ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ آج صبح صاحب نے گڑبڑ کی اوراب بھی خواجہ صاحب کے واسطے کے گفتگو کی انہوں نے ایک صاف بات کوکس قدر الجھایا قلوب میں صفائی نہیں رہی حالانکہ میرے گفتگو نہایت کافی تھی معلوم ہوتا ہے کہ سمجھنے کا قصد اور ارادہ ہی نہیں کرتے خواجہ صاحب نے عرض کیا کہ فلاں صاحب جوبعد نماز فجر ملے تھے ان کی خوش فہمی پراور سمجھ کی باتوں پرحضرت والا نے ان کو شاباشی دی فرمایا کہ دیکھ لیجئے گا شاباشی کی بات پرشاباشی ملتی ہے خدابخواستہ کوئی آنے والوں سے مجھ کو عداوت تھوڑا ہی ہے وہ لوگ جیسا برتاؤ کرتے ہیں ویسا ہی ان کے ساتھ معاملہ کیا جاتا ہے اسی سے میری سختی اور عدم سختی کا ابدازہ ہوسکتا ہے ۔
(ملفوظ 287)ایک خط میں ایک مضمون لکھنے کی ہدایت
خواجہ صاحب نے عرض کیا کہ حضرت کے یہاں یہ بھی ایک طریق اور اصول ہے کہ ایک ایک بات الگ الگ طےہوتی ہے یہ بڑا ہی اچھا اصول ہے فرمایا کہ جی ہاں اگر چار باتوں کی ایک دم تحقیق شروع ہوجائے تو خلط مبحث ہوجائے پتہ ہی چل کرنہ دے کہ کیا ہورہا ہے بعض لوگ ایسا کرتے ہیں کہہ ایک ہی خط میں دو مضمون لکھ کر بھیج دیتے ہیں میں ان میں سے کسی مضمون کا بھی جواب نہیں دیتا۔ یہ لکھ دیتا ہوں کہ ایک خط میں ایک مضمون لکھو جب اس کا جواب پہنچ جائے تب دوسرامضمون لکھو یہ باتیں اصولی ہیں مثلا ایک شخص کو چند مقدمات عدالت میں پیش کرنا ہے ایک مال کا ایک فوجداری کا کیا تو کیا وہ ایک ہی درخواست دونوں کے متعلق دے سکتا ہے ہرگز نہیں حاکم کہے گا کہ الگ الگ درخواست دو اس کا راز یہی ہے کہ خلظ مبحث سے پریشانی نہ ہواصولی بات سے کبھی انسان کو پریشانی نہیں ہوتی پریشانی جب کبھی ہوگی بے اصولی سے ہوگی ۔
(ملفوظ 286)شیخ سے اپنے حالات کی اطلاع کرتے رہنا ضروری ہے
ایک صاحب کے سوال کےجواب میں فرمایا کہ شیخ سے اپنے حالات کی اطلاع کرتے رہنا بہت ضروری ہے بدوں اس کے اصلاح نہیں ہوسکتی اس کی مثالہ ہے جیسے حکیم صاحب ایک نسخہ لکھ دیں اور یہ ساری عمر پیتا رہے اور حالات کی اطلاع نہ دے کیا علاج ہوسکتا ہے ۔
(ملفوظ 285) ادب الخطاب :
ملقب بہ ادب الخطاب ایک مولوی صاحب نودار تشریف لائے حضرت والا کے اس دریافت فرمانے پر کہ کہاں سے تشریف لائے نہایت آہستہ سے جواب دیا جس کو حضرت والا نہ سن سکے فرمایا کہ مجھے آپ سے یہ شکایت ہے کہ آپ نے ایسی پست آواز سے جواب دیا جس کو میں نہیں سن سکا کیا اس سے دوسرے کو اذیت آپ نے پہنچائی کہ جو سوال میں نے کیا تھا اس کا جواب نہیں دیا کیا یہ سوال میرالغو تھا یا قابل جواب نہیں کہتے اس کو بے فکری کہتے ہیں اس کی فکر ہی نہیں کہ ہماری کسی بات سے دوسرے کواذیت تو نہ پہنچے گی میں نہیں کہتا کہ اذیت پہنچانے کا قصد ہے شکایت اس کی ہے کہ اس کا قصد نہیں کہ دوسرے کو اذیت نہ پہنچے حالانکہ یہ قصد ضروی ہے عرض کیا کہ مجھ کو یہاں کے اصول قواعد معلوم نہیں فرمایا کہ یہ ٹھیک ہے مگربعض باتیں اور بعض اصول خاص ہوتے ہیں خاص خاص مقام لے لئے ان میں توجہل عذر ہے لیکن یہ مبہم بولنا اوار آہستہ سے بولنا یہ تو سب جگہ کیلئے طبعا اذیت کا سبب ہیں اس میں غلطی کرنا بے فکری سے ہے جہل سے نہیں غرض اول قسم میں توایک درجہ میں معذور ہوسکتے تھے کہ قواعد نہ معلوم ہونے کی وجہ سے کسی قاعدہ سے خلاف ہوفاتا مگراس طرح بولنا جیسے نواب صاحب بولتے ہیں کہ دوسرا سمجھ ہی نہ سکے اس میں کیا معذوری سمجھی جائے دوسر ے آپ عالم ہیں آپ یہ بتلائیں کہ کیا اس کا تعلق قواعد سے ہے عرض کیا کہ نہیں فرمایا کہ پھر یہ میرے سوال کا جواب آپ کے نزدیک کس طرح ہوگیا اس پریہ صاحب خاموشی رہے فرمایا کہ یہ تیسرے اذیت پہنچائی کہ سوال کا جواب ہی ندارد کیا ہوگیا آپ لوگوں کو آخرلکھ پڑھ کرکہاں ڈبودیا کیا غلطی کے اقرار بیٹھی ہوتی ہے کیا تم لوگوں کے دماغوں میں خنا س بھراہے بس واقعی بات وہی ہےجو میں کہہ رہاہوں کہ اس کا اہتمام ہی نہیں کہ دوسرے کو کلفت نہ ہوگو اذیت کا قصد نہیں ہوتا مگر اس کا بھی قصد نہیں کہ دوسرے کو اذیت نہ پہنچے آخرایسے کان کہاں سے لاؤں کہ بے بولے ہی سن لیاکروں اس پروہ صاحب کچھ بولے مگر اسی آہستہ آواز سے فرمایا کہ پھروہی حرکت ہوئی باوجود اتنی تقریر کے اور سمجھا نے کے اب میں اخیر بات کہتا ہوں کہ آپ یہ فرض کرلیجئے کہ میں بہرا ہوں اس فرض کے بعد اول میری شکایت کا جواب دیجئے آپ کے نزدیک تو وہ چیز لاشے ہے جس کے متعلق میں سوال کررہاہوں مگر میں بے اصول گفتگو سے گھبراتا ہوں یہ بھی ایک وجہ ہے میرے مناظرہ کو پسند نہ کرنے کی آجکل بے اصول گفتگو ہوتی ہے اور اس سے مجھ کو وحشت ہوتی ہے ہاں اگراصول کے ماتحت گفتگو ہوتو اپنی ساری عمراس کے لئے وقف کرنے کوتیارہوں میں تواچھے خاصے لکھے پڑھوں کو رات دن دیکھتا ہوں ان سے سابقہ پڑتا رہتا ہے کہ ان کی ایک بات بھی الاماشاءاللہ اصول کی نہیں ہوتی حالانکہ ادیب بھی ہیں عالم بھی ہیں فاضل بھی ہیں مناظرہ بھی ہیں منطقی فلسفی بھی ہیں مگر ایک بات بھی اصول کی نہیں بس وہی پڑھنے اور گنے کا فرق ہے جواکثر کہاکرتا ہوں پھر ان صاحب کی طرف متوجہ ہوکر فرمایا کہ آپ جواب دیں میں صبر کئے بیٹھا ہوں آخربشرہوں کیوں ستاتے ہواسی بل بوتے پرمحبت کا دعویٰ کر کے آئے تھے کہ بات کا جواب تک بھی ندارد اس پروہ صاحب کچھ لونے مگر وہی آہستہ آواز سے فرمایا کہ اب حد ہوگئی میں نے یہان تک کہہ دیا ابھی کہ آپ فرض کرلیجئے کہ میں بہرا ہوں باوجود اس کہ دینے کے اور اتنی لمبی چوڑی تقریرکے نہ آواز بلند ہے اور نہ مضمون صاف اور پورا ہے پھر فرمایا کہ اب میرے قلب میں سوزش پیدا پیدا ہوگئی بوجہ تحمل کے آپ مسجد میں تشریف رکھیں مجھ کو تکلیف ہونے لگی وہ صاحب مسجد میں تشریف لے گئے حضرت والا نے اہل مجلس کی طرف مخاطب ہوکر فرمایا کہ اب بتلائیے کہاں تک تغیرنہ ہو آخربشرہوں جس چیز کو بار بار تصریحا کہہ چکا پھرلوٹ کر وہی حرکت البتہ اگرمیں بلکل بے حس ہوجاؤں تب ان کا کام بنے ایسے ایسے بدفہم لوگ آتے ہیں جن سے تکلیف ہوتی ے پھر فرمایا کہ میں دعوی سے کہہ سکتا ہوں کہ میں بہت ہی صبر اور تحمل سے کام لیتا ہوں آپ حضرات نے اسی واقعہ میں دیکھا کہ میں تحمل کرتا ہوں یا سختی کرتا ہوں یہ ہیں وہ باتیں جن پرباہر جاکر مجھ بدنام کیا جاتا ہے اب بدنامی کودیکھوں یا آنیوالے کی مصحلت اور اپنی تکلیف کو دیکھوں اور مجھ کو تو اس بدنامی سے خوشی ہوتی ہے کہ بدفہموں کی بدفہمیوں سے تونجات ملے گی اس لئے ایسی بدنامی میں بھی لذت ہے خوب کہا گیا ہے
گرچہ بدنامی ست نزد عاقلاں ٭ مانمی خواہیم ننگ ونام را
انتہی جزوادب الخطاب ۔
(ملفوظ 284)ایک صاحب کا حضرت والا کودق کرنا :
خواجہ صاحب نے عرض کیا کہ حضرت فلاں صاحب سے صبح جوغلطی ہوگئی تھی اس کے متعلق میرے واسطے سے کچھ عرض کرنا چاہتے ہیں فرمایا بہت اچھی مگر سب سے اول ان سے یہ پوچھئے کہ آنے کے وقت پریشان کیوں کیا عرض کیا کہ غلطی ہوئی اب یہ پوچھئے کہ ایسی غلطی کا دوسرے پرکیا اثر ہوتا ہے وہ متاذی ہوتا ہے یا نہیں عرض کیا متاذی ہوتا ہے اب پوچھئے اس کا تدارک کیا ہے عرض کیا کہ آئندہ نہیں کروں گا اب پوچھئے کہ کیا اس سے تدارک ہوجائے گا بہت ہی خوش فہم معلوم ہوتے ہیں عرض کیا آپ وہ بات بتلادیجئے گا جس سے تدارک ہوجائے فرمایا جس نے ایذا پہنچائی ہے وہ سوچے مجھ کو بتلانے کی کیا ضرورت ہے میں پہلے بتلادیتا تھا اب نہیں بتلاتا میں دماغ سوزی کروں اور راستہ بتلاؤں اور وہ اس پرکہیں کہ میرے ساتھ بڑی سختی برتی گئی خواجہ صاحب نے عرض کیا کہ مجھ سے مشورہ لیتے ہوئے فرمایا کہ آپ مشورہ نہ دین مشورہ ایسے شخص سے لینا چاہئے جوواسطہ نہ بنا ہوآپ کا مشورہ تومیرا ہی مشورہ ہوگا آپ بوجہ توسط سے من وجہ میرے ساتھ ملحق ہین اورمن وجہ ان کے ساتھ ملحق ہیں اس لئے آپ کو مشورہ نہیں دینا شاہئے دوسری بات یہ ہے کہ اگر کسی سے مشورہ لیں تو خود سوچ کرمجھ سے اپنی طرف سے کہیں اگر کوئی گڑبڑ ہوتو اس کواپنی طرف منسوب کریں مجھ سے یہ ظاہر کریں کہ فلاں سے مشورہ لیا یا فلاں نے مشورہ دیا عرض کیا کہ میں معافی چاہتا ہوں آئندہ ایسا پھر نہیں کروں گا فرمایا اس پراعتراض ہوچکا جس کا ابھی جواب نہیں ملا پھر کیوں اس کا اعادہ کیا بہت ہی خوش فہم ہیں اس پرتو اعتراض ہوچکا جس کا ابھی جواب نہیں ملا پھر کیوں اس کا اعادہ کیا بہت ہی خوش فہم ہیں اس سے معلوم ہوتا ہے کہ عقل کے پچھئے لٹھ لئے پھرتے ہیں اب ان سے یہ پوچھئے کہ اس کا اعادہ کیوں مگر پوچھنے پربھی یہ صاحب خاموش رہے فرمایا اگرجواب نہیں دیتے چھوڑیئے کوئی ہمارا کام تھوڑا ہی ہے آپ بیٹھئے کیوں پریشان ہوئے ۔ آپ کو اندازہ ہوگیا ہوگا ان لوگوں کی کس قدر رعایتیں کرتاہوں اور یہ مجھ کو کس قدر ستاتے اور دق کرتے ہیں مجھ کو بدنام کرنا آسان ہے مگر اپنی خوش فہمی کو نہیں دیکھتے ۔
(مفلوظ 283)عوام الناس اور اہل اللہ کا مصائب کے وقت فرق
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ مصائب اور تکالیف تو سب پر صورۃ ایک ہی طرح کے آتے ہیں یعنی اللہ والوں پربھی اور دنیا داروں پربھی مگر دونوں کی حالت میں زمین و آسمان کا فرق ہوتا ہے یہ بیماربھی ہوتے ہیں تو انہیں یہ خیال نہیں ہوتا کہ ہائے بیماری بڑھ جائے گی توکیا ہوگا ۔ ہائے مقدمہ ہار گئے تو کیا ہوگا ہائے کھانے کوکل نہ ملا تو کیا ہوگا بلکہ ان کی حالت یہ ہوتی ہے کہ ہرحال میں ان کو سکون ہوتا ہے ان کے قلب میں ایک چیز ایسی مخفی ہے کہ اس کے ہونے سے اطمینان اوریکسوئی ہوتی ہے مزاحا فرمایا کہ چاہے پاس ایک سوئی بھی نہ ہو بخلاف دنیا داروں کے کہ ان کی حالت اس کے عکس ہوتی ہے تومصائب اور تکالیف کا نہ آنا دلیل مقبولیت کی نہیں اس لئے کہ ایسے توبڑے بڑے انبیاء کے لئے بھی نہیں ہوا ان پربھی بڑی بڑی مصیبتیں آئی اور وہ مقبول تھے اورایک فرعون کو دیکھ لیجئے چارسو یا ساڑھے چارسو برس خدائی کا دعوی کیا کبھی سرمیں بھی درد نہ ہوا حالانکہ وہ مردود تھا جناب رسول للہ ﷺ ہیں کہ مہینوں آپ کا چولہا گرم نہیں ہوا ہنڈ یا نہیں چڑھی تو کیا نعوذ باللہ کوئی کہہ سکتا ہے کہ ظاہری تکلیف نہ ہونے کی وجہ سے فرعون کو فضیلت ہوگئی یا نہ مقبولیت کی دلیل ہے علت ( مرض ) اور ذلت ( نقص جاہ ) اور قلت ( نقص مال ) تو ان حضرات کو زیور ہے ایک بزرگ کو ساری عمرمیں ایک روز ایک وقت پیٹ بھر کر کھانا مل گیا اسی پرلرزاں اور ترساں تھے چہرہ زرد تھا جسم میں رعشہ تھا اور آنکھوں سے آنسو جاری تھے لوگوں نے عرض کیا کہ حضرت کیسے مزاج ہیں فرمایا کہ آج پیٹ بھرکرکھانا کھایا ہے خوف اس کا ہے کہ مجھ پردنیا کو فراخ کیا گیا کہیں آخرت تو تنگ نہیں کی گئی یہ حقیقت تھی عیش کی ان حضرات کی نظروں میں ۔
نوٹ : کچھ ملوظات درمیاں میں بعض عوارض کی وجہ سے چھپنے سے رہ گئے تھے ان کو اب شائع کیا جاتا ہے شاید تاریخوں کے سلسلہ کو غیر مسلسل دیکھ کرناظرین کو پریشانی ہوتی اس لئے اطلاعا عرض کردیا گیا ۔ 12مدیر۔
14 شوال المکرم 1350 ھ مجلس بعد نماز ظہر یوم دوشنبہ
(ملفوظ 282) اسباب پرترتب فضل خداوندی ہے
ایک صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ یہ مسببس کا اسباب پرترتب محض ان کا فضل ہے انعام ہے ورنہ کوئی چیز بھی موثر حقیقی نہیں محض حکم ہے جو کچھ ہے اسی کو فرماتے ہیں
نبارد ہواتانہ گوئی ببار ٭ زمین نادر تانہ گوئی ببار
( جب تک آپ کا حکم نہ ہو بارش نہیں ہوسکتی ۔ اور جب تک آپ کا حکم نہ ہوزمین کوئی چیزا گا نہیں سکتی 12)۔
پانی بالذات پیاس نہیں بجھاتا وہی بجھاتے ہیں ۔ ورنہ وہی پانی مستقی کی پیاس کو کیوں نہیں بجھاتا ۔ اسی طرح آگ خود فعل نہیں کرتی یہ بھی حق تعالٰی ہی کا حکم ہے کہ وہ کھانا پکادیتی ہے آگ کا تلبس محض ظاہری ہے اس کی بلکل ایسی مثال ہے کہ ملازم ریلوے نے ریل روکنے کیلئے سرخ جھنڈا دکھلائی اوروہ کھڑی ہوگئی ظاہر ہے کہ جھنڈی میں کوئی خاص اثر نہیں محض آسانی کے واسطے ایک اصطلاح مقرر کرلی ہے کہ کہاں شوروغل مچائیں گے کہ روکو روکو تو یہ جھنڈی محض ایک علامت ہے ورنہ اصل روکنے والا توڈریورہے جو تمہیں نظر نہیں آتا
چرغ کوکب یہ سلیقہ ہے ستمگاری میں ٭ کوئی معشوق ہے اس پردہ زنگاری میں
عشق من پیداؤ معشوق نہاں ٭ یاربیروں فتنہ اور درجہاں
( میرا عشق تو ظاہر ہورہا ہے اور میرا معشوق پوشیدہ ہے محبوب تو د عقل وادراک سے بھی باہر ہے اور اس کا عشق سارے جہاں میں ہے ۔ 12)
اور فرماتے ہیں
ماہمہ شیراں ولے شیر علم ٭ حملہ شان ازباد باشد ومبدم
حملہ شان پیداؤ نا پیداست باد ٭ آنکہ باپیدا است ہرگز کم مباد
( ہم سب شیر ہیں ۔ مگر جھنڈے کے شیر ہیں ۔ (یعنی جیسے جھنڈے پرشیر کی تصویر بنادی جائے اور ہوا کی وجہ سے جھنڈا ہلے تو معلوم ہوا کہ ) شیرباربار حملہ کررہا ہے ( لیکن حقیقت میں اس کو حرکت دینے والی ہوا ہے مگر) اس جھنڈے کے شیروں کا حملہ تو ظاہر ہورہا ہے اوراصل حرکت دینے والی ) ہوا نظر نہیں آتی ۔ ( یہی حال تمام کائنات کے افعال کا ہے کہ ظاہر میں اون کا کاموں کے کرنے والے ہم نظر آتے ہیں مگر وہ سب کام بغیر اذن خداوندی کے ہوہی نہیں سکتے ۔ آگے بطور دعا کے فرماتے ہیں کہ ) جونظر نہیں آتا اس سے ( تعلق ) کم نہ ہو ۔ 12)
اسی طرح تمام عالم میں ان کا تصرف ہے اور وہ خود نظرنہیں آتے گو یہ سب تصرفات انہیں کے ہیں رازق نظر نہیں آتا رزق نظر آتا ہے اس سے یہ دہری سمجھے کہ رازق کوئی ہے ہی نہیں ان فلاسفہ اوردہریوں کی مثال ایسی ہے جیسے ایک چیونٹی نے کہا یہ خود بخود نہیں بنے بلکہ یہ قلم نے بنائے ہیں تیسرے نے کہا کہ قلم کیا بناتا وہ قلم کس کے ہاتھ میں ہے اس ہاتھ بنائے ہیں چوتھی نے کہا کہ ہاتھ کیا بناتا جس نے ہاتھ کو بنایا یہ سب اس کا کمال ہے غرض ایک حقیقت پرپہنچ گئی باقی سب وسائط میں الجھے ہوئے ہیں اورحقیقت سے بے خبر ہیں ۔
(ملفوظ 281)طلباء کی ذہانت
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ یہ طلباء کا طبقہ نہایت ذہین ہوتا ہے اساتذہ تک کو پریشان کردیتے ہیں بعض طلبہ یہاں پرسوال لکھ کر بھیجتے ہیں میں لکھ دیتا ہوں کہ اپنے اساتذہ سے پوچھو پھر لکتھے ہیں کہ پوچھا تھا تسلی نہیں ہوئی میں لکھتا ہوں کہ وہ تقریر لکھو کہ تم نے کیا سوال کیا اور انہوں نے کیا تقریر کی بس گم ہوجاتے ہیں اس وقت ایک طالبعلم کی ذہانت کی حکایت یاد آئی ۔ میں جس وقت کانپور مدرسہ میں تھا تو ایک غلطی پرمیں نے اس طالب علم کی روٹی بند کردی اس پراس نے ایک رقعہ مجھ کولکھا اور یہ شعر لکھا
خدائے راست مسلم بزرگواری وحلم ٭ کہ جرم بیند ونان برقرار میدارد
( اللہ تعالیٰ ہی کیلئے بزرگواری اور حلم ثابت ہے جو جرم دیکھتا ہے اور روٹی بند نہیں کرتا ۔ 12)
میں نے لکھا کہ میاں تم نے خود ہی جواب دیا یا مجھے سوچنے اور غورفکر کرنے کی بھی تکلیف نہ ہوئی کہ یہ خدا ہی کا کام ہے کہ باوجود جرم اور قصور کے بھی بندہ کا رزق بند نہیں کرتا پھر مخلوق سے اس کی کیوں توقع رکھتے ہو۔
(ملفوظ 280) سید کی تعظیم کیوں کی جاتی ہے :
ایک مولوی صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ سید کی تعظیم محض اس بناء پرکی جاتی ہے کہ روایت سے اس کا سید ہونا معلوم ہوا ہے کبھی تواترسے کبھی محض شہرت سے بس یہی درجہ جلال آباد کے جبہ کا بھی ہے گو خبرمتواتر سے نہیں ایسی چیزوں کو سند کی ضرورت نہیں ہوتی کیونکہ کوئی احکام میں سے تھوڑا ہی ہیں صرف ادب کا درجہ ہے جس کیلئے توکسی چیز کی بھی حاجت نہیں ۔
(ملفوظ 279)غلو کی مثال چارپائی دفن کرنا
ایک صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ ہم لوگ نہ غلو کی اجازت دیتے ہیں نہ پسند کرتے ہیں مقصود تو یہ ہے کہ احکام بیان کرنے کے وقت حدود کا خیال رکھنے کی ضرورت ہے جو درجہ جس چیز کا شرعا ہے اس کو اسی درجہ میں رکھنا چاہے ۔ غلو کی مثال میں فرمایا کہ دیوبند میں ایک قبر ہے اس میں محض چار پائی دفن ہے لوگ اس پرفاتحہ پڑھتے ہیں حضرت شاہ ابوالمعانی کی تسبیح اورعصاء کو قبر میں دفن کیاگیا ہے یہ باتیں کون پسند کرسکتا ہے اور کون اجازت دے دسکتا ہے

You must be logged in to post a comment.