حیض کے احکام کا بیان

مسئلہ۔ حیض کے زمانہ میں نماز پڑھنا اور روزہ رکھنا درست نہیں۔ اتنا فرق ہے کہ نماز تو بالکل معاف ہو جاتی ہے پاک ہونے کے بعد بھی اس کی قضا واجب نہیں ہوتی لیکن روزہ معاف نہیں ہوتا پاک ہونے کے بعد قضا رکھنی پڑے گی۔

مسئلہ۔ اگر فرض نماز پڑھتے میں حیض آ گیا تو وہ نماز بھی معاف ہو گئی۔ پاک ہونے کے بعد اس کی قضا نہ پڑھے اور اگر نفل یا سنت میں حیض آ گیا تو اس کی قضا پڑھنا پڑے گی۔ اور اگر آدھے روزہ کے بعد حیض آیا تو وہ روزہ ٹوٹ گیا جب پاک ہو تو قضا رکھے۔ اگر نفل روزہ میں حیض آ جائے تو اس کی بھی قضا رکھے۔

مسئلہ۔ اگر نماز کے اخیر وقت میں حیض آیا اور ابھی نماز نہیں پڑھی ہے تب بھی معاف ہو گئی۔

مسئلہ۔ حیض کے زمانہ میں مرد کے پاس رہنا یعنی صحبت کرنا درست نہیں۔ اور صحبت کے سوا اور سب باتیں درست ہیں جن میں عورت کی ناف سے لے کر گھٹنے تک کا جسم مرد کے کسی عضو سے مس نہ ہو یعنی ساتھ کھانا پینا لیٹنا وغیرہ درست ہے۔

مسئلہ۔ کسی کی عادت پانچ دن کی یا نو دن کی تھی سو جتنے دن کی عادت تھی اتنے ہی دن خون آیا پھر بند ہو گیا تو جب تک نہا نہ لے تب تک صحبت کرنا درست نہیں اگر غسل نہ کرے تو جب ایک نماز کا وقت گزر جائے کہ ایک نماز کی قضا اس کے ذمہ واجب ہو جائے تب صحبت درست ہے اس سے پہلے درست نہیں۔

مسئلہ۔ اگر عادت پانچ دن کی تھی اور خون چار ہی دن آ کے بند ہو گیا تو نہا کے نماز پڑھنا واجب ہے لیکن جب تک پانچ دن پورے نہ ہو لیں تب تک صحبت کرنا درست نہیں ہے کہ شاید پھر خون آ جائے

مسئلہ۔ اگر پورے دس دن رات حیض آیا تو جب سے خون بند ہو جائے اسی وقت سے صحبت کرنا درست ہے چاہے نہا چکی ہو یا ابھی نہ نہائی ہو۔

مسئلہ۔ اگر ایک یا دو دن خون آ کر بند ہو گیا تو نہانا واجب نہیں ہے وضو کر کے نماز پڑھے لیکن ابھی صحبت کرنا درست نہیں اگر پندرہ دن گزرنے سے پہلے خون آ جائے گا تو اب معلوم ہو گا کہ وہ حیض کا زمانہ تھا۔ حساب سے جتنے دن حیض کے ہوں ان کو حیض سمجھے اور اب غسل کر کے نماز پڑھے اور اگر پورے پندرہ دن بیچ میں گزر گئے اور خون نہیں آیا تو معلوم ہوا کہ وہ استحاضہ تھا سو ایک دن یا دو دن خون آنے کی وجہ سے جو نمازیں نہیں پڑھیں اب ان کی قضا پڑھنا چاہیے۔

مسئلہ۔ تین دن حیض آنے کی عادت ہے لیکن کسی مہینے میں ایسا ہوا کہ تین دن پورے ہو چکے اور ابھی خون بند نہیں ہوا تو ابھی غسل نہ کرے نہ نماز پڑھے اگر پورے دس دن رات پر یا اس سے کم میں خون بند ہو جائے تو ان سب دنوں کی نمازیں معاف ہیں۔ کچھ قضا نہ پڑھنا پڑے گی اور یوں کہیں گے کہ عادت بدل گئی اس لیے یہ دن حیض کے ہوں گے اور اگر گیارہویں دن بھی خون آیا تو اب معلوم ہوا کہ حیض کے فقط تین ہی دن تھے یہ سب استحاضہ ہے۔ پس گیارہویں دن نہائے اور سات دن کی نمازیں قضا پڑھے اور اب نمازیں نہ چھوڑے۔

مسئلہ۔ اگر دس دن سے کم حیض یا اور ایسے وقت خون بند ہوا کہ نماز کا وقت بالکل تنگ ہے کہ جلدی اور پھرتی سے نہا دھو ڈالے تو نہانے کے بعد بالکل ذرا سا وقت بچے گا جس میں صرف ایک دفعہ اللہ اکبر کہہ کے نیت باندھ سکتی ہے اس سے زیادہ کچھ نہیں پڑھ سکتی تب بھی اس وقت کی نماز واجب ہو جائے گی اور قضا پڑھنی پڑے گی اور اگر اس سے بھی کم وقت ہو تو نماز معاف ہے اس کی قضا پڑھنا واجب نہیں۔

مسئلہ۔ اور اگر پورے دس دن رات حیض آیا اور ایسے وقت خون بند ہوا کہ بالکل ذرا سا بس اتنا وقت ہے کہ ایک دفعہ اللہ اکبر کہہ سکتی ہے۔ اس سے زیادہ کچھ نہیں کہہ سکتی اور نہانے کی بھی گنجائش نہیں تو بھی نماز واجب ہو جاتی ہے اس کی قضا پڑھنا چاہیے۔

مسئلہ۔ اگر رمضان شریف میں دن کو پاک ہوئی تو اب پاک ہونے کے بعد کچھ کھانا پینا درست نہیں ہے۔ شام تک روزہ داروں کی طرح رہنا واجب ہے لیکن یہ دن روزہ میں محسوب نہ ہو گا بلکہ اس کی بھی قضا رکھنی پڑے گی۔

مسئلہ۔ اور اگر رات کو پاک ہوئی اور پورے دس دن رات حیض آیا ہے تو اگر اتنی ذرا سی رات باقی ہو جس میں ایک دفعہ اللہ اکبر بھی نہ کہہ سکے تب بھی صبح کا روزہ واجب ہے اور اگر دس دن سے کم حیض آیا ہے تو اگر اتنی رات باقی ہو کہ پھرتی سے غسل تو کر لے گی لیکن غسل کے بعد ایک دفعہ بھی اللہ اکبر نہ کہہ پائے گی تو بھی صبح کا روزہ واجب ہے اگر اتنی رات تو تھی لیکن غسل نہیں کیا تو روزہ توڑے بلکہ روزہ کی نیت کر لے اور صبح کو نہا لے اور جو اس سے بھی کم رات ہو یعنی غسل بھی نہ کر سکے تو صبح کا روزہ جائز نہیں ہے۔ لیکن دن کو کچھ کھانا پینا بھی درست نہیں بلکہ سارا دن روزہ داروں کی طرح رہے پھر اس کی قضا رکھے۔

مسئلہ۔ جب خون سوراخ سے باہر کی کھال میں نکل آئے تب سے حیض شروع ہو جاتا ہے۔ اس کھال سے باہر چاہے نکلے یا نہ نکلے اس کا کچھ اعتبار نہیں ہے تو اگر کوئی سوراخ کے اندر روئی وغیرہ رکھ لے جس سے خون باہر نہ نکلنے پائے تو جب تک سوراخ کے اندر ہی اندر خون رہے اور باہر روئی وغیرہ پر خون کا دھبہ نہ آئے تب تک حیض کا حکم نہ لگائیں گے۔ جب خون کا دھبہ باہر والی کھال میں جائے یا روئی وغیرہ کھینچ کر باہر نکلال لے تب سے حیض کا حساب ہو گا۔

مسئلہ۔ پاک عورت نے رات کو فرج داخل میں گدی رکھ لی تھی جب صبح ہوئی تو اس پر خون کا دھبہ دیکھا تو جس وقت سے دھبہ دیکھا ہے اسی وقت سے حیض کا حکم لگائیں گے۔

حیض اور استحاضہ کا بیان

مسئلہ۔ ہر مہینہ میں جو آگے کی راہ سے معمولی خون آتا ہے اس کو حیض کہتے ہیں۔

مسئلہ۔ کم سے کم حیض کی مدت تین دن تین رات ہے اور زیادہ سے زیادہ دس دن دس رات ہے۔ کسی کو تین دن تین رات سے کم خون آیا تو وہ حیض نہیں ہے۔ بلکہ استحاضہ ہے کہ کسی بیماری وغیرہ کی وجہ سے ایسا ہو گیا ہے اور اگر دس دن رات سے زیادہ خون آیا ہے تو جتنے دن دس سے زیادہ آیا ہے وہ بھی استحاضہ ہے۔

مسئلہ۔ اگر تین دن تو ہو گئے لیکن تین راتیں نہیں ہوئیں جیسے جمعہ کو صبح سے خون آیا اور اتوار کو شام کے وقت بعد مغرب بند ہو گیا تب بھی یہ حیض نہیں بلکہ استحاضہ ہے۔ اگر تین دن رات سے ذرا بھی کم ہو تو وہ حیض نہیں۔ جیسے جمعہ کو سورج نکلتے وقت خون آیا اور دو شنبہ کو سورج نکلنے سے پہلے بند ہو گیا تو وہ حیض نہیں بلکہ استحاضہ ہے۔

مسئلہ۔ حیض کی مدت کے اندر سرخ زرد سبز خاکی یعنی مٹیالا سیاہ جو رنگ آئے سب حیض ہے جب تک گدی بالکل سفید نہ دکھلائی دے اور جب بالکل سفید رہے جیسی کہ رکھی گی تھی تو اب حیض سے پاک ہو گئی۔

مسئلہ۔ نو برس سے پہلے اور پچپن برس کے بعد کسی کو حیض نہیں آتا ہے اس لیے نو برس سے چھوٹی لڑکی کو جو خون آئے وہ حیض نہیں ہے بلکہ استحاضہ ہے اگرچہ پچپن برس کے بعد کچھ نکلے تو اگر خون خوب سرخ یا سیاہ ہو تو حیض ہے اور اگر زرد یا سبز یا خاکی رنگ ہو تو حیض نہیں بلکہ استحاضہ ہے۔ البتہ اگر اس عورت کو اس عمر سے پہلے بھی زرد یا سبز یا خاکی رنگ آتا ہو تو پچپن پرس کے بعد بھی یہ رنگ حیض سمجھے جائیں گے۔ اور اگر عادت کے خلاف ایسا ہوا تو حیض نہیں بلکہ استحاضہ ہے۔

مسئلہ۔ کسی کو ہمیشہ تین دن یا چار دن خون آتا تھا۔ پھر کسی مہینہ میں زیادہ آ گیا لیکن دس دن سے زیادہ نہیں آیا وہ سب حیض ہے اور اگر دس دن سے بھی بڑھ گیا تو جتنے دن پہلے سے عادت کے ہیں اتنا تو حیض ہے باقی سب استحاضہ ہے۔ اس کی مثال یہ ہے کہ کسی کو ہمیشہ تین دن حیض آنے کی عادت ہے لیکن کسی مہینہ میں نو دن یا دس دن رات خون آیا تو یہ سب حیض ہے اور اگر دس دن رات سے ایک لحظہ بھی زیادہ خون آئے تو وہی تین دن حیض کے ہیں اور باقی دنوں کا سب استحاضہ ہے ان دنوں کی نمازیں قضا پڑھنا واجب ہیں۔

مسئلہ۔ ایک عورت ہے جس کی کوئی عادت مقرر نہیں ہے کبھی چار دن خون آتا ہے کبھی سات دن اسی طرح بدلتا رہتا ہے کبھی دس دن بھی آ جاتا ہے تو یہ سب حیض ہے ایسی عورت کو اگر کبھی دس دن رات سے زیاد خون آئے تو دیکھو کہ اس سے پہلے مہینہ میں کتنے دن حیض آیا تھا بس اتنے ہی دن حیض کے اور باقی سب استحاضہ ہے۔

مسئلہ۔ کسی کو ہمیشہ چار دن حیض آتا تھا پھر ایک مہینہ میں پانچ دن خون آیا اس کے بعد دوسرے مہینہ میں پندرہ دن خون آیا تو اس پندرہ دن میں سے پانچ دن حیض کے ہیں اور دس دن استحاضہ ہے اور پہلی عادت کا اعتبار نہ کریں گے اور یہ سمجھیں گے کہ عادت بدل گئی اور پانچ دن کی عادت ہو گئی۔

مسئلہ۔ کسی کو دس دن سے زیادہ خون آیا اور اس کو اپنی پہلی عادت بالکل یاد نہیں کہ پہلے مہینے میں کتنے دن خن آیا تھا تو اس کے مسئلے بہت باریک ہیں جن کا سمجھنا مشکل ہے اور ایسا اتفاق بھی کم پڑتا ہے اس لیے ہم اس کا بیان نہیں کرتے اگر کبھی ضرورت پڑے تو کسی بڑے عالم سے پوچھ لینا چاہیے اور کسی ایسے ویسے معمولی مولوی سے ہرگز نہ پوچھے۔

مسئلہ۔ کسی لڑکی نے پہلے پہل خون دیکھا تو اگر دس دن یا اس سے کچھ کم آئے سب حیض ہے اور جو دس دن سے زیادہ آئے تو پورے دس دن حیض ہے اور جتنا زیادہ ہو وہ سب استحاضہ ہے۔

مسئلہ۔ کسی نے پہلے پہل خون دیکھا اور وہ کسی طرح بند نہیں ہوا کئی مہینے تک برابر آتا رہا تو جس دن خون آیا ہے اس دن سے لے کر دس دن رات حیض ہے اس کے بعد بیس دن استحاضہ ہے۔ اسی طرح برابر دس دن حیض اور بیس دن استحاضہ سمجھا جائے گا۔

مسئلہ۔ دو حیض کے درمیان میں پاک رہنے کی مدت کم سے کم پندرہ دن ہیں اور زیادہ کی کوئی حد نہیں۔ سو اگر کسی وجہ سے کسی کو حیض آنا بند ہو جائے تو جتنے مہینے تک خون نہ آئے گا پاک رہے گی۔

مسئلہ۔ اگر کسی کو تین دن رات خون یا پھر پندرہ دن پاک رہی۔ پھر تین دن رات خون آیا تو تین دن پہلے کے اور تین دن یہ جو پندرہ دن کے بعد ہیں حیض کے ہیں اور بیچ میں پندرہ دن پاکی کا زمانہ ہے۔

مسئلہ۔ اور اگر ایک یا دو دن خون آیا پھر پندرہ دن پاک رہی پھر ایک یا دو دن خون آیا تو بیچ میں پندرہ دن تو پاکی کا زمانہ ہی ہے ادھر ادھر ایک یا دو دن جو خون آیا ہے وہ بھی حیض نہیں بلکہ استحاضہ ہے۔

مسئلہ۔ اگر ایک دن یا کئی دن خون آیا۔ پھر پندرہ دن سے کم پاک رہی اس کا کچھ اعتبار نہیں بلکہ یوں سمجھیں گے کہ گویا اول سے آخر تک برابر خون جاری رہا۔ سو جتنے دن حیض آنے کی عادت ہو اتنے دن تو حیض کے ہیں باقی سب استحاضہ ہے۔ مثال اس کی یہ ہے کہ کسی کو ہر مہینہ کی پہلی اور دوسری اور تیسری تاریخ حیض آنے کا معمول ہے پھر کسی مہینہ میں ایسا ہوا کہ پہلی تاریخ کو خون یا پھر چودہ دن پاک رہی۔ پھر ایک دن خون آیا تو ایسا سمجھیں گے کہ سولہ دن گویا برابر خون آیا۔ سو اس میں سے تین دن اول کے تو حیض کے ہیں اور تیرہ دن استحاضہ ہے۔ اور اگر چوتھی پانچویں چھٹی تاریخ حیض کی عادت تھی تو یہی تاریخیں حیض کی ہیں اور تین دن اول کے اور دس دن بعد کے استحاضہ کے ہیں۔ اور اگراس کی کچھ عادت نہ ہو بلکہ پہلے پہل خون آیا ہو تو دس دن حیض ہے اور چھ دن استحاضہ ہے۔

مسئلہ۔ حمل کے زمانہ میں جو خون آئے وہ بھی حیض نہیں بلکہ استحاضہ ہے چاہے جتنے دن آوے۔

مسئلہ۔ بچہ پیدا ہونے کے وقت بچہ نکلنے سے پہلے جو خون آئے وہ بھی استحاضہ ہے۔ بلکہ جب تک بچہ آدھے سے زیادہ نہ نکل آئے تب تک جو خون آئے گا اس کو استحاضہ ہی کہیں گے۔

جانوروں کے جھوٹے کا بیان

مسئلہ۔ آدمی کا جھوٹا پاک ہے چاہے بددین ہو یا حیض سے ہو ناپاک ہو یا نفاس میں ہو ہر حال میں پاک ہے۔ اسی طرح پسینہ بھی ان سب کا پاک ہے۔ البتہ اگر اس کے ہاتھ میں یا منہ میں کوئی ناپاکی لگی ہو تو اس سے وہ جھوٹا ناپاک ہو جائے گا۔

مسئلہ۔ کتنے کا جھوٹا نجس ہے۔ اگر کسی برتن میں منہ ڈال دے تو تین مرتبہ دھونے سے پاک ہو جائے گا۔ چاہے مٹی کا برتن ہو چاہے تانبے وغیرہ کا۔ دھونے سے سب پاک ہو جاتا ہے۔ لیکن بہتر یہ ہے کہ سات مرتبہ دھو دے اور ایک مرتبہ مٹی لگا کر مانجھ بھی ڈالے کہ خوب صاف ہو جائے۔

مسئلہ۔ سور کا جھوٹا بھی نجس ہے۔ اسی طرح شیر بھیڑیا بندر گیدڑ وغیرہ جتنے چیر پھاڑ کر کے کھانے والے جانور ہیں سب کا جھوٹا نجس ہے۔

مسئلہ۔ بلی کا جھوٹا پاک تو ہے لیکن مکروہ ہے۔ تو اور پانی ہوتے وقت اس سے وضو نہ کرے۔ البتہ اگر کوئی اور پانی نہ ملے تو اس سے وضو کر لے۔

مسئلہ۔ دودھ سالن وغیرہ میں بلی نے منہ ڈال دیا تو اگر اللہ نے سب کچھ دیا ہے تو اسے نہ کھائے اور اگر غریب آدمی ہو تو کھا لے اس میں کچھ حرج اور گناہ نہیں ہے بلکہ ایسے شخص کے واسطے مکروہ بھی نہیں ہے۔

مسئلہ۔ بلی نے چوہا کھایا اور فورا آ کر برتن میں منہ ڈال دیا تو وہ نجس ہو جائے گا۔ اور جو تھوڑی دیر ٹھیر کر منہ ڈالے کہ اپنا منہ زبان سے چاٹ چکی ہو تو نجس نہ ہو گا بلکہ مکروہ ہی رہے گا۔

مسئلہ۔ کھلی ہوئی مرغی جو ادھر ادھر گندی پلید چیزیں کھاتی پھرتی ہے اس کا جھوٹا مکروہ ہے۔ اور جو مرغی بند رہتی ہو اس کا جھوٹا مکروہ نہیں بلکہ پاک ہے۔

مسئلہ۔ شکار کرنے والے پرندے جیسے شکرہ باز وغیرہ ان کا جھوٹا بھی مکروہ ہے۔ لیکن جو پالتو ہو اور مردار نہ کھانے پائے نہ اس کی چونچ میں کسی نجاست کے لگے ہونے کا شبہ ہو اس کا جھوٹا پاک ہے۔

مسئلہ۔ حلال جانور جیسے مینڈھا بکری بھیڑ گائے بھینس ہرنی وغیرہ اور حلال چڑیاں جیسے مینا طوطا فاختہ گوریا ان سب کا جھوٹا پاک ہے۔ اسی طرح گھوڑے کا جھوٹا بھی پاک ہے۔

مسئلہ۔ جو چیزیں گھروں میں رہا کرتی ہیں جیسے سانپ بچھو چوہا چھپکلی وغیرہ ان کا جھوٹا مکروہ ہے۔

مسئلہ۔ اگر چوہا روٹی کتر کر کھائے تو بہتر یہ ہے کہ اس جگہ سے ذرا سی توڑ ڈالے تب کھائے۔

مسئلہ۔ گدھے اور خچر کا جھوٹا پاک تو ہے لیکن وضو ہونے میں شک ہے۔ سو اگر کہیں فقط گدھے خچر کا جھوٹا پانی ملے اور اس کے سوا پانی نہ ملے تو وضو بھی کرے اور تیمم بھی کرے اور چاہے پہلے وضو کرے چاہے پہلے تیمم کرے دونوں اختیار ہیں۔

مسئلہ۔ جن جانوروں کا جھوٹا نجس ہے ان کا پسینہ بھی نجس ہے۔ اور جن کا جھوٹا پاک ہے انکا پسینہ بھی پاک ہے۔ اور جن کا جھوٹا مکروہ ہے ان کا پسینہ بھی مکروہ ہے اور گدھے اور خچر کا پسینہ پاک ہے کپڑے اور بدن پر لگ جائے تو دھونا واجب نہیں۔ لیکن دھو ڈالنا بہتر ہے۔

مسئلہ۔ کسی نے بلی پالی وہ پاس آ کر بیٹھتی ہے اور ہاتھ وغیرہ چاٹتی ہے تو جہاں چاٹے یا اس کا لعاب لگے تو اس کو دھو ڈالنا چاہیے۔ اگر نہ دھویا اور یوں ہی رہنے دیا تو مکروہ اور برا کیا۔

مسئلہ۔ غیر مرد کا جھوٹا کھانا اور پانی عورت کے لیے مکروہ ہے جبکہ جانتی ہو کہ یہ اس کا جھوٹا ہے اور اگر معلوم نہ ہو تو مکروہ نہیں۔

مسئلہ۔ اگر کوئی جنگل میں ہے اور بالکل معلوم نہیں کہ پانی کہاں ہے نہ وہاں کوئی ایسا آدمی ہے جس سے دریافت کرے تو ایسے وقت تیمم کر لے اور گر کوئی آدمی مل گیا اور اس نے ایک میل شرعی کے اندر پانی کا پتہ بتایا اور گمان غالب ہوا کہ یہ سچا ہے یا آدمی تو نہیں ملا لیکن کسی نشانی سے خود اس کا جی کہتا ہے کہ یہاں ایک میل شرعی کے اندر اندر کہیں پانی ضرور ہے تو پانی کا اس قدر تلاش کرنا کہ اس کو اور اس کے ساتھیوں کو کسی قسم کی تکلیف اور حرج نہ ہو ضروری ہے۔ بے ڈھونڈے تیمم کرنا درست نہیں۔ اور اگر خوب یقین ہے کہ پانی ایک میل شرعی کے اندر ہے تو پانی لانا واجب ہے۔

فائدہ میل شرعی انگریزی سے ذرا زیادہ ہوتا ہے یعنی انگریزی ایک میل پورا اور اس کا آٹھواں حصہ یہ سب مل کر ایک میل شرعی ہوتا ہے۔

مسئلہ۔ اگر پانی کا پتہ چل گیا لیکن پانی ایک میل سے دور ہے تو اتنی دور جا کر پانی لانا واجب نہیں ہے بلکہ تیمم کر لینا درست ہے۔

مسئلہ۔ اگر کوئی آبادی سے ایک میل کے فاصلے پر ہو اور ایک میل سے قریب کہیں پانی نہ ملے تو بھی تیمم کر لینا درست ہے چاہے مسافر ہو یا مسافر نہ ہو تھوڑی دور جانے کے لیے نکلی ہو۔

مسئلہ۔ اگر راہ میں کنواں تو مل گیا مگر لوٹا ڈول پاس نہیں ہے اس لیے کنویں سے پانی نکال نہیں سکتی نہ کسی اور سے مانگے مل سکتا ہے تو بھی تیمم درست ہے۔

مسئلہ۔ اگر کہیں پانی مل گیا لیکن بہت تھوڑا ہے تو اگر اتنا ہو کہ ایک ایک دفعہ منہ اور دونوں ہاتھ اور دونوں پیر دھو سکے تو تیمم کرنا درست نہیں ہے بلکہ ایک ایک دفعہ ان چیزوں کو دھوئے اور سر کا مسح کر لے اور کلی وغیرہ کرنا یعنی وضو کی سنتیں چھوڑ دے اور اگر اتنا بھی نہ ہو تو تیمم کرے۔

مسئلہ۔ اگر بیماری کی وجہ سے پانی نقصان کرتا ہو کہ اگر وضو یا غسل کرے گی تو بیماری بڑھ جائے گی یا دیر میں اچھی ہو گی تب بھی تیمم درست ہے لیکن اگر ٹھنڈا پانی نقصان کرتا ہو اور گرم پانی نقصان نہ کرے تو گرم پانی سے غسل کرنا واجب ہے البتہ اگر ایسی جگہ ہے کہ گرم پانی نہیں مل سکتا تو تیمم کرنا درست ہے۔

مسئلہ۔ اگر پانی قریب ہے یعنی یقیناً ایک میل سے کم دور ہے تو تیمم کرنا درست نہیں۔ جا کر پانی لانا اور وضو کرنا واجب ہے۔ مردوں سے شرم کی وجہ سے یا پردہ کی وجہ سے پانی لینے کو نہ جانا اور تیمم کر لینا درست نہیں۔ ایسا پردہ جس میں شریعت کا کوئی حکم چھوٹ جائے ناجائز اور حرام ہے۔ برقع اوڑھ کر یا سارے بدن سے چادر لپیٹ کر جانا واجب ہے۔ البتہ لوگوں کے سامنے بیٹھ کر وضو نہ کرے اور ان کے سامنے ہاتھ منہ نہ کھولے

مسئلہ۔ جب تک پانی سے وضو نہ کر سکے برابر تیمم کرتی رہے چاہے جتنے دن گزر جائیں کچھ خیال و وسوسہ نہ لائے۔ جتنی پاکی وضو اور غسل کرنے سے ہوتی ہے اتنی ہی پاکی تیمم سے بھی ہو جاتی ہے۔ یہ نہ سمجھے کہ تیمم سے اچھی طرح پاک نہیں ہوتی۔

مسئلہ۔ اگر پانی مول بکتا ہے تو اگر اس کے پاس دام نہ ہوں تو تیمم کر لینا درست ہے اور اگر دام پاس ہوں اور رستہ میں کرایہ بھاڑے کی جتنی ضرورت پڑے گی اس سے زیادہ بھی ہے تو خریدنا واجب ہے البتہ اگر اتنا گراں بیچے کہ اتنے دام کوئی لگا ہی نہیں سکتا تو خریدنا واجب نہیں تیمم کر لینا درست ہے۔ اور اگر کرایہ وغیرہ رستہ کے خرچ سے زیادہ دام نہیں ہیں تو بھی خریدنا واجب نہیں تیمم کر لینا درست ہے۔

مسئلہ۔ اگر کہیں اتنی سردی پڑتی ہو اور برف کٹتی ہو کہ نہانے سے مر جانے یا بیمار ہو جانے کا خوف ہو اور رضائی لحاف وغیرہ کوئی ایسی چیز بھی نہیں کہ نہا کر اس میں گرم ہو جائے تو ایسی مجبوری کے وقت تیمم کر لینا درست ہے۔

مسئلہ۔ اگر کسی کے آدھے سے زیادہ بدن پر زخم ہوں یا چیچک نکلا ہو تو نہانا واجب نہیں بلکہ تیمم کر لے۔

مسئلہ۔ اگر کسی میدان میں تیمم کر کے نماز پڑھ لی اور وہاں سے پانی قریب ہی تھا لیکن اس کو خبر نہ تھی تو تیمم اور نمازیں دونوں درست ہیں۔ جب معلوم ہو تو دہرانا ضروری نہیں۔

مسئلہ۔ اگر سفر میں کسی اور کے پاس پانی ہو تو اپنے جی کو دیکھے اگر اندر سے دل کہتا ہو کہ اگر میں مانگوں گی تو یہ پانی مل جائے گا تو بے مانگے ہوئے تیمم کر لینا درست نہیں۔ اور اگر اندر سے دل یہ کہتا ہو کہ مانگنے سے وہ شخص پانی نہ دے گا تو بے مانگے بھی تیمم کر کے نماز پڑھ لینا درست ہے۔ لیکن اگر نماز کے بعد اس سے پانی مانگا اور اس نے دے دیا تو نماز کو دہرانا پڑے گا۔

مسئلہ۔ اگر زمزم کا پانی زمزمی میں بھرا ہو اہے تو تیمم کرنا درست نہیں زمزمیوں کو کھول کر اس پانی سے نہانا اور وضو کرنا واجب ہے۔

مسئلہ۔ کسی کے پاس پانی تو ہے لیکن راستہ ایسا خراب ہے کہ کہیں پانی نہیں مل سکتا اس لیے راہ میں پیاس کے مارے تکلیف اور ہلاکت کا خوف ہے تو وضو نہ کرے تیمم کر لینا درست ہے۔

مسئلہ۔ اگر غسل کرنا نقصان کرتا ہو اور وضو نقصان نہ کرے تو غسل کی جگہ تیمم کرے۔ پھر اگر تیمم غسل کے بعد وضو ٹوٹ جائے تو وضو کے لیے تیمم نہ کرے بلکہ وضو کی جگہ وضو کرنا چاہیے۔ اور اگر تیمم غسل سے پہلے کوئی بات وضو توڑنے والی بھی پائی گئی اور پھر غسل کا تیمم کیا ہو تو یہی تیمم غسل و وضو دونوں کے لیے کافی ہے

مسئلہ۔ تیمم کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ دونوں ہاتھ پاک زمین پر مارے اور سارے منہ کو مل لے پھر دوسری مرتبہ زمین پر دونوں ہاتھ مارے اور دونوں ہاتھوں کی کہنی سمیت ملے۔ چوڑیوں کنگن وغیرہ کے درمیان اچھی طرح ملے اگر اس کے گمان میں ناخن برابر بھی کوئی جگہ چھوٹ جائے گی تو تیمم نہ ہو گا۔ انگوٹھی چھلے اتار ڈالے تاکہ کوئی جگہ چھوٹ نہ جائے۔ انگلیوں میں خلال کر لے۔ جب یہ دونوں چیزیں کر لیں تو تیمم ہو گیا۔

مسئلہ۔ مٹی پر ہاتھ جھاڑ ڈالے تاکہ بانہوں اور منھ پر بھبھوت نہ لگ جائے۔ اور صورت نہ بگڑ جائے۔

مسئلہ۔ زمین کے سوا اور جو چیز مٹی کی قسم سے ہو اس پر بھی تیمم درست ہے۔ جیسے مٹی ریت پتھر گچ چونا ہڑتال سرمہ گیرد وغیرہ۔ اور جو چیز مٹی کی قسم سے نہ ہو اس سے تیمم درست نہیں جیسے سونا چاندی رانگا گیہوں لکڑی کپڑا اور اناج وغیرہ۔ ہاں اگر ان چیزوں پر گرد اور مٹی لگی ہو اس وقت البتہ ان پر تیمم درست ہے۔

مسئلہ۔ جو چیز نہ تو آگ میں جلے اور نہ گلے وہ چیز مٹی کی قسم سے ہے اس پر تیمم درست ہے۔ اور جو چیز جل کر راکھ ہو جائے یا گل جائے اس پر تیمم درست نہیں۔ اسی طرح راکھ پر بھی تیمم درست نہیں۔

مسئلہ۔ تانبے کے برتن اور تکیے اور گدے وغیرہ پر تیمم کرنا درست نہیں البتہ اگر اوپر اتنی گرد ہے کہ ہاتھ مارنے سے خوب اڑتی ہے اور ہتھیلیوں میں خوب اچھی طرح لگ جاتی ہے تو تیمم درست ہے۔ اور اگر ہاتھ مارنے سے ذرا ذرا گرد اڑتی ہو تو بھی اس پر تیمم درست ہے۔ اور مٹی کے گھڑے بدھنے پر تیمم درست ہے چاہے اس میں پانی بھرا ہوا ہو یا پانی نہ ہو لیکن اگر اس پر لک پھرا ہوا ہو تو تیمم درست نہیں۔

مسئلہ۔ اگر پتھر پر بالکل گرد نہ ہو تب بھی تیمم درست ہے۔ بلکہ اگر پانی سے خوب دھلا ہوا ہو تب بھی درست ہے۔ ہاتھ پر گرد کا لگنا ضروری نہیں ہے اسی طرح پکی اینٹ پر بھی تیمم درست ہے۔ چاہے اس پر کچھ گرد ہو چاہے نہ ہو۔

مسئلہ۔ کیچڑ سے تیمم کرنا گو درست ہے مگر مناسب نہیں۔ اگر کہیں کیچر کے سوا اور کوئی چیز نہ ملے تو یہ ترکیب کرے کہ اپنے کپڑے میں کیچڑ بھر لیے جب وہ سوکھ جائے تو اس سے تیمم کرے۔ البتہ اگر نماز کا وقت ہی نکلا جاتا ہو تو اس وقت جس طرح بن پڑے تر سے یا خشک سے تیمم کر لے نماز نہ قضا ہونے دے۔

موزوں پر مسح کرنے کا بیان

مسئلہ۔ اگر چمڑے کے موزے وضو کر کے پہن لے اور پھر وضو ٹوٹ جائے تو پھر وضو کرتے وقت موزوں پر مسح کر لینا درست ہے۔ اور اگر موزہ اتار کر پیر دھو لیا کرے تو یہ سب سے بہترہے۔

مسئلہ۔ اگر موزہ اتنا چھوٹا ہے کہ ٹخنے موزے کے اندر چھپے ہوئے نہ ہوں تو اس پر مسح درست نہیں۔ اسی طرح اگر بغیر وضو کیے موزہ پہن لیا تو اس پر بھی مسح درست نہیں اتار کر پیر دھونا چاہیے۔

مسئلہ۔ مسافرت میں تین دن تین رات تک موزوں پر مسح کرنا درست ہے اور جو مسافرت میں نہ ہو اس کے ایک دن اور ایک رات اور جس وقت وضو ٹوٹا ہے اس وقت سے ایک دن رات یا تین دن رات کا حساب کیا جائے گا جس وقت موزہ پہنا ہے اس کا اعتبار نہ کریں گے۔ جیسے کسی نے ظہر کے وقت وضو کر کے موزہ پہنا پھر سورج ڈوبنے کے وقت وضو ٹوٹا تو اگلے دن کے سورج ڈوبنے تک مسح کرنا درست ہے۔ اور مسافرت میں تیسرے دن کے سورج ڈوبنے تک۔ جب سورج ڈوب گیا تو اب مسح کرنا درست نہیں رہا۔

مسئلہ۔ اگر کوئی ایسی بات ہو گئی جس سے نہانا واجب ہو گیا تو موزہ اتار کر نہائے۔ غسل کے ساتھ موزے پر مسح کرنا درست نہیں۔

مسئلہ۔ موزہ کے اوپر کی طرف مسح کرے تلوے کی طرف مسح نہ کرے۔

مسئلہ۔ موزہ پر مسح کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ ہاتھ کی انگلیاں تر کر کے آگے کی طرف رکھے۔ انگلیاں تو سموچی موزہ پر رکھ دے اور ہتھیلی موزے سمیت انگلیوں کو کھینچ کر لے جائے تو بھی درست ہے۔

مسئلہ۔ اگر کوئی الٹا مسح کرے یعنی ٹخنے کی طرف سے کھینچ کر انگلیوں کی طرف لائے تو بھی جائز ہے لیکن مستحب کے خلاف ہے ایسے ہی اگر لمباؤ میں مسح نہ کرے بلکہ موزے کے چوڑان میں مسح کرے تو بھی درست ہے لیکن مستحب کے خلاف ہے۔

مسئلہ۔ اگر تلوے کی طرف یا ایڑی پر یا موزہ کے اغل بغل میں مسح کرے تو یہ مسح درست نہیں ہوا۔

مسئلہ۔ اگر پوری انگلیوں کو موزہ پر نہیں رکھا بلکہ فقط انگلیوں کا سرا موزہ پر رکھ دیا اور انگلیاں کھڑی رکھیں تو یہ مسح درست نہیں ہوا۔ البتہ اگر انگلیوں سے پانی برابر ٹپک رہا ہو جس سے بہہ کر تین انگلیوں کے برابر پانی موزہ کو لگ جائے تو درست ہو جائے گا۔

مسئلہ۔ مسح میں مستحب تو یہی ہے کہ ہتھیلی کی طرف سے مسح کرے۔ اور اگر کوئی ہتھیلی کے اوپر کی طرف سے مسح کرے تو بھی درست ہے۔

مسئلہ۔ اگر کسی نے موزہ پر مسح نہیں کیا لیکن پانی برستے وقت باہر نکلی یا بھیگی گھاس میں چلی جس سے موزہ بھیگ گیا تو مسح ہو گیا۔

مسئلہ۔ ہاتھ کی تین انگلیوں بھر ہر موزہ پر مسح کرنا فرض ہے اس سے کم میں مسح درست نہ ہو گا۔

مسئلہ۔ جو چیز وضو توڑ دیتی ہے اس سے مسح بھی ٹوٹ جاتا ہے اور موزوں کو اتار دینے سے بھی مسح ٹوٹ جاتا ہے۔ تو اگر کسی کا وضو تو نہیں ٹوٹا لیکن اس نے موزے اتار ڈالے تو مسح جاتا رہا۔ اب دونوں پیر دھو لے پھر سے وضو کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔

مسئلہ۔ اگر ایک موزہ اتار ڈالا تو دوسرا موزہ بھی اتار کر دونوں پاؤں کا دھونا واجب ہے۔

مسئلہ۔ اگر مسح کی مدت پوری ہو گئی تو بھی مسح جاتا رہا۔ اگر وضو نہ ٹوٹا ہو تو موزہ اتار کر دونوں پاؤں دھوئے پورے وضو کا دہرانا واجب نہیں۔ اور اگر وضو ٹوٹ گیا ہو تو موزے اتار کر پورا وضو کرے۔

کنوئیں کا بیان

مسئلہ۔ جب کنوئیں میں کچھ نجاست گر پڑے تو کنواں ناپاک ہو جاتا ہے اور پانی کھینچ ڈالنے سے پاک ہو جاتا ہے چاہے تھوڑی نجاست گرے یا بہت۔ سارا پانی نکالنا چاہیے۔ جب سارا پانی نکل جائے گا تو پاک ہو جائے گا۔ کنوئیں کے اندر کنکر دیوار وغیرہ کے دھونے کی ضرورت نہیں۔ وہ سب آپ ہی آپ پاک ہو جائیں گے۔ اسی طرح رسی ڈول جس سے پانی نکالا ہے کنویں کے پاک ہونے سے آپ ہی آپ پاک ہو جائے گا۔ ان دونوں کے بھی دھونے کی ضرورت نہیں۔

فائدہ کنویں میں کبوتر یا گوریا یعنی چڑیا کی بیٹ گر پڑی تو نجس نہیں ہوا۔ اور مرغی اور بطخ کی بیٹ سے نجس ہو جاتا ہے۔ اور سارا پانی نکالنا واجب ہے۔

مسئلہ۔ کنویں میں کبوتر یا گوریا یعنی چڑیا کی بیٹ گر پڑی تو نجس نہیں ہوا۔ اور مرغی اور بطخ کی بیٹ سے نجس ہو جاتا ہے۔ اور سارا پانی نکالنا واجب ہے۔

 مسئلہ۔ کتاب بلی گائے بکری پیشاب کر دے یا کوئی اور نجاست گرے تو سب پانی نکالا جائے۔

مسئلہ۔ اگر آدمی یا کتا یا بکری یا اسی کے برابر کوئی اور جانور گر کر مر جائے تو سارا پانی نکالا جائے اور اگر باہر مرے پھر کنویں میں گرے تب بھی یہی حکم ہے کہ سب پانی نکالا جائے۔

مسئلہ۔ اگر کوئی جاندار چیز کنویں میں مر جاوے اور پھول جائے یا پھٹ جائے تب بھی سب پانی نکالا جائے چاہے چھوٹا جانور ہو چاہے بڑا۔ تو اگر چوہا یا گوریا مر کر پھول جائے یا پھٹ جائے تو سب پانی نکالنا چاہیے۔

مسئلہ۔ اگر چوہا گوریا یا اسی کے برابر کوئی چیز گر کر مر گئی لیکن پھولی پھٹی نہیں تو بیس ڈول نکالنا واجب ہے۔ اور تیس ڈول نکال ڈالیں تو بہتر ہے۔ لیکن پہلے چوہا نکال لیں تب پانی نکالنا شروع کریں۔ اگر چوہا نہ نکالا تو اس پانی نکالنے کا کچھ اعتبار نہیں۔ چوہا نکالنے کے بعد پھر اتنا ہی پانی نکالنا پڑے گا۔

مسئلہ۔ بڑی چھپکلی جس میں بہتا ہوا خون ہوتا ہو اس کا حکم بھی یہی ہے کہ اگر مر جائے اور پھولے پھٹے نہیں تو بیس ڈول نکالنا چاہیے اور تیس ڈول نکالنا بہتر ہے۔ اور جس میں بہتا ہوا خون نہ ہوتا ہو اس کے مرنے سے پانی ناپاک نہیں ہوتا۔

مسئلہ۔ اگر کبوتر یا مرغی یا بلی یا اسی کے برابر کوئی چیز گر کر مر جائے اور پھولے نہیں تو چالیس ڈول نکالنا واجب ہے اور ساٹھ ڈول نکال دینا بہتر ہے۔

مسئلہ۔ جس کنویں پر جو ڈول پڑا رہتا ہے اسی کے حساب سے نکالنا چاہیے اور اگر اتنے بڑے ڈول سے نکالا جس میں بہت پانی سماتا ہے تو اس کا حساب لگا لینا چاہیے۔ اگر اس میں دو ڈول پانی سماتا ہے تو دو ڈول سمجھیں۔ اور اگر چار ڈول سماتا ہو تو چار ڈول سمجھنا چاہیے۔ خلاصہ یہ ہے کہ جس ڈول سے پانی آتا ہو گا اسی کے حساب سے کھینچا جائے گا۔

مسئلہ۔ اگر کنویں میں اتنا بڑا سوت ہے کہ سب پانی نہیں نکل سکتا جیسے جیسے پانی نکالتے ہیں ویسے ویسے اس میں سے اور نکلتا آتا ہے تو جتنا پانی اس میں اس وقت موجود ہے اندازہ کر کے اس قدر نکال ڈالیں۔

فائدہ پانی کے اندازہ کرنے کی کئی صورتیں ہیں ایک یہ کہ مثلاً پانچ ہاتھ پانی ہے تو ایک دم لگاتار سو ڈول پانی نکال کر دیکھو کتنا پانی کم ہوا۔ اگر ایک ہاتھ کم ہوا ہو تو بس اسی سے حساب لگا لو کہ سو ڈول میں ایک ہاتھ پانی ٹوٹا تو پانچ ہاتھ پانی پانچسو ڈول میں نکل جائے گا۔ دوسرے یہ کہ جن لوگوں کو پانی کی پہچان ہو اور اس کا اندازہ آتا ہو ایسے دو دیندار مسلمانوں سے اندازہ کرالو۔ جتنا وہ کہیں نکلوا دو۔ اور جہاں یہ دونوں باتیں مشکل معلوم ہوں تو تین سو ڈول نکلوا دیں۔

مسئلہ۔ کنویں میں مرا ہوا چوہا یا اور کوئی جانور نکلا اور یہ معلوم نہیں کہ کب سے گرا ہے اور وہ ابھی پھولا پھٹا بھی نہیں ہے تو جن لوگوں نے اس کنویں سے وضو کیا ہے ایک دن رات کی نمازیں دہرائیں اور ا س پانی سے جو کپڑے دھوئے ہیں پھر ان کو دھونا چاہیے۔ اور اگر پھول گیا ہے یا پھٹ گیا ہے تو تین دن تین رات کی نمازیں دہرانا چاہیے۔ البتہ جن لوگوں نے اس پانی سے وضو نہیں کیا ہے وہ نہ دہرائیں۔ یہ بات تو احتیاط کی ہے اور بعضے عالموں نے یہ کہا ہے کہ جس وقت کنویں کا ناپاک ہونا معلوم ہوا ہے اس وقت سے ناپاک سمجھیں گے۔ اس سے پہلے کی نماز وضو سب درست ہے اگر کوئی اس پر عمل کرے تب بھی درست ہے۔

مسئلہ۔ جس کو نہانے کی ضرورت ہے وہ دو ڈول ڈھونڈنے کے واسطے کنویں میں اترا اور اس کے بدن اور کپڑا پر آلودگی نجاست نہیں ہے تو کنواں ناپاک نہ ہو گا۔ ایسے ہی اگر کافر اترے اور اس کے کپڑے اور بدن پر نجاست نہ ہو تب بھی کنواں پاک ہے البتہ اگر نجاست لگی ہو تو ناپاک ہو جائے گا اور سب پانی نکالنا پڑے گا اور اگر شک ہو کہ معلوم نہیں کپڑا پاک ہے یا ناپاک ہے تب بھی کنواں پاک سمجھا جائے گا لیکن اگر دل کی تسلی کے لیے بیس یا تیس ڈول نکلوا دیں تب بھی کچھ حرج نہیں۔

مسئلہ۔ کنویں میں بکری یاچوہا گر گیا اور زندہ نکل آیا تو پانی پاک ہے کچھ نہ نکالا جائے۔

مسئلہ۔ چوہے کو بلی نے پکڑا اور اس کے دانت لگنے سے زخمی ہو گیا۔ پھر اس سے چھوٹ کر اسی طرح خون میں بھرا ہوا کنویں میں گر پڑا تو سارا پانی نکالا جائے۔

مسئلہ۔ چوہا تابدان سے نکل کر بھاگا اور اس کے بدن میں نجاست بھر گئی پھر کنویں میں گر پڑا تو سب پانی نکالا جائے چاہے چوہا کنویں میں مر جائے یا زندہ نکلے۔

مسئلہ۔ چوہے کی دم کٹ کر گر پڑی تو سارا پانی نکالا جائے۔ اسی طرح وہ چھپکلی جس میں بہتا ہوا خون ہوتا ہے اس کی دم گرنے سے بھی سب پانی نکالا جائے۔

مسئلہ۔ جس چیز کے گرنے سے کنواں ناپاک ہوا ہے۔ اگر وہ چیز باوجود کوشش کے نہ نکل سکے تو دیکھنا چاہیے کہ وہ چیز کیسی ہے۔ اگر وہ چیز ایسی ہے کہ خود تو پاک ہوتی ہے لیکن ناپاکی کی لگنے سے ناپاک ہو گئی ہے جیسے ناپاک کپڑا ناپاک گیند ناپاک جوتہ تب تو اس کا نکالنا معاف ہے ویسے ہی پانی نکال ڈالیں۔ اور اگر وہ چیز ایسی ہے کہ خود ناپاک ہے جیسے مردہ جانور و چوہا وغیرہ تو جب تک یہ یقین نہ ہو جائے کہ یہ گل سڑ کر مٹی ہو گیا ہے اس وقت تک کنواں پاک نہیں ہو سکتا۔ اور جب یہ یقین ہو جائے اس وقت سارا پانی نکال دیں کنواں پاک ہو جائے گا۔

مسئلہ۔ جتنا پانی کنویں میں سے نکالنا ضرور ہو چاہے ایکدم سے نکالیں چاہے تھوڑا تھوڑا کر کے کئی دفعہ نکالیں ہر طرح پاک ہو جائے گا۔

غسل کا بیان

مسئلہ۔ غسل کرنے والی کو چاہیے کہ پہلے گٹے تک دونوں ہاتھ دھوئے۔ پھر استنجے کی جگہ دھوئے۔ ہاتھ اور استنجے کی جگہ پر نجاست ہو تب بھی اور نہ ہو تب بھی ہر حال میں ان دونوں کو پہلے دھونا چاہیے۔ پھر جہاں بدن پر نجاست لگی ہو پاک کرے پھر وضو کرے اور اگر کسی چوکی یا پتھر پر غسل کرتی ہو تو وضو کرتے وقت پیر بھی دھو لیوے اور اگر ایسی جگہ ہے کہ پیر بھر جائیں گے اور غسل کے بعد پھر دھونے پڑیں گے تو سارا وضو کرے مگر پیر نہ دھوئے۔ پھر وضو کے بعد تین مرتبہ اپنے سر پر پانی ڈالے۔ پھر تین مرتبہ داہنے کندھے پر۔ پھر تین بار بائیں کندھے پر پانی ڈالے ایسی طرح کہ سارے بدن پر پانی بہہ جاوے۔ پھر اس جگہ سے ہٹ کر پاک جگہ میں آئے اور پھر پیر دھوئے اور اگر وضو کے وقت پیر دھو لیے ہوں تو اب دھونے کی حاجت نہیں۔

مسئلہ۔ پہلے سارے بدن پر اچھی طرح ہاتھ پھیر لے تب پانی بہا دے تاکہ سب کہیں اچھی طرح پانی پہنچ جائے کہیں سوکھا نہ رہے۔

مسئلہ۔ غسل کا طریقہ جو ہم نے ابھی بیان کیا سنت کے موافق ہے۔ اس میں سے بعض چیزیں فرض ہیں کہ بے ان کے غسل درست نہیں ہوتا آدمی ناپاک رہتا ہے۔ اور بعضی چزیں سنت ہیں ان کے کرنے سے ثواب ملتا ہے اور اگر نہ کرے تو بھی غسل ہو جاتا ہے۔ فرض فقط تین چیزیں ہیں۔ اس طرح کلی کرنا کہ سارے منہ میں پانی پہنچ جائے۔ ناک میں پانی ڈالنا جہاں تک ناک نرم ہے۔ سارے بدن پر پانی پہنچانا۔

مسئلہ۔ غسل کرتے وقت قبلہ کی طرف کو منہ نہ کرے اور پانی بہت زیادہ نہ پھینکے اور نہ بہت کم لیوے کہ اچھی طرح غسل نہ کر سکے اور ایسی جگہ غسل کرے کہ اس کو کوئی نہ دیکھے اور غسل کرتے وقت باتیں نہ کرے اور غسل کے بعد کسی کپڑے سے اپنا بدن پونچھ ڈالے۔ اور بدن ڈھکنے میں بہت جلدی کرے یہاں تک کہ اگر وضو کرتے وقت پیر نہ دھوئے ہوں تو غسل کی جگہ سے ہٹ کر پہلے اپنا بدن ڈھکے پھر دونوں پیر دھوئے۔

مسئلہ۔ اگر تنہائی کی جگہ ہو جہاں کوئی نہ دیکھ پائے تو ننگے ہو کر نہانا بھی درست ہے چاہے کھڑی ہو کر نہائے یا بیٹھ کر۔ اور چاہے غسل خانہ کی چھت پٹی ہو یا نہ پٹی ہو لیکن بیٹھ کر نہانا بہتر ہے کیونکہ اس میں پردہ زیادہ ہے۔ اور ناف سے لے کر گھٹنے کے نیچے تک دوسری عورتوں کے سامنے بھی بدن کھولنا گناہ ہے۔ اکثر عورتیں دوسری عورتوں کے سامنے بالکل ننگی ہو کر نہاتی ہیں یہ بڑی بری اور بے غیرتی کی بات ہے۔

مسئلہ۔ جب سارے بدن پر پانی پڑ جائے اور کلی کرے اور ناک میں پانی ڈال لے تو غسل ہو جائے گا۔ چاہے غسل کرنے کا ارادہ ہو چاہے نہ ہو تو اگر پانی برستے میں ٹھنڈی ہونے کی غرض سے کھڑی ہو گئی یا حوض وغیرہ میں گر پڑی اور سب بدن بھیگ گیا اور کلی بھی کر لی اور ناک میں بھی پانی ڈال لیا تو غسل ہو گیا۔ اسی طرح غسل کرتے وقت کلمہ پڑھنا یا پڑھ کر پانی پر دم کرنا بھی ضروری نہیں چاہے کلمہ پڑھے یا نہ پڑھے ہر حال میں آدمی پاک ہو جاتا ہے بلکہ نہاتے وقت کلمہ یا اور کوئی دعا نہ پڑھنا بہتر ہے اس وقت کچھ نہ پڑھے۔

مسئلہ۔ اگر بدن بھر میں بال برابر بھی کوئی جگہ سوکھی رہ جائے گی تو غسل نہ ہو گا۔ اسی طرح غسل کرتے وقت کلی کرنا بھول گئی یا ناک میں پانی نہیں ڈالا تو بھی غسل نہیں ہوا۔

مسئلہ۔ اگر غسل کے بعد یاد آئے کہ فلانی جگہ سوکھی رہ گئی تھی تو پھر سے نہانا واجب نہیں بلکہ جہاں سوکھا رہ گیا تھا اسی کو دھو لے لیکن فقط ہاتھ پھیر لینا کافی نہیں ہے بلکہ تھوڑا پانی لے کر اس جگہ بہانا چاہیے اور اگر کلی کرنا بھول گئی ہو تو اب کلی کر لے۔ اگر ناک میں پانی ڈالنا ہو تو اب ڈال لے۔ غرضیکہ جو چیز رہ گئی ہو اب اس کو کرے نئے سرے سے غسل کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔

مسئلہ۔ اگر کسی بیماری کی وجہ سے سر پر پانی ڈالنا نقصان کرے اور سر چھوڑ کر سارا بدن دھو لے تب بھی غسل درست ہو گیا۔ لیکن جب اچھی ہو جائے تو اب سر دھو ڈالے پھر سے نہانے کی ضرورت نہیں ہے۔

مسئلہ۔ اگر سر کے بال گندھے ہوئے نہ ہوں تو سب بال بھگونا اور ساری جڑوں میں پانی پہنچانا فرض ہے۔ ایک بال بھی سوکھا رہ گیا یا ایک بال کی جڑ میں پانی نہیں پہنچا تو غسل نہ ہو گا۔ اور اگر بال گندھے ہوئے ہوں تو بالوں کا بھگونا معاف ہے البتہ سب جڑوں میں پانی پہنچانا فرض ہے ایک جڑ بھی سوکھی نہ رہنے پائے۔ اور اگر بے کھولے سب جڑوں میں پانی نہ پہنچ سکے تو کھول ڈالے اور بالوں کو بھی بھگو دے۔

مسئلہ۔ نتھ اور بالیوں اور انگوٹھی چھلوں کو خوب ہلا لے کہ پانی سوراخوں میں پہنچ جائے اور اگر بالیاں نہ پہنے ہو تب بھی قصد کر کے سوراخوں میں پانی ڈال لے۔ ایسا نہ ہو کہ پانی نہ پہنچے اور غسل صحیح نہ ہو۔ البتہ اگر انگوٹھی چھلے ڈھیلے ہوں کہ بے ہلائے پانی پہنچ جائے تو ہلانا واجب نہیں لیکن ہلا لینا اب بھی مستحب ہے۔

مسئلہ۔ اگر ناخن میں آٹا لگ کر سوکھ گیا اور اس کے نیچے پانی نہیں پہنچا تو غسل نہیں ہوا جب یاد آئے اور آٹا دیکھے تو آٹا چھڑا کر پانی ڈال لے۔ اور اگر پانی پہنچانے سے پہلے کوئی نماز پڑھ لی ہو تو اس کو لوٹائے۔

مسئلہ۔ ہاتھ پیر پھٹ گئے اور اس میں موم روغن یا اور کوئی دوا بھر لی تو اس کے اوپر سے پانی بہا لینا درست ہے۔

مسئلہ۔ کان اور ناف میں بھی خیال کر کے پانی پہنچانا چاہیے۔ پانی نہ پہنچے گا تو غسل نہ ہو گا۔

مسئلہ۔ اگر نہاتے وقت کلی نہیں کی لیکن خوب منہ بھر کے پانی پی لیا کہ سارے منہ میں پانی پہنچ گیا تو بھی غسل ہو گیا کیونکہ مطلب تو سارے منہ میں پانی پہنچ جانے سے ہے۔ کلی کرے یا نہ کرے۔ البتہ اگر ایسی طرح پانی پئے کہ سارے منہ بھر میں پانی نہ پہنچے تو یہ پینا کافی نہیں ہے کلی کر لینا چاہیے۔

مسئلہ۔ اگر بالوں میں یا ہاتھ پیروں میں تیل لگا ہوا ہے کہ بدن پر پانی اچھی طرح ٹھیرتا نہیں ہے بلکہ پڑتے ہی ڈھلک جاتا ہے تو اس کا کچھ حرج نہیں۔ جب سارے بدن اور سارے سر پر پانی ڈال لیا غسل ہو گیا۔

مسئلہ۔ اگر دانتوں کے بیچ میں ڈلی کا دھرا پھنس گیا تو اس کو خلال سے نکال ڈالے۔ اگر اس کی وجہ سے دانتوں کے بیچ میں پانی نہ پہنچے گا تو غسل نہ ہو گا۔

مسئلہ۔ ماتھے پر افشاں چنی ہے یا بالوں میں اتنا گوند لگا ہے کہ بال اچھی طرح نہ بھیگیں گے تو گوند خوب چھڑا ڈالے اور افشاں دھو ڈالے اگر گوند کے نیچے پانی نہ پہنچے گا اوپر ہی اوپر سے بہہ جائے گا تو غسل نہ ہو گا۔

مسئلہ۔ اگر مسی کی دھڑی جمائی ہے تو اس کو چھڑا کر کلی کرے نہیں تو غسل نہیں ہو گا۔

مسئلہ۔ کسی کی آنکھیں دکھتی ہیں اس لیے اس کی آنکھوں سے کیچڑ بہت نکلا اور ایسا سوکھ گیا کہ اگر اس کو چھڑائے گی تو اس کے نیچے آنکھ کے کوئے پر پانی نہ پہنچے گا تو اس کا چھڑا ڈالنا واجب ہے بے اس کے چھڑائے نہ وضودرست ہے نہ غسل۔

کس پانی سے وضو کرنا اور نہانا درست ہے اور کسی پانی سے درست نہیں

مسئلہ۔ آسمان سے برسے ہوئے پانی اور ندی نالے چشمے اور کنویں اور تالاب اور دریاؤں کے پانی سے وضو اور غسل کرنا درست ہے چاہے میٹھا پانی ہو یا کھاری ہو۔

مسئلہ۔ کسی پھل یا درخت یا پتوں سے نچوڑے ہوئے عرض سے وضو کرنا درست نہیں۔ اسی طرح جو پانی تربوز سے نکلتا ہے اس سے اور گنے وغیرہ کے رس سے وضو اور غسل درست نہیں ہے۔

مسئلہ۔ جس پانی میں کوئی اور چیز مل گئی یا پانی میں کوئی چیز پکائی گئی اور ایسا ہو گیا کہ اب بول چال میں اس کو پانی نہیں کہتے بلکہ اس کا کچھ اور نام ہو گیا تو اس سے وضو اور غسل جائز نہیں جیسے شراب شیرہ اور شوربا اور سرکہ اور گلاب اور عرق گاؤزبان وغیرہ کہ ان سے وضو درست نہیں ہے۔

مسئلہ۔ جس پانی میں کوئی پاک چیز پڑ گئی اور پانی کے رنگ یا مزے یا بو میں کچھ فرق آ گیا لیکن وہ چیز پانی میں پکائی نہیں گئی نہ پانی کے پتلے ہونے میں کچھ فرق یا جیسے کہ بہتے ہوئے پانی میں کچھ ریت ملی ہوتی ہے یا پانی میں زعفران پڑ گیا اور اس کا بہت خفیف سا رنگ گیا۔ یا صابون پڑ گیا۔ یا اسی طرح کوئی اور چیز پڑ گئی تو ان سب صورتوں میں وضو اور غسل درست ہے۔

مسئلہ۔ اور اگر کوئی چیز پانی میں ڈال کر پکائی گئی اس سے رنگ یا مزہ وغیرہ بدلا تو اس پانی سے ضو درست نہیں۔ البتہ اگر ایسی چیز پکائی گئی جس سے میل کچیل خوب صاف ہو جاتا ہے اور اس کے پکانے سے پانی گاڑھا نہ ہوا ہو تو اس سے وضو درست ہے جیسے مردہ نہلانے کے لیے بیری کی پتیاں پکاتے ہیں تو اس میں کچھ حرج نہیں البتہ اگر اتنی زیادہ ڈال دیں کہ پانی گاڑھا ہو گیا تو اس سے وضو اور غسل درست نہیں۔

مسئلہ۔ کپڑا رنگنے کے لیے زعفران گھولا یا پڑیا گھولی تو اس سے وضو درست نہیں۔

مسئلہ۔ اگر پانی میں دودھ مل گیا تو اگر دودھ کا رنگ اچھی طرح پانی میں گیا تو وضو درست نہیں اور اگر دودھ بہت کم تھا کہ رنگ نہیں آیا تو وضو درست ہے۔

مسئلہ۔ جنگل میں کہیں تھوڑا پانی ملا تو جب تک اس کی نجاست کا یقین نہ ہو جائے تب تک اس سے وضو کرے۔ فقط اس وہم پر وضو نہ چھوڑے کہ شاید یہ نجس ہو اگر اس کے ہوتے ہوئے تیمم کرے گی تو تیمم نہ ہو گا۔

مسئلہ۔ کسی کنوئیں وغیرہ میں درخت کے پتے گر پڑے اور پانی میں بدبو آنے لگی اور رنگ اور مزہ بھی بدل گیا تو بھی اس سے وضو درست ہے جب تک کہ پانی اس طرح پتلا باقی ہے۔

مسئلہ۔ جس پانی میں نجاست پڑ جائے اس سے وضو غسل کچھ درست نہیں۔ چاہے وہ نجاست تھوڑی ہو یا بہت ہو۔ البتہ اگر بہتا ہوا پانی ہو تو وہ نجاست کے پڑنے سے ناپاک نہیں ہوتا جب تک کہ اس کے رنگ یا مزے یا بو میں فرق نہ آئے۔ اور جب نجاست کی وجہ سے رنگ یا مزہ بدل گیا یا بو آنے لگی تو بہتا ہوا پانی بھی نجس ہو جائے گا اس سے وضو درست نہیں۔ اور جو پانی گھاس تنکے پتے وغیرہ کو بہا لے جائے وہ بہتا پانی ہے چاہے کتنا ہی آہستہ آہستہ بہتا ہو۔

مسئلہ۔ بڑا بھاری حوض جو دس ہاتھ لمبا اور دس ہاتھ چوڑا ہو اور اتنا گہرا ہو کہ اگر چلو سے پانی اٹھائیں تو زمین نہ کھلے۔ یہ بھی بہتے ہوئے پانی کی مثل ہے ایسے حوض کو دہ در دہ کہتے ہیں۔ اگر اس میں ایسی نجاست پڑ جائے جو پڑ جانے کے بعد دکھلائی نہیں دیتی جیسے پیشاب خون شراب وغیرہ تو چاروں طرف وضو کرنا درست ہے جدھر چاہے وضو کرے۔ اور اگر ایسی نجاست پڑ جائے جو دکھلائی دیتی ہے جیسے مردہ کتاب تو جدھر پڑا ہو اس طرف وضو نہ کرے۔ اس کے سوا اور جس طرح چاہے کرے۔ البتہ اگر اتنے بڑے حوض میں اتنی نجاست پڑ جائے کہ رنگ یا مزہ بدل جائے یا بدبو آنے لگے تو نجس ہو جائے گا۔

مسئلہ۔ اگر بیس ہاتھ لمبا اور پانچ ہاتھ چوڑا یا پچیس ہاتھ لمبا اور چار ہاتھ چوڑا ہو وہ حوض بھی دہ در دہ کے مثل ہے۔

مسئلہ۔ چھت پر نجاست پڑی ہے اور پانی برسا اور پرنالہ چلا تو اگر آدھی یا آدھی سے زیادہ چھت ناپاک ہے تو وہ پانی نجس ہے اور اگر چھت آدھی سے کم ناپاک ہے تو وہ پانی پاک ہے اور اگر نجاست پرنالے کے پاس ہی ہو اور اتنی ہو کہ سب پانی اس سے مل کر آتا ہے تو وہ پانی نجس ہے۔

مسئلہ۔ اگر پانی آہستہ آہستہ بہتا ہو تو بہت جلدی جلدی وضو نہ کرے تاکہ جو دھوون گرتا ہے وہی ہاتھ میں نہ آ جائے۔

مسئلہ۔ دہ در دہ حوض میں جہاں پر دھوون گرا ہے اگر وہیں سے پھر پانی اٹھا لے تو بھی جائز ہے۔

مسئلہ۔ اگر کوئی کافر یا لڑکا بچہ اپنا ہاتھ پانی میں ڈال دے تو پانی نجس نہیں ہوتا۔ البتہ اگر معلوم ہو جائے کہ اس کے ہاتھ میں نجاست لگی تھی تو ناپاک ہو جائے گا۔ لیکن چونکہ چھوٹے بچوں کا کچھ اعتبار نہیں اس لیے جب تک کوئی اور پانی ملے اس کے ہاتھ ڈالے ہوئے پانی سے وضو نہ کرنا بہتر ہے۔

مسئلہ۔ جس پانی میں ایسی جاندار چیز مر جائے جس کے بہتا ہوا خون نہیں ہوتا یا باہر مر کر پانی میں گر پڑے تو پانی نجس نہیں ہوتا جیسے مچھر مکھی بھڑ تتیا بچھو شہد کی مکھی یا اسی قسم کی اور جو چیز ہو۔

مسئلہ۔ جس کی پیدائش پانی کی ہو اور ہر دم پانی ہی میں رہا کرتی ہو اس کے مرجانے سے پانی خراب نہیں ہوتا پاک رہتا ہے جیسے مچھلی مینڈک کچھوا کیکڑا وغیرہ۔ اور اگر پانی کے سوا اور کسی چیز میں مر جائے جیسے سرکہ شیرہ دودھ وغیرہ تو وہ بھی ناپاک نہیں ہوتا اور خشکی کا مینڈک اور پانی کا مینڈک دونوں کا ایک حکم ہے یعنی نہ اس کے مرنے سے پانی نجس ہوتا ہے نہ اس کے مرنے سے۔ لیکن اگر خشکی کے کسی مینڈک میں خون ہوتا ہو تو اس کے مرنے سے پانی وغیرہ جو چیز ہو ناپاک ہو جائے گی۔

فائدہ دریائی مینڈک کی پہچان یہ ہے کہ اس کی انگلیوں کے بیچ میں جالی لگی ہوتی ہے۔ اور خشکی کے مینڈک کی انگلیاں الگ الگ ہوتی ہیں۔

مسئلہ۔ جو چیز پانی میں رہتی ہو لیکن اس کی پیدائش پانی کی نہ ہو اس کے مر جانے سے پانی خراب و نجس ہو جاتا ہے جیسے بطخ اور مرغابی۔ اسی طرح الگ مر کر پانی میں گر پڑے تو بھی نجس ہو جاتا ہے۔

مسئلہ۔ مینڈک کچھوا وغیرہ اگر پانی میں مر کر بالکل گل جائے اور ریزہ ریزہ ہو کر پانی میں مل جائے تو بھی پانی پاک ہے لیکن اس کا پینا اور اس سے کھانا پکانا درست نہیں البتہ وضو اور غسل اس سے کر سکتے ہیں۔

مسئلہ۔ دھوپ کے جلے ہوئے پانی سے سفید داغ ہو جانے کا ڈر ہے اس لیے اس سے وضو غسل نہ کرنا چاہیے۔

مسئلہ۔ مردار کی کھال کو جب ڈھول میں سکھا ڈالیں یا کچھ دوا وغیرہ لگا کر درست کر لیں کہ پانی مر جاوے اور رکھنے سے خراب نہ ہو تو پاک ہو جاتی ہے اس پر نماز پڑھنا درست ہے۔ اور مشک وغیرہ بنا کر اس میں پانی رکھنا بھی درست ہے۔ لیکن سور کی کھال پاک نہیں ہوتی اور سب کالیں پاک ہو جاتی ہیں مگر آدمی کی کھال سے کوئی کام لینا اور برتنا بہت گناہ ہے۔

مسئلہ۔ کتا بندر بلی شیر وغیرہ جن کی کھال بنانے سے پاک ہو جاتی ہے بسم اللہ کہہ کر ذبح کرنے سے بھی کھال پاک ہو جاتی ہے چاہے بنائی ہو یا بے بنائی ہو۔ البتہ ذبح کرنے سے ان کا گوشت پاک نہیں ہوتا اور ان کا کھانا درست نہیں۔

مسئلہ۔ مردار کے بال اور سنگن اور ہڈی اور دانت یہ سب چیزیں پاک ہیں اگر پانی میں پڑ جائیں تو نجس نہ ہو گا۔ البتہ اگر ہڈی اور دانت وغیرہ پر اس مردار جانور کی کچھ چکنائی وغیرہ لگی ہو تو وہ نجس ہے اور پانی بھی نجس ہو جائے گا۔

مسئلہ آدمی کی بھی ہڈی اور بال پاک ہیں لیکن ان کو برتنا اور کام میں لانا جائز نہیں بلکہ عزت سے کسی جگہ گاڑ دینا چاہیے۔

معذور کے احکام

مسئلہ۔ جس کو ایسی نکسیر پھوٹی ہو کہ کسی طرح بند نہیں ہوتی یا کوئی ایسا زخم ہے کہ برابر بہتا رہتا ہے کوئی ساعت بہنا بند نہیں ہوتا۔ یا پیشاب کی بیماری ہے کہ ہر وقت قطرہ آتا رہتا ہے اتنا وقت نہیں ملتا کہ طہارت سے نماز پڑھ سکے تو ایسے شخص کو معذور کہتے ہیں۔ اس کا حکم یہ ہے کہ ہر نماز کے وقت وضو کر لیا کرے جب تک وہ وقت رہے گا تب تک اس کا وضو باقی رہے گا۔ البتہ جس بیماری میں مبتلا ہے اس کے سوا اگر کوئی اور بات ایسی پائی جائے جس سے وضو ٹوٹ جاتا ہے تو وضو جاتا رہے گا اور پھر سے کرنا پڑے گا۔ اس کی مثال یہ ہے کہ کسی کو ایسی نکسیر پھوٹی کہ کسی طرح بند نہیں ہوتی اس نے ظہر کے وقت وضو کر لیا تو جب تک ظہر کا وقت رہے گا نکسیر کے خون کی وجہ سے اس کا وضو نہ ٹوٹے گا۔ البتہ اگر پاخانہ پیشاب آ گیا یا سوئی چبھ گئی اس سے خون نکل پڑا تو وضو جاتا رہا پھر وضو کرے۔ جب یہ وقت چلا گیا دوسری نماز کا وقت آ گیا تو اب دوسرے وقت دوسرا وضو کرنا چاہیے۔ اسی طرح ہر نماز کے وقت وضو کر لیا کرے اور اس وضو سے فرض نفل جو نماز چاہے پڑھے۔

مسئلہ۔ اگر فجر کے وقت وضو کیا تو آفتاب نکلنے کے بعد اس وضو سے نماز نہیں پڑھ سکتی دوسرا وضو کرنا چاہیے اور جب آیت نکلنے کے بعد وضو کیا تو اس وضو سے ظہر کی نماز پڑھنا درست ہے۔ ظہر کے وقت نیا وضو کرنے کی ضرورت نہیں ہے جب عصر کا وقت آئے گا تب نیا وضو کرنا پڑے گا۔ ہاں اگر کسی اور وجہ سے ٹوٹ جائے تو یہ اور بات ہے۔

مسئلہ۔ کسی کے ایسا زخم تھا کہ ہر دم بہا کرتا تھا۔ اس نے وضو کیا۔ پھر دوسرا زخم پیدا ہو گیا اوربہنے لگا تو وضو ٹوٹ گیا پھر سے وضو کرے۔

مسئلہ۔ آدمی معذور جب بنتا ہے اور یہ حکم اس وقت لگاتے ہیں کہ پورا ایک وقت اسی طرح گزر جائے کہ خون برابر بہا کرے اور اتنا بھی وقت نہ ملے کہ اس وقت کی نماز طہارت سے پڑھ سکے۔ اگر اتنا وقت مل گیا کہ اس میں طہارت سے نماز پڑھ سکتی ہے تو اس کو معذور نہ کہیں گے۔ اور جو حکم ابھی بیان ہوا ہے اس پر نہ لگائیں گے۔ البتہ جب پورا ایک وقت اسی طرح گزر گیا کہ اس کو طہارت سے نماز پڑھنے کا موقع نہیں ملا یہ معذور ہو گئی۔ اب اس کا وہی حکم ہے کہ ہر وقت نیا وضو کر لیا کرے۔ جب دوسرا وقت آئے تو اس میں ہر وقت خون کا بہنا شرط نہیں ہے بلکہ وقت بھر میں اگر ایک دفعہ بھی خون آ جایا کرے اور سارے وقت بند رہے تو بھی معذور باقی رہے گی۔ ہاں اگر اس کے بعد ایک پورا وقت ایسا گزر جائے جس میں خون بالکل نہ آئے تو اب معذور نہیں رہی اب اس کا حکم یہ ہے کہ جس دفعہ خون نکلے گا وضو ٹوٹ جائے گا۔ خوب اچھی طرح سمجھ لو۔

مسئلہ۔ ظہر کا وقت کچھ ہو لیا تھا تب زخم وغیرہ کا خون بہنا شروع ہوا تو اخیر وقت تک انتظار کرے اگر بند ہو جائے تو خیر، نہیں تو وضو کر کے نماز پڑھ لے۔ پھر اگر عصر کے پورے وقت میں اسی طرح بہا کہ نماز پڑھنے کی مہلت نہیں ملی تو اب عصر کا وقت گزرنے کے بعد معذور ہونے کا حکم لگا دیں گے۔ اور اگر عصر کے وقت کے اندر ہی اندر بند ہو گیا تو وہ معذور نہیں ہے جو نمازیں اتنے وقت میں پڑھی ہیں وہ درست نہیں ہوئیں۔ پھر سے پڑھے۔

مسئلہ۔ ایسی معذور نے پیشاب پاخانہ کی وجہ سے وضو کیا اور جس وقت وضو کیا تھا اس وقت خون بند تھا۔ جب وضو کر چکی تب خون آیا تو اس خون نکلنے سے وضو ٹوٹ جائے گا۔ البتہ جو وضو نکسیر وغیرہ کے سبب کیا ہے خاص وہ وضو نکسیر کی وجہ سے نہیں ٹوٹا۔

مسئلہ۔ اگر یہ خون کپڑے وغیرہ میں لگ جائے تو دیکھو اگر ایسا ہو کہ نماز ختم کرنے سے پہلے ہی پھر لگ جائے گا تو اس کا دھونا واجب نہیں ہے اور اگر یہ معلوم ہو کہ اتنی جلدی نہ بھرے گا نماز طہارت سے ادا ہو جائے گی تو دھو ڈالنا واجب ہے۔ اگر ایک روپے سے بڑھ جائے تو بے دھوئے ہوئے نماز نہ ہو گی۔

وضو کے توڑنے والی چیزوں کا بیان

مسئلہ۔ پاخانہ پیشاب اور ہوا جو پیچھے سے نکلے اس سے وضو ٹوٹ جاتا ہے البتہ اگر آگے کی راہ سے ہوا نکلے جیسا کہ کبھی بیماری سے ایسا ہو جاتا ہے تو اس سے وضو نہیں ٹوٹا اور اگر آگے یا پیچھے سے کوئی کیڑا جیسے کینچوا یا کنکری وغیرہ نکلے تو بھی وضو ٹوٹ گیا۔

مسئلہ۔ اگر کسی کے کوئی زخم ہوا اس میں سے کیڑا نکلے یا کان سے نکلا یا زخم میں سے کچھ گوشت کٹ کے گر پڑا اور خون نہیں نکلا تو اس سے وضو نہیں ٹوٹا۔

مسئلہ۔ اگر کسی نے فصد لی یا نکسرت پھوٹی یا چوٹ لگی اور خون نکل آیا۔ یا پھوڑے پھنسی سے یا بدن بھر میں اور کہیں سے خون نکلا یا پیپ نکلی تو وضو جاتا رہا۔ البتہ اگر زخم کے منہ ہی پر رہے زخم کے منہ سے آگے نہ بڑھے تو وضو نہیں گیا۔ تو اگر کسی کے سوئی چبھ گئی اور خون نکل آیا لیکن بہا نہیں ہے تو وضو نہیں ٹوٹا۔ اور جو ذرا بھی بہہ پڑا ہو تو وضو ٹوٹ گیا۔

مسئلہ۔ اگر کسی نے ناک سنکی اور اس میں جمے ہوئے خون کی پھٹکیاں نکلیں تو وضو نہیں گیا۔ وضو جب ٹوٹتا ہے کہ پتلا خون نکلے اور بہ پڑے۔ سو اگر کسی نے اپنی ناک میں انگلی ڈالی پھر اس کو نکالا تو انگلی میں خون کا دھبہ معلوم ہوا لیکن وہ خون بس اتنا ہی ہے کہ انگلی میں تو ذرا سا لگ جاتا ہے لیکن بہتا نہیں تو اس سے وضو نہیں ٹوٹتا۔

مسئلہ۔ کسی کی آنکھ کے اندر کوئی دانہ وغیرہ تھا وہ ٹوٹ گیا۔ یا خود اس نے توڑ دیا اور اس کا پانی بہہ کر آنکھ میں تو پھیل گیا لیکن آنکھ سے باہر نہیں نکلا تو اس کا وضو نہیں ٹوٹا اور اگر آنکھ کے باہر پانی نکل پڑا تو وضو ٹوٹ گیا۔ اسی طرح اگر کان کے اندر دانہ ہو اور ٹوٹ جائے تو جب تک خون پیپ سوراخ کے اندر اس جگہ تک رہے جہاں پانی پہنچانا غسل کرتے وقت فرض نہیں ہے تب تک وضو نہیں جاتا۔ اور جب ایسی جگہ پر جائے جہاں پانی پہنچانا فرض ہے تو وضو ٹوٹ جائے گا۔

مسئلہ۔ کسی نے اپنے پھوڑے یا چھالے کے اوپر کا چھلکا نوچ ڈالا اور اس کے نیچے خون یا پیپ دکھائی دینے لگا لیکن وہ خون پیپ اپنی جگہ پر ٹھہرا ہے کسی طرف نکل کے بہا نہیں تو وضو نہیں ٹوٹا اور جو بہہ پڑا تو وضو ٹوٹ گیا۔

مسئلہ۔ کسی کے پھوڑے میں بڑا گہرا گھاؤ ہو گیا تو جب تک خون پیپ اس گھاؤ کے سوراخ کے اندر ہی اندر ہے باہر نکل کر بدن پر نہ آوے اس وقت تک وضو نہیں ٹوٹتا۔

مسئلہ۔ اگر پھوڑے پھنسی کا خون آپ سے نہیں نکلا بلکہ اس نے دبا کے نکالا ہے تب بھی وضو ٹوٹ جائے گا جبکہ وہ خون بہ جائے۔

مسئلہ۔ کسی کے زخم سے ذرا ذرا خون نکلنے لگا اس نے اس پر مٹی ڈال دی یا کپڑے سے پونچھ لیا۔ پھر ذرا سا نکالا پھر اس نے پونچھ ڈالا۔ اس طرح کئی دفعہ کیا کہ خون بہنے نہ پایا تو دل میں سوچے اگر ایسا معلوم ہو کہ اگر پونچھا نہ جاتا تو بہہ پڑتا تو وضو ٹوٹ جائے گا۔ اور اگر ایسا ہو کہ پونچھا نہ جاتا تب بھی نہ بہتا تو وضو نہ ٹوٹے گا۔

مسئلہ۔ کسی کے تھوک میں خون معلوم ہوا تو اگر تھوک میں خون بہت کم ہے اور تھوک کا رنگ سفیدی یا زردی مائل ہے تو وضو نہیں گیا اور اگر خون زیادہ یا برابر ہے اور رنگ سرخی مائل ہے تو وضو ٹوٹ گیا۔

مسئلہ۔ اگر دانت سے کوئی چیز کاٹی اور اس چیز پر خون کا دھبہ معلوم ہوا یا دانت میں خلال کیا اور خلال میں خون کی سرخی دکھائی دی لیکن تھوک میں بالکل خون کا رنگ معلوم نہیںہوتا تو وضو نہیں ٹوٹا۔

مسئلہ۔ کسی نے جونک لگوائی اور جونک میں اتنا خون بھر گیا کہ اگر بیچ سے کاٹ دو تو خون بہ پڑے تو وضو جاتا رہا اور جو اتنا نہ پیا ہو بلکہ بہت کم پیا ہو تو وضو نہیں ٹوٹا۔ اور اگر مچھر یا مکھی یا کھٹمل نے خون پیا تو وضو نہیں ٹوٹا۔

مسئلہ۔ کسی کے کان میں درد ہوتا ہے اور پانی نکلا کرتا ہے تو یہ پانی جو کان سے بہتا ہے نجس ہے اگرچہ کچھ پھوڑا یا پھنسی نہ معلوم ہوتی ہو۔ پس اس کے نکلنے سے وضو ٹوٹ جائے گا جب کان کے سوراخ سے نکل کر اس جگہ تک جائے جس کا دھونا غسل کرتے وقت فرض ہے۔ اسی طرح اگر ناف سے پانی نکلے اور درد بھی ہوتا ہو تو اس سے بھی وضو ٹوٹ جائے گا۔ ایسے ہی اگر آنکھیں دکھتی ہوں اور کھٹکھتی ہوں تو پانی بہنے اور آنسو نکلنے سے وضو ٹوٹ جاتا ہے۔ اور اگر آنکھیں نہ دکھتی ہوں نہ اس میں کچھ کھٹک ہو تو آنسو نکلنے سے وضو نہیں ٹوٹتا۔

مسئلہ۔ اگر چھاتی سے پانی نکلتا ہے اور درد بھی ہوتا ہے۔ تو وہ بھی نجس ہے اس سے وضو جاتا رہے گا اور اگر درد نہیں ہے تو نجس نہیں ہے اور اس سے وضو بھی نہیں ٹوٹے گا۔

مسئلہ۔ اگر قے ہوئی اور اس میں کھانا یا پانی یا پت گرے تو اگر منہ بھر قے ہوئی ہو تو وضو ٹوٹ گیا اور منہ بھر قے نہیں ہوئی تو وضو نہیں ٹوٹا۔ اور منہ بھر ہونے کا یہ مطلب ہے کہ مشکل سے منہ میں رکے اور اگر قے میں نرا بلغم گرا تو وضو نہیں گیا چاہے جتنا ہو۔ منہ بھر ہو چاہے نہ ہو سب کا ایک حکم ہے۔ اور اگر قے میں خون گرے تو اگر پتلا اور بہتا ہوا ہو تو وضو ٹوٹ جائے گا چاہے کم ہو چاہے زیادہ۔ منہ بھر ہو یا نہ ہو۔ اور اگر جما ہوا ٹکڑے ٹکڑے گرے اور منہ بھر ہو تو وضو ٹوٹ جائے گا اوار اگر کم ہو تو وضو ہو جائے گا۔

مسئلہ۔ اگر تھوڑی تھوڑی کر کے کئی دفعہ قے ہوئی لیکن سب ملا کر اتنی ہے کہ اگر ایک دفعہ گرتی تو منہ بھر ہو جاتی تو اگر ایک ہی متلی برابر باقی رہی اور تھوڑی تھوڑی قے ہوتی رہی تو وضو ٹوٹ گیا۔ اور اگر ایک ہی متلی برابر نہیں رہی بلکہ پہلی دفعہ کی متلی جاتی رہی تھی اور جی اچھا ہو گیا تھا پھر دہرا کر متلی شروع ہوئی اور تھوڑی قے ہو گئی۔ پھر جب یہ متلی جاتی رہی تو تیسری دفعہ پھر متلی شروع ہو کر قے ہوئی تو وضو نہیں ٹوٹا۔

مسئلہ۔ لیٹے لیٹے آنکھ لگ گئی یا کسی چیز سے ٹیک لگا کر بیٹھے بیٹھے سو گئی اور ایسی غفلت ہو گئی کہ اگر وہ ٹیک نہ ہوتی تو گر پڑتی تو وضو جاتا رہا۔ اور اگر نماز میں بیٹھے بیٹھے یا کھڑے کھڑے سو جائے تو وضو نہیں گیا۔ اور اگر سجدے میں سو جائے تو وضو ٹوٹ جائے گا۔

مسئلہ۔ اگر نماز سے باہر بیٹھے بیٹھے سوئے اور اپنا چوتڑ ایڑی سے دبا لیے اور دیوار وغیرہ کسی چیز سے ٹیک بھی نہ لگائے تو وضو نہیں ٹوٹتا۔

مسئلہ۔ بیٹھے ہوئے نیند کا ایسا جھونکا آیا کہ گر پڑی تو اگر گر کے فورا ہی آنکھ کھل گئی ہو تو وضو نہیں گیا۔ اور جو گرنے کے ذرا بعد آنکھ کھلی ہو تو وضو جاتا رہا۔ اور اگر بیٹھی جھومتی رہی گری نہیں تب بھی وضو نہیں گیا۔

مسئلہ۔ اگر بیہوشی ہو گئی یا جنون سے عقل جاتی رہی تو وضو جاتا رہا۔ چاہے بیہوشی اور جنون تھوڑی ہی دیر رہا ہو۔ ایسے ہی اگر تمباکو وغیرہ کوئی نشہ کی چیز کھا لی اور اتنا نشہ ہو گیا کہ اچھی طرح چلا نہیں جاتا اور قدم ادھر ادھر بہکتا اور ڈگمگاتا ہے تو بھی وضو جاتا رہا۔

مسئلہ۔ اگر نماز میں اتنے زور سے ہنسی نکل گئی کہ اس نے آپ بھی آواز سن لی اور اس کے پاس والیوں نے بھی سب نے سن لی جیسے کھل کھلا کر ہنسنے میں سب پاس والیاں سن لیتی ہیں اس سے بھی وضو ٹوٹ گیا اور نماز بھی ٹوٹ گئی اور اگر ایسا ہوا کہ اپنے کو تو آواز سنائی دے مگر سب پاس والیاں نہ سن سکیں اگرچہ بہت ہی پاس والی سن لے اس سے نماز ٹوٹ جائے گی۔ وضو نہ ٹوٹے گا۔ اور اگر ہنسی میں فقط دانت کھل گئے آواز بالکل نہیں نکلی تو وضو ٹوٹا نہ نماز گئی۔ البتہ اگر چھوٹی لڑکی جو ابھی جوان نہ ہوئی ہو زور سے نماز میں ہنسے یا سجدہ تلاوت میں بڑی عورت کو ہنسی آئے تو وضو نہیں جاتا۔ ہاں وہ سجدہ اور نماز جاتی رہے گی جس میں ہنسی آ ئی۔

مسئلہ۔ وضو کے بعد ناخن کٹائے یا زخم کے اوپر کی مردار کھال نوچ ڈالی تو وضو میں کوئی نقصان نہیں آیا نہ تو وضو کے دہرانے کی ضرورت ہے اور نہ اتنی جگہ کے پھر تر کرنے کا حکم ہے۔

مسئلہ۔ وضو کے بعد کسی کا ستر دیکھ لیا یا اپنا ستر کھل گیا۔ یا ننگی ہو کر نہائی اور ننگے ہی وضو کار تو اس کا وضو درست ہے پھر وضو دہرانے کی ضرورت نہیں ہے۔ البتہ بدون لاچاری کے کسی کا ستر دیکھنا یا اپنا دکھلانا گناہ کی بات ہے۔

مسئلہ۔ جس چیز کے نکلنے سے وضو ٹوٹ جاتا ہے و ہ چیز نجس ہوتی ہے اور جس سے وضو نہیں ٹوٹا وہ نجس بھی نہیں تو اگر ذرا سا خون نکلا کہ زخم کے منہ سے بہا نہیں آیا ذرا سی قے ہوئی منہ بھر نہیں ہوئی اور اس میں کھانا یا پانی یا پت یا جما ہوا خون نکلا تو خون زخم سے بہہ گیا تو وہ نجس ہے اس کا دھونا واجب ہے اور اگر اتنی قے کر کے کٹورے یا لوٹے کو منہ لگا کر کے کلی کے واسطے پانی لیا تو برتن ناپاک ہو جائے گا اس لیے چلو سے پانی لینا چاہیے۔

مسئلہ۔ چھوٹا لڑکا جو دودھ ڈالتا ہے اس کا بھی یہی حکم ہے کہ اگر منہ بھر نہ ہو تو نجس نہیں ہے اور جب منہ بھر ہو تو نجس ہے۔ اگر بے اس کے دھوئے نماز پڑھے گی تو نماز نہ ہو گی۔

مسئلہ۔ اگر وضو کرنا تو یاد ہے اور اس کے بعد وضو ٹوٹنا اچھی طرح یاد نہیں کہ ٹوٹا ہے یا نہیں تو اس کا وضو باقی سمجھا جائے گا۔ اسی سے نماز درست ہے لیکن وضو پھر کر لینا بہتر ہے۔

مسئلہ۔ جس کو وضو کرنے میں شک ہوا کہ فلانا عضو دھویا یا نہیں تو وہ عضو پھر دھو لینا چاہیے اور اگر وضو کر چکنے کے بعد شک ہوا تو کچھ پروا نہ کرے وضو ہو گیا۔ البتہ اگر یقین ہو جائے کہ فلانی بات رہ گئی ہو تو اس کو کر لے۔

مسئلہ۔ بے وضو قرآن مجید کا چھونا درست نہیں ہے ہاں اگر ایسے کپڑے سے چھولے جو بدن سے جدا ہو تو درست ہے۔ دوپٹہ یا کرتے کے دامن سے جبکہ اس کو پہنے اوڑھے ہوئے ہو چھونا درست نہیں۔ ہاں اگر اترا ہوا ہو تو اس سے چھونا درست ہے۔ اور زبانی پڑھنا درست ہے اور اگر کلام مجید کھلا ہوا رکھا ہے اور اس کو دیکھ دیکھ کر پڑھا لیکن ہاتھ نہیں لگایا یہ بھی درست ہے۔ اسی طرح بے وضو ایسے تعویذ اور ایسی تشتری کا چھونا بھی درست نہیں ہے جس میں قرآن کی آیت لکھی ہو خوب یاد رکھو۔

وضوکےمسائل

مسئلہ۔ پہلے گٹوں تک دونوں ہاتھ دھونا اور بسم اللہ کہنا اور کلی کرنا۔ اور ناک میں پانی ڈالنا۔ مسواک کرنا۔ سارے سر کا مسح کرنا۔ ہر عضو کو تین تین مرتبہ دھونا۔ کانوں کا مسح کرنا۔ ہاتھ اور پیروں کی انگلیوں کا خلال کرنا۔ یہ سب باتیں سنت ہیں اور اس کے سوا جو اور باتیں ہیں وہ سب مستحب ہیں۔

مسئلہ۔ جب یہ چار عضو جن کا دھونا فرض ہے دھل جائیں تو وضو ہو جائے گا چاہے وضو کا قصد ہو یا نہ ہو جیسے کوئی نہاتے وقت سارے بدن پر پانی بہا لے اور وضو نہ کرے یا حوض میں گر پڑے یا پانی برسنے میں باہر کھڑا ہو جائے اور وضو کے یہ اعضاء دھل جائیں۔ تو وضو ہو جائے گا لیکن ثواب وضو کا نہ ملے گا۔

مسئلہ۔ سنت یہی ہے کہ اسی طرح سے وضو کرے جس طرح ہم نے اوپر بیان کیا ہے۔ اور اگر کوئی الٹا وضو کر لے کہ پہلے پاؤں دھو ڈالے پھر مسح کرے پھر دونوں ہاتھ دھوئے پھر منہ دھو ڈالے یا اور کسی طرح الٹ پلٹ کر وضو کرے تو بھی وضو ہو جاتا ہے لیکن سنت کے موافق وضو نہیں ہوتا اور گناہ کا خوف ہے۔

مسئلہ۔ اسی طرح اگر بایاں ہاتھ بایاں پاؤں پہلے دھویا تب بھی وضو ہو گیا لیکن مستحب کے خلاف ہے۔

مسئلہ۔ ایک عضو کو دھو کر دوسرے عضو کے دھونے میں اتنی دیر نہ لگائے کہ پہلا عضو سوکھ جائے بلکہ اس کے سوکھنے سے پہلے دوسرا عضو دھو ڈالے۔ اگر پہلا عضو سوکھ گیا تب دوسرا عضو دھویا تو وضو ہو جائے گا لیکن یہ بات سنت کے خلاف ہے۔

مسئلہ۔ ہر عضو کے دھوتے وقت یہ بھی سنت ہے کہ اس پر ہاتھ بھی پھیر لے تاکہ کوئی جگہ سوکھی نہ رہے سب جگہ پانی پہنچ جائے۔

مسئلہ۔ وقت آنے سے پہلے ہی وضو نماز کا سامان اور تیاری کرنا بہتر اور مستحب ہے۔

مسئلہ۔ جب تک کوئی مجبوری نہ ہو خود اپنے ہاتھ سے وضو کرے کسی اور سے پانی نہ ڈلوائے اور وضو کرنے میں دنیا کی کوئی بات چیت نہ کرے بلکہ ہر عضو کے دھوتے وقت بسم اللہ اور کلمہ پڑھا کرے اور پانی کتنا ہی فراغت کا کیوں نہ ہو چاہے دریا کے کنارے پر ہو لیکن تب بھی پانی ضرورت سے زیادہ خرچ نہ کرے اور نہ پانی میں بہت کمی کرے کہ اچھی طرح دھونے میں دقت ہو۔ نہ کسی عضو کو تین مرتبہ سے زیادہ دھوئے اور منہ دھوتے وقت پانی کا چھینٹا زور سے منہ پر نہ مارے۔ نہ پھنکار مار کر چھینٹیں اڑائے اور اپنے منہ اور آنکھوں کو بہت زور سے نہ بند کرے کہ یہ سب باتیں مکروہ اور منع ہیں اگر آنکھ یا منہ زور سے بند کیا اور پلک یا ہونٹ پر کچھ سوکھا رہ گیا یا آنکھ کے کوئے میں پانی نہیں پہنچا تو وضو نہیں ہوا۔

مسئلہ۔ انگوٹھی چھلے چوڑی کنگن وغیرہ اگر ڈھیلے ہوں کہ بے ہلائے بھی ان کے نیچے پانی پہنچ جائے تب بھی ان کا ہلالینا مستحب ہے۔ اور اگر ایسے تنگ ہوں کہ بغیر ہلائے پانی نہ پہنچنے کا گمان ہو تو ان کو ہلا کر اچھی طرح پانی پہنچا دینا ضروری اور واجب ہے۔ نتھ کا بھی یہی حکم ہے کہ اگر سوراخ ڈھیلا ہے اس وقت تو ہلانا مستحب ہے اور جب تنگ ہو کہ بے پھرائے اور ہلائے پانی نہ پہنچے گا تو منہ دھوتے وقت گھما کر اور ہلا کر پانی اندر پہنچانا واجب ہے۔

مسئلہ۔ اگر کسی کے ناخن میں آٹا لگ کر سوکھ گیا اور اس کے نیچے پانی نہیں پہنچا تو وضو نہیں ہوا۔ جب یاد آئے اور آٹا دیکھے تو چھڑا کر پانی ڈال لے اور اگر پانی پہنچانے سے پہلے کوئی نماز پڑھ لی ہو تو اس کو لوٹا دے اور پھر سے پڑھے۔

مسئلہ۔ کسی کے ماتھے پر افشاں چنی ہو اور اوپر اوپر سے پانی بہا لیوے کہ افشاں نہ چھوٹنے پائے تو وضو نہیں ہوتا۔ ماتھے کا سب گند چھڑا کر منہ دھونا چاہیے۔

مسئلہ۔ جب وضو کر چکے تو سورہ انا انزلنا اور یہ دعا پڑھے۔

اے اللہ کر دے مجھ کو توبہ کرنے والوں میں سے اور کر دے مجھ کو گناہوں سے پاک ہونے والے لوگوں میں سے اور کر دے مجھ کو اپنے نیک بندوں میں سے اور کر دے مجھ کو ان لوگوں میں سے کہ جن کو دونوں جہانوں میں کچھ خوف نہیں۔ اور نہ وہ آخرت میں غمگین ہوں گے۔

مسئلہ۔ جب وضو کر چکے تو بہتر ہے کہ دو رکعت نماز پڑھے۔ اس نماز کو جو وضو کے بعد پڑھی جاتی ہے تحیۃ الوضو کہتے ہیں۔ حدیث شریف میں اس کا بڑا ثواب آیا ہے۔

مسئلہ۔ اگر ایک وقت وضو کیا تھا پھر دوسرا وقت آ گیا اور ابھی وضو ٹوٹا نہیں ہے تو اسی وضو سے نماز پڑھنا جائز ہے۔ اور اگر دوبارہ وضو کرے تو بہت ثواب ملتا ہے۔

مسئلہ۔ جب ایک دفعہ وضو کر لیا اور ابھی وہ ٹوٹا نہیں تو جب تک اس وضو سے کوئی عبادت نہ کرلے اس وقت تک دوسرا وضو کرنا مکروہ اور منع ہے۔ تو اگر نہاتے وقت کسی نے وضو کیا ہے تو اسی وضو سے نماز پڑھنا چاہیے۔ بغیر اس کے ٹوٹے دوسرا وضو کرے ہاں اگر کم سے کم دو ہی رکعت نماز وضو سے پڑھ چکی ہو تو دوسرا وضو کرنے میں کچھ حرج نہیں بلکہ ثواب ہے۔

مسئلہ۔ کسی کے ہاتھ یا پاؤں پھٹ گئے اور اس میں موم روغن یا اور کوئی دوا بھر لی اور اس کے نکالنے سے ضرر ہو گا تو اگر بے اس کے نکالے اوپر ہی اوپر پانی بہا دیا تو وضو درست ہے۔

مسئلہ۔ وضو کرتے وقت ایڑی یا کسی اور جگہ پانی نہیں پہنچا اور جب پورا وضو ہو چکا تب معلوم ہوا کہ فلانی جگہ سوکھی ہے تو وہاں پر فقط ہاتھ پھیر لینا کافی نہیں ہے بلکہ پانی بہانا چاہیے۔

مسئلہ۔ اگر ہاتھ پاؤں وغیرہ میں کوئی پھوڑا ہے یا کوئی اور ایسی بیماری ہے کہ اس پر پانی ڈالنے سے نقصان ہوتا ہے تو پانی نہ ڈالے۔ وضو کرتے وقت صرف بھیگا ہاتھ پھیر لیوے اس کو مسح کہتے ہیں۔ اور اگر یہ بھی نقصان کرے تو ہاتھ بھی نہ پھیرے اتنی جگہ چھوڑ دے۔ مسئلہ۔ اگر زخم پر پٹی بندھی ہو اور پٹی کھول کر زخم پر مسح کرنے سے نقصان ہو۔ یا پٹی کھولنے باندھنے میں بڑی دقت اور تکلیف ہو تو پٹی کے اوپر مسح کر لینا درست ہے اور اگر ایسا نہ ہو تو پٹی پر مسح کرنا درست نہیں پٹی کھول کر زخم پر مسح کرنا چاہیے۔

مسئلہ۔ اگر پوری پٹی کے نیچے زخم نہیں ہے تو اگر پٹی کھول کر زخم کو چھوڑ کر اور سب جگہ دھو سکے تو دھونا چاہیے۔ اور اگر پٹی نہ کھول سکے تو ساری پٹی پر مسح کر لے جہاں زخم ہے وہاں بھی اور جہاں زخم نہیں ہے وہاں بھی۔

مسئلہ۔ ہڈی کے ٹوٹ جانے کے وقت بانس کی کھپچیاں رکھ کے ٹکھٹی بنا کر باندھتے ہیں اس کا بھی یہی حکم ہے کہ جب تک ٹکھٹی نہ کھول سکے ٹکھٹی کے اوپر ہاتھ پھیر لیا کرے۔ اور فصد کی پٹی کا بھی یہی حکم ہے اگر زخم کے اوپر مسح نہ کر سکے تو پٹی کھول کر کپڑے کی گدی پر مسح کرے اور اگر کوئی کھولنے باندھنے والا نہ ملے تو پٹی ہی پر مسح کر لے۔

مسئلہ۔ ٹکھٹی اور پٹی وغیرہ میں بہتر تو یہ ہے کہ ساری ٹکھٹی پر مسح کرے اور اگر ساری پر نہ کرے بلکہ آدھی سے زائد پر کرے تو بھی جائز ہے اگر فقط آدھی یا آدھی سے کم پر کرے تو جائز نہیں۔

مسئلہ۔ اگر ٹکھٹی یا پٹی کھل کر گر پڑے اور زخم ابھی اچھا نہیں ہوا تو پھر باندھ لے اور وہی پہلا مسح باقی ہے پھر مسح کرنے کی ضرورت نہیں ہے اور اگر زخم اچھا ہو گیا کہ اب باندھنے کی ضرورت نہیں ہے تو مسح ٹوٹ گیا۔ اب اتنی جگہ دھو کر نماز پڑھے۔ سارا وضو دہرانا ضروری نہیں ہے۔

وضو کا بیان

وضو کرنے والی کو چاہیے کہ وضو کرتے وقت قبلہ کی طرف منہ کر کے کسی اونچی جگہ بیٹھے کہ چھینٹیں اڑ کر اوپر نہ پڑیں۔ اور وضو شروع کرتے وقت بسم اللہ کہے۔ اور سب سے پہلے تین دفعہ گٹوں تک ہاتھ دھوئے۔ پھر تین دفعہ کلی کرے اور مسواک کرے۔ اگر مسواک نہ ہو تو کسی موٹے کپڑے یا صرف انگلی سے اپنے دانت صاف کر لے کہ سب میل کچیل جاتا رہے اور اگر روزہ دار نہ ہو تو غرغرہ کر کے اچھی طرح سارے منہ میں پانی پہنچاوے اور اگر روزہ ہو تو غرغرہ نہ کرے کہ شاید کچھ پانی حلق میں چلا جائے۔ پھر تین بار ناک میں پانی ڈالے اور بائیں ہاتھ سے ناک صاف کرے۔ لیکن جس کا روزہ ہو وہ جتنی دور تک نرم نرم گوشت ہے اس سے اوپر پانی نہ لے جاوے۔ پھر تین دفعہ منہ دھوئے۔ سر کے بالوں سے لے کر ٹھوڑی کے نیچے تک اور اس کان کی لو سے اس کان کی لو تک سب جگہ پانی بہ جائے۔ دونوں ابروؤں کے نیچے بھی پانی پہنچ جاوے کہیں سوکھا نہ رہے۔ پھر تین بار داہنا ہاتھ کہنی سمیت دھوئے پھر بایاں ہاتھ کہنی سمیت تین دفعہ دھوئے۔ اور ایک ہاتھ کی انگلیوں کو دوسرے ہاتھ کی انگلیوں میں ڈال کر خلال کرے اور انگوٹھی چھلا چوڑی جو کچھ ہاتھ میں پہنے ہو ہلا لے وے کہ کہیں سوکھا نہ رہ جائے۔ پھر ایک مرتبہ سارے سر کا مسح کرے پھر کان کا مسح کرے اندر کی طرف کا کلمہ کی انگلی سے۔ اور کان کے اوپر کی طرف کا انگوٹھوں سے مسح کرے۔ پھر انگلیوں کی پشت کی طرف سے گردن کا مسح کرے۔ لیکن گلے کا مسح نہ کرے کہ یہ برا اور منع ہے۔ کان کے مسح کے لیے نیا پانی لینے کی ضرورت نہیں ہے سر کے مسح سے جو بچا ہوا پانی ہاتھ میں لگا ہے وہی کافی ہے۔ اور تین بار داہنا پاؤں ٹخنے سمیت دھوئے۔ پھر بایاں پاؤں ٹخنے سمیت تن دفعہ دھوئے اور بائیں ہاتھ کی چھنگلیاں سے پر کی انگلیوں کا خلال کرے۔ پیر کی داہنی چھنگلیاں سے شروع کرے اور بائیں چھنگلیا پر ختم کرے۔

یہ وضو کرنے کا طریقہ ہے لیکن اس میں بعض چیزیں ایسی ہیں کہ اگر اس میں سے ایک بھی چھوٹ جائے یا کچھ کمی رہ جائے تو وضو نہیں ہوتا جیسے پہلے بے وضو تھی اب بھی بے وضو رہے گی۔ ایسی چیزوں کو فرض کہتے ہیں۔ اور بعضی باتیں ایسی ہیں کہ ان کے چھوٹ جانے سے وضو تو ہو جاتا ہے لیکن ان کے کرنے سے ثواب ملتا ہے۔ اور شریعت میں ان کے کرنے کی تاکید بھی آئی ہے۔ اگر کوئی اکثر چھوڑ دیا کرے تو گناہ ہوتا ہے۔ اسی چیزوں کو سنت کہتے ہیں اور بعضی چیزیں ایسی ہیں کہ کرنے سے ثواب ہوتا ہے اور نہ کرنے سے کچھ گناہ نہیں ہوتا اور شرع میں ان کے کرنے کی تاکید بھی نہیں ہے ایسی باتوں کو مستحب کہتے ہیں۔ مسئلہ۔ وضو میں فرض فقط چار چیزیں ہیں۔ ایک مرتبہ سارا منہ دھونا۔ ایک ایک دفعہ کہنیوں سمیت دونوں ہاتھ دھونا۔ ایک چار چوتھائی سر کا مسح کرنا۔ ایک ایک مرتبہ ٹخنوں سمیت دونوں پاؤں دھونا۔ بس فرض اتنا ہی ہے۔ اس میں سے اگر ایک چیز بھی چھوٹ جائے گی یا کوئی جگہ بال برابر بھی سوکھی رہ جائے گی تو وضو نہ ہو گا۔

بڑے بڑے گناہوں کا بیان جن پر بہت سختی آئی ہے

خدا سے شرک کرنا۔ نا حق خون کرنا۔ وہ عورتیں جن کے اولاد نہیں ہوتی کسی کی سنور میں بعضے ایسے ٹوٹکے کرتی ہیں کہ یہ بچہ مر جائے اور ہمارے اولاد ہو یہ بھی اسی خون میں داخل ہے۔ ماں باپ کو ستانا۔ زنا کرنا۔ یتیموں کا مال کھانا جیسے اکثر عورتیں خاوند کے تمام مال و جائیداد پر قبضہ کر کے چھوٹے بچوں کا حصہ اڑاتی ہیں۔ لڑکیوں کو حصہ میراث کا نہ دینا۔ کسی عورت کو ذرا سے شبہ میں زنا کی تہمت لگانا۔ ظلم کرنا۔ کسی کو اس کے پیچھے بدی سے یاد کرنا۔ خدا کی رحمت سے نا امید ہونا۔ وعدہ کر کے پورا نہ کرنا۔ امانت میں خیانت کرنا۔ خدا کا کوئی فرض مثل نماز روزہ حج زکوٰۃ چھوڑ دینا۔ قرآن شریف پڑھ کر بھلا دینا۔ جھوٹ بولنا۔ خصوصاً جھوٹی قسم کھانا۔ خدا کے سوا اور کسی کی قسم کھانا یا اس طرح قسم کھانا کہ مرتے وقت کلمہ نصیب نہ ہو۔ ایمان پر خاتمہ نہ ہو۔ خدا کے سوا کسی اور کو سجدہ کرنا۔ بلا عذر نماز قضا کر دینا۔ کسی مسلمان کو کافر یا بے ایمان یا خدا کی مار یا خدا کی پھٹکار خدا کا دشمن وغیرہ کہنا۔ کسی کا گلہ شکوہ سننا۔ چوری کرنا۔ بیاج لینا۔ اناج کی گرانی سے خوش ہونا۔ مول چکا کر پیچھے زبردستی سے کم دینا۔ غیر محرم کے پاس تنہائی میں بیٹھنا۔ جوا کھیلنا۔ بعضی عورتیں اور لڑکیاں بد بد کے گٹے یا اور کوئی کھیل کھیلتی ہیں یہ بھی جوا ہے۔ کافروں کی رسمیں پسند کرنا۔ کھانے کو برا کہنا۔ ناچ دیکھنا۔ راگ باجا سننا۔ قدرت ہونے پر نصیحت نہ کرنا۔ کسی سے مسخرا پن کر کے بے حرمت اور شرمندہ کرنا۔ کسی کا عیب ڈھونڈنا۔