ایک خط کے سلسلہ میں فرمایا کہ یہ لکھا ہے کہ میرے نفس کی اصلاح کے لئے ذکر وشغل بھی تعلیم فرمایا جاوے فرمایا کہ کیا بھدا پن ہے یہ لکھنا چاہئے تھا کہ میرے نفس کی اصلاح کے لئے جومناسب ہو تعلیم فرمادیں میں نے جواب میں لکھ دیا ہے کہ جب خود علاج تجویز کرتے ہوء تو پھر دوسرے کی کیا ضرورت ہے جوجی چاہے وہ پڑھ لیا کرو کیا بے ہودگی ہے اب اگر اس کے جواب میں کچھ ذکر وشغل لکھ دیتا تو یہ شخص ہمیشہ کے لیے جہل میں مبتلا رہتا اوریہ سمجھتا کہ ذکرشغل سے اصلاح ہوجاتی ہے ۔
(ملفوظ 334)آمادہ اور آمادہ ( لطیفہ )
ایک مولوی صاحب تین بجے والی گاڑی سے حاضر ہوئےحضرت والا کے دریافت کرنے پرعرض کیا کہ ایک مناظرہ کے سلسلہ میں دہلی جانا ہوا تھا وہاں سے واپس ارہا ہوں دریافت فرمایا کہ کیا مناظرہ تھا مناظرہ آریوں سے تھا عرض کیا کہ غیرمقلدوں سے پوچھا پھرکیا ہوا عرض کیا کہ وہ آمادہ ہی نہیں ہوئے مزاحا فرمایا کہ آپ کو اعلان کردینا تھا کہ آمادہ نر آگیا پھر فرمایا کہ کچھ نہیں اہل حق کو دق کرنا ہے سجمھتے ہیں مگر صرف ہٹ اور ضد ہے ۔
(ملفوظ 333)عورت کے خط پرشوہر کے دستخط ضروری ہیں
فرمایا کہ ایک بی بی کا پہلے خط آیا تھا اس ان کی شوہر کے دستخط نہ تھے اس لئے واپس کردیا گیا پھر دستخط ہوکر آئے تو پتہ نا محرم سے لکھوایا ان نا محرم کے خط کو میں پہچانتا تھا اور ان کا رشتہ بھی ان بی بی سے مجھ کو معلوم تھا میں میں نے تنبیہ کی تو پھر بیٹے کے ہاتھ سے پتہ لکھوایا اس تنبیہ سے ان بی بی نے بھی ملتوی کیا بلکہ اپنے شوہر کے ساتھ آنے کا قصد کررہی ہیں دوران تحریرمیں ان بی بی نے یہ بھی لکھا تھا کہ زیارت جوش محبت میں ایسا قصد کیا تھا حضرت والا نے اس لفظ پر بھی تنبیہ فرمائی کہ یہ لفظ بازاری ہے بجائے محبت کے تمنا کا لفظ عورت کو ایسے موقع پراستعمال کرنا چاہئے جو ایک متین لفظ ہے ایسا لفظ مرد مرد کو کہے تو مضائقہ نہیں جامع عرض کرتا ہے کہ سبحان اللہ کیسے کیسے دقائق پرنظر ہے اور کس قدر لطیف اورمؤثر طرز تربیت ہے ۔
(ملفوظ 332)ایک خط میں چارتعویذوں کی درخواست گراں ہے
فرمایا کہ تعویذوں کے متعلق ایک خط آیا ہے اکٹھے ہی چار تعویذ مانگے ہیں اگردس خط ہوں اور سب میں ایک ایک تعویذ کی فرمائش ہو یہ تو آسان ہے مگر چار تعویذوں کی فرمائش ایک خط میں یہ گران ہے ایک تعویذ لکھ کربھیج دوں گا اور لکھ دوں گا کہ جتنی ضرورت ہوکسی سے نقل کرا لینا پھر فرمایا کہ میں نے لکھ دیا ہے کہ اتنی فرصت کس کو لکھ دیا ہے باقی نقل کرالینا ۔
(ملفوظ 331)لوگوں کی بے فکری اور غفلت کی حد
فرمایا کہ کئی روز ہوئے ہیں ایک منی آرڈر آیا تھا کوپن میں کچھ نہ لکھا تھا کہ کس مد کا روپیہ ہے میں نے یہی لکھ کر واپس کردیا آج پھر دوبارہ آیا وہی کوپن پرکچھ نہیں باوجودیکہ غلطی پرمتنبہ کردیا مگر پھروہی حرکت آج پھر واپس کیا یہ حالت ہے لوگوں کی بے فکری اور غفلت کی اب کیسے ان کا کوئی غلام بن جائے آدمی بتلادینے پرتو سمجھ جائے ایسے ایسے عقلمند میرے حصہ میں آگئے میں تو کہا کرتا ہوں کہ اور جگہ بزرگی بٹتی ہے اگر آدمی بننا ہوتو میں خادم موجود ہوں اگر بزرگی لینا ہوتو اور بہت جگہ ہیں گو آدمیت کا بزرگی سے ادنی درجہ ہے مگر بزرگی کے شرائط میں سے ہے میں اس کے ادنی ہونے پرتفریح کے طور پر یہ بھی کہا کرتا ہوں کہ میں قاعدہ بغداد کا مکتب کھول رکھا ہے اوردوسری جگہوں میں ہدایہ درمختار کا مکتب ہے ختم کرنے کی شرط یہی قاعدہ بغدادی ہے کہ ایسا قاعدہ بغدادی ہے کہ ایسا قاعدہ بغدادی ہے جیسے ایک شاعرہ کہتا ہے
زاہد شدی وشیخ شدی دانشمند ایں جملہ شدی ولے مسلمان نہ شدی
مگر میں نے اس نسخہ کو پسند نہیں کیا اس لئے اس کو اس طرح بدل دیا ہے :
زاہد شدی وشیخ شدی دانشمند ایں جملہ شدی ولیکن انسان نہ شدی
میں نے بڑے بڑے مشائخ کے خاص مریدوں سے جہنوں نے یہاں آکر تعلیم کا سلسلہ جاری کرنا چاہا پوچھا کہ تم کو شیخ نے کیا بتلایا تھا جہاں جہاں اورجس جس سےتحقیق کیا بس اور ادو ظائف ہی کی تعلیم معلوم ہوئی اصلاح کا پتہ نہیں حضرت میں نے علماء کو دیکھا بعضے ان میں مشائخ کی طرف سے صاحب اجازت بھی ہیں مگر غلطیوں میں مبتلا ہیں آج کل یہ غلطی عام ہوگئی ہے یہ سمجھتے ہیں کہ صرف ذکر مقصود ہے حالانکہ یہ معین مقصود ہے اس ہی وجہ سے یہ طریق بدنام ہو ا کہ مقصود کو غیر مقصود سمجھ رکھا ہے لوگ فن کی حقیقت سے بالکل بے خبر ہیں کودنے پھاندنے کو جوش وخروش کو ضحک اور بکاء کو حق ہو کر اصل سمجھتے ہیں انتہائی کمال ان لوگون کے نزدیک یہ ہی چیزیں ہیں خدا بچائے جہل سے ایسوں نے لوگوں کو گمراہ کردیا کیفیات نفسانیہ کو طریق سمجھ بیٹھے حالانکہ یہ چیزیں کچھ بھی کمال نہیں بعضوں نے برسوں مجاہدے کیئے ، خدمتیں کیں محنتیں کیں عیش وراحت کو چھوڑا شب شب بھرجاگے مگر حقیقت سے بے خبری سبب تیلی کے بیل کی طرح وہیں کے وہیں رہے صوفی بننا آسان نہیں فرماتے ہیں :
صوفی نشود ؟ صافی تا درنکشد جامے بسیار سفر باید تا پختہ شود جامے
یہ چیزیں کمال کی نہیں کہ رولئے کپڑے پھاڑ لئے جنگلوں میں دیوانہ وار نکل پڑے اسی
کے متعلق کہا گیا ہے کہ :
عرفی اگر بہ گریا میسر شدے وصال صد سال میتواں بہ تمنا گریستن
(ملفوظ 330)آداب مناظرہ :
ایک مولوی صاحب کے سوال کے جوا ب میں تحریر فرمایا کہ یہ سوال آپ کا بے محل ہے ایسے سوالات سے مخاطب کو تنگی ہوتی ہے اور دوسروں کے اقوال کا کیا میں ذمہ دار ہوں کیا ان کا قول کس مجتہد کا قول ہے جس کا اتباع ضروری یا واجب ہو اس لئے اس وقت اس کا نقل کرنا عبث ہے اور آداب مناظرہ تو امور طبعیہ ہیں طبیعت خود بخود بتلاتی ہے تو دوسروں کا قول جو مخاطب کے مسلمات سے نہ ہو خود آداب مناظرہ کے خلاف ہے۔
(ملفوظ 329)زمانہ تحریکات میں حضرات حکیم الامت کے پیچھے نماز نہ ہونے کا فتوٰٰی
ایک سلسلہ گفتگو فرمایا کہ تحریکات کے زمانہ میں تو بعض علماء نے میرے متعلق یہ فتویٰ دیا کہ اس کے پیچھے نماز جائز نہیں میں نے کہا کہ مجھ کو نماز پڑھانے کا ایسا شوق بھی نہیں ایک قریب کے قصبہ میں ایک مولوی صاحب نے بیان کیا تھا کہ اس کے پیچھے نماز جائز نہیں جب میں نے سنا کہ میرے پیچھے نماز کو ناجائز کہتے ہیں تو میں نے ایک مضمون بصورت اسفتاء لکھ کرمولوی شبیر علی کو آس پاس کے مشاہیرے علماء کے پاس بھیجا ان میں وہ بزرگ بھی تھے انہوں نے جاکر وہ پرچہ دیا کہ اس کے متعلق جوشرعی حکم ہولکھ دیجئے دیکھ کرکہا کہ کون کہتا ہے کہ ان کے پیچھے نماز جائز نہیں کہنے لگے ( خلافت کے متعلق مسئلہ ) اختلافی اوراجتہادی مسئلہ ہے اس میں غلونہ کرنا چاہئے یا تو عدم جواز اقتدا کو بیان کیا تھا اور پوچھنے پریہ فرمایا کہ حالت تدین کی ہے اس کے بعد پھر تواسقدر نرم ہوئے کہ ہدیہ بھیجنے لگے اور بقیہ علماء نے اسی کے قریب لکھا ۔
(ملفوظ 328)ایک مناظر مولوی صاحب کے لئے ذوق طریق کی تمنا:
ایک مناظرمولوی صاحب کا ذکرتھا فرمایا کہ بڑے ہی تیز ہیں ایسے لوگوں کے لئے جی چاہتا ہے کہ کچھ ذوق طریق کا بھی ہوجائے تو نور علی نور ہوجائے ۔
(ملفوظ 327)بہشتی زیور پراعتراضات کا منشاء معاصرت ہے :
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ آج کل تو حق نا حق کو دیکھا ہی نہیں جاتا بس یہ دیکھتے ہیں کہ یہ لکھا کس نے بیان کیا کس نے بس پھراگرلکھنے والا کہنے والا ان کے مزاق کے خلاف ہوا تو چاہے اس کا قول ہی ہو مگر اس کے رد کی فکر میں لگ جاتے ہیں اب بہشتی زیور ہی ہے اس میں تمام فقہ ہی کے مسائل ہیں جوفقہ کی کتابوں سے لکھتے گئے ہیں مگر چونکہ میری طرف منسوب ہیں اس لئے وہ قابل رو ہیں یہ دین ہے یہ ایسا ہی ہے کہ ایک شخص نے اپنے حقیقی بھائی کو ماں کی گالی دی کسی نے کہا کہ اس کی ماں اور تیری ماں دو تھوڑا ہی ہیں جواب میں کہتا ہے کہ اس میں دو حثیتیں ہیں ایک اس کی ماں ہونے کی اور ایک میری ماں ہونے کی اس کی ہونے کی حیثیت سے وہ ایسی ویسی ہے یہی حال ان حاسدین کا ہے معاصرت بھی بڑے غضب کی چیز ہے اس میں خواہ مخواہ بھی حسد ہوتا ہے اس حسد سے اس کوبھی مثال کا قصہ یہ ہے کہ ایام عذر میں ایک سپاہی میدان جنگ میں زخمی ہوگیا تھا یہ حکایت ماموں امداد علی صاحب نے مجھ سے بیان کی تھی وہ زخم کی وجہ سے نقل و حرکت نہ کرسکتا تھا شام قریب ہونے کو تھی خیال ہوا کہ رات تنہائی میں کیسے گذرے گی دیکھا کہ ایک لالہ جی چلے جارہے ہیں آوازدی لالہ جی گھبرائے اس لئے کہ اور لاشیں بھی مردہ پڑیں تھیں وہ سمجھا کہ کوئی مردہ بھوت ہوکر پکارا رہا ہے اس نے کہا کہ گھبراؤ نہیں میں زندہ ہوں زخموں کی وجہ سے نقل وحرکت نہیں کرسکتا اور نہ آئندہ زندگی کی توقع ہے میری کمرسے روپیوں کی ہمیانی بندھی ہے یہ یوں ہی بیکار جائے گی تم کھول کرلے جاؤ تمہارے ہی کام آئیں گے روپیہ کا نام سن کرلالہ جی کے منہ میں پانی بھرآٰیا اس کے پاس پہنچے سپاہی کے پاس سے ایک تلوار رکھی تھی تلوار کا ایک ہاتھ اس کی ٹانگوں پررسید کیا لالہ جی نے کہا کہ یہ کیا کیا سپاہی نے کہا کہ بیوقوف ہوئے ہو میدان جنگ میں بھی کوئی روپیہ لے کر آتا ہے بات یہ ہے کہ میں شب کو تنہا پڑا رہتا رحشت ہوتی ( حضرت والا نے مزاحا فرمایا کہ تنہا ( جمع تن )کی ضرورت تھی تنہائی کی ضرورت نہ تھی اب دونوں باتیں کریں گے شب گذر جائے گی اس پر لالہ جی کیا کہتے ہیں کہ اوت نہ آپ چلے نہ اور کوچلنے دے یہ ہی حالت آج کل لوگوں کی ہے کہ نہ آپ چلیں نہ اور کو چلنے دیں فلاں مولوی صاحب کو جو کہ محبت سے یہاں بکثرت آتے ہیں فلاں مدرسہ میں ان کے بعض معاصرین نے یہاں کے آنے پرکہا کہ میاں کہا جایا کرتے ہو وقت خراب کرنے کتب بینی کرو استعداد بڑھے گی یہ بھی وہی بات ہے کہ نہ خود کچھ حاصل کریں نہ اور کوکرنے دیں میں نے مولوی صاحب کے اس ذکرکرنے پران سے پوچھا کہ میں دعویٰ تو نہیں کرتا مگر معاملہ کی بات ہے کہ جب سے یہاں آنے لگے ہوکچھ درسی کتابوں میں بھی زائد سمجھ پیدا ہونے لگی ہے انہوں نے کہا کہ بہت کچھ جو اشکالات ساری عمر میں بھی حل نہ ہوئے تھے وہ یہاں کے آنے کی بدولت چند روز میں حل ہوگئے فرمایا کہ ان کا جواب تو یہی کافی ہے کہ میںدرسیاست ہی کی تکمیل کے لئے جاتا ہوں اور یہ جواب توان کے مذاق کے موافق کتابوں کے متعلق ہے باقی اس سے قطع نظر صحبت تو وہ چیز ہے کہ اس سے ذوق صحیح پیدا ہوکر قرآن وحدیث کا مدلول سمجھ میں آنے لگتا ہے اور معترض کے اختلاف پر میں ایک جماعت کے صدر ہیں ان تحریکات میں ان کو مجھ سے اختلاف ہے مگر خلاف نہ اس وقت تھا نہ اب ہے میں تحریک خلافت میں برابر یہی کہتا تھا کہ اختلاف کا مضائقہ نہیں مگر یہ عداوت کیسی کہ سب وشتم کرتے ہو جوشریعت کے بھی خلاف اور شرافت کے بھی خلاف ۔
(ملفوظ 326)اردو میں خطبہ کی تجویز کا نیا فتنہ :
فرمایا کہ آج کل ایک اور فتنہ شروع ہورہا ہے وہ یہ کہ اس پرزور دیا جارہا ہے کہ خطبہ اردو میں ہونا چاہئے یہ دو طبقے تو بالکل آزاد ہوگئے ہیں ایک نیچری اور ایک جاہل صوفی ان دونوں میں احکام سے بالکل ہی آزادی ہوگئی ہے خطبہ کے متعلق ایک رسالہ مولوی محمد شفیع صاحب نے لکھا ہے اس کا نام ہے الا عجوبہ فی خطبۃ العروبہ ، عروبہ کو جمعہ کہتے ہیں میں نے لکھ دیا ہے کہ یہ نام بہت فصیح تو نہیں ہے بھدا بھی نہیں اگر پسند نہ ہو تو اور جو پسند ہو اورجی چاہے وہ ہی رکھ لیں اس مسئلہ کے متعلق ایک نہایت عجیب استدلال سمجھ میں آیا وہ بھی اس رسالہ میں لکھ دیا ہے اوروہ استدلال حنفی کے لئے ہے وہ یہ کہ امام صاحب فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ سبحان اللہ الحمد للہ کہنے سے خطبہ ادا ہوجائے گا اس سے معلوم ہوا کہ خطبہ ذکر ہے تذکیر ( احکام پہنچانا ) نہیں اور دوسری زبان میں پڑھنے کا مشورہ دینے والے زیادہ تراسی سے استدلال کرتے ہیں کہ عربی زبان کو مخاطبین سمجھتے نہیں پھرکیا فائدہ اس کا جواب ظاہر ہوگیا کہ جب وہ تذکیر نہیں تو سمجھنے کی ضرورت نہیں اس استدلال کے ہوتے ہوئے ہم کو کسی اوراستدلال کی ضرورت بھی نہ تھی اس کے قبل یہ میرے ذہن میں کبھی نہیں آیا تھا اور اس کا ذکر ہونا خود قرآن شریف سے ثابت ہے کہ حق تعالٰی فرماتے ہیں فاسعوا الٰی ذکراللہ وذروا البیع ، اس کو ذکر فرمایا ہے ذکری بمعنی تذکیر نہیں فرمایا جیسے قرآن مجید کے متعلق فرمایا ہے وما ھوالا ذکریٰ للعلمیں پس خطبہ امر تعبدی ہے جیسے نماز میں قرآت اس میں قیاس کا کچھ دخل نہیں اس لیے اس میں قیاس بھی نہیں چلتا کہ مقصود اس سے تفہیم ہے سویہ مقصود جس طرح حاصل ہوجاوے اور فقہاء نے جو خطبہ کے متعلق لکھ دیا ہے کہ اس میں احکام کی تعلیم کی جاوے وہ حکمت ہے علت نہیں خود عید کے متعلق روایات میں تصریح ہے کہ زائد مقصود کے لیے آپ نے ممبر سے نزول فرمایا جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس کے ساتھ خطبہ کا معاملہ نہیں فرمایا ۔

You must be logged in to post a comment.