( ملفوظ 346 )مسلمان کی پہچان تو ڈاڑھی سے ہوتی ہے :

دو شخص تعویذ کے لئے حاضرہوئے حضرت والا ان لوگوں کی صورت دیکھ کر یہ امتیاز ن فرماسکے کہ یہ مسلمان ہیں یا ہندو اس لئے حضرت والا کا معمول یہ ہے کہ اگر مسلمان ہوں تو تعویذ عطا فرماتے ہیں اور ہندوؤں کو احتیاطا فرمایا کرتے ہیں کہ کچے سوت کی چنیچلی لے آؤ گنڈا بنادیا جائےگا اور ا ثر میں کچھ فرق نہیں پڑتا لہذا ان شخصوں سے یہ ہی فرمایا کہ پانی لے آؤ پڑھ دوں گا اور ایک سوت کی چنچیلی لے آؤ گنڈا بنادوں گا جب وہ چلے گئے فرمایا کہ آج کل بڑی آفت ہے ہندو مسلمانوں میں امتیاز نہ رہا ایک سی صورت ایک لباس کس طرح پہچانا جائے داڑھی منڈانے کا ایسا عام رواج ہوگیا ہے کہ جیسا داڑھی رکھنا شعار اسلام تھا ویسا ہی بعض مقامات میں داڑھی منڈانا شعار اسلام ہوگیا ہے اس کے متعلق ایک حکایت یا د آئی سہارنپور میں ایک صاحب تھے جنکی بڑی داڑھی تھی وہ ہندوستان سے شام میں گئے تھے بڑی داڑھی کی وجہ سے بیچارے پکڑے گئے معلوم یہ ہوا کہ وہاں داڑھی رکھنا علامت ہے یہودی ہونے کی اور داڑھی منڈانا یا کٹانا علامت ہے مسلمان ہونے کی جب شام میں یہ حالت ہے تو رات میں نہ معلوم کیا ہوگی اس میں لفظی صنعت ہے مراد رات سے دارالکفر ہے جہاں ظلمت ہی ظلمت ہو پھر فرمایا اب تو یہ حالت ہورہی ہے کہ اس حالت کو دیکھ یہ شعر یا د آتا ہے :
اے بسرا پردہ یثرب بخواب ٭ خیز کہ شد مشرق ومغرب خراب
( اے وہ ذات جو مدینہ منورہ میں استراحت فرمارہے ہیں اٹھئے کہ مشرق ومغرب خراب ہورہے ہیں )

(ملفوظ 345)چند واقعات بچپن حضرت حکیم الامت :

فرمایا کہ بچپن میں ایسے ایسے کھیل سوجھتے تھے ایک قصبہ چرتھاول ہے وہاں پربڑی ہمشیرہ کی شادی ہوئی تھی جن کا اسی زمانہ میں انتقال بھی ہوگیا اور تائی صاحبہ بھی وہیں کی تھیں اس وجہ سے سب لوگ مرد وعورت ہم لوگوں سے بہت محبت کرتے تھے ان کا بڑا کنبہ تھا ایک بہت بڑی حویلی ہے جو پخن کا محل کہلاتا تھا اس میں سب رہتے بہت سے بچے اور بہت سی عورتیں تھیں ایک روز سب لڑکوں اور لڑکیوں کے جوتے جمع کرکے ان کو برابر رکھا اور ایک جوتے کو سب کے آگے رکھا وہ گویا کہ امام تھا اور رنگ کھڑے کرکے اس پرکپڑے کی چھت بنائی وہ مسجد قراردی یہ کھیل تھا ایک اور کھیل یا د آٰیا ایک مرتبہ میرٹھ میں ایسا ہوا کہ بارش کے ایام تھے مگر کبھی کبھی ترشح بھی ہوتا تھا باہر صحن میں لیٹا کرتے تھے والدہ صاحبہ کا انتقال ہوگیا تھا ہم لوگ والد صاحب کے پاس رہتے تھے تین چار چارپائیاں برابر بچھی ہوئی تھیں والد صاحب کی اور ہم دونوں بھائیوں کی میں نے رسی لےکر سب کے پائے ملا کر خوب کس کرباندھد دیدیئے اور پڑکرسوگئے پھروالد صاحب بھی آکرلیٹ گئے اتفاق سے بارش آئی تو والد صاحب اٹھے اورہم کو بھی اٹھایا بچپن کی نیند تھی ہوں ہوں کرکے پھرسو گئے والد صاحب جھنائے نہیں اٹھتے تو پڑا رہنے دیا اور اپنی چار پائی گھسیٹی اب وہاں تینو چارپائیاں ایک چلی آرہی ہیں بے حد غصہ ہوئے اور فرمایا کہ ایسی ایسی حرکتیں کرتے ہیں اب سب بھیگ رہے ہیں چاقو تلاش کرکے لائے اور ان رسیوں کو کاٹا تب وہاں سے چارپائیاں اٹھ سکیں صحیح تو یاد نہیں کہ اس حرکت پرکوئی چپت لگایا نہیں ایک اور کھیل یا د آٰیا یہ بھی میرٹھ کا واقعہ ہے دیوالی کے روز شب کے کوجودوکانوں کے سامنے چراغ جلتے رکھدیئے جاتے تھے ہم دونوں بھائی کئی سال تک ایسا کرتے کہ رومال ہاتھ میں لے کر ایک طرف سے بجھاتے ہوئے چلے گئے اور واپسی میں دوسری طرف کے بجھا دیئے مگر کوئی کچھ نہیں کہتا حالانکہ ہماری کوئی حکومت نہ تھی مگر والد صاحب کا لحاظ تھا حتیٰ کہ برا تک نہیں مانتے تھے فرمایا ایک مرتبہ میرٹھ میں میاں الہی بخش صاحب مرحوم کی کوٹھی میں جو مسجد تھی سب نمازیوں کے جوتے جمع کرکے اس کے شامیانہ پرپھینک دیئے نمازیوں میں غل مچا کہ جوتے کیا ہوئے ایک شخص نے کہا کہ یہ لٹک رہے ہیں مگر کسی نے کچھ نہیں کہا یہ خدا کا فضل تھا باوجودہ ان حرکتوں کے اذیت کسی نے نہیں پہنچائی وہ ہی قصہ رہا جیسا کسی نے کہا ہے :
تم کوآتا ہے پیار غصہ ٭ ہم کو غصہ پر پیار آتا ہے
یہ سب اللہ کی طرف سے ہے ورنہ ایسی حرکتوں پرپٹائی ہوا کرتی ہے فرمایا کہ ایک صاحب تھے سیکری کے ہماری سوتیلی والدہ کے بھائی بہت ہی نیک اور سادہ آدمی تھے والد حاحب نے ان کو ٹھیکہ کے کام پررکھ چھوڑا تھا ایک مرتبہ کمریٹ سے گرمی میں بھوکے پیا سے پریشان گھر آئے اور کھانا نکال کرکھانے میں مشغول ہوئے گھرکے سامنے بازار ہے میں نے سڑک پرسے ایک کتے کا پلہ چھوٹا سا پکڑکر گھر آکر ان کی دال کی رکابی میں رکھ دیا بیچارے روٹی چھوڑ کر کھڑے ہوگئے اور کچھ نہیں کہاں جہاں اس قسم کی کوئی بات شوخی کی ہوتی تھی لوگ والد صاحب کا نام لے کر کہتے کہ ان کے لڑکوں کی حرکت معلوم ہوتی ہے مگر کوئی کچھ کہتا نہ تھا اوران شوخیوں پرکبھی والد صاحب کو غصہ آتا تو بھائی کو زیادہ مارتے اورکوئی پوچھتا تو فرماتے کہ سکھلاتا یہ ہی ہے حالانکہ یہ بات واقع کے خلاف ہوتی تھی میں خود بھی ایسی حرکتیں کرتا تھا مگر مشہور یہ ہی تھا کہ یہ سکھلاتا ہے ایک مرتبہ تائی صاحبہ نے والد صاحب سے فرمایا کہ بھائی تم چھوٹے ہی کو کیوں مارتے ہو حالانکہ دنگا دونوں ہی کرتے ہیں فرمایا دو وجہ ہیں ایک تو یہ کہ سبق یاد کرلیتا ہے میرے متعلق فرمایا اس لئے یہ پیارا معلوم ہوتا ہے اور ایک یہ کہ یہ خود نہیں کرتا چھوٹا سکھلاتا ہے فرمایا میں ایک روز پیشاب کر رہا تھا بھائی صاحب نے آکر میرے سرپر پیشاب کرنا شروع کردیا ایک روزایسا کہ بھائی پیشاب کررہے تھے میں نے ان کے سرپرپیشاب کرنا شروع کردیا اتفاق سے اس وقت والد صاحب تشریف لے آئے فرمایا یہ کیا حرکت ہے میں نے عرض کیا ایک روز انہوں نے میرے سرپر پیشاب کیا تھا بھائی نے اس کا بلکل انکار کردیا مختصرسی پٹائی ہوئی اس لئے کہ میرا دعوٰی ہی دعویٰ رہ گیا تھا ثبوت کچھ نہ تھا اورمیرے فعل کا مشاہدہ تھا غرض جوکسی کو نہ سوجھتی تھی وہ ہم دونوں بھائیوں کو سوجھتی تھی بھائی صاحب بچپن میں مجھ سے کہا کرتے تھے کہ ہم ایک کرسی پربیٹھے ہوں گے سامنے میز ہوگی اور پکار پکار کرکہتے ہوں گے کہ او فلاں او فلاں نے مراد حکومت تھی اورتم ایک چٹائی پربیٹھے ہوگئے دوچار لڑکے سامنے ہونگے ایک قمچی ہاتھ میں ہوگی مطلب یہ تھا کہ لڑکے پڑھاؤ گے مگر ایسا ہونے کے بعد ان ہراس فرق کا یہ اثر ہواکہ اب ان کو یہ حسرت ہوا کرتی تھی کہ افسوس مجھکو والد صاحب نے علم دین کیون نہیں پڑھایا اور مجھ کو بحمداللہ کبھی یہ حسرت نہیں ہوئی کہ والد صاحب نے مجھ کو علم دنیا کیوں نہیں پڑھایا ۔

(ملفوظ 344)حضرت حاجی صاحب فن طریقیت کے امام تھے :

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ ہمارے حضرت حاجی صاحب رحمتہ اللہ علیہ اس فن کے امام تھے حدیث شریف میں آیا ہے الغیبۃ اشد من الزنا یہ تو مسلم ہے کہ احکام میں متعدد حکمتیں ہوتی ہہیں چنانچہ اس کی ایک حکمت تو مشہور ہے وہ یہ کہ زنا حق اللہ ہے اور غیبت حق العبد ہے اور ایک حضرت نے اپنے علوم موہوبہ سے ایک مرتبہ بیان فرمائی وہ یہ کہ غیبت گناہ جاہی ہے اور زنا گناہ باہی ہے یعنی منشاء غیبت کا تکبر ہے جوبعد غیبت کے بھی باقی رہتا ہے اور اسی لئے اکثر غیبت کرنے والے کو مذمت نہیں ہوتی ہے اور اپنے کو گنہگار نہیں سمجھتا بخلاف زنا کرنے والے کے کہ اس کو مذمت نہیں ہوتی ہے اور اپنے گنہگار نہیں سمجھتا بخلاف زنا کرنے والے کے کہ اس کو ندامت بھی ہوتی ہے اور اپنے کو گنہگار بھی سمجھتا ہے سبحان اللہ کیا ٹھکانا ہے ان علوم موہوبہ کی لطافت کا اور جوحکمتیں خود منصوص ہیں وہ ان واردات سے بھی زیادہ لطیف ہیں ۔
17 شوال المکرم 1350ھ مجلس بعد نماز ظہر یوم پنج شنبہ

(ملفوظ 343)طریق میں دوچیزوں کا تزکیہ :

ایک مولوی صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ طریق بہت ہی سہل ہے مجھ جیسے نادان آدمی نے جب اس کو سمجھ لیا پھر کیا مشکل رہا اب میں اس کوسہل عنوان سے سمجھاتا ہوں کہ اس طریق کا حاصل نفس کا تزکیہ ہے اور جس چیز سے تزکیہ کیا جاتا ہے وہ دو چیزیں ہیں شہوت اور کبر اوران کا علاج کامل کی صحبت ہے کیونکہ وہ اس کنارے سے اس کنارے لے جاکر کھڑا کردیتا ہے طالب کاکام صرف یہ ہے کہ اپنے کو اس کے سپرد کرکے وہ جوتعلیم کرے اس کو بجالائے اس میں سر موفوق نہ کرے اسی کو مولانا فرماتے ہیں:
قال رابگذار مرد حال شو ٭ پیش مردے کاملے پا مال شو
آج کل خرابیاں پیدا ہورہی ہیں یہ ساریاں خود رائی کی ہیں خودرائی بڑی ہی مضر چیز ہے فرماتے ہیں
فکرورائے خود ودر عالم رندی نیست ٭ کفرست دریں مذہب خود بینی وخود رائی ( اپنی رائے اور فکر عالم رندی میں بلکل چھوڑنے ضروری ہیں خود بینی اورخود رائی اس راہ میں مثل کفر کے ہیں )

(ملفوظ 341)مخالفین کے قلوب میں بھی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ جوحضور علیہ الصلوۃ والسلام کے غلام ہیں وہ تو میں ہی مگر جومخالف ہیں ان کے قلوب میں بھی حضورکی عظمت ہے اگرکوئی مخالف شخص نبوت کا بھی مصدق تصدیق کرنے ولا ) نہ ہوتو اور کمالات اور عادات واخلاق حضور کے ایسے ہیں کہ ان کا تو انکار ہو ہی نہیںسکتا ۔
فضولیات میں وہ مبتلا ہیں جن کو عاقبت کی فکر نہیں کرنی چاہئے اپنی خیر منانا چاہئے دوسروں کے متعلق نہ اس کو مشورہ کی ضرورت نہ فتوٰی حاصل کرنے کی ضرورت اسکو ایک مثال سے سمجھئے ایک شخص پرپھانسی والے کے پاس جائے کہ مجھ کو بچاؤ اور وہ اس کے ساتھ ہوکہ اس کے بچانے کی فکر میں لگ جائے تولوگ اس کوکیا کہیں گے یہی کہیں گے کہ تجھ کو پرائی کیا پڑی اپنی نبیڑتو ۔

(ملفوظ 340)راہ طریقیت میں شیخ مبصر کی ضرورت :

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ ایک صاحب نے لکھا تھا کہ مجھ کو جیسی محبت آپ سے پہلے تھی اب نہیں رہی میں نے لکھا کہ پھردینی ضرر کیا ہوا بھی مکھا تھا کہ نماز میں خشوع و خضوع نہیں رہا میں نے لکھا کہ اختیاری درجہ نہیں رہا یا غیراختیاری نہیں ریا یہ بھی لکھا تھا کہ پہلی باتیں یاد کر کے دل ڈھونڈتا ہے میں نے لکھا کہ بچپن کو یاد کرکے بھی دل ڈھونڈتا ہے اس پرفرمایا کہ ان کو تو میری محبت نہ رہنے پرحسرت ہے اگرحق سبحانہ وتعالٰٰی کے ساتھ بھی محبت طبعی نہ ہو تو اس میں بھی کوئی ضرر نہیں عقیلہ اختیاریہ ماموربہ ہے وہ ہونا چاہئے وہی کافی ہے اس ہی لئے شیخ مبصری کی اس راہ میں ضرورت ہے ورنہ اس راہ میں ہزارہا حضرات ہیں ۔

(ملفوظ 339)ہمت سے زائد اپنے ذمہ کام رکھنا خلاف عقل ہے :

ایک مولوی صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کام اس قدر کرنا چاہئے جس کا تحمل بے تکلف ہوسکے ہرکام کے لیے اسی کی ضرورت ہے ہمت سے زائد اپنے ذمہ کام رکھ لینا عقل کے خلاف ہے حضرت مولانا محمد یعقوب صاحب رحمتہ اللہ علیہ نے ایک مثال عجیب و غریب بیان فرمائی تھی کہ جس قدر کام کا ذوق وشوق ہو اس سے کچھ کام چاہئے اسی طرح جس قدر بھوک ہو اس سے کچھ کم کھانا چاہئے جیسے چکی کہ اس میں پھرانے کے وقت کچھ تاگہ چھوڑ دیا جاتا تاکہ وہ اس کے ذریعہ سے واپس آسکے اگرنہ چھوڑا جائے وہ لوٹ نہیں سکتی پھر از سرنو اہتمام کرنا پڑتا ہے اس مثال کی خوبی پرایک دوسری مثال کا قصہ بیان فرمایا گو وہ دوسرے باب کا مضمون ہے وہ قصہ مولوی محمد یسین صاحب والد مولوی محمد شفیع صاحب سے نقل فرمایا وہ مولانا محمد یعقوب صاحب رحمتہ اللہ علیہ کے پاس زیادہ بیٹھتے تھے اور دل کھلا ہوا تھا اس لئے جوجی میں آتا کہہ بھی دیتے ایک روز مولانا کے ایک مبسوط کلام کے بعد ان سے کہتے ہیں کہ کثرت کلام کو بزرگوں نے اچھا نہیں سمجھا اور آپ کثرت سے کلام کرتے ہیں یہ کیا بات ہے مولانا نے فرمایا کہ تقلیل کلام خود مقصود بالزات نہیں مقصود تویہ ہے کہ فضول کلام نہ ہومگر مبتدی ابتداء تعدیل پرقادر نہیں ہوتا اس لئے معالجہ کے درجہ میں بہت زیادہ تقلیل تجویز کرتے ہیں تاکہ اعااعتدال پرآجائے اس کی ایسی مثال ہے کہ کاغذ لپٹا ہوا رکھا ہوتا ہے جب اس کو کھولتے ہیں تو وہ پھر اسی طرح لپٹ جاتا ہے اس لئے اس کو اس طرح سیدھا کرتے ہیں کہ اس کو دوسری مخالف طرف اسی طرح لپیٹنے ہیں جس سے وہ سیدھا ہوجاتا ہے اسی درجہ میں ضرورت ہے تقلیل کلام کی ورنہ وہ خود مقصود بالذات نہیں مولانا کے علوم عجیب ہوتے تھے بڑی سے بڑی بات کو اس طرح پر بیان فرمادیتے تھے کہ ہرشخص جاتا تھا ۔

(ملفوظ 338)متمرد کے نکالنے پرمعزورہونا :

ایک صاحب کی غلطی پرمواخذہ فرماتے ہوئے فرمایا کہ لوگ سیدھی اور سہل بات کوکس قدر الجھا دیتے اورسخت بنادیتے ہیں گفتگو کے ختم تک یہ بھی تو فیق نہ ہوئی کہ یہ کہہ دیتے کہ مجھ کو اس کا علم نہ تھا کہ یہ مصافحہ کا موقع ہے یا نہیں باقی غلطی کا تو اقرار کیا کرتے خناس دماغوں میں گھسا ہوا ہے میں اسی کو نکالنا چاہتا ہوں جس شخص می اتنا تمرد ہو اس کی اصلاح کی امید کیا کی جائے یہ بھی حس نہ ہوئی کہ دوسرے پراس کا کیا اثر ہوگا بتلایئے ایسے متمرد کے نکالنے پربھی میں معذور ہوں یا نہیں یہ اچھا ہوا کہ میں نے بواسطہ گفتگو کی جس سے مزاج میں کوئی تغیر نہیں ہو اور نہ الزام دیتے کہ مجھ پرسختی کی اس لئے گڑبڑ میں پڑگیا مگر اب توکوئی شبہ ہی نہیں رہا اورنہ کسی تاویل کی گنجائش رہی کیا ٹھکانا ہے اس بدفہمی کا خیر ہمیشہ کو گئے مگر اب پیچھا چھٹا اس لئے کہ بہت باگواری کے ساتھ فیصلہ ہوا اگر میں براہ راست گفتگو کرتا یا تیزی سے کچھ کہتا تو یہ احتما ل ہوسکتا تھا کہ مغلوب ہوکر ایسا خبط ہوگیا اس میں شبہ کی گنجائش رہ سکتی تھی اوراب تو کوئی گنجائش ہی نہیں رہی ، بیچارے بہت سی پریشانیوں سے بچ گئے دیکھئے میں اس قدر کنج وکاونہ کروں تو یہ قلعی ان کی کس طرح کھلے اوریہ چورکس طرح پکڑے جائیں مادہ تو تھا ہی کسی اور کو نکلتا اس مادہ کی ایسی مثال ہے کہ کسی حوض کی تہیہ میں کیچڑ اور گارا ہے اگرزور سے ڈھیلا مارا جائے تو سب پانی گدلا ہوجاتا ہے بات یہ ہے کہ واقع میں خلوص نہیں ہوتا دھوکہ ہوجاتا ہے جیسا مدینہ شریف میں رہ کرمیل کچیک والا نہیں رہ سکتا آخر میں کہاں تک رعایت اور سامح کروں اگر ایسا برتاؤ نہ کروں تو پتہ چلے مخلص اور غیر مخلص کا دیکھئے ادنی ادنیٰ صنعتون کو لوگ نہیں سکھاتے جب تک طلب اورخلوص پراطمینان نہیں ہوجاتا اسی طرح جب تک ثبات ورسوخ محقق نہ ہوجائے اس وقت تک بیعت کرنا اور ہونا چاہئے ہی نہیں اور اسی طرح جب تک خلوص پراطمینان نہ ہوجائے اس وقت تک ہدیہ لینا بھی نہیں چاہے میرے یہاں بہت سے تجربون کے بعد اصول اور قواعد مرتب ہوئے ہیں جن پرلوگ خفا ہیں ۔

(ملفوظ 337)اولاد کا ہونا اور نہ ہونا دونوں نعمت ہیں :

ایک صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ جیسے اولاد کا ہونا نعمت ہے ایسے ہی نہ ہونا بھی نعمت ہے میں تو اللہ کا شکرادا کرتا ہوں کہ مجھ کو اس سے محفوظ رکھا بچوں کی تربیت بڑی مشکل چیز ہے مجھ کو تو بڑی الجھن ہوتی ایک دق لگ جاتی بچوں کی تربیت کے لئے بڑے ہی حکیم کی ضرورت ہے ۔
17 شوال المکرم 1350 ھ مجلس خاص بوقت صبح یوم پنج شنبہ

(ملفوظ 336)بیعت میں عجلت نہ کرنے میں حکمت

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ میں جو خطوط کے جواب میں لوگوں کی بے ہودگیوں پر متنبہ کرتا ہوں تو بعضے خفا ہوکر ایسے جواب لکھتے ہیں کہ میں اس جواب کا اظہار نہیں کرتا دوستوں کو رنج ہوگا بلکہ پھاڑ کرردی میں ڈال دیتا ہوں ان ہی وجود سے میں بیعت کرنے میں عجلت کو مناسب نہیں سمجھتا سخت ضرورت ہے اس کی کہ جس سے تعلق پیدا کرے اس کے عقائد کی اعمال کی اخلاق کو خوب دیکھ بھال لے ممکن ہے کہ کل کوکوئی کھٹک پیدا ہوتو اس کا پہلے ہی معلوم ہوجانا ضروری ہے ۔