(ملفوظ 315 )لوگ رنج دے کرجاتے ہیں :

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ ایک صاحب نے مجھ سے کہا تھا کہ لوگ یہاں سے رنجیدہ ہوکر جاتے ہیں میں نے کہا یہ کیوں نہیں کہا کہ رنجن دے کرجاتے ہیں، گالیاں میں نہیں دیتا ، مارتا میں نہیں ، لیتا میں کچھ نہیں ، مجھ کو ستاتے ہیں ، ظلم کرتے ہیں کہ تعجب ہے کہ ظلم تو ظلم نہ ہواور اظہار مظلومیت ظلم ہو حق تعالیٰ فرماتے ہیں : لایحب اللہ الجھر بالسوء من القول الا من ظلم وکان اللہ سمیعا علیما ۔ ( اللہ تعالٰی بری بات زبان پرلانے کو پسند نہیں کرتے بجزمظلوم کے ۔ اور اللہ تعالٰی خوب سنتے ہیں خوب جانتے ہیں ) اس شکایت کے معنی تو یہ یوئے کہ سب کا غلام بن جائے وہ کچھ کریں کچھ نہ کہا جائے تو اصلاح کی بھرکیا صورت ہواور آنے ہی سے کیا حاصل ہوا ۔

(ملفوظ 314) احکام طریق بالکل مفقود ہوگئے

ایک صاحب کی غلطی پرتنبیہ فرماتے ہوئے فرمایا کہ اسی واسطے میں کہا کرتا ہوں کہ پہلے بذریعہ خط آنے کے متعلق دریافت کرلیں تاکہ میں طے کرسکوں کہ کس لئے آئے ہو تاکہ بعد میں کسی قسم کی بے لطفی بے مزگی نہ ہو یہاں آکر گڑبڑ کرتے ہیں سمجھانے پربھی نہیں سمجھتے اس پر مجھ کو تغیر ہوتا ہے اور جب میں متنبہ کرتا ہوں تو مخاطب کو تکلیف ہوتی ہے پھر شکایت کرتے ہیں افسوس ! اس زمانہ میں طریق کے احکام بالکل مسدود بلکہ مفقود ہوگئے آکروہ احکام کانوں میں پڑتے ہیں لیے وحشت ہوتی ہے اور مجھے متشدد کہتے ہیں حالانکہ میں اتنی رعایتیں اور سہولتیں کرتا ہوں کہ حقیقت شنا سوں کو اس کی ضد کا شبہ ہوجاتا ہے چنانچہ خورجہ میں ایک بزرگ ولائتی ہیں میں ان سے ملا بھی ہوں میرے متعلق ان کی یہ رائے ہے کہ ساری باتیں اچھی ہیں مگر مزاج میں مداہنت ( ڈھیلا پن ) ہے سو یہ شبہ توکسی درجہ میں ہو بھی سکتا ہے مگرلوگوں کی رائے میں طریق کا تھوڑا سا بھی حق ادا کرنا تشدد ہے اور میں تو اس طریق کا کیا حق ادا کرتا ذرا شیخ محی الدین ابن عربی رحمتہ اللہ علیہ کا رسالہ آداب الشیخ والمرید دیکھنا چاہئے کہ کیا کچھ لکھا ہے میرے یہاں تو اس کا عشر عشیر بھی نہیں جو انہوں نے مرید اورشیخ کے اداب اور طرز تعلیم کو لکھا ہے اور یہ راہ تو عشاق کے لیے ہے جس کی اول شرط وہ ہے جس کو فرماتے ہیں
دررہ منزل لیلے کہ خطرہا ست بجاں ٭ شرط اول قدم آنست کہ مجنون باشی
( لیلی کے وصال کے راہ میں جان کو نہت خطرات ہیں ۔ مگر اول شرط یہ ہے کہ مجنون بنو 12۔) ہر مطلوب کے لیے شرائط ہونے پرایک حکایت یاد آگئی ایک خان صاحب کسی درویش کے پاس کیمیا سیکھنے گئے اور ان کو بہت پریشان کیا آخر انہوں نے اپنی جان بچانے کے لیے کہا کہ مولوی غوث علی شاہ صاحب جانتے ہیں اس خیال کے کہ مولوی صاحب ذہین ہیں خان صاحب کا ان کے یہاں علاج جائے گا خان صاحب نے وہاں جاکر کہا کہ کیمیا بتلا دو فرمایا نہیں بتلاتے کوئی تمہارے باوا کے نوکر ہیں کیا کیمیایوں ہی بتلادی جاتی ہے ۔ خدمتیں کرو بھی کبھی مزاج درست ہوگا بتلادین گے خان صاحب ڈھیلے ہوئے شام کو گھا نس پات ابال کرخان صاحب کے سامنے رکھوا دیا کہ کھائیے کہا کہ منہ میں چلتا نہیں شاہ صاحب فرماتے ہیں کہ اللہ اکبر اسی برتے پرچلے تھے کیمیا سیکھنے ابھی تو اسکی یہ منزل ہے کسی نے خوب کہا ہے
ابتدائے عشق ہے روتا ہے کیا ٭ آگے آگے دیکھئے ہوتا ہے کیا
خاں صاحب کہتے ہیں کہ اگر کیمیائی اس طرح حاصل ہوتی ہے تولعنت ہے ایسی کیمیا پر
شاہ صاحب نے فرمایا کہ بے شک قابل لعنت تو ہے ہی حضرت کیمیا کیسی ادنی درجہ کی سی چیز ہے مگر بڑے بڑے شان والے لگونٹ بندوں کے پیچھے پھرتے ہیں اور وہ منہ بھی نہیں لگاتے جس کو وجہ یہ ہے اہل کمال میں ایک استغناء ہوتا ہے وقارالامراء زیارت کرنے کے لیے حضرت مولانا فضل الرحمن صاحب گنج مراد آبادی رحمتہ اللہ علیہ کے یہاں گئے تھے مولانا نے ان کے نکلوادینے کا حکم دیا کہ نکالو صاحب زادے نے کہا کہ وزیرہیں فرمایا کہ ہوگا وزیرہمیں ان سے کیا کچھ لینا ہے بہت سفارش کے بعد دیکھا ہے کہ بڑے بڑے رئیسوں کو جھڑک دیتے تھے اور وہ خاموش بھیگی بلی کی طرح سرجھکانے سنتے رہتے تھے محض اپنی غرض سے کہ صحبت جسمانی کے لیے جاتے تھے اور جہاں صحت نفس کے لیے جاتے ہیں وہاں انقیاد اور فنا کی کیسی حالت ہونا چاہئے ظاہرہے ۔

(ملفوظ 313)طلب صادق کی شان

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ کام کرنے والوں کی اور طلب صادق کی شان ہی جدا ہوتی ہے ایک سلطنت کے وزیر ایک بزرگ سے ملنے گئے بزرگ نے بادشاہ کا مزاج دریافت کیا وزیر نے عرض کیا کہ حضور بادشاہ کا مزاج تحقیق کرتے کرتے تو ساری عمر گذرگی میں تو یہاں اپنا مزاج معلوم کرنے آیا بزرگ نے فرمایا کہ میں نے تو تمہاری دل جوئی کی غرض سے پوچھ لیا تھا ۔ دیکھئے وزیر میں طلب صادق تھی کیسی کام کی بات کی ، بعض لوگ زمانہ طاعون میں خطوط سے پوچھتے ہیں کہ طاعون وہاں تو نہیں میں یہ شعرلکھ دیتا ہوں
ماقصہ سکندر و دارا نخواند ایم ٭ از ما بجز حکایت مہر و وفا مپرس
( ہم نے سکندرودار کے قصے نہیں پڑھے پڑھے ہم سے محبت کی باتوں کے سوااور کچھ مت پوچھو ۔ 12) ان فضولیات میں لوگ مبتلا ہیں جو وقت کا صائع کرنا ہے دیکھئے اگر کوئی شخص طبیب کے پاس جاکر بجائے نسخہ لکھوانے کے طبیب سے پوچھے کہ تمہارے کس قدر اولاد ہے کس قدر جائیداد ہے کس قدر آمدنی ہے یہ فضولیات ہیں یا نہیں کیوں اپنا اور اس کا ضائع جس غرض سے اور مقصود لے کر طبیب کے پاس گیا ہے اس کے متعلق پوچھ گن کرنا چاہئے حضرت مولانا محمود حسن صاحب رحمتہ اللہ علیہ دیوبندی میرے استاد ہیں قبلہ ہیں کعبہ ہیں مگر مجھے اج تک معلوم نہیں کہ مولانا کے کس قدر اولاد ہیں نہ ہمارے بزرگوں کا یہ طرق ہے ۔

(ملفوظ 312)کام شروع کرکے چھوڑنا بے برکتی کا سبب ہے۔

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ میں طلبہ کو ذکر وشغل نہیں بتلاتا اس لئے کہ تجربہ ہے کہ ایک وقت میں دو کام نہیں سوسکتے تو شروع کرکے چھوڑنا پڑے گا شروع کرکے چھوڑنا یہ نہایت بے برکتی کا سبب ہے بخاری کی حدیث اسکی دلیل ہے حضورﷺ نے ارشاد فرمایا ِ،، یا عبداللہ لا تکن مثل فلاں کان یصلی باللیل ثم ترکہ ِ،، ( اے عبداللہ اس شخص کی طرح نہ ہونا جورات کو نماز پڑھا کرتا تھا اس کو چھوڑدیا ۔ 12) اور جونہ بھی چھوڑا تواس میں کمی ہوگی جو اہم ہے اور سلف کے مجمع پر قیاس نہ کیا جاوے اس وقت ویسی قوت نہیں ہے البتہ علم سے فارغ ہوکر ذکر وشغل کرے اور ایسے وقت شروع کرے کہ پھر کرتا ہی رہے چھوڑے نہیں کہ بے برکتی سے محفوظ رہے ۔

ملفوظ (311)بے فکری کا نتیجہ :

ایک نو وارد مولوی صاحب نے سوال کیا کہ حضرت نماز عید میں اگر واجب ترک ہوجائے اتنا ہی کہنے پائے تھے حضرت والا نے دریافت فرمایا کہ میں نے پہنچانا نہیں کون صاحب ہیں عرض کیا کہ فلان ہون اور صبح حاضر ہوا ہوں فرمایا کہ مجھے مسائل جزئیہ یا د نہیں ہیں میں خود اپنی ضرورت کے وقت دوسرے علماء سے پوچھ پوچھ کرعمل کرتا ہوں دوسرے یہ کہ فقہ کے مسائل کی تحقیق کی جگہ نہیں یہ ایک مستقل کام ہے الحمداللہ دیوبند اور سہارنپور میں بڑے پیمانہ پر ہورہاہے اور کیا آپ کے آنے کا مقصد ان مسائل کی تحقیق ہے عرض کیا کہ ملاقات کی غرض سے حاضر ہوا ہوں فرمایا پھر یہ زیادتی کیوں کی ہرشے کا محل اور موقع ہوتا ہے اور میں اپنی حالت سے آپ مطلع کئے دیتا ہوں کبھی آپ دھوکے میں رہیں وہ یہ کہ میں ایک طالب علم ہوں ادھورا سا جو کچھ پہلے ٹوٹا پھوٹا پڑھا تھا آپ وہ بھی بھول بھال گیا اور اس کام کے کرنے والے ماشاء اللہ بہت ہیں پھر یہ کہ کیا سارے مقاصد کی مشق کے لیے میں ہوں اس کی بلکل ایسی مثال ہے کہ آپ لوہا ر کے پاس جاکر کہیں پازیب اور چھاگل بنادے وہ کہے گا کہ میں اس خدمت سے قاصر ہوں معذور ہوں ہاں ! کھرپہ پھاوڑا کوئی چاہے توکوٹ چھیت پیٹ کرہاتھ دوں ۔
اسی طرح مسائل فقہیہ کی تحقیق میرا کام نہیں جہاں یہ کام ہوتا ہو وہاں جاؤ اگر خاموش بیٹھنے کی برداشت نہیں ہوسکتی تو خود بیٹھنے ہی کی کیا ضرورت ہے بس ہیٹھے بیٹھے جوش اٹھتا ہے کہ لاؤ بے کار بیٹھے مسائل ہی پوچھ لیں بے کار سے تواچھا ہے آپ نے مجلس کی یہ قدر کی ۔ میں پوچھتا ہوں کہ دیوانی کے حاکم کے یہاں کوئی فوجداری کا مقدمہ لیجائے بے جوڑ بات ہے یا نہیں خدا معلوم لوگوں کا فہم کہاں گیا اور فہم تو بدنام ہے اصل چیز وہی بے فکری ہے اگر فکر ہوتی تو پہلے مجھ سے دریافت کرلیتے کہ میں فلاں شخص ہوں صبح آیا ہوں مجھ کو ایک مسئلہ معلوم کرنا ہے اجازت چاہتا ہوں مگر کچھ نہیں جو جی آیا کہنا شروع کردیا کوئی اصول ہی نہیں بولنے کے موقع پرخاموش اور خاموشی کے موقعہ پر بولنا ۔
اب میں آپ ہی سے پوچھتا ہوں آپ کو بولنے کا بڑا شوق ہے اب دیکھتا ہوں کیسے بولنے والے ہیں وہ پوچھنے کی بات یہ بات ہے کہ اگر میں کام سے فارغ ہوتا جو میں نے اپنے ذمہ لیا ہے تو کیا پڑھنے پڑھانے کا مشغلہ نہ رکھتا جب یہ مشغلہ نہیں تو سمجھ لیجئے کہ میں فارغ نہیں پھر مشغول آدمی کو دوسرے شغل میں لگانا کیا بے موقع نہیں اس کا جواب دیجئے اس پروہ خاموش رہے ۔ فرمایا جواب دیجئے آپ کو تو بولنے بلانے کا مشغلہ پسند ہے اب وہ بسندیدگی کہاں گئی ۔
افسوس ہے کیوں آپ لوگ آکر خود بھی پریشان ہوتے ہیں اور مجھ کو بھی پریشان کرتے ہیں میں اپنے اس طرز کے متعلق آپ سے کیا عرض کروں مگر کچھ عرض کرتا ہوں پہلے جس زمانے میں سفر کرتا تھا اس وقت کی خدمت میں اور جب سے سفر بند ہوا ہے اس وقت کی خدمت میں زمین آسمان کا فرق ہے الحمداللہ جب سے نکما ہوکر پڑگیا ہوں اور اکثر اصلاح کے باب میں لوگوں سے لڑائی بھڑائی رہتی ہے میں تو کھلی آنکھوں مشاہدہ کرتا ہوں کہ لوگوں کو بے حد نفع ہے اس لئے میں خیر خواہی سے آپ سے کہتا ہوں کہ مجلس میں خاموش بیٹھے رہا کیجئے اس کا نفع اس وقت آپ کو محسوس نہ ہوگا مگر یہاں سے جانے کے بعد آپ محسوس کریں گے تب اس بولنے پرخاموشی کو ترجیح دیں گے ۔ ایک اور ضرورت بات عرض کرتا ہوں کہ اگر یہاں قیام طویل ہوتب تو تعلیم کی درخواست کا مضائقہ نہیں اور اگر قیصر ہوتو صرف ملاقات اور مجلس میں بیٹھنے پر اکتفا کرنا چاہئے یہ ضروری اصول ہیں مگر آپ کو یہ اصول معلوم نہ تھے تویہ کیا مشکل ہے کہ آپ مجھ سے دریافت کر لیتے مگر نہیں دریافت کیا اس بے فکری کو خدا غارت کرے باستثناء قلیل قریب سب ہی کو اس بلاء میں ابتلاء ہے یا تو اس طریق کی طرف متوجہ ہی نہیں ہوتے اوراگر اس طرف متوجہ ہوئے بھی تو یہ نور برسایا خوب کہا ہے
اگر غفلت سے باز آیا جفا کی ٭ تلافی کی بھی ظلم نے تو کیا کی حضرت یہ راہ بڑی ہی نازک ہے قدم قدم پرغور اور فکر کی ضرورت ہے اس کی نزاکت پرایک حکایت یاد آئی ایک مرید کو جو شیخ کی خدمت میں رہتے تھے وسوسہ ہوا کہ دنیا میں بڑے بڑے مشائخ ہیں اوروں کو بھی چل کردیکھنا چاہئے شاید وہاں نفع زیادہ ہو۔ شیخ کو اطلاع ہوگئی قرائن سے یا کشف سے کہ مرید کو دوسری طرف میلان ہے کہ دنیا میں دوسرے مشائخ بھی ہیں مگر شیخ نے ظاہر نہیں فرمایا اور اس خاص لطیف عنوان سے فرمایا کہ بھائی بزرگوں نے سیاحت بھی کی ہے فامشوا فی مناکبھا ( سوتم اس کے رستوں میں چلو 12) کے اقتضاء سے سنت بھی اگر جی چاہے تم بھی سیاحت کر آؤ یہ مرید بہت خوش ہوا کہ میرانام بھی نہ ہوا اور کام بھی ہوگیا ۔ سیاحت میں چلا جاکر دیکھا کہ سب جگہ اندھیرا ہے مطلب یہ کہ اسے کچھ نظر نہیں آیا یہ ضروری نہیں کہ دوسری جگہ واقع میں بھی کچھ نہ تھا مگر حصوصیت استعداد سے مناسبت کے موقع کا اثر قلب پراس کا مصداق ہوتا ہے ۔
آفا قہا گردیدہ ام مہر بتاں و رزیدہ ام ٭ بسیار خوباں دیدہ ام لیکن تو چیز ے دیگری
( تمام جہاں چھان ڈالے بہت مجبوبوں سے محبت کرکے آزمایا ، ہزاروں حسینوں کو دیکھا لیکن تم تو کچھ چیز ہی اور ہو ، جس کا بیان مین لانا ہی مشکل ہے )
شیخ کی خدمت میں واپس آگئے دیکھ کرفرمایا کہ ہو آئے جی بھرگیا ، ارمان نکل گیا اب تو گھٹنے توڑ کر بیٹھو گے تب مرید کو معلوم ہوا کہ شیخ کو میرے خیال پراطلاع ہے دیکھئے کیسا سخت مریض تھا کیسا نازک علاج کیا ۔

(ملفوظ 51 ) حقیقی آزادی خاصا ن حق کو حاصل ہے :

(ملفوظ 51 ) ایک صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کی جی ہاں لوگ آزادی اور حریت کی حقیقت سے ناواقف ہیں اس لیے یہ مرض ایسا عام ہوگیا کہ سلطنت اور حکومت سے تو آزادی حاصل کرنا چاہتے ہیں خدا سے بھی آزا د ہوگئے خدا کا بھی خوف قلوب سے جاتا رہا یہ سب الحاد ہے بدفہمی کی بھی کوئی حد نہیں رہی حریت کس آزادی کو کہتے ہیں آیا حق سے آزاد ہونے کو یا غیر حق سے اس لیے کہ ایمان والے کیلئے تو حق کی غلامی ہی باعث فخر اور باعث فلاح اور بہودی ہے اور یہ آزادی بھی اللہ والوں ہی کو میسر ہے اور جومدعی ہیں آزادی ہزاروں طوق اور زنجیروں میں جکڑے ہوئے ہیں حقیقی آزادی خاصان حق ہی کو حاصل ہے ان کی یہ حالت ہے کہ وہ دنیا سے
öö öööö 47 öööö
آزادی اور حق کے پابند اور غلام ہیں اس غلامی پر لاکھوں کروڑں آزادیاں قربان جن کو اس غلامی کا رازمنکشف ہوگیا وہ تو بزبان حال یہ کہتے ہیں
اسیرش نخواہد رہائی زبند شکاری نجوید خلاص از کمند
( اس کا قیدی قید سے رہائی نہیں چاہتا اس کا شکاراس کے جال سے نکلنا نہیں چاہتا12)
میں اس پر ایک حکایت بیان کر تا ہوں وہ یہ کہ ایک عاشق جواپنے محبوب کی تلاش میں برسوں سرگرداں اور پریشان پھرتا تھا اتفاق سے ایک روزہ یہ چلا جارہا تھا کہ اس محبوب نے خاموشی سے آکر پیچھے سے آغو ش میں لے کر اس زور سے دبایا کہ اس کی پسلیاں دوسری طرف کی پسلیوں سے جاملیں آنکھیں نکل آئیں دم گھٹنے لگا اس حالت میں محبوب دریافت کرتا ہے کہ اگرمیرے دبانے سے تم کو تکلیف ہوتی ہے تو میں تم کو چھوڑکر اور کسی کو جاکراپنی آغوش میں دبا لوں اس وقت وہ اگر عاشق صادق ہے تو یہ کہے گا
نشودنصیب دشمن کہ شود ہلاک تیغت سرد وستاں سلامت کہ تو خنجرآزمائی
( تیری تلوار سے ہلاک ہونا خدا کرے دشمن کے نصیب میں نہ ہو، تیری خنجر آزمائی کے لئے دوستوں کا سرحاضرہے ۔ 12)

(ملفوظ 142)کانگریس محض ایک سیاسی جماعت ہے :

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ اس کوکوئی اپنی اصطلاح میں خواہ بے غیرتی کہے یا ضعف پر محمول کرے صاف بات یہ ہے کہ ہم اپنے بھائیوں کی ہرامرمیں موافقت اور ہرقسم کی امداد نہیں کرسکتے اور حقیقت میں اس کوامداد ہی کہنا صحیح نہیں کہ حدود سے تجاوز کرکے کسی کی موفقت کر لے کیونکہ حدود شریعت سے گذر کرآدمی جو کام بھی کرے گا اس کا برا ہی حشر ہوگا پھر وہ امداد کیا ہوئی چنانچہ اسی بناء پرہم لوگ کانگریسیوں کی امداد نہیں کرسکتے ہیں بلکہ محض سیاسی جماعت ہے جس میں زیادہ حصہ مذہب کے خلاف ہے اگر خدانخواستہ اس جماعت کا ہندوستان میں غلبہ ہوگیا اور خدا نہ کرے کہ وہ دن آئے تو یہ بھی ہندوستان میں وہی کریں گے جوبالشویک کررہے ہیں۔

(ملفوظ 169)بغیرمہارت وواقفیت فن اس میں دخل دینا غلطی ہے :

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ بدوں واقفیت فن کے آدمی ہمیشہ غلطیوں میں مبتلا رہتا ہے اور حقیقت کا پتہ نہیں چلتا مجھ کو پچھلے دنوں کچھ بدخوابی کی شکایت ہوگئی تھی ہم ایک حکیم صاحب سے حالت عرض کرتا وہ کچھ تجویذ کردیتے مگر کچھ نفع نہ ہوتا تومیں نے سمجھا یہ توجہ سے نہیں بتلاتے سرسری یاد سے کچھ کہہ دیتے ہیں لاؤ ہم ہی کتابیں مٰیں دیکھنا شروع کیا تواس مرض کے جتنے اسباب اس میں لکھے تھے میں نے دیکھا کہ سب میرے اندر موجود ہیں اب کچھ سمجھ میں نہیں آتا کہ میں کون سے سبب کا علاج تجویز کروں میں نے کتا ب لے جاکر حکیم صاحب کوحوالے کی اور کہا کہ یہ کتا ب آپ ہی کے کام کی ہے ہمارے کام کی نہیں اور راز معلوم ہوا کہ کچھ کچھ اسباب توسب ہی ہوتے مگر متعدد درجہ مٰیں سبب ہوتا ہے وہی مرض میں موثر ہوتا ہے اس کواہل فن ہی سمجھتے ہیں ہم نہیں سمجھ سکتے اسکی وجہ یہ ہے کہ وہ فن سے واقف ہیں ہم فن سے واقف نہیں غرض ندون فن کی مہارت اور واقفیت کے کسی فن میں دخل دینا درمعقولات کا مصداق ہے ۔

(ملفوظ 310)غیراختیاری مصائب پرتوفیق صبر

ایک مولوی صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ جوغیراختیاری بلائیں انسان پرآتی ہیں اللہ تعالٰی ان پرصبر کی بھی توفیق دیدیتے ہیں اور بلاؤں کے اور مصائب کے آنے میں بڑی حکمتیں ہوتی ہیں ایک رحمت یہ ہے بلائیں جوآتی ہیں وہ بھی بتدریج یہ بھی حکمت سے خالی نہیں کہ ان کا تحمل ہوجائے پھر اس سے مالا مال ہوجاتا ہے ۔
15/ شوال المکرم 1350ھ مجلس بعد نماز ظہریوم سہ شنبہ

(ملفوظ 309)فضل کسی کمال پر موقوف نہیں

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ کسی عمل کے صدور کو اپنا کمال نہ سمجھے بلکہ حق تعالٰی کی عطاء سمجھنا چاہیے اپنا کمال سمجھنے میں قلب میں دعوٰٰی استحقاق کا پیدا ہوجائے گا اور یہ سخت مضر ہے اپنے کو ناقص ہی سمجھے اور اپنا کوئی استحقاق نہ سمجھے اسی میں خیر ہے ہاں باوجود باقص سمجھنے کے ان کے فضل کا امیدوار ہے فضل کسی کمال پرموقوف نہیں ۔