( ملفوظ 308)صفائی معاملات کا قحط

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ روزمرہ کے معاملات میں لوگ ادھوری بات کرتے ہیں جس سے دوسرے کو پریشانی ہوتی ہے تکلیف ہوتی ہے ہمشہ اس کا خیال رکھنا چاہئے گویا یہ کل سلوک ہے کہ اپنی ذات سے کسی کو تکلیف نہ پہنچے آج کل لوگوں نے وظائف اور اور اد کو اصل سمجھ کر معاشرت کے تمام احکام سے نظرہٹالی جوسخت دھوکہ ہے اور اشد غلطی ہے بات ہمیشہ پوری کہنا چاہیے پوری بات کرنے سے کبھی پریشانی نہیں ہوتی میں تو رات دن اسی ہی کی تعلیم کرتا ہوں ۔ ایک صاحب یہاں پر تشریف لائے تھے پہلا مو قع تھا مجھ کو اجنبی شخص کے خدمت کرنے سے بجائے راحت کے گرانی اور کلف ہوتی ہے میں مکان کے ارادہ سے چلا انہوں نے دوڑ کرجوتے کا جوڑا میرے ہاتھ میں سے لینا چاہا میں نے انکار کیا اس پراصرار کیا سخت پریشانی ہوئی میں نے کہا کہ اپنا جی چاہا کرتے ہو تو کرلو جوتہ لئے کھڑے رہو میں ننگے پیر چلا جاؤں گا لوگ اس طرح پرایذائیں پہنچاتے ہیں کچھ نہیں محض تمرد اور سرکشی ہے اطاعت کا مادہ ہی لوگوں میں نہیں رہا کہاں تک اصلاح کی جائے ۔

(ملفوظ 307) وعظ الظاہر کے بارے میں

ایک مولوی صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ یہ تو جاہل صوفیوں کے اقوال ہیں ان کو کیا خیر کہ حقیقت شریعت کیا ہیں اصطلاح میں احکام ظاہرہ کو شریعت کہتے ہیں اور باطن کو طریقت اور اصل ایک ہی چیز ہے اس کے یہ دو درجے ہیں اور بدون دونوں جمع ہوئے اور عمل کئے انسان کی نجات نہیں باقی حقیقت وہ اسی مجموعہ پرمرتب ہے اس لئے اگراس کے موافق ہے تو مقبول ورنہ وہ حقیقت ہی نہیں جس کو شریعت رد کرے یا کہ بدینی ہے ایسے ہی بد دینوں اورجاہلوں نے اس فن کو بدنام کیا ہے اس کی مثال بیان کرتا ہوں مثلا یہ ایک حقیت ہے کہ ہرشے کے مالک حقیقی اللہ تعالٰٰی ہی ہیں مگر نظام عالم قائم رکھنے کیلئے اشیاء پر ہمارا نام رکھ دیا ہے ورنہ حقیقت میں بندوں کے اموال اور نفس اور عزت اور آبرو سب کے مالک وہی ہیں غرض اس حقیقت کی حکمت کے لئے ان کی نسبت ہماری طرف فرمادی تاکہ گڑبڑ نہ ہو اور نظام عالم قائم رہے اور یہ نسبت شریعت ہے پس اگرشریعت نہ ہو تو تمام عالم میں فساد برپا ہوجائے ہرشے پرتجادل ( آپس میں جھگڑا ) وتقاتل ( آپس میں لڑائی ) برپارہے شریعت مقدسہ ہی نے بڑے بڑے مفاسد کو روک رکھا ہے اسی مضمون کو مولانا رومی رحمتہ اللہ علیہ نے ایک خاص عنوان سے بیان کیا ہے فرماتے ہیں
سرپہناں است اندر زیروبم ٭ فاش اگر گویم جہاں برہم زنم
حضرت حاجی صاحب نے یہی تفسیر فرمائی ہے کہ سرپہناں توحید کشفی ہے اورفاش گفتن اظہار ہے جہاں برہم زودن مفاسد کا ترتب ہے اور زنم میں اسناد الی السبب ہے پس اس نسبت کے حقوق اور اس کے احکام شریعت ہی نے بیان فرمائے ہیں اور جو درجہ اس نسبت کا ہے وہ بھی اک حقیقت ہے جوحقیقت متعارفہ کی ساتھ جمع ہوسکتی ہے پس دونوں حقیقتوں میں کچھ تعارض نہیں پس صحیح حقیقت ان دونوں کا مجموعہ ہے نہ وہ جس کو جاہل صوفی بیان کرتے ہیں کہ وہ تو واقع میں حقیقت نہیں صرف جزو حقیقت ہے غرض حقیقت وہ ہے جس کو شریعت نے نیان کیاہے اور جس یہ لوگ بیان کرتے ہیں وہ حقیقت مزعومہ ہے حقیقت واقعہ نہیں میرا ایک وعظ ہے الظاہر اس کا نام ہے میں اس کے متعلق پوری بحث ہے اس کو دیکھ لیا جائے ۔

(ملفوظ 306)صوفیاء کے نزدیک انسان عالم کبیر ہے

ایک مولوی صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ حکماء انسان کو عالم صغیر کہتے ہیں اور صوفیہ عالم کہتے ہیں اور صوفیہ کبیرکہتے ہیں اور اگر کسی کو شبہ ہو کہ حق تعالٰی فرماتے ہیں لخلق السموات والارض اکبر من خلق الناس ، جس میں تصریح ہے انسان کے صغیر ہونے کی اور اس صورت میں حکماء اورصوفیہ کے کلام میں تعارض معلوم ہوتا ہے اور حکماء کی تائید کلام پاک سے ہوتی ہے اس کا جواب یہ ہے کہ تعارض کچھ نہیں اس لئیے کہ انسان میں دو درجہ ہیں ایک کے اعتبار سے حکماء کا قول صحیح ہے یعنی مادہ کے اعتبار سے تو انسان عالم صغیر ہے جیسا لفظ خلق اس پردال ہے اور روح کے اعتبار سے عالم کبیر ہے اور اصل بات یہ ہے کہ صوفیہ کے اکثر دقائق لوگوں کی سمجھ میں نہیں آتے اس لئے ان کے اقوال کو بظاہر دلائل کے معارض سمجھ بیٹھتے ہیں حالانکہ وہ حقیقت ہوتی ہے مثلا اس وقت میں نے ہی حکماء اور صوفیہ کے قول کو بیان کیا بتلایئے ان میں کیاتعارض ہے ۔

(ملفوظ 305)غیر اختیاری چیزیں مقصود فی الدین نہیں

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ جن چیزوں کی تکمیل کا حکم ہے وہ مامور ہیں اوراختیا ری ہیں اور جو اختیاری نہیں وہ مامور بہ نہیں نہ وہ مقصود فی الدین ہیں مگر جن چیزوں کی تکمیل کا امر ہے دعوی ان کی تکمیل کا بھی کوئی نہیں کرسکتا اور نہ ناز کرسکتا ہے کہ میرے نجات کا مدارمیرے اعمال پر ہے نجات کا مدار فضل خداوندی پرہے واقعی اپنے اعمال کی بدولت کون جنت کو پاسکتا ہے خود حضوﷺ نے ارشاد فرمایا کہ لن یدخل الجنۃ احد بعملہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا والا انت یا رسول اللہ کہ یا رسول اللہ آپ بھی اپنے عمل کی وجہ سے جنت میں داخل نہ ہوں گے حضورﷺ نے اپنے سرمبارک پرہاتھ فرمایا ولا انا الا ان یتغد نی اللہ برحمتہ یعنی نہ میں مگر یہ کہ اللہ تعالٰی اپنی رحمت میں چھپالے اب کس کا منہ ہے اور کس شمار میں ہے بس معلوم ہوگیا کہ ایسے خیالات ہی میں نہ بڑے اپنے کام میں لگنا چاہے اور یہ لگنا ساری عمر کے لیے ہے بس اسی میں اپنی عمر کو ختم کردے اسی کو مولانا فرماتے ہیں
اندریں رہ می تراش ومی خراش ٭ تادم آخردمے فارغ مباش
( میں نے اپنے کسی نفع کے لیے مخلوق کو پیدا نہیں کیا بلکہ بندوں پربخشش اور کرم کرنے کیلئے پیدا کیا ہے ۔ 12)
وہ تو دربار ہی اورہے وہاں تو ان نقائض ہی پر سب کچھ عطا ہوگا وہ کا ملین ہی کے خریدار تھوڑا ہی ہیں وہ تو ناقصین کو بھی قبول فرمانے والے ہیں اس لئے کہ جو کچھ عطاء ہوگا وہ کا ملین ہی کے خریدار تھوڑا ہی ہیں وہ ناقصین کو بھی قبول فرمانے والے ہیں اس لیے جو کچھ عطاء ہوگا اس کے مقابلہ میں ان ہمارے اعمال کی کچھ بھی حقیقت نہ ہوگی گووہ قاعدہ سے کامل ہی ہوں جو کچھ بھی ہوگا فضل اور رحمت سے ہوگا وہاں ضابطہ کے کھوٹے کھرے کو نہ دیکھا جائے گا بلکہ طلب اور خلوص کو دیکھیں گے مولانا فرماتے ہیں
خود کہ یایدایں چنیں بازاررا ٭ کہ بیک گل می خری گلزار را
( ایسا بازار کس کو ملتا ہے جہاں ایک پھول کے بدلہ میں پورا باغ ملتا ہو ۔ 12)
اس لیے کہ مایوس نہ ہوجیسے ٹوٹے پھوٹے کی توفیق ہوکام میں لگے رہو انشاءاللہ تعالیٰ سب کچھ عطا ہورہے گا ۔

(ملفوظ 304) فناء الرائی :

(ملقب بہ فنا ء الرای) ایک نووارد صاحب سے حضرت والا نے دریافت فرمایا کہ کہاں سے آنا ہوا اورکس غرض ہے ۔ عرض کیا کہ فلاں مقام سے آیا ہوں اور اصلاح کی غرض سے آیا ہوں فرمایا کہ ایک دن میں اصلاح ۔ عرض کیا کہ تین دن ٹھہروں گا فرمایا کہ تین دن ہی سہی اتنی مدت میں تو جمسانی مرض مزمن بھی نہیں جاسکتا اس وقت تو آنے کی غرض ملاقات ہی رکھئے یہ بھی ایک رسم ہے کہ اصلاح کے الفاظ ضرور کہے جائیں چاہے وقت یو یا نہ ہو سو یہ وقت محض ملاقات کیلئے اس میں آپ کے لئے بھی سہولت ہوگی اور میرے لئے بھی آپ بھی عافیت سے رہیں گے اور مجھ کو بھی عافیت رہے گی یہ فرما کردریافت فرمایا کہ میرے جواب کے بعد بات صاف ہوجانا چاہے آپ اپنی رائے قائم رہیں یا نہیں مجھکو معلوم ہوجانا چاہیے عرض کیا کہ ملاقات ہی کیلئے اس وقت کوطے کرلیا ہے مگر حضرت والا اللہ اللہ کرنے کیلئے کوئی طریقہ تجویز فرمادیں فرمایا کہ یہ تواس وقت آپ نے ایسی بات کہی کہ پنچوں کا کہنا سرآنکھوں پرمگر پرنالہ اسی طرف کواترے گا دوسرے طالبانہ دوخواست نہیں کی مدعیانہ تجویز بھی خود ہی کرلیا کہ فلاں چیز کی تعلیم کردو اس کی مثال ہے کہ جیسے مریض طبیب سے کہے کہ میرے لئے خمیرہ تجویز کردیجئے طبیب کو تو حق ہے کہ وہ جوچاہے تجویز کرے مگر مریض کو حق نہیں تجویز کا اور اس وقت تو آپ کو کوئی دوخواست بھی نہ کرنا چاہئے تھی اس لئے کہ یہ وقت ملاقات کیلئے طے ہو چکا تھا میں آپ سے پوچھتا ہوں کہ اگر دق کا مریض طبیب سے یہ کہے کہ میرے لئے دودھ گھی تجویز کردیجئے تو کیا اس کی یہ دوخواست بااصول ہے یا بے اصول اور ایسی درخواست تو خط سے بھی پوری ہوسکتی تھی فضول آپ نے سفر کی صعوبت گوارا کی اور کرایہ صرف کیا اگر مختصر قیام ہوتو ملاقات ہی پراکتفا کرنا چاہئے اور اگر مطول قیام ہے تو ایسی دوخواست کا مضائقہ نہیں اب اس میرے جواب سے معلوم ہوگیا ہوگا کہ اس درخواست سے آگے کوئی اورچیز بھی ہے ورنہ جہل میں ابتلا رہتا اور ظاہر میں تو یہ دوخواست خیرمعلوم ہوتی تھی مگر اس کی تہ میں یہ زہر اور ضرر ہے کہ اگرمیں اس درخواست کو پورا کردیتا تو خود رائی کا مرض زیادہ قوت پکڑ جاتا اسی ہی لیے میں نے کہا تھا کہ اتنی مدت میں تو مرض جسمانی مزمن بھی نہیں جاسکتا ۔ شہ جائے کہ مرض باطنی آخراس باطنی مرض کا ظہور ہورکر رہا لوگ مجھ کو وہمی کہتے ہیں لیکن اگر اس طرح نہ کروں تو اصلاح کس طرح ہو اگر کوئی طبیب مریض کے حالات پر مطلع ہونے کے لئے کھود کرے تو آیا وہ شفیق کہلائے گا ہمدرد اور خیر خواہ کہلائے گا یا وہمی اورسخت اور ظالم کہلائے گا جب تک مریض یہ کہتا ہے کہ میں ملاقات کو آیا ہوں اس وقت تک تو خیر ہے اور جہاں اس نے کہا کہ علاج کی غرض سے آیا ہوں سوالات شروع ہوگئے بھوک کا کیا حال ہے پیاس کیسی ہے نیند آتی ہے یا نہیں یہی قاعدہ طریق اصلاح میں ہے کہ جب تک ملاقات کا نام ہے کچھ مطالبہ نہیں اور جہاں اصلاح کا نام لیا سوالات شروع ہوگئے طالب کے بعض حالات تو وہ ہیں کہ جوسوالات پرموقوف ہیں اور بعض باتیں مصلح خود مثل طبیب کے قرائن سے معلوم لرلیتا ہے مثلا طالب میں طلب صادق ہے یا نہیں فہم اور عقل اس میں کیسے ہیں اگر طلب صادق ہے اور فہم ہے تومناسبت ہوکر کام چل جاتا ہے اورکوئی بے لطفی بھی جانبین کو پیش نہیں آتی اور اگرطالب ان اوصاف سے کورا ہے تو عدم مناسبت کی بناء پرنفع نہیں ہوتا بدفہمی کی وجہ سے گڑبڑ کرتا ہ اس سے مصلح کو تکدر ہوتا ہے اس کے تکدر سے مریض یعنی طالب کو تکدر ہوتا ہے اس لئے کام نہیں چلتا ۔ یہ طریق ہیں علاج کے مربی جس کیلئے جو اس کے حال کے مناسب سمجھتا ہے تجویز کرتا ہے اکثر جوطالب سے گڑبڑ ہوتی ہے وہ اضطرار سے یا بدفہمی سے یا قصد سے جہل سے نہیں ہوتی بلکہ اکثر بے فکری اور غفلت سے ہوتی ہے یہ ہی وجہ ہے کہ مصلح کو اس پرسخت ناگواری ہوتی ہے کہ اگر یہ چاہتا اور اہتمام کرتا تو اس کا انسداد اور ازالہ اس کے اختیار میں تھا اب اس بے فکری اور غفلت کے دور کرنے کیلئے طالب کے مزاج کے موافق مربی جومناسب سمجھتا ہے تجویز کرتا اور برتاؤ کرتا ہے۔ اوریہ وہ چیزہے کہ جس میں کسی میں کسی کو بھی مداخلت کرنا جائز نہیں جیسے طبیب جسمانی کی تجویزمیں کسی کو حق مداخلت کا نہیں ہاں ایک حق ہے کہ اگروہ مصلح یا اس کی تجویز پسند نہ ہو یا اس کو برداشت نہ کرسکے تو اس کا علاج چھوڑ دے یا اس سے تعلق قطع کردے ورنہ تعلق رکھتے ہوئے اس راہ میں قدم رکھنے کے لئے پہلی شرط یہ ہے جس کو فرماتے ہیں
دورہ منزل لیلٰی کہ خطرہاست بجاں ٭ شرط اول قدم آنست کہ مجنون باشی
( لیلٰی کے ملنے کے راہ میں جان کو بہت سے خطرات توہیں ہی مگر اول شرط یہ ہے کہ مجنون بنو ۔ 12)
اس راہ میں بدون اپنے کو مٹائے اور فنا کئے کامیابی مشکل ہے مٹ جانے سے مراد یہ ہے کہ اپنے کو کسی کے سپرد کردے اور اپنے تمام خیالات اور راؤں کو اس کی تجویز کے سامنے فنا کردے مولانا رومی اسی کو فرماتے ہیں
قال رابگذار مردحال شو ٭ پیش مرد ے کا ملے پامال شو
(قال کو چھوڑ کرحال پیدا کرو ۔ اور کسی کامل کے آگے اپنے کو فنا کردو ۔ 12)
اور اگرایسا نہیں کرسکتا تو کامیابی مشکل ہے جب مربی کی ہر تبنیہ اور اس کی روک ٹوک پرتیرے دل میں کدوت پیدا ہوتی ہے تو آیا ہی کس بوتے پرتھا اور اس راہ میں قدم ہی کیوں رکھا تھا مولانا فرماتے ہیں
تو بیک زخمے گریزانی زعشق ٭ تو بجز نامے چہ میدانی زعشق
چوں نداری طاقت سوزن زون ٭ پس تو ازشیرریاں کم دم بزن
دربہر زخمے تو پرکنیہ شوی ٭ پس کجا بے صیقل آئینہ شوی
( تو ایک کچوکے ہی کی وجہ سے عشق سے بھا گنے لگے ۔ تومعلوم ہوا کہ تم نام ہی کے عاشق تھے جب سوئی چبھنے کی برداشت نہیں ہے ۔ توشیر کی تصوریر بدن پرگدوانے کا خیال ہی چھوڑدو ۔
اگرہرکچوکے پرتمام کو ناگواری ہوگی تو بے صیقل کے آئنیہ کیسے بنو گے ۔ 12)

(ملفوظ 303)بدعت نہایت مذموم چیز ہے

ایک مولوی صاحب کے سوال کے جواب دیتے ہوئے فرمایا کہ بدعت نہایت ہی مذموم چیز ہے ابن عمررضی اللہ عنہ نے ایک شخص کو ایک عجیب جواب دیا تھا اس شخص کو چھینک آئی بجائے الحمداللہ اس نے کہا السلام علیکم ابن عمر نے فرمایا کہ تجھے بھی سلام تیری ماں کو بھی سلام اس نےبرامانا ۔ پس مقصود تعلیم دینا تھے کہ بے محل شرعی سلام کرنا ایسا ہی برا ہے جیسا تمہارہے سلام کے جواب میں ماں کو شامل لرلینا بے محل ہونے کی وجہ سے برا سمجھا گیا اس میں بعض لوگون نے ایک نکتہ نکالا ہے کہ ماں کا ذکر اس لئے کیا کہ اس نے تجھے ایسی تعلیم کی یہ بطور طعن کے تھایہ بہت جلیل القدر صحابی ہیں بڑے ہی متبع سنت ہیں یہاں تک کہ سفر میں جہاں حضور ﷺ نے نماز پڑھی وہاں یہ بھی نماز پڑھتے تھے ۔
15 شوال المکرم 1350 ھ مجلس خاص بوقت صبح

(ملفوظ 302) تواضع کا کلمہ :

خواجہ صاحب نے عرض کیا کہ حضرت فلاں مولوی صاحب یہ فرماتے تھے کہ مجھ میں کبر کا مرض بہت زیادہ تھا مگر خانقاہ کے زمانہ قیام میں وہ کبر جاتا رہا اور یہ معلوم ہواکہ مٰیں کچھ نہیں حضرت والا نے کہا آپ کے اس کہنے پرمولانا شہید رحمتہ اللہ علیہ کا ایک ملفوظ یاد آیا ایک شخص نے مولانا کے علم کی تعریف کی مولانا نے فرمایا میرا کیا خاک علم ہے اس نے کہا آپ تواضع سے فرماتے ہیں آپ نے فرمایا کہ یہ کلمہ تو تکبر کا ہے تواضع کا کلمہ نہیں ۔ یہ بات وہ شخص کہہ سکتا ہے کہ جس کی دورتک علم پرنظرہو اس کو دیکھ کر یہ ہی کہے گا تو یہ کلمہ تواضع کا کہاں ہوا اس میں توعلم کثیر کا دعوی ہوا پھرفرمایا کہ بڑے ہی کام کی بات فرمائی اس لئے کہ بعض نفی بھی اثبات پردلالت کرتی ہے ۔

(مفلوظ 301)حضرت حاجی صاحب کی حضرت کو نصیحت

ایک مولوی صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ جی ہاں جوآجکل وعوی نہیں کرتا وہی دباہوا نظرآتا ہے لوگ اسی کے پیچھے پڑے رہتے ہین اگروہ بھی زبان کھولے اورقلم ہاتھ میں لے تب حقیقت معلوم ہو چنانچہ مجھ پر آئے دن عنایت فرماؤں کی عناتیتں ہوتی رہتی ہیں وہی ہے جو میں نے عرض کی یعنی میری خاموشی حضرت صاحب رحمتہ اللہ علیہ نے فرمادیا تھا کہ جوشخص تم سے الجھے سب رطب دیا بس اس کے حوالے کرکے الگ ہوجاؤ بڑی ہی پاکیزہ تعلیم ہے اس کی بدولت بڑے بکھیڑوں سے نجات مل گئی ۔

(ملفوظ 300)قصد السبیل اور امداد السلوک

ایک صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ چونکہ فلاں صاحب امدادالسلوک کو سمجھتے نہیں اس لئے قصد السبیل کو اس کے معارض سمجھیں گے پھر تعارض سمجھنے کے نعد دوہی صورتیں ہونگی یا تو امدادالسلوک سے غیر معتقد ہوں گے یا قصدالسبیل سے غیر معتقد ہوں گے اس سمجھنے پریہ نظیر بتلائی کہ فلاں مولوی صاحب ندوی نے قصدالسبیل کودیکھ کر لکھا تھا کہ یہ فن بڑا مشکل معلوم ہوتا ہے یہ صریح دلیل ہے نہ سمجھنے کی ۔

(ملفوظ 299)انسان بننا مشکل ہے

ایک صاحب کی غلطی پرتنبہ فرماتے ہوئے فرمایا کہ اگر میں اپنے مذاق کا اخفاء کرتا تو آج بہت خوش اخلاقی مشہور ہوتا ہے یہاں پرتو ببانگ دہل بتلا دیا جاتا ہے کہ ہمارے پاس یہ کچھ ہے اگر اس سے زائد کی ضرورت ہوتو کہیں اور جاؤ اگرانسان بننا ہے تو یہاں آؤ اور یہ بھی کہا کرتا ہوں کہ بزرگ اورولی قطب اور غوث بننا تو آسان ہے مگر انسان بننا مشکل ہے ۔