(ملفوظ 366)مستقبل بعید کی فکر میں نہ پڑو

ایک صاحب نے حضرت والا سے کچھ مشورہ چاہا جس کا تعلق مستقبل بعید سے تھا فرمایا کہ میں نے تجربہ کیا ہے کہ آدمی کو ایسے مستقبل کے سوچ و بیچار میں نہ پڑنا چاہیئے یہ ایسا سلسلہ ہے کہ تازیست اس سے نجات مشکل ہے اگر آدمی اس کے پییچھے پڑے پاگل بن جائے بس راحت اسی میں ہے کہ جوواقع ہوتا جائے یا اس کا وقوع غالب ہواس کا حق ادا کرتا رہے

(ملفوظ 365)لیڈیوں کو ساحر فرمانا

فرمایا کہ میں تو لیڈیوں کو ساحر کہا کرتا ہوں بات کرنا ان سے غضب ہے بہت جلد دوسرے کو اپنا ہم خیال بنا لیتی ہیں اس فن میں کمال ہے ایک واقعہ ہے کہ ایک نیک بخت بی بی کی آنکھوں میں کچھ امراض پیدا ہوگئے تھے ان کو ہر چند سمجھایا گیا اور کئی سال تک سمجھایا گیا کہ ڈاکڑکو آنکھیں دکھلا دی جائیں شرعا جائز ہیں مگر بوجہ شرم و حیا کے منظور نہ کرتی تھیں اتفاق سے سلسلہ علاج ہی میں ان بی بی کا سفر لکھنؤ کا ہوا وہاں پر انہوں نے کہا اگر کوئی عورت ڈاکٹر کو آنکھ دکھلا دوں گی جب وہ چلی گئیں تب ان بی بی کی سمجھ میں آیا کہا کہ میں نے اب ڈاکٹر کو آنکھ دکھلانے کا ارادہ کرلیا ہے لیکن اس کے ساتھ ہی یہ بھی پختہ اردہ کیا ہے کہ تما عمر میں کسی لیڈی سے نہ ملوں گی ان سے ملنا سراسر خطرناک ہے یہ جادو گرنیاں ہیں ان کی گفتگو سے میں اس قدر مغلوب ہوئی کہ رائے بدل دی ۔

(ملفوظ 364)حضرت شیخ سعدی کی حکمت

ایک مضمون کے سلسلہ میں فرمایا کہ شیخ سعدی علیہ الرحمتہ بڑے حکیم ہیں ہر معاملہ میں ان کا کلام موجود ہے حتی کہ سلطنت کے معاملات میں بھی رائے دیتے ہیں میرا تو خیال ہے کہ آج کل اہل حکومت شیخ ہی کی تعلیم اور تجربات کا اکثر حصہ لیے ہوئے ہیں جس پرعمل درآمد ہے اچھی بات پرکوئی بھی عمل کرے اس کا فائدہ پہنچتا ہی ہے اگر اہل حکومت مسلمان ہوتے تواور بھی نورعلی ہوتا ایک صاحب نے عرض کیا کہ شیخ علیہ الرحمتہ نے باوجود اس کے سلطنت نہیں کی مگر پھر بھی اس قدر تجربات بیان فرمائے کہ ورشن دماغ تھے جب اللہ کی اطاعت ہوتی ہے قلب میں ایک نور ہوتا ہے شیخ نے جس قدر سلطنت کی بقاء کی تدابیر بیان فرمائی ہیں نہایت حکیمانہ ہیں اگرایسی تدابیر حدود شریعت کے ماتحت اختیار کی جائیں کوئی حرج نہیں بلکہ ایک خاص برکت ہوتی ہے اور شریعت کے تجاوز کرنے سے فی الحال بے برکتی اور فی المآل زوال ہوتا ہے اور حاصل اکثر تدابیر کا یہ ہے کہ لا یخدع ( بصیغہ معروف ) ( کسی کودھوکہ نہ دے ) ولا یخدع ( بصیغہ مجہول ) کسی سے دھوکہ نہ کھاوے )۔

(ملفوظ 363) کوتاہ نظری اور کوڑ مغزی کی حد :

ایک صاحب کی غلطی پرمواخذہ فرماتے ہوئے فرمایا کہ ایسی کوتاہ نظری اور ایسی کوڑمغزی کی بھی کوئی حد ہے پھر کہتے ہیں کہ ہم پرسختی کی جاتی ہے پہلے رنجیدہ کرتے ہیں پھر کچھ کہا جاتا ہے تو رنجیدہ ہوتے ہیں ایسوں سے تویہ ہی کہنا اسلم ہے کہ بس یہاں سے جاؤ ہم برے ہی سہی کون ان کوڑمغزوں کی چاپلوسی اورغلامی کرے غیرت کے بھی تو خلاف ہے میں تو اپنے متعلق کسی شبہ کو دور کرنا بھی غیرت کے خلاف سمجھتا ہوں جیسے بیٹی کے بارہ میں کوئی بیام والا کہے کہ سنا ہے کہ تمہاری بیٹی کافی ہے تو کیا وہ جواب میں یہ کہنے بیٹھے گا کہ کانی نہیں بہت حسین ہے بلکہ یہی کہے گا کہ وہ صرف کانی ہی نہیں اندھی ہے تم نہیں چاہتے تو کہیں اور جاؤ تو کیا طریق کی اتنی بھی وقعت نہ ہو دوسرا تو اعراض کرے اور ہم اس کوترغیب دیں لیکن جس چیز کی اصلاح فرض ہے وہاں تبلیغ ہرحال میں فرض ہے مگر تبلیغ کا رنگ اور ہے اس ترغیب کا رنگ اور جن میں وجدانی فرق ہے توایک کی نفی سے دوسرے کی نفی لازم نہیں آتی ۔
شوال المکرم 1350ھ مجلس خاس بوقت صبح یوم شنبہ

(ملفوظ 362)تربیت کا راز سمجھ نہیں آتا

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ ایسے ایسے بھی فہیم لوگ دنیا میں آباد ہیں یہاں پرایک صاحب آتا تھے یہ کہہ کر گئے ہیں کہ تربیت کے اس طرز کا بھید ہی سمجھ میں نہیں آتا مبتلایئے یہاں کون سے اسرار میں راز ہیں جو سمجھ میں نہیں آتے ۔

(ملفوظ 361)ارشاد ماموں امداد علی صاحب :

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا ماموں امداد علی صاحب حکیمانہ دماغ رکھتے تھے گو مسلک میں ان سے ہمارا اختلاف تھا مگر بعضی باتیں بڑے کام کی فرمایا کرتے تھے چنانچہ ایک بار یہ فرمایا کہ میاں دوسروں کی جوتیوں کی حفاظت کی بدولت کہیں اپنی گٹھڑی نہ اٹھوا دینا واقع بڑے ہی کام کی بات ہے لوگ دوسروں کی جوتیوں کی حفاظت کی بدولت کہیں اپنی فکر نہیں کرتے جس سے دوسروں کی کوئی خفیف سی مصلحت تو محفوظ ہوجاتی ہے مگر اپنا غرور عظیم ہوجاتا ہے اور ممدوح ظریف بھی بہت تھے ایک مرتبہ روڑ کی قیام تھا بارش ہوکر ختم ہوئی تھی کیچڑ ہو رہی ہے اس طرح نہیں چلنا چاہئے اندیشہ گرجانے کا ہے وہ صاف فرماتے ہیں کہ میں گرنہیں سکتا اقلیدس کی قاعدہ سے چلتا شکل بنی روڑ کی ہی کلیہ بھی واقعہ ہے کہ ایک مولوی صاحب فرماتے ہیں کیوں صاحب کونسی شکل بنی روڑ کی ہی کلیہ بھی واقعہ ہے کہ ایک مولوی صاحب باہر سے مہمان آئے اور ایک مولوی صاحب وہاں ہی مقیم تھے اور دونوں خوب موٹے تھے دونوں کی توند نکلی ہوئی تھی ملاقات کے وقت دونوں نے معانقہ کیا تو ماموں صاحب فرماتے ہیں کہ مولانا یہ تومعانقہ نہیں ہوا مباطنہ ہوگیا یعنی پیٹ سے پیٹ مل گئے ۔

(ملفوظ 360)بخل لغوی

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ میں تو کہا کرتا ہوں کہ اتنا بخل محمود ہے کہ جس ہے آدمی انتظار کرسکے اور اپنے دل کو تشویش اور پریشانی سے بچانے کے لیے کچھ پیسے اپنے پاس رکھے بدون اتنے بخل کے انسان منتظم نہیں ہوسکتا اور یہ بخل لغوی ہے شرعی نہیں حضرت حاجی صاحب رحمتہ اللہ علیہ فرمایا کرتے تھے کہ آدمی نفس کے بہلانے کو کچھ نہ کچھ ضرور اپنے پاس رکھے ۔

(ملفوظ 359) واپسی قرض کی یاداشت میں تحریر

فرمایا کہ جولوگ بوقت مجھ سے کچھ قرض لے لیتے ہیں جب کوئی قسط اداا کرنے آتے ہیں تو ان کو پاس بیٹھا لیتا ہوں اور اپنی یادداشت میں وصول لکھ کر ان کو بھی دکھلا دیتا کہوں کہ دیکھو یہ وصولی یا بی لکھ لی ہے محض اس خیال سے کہ ان کو یکسوئی ہوجائے یہ خیال نہ رہے کہ کہ شاید وصول لکھنا یاد نہ رہے ۔

(ملفوظ 358)اہل حق کو اہل باطل سے جھگڑنے کا حق

فرمایا کہ ایک درویش سے میری گفتگو ہوئی انہوں نے کہا کہ اس آیت کا ترجمہ کیا جاوے ۔
لکل امۃ جعلنا منسکا ھم ناسکوہ فلا ینازعنک فی الامر ، مقصود یہ تھا کہ اس آیت میں کسی سے نزاع کی ممانعت ہے یعنی کوئی کسی سے تعارض نہ کرے جو صلح کا صاصل ہے میں نے کہا کہ لا یناز عنک فرمایا الا تنازعہم نہیں فرمایا تو اہل باطل کو اہل حق سے جھگڑا کرنے سے منع فرمایا گیا ہے اہل حق کو اہل باطل کے ساتھ جھگڑنے سے منع فرمایا اس پر شاہ صاحب خاموش رہ گئے اسی طرح میرٹھ میں ایک صاحب درویش شیخ الہی بخش صاحب رئیس میرٹھ کے خاندان کے پیر آئے ہوئے تھے والد صاحب اس زمانہ میں ان کے یہاں مختار ریاست تھے میں بھی اتفاق سے وہاں پروالد صاحب کے پاس گیا ہوا تھا ان درویش سے بھی ملنے گیا ان درویش کو یہ معلوم ہوا کہ یہ طالب علم ہے محبت سے بلا کر بٹھایا اور مثنوی کے اشعار کی شرح مولانا جامی کے یہ اشعار پڑھے :
چندا روز یکہ پیش از روز و شب ٭ فارغ از اندوہ و آزاد از طلب
متحد بودیم باشاہ وجود حکم غیریت بکلی محو ، بود
( ہم نے ہرامت کے واسطے ذبح کرنے کا طریق مقرر کیا ہے جہ وہ اس طریق پر ذبح کرتے تھے تو ان لوگون کو چاہئے کہ اس امر میں آپ جھگڑا نہ کریں ان لوگوں کو چاہئے کہ آپ سے جھگڑا نہ کریں آپ ان سے جھگڑا نہ کریں اس عالم نا سوت سے پہلے کیا اچھا زمانہ تھا کہ ہم بغیر کسی غم کے اور بغیر ضرورت طلب کے شاہ وجود کے ساتھ متحد تھے اور غیریت کا حکم بالطیہ محو تھا ) ان اشعار سے بزعم خود و حدۃ الوجود کو ثابت کرنا چاہا میں نے کہا کہ اس میں تو بودیم فرماتے ہیں ہستیم نہیں فرماتے جس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ اب تغائر ہے تو اس سے تو وحدۃ الوجود کی نفی ہوئی بس مبہوت رہ گئے کچھ نہیں بولے اور اس تمام خاندان میں اس کی شہرت ہوگی مجھ کو خیال ہوا کہ شاید ان لوگوں کو ناگوار ہوگا اس لئے کہ ان کہ پیرہیں لیکنم عجیب بات ہے کہ اس کا عکس ہوا چنانچہ شیخ صاحب کے بتیجھے غلام محی الدین مرحوم جو کہ پر پہلو سے ریاست کے روح و روان تھے انہوں نے مجھ کو قصدا بلایا اور واقعہ کی تفصل پوچھی میں نے سب بیان کردیا تو سنکربہت خوش ہوئے اور کہا کہ خوب کیا اور میں نے بھی ان دوریش کے کہنے پراتنا جواب دیا مگر خود ابتدا نہیں کی اور نہ کوئی نے ادبی کی اور ان کے اشعار پڑھنے سے متاثر میں بھی ہوا مگر حدود شرعیہ کی حفاظت ضروری تھی اس لئے جواب دینا پڑا ۔

(ملفوظ 357)نیک ہونا اور بات ، فہیم ہونا اور بات

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ بعض لوگ نیک تو ہوتے ہیں مگر ان میں فہم نہیں ہوتا نیک ہونا اور بات ہے فہیم ہونا اور بات ہے ۔