(ملفوظ 298)پہلے لوگوں کا اختلاف

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ پہلے لوگوں میں بھی اختلاف تھا مگر نفسانیت سے نہ ہوتا تھا مولوی تراب صاحب جنہوں نے قاضی مبارک وغیرہ پرحاشیہ بھی لکھا ہے مفتی سعداللہ صاحب سے ان کی ملاقات ہوئی مولود پرپہلے گفتگو ہوا کرتی تھی مولود تراب صاحب نے کہا کہ مولوی صاحب ابھی تک تمہارا انکا ر چلا ہی جاتا ہے ۔ مولوی سعداللہ صاحب نے کہا کہ اور ابھی تک تمہارا اصرار چلا ہی جاتا ہے انہوں نے کہا کہ مولوی صاحب ہم قسم کھا کر کہتے ہیں کہ سوائے متابعت سنت رسول اللہ ﷺ کے اس احتیاط کا اور کوئی داعی نہیں مولوی تراب صاحب نے کہا کہ الحمداللہ آپ اور ہم دونوں انشاءاللہ تعالٰی ناجی ہیں ہم محبت کی وجہ اور تم متابعت کی وجہ سے مناظرہ ختم ہوا ضدی نہ تھے ۔

( ملفوظ 297)انسان کومایوس نہ ہونا چاہیے

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ انسان کو مایوس نہ ہونا چاہئے حق تعالی سے اچھی امید رکھنی چاہئے وہ بندہ کے ظن کے ساتھ ہیں جیسا بندہ کے ساتھ گمان رکھتا ہے ویساہی معاملہ اس کے ساتھ فرماتے ہیں بڑی رحیم کریم ذات ہے مگر شرط ہے کہ طلب ہو اور کام میں لگارہے جو بھی ہوسکے کرتا رہے پھروہ اپنے بندے کیساتھ رحمت اور فضل ہی کا معاملہ فرماتے ہیں وہ کسی کی محنت اور طلب کو رائیگاں یا فراموش نہیں فرماتے ایک شخص کا مقولہ مکھ کو پسند آیا کہ کئے جاؤ اورلئے جاو واقعی ایسی ہی ذات ہے اس قائل نے بہت بڑے اور اہم مضمون کو دولفظوں میں بیان کردیا ہاں لگا رہنا شرط ہے اور ایک یہ ضروری امرہے کہ ماضی اور مستقبل کی فکر میں نہ پڑے اس سے بھی انسان بڑی دولت سے محروم رہتا ہے اور یہ بھی توماسواللہ ہی کی مشغولی ہے خلاصہ میرے بیان کا یہ ہے کہ قصد سے ماضی اور مستقبل کے مراقبہ کی ضرورت نہیں ۔ اگر بدون قصد خیال آجائے توماضی کی کوتا ہیون پرتوبہ استغفار کرلیا کرے بس کافی پچھلے معاصی کا کاوش کے ساتھ استحضار بھی کبھی حجاب بن کر خسران کا سبب ہوجاتا ہے اور آئندہ کیلئے تجویزات کی ضرورت یہ بھی ضرررساں ہے نہ اس کی ضرورت کہ میں پہلے کیا تھا اور اب ہوگیا اورمیں کچھ ہوا یا نہیں کن جھگڑوں میں وقت ضائع کیا کام میں لگو ان فضولیات کی چھوڑو ۔ کسی حالت میں بھی مایوس نہ ہوتو وہ تو دربار ہی عجیب ہے کوئی شخص کتنا ہی گنہگار کیون نہ ہو ایک لمحہ ایک منٹ میں کا یا پلیٹ جاتی ہے بشرطیکہ خلوص کے ساتھ اس طرف متوجہ ہوکر رجوع کرے اور آئندہ کیلئے عزم استقلال کا کرے پھر تو جس نے کبھی ساری عمر اللہ کا نام نہ لیا ہو ا اور اپنی تمام عمر کا حصہ معاصی اور لہو ولعب مین بردباد کیا ہوا اس کیلئے بھی رحمت کا دروازہ کھلا ہوا ہے اسی کو فرماتے ہیں
باز آباز ہرآنچہ ہستی بازآ ٭ گرکافر وگبروبت پرستی باز آ
ایں درگہ مادرگہ نومیدی نیست ٭ صدر ۔ باراگر تو یہ شکستی باز آ
( توجوکچھ بھی ہے ) حتی کہ ) اگرکافر ومشرک اور بے دین بھی پھر بھی توبہ کرلے ( توہم قبول کہرلٰں گے کیونکہ ) یہ ہماری درگاہ ہے جہاں مایوسی نہیں ہے اگر سوبار توبہ کرلے
پھرتوڑدی ہو۔ اور پھر توبہ کرلو۔ تب بھی قبول ہے )۔
جوبندے کے لیے مشکل ہے وہ خدا کے لیے آسان ہے ایسی ذات سے کون مایوس ہوسکتا ہے اسی کوفرماتے ہیں
تو مگو مار ابداں شہ بار نیست ٭ باکریماں کارہا دشوار نیست
( تو یہ مت کہ کہ ہماری رسائی اس دوبار تک نہیں ہے کیونکہ کریموں کیلئے کوئی کام مشکل نہیں ہے وہ اپنے کرم سے تم کو خود اپنی طرف کھینچ لیں گے ۔ 12)
رحمت حق ہروقت اپنے بندوں کے لئے بخشش کا بہانہ ڈھونڈتی ہے یحیی بن اکثم جوامام بخاری رحمتہ اللہ علیہ کے شیخ بھی ہیں ان وفات کے بعد کسی نے ان کو خواب میں دیکھا پوچھا حق تعالٰی کے ساتھ کیا معاملہ ہوا فرمایا مجھ کو حاضر کرکے ارشاد ہوا کہ ارے بڑے بڑے بوڑھے تونے فلاں عمل کیا فلاں معاملہ کیا اس کا کیا جواب ہے میں خاموش رہا ارشاد ہوا کہ بولتا کیوں نہیں میں نے عرض کیا کہ اے اللہ کیا جواب دوں سوچ رہاہوں ارشاد ہوا کہ کیا سوچ رہا ہے میں نے عرض کیا میں نے حدیث کی ورایت کی ہے ان اللہ یستحی من ذی الشیبۃ المسلم کہ حق تعالٰ بوڑھے مسلمان سے شرماتے ہیں لیکن یہاں اس کا عکس دیکھ رہا ہوں اب حیران ہوں اگر حدیث صحیح ہے تو یہ کیا قصہ ہے ارشاد ہوا کہ حدیث صحیح ہے جاؤ اعمال سے قطع نظر کرکے آج صرف پڑھاپے پررحم کرکے بخشش کئے دیتے ہیں شیخ سعدی علیہ الرحمتہ فرماتے ہیں
ولم مید ہدوقت وقت ایں امید ٭ کہ حق شرم داروز موئے سفید
( میرا دل ہروقت یہ امید رکھتا ہے کہ حق تعالیٰ بوڑھے آدمی کا لحاظ فرماتے ہیں ۔ 12)
اورایک حکایت ہے ایک نوجوان کی اگر ظاہر نظر سے دیکھا جائے توایک مسخرہ پن سا معلوم ہوتا ہے مگرواقع میں منشا اس کا خشیت تھا اس شخص کو اپنے اعمال بد کی وجہ سے خوف تھا جب انتقال ہونے لگا تو اپنے ایک دوست کو وصیت کی کہ غسل کے بعد میری داڑھی پرتھوڑا سا آٹا مل دینا چنانچہ ایسا ہی کیا گیا کسی نے خواب میں دیکھا پوچھا اس نے بیان کیا کہ نکیرین نے حق تعالٰ کے حکم سے یہ سوال بھی کیا کہ ایسی وصیت کی کیا وجہ تھی عرض کیا کوئی نیک عمل میرے پاس نہ تھا مجھ کو خوف ہوا اور حدیث میں نے علماء سے سنی تھی کہ اللہ تعالٰی بوڑھے مسلمان سے حیا کرتے ہیں میں بوڑھا بھی نہ تھا اور بوڑھا بننا اختیاری بھی نہ تھا اسلئے میں نے وصیت کی تھی کہ میری داڑھی کوآٹا مل دینا تاکہ بوڑھوں کی ساتھ تشبہ توہوجائے اور یہ اختیاری تھا حکم ہوا کہ جاؤ اسی وجہ اسی وجہ سے بخشش کی جاتی ہے یہ عمل تمہارا پسند آیا دیکھئے رحمت حق بخشش کے بہانے ڈھونڈتی ہے اسی کو فرماتے ہیں
من نکر دم خلق تاسود ے کنم ٭ بلکہ تابر بندگان جودے کنم
( میں نے اپنے کسی نفع کے لیے مخلوق کو پیدا نہیں کیا بلکہ بندوں پر بخشش اور کرم کرنے کیلئے پیدا کیا ہے ۔ 12)
جناب رسول اللہ ﷺ نے جو فرمایا ہے کیا نعوذ باللہ وہ جھوٹ ہوسکتا ہے فی الحقیقت حق تعالیٰ ادنی نہانہ سے بندوں پررحم فرمادیتے ہیں ۔ دیکھ لیجئے کہ بخاری کے شیخ اتنے بڑے شخص مگر حدیث دانی حدیث خوانی حدیث رانی سب ختم ہوگئی اگر بخشے گئے تو داڑھی کے سفید ہونے پر اور نجات توچھوٹی بات پر بھی ہوجاتی ہے مگر چھوٹی بات مواخذہ نہیں ہوتا ۔ یہ بالکل غلط مشہور ہے کہ مواخذہ بھی چھوٹی سی بات پرہوجاتاہے مواخذہ تو بڑی ہی بات پرفرماتے ہیں اب رہایہ کہ کوئی بڑی کو چھوٹی خیال کرے اس کا کسی کے پاس کیا علاج ہے جیسے ایک رئیس خاں صاحب تھے انہوں نے حضرت گنگوہی رحمتہ اللہ علیہ سے عرض کیا تھا کہ حضرت وہ چھوٹی چھوٹی باتیں کونسی ہیں جن سے نکاح ٹوٹ جاتا ہے حضرت نے فرمایا کہ چھوٹی چھوٹی باتوں سے انبہٹے والوں کا نکاح ٹوٹ جاتا ہوگا ۔ عرض کیا کہ حضرت یہ ہی کفرشرک کی باتیں فرمایا کہ خان صاحب یہ کفر وشرک تو چھوٹی باتیں ہیں اور ان سے بڑی کونسی ہونگی ۔ بس اسی طرح اگرکوئی بڑی کو چھوٹی سمجھ لے تو اس کا کیا علاج ایک بزرگ بہت بھولے تھے ایک باورچی بہت منہ چڑھا تھا اور مولوی صاحب اس کے معتقد تھے فرمایا کرتے تھے کہ اس میں سب محاسن ہیں صرف ایک ذراسی کسرہے کہ نماز نہیں پڑھتا اب بتلائیے اتنی بڑی کسر کو مولوی صاحب ذراسی کسر بتاتے ہیں ۔

(ملفوظ 296)بے فکری کے کرشمے :

خواجہ صاحب نے عرض کیا جن صاحب نے میرا واسطے سے گفتگوکی تھی اور ان کو مسجد میں بیٹھ جانے کو حضرت والا نے فرمایا تھا ۔ وہ پھر میرے واسطے سے کچھ عرض کرنا چاہتے ہیں فرمایا کہ وہ ابھی دق کرچکے ہیں پہلے یہ معلوم کرلیجئے کہ وہ کیا کہنا چاہتے ہیں تب اجازت دوں گا خواجہ صاحب نے ان صاحب سے دریافت کرکے عرض کیا کہ اپنے قصورکی معافی چاہتے ہیں فرمایا کہ اب اجازت ہے آپ کو واسطہ بننے کی ان سے پوچھئے کہ آخری ایک ایسی صریح بات میں غلطی کی اور باوجود مکررسہ کررتنبیہ کے بھی آپ اپنی حرکت سے باز نہ آئے اس کی کیا وجہ تھی عرض کیا کہ یہ نہ معلوم تھا کہ اتنی بات سے متاثر ہوجائیں گے فرمایا سے پوچھئے کہ اگر کوئی متاثر بھی نہ ہوکسی کو تکلیف بھی نہ ہومگر وہ خطاب لغو تو ہوا جب دوسرا نہ سن سکا عرض کیا کہ بیشک لغو ہوا فرمایا ان سے پوچھئے کہ اب اس کا تدارک ہے عرض کیا کہ معافی کا خواستگارہوں آئندہ ایسی بڑی غلطی نہ کروں گا جس کا دوسرے لفظوں میں یہ حاصل ہوا کہ تھوڑی سی تکلیف دینا تو گوارا ہے زیادہ گوارہ نہیں اپنے نزدیک تو بڑا سوچ کرجواب دیا کہ اس پرکوئی اشکال نہ پڑے مگروہی بیہودگی کی بیہودگی یہاں ایسوں کی گزر مشکل ہے یہ ایسی جگہ کا ر آمد ہوں گے جہاں مجلس آرائی اور خالی دربارواری ہوتی نہیں یہ سب بے فکری کے کرشمے ہیں جب استفادہ انسان کو مقصود ہوتا ہے فکر سے کام لیتا ہے عرض کیا کہ آئندہ ایسا نہ کروں گا اور جوہوا اس کی معافی چاہتا ہوں فرمایا کہ جو کیا اس میں سوال ہے کہ کیوں ہوا اور کیوں ایسا کیا یہ کہتے ہوں گے کہ کہاں آپھنسے اور میں کہتا ہوں کہ کن سے پالا پڑا عرض کیا کہ جواس کا تدارک ہو میں اس کے لیے تیار ہوں فرمایا کہ بات تو کام کی کہی مگر اس وقت تو تدارک کا سوال نہیں سوال یہ ہے کہ ایسا کیوں کیا پھر فرمایا کہ دیہاتی لوگ آتے ہیں وہ بھی ایسی حرکت نہیں کرتے یہ ان دیہاتیوں سے بھی پرلے دیہاتی ہیں کیا اتنا بھی نہیں سمجھتے کہ آہستہ آہستہ بولنے سے دوسرا نہ سنے گا اتنی بھی خبر نہیں دودھ پیتے بچے ہیں عرض کیا کہ معافی چاہتا ہوں فرمایا کہ معاف ہے مگر چونکہ آپ سے مناسبت نہیں اور نفع کیلئے جانبین کی مناسبت شرط ہے اس لئے میں آپ کی خدمت سے معذور ہوں عرض کیا کہ آئندہ جوکام یا جوبات کروں گا سوچ کے ساتھ کروں گا دریافت فرمایا کہ قیام کب تک رہے گا عرض کیا کہ کل نماز فجر چلا جاؤں گا فرمایا کہ مناسب ہے عرض کیا کہ مکاتبت کی اجازت فرمادی جائے فرمایا کہ اس وقت قلب پر اثر ہے اور یہ بھی نہیں بتلاسکتا کہ اب زائل ہو نہ اس کا زائل کرنا میرے اختیار میں ہے اس لئے اس وقت اس قسم کا تذکرہ بھی نہ کریں جہاں تک معاملہ پہنچ چکا اس کو وہاں ہی تک چھوڑ دیا جائے عرض کیا کہ کل جارہاہوں فرمایا کہ رہیں یا جائیں میں منع نہیں کرتا اور یہ رنج سے نہیں کہہ رہا ہوں اگر رہیں سرآنکھوں پر مگران کو یہ سبق ملا ہے اب کہیں ایسی حرکت نہ کریں گے یہ تو ادب سمجھے کہ آہستہ بولے اور یہ نہ سمجھے کہ اگر زور سے نہ بولا تو دوسرا سنے گا نہیں تکلیف ہوگی بس رسموں نے تباہ کیا ہے اس کی تعلیم دیجاتی ہے کہ بلند آواز سے نہ بولو دیکھئے اپنا توکام لیکر آتے ہیں اپنی ہی حاجت مگردوسرے کو اہتما کرنا پڑے یہ تو آنے والے کا فرض ہے کہ آکر صاف اور پوری بات کہہ دے اورایسی آواز سے بولے کہ دوسرا اس کو سن سکے یہ سب گفتگو خواجہ صاحب کے واسطے سے ہوئی فرمایا کرسکتے ہیں صبح کو بہت سویرے جائیں گے اس وقت میں یہاں نہ ہوں گا ان سے کہہ دیجئے کہ بعد نماز مغرب ایسی جگہ کھڑے ہوجائیں گےا س وقت میں یہاں نہ ہوں گا ان سے دیجئے کہ بعد نماز مغرب جگہ کھڑے ہوجائیں یہاں مجھ کو یہ شبہ نہ ہو کہ میرے انتظار میں ہیں خانقاہ کے دورازہ پرکھڑے ہوجائیں جب میں جانے لگوں تو زبان سے کہ دیں کہ میں صبح کو جارہا ہوں ملنا چاہتا ہوں میں انشاءاللہ مصافحہ کرلوں گا بعض لوگ مصافحہ کیلئے ایسی جگہ بیٹھتے ہیں کہ مجھ کو یہ محسوس ہو کہ میرے منتظر ہیں قلب پربار ہوتا ہے اور ایسا معلوم ہوتا ہے کہ تقاضا ہے کہ اٹھو ہم تمہارے انتظار میں ہیں سو ایسی جگہ بیٹھنا یا کھڑا ہونا چایئے جس سے دوسرے کو یہ نہ معلوم ہوکہ یہ میرے انتظارمیں ہے خواجہ صاحب نے عرض کیا حضرت وہ صاحب میرا شکریہ ادا کررہے تھے کہ تم کو بڑی تکلیف ہوئی فرمایا نہیں جی مسلمان کی خدمت طاعت ہے اسی فرماتے ہیں
طریقت بجز خدمت خلق نیست ٭ بہ تسبیح وسجادہ ودلق نیست
( طریقت خدمت خلق ہی ہے ۔ ( صرف ) تسبیح ومصلی کا نام نہیں ہے ۔ 12)
خواجہ صاحب نے عرض کیا کہ حضرت وہ اس وقت مجلس میں آکر بیٹھ سکتے ہیں فرمایا کہ کیوں نہیں بیٹھ سکتے خدانخواستہ مجھ کو کسی سے بغض تھوڑا ہی ہے اس وقت ان سے تکلیف پہنچی تھی اس لئے مسجد میں بیٹھ جانے کو کہہ دیا تھا اب وہ معاملہ ہی ختم والا کا ترحم اور سفقت طالبوں کے حال پراس واقعہ سے ظاہر ہے نیز جو کچھ معاملہ بصورت مواخذہ یا محاسبہ کیا جاتا ہے وہ اصلاح کی غرض سے ہوتا ہے احقرجامع ۔12 منہ)

(ملفوظ 295 )ریل میں عورتوں کے ساتھ ہونے سے پریشانی

ایک مولوی صاحب عورتوں کا سفر ریل میں ساتھ ہونا اور اس پرپریشانی اور تکلیف کا ہونا بیان کررہے تھے حضرت والا نے فرمایا کہ میں تو ریل کو زندہ جنازہ کہا کرتا ہوں اور عورتوں کو زندہ اسباب مگر مردہ اسباب سے زیادہ تکلیف دہ ۔ مردہ اسباب کو قلی نوکر کے سر پر رکھ سکتے ہیں مگر ان زندہ کوکیا کرے اسی سلسلہ میں فرمایا کہ یہ ہندوستان کی عورتیں جنت کی حوریں ہیں یہ ان میں ایک خاص بات ہے کہ اگرخداوند بیوی کو چھوڑ کرچلاجائے توجس کونے پر چھوڑ کرجائے گا دس برس کے بعد پھر اس ہی کونے میں بیٹھی ملے گی ۔ یہ اثرہے ۔ صفت قاصرات الطرف ۔ کا جو حوروں کے باب میں وارد ہے یہ ضرور ہے کہ ان میں سلیقہ نہت کم ہے مگر عفیف ہونا اتنی بڑی صفت ہے کہ اس کے سامنے ان کا پھوڑپنا کچھ بھی اثر نہیں رکھتا میں تو یہ بھی کہا کرتا ہوں کہ پھوڑ عورت عفیف ضرورہوتی ہے مگر یہ ضرور نہیں کہ ہرعفیف پھوڑ بھی ہو پس اگرعورت کا پھوڑ پن ناگوار ہوتو اس کی عفت پرنظر کرکے اس آیت کو پڑھ لیا کرو حق تعالٰی فرماتے ہیں : فان کرھتموھن فعسی ان تکرھوا شیئا ویجعل اللہ فیہ خیرا کثیرا ۔ یعنی ممکن ہے کہ ایک چیز تم کو نا پسندہو اور اللہ تعالیٰ اسی میں خیرکثیر رکھ دیں یہ ہی کیا تھوڑی بات ہے کہ وہ بیبیاں سوائے ہمارے کسی پر نظر کرتیں حضرت باستثسناء شاذونا عورت کو وسوسہ بھی نہیں ہوتا غیر مردوں کا ایک مولوی صاحب نے اپنے ایک خادم سے اپنا ایک واقعہ بیان کیا اس خادم نے مجھ سے ورایت کی کہ میں نے ایک بہلی کا کرایہ کیا جب بہلی شہر کے کنارے پر پہنچی تووہاں اس بہلی والے کا مکان تھا وہاں اس نے بہلی کو روکا اس کی بیوی اس کو کھانا دینے آئی وہ بہلی بان اس قدر بدشکل تھا کہ شاید ہی کوئی اور دوسرا ایسا ہو اور وہ ایسی حسین کہ شاید ہی کوئی اور دوسری ہومگر میں اس وقت اس کو دیکھ رہا تھا کہ یہ میری طرف بھی نظر کرتی ہے یا نہیں مگر اس نے ایک نظر بھی اس طرف نہیں دیکھا اور شوہر کو کھانا دے چلی گئی اسی کو فرماتے ہیں
دلارامے کہ واری دل دروبند ٭ وگر چشم از ہمہ عالم فروبند
( جو ایک محبوب حاصل ہوگیا ہے ۔ اسی سے دل لگائے رہو ۔ باقی سارے جہان کی طرف سے آنکھ بند کرلو ۔ 12 )
فرمایا کہ میں تو کہا کرتا ہوں کہ ہندوستان کی عورتیں حوریں ہیں جن کی صفت میں ارشاد ہے : فیھن قصرات الطرف لم یطمثھن انس قبلھم ولاجآن ۔ ( ان میں نیچی نگاہ والیاں ہوں گی کہ ان لوگوں سے پہلے ان پر نہ توکسی آدمی نے تصرف کیا ہوگا اور نہ کسی جن نے ۔12) یعنی ان باغوں کے مکانات میں ایسی عورتیں ہیں کہ سوائے اپنے شوہر کے کسی طرف نظر نہیں کرتیں ۔ ستی ہونے کی رسم ہندوستان ہی میں تھی گوقبیح ہے مگر منشا اس کا محض محبت تھا ۔ نارعشق کی نسبت یہ باراض پر آسان تھی کہ اگر زندہ رہوں گی تو نازعشق میں جلتی رہوں گی ۔ یہ بھی تجربہ سے معلوم ہو ا کہ دوسرا شوہر کرکے بھی عورت پہلے شوہر کو بھولتی نہیں اب دوسرے شوہر کو دانشمندی سے کام لینا چاہئے کہ اس کے دل کو اپنے ہاتھ میں رکھے اور اس کے اس معاملہ میں سختی نہ کرے مثلا اگروہ سابق خاوند کے لئے دعا کرے یا ایصال ثواب کرے یہ ساتھ دیتا رہے اگر مزاحمت کرے گا اس کوسخت صدمہ ہوگا اور پھر آپس میں بے لطفی پیدا ہوجانے کو اندیشہ ہے اس ہی لئے بعض حکماء نے سرسری نظرسے منع کیا ہے بیوہ عورت سے نکاح نہ کرے میں کہتا ہوں کہ جب شرعا کوئی قباحت نہیں تو نکاح ضرور کرلے مگر اس کی دلجوئی کا بہت زیادہ اہتمام رکھے تاکہ اس کو دل میں کوئی اور شکایت پیدا نہ ہو ۔

( ملفوظ 294 ) تقریر میں حضرت حکیم الامت مبسوط الکلام تھے

ایک مولوی صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ آپ دیکھ لیجۓ مجھے بد نام کیا جاتا ہے جن صاحب کو مسجد میں بیٹھ جانے کو میں نے کہا تھا مکرر سہ کرر تنبیہ پر بھی اپنی اس حرکت سے باز نہیں آۓ دیکھۓ انصاف کیجۓ جب ایک بات تصریحا بتلا دیا گیا پھر اس میں کس طرح معذور سمجھا جائے یہ قصد تو نہیں ہوتا کہ تکلیف ہو مگر اس کا بھی قصد نہیں ہوتا کہ تکلیف نہ ہو اس کا سبب بے فکری ہے میں یہ بھی تاویل نہیں کر سکتا کہ میرے کلام کو بوجہ تنگ یا ادق ہونے کے سمجھ نہیں سکتے کیونکہ میں تقریر میں بہت مبسوط الکلام ہوں البتہ تحریر میری تنگ ہوتی ہے اسلئے کہ اہل علم مخاطب ہوتے ہیں تقریر میں نہایت بسط ہوتا ہے بہت ہی کھلی ہوئی ہوتی ہے تنگی نہیں ہوتی کہ دوسرا سمجھ نہ سکے مگر بات یہ ہے اجزاء کلام کی طرف توجہ نہیں کرتے بس یہ ہے ساری خرابی ۔

(ملفوظ 293 )توقع کی تکلیف بیہودگی کی تکلیف سے اشد ہے

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ آنے والوں سے ان کی بیہودگیوں پرتکلیف ضرور ہوتی ہے مگر ان سے کسی منفعت کی توقع کی تکلیف نہیں ہوتی یہ توقع کی تکلیف بیہودگیوں کی تکلیف سے اشد ہے اب تو صرف یہ تکلیف اس سے ہوتی ہے کہ توقع تو اور جواب کی تھی اور ملا اور جواب مگر منفعت کی توقع کی تکلیف نہیں ہوتی ۔ خوجہ صاحب نے عرض کیا کہ یہ تو معلوم ہو ہی جاتا ہو گا قرائن سے کہ یہ اس مزاج کا آدمی ہے اور اس فہم کا فرمایا کہ معلوم ہو جانے پر بھی بیہودہ حرکت سے طبعا تکلیف ضرور ہو گی گو قصد تکلیف دینے کا نہ ہو اس کی ایسی مثال ہے کہ کسی کے سوئ چبھو دی جاۓ گو قصد نہ ہو مگر اس سے تکلیف تو ضرور ہو گی وہ تو نہیں رک سکتی اس خیال سے کہ یہ بد فہم ہے یا قصد نہیں ہے گو اس کو معزر سمجھ کر سخت مواخزہ نہ کریں گے مگر تکلیف تو ہو ہی گئ ۔

(ملفوظ 292) حضرت مرزا جانجاناں مظہر کی حکایات لطافت :

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ بزرگوں میں ایسے لطیف المزاج گزرے ہیں کہ بادشاہوں کی بھی ان کے سامنے کوئی حقیقت نہ تھی جیسے حضرت مرزا مظہرجان جاناں ایک مرتبہ بادشاہ زیارت کو آئے اور ان کو پیاس معلوم ہوئی اس وقت کوئی پاس نہ تھا اس لئے بادشاہ خود اٹھے اور صراحی پرکٹوارہ ڈھک دیا اور بیٹھ گئے مگر بادشاہ کو خود پانی لیکر پینا نوجہ خلاف عادت ہونے کے گراں ہوا اس لئے عرض کیا کہ اگراجازت ہوتوخدمت کیلئے کوئی آدمی بھیج دوں فرمایا کہ کیا ضرورت ہے بادشاہ نے اصرار کیا اس فرمایا کہ ایسا آدمی ہوگا جیسے آپ خود ہیں دیکھئے صراحی پر کٹورا ٹیڑھا ڈھک دیا ہے اسی وقت سے سر میں درد اور طبیعت پریشان ہے یہ ہی حالت لطافت کی حضرت مولانا گنگوہی رحمتہ اللہ علیہ کی تھی ایک مرتبہ نائی حجامت بنانے آیا اس نے استرہ وغیرہ کو دھولیا پھر حاضرین سے فرمایا کہ دھو کرتو لایا ہی ہوگا مگر جب اگلے کو ( یعنی دوسرے کو ) نکوچ ہی ہو ( یعنی کاوش ہو ) توبیچارہ کیا کرے حضرت کی بھی عجیب ہستی تھی بیحد تحمل ووقانہ کبھی ہنسی کی آواز سنی گئی نہ کبھی غصہ کی آواز سنی گئی اس قدر تحمل تھا بڑے لوگ بڑے ہی ہوتے ہیں کوئی کیا ان کی ریس کرسکتا ہے ایک مرتبہ مولوی سید صاحب برادر ملوی حسین احمد صاحب نے چاۓ کا انتظام اپے متعلق کر رکھا تھا ایک روزحضرت نے پیالی منہ سے لگا کر فرمایا کہ کچے پانی کا اثر ہے چاۓ میں انہوں نے دوسرے وقت خوب جوش دیا پھر بھی فرمایا وہ حیران تھے بدرجہ بعید ان کو احتمال ہوا کہ پیالی دھو کر تولیہ سے خشک نہیں کی اسلۓ پیالی کو خوب خشک کیا اس میں پی کر فرمایا کہ اس میں وہ اثر نہیں میں کہتا ہوں کہ بادشاہوں کی لطافت میزاج کی کیا حقیقت ہے ایسے حضرات کے سامنے ِۤ۔

(ملفوظ 291)بے اصولی کی بات سے تکلیف

فرمایا بے اصولی بات سے تکلیف ہوتی ہے حتی کہ اگر بے اصولی معاملہ میرے ساتھ نہ ہو دوسرے کے ساتھ ہوتب بھی دیکھ کرنا گواری ہوتی ہے پس اس ناگواری کا اثر اپنی ذات کے ساتھ خاص نہیں میں تو اپنے دوستوں سے یہ چاہتا ہوں کہ سب کے سب اصول کے پابند بن جاویں کسی کو اپنی ذات سے تکلیف نہ پہنچے یہ سلوک کا بڑا حصہ ہے ۔

(ملفوظ 290) طریق کا اصل ادب

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ اس طریق کا ادب لوگوں کو معلوم نہیں اب تو ادب تکلفات کا نام ہے ہاتھ چوم لئے پچھلے پیروں ہٹ گئے سرجھکا کرکھڑے کوگئے مگر طریق کا یہ ادب نہیں طریق کا اصل ادب یہ ہے کہ جس سے دین کا تعلق رکھنا چاہئے اس کوتکلیف نہ پہنچائے یہ اس طریق میں ادب کا ادنی درجہ ہے اور اب تواب توادب تعظیم کا نام ہے ۔

(ملفوظ 289)ازخود مشورہ دینا نامناسب ہے

خواجہ صاحب نے عرض کیا کہ بعض لوگ مشورہ لیتے ہیں کہ ہمیں کیا کرنا چاہئے فرمایا کہ مشورہ دیدینا چائیے ایک مسلمان کی اعانت ہے ہاں ازخود مشورہ نہ دینا چاہئے بعض خیر خواہ ہمدردی کی وجہ سے ازخود مشورہ دیدیتے ہیں جس کا انجام اکثر بہت برا ہوتا ہے البتہ اگرکوئی خود پوچھے مسلمان ہے اعانت کرنا چاہے اور مشورہ دیدینا چاہئے مگر ساتھ ہی میں یہ بھی کہہ دیا جاوے کہ اگر تمہارے سمجھ میں بھی یہ مشورہ آجائے تو اس پرعمل کرنا ہماری رائے سمجھھ کرمت کرنا ورنہ اس کا ہم پرکلفت کا ا ثرہوگا ۔