ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ اللہ والوں کی شان ہی جدا ہوتی ہے ان کوکسی ظاہری شان وشوکت کی ضرورت نہیں ہوتی ان کے اندر سب کچھ ہے بہت س کمالات ان حضرات کے ایسے ہوتے ہیں کہ بیان میں بھی نہیں آسکتے اگرذوق اورفہم سلیم ہوتو وجدان ہی سے معلوم ہوسکتے ہیں اس پرمیں ایک شعر پڑھا کرتا ہوں ۔
خوبی ہمیں کرشمہ و ناز نیست ٭ بسیار شیوہ ہاست بتاں را کہ نام نیست
(سخن یہ ظاہری ناز وانداز ہی نہیں ہے حسینوں کے اندر بہت سی ادائیں ایسی ہوتی ہیں جوبیان میں نہیں آسکتی )
سوہم تم پرہنستے ہیں جیسا تم ہم پرہنستے ہو۔
ان کی تویہ شان ہوتی ہے جس کو فرماتے ہیں :
اے دل آں بہ خراب از مئے گگون باشی ٭ بے زرو بصد حشمت قارون باشی
اور فرماتے ہیں :
دل فریباں بناتی ہمہ زیور بستند دل برماست کہ باحسن خدا داد آمد
اور فرماتے ہیں :
نباشد اہل وطن درپے آرا یش ظاہر بنقاش احیتا جے نیست دیوار گلستان را
( اے دل بہتر ہے کہ شراب عشق میں مست رہو اور بغیر ظاہری دولت وثروت کے (عمدہ قلبی کی وجہ سے ایسے رہو کہ ) قارون کے برابر سینکڑوں خزانوں کے مالک ہو ) محبوبان مجازی تو بناؤ سنگھار کے محتاج ہیں ہمارا محبوب وہ ہے جس کو حسن حقیقی حاصل ہے ) ( اہل باطن ظاہری زیب وزینت کے درپے نہیں ہوتا ( جیسا کہ ) باغ کی دیوارکو رنگ وروغن کے پھول بوٹوں کی ضرورت نہیں ہوتی کیونکہ اس پر تواصلی پھول کھلے ہوئے ہیں
(ملفوظ 375)عربی پڑھنے سے لیاقت
فرمایا میں تو کہا کرتا ہوں کہ اگرعربی دین کی غرض سے بھی نہ پڑھے تو دنیا ہی کے واسطے ضرور پڑھے اس سے اعلی درجے کی قابلیت پیدا ہوجاتی ہے مگر آجکل ہمارے ان کرتوں پاجاموں کو دیکھ کر لوگ سمجھتے ہیں کہ یہ کیا جانتے ہوں گے یہ تو یونہی اول جلول ہیں اور ابگریزی لباس چاہے وہ گاڑھے ہی کا ہوکوٹ پتلون تو اس کو قابلیت کی دلیل سمجھتے ہیں اورہم ان سے یہ کہتے ہیں کہ آپ کے نزدیک یہ لباس عزت کے خلاف ہے اور ہمارے نزدیک وہ لباس دین کے خلاف ہے ۔ فانا نسخرمنکم کما تسخروں ہنسنے کا جواب یہ ہے ۔
(ملفوظ 373)بلا استصاب مصالح مشورہ دینا خلاف دین ہے :
فرمایا کہ ایک خط آیا ہے یہ صاحب اہل علم ہیں لکھا ہے کہ دنیاوی معاملات میں تکلیف دینے کو دل نہیں چاہتا تھا مگر چونکہ میں اپنے کو غلام بنا چکا ہوں اس لیے کوئی نقل وحرکت بلا مشورہ نہیں کرنا چاہتا فلاں معاملہ میں حضرت والا سے مشورہ درکار ہے (جواب ) بلا استیعاب مصالح مشورہ دینا خلاف دین ہے اور مجھ کو استیعاب حاصل نہیں اس لئے میں مشورہ نہیں دے سکتا ۔
(ملفوظ 374)احکام اسلام کی پابندی سے غیر مسلم اقوام پراثر
اس کا ذکر تھا کہ اگر مسلمان احکام اسلام کی پابندی پوری طرح کریں تو غیرمسلم اقوام پراس کا اثربہت زیادہ ہوتا ہے فرمایا ایک ماہواری رسالہ میں ایک انگریز کے رسالہ کا ترجمہ نکلا تھا میں نے اس میں حکایت دیکھی کہ وہ انگریز عرب کے کسی علاقہ میں سیاحت کے لئے گیا اور اس نے وہاں چند بدوی رہنمائی وغیرہ لے لئے ملازم رکھے جواس کے ساتھ گھوڑوں پر سوار ہوکر رہتے تھے اور کوئی کام بدویوں نے بغیر اس کی اجازت ایک دم گھوڑے روک لیے اس کو تعجب ہوا کہ بدون اس کی اجازت کے یہ کیا کیا دیکھا تو وہ سب اترکر کسی جگہ پانی جمع تھا وہاں پہنچے اور وضو کرکے صف بستہ کھڑے ہوکر نماز ادا کرنے لگے اس نے یہ منظر پہلی ہی بار دیکھا تھا ان کو دیکھتا رہا وہ انگریز لکھتا ہے کہ جس وقت میں نے ان کو اس حالت میں دیکھا ہے تو ان کی ایک عظمت میرے قلب میں پیدا ہوئی ادھر میں نے اپنے کو دیکھا کہ الگ کھڑا ہوں تو اس وقت میں ان کی صف سے الگ کھڑا ہوا ایسا معلوم ہوتا تھا کہ جیسے ایک معززجماعت کے سامنے ایک ذلیل آدمی کھڑا ہو بس یہ اول تاریخ تھی جس میں مجھ کو اسلام کے ساتھ محبت ہوئی اوراس کے بعد سے مجھ کو ان بدوؤں پرحکمرانی کرتے ہوئے شرم معلوم ہوتی تھی فرمایا یہ انگریز اس ورز سے محبان اسلام میں داخل ہوگیا گو مسلمان تو نہیں ہوا مگر اسلام کی محبت وقعت وعظمت اس کے قلب میں پیدا ہوگئی فرمایا کہ ایک دوسرا واقعہ ہے یہاں کے ایک رئیس بیان کرتے تھے کہ ریل کے سفر میں میرا ایک انگریز کا ساتھ ہوگیا میں نماز کے وقت پرنماز پڑھنے لگا وہ اس سے قبل بہت ہی آزادی سے کمر لگائے ہوئے بیٹھا ہوا اخبار دیکھ رہا تھا مگر مجھ کو نماز پڑھتے دیکھ کر اس نے پھرکمرنہیں لگائی نہایت ادب کے ساتھ پاؤں سمیٹ کر بیٹھ گیا انہی رئیس کا ایک دوسرے ہمراہی سفر انگریز کے ساتھ ایک واقعہ ہے کہ ان کو استنجے کی ضرورت ہوئی یہ ریل کے ڈبہ میں ٹہلتے ہوئے استنجا سکھلانے لگے فراغ کے بعد انگریز نے ان سےکہا کہ میں کچھ پوچھ سکتا ہوں انھوں نے کہا کہ ضرور کہنے لگا یہ طریقہ استنجا سکھانے کا کیا اسلام کی تعلیم ہے کہ سب کے سامنے اس طرح پراستنجا سکھایا جائے انہوں نے جواب دیا کہ یہ میرا فعل ہے اسلام کی تعلیم نہیں کہنے لگا مجھ کو بھی تعجب ہوا کہ اس طریق میں توایک قسم کی بے حیائی ہے اوراسلام نہایت مہذب مذہب ہے وہ ایسی بے حیائی کی تعلیم نہیں دے سکتا دیکھئے اس پر کس قدر اثرہوا ۔
(ملفوظ 372)عوام کی تحمل کی رعایت سے آزادی :
ایک صاحب نے تعویذ مانگا فرمایا کہ یہاں تعویذ لینے آئے ہوکیا پچھلی اذیتیں پہنچانا بھول گئے اب یہ چاہتے ہیں کہ یہاں آنے کو بھی منع کردوں کیا ایسی صورت نہیں ہوسکتی کہ کسی کے ذریعہ سے اپنا کام نکال لو اور مجھ معلوم بھی نہ ہو کہ کس کا کام ہے اب یہاں کیوں بیٹھے ہوکیا پچھلی یاد دلانے کو بیٹھے ہو مجھ کو تمہاری صورت دیکھ کرسب باتیں ستانے کی تازہ ہوگئیں فرمایا اگرکسی کے ساتھ تحمل کا برتاؤ کیا جائے تو وہ آگے کو بیٹھتا ہے جو شخص کسی کی رعایت کرے اس کو چاہیے کہ وہ بھی دوسرے کا خیال رکھے مگر آج کل لوگ رعایت کرنے سے لوگ آزاد ہوجاتے ہیں کیا صبر کرنے سے قلب سے اثر بھی مٹ جاتا ہے کیا سرخ رو ہوکر تعویذ مانگنے بیٹھے ایک صاحب نے عرض کیا کہ حضرت نے تو راہ بھی بتلادی کہ کسی اورکے ذریعہ سے کام نکال لینا چاہیے فرمایا کہ میں اس کی بھی رعایت رکھتا ہوں کہ کسی کے کام میں خلل نہ ہو مگر لوگ میرے رعایت کا خیال نہیں رکھتے ۔
(ملفوظ 371)والد مرحوم کی ادائے رقوم مہر کی تقسیم کا ذکر :
ادائے رقوم مہر کی تقسیم کے سلسلہ میں جس کا ذکر اوپر آچکا ہے کہ اپنے والد صاحب مرحوم کے ازواج اربعہ کے مہر کے حصص مستحقین کو ادا کئے گئے فرمایا کہ میں نے کاندھلے والوں کو جو بفضلہ تعالٰی معزز اور ذی وسعت ہیں اور جن کا حصہ بہت ہی حقیر رقم تھی لکھا ہے کہ اس تھوڑی سی رقم کا قبول کرنا آپ لوگوں کی شان کے بلکل خلاف ہے لیکن اگر ادا نہ کرتا تو اور کیا کرتا اہل حقوق کو حق دینا تو ضروری تھا امید ہے کہ آپ ایک مسکین کی خاطر سے اس کو قبول فرمالیں گے جو آپ حضرات کی اور زیادہ وقعت اور عظمت کا سبب ہوگا اس کا متعلق ایک انتظام میں نے یہ کیا کہ ان صاحبوں کو براہ راست رقوم نہیں بھیجیں کہ طبعا زیادہ خجلت کا سبب ہوتا بلکہ مولوی زکریا صاحب مذہلوی مدرس حدیث مدرسہ مظاہر علوم سہارنپور کے ذریعہ سے یہ مضمون اور رقم بھیج رہا ہوں آج سہارنپور منی آرڈرکرنے کا خیال ہے اور اگر کوئی صاحب جانے والے مل گئے ان کے ہاتھ بھیج دوں گا براہ راست اس لیے نہیں بھیجتا تاکہ لینے والے کو گرانی نہ ہوشرمائیں نہیں مجھے اس کا بھی خیال ہے کہ میری وجہ سے کسی پرگرانی یا بارنہ ہو ان باتوں پرمجھ کو لوگ وہمی کہتےہیں۔
شوال المکرم 1350ھ مجلس بعد نماز ظہر یوم شنبہ
(ملفوظ 370)بعد وفات روح کو قلق وحزن
ایک صاحب نے عرض کیا کہ حضرت بعد مرجانے کے جسم کو قطع کرنے سے یا اس کے احراق سے کیا روح کوکوئی تکلیف ہوتی ہے فرمایا روح کا الم یعنی دکھ نہیں ہوتا البتہ قلق وحزن ہوتا ہے جیسے مثلا کسی کی رضائی بدن سے اتار کرجلادی جائے تو چونکہ اس سے ایک زمانہ تک ملابست رہ چکی ہے اس پر قلق اور رنج ہوتا ہے مگر ایسی تکلیف نہیں ہوتی چاہے پھاڑیئے چیریئے اسی طرح روح کو ایسی چیزوں سے کوئی تکلیف نہیں ہوتی ہاں قلق ضرور ہوتا ہے جس کی وجہ موانست ہے ۔
(ملفوظ 369)تبحرفی العلوم کا فرض ہونا
ایک صاحب نے عرض کیا کہ حضرت نے آج کل کے غالب حالات پر نظرکرکے تبحر فی العلوم کو فرض عین فرمایا تھا جس سے مجھ کو تو ضروری تبحر کا بے حد شوق ہوگیا ہے کیا سہولت کے ساتھ کوئی صورت پیدا ہوسکتی ہے کہ وقت بھی زائد صرف نہ اور قابلیت بقدر ضرورت پیدا ہوجائے فرمایا کہ یہ کون مشکل ہے اس کی صورت یہ ہے کہ اگر کوئی شفیق استاد توجہ کرے تو اول ایک کتا ب ادب کی پڑھادے خواہ مفیدالطالبین ہی ہومگر اس طرح کہ اس میں صرف ونحو کے قواعد بھی ساتھ ساتھ جاری کراتا جاوے اور ایسے قواعد کچھ زیادہ نہیں ہیں پندرہ بیس ہوں گے جس سے صرف اتنا معلوم ہوجائے کہ اس کلمہ پرزبر کیون ایا زیرکیوں ہے اس کے بعد قرآن شریف کا ترجمہ اسی طرح ہو کہ اس میں بھی قواعد جاری کرائیں اور ایک کتاب حدیث شریف کی پڑھادی جائے مثلا مشارق الانور کہ بہت بڑی بھی نہیں اور ایک کتا ب فقہ کی جیسے قدوری اس کے بعد یا ساتھ ساتھ دو تین کتابیں صرف ونحو کی بھی پڑھادی جائیں اس سے مناسبت پیدا ہوکر ضروری کتا بوں کا مطالعہ بہت سہل اور آسان ہوجائے گا ۔
(ملفوظ 368) سیری کی مذمت
ایک صاحب کا تذکرہ ہوا فرمایا کہ کس ذوق سے تو لوگ تعلق پیدا کرتے ہیں اور کچھ نہیں لوگ سیر ہوتے ہیں اسی سیری کی مذمت میں کہتے ہیں ۔
مصلحت نیست مراسیری ازاں آب حیات ٭ ضاعف اللہ بہ کل زمان عطشی
(اوس آب حیات سے خدا کرے اوس آب حیات کی پیاس مجھے ہردم بڑھتی ہی رہے ) ۔
فرمایا اگر ولی طلب نہ ہوتا ظاہری نباہ ہی ہوتو یہ سہی پھرنباہ سے اکثر طلب بھی پیدا ہو فاتی ہے شرم آنا چاہے کہ صرار کرکے تو تعلق پیدا کیا دوسرا انکار کررہا تھا اب صعف تعلق پروہ کیا کہے گا یہی سمجھ کرنباہ کرے ۔
ملفوظ 367)کمال کی غایت
( ایک مضمون کے سلسلہ میں فرمایا کہ آج کل کمال کی غایت مقصودہ مال رہ گیا تمام کمالات کا خلاصہ یہی ہے ۔

You must be logged in to post a comment.