خواجہ صاحب نے عرض کیا کہ حضرت اکثر فرمایا کرتے ہیں کہ طریق سلوک بہت نازک طریق ہے بظاہر ،، وما جعل علیکم فی الدین من حرج ،، کے خلاف معلوم ہوتا ہے فرمایا کہ یہ لوگ توجہ نہیں کرتے ۔ اس واسطے نزاکت پیدا ہوجاتی ہے اگرتوجہ کریں تو آسان ہوجائے حقیقت میں کوئی نزاکت نہیں مگر چونکہ لوگوں کو اس راہ سے بوجہ عدم طلب مناسبت نہیں ۔ خدا تعالٰی اس لئے دشوار معلوم ہوتا ہے اور اسی وجہ سے نازک ہونے کا حکم کیا جاتا ہے پس کوئی تعارض نہیں ۔
16 شوال المکرم 1350ھ مجلس بعد نماز ظہر یوم چہارم شنبہ
(ملفوظ 324)والدہ مرحوم کے اہل حقوق کی ادائیگی :
فرمایا کہ اہل حقوق کے حقوق کی تقسیم کا سلسلہ جاری ہے ( اس کا واقعہ یہ ہے کہ صاحب ملفوظات نے اپنے والد صاحب مرحوم چاربیبیوں کا جن میں ایک حقیقی ماں اور تین سوتیلی مائیں ہیں مہر جتنا حصہ رسد اپنے ذمہ تھا ادا کرنا چاہا اور مناسخہ سے جس جس کا جتنا حق تھا تلاش کرکرکے پہنچایا اس کے متعلق مخاطبین سے فرمایا کہ ) دعا کیجئے کہ اللہ تعالٰی سب اہل حقوق کا حق جلد ادا کریں ۔ اہل حقوق خود کہتے ہیں بیچارے کہ صاحب اس وقت مہر کی معافی عام تھی دینے کی ضرورت نہیں ۔ میں نے کہا کہ مجھ ک بھی یہ معمول معلوم ہوگیا مگر جی گوار نہیں کرتا کہ اس معمول کو حجت سمجھا جاوے اور کسی کا حق محتمل بھی رکھا جائے ایک سال سے اہل حقوق کی تلاش ہورہی ہے اب تک بھی بعض کا پتہ نہیں چلا کوئی مکہ میں ہے کوئی مدینہ میں کوئی بمبئی میں کوئی کلکتہ میں کوئی لاہور میں کوئی حیدر آباد میں کوئی پھوپال میں غرضکہ ہرطرف پھیلے ہوئے ہیں الحمد للہ اکثر کا پتہ چل گیا ہے بعض باقی ہیں ان میں باوجود سعی اور کوشش کے جن کا پتہ نہ چلے گا ان کا حصہ اللہ کے واسطے خرچ کرکے اس کا ثواب پہنچا دیا جائے گا انشاءاللہ ایسے موقع پریہ حکم ہے شریعت کا ، مگر پھر سب کا پتہ چل گیا ۔ بعض کے حصہ میں ایک ایک پیسہ آٰیا بحمداللہ وہ بھی ادا کیا گیا ۔ 12جامع )
(ملفوظ 323)دارالعلوم کی سرپرستی سے استعفاء کے بارے میں :
ایک سلسلہ گفتگو میں ایک مدرسہ کے متعلق فرمایا کہ جب کس مشورہ پر عمل نہیں کرتے نہ خود کوئی مشورہ لیتے ہیں تو ایسی سرپرستی سے فائدہ ہی کیا ۔ اسی وجہ سرپرستی چھوڑکر ہلکی طبیعت ہوگئی اور اگرکبھی پوچھتے بھی ہیں اور مشورہ بھہ لیتے ہیں تو عمل نہیں کرتے ۔
(ملفوظ 322)اصلاح الدرس :
( ملقب نہ اصلاح الدرس ) ایک صاحب نے اپنے صاحبزادہ کی تعلیم کے متعلق حضرت والا سے مشورہ چاہا کہ میں یہ چاہتا ہوں کہ وہ مدرس ہونے کا اہل ہوجائے تو اس کی کیا صورت اختیار کی جائے فرمایا فنون کی کتا بیں بھی پوری کرانا چاہئے اگران میں کوتاہی رہی تو استعداد کافی نہ پیدا ہوگی عرض کیا کہ اس کا خیال یہ ہے کہ امساں دورہ یہ طرزتو اچھا نہیں معلوم ہوتا بلکہ کچھ اسباق فنون کے بھی ہوجائیں اور دورہ کا بھی سلسلہ رہے یہ اچھا ہے ۔
عرض کیا کہ میرے رائے یہ ہے کہ امسال فن ہی کی کتابیں پوری ہوجائیں فرمایا کہ اس کو بھی جی گورا نہیں کرتا کہ حدیث بالکل ہی رہ جائے اگر دونوں ساتھ ساتھ ہیں ۔ یہ طریق اچھا معلوم ہوتا ہے اپنے بزرگوں کا ہمیشہ یہ ہی طرز رہا ہے یہ ہی مناسب معلوم ہوتا ہے کہ حدیث اور فن دونوں ساتھ ساتھ ہوں ان صاحب نے کچھ خاموش رہنے کے بعد پھر اس ہی مشورہ کا اعادہ کیا فرمایا کہ آپ ایک ہی بات کو کھرل نہ کیا کیجئے میری طبیعت الجھتی ہے آپ ایک ہی بات کے پیچھے پڑجاتے ہیں یہ برا ہے آپ کو اس کا خیال رکھنا چاہئے اور اس طرز کو بالکل چھوڑ دیجئے اس سے دوسرے کا وقت فضول خراب ہوتا ہے آپ میرا وقت بھی فضول باتوں میں خراب کررہے ہیں اور اپنا بھی ایک بات کے پیچھے پڑجانا کون عقل کی بات ہے ایک بات شروع ہوئی جواب دیدیا گیا بات ختم ہوئی آپ ہیں کہ بار بار اسی کا اعادہ کررہے ہیں آخر اس سے آپ کا مقصود کیا ہے کیا یہ ہی ایک کام رہ گیا ہے کہ بیٹھے ہوئے کھرل کئے جائیں آپ کو دوسرے پربار ہونے کا مطلق خیال نہیں اور یہ بھی آپ کی خاطر سے بتلادیا ایک مرتبہ دو مرتبہ نہیں تین مرتبہ بتلادیا مشورہ دیدیا گیا دوسرے کو تو یہ بھی نہ بتلاتا کیو نکہ آج کل کسی کو مشورہ دینا میرے مذاق کے خلاف ہے آپ ساری دنیا کے اقوال پیش کریں اور میں ان کے متعلق تحقیقات کروں یہ کس قدر تکلیف مالایطاق ہے اگر مجھ کو اس پڑھنے پڑھانے سے دلچسپی ہوتی تو اب بھی خدا کا فضل ہے کہ اگر کتا ب لے کر بیٹھو تو ٹوٹا پھوٹا پڑھا سکتا ہوں مگر پھر بھی چھوڑ دینا اس کی کافی دلیل ہے کہ دلچسپی نہیں رہی اس لئے ایسی کاوش سے گرانی ہوتی ہے اور جس چیز دوسرے کو گرانی ہو اس سے احتیاط رکھنا چاہئے دوسرے یہ تو میری قدرت میں نہیں کہ ساری دنیا کے اقوال کی تو جیہ کیا کروں اور ہرایک کے جدا جدا جوابات دیا کروں یہ تو ایک سلسلہ ہوجاوے گا جو کبھی ختم ہی نہیں ہوسکتا تیسرے اس حالت میں مشورہ لینے کا حاصل یہ ہوگا کہ رائے میری اور قبضہ ان کا یعنی ناظمان مدرسہ کا اور لا متناہی عمل فلاں صاحب کا یعنی طالب علم صاحب کا یہ جوڑ کیسے لگے گا پس اسلم یہی ہے چھوڑیئے ان جھگڑوں کو ہورہے گا جو ہونا ہوگا آپ کس غم میں پڑے اساتذہ موجود ہیں اور صاحب زادے خود بھی رائے رکھتے ہیں جیسا مناسب ہوگا آپ کرلیں گے ، فرمایا کہ فلاں مدرسہ کے متعلق بہت عرصہ سے درس و تدریس کے بارے میں مختلف مشورہ دے رہا ہوں مگر کوئی نہیں سنتا ان کے استحسان کے متعلق تو یہ جواب کہ بالکل ٹھیک۔ مگر عمل ندارد اب کیا جی چاہئے مشورہ دینے کو جب تجربہ سے یہ معلوم ہوگیا کہ اہل مدارس وہی کرتے ہیں جوان کے جی میں آتا ہے د ماغ سوزی کرو ایک مفید بات بتلاؤ اور عمل اس پرنہ ہو یہ بھی میرا تبرع اور احسان تھا کہ میں نے آپ کورائے بھی دیدی اور وہ بھی دیدی اور وہ بھی کئی بارورنہ جس بات پر عمل کرنے کے اور کچھ نہیں اہل علم کا طبقہ اکثر لوگوں کو رسم پرست بتلاتا ہے مگر میں کہتا ہوں کہ یہ علماء سب سے زیادہ رسم پرست ہیں کہ پرانے معمولات کو نہیں چھوڑتے گو ضرورت اور مصلحت واقعیہ کے خلاف ہی ہو ۔ حضرت مولانا گنگوہی رحمتہ اللہ علیہ نے فلاں مدرسہ کے متعلق ایک مشورہ فرمایا تھا کہ فلاں فلاں کتابیں درس سے خارج کردو مگر اس پرکسی نے بھی عمل نہیں کیا حالانکہ سب جان نثار ہی تھے مگر کچھ بھی حضرت کے مشورہ کی پرواہ نہیں کی گئی تھی یہ قدرہے بزرگوں کے مشوروں کی ۔ ان اہل مدارس کی عموما یہ حالت ہے کہ جودل میں ٹھان لی وہی کریں گے کسی کی نہیں سنی گے چنانچہ میری رائے امتحان کے بارہ میں یہ ہے کہ امتحان تقریری ہونا چاہئے تقریرمیں بہت جلد قلعی کھل جاتی ہے اور اگرکسی مصلحت سے تحریری بھی ہوتو اس کی لطیف صورت یہ ہے کہ طالب علم کو کتاب دے دی جائے اوراس کے شروح اور حواشی جومانگے سب دیدئیے جائیں اور کہ دیا جائے کہ فلاں مقام حل کرکے لاؤ مگر کسی سے مدد مت لو کیونکہ مقصود تو یہ دیکھنا ہے کہ کتا ب جو پڑھی ہے اس کو سمجھ بھی گئے یہ دیکھنا نہیں کہ یہ کتا ب کا حافظ بھی ہے یا نہیں اس میں طلباء کو بھی سہولت اور امتحان کا مقصود بھی حاصل اور متعارف طریق میں پوری مصیبت ہے چنانچہ میں جس زمانہ میں دیوبند پڑھتا تھا امتحان کی تیاری تمام تمام شب جاگتے گذر جاتی نیندخراب تندرستی خراب جب تک ساری کتب حفظ نہ ہو امتحان دے ہی نہیں سکتے ان تجارت کی بناء پر میں جس زمانہ میں کانپور تھا ۔ امتحان کے متعلق نہایت سہل قواعد وضوابط مقررکردیئے تھے اس سے اعلیٰ درجہ کی قابلیت حاصل ہوتی ہے اب اپنا اختیار نہیں مشورہ ہی کیا تیرچلائے گا چنانچہ مدارس میں جو آج کل امتحان کا طرز ہے کہ ساری کتاب محفوظ ہو تب امتحان دے سکتے ہیں اس کے متعلق میں نے اہل مدراس کو رائے دی مگر ایک نے بھی نہیں سنی ایک صاحب نے میرے یہ اصول سن کر مجھ سے کہا کہ انگریزی مدارس میں بھی یہ ہی دستور ہے میں نے کہا کہ انگریزوں نے ہمارے یہاں کی مفید باتیں بعد تجربوں کے ہم ہی سے تولی ہیں ایک طریقہ میں نے یہ جاری کیا تھا کہ ختم سال پر جہاں سے کتاب چھوڑی ہے آئندہ شروع سال میں وہاں ہی سے اسباق تجویز کئے جائیں ان کے تعارضات رفع کئے جائیں بس ایسا ہوتا ہے کہ جیسے جمعرات کا سبق جہاں سے چھوڑا تھا ہفتہ کے روز وہاں ہی سے شروع کرادیا گیا ایک نفع اس میں یہ تھا کہ طلبہ منتشر نہ ہوتے تھے سبق کے سلسلہ کی وجہ سے پھرضرور آتے تھے اور اگر کوئی نیاطالب علم آگیا تو اس کی وجہ جس درجہ کی قابلیت ہوئی اس کو ان کتابوں میں شریک کردیا جیسا وسط سال میں آنے والوں کے ساتھ ایسا ہی معاملہ کیاجاتا تھا اوراس طرز میں بھگدڑ بھی نہ پڑتی تھی کہ کسی طرح کتاب ختم کراؤ چاہئےطالب علم کمبخت سمجھے یا نہ سمجھے اور جس کتاب کو ختم نہ کراسکے بس وہ رہ گئی اس کوچھوڑ دیتے ہیں یہ مفاسد ہیں اس رسم متعارف میں ۔ اب تو یہ ہے کہ طالب علم اپنی ذہانت اورمحنت سے کسی قابل ہوجائے یا نہ ہوجائے ورنہ مدارس کی طرف سے نہ کوئی درس کے اصول ہیں نہ قواعد بہت ہی خراب حالت ہے ۔ بھلا یہ لوگ جن سے ایک مدرسہ کا انتظام نہیں ہوسکتا سلطنت کا کیا انتظام کرسکتے ہیں یہ تو ناظمیں کی حالت ہے پھر آگے طلباء بھی آج کل ایسے ہی ہیں وہ بھی علوم کی طرف متوجہ نہیں ضابطہ پری کرتے ہیں بڑی معراج اس کوسمجھتے ہیں کہ ایک بڑا سا پگڑ بندھ جائے اور ایک بڑا سا پروانہ چھپا ہوا مل جائے پس ہوگئے مولوی ، مولوی ۔ پھر فرمایا کہ رسم پرستی کو وجہ سے یہ جمود ہے اوربے حد جمود ہے اور اگرترقی کی طرف چلے تو خلافت میں شریک ہوگئے کا نگریس میں شریک ہوگئے علوم میں ترقی نہں کرتے جہل میں ترقی کرتے چلے جاتے ہیں اور اگر اس سے بھی ترقی کی تو پھران کی معراج ترقی جیل کی طرف ہوتی ہے وہاں پرپہنچ کر بھی بڑے بڑے القاب مل جاتے ہیں ۔ میں سچ عرض کرتا کہ جواہل اللہ کے پاس نہیں رہے ان کے قلب حقیقت کے ادراک سے بلکل مردہ ہیں اور اس مردہ ہونے کے خاص آثار ہیں ایک اثر اس وقت بیان کرتا ہون جن کا یہ واقعہ ہے میں ان کا نام نہیں بتاؤں گا ۔ مگر بہت بڑے عالم ہیں ان کا مقولہ عرض کرتا ہوں جس وقت حضرت محمود حسن صاحب رحمتہ اللہ دیوبندی حج کو تشریف لے گئے تو میرے متعلق یہ مشہور کیا گیا بعض حاسدوں کی طرف سے کہ اس نے یعنی میں نے حدیث شریف کا دور شروع کرادیا ہے تو وہ عالم صاحب فرماتے ہیں کہ کیا اس کا انتظام ہی تھا کہ مولانا نعوذ باللہ یہاں سے شروع رخصت ہوں تو ہماری دکان چمکے یہ علماء ہیں ۔ اگر مولانا ہی کے سامنے شروع کرادیتا تو کون سا گناہ تھا ۔ بلکہ حضرت مولانا ہی سب سے زیادہ خوش ہوتے تو حضرت کے رہتے ہوئے کون مانع تھا ۔ پس اہسے لوگوں میں اس کی کمی ہے کہ اہل اللہ کی جوتیاں سیدھی نہیں کیں بلکہ ترقی کرکے کہتا ہوں کہ جوتیاں نہیں کھائیں کیونکہ محض سیدھی سے کام نہیں چلتا ایک صاحب نے عرض کیا کہ حضرت نے ایک مرتبہ فرمایا تھا کہ میں نے کسی کی جوتیاں سیدھی نہیں کیں فرمایا اللہ فضل ہے کہ کسی کو بغیراس کے بھی علاہ فرمادیں مگر اپنے بزرگوں کو ہمیشہ دل س غلام رہا اور غلام سے بڑھ کراپنے کو سمجھا اور خدمت ظاہری اس وجہ سے نہیں کی کہ مین سمجھتا تھا کہ میرا خدمت کرنا اپنے بزرگوں کو تکلیف کا سبب ہوگا وہ گوارا نہ کریں گے ان کو ناگوارا نہ کریں گے ان کو ناگوار ہوگا ۔ باقی ان چیزوں میں قیاس نہیں چلتا ۔ ( تمت مقالہ اصلاح الدرس )
(ملفوظ 321)حضرت والا کی زیارت کیلئے ایک صاحب کی کلکتہ سے آمد :
آج صبح دس بجے والی گاڑی سے دو صاحب حاضر ہوئے بعد مصافحہ حضرت والا نے دریافت فرمایا کہ کہاں سے آتا ہوا اور کس غرض سے ؟ عرض کیا کہ کلکتہ سے حاضری ہوئی اور بمبئی ہوکر حج کا ارادہ ہے اور یہاں پرحاضری کی غرض محض حضرت والا کی زیارت ہے دریافت فرمایا کہ یہ دوسرے صاحب کون ہیں ؟ عرض کیا کہ یہ میرے عزیزہیں فرمایا آپ کبھی اس سے قبل مجھ سے ملے ہیں ؟ عرض کیا کہ یہاں ایک مرتبہ حاضرہوا تھا فرمایا کہ بلکل یا د نہیں میرا حافظہ زیادہ قوی نہیں ۔ بعض لوگوں کا حافظہ غضب کا ہوتا ہے ایک عالم بزرگ حافظ محمد عظیم تھے پشاوری جو نابینا بھی تھے ان کے پوتے دیوبند میں درسیاست سے فارغ ہوکر یہاں پرآئے بھی تھے یہ معلوم ہوا کہ ان کے پوتے ہیں بے حد جی خوش ہوا اس لئے کہ میں پہلے سے حافظ صاحب کا معتقد تھا ایک صوبہ دار تھے میرے ہم نام کا نپور میں انہوں نے حافظ صاحب کے حافظہ کے متعلق مجھے بیان کیا تھا کھ دس برس بعد بھی اگرکوئی مصافحھ کرتا فورا لگنے سے بتلا دیتے ہیں اور ان کان بینا ہونا بھی عجیب ہی طرح پر ہوا تھا ۔
ایک مرتبہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خواب میں زیارت ہوئی حضور نے فرمایا کہ کچھ مانگو عرض کیا کہ حضور ملے گا جومیں مانگو گا فرمایا ہم اللہ سے دعا کریں گے عرض کیا کہ تمنا یہ ہے کہ اب آپ کو دیکھا ہے اس کے بعد ان آنکھوں سے کسی کو نہ دیکھو اگر دیکھوں تو آپ ہی دیکھو صبح کو سوتے سے اٹھتے تو نا بینا تھے مگر اکثر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت ہوتی رہتی تھی ۔ اپنی آنکھوں کو نثار کردیا کتنی بڑی محبت کی بات ہے ایک صا حب نے عرض کیا کہ حافظ صاحب کے پوتے جو جہاں یہاں پرآئے تھے کیا حضرت سے بیعت بھی ہوگئے ہیں فرمایا کہ بیعت ہی ہونے آئے تھے میں نے بیعت کرلیا۔
(ملفوظ 320)عورتوں کی عدم احتیاط پراظہار افسوس
ایک صاحب نے اپنی عزیزہ کے جل جانے کی اطلاع حضرت والا کوکی حضرت والا نے سن کرافسوس آمیز لہجہ میں ان کوتسلی کی اور دعاء عافیت فرمائی اور فرمایا کہ یہ خرابیاں اس کی ہیں کہ عورتوں میں احتیاط بالکل نہیں ہوتی ۔ پانی پت میں ایک لڑکی اسی بداحتیاطی کی بدولت جل کر حتم ہوگئی فرمایا کہ میں نے تو آج تک آگ سے سینکا تک نہیں اگرزیادہ سردی معلوم ہوئی کپڑے زیادہ پہن لئے یہ سینکنا بھی خطرہ سے خالی نہیں اور یہ عورتیں تو ایسا غضب کرتی ہیں کہ انگیٹھی میں آگ بھرکرچار پائی کے نیچے رکھ لیتی ہیں کبھی ایسا ہوتا ہے کہ کوئی بان لٹکا ہوا ہے اس ذریعہ سے آگ چار پائی تک پہنچ گئی یا زیادہ تپ جانے سے خود آگ گئی بڑے ہی خطرہ کی بات ہے آدمی کو اپنی طرف سے تو احتیاط کرناچاہے باوجود احتیاط کے اگر پھر بھی کوئی حادثہ پیش آجائے تو مجبوری ہے ارمان تونہ ہوگا اور اپنی بد احتیاطی کی وجہ سے جو حادثہ آتا ہے اس میں ارمان ہوتا ہے کہ اگرایسا کرتے تو محفوظ رہ سکتے ۔
16 شوال المکرم 1350 ھ مجلس خاص بوقت صبح یوم چہارم شنبہ
(ملفوظ 319) حکایات حلم مامون الرشید :
ایک چھوٹی بچی کی ذہانت کا ذکر فرماتے تھے فرمایا کہ جی چاہتا ہے کہ ایسی لڑکیوں کو عالم بنایا جائے خواجہ صاحب نے عرض کیا کہ حضرت پہلے بھی عورتیں اہل علم گذری ہیں فرمایا کہ بڑی بڑی عالم گذری ہیں اکثر کو مردوں کے برابر تفقہ حاصل نہیں ہوتا کچھ کمی سی رہتی ہے مگر گذری ہیں اہل علم ، احقر جامع نے عرض کیا کہ ایک عورت نے پنجاب میں نبوت کا دعویٰ کیا تھا ۔ فرمایا کہ پہلے بھی ایسی عورتیں گذری ہیں مامون رشید کے زمانہ میں ایک عورت نے نبوت کا دعوٰی کیا تھا اس سے کہا گیا کہ حضوﷺ فرماتے ہیں لانبی بعدی اس نے جواب دیا لانبی بعدی ہی تو فرماتے ہیں لا نبیۃ بعدی تو نہیں فرمایا میں نبی تھوڑا ہی ہوں میں تو نبیہ ہوں ۔ شرارت ہے کچھ بھی نہیں ۔
اسی طرح مامون رشید ہی کے زمانہ میں ایک شخص نے نبوت کا عویٰ کیا مامون رشید نے بلاکر پوچھا کہ نبی ہونے کا دعوٰی تو کیا ہے مگر یہ بتاؤ کہ کون سے نبی ہوکہا کہ موسیٰ ۔ مامون رشید نے کہا کہ انہوں نے تو عصاء کا معجزہ دکھایا تھا تم بھی دکھاؤ اس نے جواب دیا کہ فرعون کے مقابلہ میں ایسا ہوا تھا اس نے خدائی کا دعویٰ کیا تھا آپ نے معجزہ دکھایا اگر تم بھی خدائی کا دعوٰی کرو تو میں بھی معجزہ دکھاؤں لوگ بڑے ہی شریر ہوتے ہیں بعد میں مامون رشید کو معلوم ہوا کہ حاجت مند ہے اس کی حاجت پوری کرکے اس سے توبہ کرادی ۔ فرمایا کہ مامون رشید کو معلوم ہوا کہ حاجت مند ہے اس کی حاجت پوری کرکے اس سے توبہ کرادی ۔ فرمایا کہ مامون رشید کے مخاطبت میں لوگوں میں آزادی بہت تھی باوجود اس کے کہ نہایت جاہ جلال کا بادشاہ تھا مگر تھا نہایت حلیم ۔ اسی وجہ سے لوگ ایسی بے باکیان کرتے تھے اور مامون رشید ہی کا ایک اور قصہ ہے : ایک شخص اس کے پاس آیا اور سوال کیا کہ میں حج کوجارہا ہوں خرچ کی ضرورت ہے ، مامون رشید نے کہا کہ اگر تمہارے پاس ہے تو مانگتے کیوں ہواور اگر نہیں ہے تو حج ہی فرض نہیں ، پھرسوال کیوں کرتے ہوں ، اس نے جواب دیا کہ میں آپ کے پاس جوآیا ہوں بادشاہ سمجھ کر ہی آیا ہوں مفتی سمجھ کر نہیں آیا اس کام کے لئے شہرمیں علماء اور مفتی موجود ہیں اگر فتوے کی مجھ کو ضرورت ہوگی تو ان سے استفتاء کروں گا آپ زیادہ فتوے نہ بگھاریئے ، یہ مفتی نہیں اگر خرچ دینا ہے دیجئے ورنہ صاف انکار کردیجئے اس پر مامون رشید ہنس پڑا اور کافی خرچ حج کے لئے دیا ۔
فرمایا کہ مامون رشید کی حلم کی یہ حالت تھی کہ غلام تک د با لیتے تھے مگر افسوس کہ تھا معتزلی نے بہکا بہکا کر اس کو خراب کیا تھا اس قسم کے علماء ہرزمانہ میں ہوئے ہیں خواجہ صاحب نے عرض کیا کہ معتزلیوں کا عقیدہ کیا ہے فرمایا ایسا ہی عقیدہ ہے جیسے آج کل کے نیچریوں کا عقیدہ ہے کہ جو بات عقل میں آگئی اس کومان لیا جو نہ آئی انکار کردیا یہ انگریزی کے نیچری ہیں اور معتزلی عربی کے نیچری تھے جیسے آج کل بھی بعضے عربی کے نیچری پید اہوئے ہیں ۔ پہلے معتزلی اپنے کو معتزلی نہ کہتے تھے اس لئے کہ یہ اہل حق علماء کا بطریق خدمت کے خطاب دیا ہوا ہے اس لیے معتزلی پہلے اپنے کو اہل عدل اور اہل توحید کہتے تھے یہ معتزلی لقب ایسا ہے جیسے رافضی مگر کوئی رافضی اپنے کو رافضی نہیں کہتا نہ لکھتا ہے ۔ مگر ایک نیچری کی کتا ب پرمیں نے لکھا دیکھا ہے کہ اپنے نام کے ساتھ معتزلی لکھا تھا اس نے یہ لکھ کر اپنی بے وقوفی اور حماقت کا اظہار کیا ۔ ایک صاحب نے عرض کیا کہ حضرت ہارون رشید بادشاہ کی حالت کیا تھی فرمایا کہ وہ دیندار شخص تھا اس کی ایسی حالت نہ تھی ۔
(ملفوظ 318) مرمت مسجد سے بقیہ رقم واپس کرنے پراظہار مسرت :
فرمایا کہ ایک بات کہنا چاہتا تھا کہ اس میں سبق ہے مگر بھول بھول جاتا تھا وہ یہ ہے کہ یہاں پرایک محلہ ہے اس میں جولا ہے آباد ہیں اور بچپن میں ہم لوگ بھی اس میں رہ چکے ہیں غریب لوگ ہیں بے چاروں کو ہم سے محبت ہے بچپن کے زمانہ میں ہم ان کے گھروں میں اکثر جاتے تھے وہ محبت اب تک چلی جاتی ہے اس محلہ میں ایک مسجد ہے اس مسجد میں کچھ مرمت کی ضرورت تھی اکثر ایسا ہوتا ہے کہ جب کبھی ایسی ضرورت پیش آتی ہے تو وہ مجھکو اطلاع کردیتے ہیں ۔ میں بقدر گنجائش امداد کردیتا ہوں لہذا اب کی مرتبہ بھی اس مسجد کے مہتمم نے کہ جو وہ بھی جولاہہ ہیں بزریعہ پرچہ اطلاع دی کہ دس (10) روپیہ ضرورت ہے میں نے آٹھ روپیہ بھیجے اوراس پرچہ پریہ بھی لکھ دیا کہ بقیہ کا کوئی اور انتظام کرلو اس نے اس سات روپیہ رکھ لئے اورایک روپیہ واپس کردیا کہ اس وقت سات ہی روپیہ کی ضرورت تھی بقیہ کا انتظام ہوگیا مجھ کو بڑی حیرت ہوئی اس لئے کہ آج کل مدارس اور انجمنوں میں بھی اس کا خیال جواس غریب کو ہوا باوجود اس کے کہ وہاں پرمنتظمین اور مہتمم اہل علم اورعلماء ہوتے ہیں مگر پھربھی ان مدارس اور انجمنوں میں یہ ہوتا ہے کہ جوآگیا سب داخل خزانہ کچھ پتہ ہی نہیں چلتا ، اگر یہ رقم کسی مدرسہ یا انجمن میں جاتی تو قیامت تک بھی واپس نہ ہوتی ۔ اب اس شخص کی اس خوش فہمی سے اس قدر اطمینان ہوگیا کہ کبھی اس طرف سے خلاف واقع کوئی بات نہ کہی جاوے گی اورنہ بلاضرورت رقم لی جائےگی کیسی پیاری بات ہے ایک جاہل بے لکھے پڑھے نے لکھوں پڑھوں کی آنکھیں نیچی کردیں اس لئے کہ یہ باتیں تو آج کل اکثر علماء میں بھی نہیں میرا تو اس بات سے بے حد جی خوش ہوا اگر مسلمان ان باتوں کا خیال رکھیں تو کوئی بھی کا ر خیربند نہ ہو ۔
(مفلوظ 317 )فضول گوئی سے قلب پربار:
ایک صاحب کی فضول گوئی پرمتنبہ فرماتے ہوئے فرمایا کہ آپ زیادہ نہ بولا کریں اور ایک تجویزیں زیادہ نہ کیا کریں اور تجویز تو بڑی چیز ہے میں تو کسی کو مشورہ بھی دینا نہیں چاہتا خواہ مخواہ دوسرے پربارہورائے میں کیا ہے لاؤ میں ہزاروں رائے بیان کردوں مثلا رائے تو میری یہ ہے کہ مجھ کو سلطنت مل جائے پھرتمام انتظامات شریعت کے موافق کروں مگر کہیں توقع بھی ہے مل جانے کی ۔ فضول باتوں سے قلب پربارہوتا ہے ایسی باتوں سے آپ کو اجتناب رکھنا چاہئے ۔
16 شوال المکرم 1350 ھ بوقت صبح 8بجے یوم چہارم شنبہ
(ملفوظ 316)عوام کے عقائد میں غلو :
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ اجکل عاملین کی بدولت عوام کے عقائد بہت ہی خراب اور برباد ہوگئے خصوص تعویز کے متعلق تو بہت ہی غلو ہوگیا ہے جس سے دین کا غلو معلوم ہوتا ہے ایک پہلوان نے بمبئی سے خط لکھا تھا کہ کشتی کے لیے ایک تعویذ دیدو تاکہ میں غالب رہا کروں میں نے لکھا کہ اگر دوسرا بھی ایسا ہی تعویذ لکوالائے پھر تعویذوں میں کشتی ہوگی اگر عوام کے عقائد کی یہی حالت رہی تو غالبا چند روز میں لوگوں کے ذہن میں نکاح کی بھی ضرورت نہ رہے گی اس لئے نکاح میں تو بکھیڑا ہے وقت صرف ہوتا ہے قسم قسم کی سعی اور کوشش میں تکالیف اٹھانی پڑتی ہیں مال صرف ہوتا ہے پھر آنے والی کا نان ونفقہ غرض بڑے بکھیڑے ہیں یہ درخواست کیا کریں گے کہ ایسا تعویذ دیدو کہ بدوں عورت کے اولاد ہوجایا کرے کرے بھلا کس طرح اولاد ہوجایا کرے گی آدم علیہ السلام کی تو پسلی سے حضرت حوا پیدا ہوگئی مگر پھر ایسا نہیں ہوا یہ اب بھی چاہتے ہیں کہ خلاف معمول اولاد پیدا ہوجایا کرے ۔ اگرمیں تعویذ پرپانچ روپیہ مقررکردوں تو پھر کوئی ایک بھی تعویذ نہ مانگے ۔ غرض تعویذ کے متعلق عقیدے اچھے نہیں ۔

You must be logged in to post a comment.