہ رکھنے کا دوسرا گناہ ظاہر کرنے کا۔ یہ جو مشہور ہے کہ خدا کی چوری نہیں تو بندہ کی کیا چوری یہ غلط بات ہے بلکہ جو کسی عذر سے روزہ نہ رکھے اس کو بھی مناسب ہے کہ سب کے روبرو نہ کھائے۔

مسئلہ۔ جب لڑکا یا لڑکی روزہ رکھنے کے لائق ہو جائیں تو ان کو بھی روزہ کا حکم کرے اور جب دس برس کی عمر ہو جائے تو مار کر روزہ رکھائے اگر سارے روزے نہ رکھ سکے تو جتنے رکھ سکے رکھائے۔

مسئلہ۔ اگر نابالغ لڑکا لڑکی روزہ رکھ کے توڑ ڈالے تو اس کی قضا نہ رکھائے۔ البتہ اگر نماز کی نیت کر کے توڑ دے تو اس کو دہرائے۔

جن وجہوں سے روزہ توڑ دینا جائز نہیں ان کا بیان

مسئلہ۔ اگر ایسی بیماری ہے کہ روزہ نقصان کرتا ہے اور یہ ڈر ہے کہ اگر روزہ رکھے گی تو بیماری پڑھ جائے گی یا دیر میں اچھی ہو گی یا جان جاتی رہے گی تو روزہ نہ رکھے جب اچھی ہو جائے گی تو اس کی قضا رکھ لے لیکن فقط اپنے دل سے ایسا خیال کر لینے سے روزہ چھوڑ دینا درست نہیں ہے بلکہ جب کوئی مسلمان دیندار طبیب کہہ دے کہ روزہ تم کو نقصان کرے گا تب چھوڑنا چاہیے۔

مسئلہ۔ اگر حکیم یا ڈاکٹر کافر ہے یا شرع کا پابند نہیں ہے تو اس کی بات کا اعتبار نہیں ہے فقط اس کے کہنے سے روزہ نہ چھوڑے۔

مسئلہ۔ اگر حکیم نے کچھ کہا نہیں لیکن خود اپنا تجربہ ہے اور کچھ ایسی نشانیاں معلوم ہوئیں جن کی وجہ سے دل گواہی دیتا ہے کہ روزہ نقصان کرے گا تب بھی روزہ نہ رکھے اور اگر خود تجربہ کار نہ ہو اور اس بیماری کا کچھ حال معلوم نہ ہو تو فقط خیال کا اعتبار نہیں۔ اگر دیندار حکیم کے بغیر بتائے اور بے تجربے کے اپنا خیال ہی خیال پر رمضان کا روزہ توڑے گی تو کفارہ دینا پڑے گا۔ اور اگر روزہ نہ رکھے گی تو گنہگار ہو گی۔

مسئلہ۔ اگر بیماری سے اچھی ہو گئی لیکن ابھی ضعف باقی ہے اور یہ غالب گمان ہے کہ اگر روزہ رکھا تو پھر بیمار پڑ جائے گی تب بھی روزہ نہ رکھنا جائز ہے۔

مسئلہ۔ اگر کوئی مسافرت میں ہو تو اس کو بھی درست ہے کہ روزہ نہ رکھے پھر کبھی اس کی قضا رکھ لے اور مسافرت کے معنے وہی ہیں جس کا نماز کے بیان میں ذکر ہو چکا ہے یعنی تین منزل جانے کا قصد ہو۔

مسئلہ۔ مسافرت میں اگر روزے سے کوئی تکلیف نہ ہو جیسے ریل پر سوار ہے اور یہ خیال ہے کہ شام تک گھر پہنچ جاؤں گی یا اپنے ساتھ سب راحت و آرام کا سامان موجود ہے تو ایسے وقت سفر میں بھی روزہ رکھ لینا بہتر ہے۔ اور اگر روزہ نہ رکھے تب بھی کوئی گناہ نہیں۔ ہاں رمضان شریف کے روزے کی جو فضیلت ہے اس سے محروم رہے گی۔ اور اگر راستہ میں روزہ کی وجہ سے تکلیف اور پریشانی ہو تو ایسے وقت روزہ نہ رکھنا بہتر ہے۔

مسئلہ۔ اگر بیماری سے اچھی نہیں ہوئی اس میں مر گئی یا ابھی گھر نہیں پہنچی مسافرت ہی میں مر گئی تو جتنے روزے بیمار یا سفر کی وجہ سے چھوٹے ہیں آخرت میں ان کا مواخذہ نہ ہو گا کیونکہ قضا رکھنے کی مہلت ابھی اس کو نہیں ملی تھی

مسئلہ۔ اگر بیماری میں دس روزے گئے تھے پھر پانچ دن اچھی رہی لیکن قضا روزے نہیں رکھے تو پانچ روزے معاف ہیں فقط پانچ روزوں کی قضا نہ رکھنے پر پکڑی جائے گی۔ اور اگر پورے دس دن اچھی رہی تو پورے دسوں دن کی پکڑ ہو گئی اس لیے ضروری ہے کہ جتنے روزوں کا مواخذہ اس پر ہونے والا ہے اتنے دنوں کا فدیہ دینے کے لیے کہہ مرے جبکہ اس کے پاس مال ہو اور فدیہ کا بیان آگے آتا ہے۔

مسئلہ۔ اسی طرح اگر مسافرت میں روزے چھوڑ دیئے تھے پھر گھر پہنچنے کے بعد مر گئی تو جتنے دن گھر میں رہی ہے فقط اتنے دن کی پکڑ ہو گی اس کو بھی چاہیے کہ فدیہ کی وصیت کر جائے۔ اگر روزے گھر رہنے کی مدت سے زیادہ چھوٹے ہوں تو ان کا مواخذ نہیں ہے۔

مسئلہ۔ اگر راستہ میں پندرہ دن رہنے کی نیت سے ٹھیر گئی تو اب روزہ چھوڑنا درست نہیں کیونکہ شرع سے اب وہ مسافر نہیں رہی۔ البتہ اگر پندرہ دن سے کم ٹھیرنے کی نیت ہو تو روزہ رکھنا درست ہے۔

مسئلہ۔ حاملہ عورت اور دودھ پلانے والی عورت کو جب اپنی جان کا یا بچہ کی جان کا کچھ ڈر ہو تو روزہ نہ رکھے پھر کبھی قضا رکھ لے لیکن اگر اپنا شوہر مالدار ہے کہ کوئی انا رکھ کر دودھ پلوا سکتا ہے تو دودھ پلانے کی وجہ سے ماں کو روزہ چھوڑنا درست نہیں ہے۔ البتہ اگر وہ ایسا بچہ ہے کہ سوائے اپنی ماں کے کسی اور کا دودھ نہیں پیتا ہے تو ایسے وقت ماں کو روزہ نہ رکھنا درست ہے۔

مسئلہ۔ کسی انا نے دودھ پلانے کی نوکری کی پھر رمضان آ گیا اور روزہ سے بچہ کی جان کا ڈر ہے تو انا کو بھی روزا نہ رکھنا درست ہے۔

مسئلہ۔ اسی طرح اگر کوئی دن کو مسلمان ہوئی یا دن کو جوان ہوئی تو اب دن بھر کچھ کھانا پینا درست نہیں ہے اور اگر کچھ کھا لیا تو اس روزہ کی قضا رکھنا بھی نئی مسلمان اور نئی جوان کے ذمہ واجب نہیں ہے۔

مسئلہ۔ مسافرت میں روزہ نہ رکھنے کا ارادہ تھا لیکن دوپہر سے ایک گھنٹہ پہلے ہی اپنے گھر پہنچ گئی یا ایسے وقت میں پندرہ دن رہنے کی نیت سے کہیں رہ پڑی اور اب تک کچھ کھایا پیا نہیں ہے تو اب روزہ کی نیت کر لے۔

کفارہ کے بیان

مسئلہ۔ رمضان شریف کے روزے توڑ ڈالنے کا کفارہ یہ ہے کہ دو مہینے برابر لگاتار روزے رکھے تھوڑے تھوڑے کر کے روزے رکھنے درست نہیں اگر کسی وجہ سے بیچ میں دو ایک روزے نہیں رکھے تو اب پھر سے دو مہینے کے روزے رکھے ہاں جتنے روزے حیض کی وجہ سے جاتے رہے ہیں وہ معاف ہیں ان کے چھوٹ جانے سے کفارہ میں کچھ نقصان نہیں آیا لیکن پاک ہونے کے بعد ترت پھر روزے رکھنے شروع کرے اور ساٹھ روزے پورے کر لے۔

مسئلہ۔ نفاس کی وجہ سے بیچ میں روزے چھوٹ گئے پورے روزے لگاتار نہیں رکھ سکی تو بھی کفارہ صحیح نہیں ہوا سب روزے پھر سے رکھے۔

مسئلہ۔ اگر دکھ بیماری کی وجہ سے بیچ میں کفارے کے کچھ روزے چھوٹ گئے تب بھی تندرست ہونے کے بعد پھر سے روزے رکھنے شروع کرے۔

مسئلہ۔ اگر بیچ میں رمضان کا مہینہ آ گیا تب بھی کفارہ صحیح نہیں ہوا۔

مسئلہ۔ اگر کسی کو روزہ رکھنے کی طاقت نہ ہو ساٹھ مسکینوں کو صبح شام پیٹ بھر کے کھانا کھلا دے جتنا ان کے پیٹ میں سمائے خون تن کر کھا لیں۔

مسئلہ۔ ان مسکینوں میں اگر بعضے بالکل چھوٹے بچے ہوں تو جائز نہیں ان بچوں کے بدلے اور مسکینوں کو پھر کھلا دے۔

مسئلہ۔ اگر گیہوں کی روٹی ہو تو روکھی روٹی کھلانا بھی درست ہے اور اگر جوء باجرہ جوار وغیرہ کی روٹی ہو تو اس کے ساتھ کچھ دال وغیرہ دینا چاہے جس کے ساتھ روٹی کھائیں۔

مسئلہ۔ مگر کھانا نہ کھلائے بلکہ ساٹھ مسکینوں کو کچا اناج دے دے تو بھی جائز ہے ہر ایک مسکین کو اتنا اتنا دے جتنا صدقہ فطر دیا جاتا ہے اور صدقہ فطر کا بیان زکوٰۃ کے باب میں آئے گا۔ انشاء اللہ تعالی۔

مسئلہ۔ اگر اتنے اناج کی قیمت دے دے تو بھی جائز ہے۔

مسئلہ۔ اگر کسی اور سے کہہ دیا کہ تم میری طرف سے کفارہ ادا کر دو اور ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلا دو اور اس نے اس کی طرف سے کھانا کھلا دیا یا کچا اناج دے دیا تب بھی کفارہ ادا ہو گیا اور اگر بے اس کے کہے کسی نے اس کی طرف سے دیے دیا تو کفارہ صحیح نہیں ہوا۔

مسئلہ۔ اگر ایک ہی مسکین کو ساٹھ دن تک صبح و شام کھانا کھلا دیا یا ساٹھ دن تک کچا اناج یا قیمت دییں رہی تب بھی کفارہ صحیح ہو گیا۔

مسئلہ۔ اگر ساٹھ دن تک لگاتار کھانا نہیں کھلایا بلکہ بیچ میں کچھ دن ناغہ ہو گئے تو کچھ حرج نہیں یہ بھی درست ہے۔

مسئلہ۔ اگر ساٹھ دن کا اناج حساب کر کے ایک فقیر کو ایک ہی دن دے دیا تو درست نہیں۔ اسی طرح ایک ہی فقیر کو ایک ہی دن اگر ساٹھ دفعہ کر کے دے دیا تب بھی ایک ہی دن کا ادا ہوا ایک کم ساٹھ مسکینوں کو پھر دینا چاہیے اسی طرح قیمت دینے کا بھی حکم ہے یعنی ایک دن میں ایک مسکین کو ایک روزے کے بدلے سے زیادہ دینا درست نہیں۔

مسئلہ۔ اگر کسی فقیر کو صدقہ فطر کی مقدار سے کم دیا تو کفارہ صحیح نہیں ہوا۔

مسئلہ۔ اگر ایک ہی رمضان کے دو یا تین روزے توڑ ڈالے تو ایک ہی کفارہ واجب ہے۔ البتہ اگر یہ دونوں روزے ایک رمضان کے نہ ہوں تو الگ الگ کفارہ دینا پڑے گا۔

سحری کھانے اور افطار کرنے کا بیان

مسئلہ1۔ سحری کھانا سنت ہے اگر بھوک نہ ہو اور کھانا نہ کھائے تو کم سے کم دو تین چھوہارے ہی کھا لے۔ یا کوئی اور چیز تھوڑی بہت کھا لے کچھ نہ سہی تو تھوڑا سا پانی ہی پی لے۔

مسئلہ3۔ اگر کسی نے سحری نہ کھائی اور اٹھ کر ایک آدھ پان کھا لیا تو بھی سحری کھانے کا ثواب مل گیا۔

مسئلہ4۔ سحری میں جہاں تک ہو سکے دیر کر کے کھانا بہتر ہے لیکن اتنی دیر نہ کرے کہ صبح ہونے لگے اور روزہ میں شبہ پڑ جائے۔

مسئلہ 5۔ اگر سحری بڑی جلدی کھا لی مگر اس کے بعد پان تمباکو چائے پانی دیر تک کھاتی پیتی رہی جب صبح ہونے میں تھوڑی دیر رہ گئی تب کلی کر ڈالی تب بھی دیر کر کے کھانے کا ثواب مل گیا اور اس کا بھی وہی حکم ہے جو دیر کر کے کھانے کا حکم ہے۔

مسئلہ 6۔ اگ رات کو سحری کھانے کے لیے آنکھ نہ کھلی سب کے سب سو گئے تو بے سحری کھائے صبح کا روزہ رکھو سحری چھوٹ جانے سے روزہ چھوڑ دینا بڑی کم ہمتی کی بات اور بڑا گناہ ہے۔

مسئلہ 7۔ جب تک صبح نہ ہو اور فجر کا وقت نہ آئے جس کا بیان نمازوں کے وقتوں میں گزر چکا ہے تب تک سحری کھانا درست ہے اس کے بعد درست نہیں۔

مسئلہ 8۔ کسی کی آنکھ دیر میں کھلی اور یہ خیال ہوا کہ ابھی رات باقی ہے اس گمان پر سحری کھالی پھر معلوم ہوا کہ صبح ہو جانے کے بعد سحری کھائی تھی تو روزہ نہیں ہوا قضا رکھے اور کفارہ واجب نہیں لیکن پھر بھی کچھ کھائے پئے نہیں روزہ داروں کی طرح رہے۔ اسی طرح اگر سورج ڈوبنے کے گمان سے روزہ کھول لیا پھر سورج نکل آیا تو روزہ جاتا رہا اس کی قضا کرے کفارہ واجب نہیں اور جب تک سورج نہ ڈوب جائے کچھ کھانا پینا درست نہیں۔

مسئلہ9۔ اگر اتنی دیر ہو گئی کہ صبح ہو جانے کا شبہ پڑ گیا تو اب کچھ کھانا مکروہ ہے اور اگر ایسے وقت کچھ کھا لیا یا پانی پی لیا تو برا کیا اور گناہ ہوا۔ پھر اگر معلوم ہو گیا کہ اس وقت صبح ہو گئی تھی تو اس روزہ کی قضا رکھے اور اگر کچھ نہ معلوم ہو شبہ ہی شبہ رہ جائے تو قضا رکھنا واجب نہیں ہے لیکن احتیاط کی بات یہ ہے کہ اس کی قضا رکھ لے۔

مسئلہ10۔ مستحب یہ ہے کہ جب سورج یقیناً ڈوب جائے تو ترت روزہ کھول ڈالے دیر کر کے روزہ کھولنا مکروہ ہے۔

مسئلہ11۔ بدلی کے دن ذرا دیر کر کے روزہ کھولو جب خوب یقین ہو جائے کہ سورج ڈوب گیا ہو گا تب افطار کرو اور صرف گھڑی گھڑیاں وغیرہ پر کچھ اعتماد نہ کرو جب تک کہ تمہارا دل گواہی نہ دے دے کیونکہ گھڑی شاید کچھ غلط ہو گئی ہو بلکہ اگر کوئی اذان بھی کہہ دے لیکن ابھی وقت آنے میں کچھ شبہ ہے تب بھی روزہ کھولنا درست نہیں۔

مسئلہ12۔ چھوہارے سے روزہ کھولنا بہتر ہے اور اور کوئی میٹھی چیز ہو اس سے کھولے وہ بھی نہ ہو تو پانی سے افطار کرے بعضی عورتیں اور بعضے مرد نمک کی کنکری سے افطار کرتے ہیں اور اس میں ثواب سمجھتے ہیں یہ غلط عقیدہ ہے۔

مسئلہ13۔ جب تک سورج کے ڈوبنے میں شبہ رہے تب تک افطار کرنا جائز نہیں۔

جن چیزوں سے روزہ نہیں ٹوٹتا اور جن سے ٹوٹ جاتا ہے

مسئلہ 1۔ اگر روزہ دار بھول کر کچھ کھا لے یا پی لے یا بھولے سے خاوند سے ہمبستر ہو جائے تو اس کا روزہ نہیں گیا۔ اگر بھول کر پیٹ بھر بھی کھا پی لے تب بھی روزہ نہیں ٹوٹتا۔ اگر بھول کر کئی دفعہ کھا پی لیا تب بھی روزہ نہیں گیا۔

مسئلہ۔ ایک شخص کو بھول کر کچھ کھاتے پیتے دیکھا تو اگر وہ اس قدر طاقت دار ہے کہ روزہ سے زیادہ تکلیف نہیں ہوتی تو روزہ یاد دلا دینا واجب ہے اور اگر کوئی نا طاقت ہو کہ روزہ سے تکلیف ہوتی ہے تو اس کو یاد نہ دلائے کھانے دے۔

مسئلہ 4۔ دن کو سرمہ لگانا تیل لگانا خوشبو سونگھنا درست ہے اس سے روزہ میں کچھ نقصان نہیں آتا چاہے جس وقت ہو۔ بلکہ اگر سرمہ لگانے کے بعد تھوک میں یا رینٹھ میں سرمہ کا رنگ دکھائی دے تو بھی روزہ نہیں گیا نہ مکروہ ہوا۔

مسئلہ 6۔ حلق کے اندر مکھی چلی گئی یا آپ ہی آپ دھواں چلا گیا یا گرد و غبار چلا گیا تو روزہ نہیں گیا البتہ اگر قصداً ایسا کیا تو روزہ جاتا رہا۔

مسئلہ 7۔ لوبان وغیرہ کوئی دھونی سلگائی پھر اس کو اپنے پاس رکھ کر سونگھا تو روزہ جاتا رہا۔ اسی طرح حقہ پینے سے بھی روزہ جاتا رہتا ہے۔ البتہ اس دھوئیں کے سوا عطر کیوڑھ گلاب پھول وغیرہ اور خوشبو سونگھنا جس میں دھواں نہ ہو درست ہے۔

مسئلہ 8۔ دانتوں میں گوشت کا ریشہ اٹکا ہوا تھا یا ڈلی کا دھرا وغیرہ کوئی اور چیز تھی اس کو خلال سے نکال کر کھا گئی لیکن منہ سے باہر نہیں نکالا آپ ہی آپ حلق میں چلی گئی تو دیکھو اگر چنے سے کم ہے تب تو روزہ نہیں گیا اور اگر چنے کے برابر یا اس سے زیادہ ہے تو جاتا رہا البتہ اگر منہ سے باہر نکال لیا تھا پھر اس کے بعد نگل گئی تو ہر حال میں روزہ ٹوٹ گیا چاہے وہ چیز چنے کی برابر ہو یا اس سے بھی کم ہو دونوں کا ایک حکم ہے۔

مسئلہ 9۔ تھوک نگلنے سے روزہ نہیں جاتا چاہے جتنا ہو۔

مسئلہ۔ اگر پان کھا کر خوب کلی غرغرہ کر کے منہ صاف کر لیا لیکن تھوک کی سرخی نہیں گئی تو اس کا کچھ حرج نہیں روزہ ہو گیا (ق)

مسئلہ 29۔ کسی نے بھولے سے کچھ کھا لیا اور یوں سمجھی کہ میرا روزہ ٹوٹ گیا اس وجہ سے پھر قصداً کچھ کھا لیا تو اب روزہ جاتا رہا فقط قضا واجب ہے کفارہ واجب نہیں۔

مسئلہ 30۔ اگر کسی کو قے ہوئی اور وہ سمجھی کہ میرا روزہ ٹوٹ گیا اس گمان پر پھر قصداً کھا لیا اور روزہ توڑ دیا تو بھی قضا واجب ہے کفارہ واجب نہیں۔

مسئلہ 31۔ اگر سرمہ لگایا یا فصد لی یا تیل ڈالا پھر سمجھی کہ میرا روزہ ٹوٹ گیا اور پھر قصداً کھا لیا تو قضا اور کفارہ دونوں واجب ہیں

مسئلہ 32۔ رمضان کے مہینے میں اگر کسی کا روزہ اتفاقا ٹوٹ گیا تو روزہ ٹوٹنے کے بعد بھی دن میں کچھ کھانا پینا درست نہیں ہے سارے دن روزہ داروں کی طرح رہنا واجب ہے۔

مسئلہ 33۔ کسی نے رمضان میں روزہ کی نیت ہی نہیں کی اس لیے کھاتی پیتی رہی اس پر کفارہ واجب نہیں۔ کفارہ جب ہے کہ نیت کر کے توڑ دے۔

نفل روزے کا بیان

مسئلہ 1۔ نفل روزے کی نیت اگر یہ مقرر کر کے کرے کہ میں نفل کا روزہ رکھتی ہوں تو بھی صحیح ہے اور اگر فقط اتنی نیت کرے کہ میں روزہ رکھتی ہوں تب بھی صحیح ہے۔

مسئلہ 2۔ دوپہر سے ایک گھنٹہ پہلے تک نفل کی نیت کر لینا درست ہے تو اگر دس بجے دن تک مثلاً روزہ رکھنے کا ارادہ نہ تھا لیکن ابھی تک کچھ کھایا پیا نہیں۔ پھر جی میں آ گیا اور روزہ رکھ لیا تو بھی درست ہے۔

مسئلہ 3۔ رمضان شریف کے مہینے کے سوا جس دن چاہے نفل کا روزہ رکھے جتنے زیادہ رکھے گی زیادہ ثواب پائے گی۔ البتہ عید کے دن اور بقر عید کی دسویں گیارہویں بارہویں اور تیرہویں سال بھر میں فقط پانچ دن روزے رکھنے حرام ہیں اس کے سوا سب روزے درست ہیں۔

مسئلہ 4۔ اگر کوئی شخص عید کے دن روزہ رکھنے کی منت مانے تب بھی اس دن کا روزہ درست نہیں۔ اس کے بدلے کسی اور دن رکھ لیے۔

مسئلہ 5۔ اگر کسی نے یہ منت مانی کہ میں پورے سال کے روزے رکھوں گی سال میں کسی دن کا روزہ بھی نہ چھوڑوں گی تب بھی یہ پانچ روزے نہ رکھے باقی سب رکھ لے پھر ان پانچ روزوں کی قضا رکھ لے۔

مسئلہ 6۔ نفل کا روزہ نیت کرنے سے واجب ہو جاتا ہے۔ سو اگر صبح صادق سے پہلے یہ نیت کی کہ آج میرا روزہ ہے پھر اس کے بعد توڑ دیا تو اب اس کی قضا رکھے۔

مسئلہ 7۔ کسی نے رات کو ارادہ کیا کہ میں کل روزہ رکھوں گی لیکن پھر صبح صادق ہونے سے پہلے ارادہ بدل گیا اور روزہ نہیں رکھا تو قضا واجب نہیں۔

مسئلہ 8۔ بے شوہر کی اجازت کے نفل روزہ رکھنا درست نہیں اگر بے اس کی اجازت روزہ رکھ لیا تو اس کے تڑوانے سے توڑ دینا درست ہے پھر جب وہ کہے تب اس کی قضاء رکھے۔

مسئلہ 9۔ کسی کے گھر مہمان آ گئی یا کسی نے دعوت کی تھی اور کھانا نہ کھانے سے اس کا جی برا ہو گا دل شکنی ہو گی تو اس کی خاطر سے نفل روزہ توڑ دینا درست ہے اور مہمان کی خاطر سے گھر والی کو بھی توڑ دینا درست ہے۔

مسئلہ 10۔ کسی نے عید کے دن نفل روزہ رکھ لیا اور نیت کر لی تب بھی توڑ دے اور اس کی قضا رکھنا بھی واجب نہیں۔

مسئلہ 11۔ محرم کی دسویں تاریخ روزہ رکھنا مستحب ہے حدیث شریف میں آیا ہے کہ جو کوئی یہ روزہ رکھے اس کے گذرے ہوئے ایک سال کے گناہ معاف ہو جاتے ہیں اور اس کے ساتھ نویں یا گیارہویں تاریخ کا روزہ رکھنا بھی مستحب ہے۔ صرف دسویں کو روزہ رکھنا مکروہ ہے۔

مسئلہ 12۔ اسی طرح بقر عید کی نویں تاریخ روزہ رکھنے کا بھی بڑا ثواب ہے اس سے ایک سال کے اگلے اور ایک سال کے پچھلے گناہ معاف ہو جاتے ہیں اور اگر شروع چاند سے نویں تک برابر روزہ رکھے تو بہت ہی بہتر ہے۔

مسئلہ 13۔ شب برات کی پندرہویں اور عید کے چھ دن نفل روزہ رکھنے کا بھی اور نفلوں سے زیادہ ثواب ہے۔

مسئلہ 14۔ اگر ہر مہینے کی تیرہویں چودہویں پندرہویں تین دن روزہ رکھ لیا کرے تو گویا اس نے سال بھر برابر روزے رکھے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم یہ تین روزے رکھا کرتے تھے ایسے ہی ہر دو شنبہ و جمعرات کے دن بھی روزہ رکھا کرتے تھے اگر کوئی ہمت کرے تو ان کا بھی بہت ثواب ہے۔

نذر کے روزے کا بیان

مسئلہ۔ جب کوئی روزہ کی نذر مانے تو اس کا پورا کرنا واجب ہے اگر نہ رکھے گی تو گنہگار ہو گی۔

مسئلہ۔ نذر دو طرح کی ہے ایک تو یہ کہ دن تاریخ مقرر کر کے نذر مانی کہ یا اللہ اگر آج فلاں کام ہو جائے تو کل ہی تیرا روزہ رکھوں گی یا یوں کہا کہ یا اللہ میری فلاں مراد پوری ہو جائے تو پرسوں جمعہ کے دن روزہ رکھوں گی ایسی نذر میں اگر رات سے روزہ کی نیت کرے تو بھی درست ہے اور اگر رات سے نیت نہ کی تو دوپہر سے ایک گھنٹہ پہلے پہلے نیت کر لے یہ بھی درست ہے نذر ادا ہو جائے گی۔

مسئلہ۔ جمعہ کے دن روزہ رکھنے کی نذر مانی اور جب جمعہ آیا تو بس اتنی نیت کر لی کہ آج میرا روزہ ہے یہ مقرر نہیں کیا کہ یہ نذر کا روزہ ہے یا کہ نفل کی نیت کر لی تب بھی نذر کا روزہ ادا ہو گیا۔ البتہ اس جمعہ کو اگر قضا روزہ رکھ لیا اور نذر کا روزہ رکھنا یاد نہ رہا یا یاد تو تھا مگر قصداً قضا کا روزہ رکھا تو نذر کا روزہ ادا نہ ہو گا بلکہ قضا کا روزہ ہو جائے گا نذر کا روزہ پھر رکھے۔

مسئلہ۔ اور دوسری نذر یہ ہے کہ دن تاریخ مقرر کر کے نذر نہیں مانی بس اتنا ہی کہا یا اللہ اگر میرا فلاں کام ہو جائے تو ایک روزہ رکھوں گی یا کسی کام کا نام نہیں لیا ویسے ہی کہہ دیا کہ پانچ روزے رکھوں گی ایسی نذر میں رات سے نیت کرنا شرط ہے اگر صبح ہو جانے کے بعد نیت کی تو نذر کا روزہ نہیں ہوا بلکہ وہ روزہ نفل ہو گیا۔

قضا روزے کا بیان

مسئلہ۔ جو روزے کسی وجہ سے جاتے رہے ہوں رمضان کے بعد جہاں تک جلدی ہو سکے ان کی قضا رکھلے دیر نہ کرے۔ بے وجہ قضا رکھنے میں دیر لگانا گناہ ہے۔

مسئلہ۔ روزے کی قضا میں دن تاریخ مقرر کر کے قضا کی نیت کرنا کہ فلاں تاریخ کے روزے کی قضا رکھتی ہوں یہ ضروری ہے بلکہ جتنے روزے قضا ہوں اتنے ہی روزے رکھ لینا چاہیے البتہ اگر تو رمضان کے کچھ روزے قضا ہو گئے اس لیے دونوں سال کے روزوں کی قضا رکھنا ہے تو سال کا مقرر کرنا ضروری ہے یعنی اس طرح نیت کرے کہ فلاں سال کے روزوں کی قضا رکھتی ہوں۔

مسئلہ۔ قضا روزے میں رات سے نیت کرنا ضروری ہے اگر صبح ہو جانے کے بعد نیت کی تو قضا صحیح نہیں ہوئی بلکہ وہ روزہ نفل ہو گیا قضا کا روزہ پھر سے رکھے۔

مسئلہ۔ کفار کے روزے کا بھی یہی حکم ہے کہ رات سے نیت کرنا چاہیے۔ اگر صبح ہونے کے بعد نیت کی تو کفارہ کا روزہ صحیح نہیں ہوا۔

مسئلہ۔ جتنے روزے قضا ہو گے ہیں چاہے سب کو ایکدم سے رکھ لے چاہے تھوڑے تھوڑے کر کے رکھے دونوں باتیں درست ہیں۔

مسئلہ۔ اگر رمضان کے روزے ابھی قضا نہیں رکھے اور دوسرا رمضان آ گیا تو خیر اب رمضان کے ادا روزے رکھے اور عید کے بعد قضا رکھے لین اتنی دیر کرنا بری بات ہے۔

مسئلہ۔ رمضان کے مہینے میں دن کو بیہوش ہو گئی اور ایک دن سے زیادہ بیہوش رہی تو بیہوش ہونے کے دن کے علاوہ جتنے دن بیہوش رہی اتنے دنوں کی قضا رکھے۔ جس دن بیہوش ہوئی اس ایک دن کی قضا واجب نہیں ہے کیونکہ اس دن کا روزہ بوجہ نیت کے درست ہو گیا۔ ہاں اگر اس دن روزہ سے نہ تھی یا اس دن حلق میں کوئی دوا ڈالی گئی اور وہ حلق سے اتر گئی تو اس دن کی قضا بھی واجب ہے۔

مسئلہ۔ اور اگر رات کو بیہوش ہوئی ہو تب بھی جس رات کو بیہوش ہوئی اس ایک دن کی قضا واجب نہیں ہے باقی اور جتنے دن بیہوش رہی سب کی قضا واجب ہے ہاں اگر اس رات کو صبح کا روزہ رکھنے کی نیت نہ تھی یا صبح کو کوئی دوا حلق میں ڈالی گئی تو اس دن کا روزہ بھی قضا رکھے۔

مسئلہ۔ اگر سارے رمضان بھر بیہوش رہے تب بھی قضا رکھنا چاہیے یہ نہ سمجھے کہ سب روزے معاف ہو گئے۔ البتہ اگر جنون ہو گیا اور پورے رمضان بھر سٹرن دیوانی رہی تو اس رمضان کے کسی روزے کی قضا واجب نہیں اور اگر رمضان شریف کے مہینے میں کسی دن جنون جاتا رہا اور عقل ٹھکانے ہو گئی تو اب سے روزے رکھنے شروع کرے اور جتنے روزے جنون میں گئے ان کی قضا بھی رکھے۔

چاند دیکھنے کے بیان

مسئلہ۔ اگر آنکھوں پر بادل ہے یا غبار ہے اس وجہ سے رمضان کا چاند نظر نہیں آیا لیکن ایک دیندار پرہیزگار سچے آدمی نے آ کر گواہی دی کہ میں نے رمضان کا چاند دیکھا ہے تو چاند کا ثبوت ہو گیا چاہے وہ مرد ہو یا عورت ہو۔

مسئلہ۔ اور اگر بدلی کی وجہ سے عید کا چاند نہ دکھائی دیا تو ایک شخص کی گواہی کا اعتبار نہیں ہے چاہے جتنا بڑا معتبر آدمی ہو بلکہ جب دو معتبر اور پرہیزگار مرد ایک دیندار مرد اور دو دیندار عورتیں اپنے چاند کو دیکھنے کی گواہی دیں تب چاند کا ثبوت ہو گا۔ اور اگر چار عورتیں گواہی دیں تو بھی قبول نہیں۔

مسئلہ۔ جو آدمی دین کا پابند نہیں برابر گناہ کرتا رہتا ہے مثلاً نماز نہیں پڑھتا یا روزہ نہیں رکھتا یا جھوٹ بولا کرتا ہے یا اور کوئی گناہ کرتا ہے شریعت کی پابندی نہیں کرتا تو شرع میں اس کی بات کا کچھ اعتبار نہیں ہے۔ چاہے جتنی قسمیں کھا کر بیان کرے بلکہ ایسے اگر دو تین آدمی ہوں ان کا بھی اعتبار نہیں۔

مسئلہ۔ یہ جو مشہور ہے کہ جس دن رجب کی چوتھی اس دن رمضان کی پہلی ہوتی ہے شریعت میں اس کا بھی کچھ اعتبار نہیں ہے اگر چاند نہ ہو تو روزہ نہ رکھنا چاہیے۔

مسئلہ۔ چاند دیکھ کر یہ کہنا کہ چاند بہت بڑا ہے کل کا معلوم ہوتا ہے بری بات ہے حدیث میں آیا ہے کہ یہ قیامت کی نشانی ہے جب قیامت قریب ہو گی تو لوگ ایسا کہا کریں گے۔ خلاصہ یہ ہیکہ چاند کے بڑے چھوٹے ہونے کا بھی کچھ اعتبار نہ کرو نہ ہندوؤں کی اس بات کا اعتبار کرو کہ آج دوئج ہے آج ضرور چاند ہے شریعت سے یہ سب باتیں واہیات ہیں۔

مسئلہ۔ اگر آنکھیں بالکل صاف ہو تو دو چار آدمیوں کے کہنے اور گواہی دینے سے بھی چاند ثابت نہ ہو گا چاہے رمضان کا چاند ہو چاہے عید کا البتہ اگر اتنی کثرت سے لوگ اپنا چاند دکھنا بیان کریں کہ دل گواہی دینے لگے کہ یہ سب کے سب بات بنا کر نہیں آئے ہیں اتنے لوگوں کا جھوٹا ہونا کسی طرح نہیں ہو سکتا تب چاند ثابت ہو گا۔

مسئلہ۔ شہر بھر میں یہ خبر مشہور ہے کہ کل چاند ہوا بہت لوگوں نے دیکھا لیکن بہت ڈھونڈا تلاش کیا پھر بھی کوئی ایسا آدمی نہیں ملتا جس نے خود چاند دیکھا ہو تو ایسی خبر کا کچھ اعتبار نہیں ہے۔

مسئلہ۔ کسی نے رمضان شریف کا چاند اکیلے دیکھا سوائے اس کے شہر بھر میں کسی نے نہیں دیکھا لیکن یہ شرع کی پابند نہیں ہے تو اس کی گواہی سے شہر والے تو روزہ نہ رکھیں لیکن خود یہ روزہ رکھے اور اگر اس اکیلی دیکھنے والی نے تیس روزے پورے کر لیے لیکن ابھی عید کا چاند نہیں دکھائی دیا تو اکتیسواں روزہ بھی رکھے اور شہر والوں کے ساتھ عید کرے۔

مسئلہ۔ اگر کسی نے عید کا چاند اکیلے دیکھا اس لیے اس کی گواہی کا شریعت نے اعتبار نہیں کیا تو اس دیکھنے والے آدمی کو بھی عید کرنا درست نہیں ہے صبح کو روزہ رکھے اور اپنے چاند دیکھنے کا اعتبار نہ کرے اور روزہ نہ توڑے۔

رمضان شریف کے روزے کا بیان

مسئلہ۔ رمضان شریف کے روزے کی اگر رات سے نیت کر لے تو بھی فرض ادا ہو جاتا ہے اور اگر رات کو روزہ رکھنے کا ارادہ نہ تھا بلکہ صبح ہو گئی تب بھی یہی خیال رہا کہ میں آج کا روزہ نہ رکھوں گی پھر دن چڑھے خیال آ گیا کہ فرض چوڑ دینا بری بات ہے اس لیے اب روزہ کی نیت کر لی تب بھی روزہ ہو گیا لیکن اگر صبح کو کچھ کھا پی چکی ہو تو اب نیت نہیں کر سکتی۔

مسئلہ۔ اگر کچھ کھایا پیا نہ ہو تو دن کو ٹھیک دوپہر سے ایک گھنٹہ پہلے پہلے رمضان کے روزے کی نیت کر لینا درست ہے۔

مسئلہ۔ رمضان شریف کے روزے میں بس اتنی نیت کر لینا کافی ہے کہ آج میرا روزہ ہے یا رات کو اتنا سوچ لے کہ کل میرا روزہ ہے بس اتنی ہی نیت سے بھی رمضان کا روزہ ادا ہو جائے گا اگر نیت میں خاص یہ بات نہ آئی ہو کہ رمضان کا روزہ ہے یا فرض روزہ ہے تب بھی روزہ ہو جائے گا۔

مسئلہ۔ رمضان کے مہینے میں اگر کسی نے یہ نیت کی کہ میں کل نفل کا روزہ رکھوں گی رمضان کا روزہ نہ رکھوں گی بلکہ اس روزہ کی پھر کبھی قضا رکھ لوں گی تب بھی رمضان ہی کا روزہ ہوا اور نفل کا نہیں ہوا۔

مسئلہ۔ پچھلے رمضان کا روزہ قضا ہو گیا تھا اور پورا سال گزر گیا اب تک اس کی قضا نہیں رکھی پھر جب رمضان کا مہینہ آ گیا تو اسی قضا کی نیت سے روزہ رکھا تب بھی رمضان ہی کا روزہ ہو گا اور قضا کا روزہ نہ ہو گا قضا کا روزہ رمضان کے بعد رکھے۔

مسئلہ۔ کسی نے نذر مانی تھی کہ اگر میرا فلاں کام ہو جائے تو میں اللہ تعالی کے لیے دو روزے یا ایک روزہ رکھوں گی پھر جب رمضان کا مہینہ آیا تو اس نے اسی نذر کے روزے رکھنے کی نیت کی رمضان کے روزے کی نیت نہیں کی تب بھی رمضان ہی کا روزہ ہوا نذر کا روزہ ادا نہیں ہوا نذر کے روزے رمضان کے بعد پھر رکھے سب کا خلاصہ یہ ہوا کہ رمضان کے مہینے میں جب کسی روزے کی نیت کرے گی تو رمضان ہی کا روزہ ہو گا اور کوئی روزہ صحیح نہ ہو گا۔

مسئلہ۔ شعبان کی انتیسویں تاریخ کو اگر رمضان شریف کا چاند نکل آئے تو صبح کو روزہ رکھو اور اگر نہ نکلے یا آسماں پر ابر ہو اور چاند نہ دکھائی دے تو صبح کو جب تک یہ شبہ رہے کہ رمضان شروع ہوا یا نہیں روزہ نہ رکھو بلکہ شعبان کے تیس دن پورے کر کے رمضان کے روزے شروع کرو۔

مسئلہ۔ انتیسویں تاریخ ابر کی وجہ سے رمضان شریف کا چاند نہیں دکھائی دیا تو صبح کو نفل روزہ نہ رکھو ہاں اگر ایسا اتفاق پڑا کہ ہمیشہ پیر اور جمعرات یا کسی اور مقرر دن کا روزہ رکھا کرتی تھی اور آج وہی دن ہے تو نفل کی نیت سے صبح کو روزہ رکھ لینا بہتر ہے پھر اگر کہیں سے چاند کی خبر آ گئی تو اسی نفل روزے سے رمضان کا فرض ادا ہو گیا اب اس کی قضا نہ رکھے۔

مسئلہ۔ بدلی کی وجہ سے انتیس تاریخ کو رمضان کا چاند نہیں دکھائی دیا تو دوپہر سے ایک گھنٹہ پہلے تک کچھ نہ کھاؤ نہ پوف۔ اگر کہیں سے خبر آ جائے تو اب روزہ کی نیت کر لو اور اگر خبر نہ آئے تو کھاؤ پیو۔

مسئلہ۔ انتیسویں تاریخ چاند نہیں ہوا تو یہ خیال نہ کرو کہ کل کا دن رمضان کا تو ہے نہیں لاؤ۔ میرے ذمہ جو پار سال کا ایک روزہ قضا ہے اس کی قضا ہی رکھ لوں۔ یا کوئی نذر مانی تھی اس کا روزہ رکھ لوں اس دن قضا کا روزہ اور کفارہ کا روزہ اور نذر کا روزہ رکھنا بھی مکروہ ہے کوئی روزہ نہ رکھنا چاہیے اگر قضا یا نذر کا روزہ رکھ لیا پھر کہیں سے چاند کی خبر آ گئی تو بھی رمضان ہی کا روزہ ادا ہو گا قضا اور نذر کا روزہ پھر سے رکھے اور اگر خبر نہیں آئی تو جس روزہ کی نیت کی تھی وہی ادا ہو گیا۔