ایک مولوی صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ جی ہاں حضرت مولانا محمد قاسم صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے علوم کی قدر حضرت حاجی صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے فرمانے سے ہی معلوم ہوتی ہے فرماتے ہیں کہ اللہ تعالی اپنے مقبول بندوں کو ایک لسان عطا فرما تے ہیں جیسے شاہ شمس تبریز کی لسان مولانا رومی ہوۓ اور میری لسان مولوی محمد قاسم صاحب تھے یہ حضرات عجیب شان کے بزرگ تھے سلف کے نمونہ تھے اللہ کا بڑا فضل ہے کہ ان حضرات کو اپنی آنکھوں سے دیکھا یہ ہی وجہ ہے کہ اور کوئ نظروں میں نہیں سماتا ان حضرات میں کوئ بات تو تھی ہی کہ ان کی صحبت سے گنوار لٹھ ایسے ہو جاتے تھے کہ بعضے علماء میں بھی وہ چیز نظر نہیں آتی ان حضرات کی صحبت جس کو نصیب ہو گئ اس کی حالت یہ حلت ہو گئ جس کو فرماتے ہیں َِ:
آہن کہ بپارس آشنا شد فی الحال بصورت طلا شد
(جو لوہا پارس کی پتھری سے چھو بھی گیا فورا ہی سونے کی شکل ہو گیا12 ۔)
مفتی الہی بخش حضرت سید صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے معتقد تھے کسی کے سوال پر مفتی صاحب نے فرمایا تھا کہ سید صاحب کے تعلق سے پہلے بھی قرآن وحدیث پڑھے ہوۓ تھے اور اب بھی وہی قرآن وحدیث پڑھتے ہیں مگر فرق یہ ہے کہ یہ قرآن وحدیث پہلے اور طرح نظرآتا تھا اب اور طرح کا نظرآتاہے ہے سو یہ چیز بزرگوں کی صحبت سے ملتی ہے مگر افسوس اتی بڑی چیز کو لوگ چھوڑے ہوۓ ہیں اور صحبت اختیار نہیں کرتے بڑا ناز ہے علم پر کہ ہم عالم ہو گۓ یاد رکھو بدون اپنے کو مٹاۓ کچھ نہیں ہوتا مٹانے کے یہ معنی نہیں کہ مٹا دو کہ ہم کچھ نہیں ب تک یہ بات نہ پیدا ہو سمجھ لو کہ دوسرے معنی کر فنا ہو یعنی برباد ہو کورے ہو کچھ نہیں ہو اب رہا وہ شبہ کہ وہ چیز کیا ہے جو بزرگوں کی صحبت سے نصیب ہوتی ہے اور اپنے کو ان کے سپرد کرنے سے ملتی ہے بات یہ ہے کہ یہ سمجھانے سے مطلق سمجھ میں نہیں آسکتی اگر سمجھایا بھی تو ایسا قصہ ہو جائے گا جیسے ایک اندھے حافظ جی کی حکایت ہے ٹیڑھی کھیر کی وہ اس طرح ہے کہ ایک حافظ جی تھے نابینا ان کی ایک لڑکے نے دعوت کی کہنے لگے کیا کھلاؤ گے اس نے کہا کہ کھیر اب گڑبڑ شروع ہوتی ہے اور غلطی میں ابتلاء ہوتا ہے حافظ جی نے پوچھا کہ کھیر کیسی ہوتی ہے اس نے کہا کہ سفید کہنے لگے سفید کسے کہتے ہیں ، اس نے کہا جیسے بگلا حافظ جی نے پوچھا بگلا کیسا ہوتا ہے ََََِ؟ اب وہ اس کو کیسے سمجھاتے ، اس نے سامنے بیٹھ کر اور ہاتھ موڑ کر سامنے کو کر دیا کہ ایسا ہوتا ہے حافط جی نے ہاتھ سے ٹٹول کر کہا کہ بھائی یہ تو بڑی ٹیڑھی کھیر ہے حلق سے نیچے کیسے اترے گی دیکھئے مناسبت نہ ہونے کی وجہ سے کس قدر حقیقت سے دور ہوتے چلے گئے یہ تو تھا بگلا اور لڑکا تھا پگلا دعوت کی صرف واحد صورت تھی طباق بھر کر لا کر حافظ جی کے سامنے رکھ دیتا کہ لو کھا کر دیکھ لو کہ کھیر کیسی ہوتی ہے ایسے ہی آپ گھبراتے ہیں مگر آپنے کو کسی محقق کے سپرد کر کے دیکھو وہ تم کو سختی میں نہ ڈالے گا کھیر کے طباق کی طرح تم پر طریق کو آسان کر دے گا جو بدون مشقت ہی حلق سے اترج جائے گی ۔
(ملفوظ 355)بزرگوں کے پاس بیٹھنے کی نیت
ایک صاحب کے سوال کے جواب دیتے ہوئے فرمایا کہ بزرگوں کے پاس اس نیت سے بیٹھنا چاہے کہ جیسے یہ دیندار ہیں ہم بھی ویسے ہی ہوجائیں گے لیکن اس وقت دیں سے اتنی وحشت ہے کہ نیت توکیا کریں گے اس کے احتمال سے بھی ڈرتے ہیں چنانچہ میں الہ آباد گیا تھا اور وعظ بھی ہوتے مگر انگریزی اسکولوں کے بعض طلباء نے وعظ میں آنے سے اس لئے اجتناب کیا کہ ہم کو تو دنیا حاصل کرنا ہے کہیں وعظ سن کر ہم فلاں صاحب کی طرح نہ ہوجائیں یہ صاحب بالتزام وعظ میں آتے اورمتاثر ہوتے اب وہ ایک اسکول میں ہیڈ ماسڑ ہیں اور یہ ڈرایسا ہے جیسے ایک ڈوم نے یہ سن کرکہ چاند دیکھنے سے روزہ فرض ہوجاتا ہے یہ کہا تھا کہ میں چاند ہی نہ دیکھوں گا جو روزہ فرض ہو چنانچہ رمضان المبارک کا مہینہ آیا اس نے چاند دیکھا نہ روزہ رکھا اور گھر میں کوٹھے کے اندر گھ س کے بیٹھ گیا شب کو وہی متا ہگا جب دوچار دن گزر گۓ بیوی نے کہا کی یہ تو بڑی مصیبت ہے کہ میں کہاں تک یہ بھینس کا گوبر اوٹھاؤ گی اور گھر سے نکال دیا آخر جنگل میں پہنچا وہاں حاجت کا تقاضا ہوا اس سے فارغ ہو کر آبدست لینے کے لۓ تالاب پر پہنچا تو تلاب میں پانی کے اندر چاند نظر آ گیا کہتا ہے کہ میں تو تجھ کو دیکھتا نہیں تو آنکھوں میں روزہ فرض کرانے کیلۓ کیوں گھسا آتا ہے تو ایسا ہی ان طلبہ کا کہنا تھا کہ ہم وعظ اس لۓ نہیں سنتے کہ کبھی ہم بھی فلاں صاحب جیسے نہ ہو جائیں اس کی نظیر یہ ہے کہ حکیم کے پاس اس لۓ نہیں جاتے کہ کہیں تندرست نہ ہو جائیں اسی طرح یہ دنیا پرست مولوی لوگوں سے گھبراتے ہیں حالنکہ محقق اہل علم نا جائز نوکریاں تک چھوڑنے کو نہیں فرماتے کہ کہیں افلاس سبب نہ ہو جاۓ کفر کا کیونکہ اب تو معاصی ہی ہیں اور پھر کفر ہو گا پس جو معاصی وقایہ ہو کفر کا اس کو محقق مولوی چھوڑنے کو نہیں کہتے یہ تو نا تجربہ کار کام ہے محقق ایسا نہین کر سکتا یہ تو وہ بات ہو گی کہ چڑھ جا بیٹے سولی پر رام بھلی کرے گا بے علم واعظوں کی بدولت لوگ گڑبڑ میں پڑ گۓ ورنہ محقق کی یہ شان ہوتی ہے کہ حضرت مولانا محمد قاسم صاحب رحمۃ اللہ علیہ ایک زمانہ میں دس روپے کے ملازم تھے حاجی صاحب سے عرض کیا کہ اگر اجازت ہو تو نوکری چھوڑ دوں حضرت نے فرمایا کہ مولوی صاحب ابھی تو آپ پوچھ رہے ہیں یہ پوچھنا دلیل ہے تردد کی اور تردد دلیل ہے خامی کی اور خامی کی حالت میں ملازمت چھوڑنا موجب تشویش و پریشانی ہو گا جب پختگی ہو جاۓ گی رسے تڑا کر بھاگو گے غرض محققین کی یہ شان ہوتی ہے تم نے عطائ نسخے استعمال کۓ ہیں اس لۓ فن طب کو بدنام کرتے ہو کسی حازق کا نسخہ استعمال نہیں کیا جس سے حقیقت معلوم ہو جاتی َ۔
(ملفوظ 354) واقعہ دستار بندی حضرت حکیم الامت
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ جب ہم لوگوں کو فراغ کے بعد مدرسہ سے سند ودستار ملنے کی تجویذ تھی ایک مرتبہ میں نے اورفارغ طالبعلموں نے حضرت مولانا یعقوب صاحب رحمتہ اللہ علیہ کی خدمت میں عرض کیا کہ حضرت یہ معلوم ہوا کہ ہم لوگوں کو مدرسہ سے سند مل رہی ہے مگرہم اپنے کو اس کا اہل نہیں سمجھتے اس لئے اگر یہ موقوف کردیاجائے تو بہتر ہے ورنہ مدرسہ کی بدنامی ہے مولانا کو جوش آگیا فرمایا کہ کون کہتا ہے کہ اہلیت نہیں ہے اپنے اساتذہ کے سامنے ایسا ہی سمجھنا چاہئے ورنہ خدا کی قسم جہاں جاؤ گے تم ہی ہوگے پھر فرمایا کہ میں تواضع سے نہیں کہتا واقعہ ہے کہ علمی لیاقت کبھی حاصل ہی نہیں ہوئی مگر اپنے بزرگوں کی دعا کی برکت سے عمر بھرکہیں شرمندگی نہیں ہوئی حضرت مولانا پراس وقت ایک خاص حالت تھی نہایت ہی وثوق سے فرمایا تھا سوالحمد اللہ ساری عمربھی کبھی شرمندگی نہیں ہوئی نہ وعظ میں نہ مناظرہ میں نہ درس میں اللہ تعالٰی نے ہمیشہ غالب ہی رکھا مگر اس کے ساتھ ہی میری یہ طبعی حالت تھی اور میں اس کوبے تکلف کہہ سکتا ہوں کہ میں نے دینی طبقاط میں سے کسی کو ناراض نہیں کیا نہ علماء کو نہ مشائخ کو اگر ان سے ان کی رائے کے خلاف گفتگو بھی ہوئی تو اس طرح سے کہ ہوب کو ہاتھ سے نہیں جانے دیا جس سے وہ بھی محبت کے ساتھ پیش آئے خلاصہ یہ ہے کہ دعا ئیں بہت لیں کسی قسم کے بزرگ ہوں کسی کو ناراض نہیں کیا ۔
(مفلوظ 353)امربالمعروف کے وجوب کی شرائط
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ امر بالمعروف کے وجوب کی دوشرطیں ہیں ایک تو یہ کہ مخاطب سے توقع ہو قبول کی اور کم ازکم کسی ضرر کا خوف نہ ہو اور ایک یہ کہ مخاطب کو اس کا علم نہ ہو اور اکثر یہی ہے کہ جہاں علم نہ ہو وہاں توقع ہوتی ہے قبول کی اور اگرعلم ہوتو اکثر ناگواری کا سبب ہوتا ہے
(مفلوظ 352)ریا کا علاج
ایک صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ ریا کا علاج یہ بھی ہے کہ ایسے کام کرڈالے جس میں لوگ ریا کار سمجھیں اور اس کو شرمندگی ہوکہ لوگ تجھ کو ریا کا سمجھ رہے ہیں جوشخص بجلی سے ڈرتا ہو اس کو جنگل میں جاکر بجلی کے سامنے کھڑا ہونا چاہیے خوف نکل جائے گا مگر اس علاج کے لئے شیخ کامل کی رائے کی ضرورت ہے ورنہ نفس کو بہانہ ریا کی تقویت کامل جائےگا ۔
(ملفوظ 351)حکایت حضرت ابوالحسن نوری
ایک صاحب نے ایک شخص کے متعلق عرض کیا کہ حضرت سے وہ شخص سال بھرکے مرید ہونے کا ارادہ کررہے ہیں مگر یہ کہتے ہیں درخواست کرتے ہوئے خوف معلوم ہوتا ہے فرمایا کہ اس شخص کے قلب میں طریق کی وقعت اور عظمت ہے یہ بھی غنیمت ہے اس معاملہ میں ان لکھوں پڑھوں سے تو یہ گنوارہی اچھے ہیں ان کی جوبات ہوتی ہے بیساختہ اور سادگی سے اورخلوص لئے ہوئے ہوتی ہے حضرت مولانا گنگوہی رحمتہ اللہ علیہ سے ایک شخص گاؤں کا رہنے والا مرید ہونے آیا حضرت نے جیسا طریقہ ہے بیعت کا معاصی سے توبہ کرائی اورنماز وغیرہ کی پابندی کا امر فرما دیا وہ کہتا ہے کہ مولوی جی جن باتوں سے تم نے توبہ کرائی ہے یہ کام تومیں کبھی کرتا بھی نہیں اور جو کرتا ہوں اس کی توبہ کرائی بھی نہیں حضرت نے دریافت فرمایا وہ کیا ہے کہتا ہے کہ میں افیم کھاتا ہوں فرمایا اچھا یہ بتلا کتنی کھاتا ہے اتنی میرے ہاتھ پررکھ دے اس ارشاد کی وجہ یہ تھی کہ اس وقت حضرت کی بینائی نہ رہی تھی چنانچہ اس نے ایک گولی بناکر ہاتھ پررکھ دی حضرت نے اس کا ایک حصہ توڑ کر اس کودکھلایا کہ اتنی کھالیا کر پھر تھوڑے روز بعد اور کمی بتلادی جاوے گی اس کی وجہ یہ تھی کہ افیون کے دفعتہ چھوڑنے سے بہت تکلیف ہوتی ہے وہ کہتا ہے کہ جی جب توبہ کرلی پھراتنی اور اتنی کیسی اور ڈبہ افیم کا جیب سے نکال دور پھینک کرمارا کہ جا افیم میں نے تجھے چھوڑدیا اوراپنے گاؤں کو چل دیا گھر پہنچ کردست آنے شروع ہوگئے حضرت مولانا سے دعاء کے لئے کہلا کر بھیجا کرتا کہ میں اچھا ہو جاؤں کچھ عرصہ بعد تندرست ہوکر آیا اوربعد تعارف دو روپیہ حضرت کی خدمت میں پیش کئے بعد اصرار حضرت نے قبول فرمالئے کہتا ہے کہ مولوی جی روپئے تولے کررکھ لئے اوریہ پوچھا بھی نہیں کہ کیسے ہیں حضرت نے دریافت فرمایا اب بتلادے کیسے ہیں کہتا ہے کہ میں دو روپیہ ماہوار کی افیون کھاتا تھا اس کے چھوڑ دینے پرنفس بڑا خوش ہوا کہ اب دو روپیہ ماہوار بچا کریں گے بڑا فائدہ ہوا میں نے کہا کہ تجھے خوش نہ ہونے دوں گا یہ دو روپے اپنے پیر کو دیا کروں گا اب یہ اپنی زندگی تک دیا کروں گا میں کہتا ہوں کہ اس دقیقہ کی طرف شیخ کامل کا ذہن پہنچے تو پہنچے نفس کے کید خفی کو کیسا سمجھا اور اس گنوار نے کیسے خلوص کے ساتھ توبہ کی تکلیف کا نام تک نہیں سلف میں البتہ بڑے بڑے لوگوں کی ایسی نظیریں موجود ہیں مثنوی مولانا رومی می ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ایک یہودی پربڑی جدوجہد کے بعد غلبہ پایا اوراس کے سینے پرچڑھ کربیٹھ گئے تلوار سے اس کا کام تمام کرنا چاہتے تھے کہ اس نے آپ کے منہ پرتھوک دیا آپ چھوڑ کرالگ ہوگئے اس یہودی کی حیرت کی کوئی انتہا نہ رہی اس کے دریافت کرنے پر فرمایا کہ ہمارا جو کام بھی ہوتا ہے اللہ کے واسطے ہوتا ہے نفس کے واسطے نہیں ہوتا جب تک تجھ کو پچھاڑا اور تلوار تیرے قتل کوا ٹھائی یہ سب اللہ کے لئے تھا جب تونے منہ پر تھوک دیا تو ایک نیا غصہ پیدا ہوا اس لئے شبہ پیدا ہوگیا کہ اب کہیں اس کا قتل نفس کے واسطے نہ ہو اس لئے چھوڑدیا وہ یہودی ایمان لے آیا اب بھی اللہ کے بندے مخلص ہیں گو کم سہی ابھی کا واقعہ ہے کہ یہاں ایک مسجد جولا ہوں کے محلہ میں ہے وہاں کے مہتمم کی درخواست پرکہ وہ بھی جولا ہے ہی ہیں اور غریب آدمی ہیں آٹھ روپیہ میں نے مسجد کی مرمت کی مد میں دیئے اور یہ کہ دیا کہ فی الحال اتنا ہی انتظام ہوسکا بقیہ کا کچھ اور انتظام کرلیا جاوے انہوں نے اس میں سے سات ورپیہ رکھ لئے اور ایک روپیہ واپس نہ کرتے بعض طبیعتیں سلیم ہوتی ہیں ابوالحسن نوری ایک بزرگ ہیں ایک بار دریا کے کنارے کنارے جارہے تھے دیکھا کہ ایک کشتی سے شراب کے مٹکے اتررہے ہیں معتصم باللہ کا زمانہ تھا اس کے لئے وہ مٹکے آئے تھے مگراس اطلاع کے بعد بھی عصا لے کرمٹکے توڑنے شروع کئے مٹکے دس تھے ان میں سے نو تو توڑڈالے اورایک چھوڑ دیا متصم باللہ کو اطلاع ہوئی یہ بزرگ بلوائے گئے معتصم بااللہ نے دریافت کیا کہ آپ نے مٹکے توڑے کیا آپ محتسب ہیں فرمایا کہ محتسب ہوں کہا کس نے محتسب بنایا فرمایا جس نے تم کو بادشاہ بنایا پوچھا احتساب کی سند فرمایا یہ آیت سند ہے یبنی اقم الصلوٰۃ وامربالمعروف وانہ عن المنکر واصبر علی مآاصابک دریافت کیا کہ پھر آپ نے نومٹکے توڑے ایک چھوڑ دیا اس کی کیا وجہ فرمایا کہ نومٹکے توڑنے تک حلوص رہا دسویں پر قلب میں عجیب پیدا ہوگیا تھا کہ ہم بھی ایسے ہیں کہ کسی سے نہیں ڈرتے چونکہ ہمارا ہرکام اللہ کے واسطے ہوتا ہے نفس کے لئے ایک کام بھی نہیں ہوتا اس لئے ایک مٹکا چھوڑ دیا یہ سن کر معتصم باللہ پرکچھ ایسی ہیت طاری ہوئی کہنے لگا کہ میں آج سے آپ کو باقاعدہ محتسب بناتا ہوں دیکھ لیجئے ان بزرگ کا جہاں ذہن پہنچا اس گاؤں والے کا ذہن جس نے افیم کھانے سے توبہ کی تھی وہاں تک پہنچا یہ ہیں وہ علوم جن کے متعلق فرماتے ہیں :
بینی اندر خود علوم انبیاء ٭ بے کتا ب وبے معید و اوستاد
( بیٹا نماز پڑھا کراور اچھے کاموں کی نصیحت کیا کر اور برے کاموں سے منع کیا کر اور تجھ پرجو مصیبت واقع ہو ، اس پر صبر کیا کرتم اپنے اندر بغیر کسی مدد گار اور استاد کے انبیاء علیہماالسلام جیسے علوم کا مشاہدہ کروگے ) ۔
(مفلوظ 350 )والد مرحوم کی ادائیگی حقوق کے لئے کاوش :
فرمایا اہل حقوق کا حق پہچانے کی کوشش کررہا ہوں یہ وقت تھا کہ اپنے والد صاحب مرحوم کی چاربیبیوں کا حصہ مہران کے ورثہ کو پہنچانے کا اہتمام کیا جارہا تھا کسی ملفوظ میں اس کی تفصیل بھی ہوچکی ہے جی چاہتا ہے کہ جلد سے جلد پہنچ جائے جتنی جلد حق پہنچ جائیں اتنی ہی جلد طبیعت ہلکی پھلکی ہوجائے گی حق تعالٰی کی طرف سے غیب سے امداد اس میں ہورہی ہے ذرائع ایسے پیدا ہورہے ہیں کہ مجھ پرکوئی ذرہ برابر گرانی نہیں اور برابر اہل حقوق کو ان کے حق پہنچ رہے ہیں ۔
(ملفوظ 349)حیات المسلمین پرعمل سے فلاح دارین ہوگی
فرمایا میں نے مسلمانوں کے لئے کافی انتظام کردیا ہے فلاں دنیا کا بھی اورفلاں دین کا بھی یعنی رسالہ حیات المسلمین میں سب کچھ لکھ دیا ہے اگر اس پر عمل کریں انشاءاللہ دین ودنیا کی فلاح اس میں موجود ہے فرمایا کہ ریل کے سفر میں ایک گنوارکو کہتے سنا تھے بڑے ہی کام کی بات کہہ رہا تھا کہ نیک رہو اور ایک رہو تو حیاۃ المسلمین میں نیک ہونے کا راستہ بتلا دیا ہے اور صیانہ المسلمیں میں ایک ہونے کا راستہ بتلا دیا ہے اب عمل کرنا یہ لوگوں کی ہمت پرہے اور صورت اس کی بہت سہل ہے وہ یہ ہے کہ ہرجگہ پردس دس آدمی ہم خیال ہوکر پنچایت کی صورت بنا لیں اور کام شروع کردیں انشاءاللہ تعالٰی دس ہی آدمی کے ہم خیال ہوجانے سے ساری بستی پراثرہوگا بس اتناعمل کافی ہے پھر جو کام بھی جس سے لینا چاہیں گے کوئی انکار نہ کرے گا صیانہ المسلمین کا حاصل یہی ہے باقی جو مبلغ و واعظ ہیں ان کے بس کا یہ کام نہیں وہ تو صرف طریقہ بتلاسکتے ہیں اور ترغیب دے سکتے ہیں یہ انتظامی کام مقام لوگوں کےکرنے کا ہے کہ وہ جماعتیں بنا کر کام کرتے رہیں اورمبلغ وقتا فوقتا پہنچ کر عام لوگوں کو نصائح کرتے رہیں اس کی برکت سے انشاءاللہ تعالٰی چند روز میں مسلمانوں کی حالت درست ہوسکتی ہے فلاح اور بہبود کا سہران کے سربند سکتا ہے البتہ یہ ضرور ہے کہ کام کرنے والے مخلص ہوں یہ نہ کہ غیر مخلص اول ہی میں گھس جائیں ورنہ پھر یہ ہوگا کہ صدر میں ہوں دوسرا کہے گا میں ہوں اگرمخلص حضرات کام کریں گے انشاءاللہ تعالٰی کامیابی ہوجائے گی اس لئے کہ جتنی ضرورتیں اس وقت مسلمانوں کو ہیں اس رسالہ میں سب ہیں صرف عملی صورت کام شروع کرنے کی ضرورت ہے لیکن اگرمسلمان کچھ کرنا ہی نہ چاہیں تواس کا میرے پاس کیا علاج ہے ۔
18 شوال المکرم 1350ھ مجلس بعد نماز جمعہ
(ملفوظ 348) حضرت والا کا عفو وحلم
ایک صاحب کا ذکر فرمایا کہ یہ فلاں مولوی صاحب کے صاحبزادے ہیں ایک سنگین معاملہ میں پھنسے ہوئے ہیں یہاں پردعاء اور ایک عہدہ دارسے سفارش کے لئے آتے تھے میں نے دعا سفارش دونوں کردیں سفارش میں یہ لکھ دیا کہ آپ کو بعد تحقیقات صحیح جوواقعہ کا علم ہو اس عمل اور اتنا اورلکھ دیا کہ میرے پیر بھائی کے بیٹھے ہیں یہ میں نےلکھ کر ان کو دکھلا بھی دیا کہ اگر یہ کافی ہوتو دیکھ لیں ورنہ اورمضمون بدل دوں کہنے لگے بہت کافی ہے بہت زیادہ ہم لوگوں کو گالیاں دینے والے یہ صاحب تھے مگر یہ انتقام کا موقعہ تھوڑا ہی تھا بلکہ امداد کا مو قعہ تھا سو میں نے دعا بھی کی اور سفارش بھی کی اللہ تعالٰی نے ان نجات دی سخت پریشان تھے ۔
(ملفوظ 347)ستانے کا تعویذ :
ایک شخص نے بہت ہی پست آواز سے تعویذ مانگا فرمایا کہ زور سے بولو تاکہ میں سن لوں اس طرح پربولنا کہ دوسرا سن ہی نہ سکے کہاں سے سیکھا ہے اس نے پھر دوبارہ عرض کیا مگر قریب قریب اس ہی لہجہ میں فرمایا کہ میں نے اب بھی نہیں سنا تیسری مرتبہ میں بلند آواز سے عرض کیا ستاؤ کا تعویذ چاہے فرمایا بندہ خدا اول ہی دفعہ میں اس طرح کیون نہ بولا تھا پھر فرمایا جب جن تمہیں ستاتا ہے اور تم مجھے ستاتے ہوتو جن کے تعویذ کے ساتھ ایک تعویذ تمہارے لئے بھی چاہئے تاکہ تم بھی کسی کو بہ ستاؤ ۔

You must be logged in to post a comment.