ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ آج کل افراط وتفریط میں لوگوں کو بیحد ابتلا ہورہا ہے اعتدال یہ ہے کہ نہ ایسی خشکی چاہئے کہ کسی چیز کا اثر ہی نہ ہو اور نہ ایسی تری کہ اس میں خود ہی ڈوب مرے اسی طرح بعض میں تو کلام کا قحط ہے کہ بات بھی پوری نہیں کہتے اور بعض کوکلام کا ہیضہ ہے کہ ضرورت سے آگے بڑھ جاتے ہیں اور کلام ہی میں کیا منحصر ہے ہرچیز میں یہ ہی دیکھا جارہا ہے افراط و تفریط سے خالی نہیں ۔ ابن حزم تقلید کے جوپیچھے پڑے ہیں تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ تقلید کو کفر سمجھتے اورہم غیرمقلدوں کو اتنا برا نہیں سمجھتے جتنا وہ برا سمجھتے ہیں ہم کو تو پھر خیال رہتا ہے کہ حدود سے تجاوز نہ ہوجائے ان کو اس کی پروا نہیں ۔
(ملفوظ 277)نکاح کئے ہونا امامت کے لیے شرط نہیں
فرمایا کہ ایک خط آٰیا ہے سہارنپور سے لکھا ہے کہ ایک شخص آدھی عمر کا ہے اور نکاح اس ہوا نہیں اس کے پیچھے نماز پڑھنا جائز ہے یا نہیں میں نے لکھ دیا ہے کہ شبہ کیوں ہوا مدرسہ جاکر سمجھ لو اس پر فرمایا کہ امامت کیلئے ان بزرگ کے نزدیک یہ بھی شرط ہے کہ نکاح کئے ہو ۔ جہل سے بھی اللہ بچائے یوں سمجھتے ہوں گے کہ جس کا نکاح نہ ہوا ہو اس کی عفت کا کیا اعتبار۔
(ملفوظ 276)بدفہمی کی شکایت :
فرمایا ایک صاحب کا خط آیا ہے نہ معلوم میرے پہلے جواب سے کیا سمجھے لکھا ہے کہ اس عریضہ سے قبل ایک درخواست خدمت عالی میں گزار کر اللہ اللہ کرنے کی اجازت چاہتی تھی آپ نے ڈرا ہی دیا اور پہلا خط ساتھ بھی نہیں رکھا تاکہ میں دیکھتا کہ میں نے کیا ڈرایا ہے پہلا خط نہ بھیجا کم سمجھوں کے لیے نہایت ہی مضر ہے پتہ کیسے چلے کہ انہوں نے کیا لکھا تھا اور میں نے کیا جواب دیا جس کی بناء پرمیرے سرالزام تھوپا گیا ہے اللہ بچائے بدفہمی سے ۔
(ملفوظ 275)راجہ کے لڑکے کی حکایت :
ایک مولوی صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ یہ جو آجکل میدان میں آگئے ہیں یہ نہ کسی اور کام کے رہے اور نہ میدان ہی میں کچھ کیا اورکہیں نہ جنگ ہی ہے اور اگر ہے تو صرف آپس میں میدان کی تیاری کرلی اور کوئی نہیں ملا تو آپس ہی میں قوت صرف فرمانے لگے جیسے ایک راجہ کے لڑکے کی حکایت ہے کہ استاد نے مارا راجپوت توتھا ہی تلوار نکال کراستاد پرحملہ کیا استاد بھاگ پڑا اورراجہ سے شکایت کی کہ لڑکے نے یہ گستاخی کی راجہ نے کہا کہ یہ بڑی بدشگونی ہوئی کہ تم بھاگ پڑے یہ اول مرتبہ اس کا حملہ تھا وہ خالی گیا اب ساری عمر اسی طرح رہے گا اس لئے تم کو سزائے قید دی جاتی ہے یہ ہی حالت ان کی ہے جیسے وہ لڑکا آپس والے مشق کرتا تھا اسی طرح یہ لوگ آپس ہی والوں پرمشق کرتے ہیں ۔
19/ ربیع الاول ھ مجلس بعد نماز ظہر یوم دوشنبہ
(ملفوظ 274 )حضورﷺ کی مشغولیت پرحیرت :
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ حضورﷺ کی مشغولی کو دیکھ کر حیرت ہوتی ہے کہ ایسی مشغولی میں ایسی دقیق دقیق چیزوں کی تعلیم کی فرصت کیسے ملی اور سب سے زیادہ تو غزوات ہی کی مشغولی تھی کہ فرصت نہ تھی پھراس پرحضور کی تعلیم کی یہ حالت ۔ اور ایک ہم ہیں کہ ایک کام میں لگ جاتے ہیں تو دوسرا کام یاد بھی نہیں رہتا۔
(ملفوظ 273)ہندو اسسٹنٹ مینجر سے واقعہ ملاقات :
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ جب حق تعالٰی کسی کام کوکرنا چاہتے ہیں اس کے اسباب اپنے فضل سے ویسے ہی پیدا فرماتے ہیں یہاں کے اسٹیشن ہی کا واقعہ ہے کس کس طرح کی کوشش ہوئی اور کیا کیا واقعات پیش آئے اہل قصبہ میں اورخصوص ان لوگوں میں جوکشاں تھے اتنی گنجائش نہ تھی کہ صرفہ برداشت کرسکتے ریلوے اپنے صرف سے بنانے کے لیے تیار نہ تھی مگر جب انہوں نے چاہا بن گیا اس دوران میں میں نے ایک خواب دیکھا تھا کہ یہ ریل تھانہ بھون کی گلیوں میں پھر رہی ہے میں نے بھائی سے کہا کہ کوشش کئے جاؤ ان شاءاللہ اسٹیشن ضروربنے گا یہاں کے ہندو کہتے تھے کہ عبد الحق کی اولاد بنوا کر چھوڑا انگریزوں کے کہنے والے بھائی مراد ہیں اور اللہ سے کہنے والا میں مراد ہوں یہاں پرختم خواجگان ہوتا ہے اس میں اہل خانقاہ طلباء ذاکریں کی جماعت ہوتی ہے یہ سب صلحا کا مجمع ہے کئی سال تک ان کی مسلسل دعاء ہوتی رہی یہ ان ہی لوگوں کی دعاء کی برکت ہے اسٹیشن بننے کے بعد ریلوے کا ایک بڑا افسر یعنی اسسٹنٹ مینجر جوقوم کا ہندو اوروطن کا بنگالی اورمعاشرت کا انگریزتھا جواردو بھی نہ سمجھتا تھا یہاں آیا مجھ سے ملاقات کرنا چاہتا تھا مجھ سے آنے کی اجازت چاہی میں نے کہا کہ میں خود اس کے پاس جاکر مل لوں گا اس نے کہا کہ یہ خلاف ادب ہے میں نے کہا اول تو راحت رسانی میں ایک تویہ کہ اگروہ آیا تو اس کے لئے کرسی چاہئے ورنہ وہ اگر زمین پربیٹھے تومجھ کو برا معلوم ہوتا ہے دوسرے یہ کہ اگر میں ملنے گیا تومیں آزاد ہوں گا اور وہ پابند اور اگر وہ آیا تو میں پابند رہوں گا اور وہ ازاد تیسرے اس کے مہمان ہونے کا حق بھی ہے میرے جانے پرخوش ہوگا اورخلاق کے اعتبار سے اثر اچھا ہوگا غرض میں خود ہی گیا نہایت مسرور ہوا اور تواضع سے یہ حالت تھی کہ بچھا جاتا تھا پھر اس جملہ مذکورہ کے متعلق کہ راحت رسانی ادب ہے فرمایا کہ ادب تعظیم کونہیں کہتے ادب کہتے ہیں راحت رسانی کو پھر ادب کے تعلق سے تہذیب کا ذکر آگیا اس کے متعلق ایک واقعہ بیان کیا کہ اس ہی ضلع میں ایک مقام ہے ککرولی وہاں بعض غرباء نے مجھے مدعو کیا تھا وہاں شیعہ رئیس اورزمیندارہیں میں مغرب کے وقت وہاں پہنچا میرے پہنچنے کے بعد ان لوگوں نے میرے پاس کہلا کر بھیجا کہ ہم ملاقات کرنا چاہتے ہیں ہم کو وقت بتلادیا جائے میں نے دوستوں سے کہا کہ انہوں نے یہ سوال کرکے اپنی تہذیب جتلائی ہے اب میں اس کے جواب میں اپنی تہذیب دکھلاؤں گا میں نے جواب کہلا کر بھیجا کہ مختصرملاقات تو اس وقت بھی ممکن ہے اور مفصل ملاقات صبح کو ہوسکتی ہے انہوں نے کہلا بھیجا ہم اسی وقت آنا چاہتے ہیں میں نے اجازت دیدی اور یہ بھی کہلا بھیجا کہ یہاں پرمیرے پاس غرباء کا مجمع کرسکتا ہوں مطلب میرا اس کہنے سے یہ تھا کہ ان لوگوں کو تہذیب کا بڑا دعوی ہوتا ہے ان کو بھی تو دکھلادوں کہ تہذیب ہے کیا چیز چنانچہ ان کو جس وقت میراجواب بہنچا ہے تڑپ ہی تو گئے کہ ہماری کس قدررعایت کی گئی ہے اور یہ کہلا کربھیجا کہ ہم غرباء ہی کے ساتھ بیٹھیں گے اور وہیں جاکر ملاقات کریں گے چنانچہ فورا جمع ہوگئے اورملاقات ہوگئی بسبیل گفتگو ان میں سے بعض حضرات نے بیعت کی بھی درخواست کی میں نے سوچا کہ کیا جواب دوں اگرعدہ کروں تو شیعہ رہتے ہوئے کیسے بیعت کروں اور اگر انکار کروں تو دل شکنی آخریہ جواب دیا کہ میں اس وقت سفر میں ہوں اور سفر میں بیعت کے شرائط کا فیصلہ نہیں ہوسکتا میرے وطن پہنچ جانے کے بعد خط وکتابت کیجئے میں ان شااللہ تفصیلی جواب دوں گا اس کے بعد کوئی خط نہیں آیا اگر آتا تویہی لکھتا کہ اس طریق میں نفع کے لئے مناسبت شرط ہے اور مناسبت اختلاف ، مذہب کی حالت میں غیرممکن لہذا سنی ہونے کے بعد بیعت کرسکتا ہوں مگر بعض لوگوں نے آج کل یہ عجیب طرز اختیارکیا ہے کہ طریق میں اسلام کو بھی شرط نہیں سمجھتے بعض جاہل اور دوکاندار پیروں نے ہندوؤں تک کومرید بنا رکھا ہے عجیب وغریب مشخیت ہے جہالت کا بھی کوئی قاعدہ نہیں اللہ بچائے جہل سے اس جہل ہی کی بدولت بہت سے جیل میں پڑے ہیں اور خوش ہیں اسی سلسلہ میں شیعہ کے ذکر کی مناسبت سے فرمایا کہ کانپور میں ایک وکیل کے پاس ایک سائل ایرانی آیا انہوں نے اس پوچھا کہ تم کون ہو کہا کہ سید اس نے کہا کہ مذہب کیا ہے کہا شیعی وکیل نے کہا شیعی کبھی سید نہیں ہوسکتا دیکھو سید کے شروع میں سین ہے اور شیعی کے شروع میں شین ہے ان میں کیا مناسبت البتہ جن کے شروع میں شین ہے جیسے شیطان ثمرذی الجوشن شرارت شیعی کو ان سے مناسبت ہے اس لئے تم شید ہو اورکہا کہ دیکھو سنی میں سین ہے سید میں سین ان میں مناسبت ہے ۔
(ملفوظ 272)فرخ شاہ کابلی فاروقی حضرت کے اجداد میں :
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ فرخ شاہ فاروقی کابلی ہمارے اجداد میں سے ہیں حضرت شیخ فریدالدین ، شاہ عبدالعزیز صاحب ، شمس بازغہ کے مصنف ، حضرت مجدد صاحب یہ سب فاورقی ہیں ان میں اکثر فرخ شاہ کی نسل میں ہیں مجھ کو بعض اقوال سے اپنی فاروقیت میں کچھ وسوسہ ہوگیا اور وسوسہ اس لیے کہا کہ تواتر کے بعد کوئی قول موجب شک نہیں ہوسکتا میں نے ایک خواب دیکھا کہ ایک شخص میرے پاس دوڑا وا آیا اورمجھ سے پوچھا کہ تم فاورقی ہو میں کہا کہ بزرگوں سے یہی سنا ہے کہ میں حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ سے پوچھ کرآتا ہوں میں اس وقت ڈراکہ دیکھئے کیا آکر کہہ دے وہ دوڑا ہوا گیا اور دوڑا ہوا آیا اور کہا میں نے پوچھا تھا یہ فرمایا کہ ہاں ہماری اولاد میں ہے اس سے وہ وسوسہ بھی جاتا رہا ایک مرتبہ حضرت حاجی صاحب رحمتہ اللہ علیہ کے ایک مرید نے حضرت عمرفاروق رضی اللہ عنہ کو ایک دفعہ خواب میں دیکھا فرمایا کہ حاجی صاحب ہماری اولاد میں سے ہمارا اسلام کہنا اور ہماری طرف سے ان کے سرپرہاتھ ٌپھیر دینا مرید نے حضرت سے یہ خواب بیان کیا آپ نے فورا سرسے ٹوپی اتار کرفرمایا کہ لوسرپرہاتھ رکھ دو مرید جھجکا کہ میرا ہاتھ اس قابل کہاں آپ نے فرمایا کہ میاں یہ تمہارا ہاتھ تھوڑا ہی ہے یہ توحضرت عمرفاروق رضی اللہ عنہ کا ہاتھ ہے تب مرید نے سرپرہاتھ رکھا ۔
(ملفوظ 271)دور حاضر میں مادی ترقی پرناز :
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا آج کل مادی ترقی پربڑا ناز ہے مگر یہ ترقی ترقی کھلانے کے قابل نہیں ترقی کھلائے جانے کے قابل تووہ ہے کہ جوذریعہ ہو خدا کے راضی کرنے کا ایک اخبار میں دیکھا تھا کہ کسی شخص نے سو منزل کا مکان بنایا ہے کیا ٹھکانے ہے اس حماقت کا اگرکبھی گرا توتماشا ہی ہوگا کیا زمیں میں جگہ ہی نہیں رہی بلکہ زمین سے ملاصق مکان تو ان بلند عمارتوں سے زیادہ راحت بخش ہیں دیکھئے غرباء کے مکان کچے اورپست ہوتے ہیں مگر ان میں آرام بہت ہوتا ہے گرمی بھی زائد نہیں ہوتی مرمت بھی آسان اس کا چھوڑ دینا بھی آسان زلزلہ وغیرہ میں بھی خدشات سے اور امراء کے مکان دیکھنے میں یہی آیا کہ اکثر کلفت کا سبب ہوتے ہیں اور بڑی کلفت یہ ہوتی ہے کہ وہ مکلف بہت ہوتے ہین ان میں سادگی نہیں ہوتی جی تنگ ہوتا ہے کیونکہ بہت سی چیزیں فضول ہوتی ہیں اور فضول سے عقلاء ایسا بچتے تھے کہ حضرت ادہم کے گیارہ کوٹھڑیاں تھیں ایک گرگئی دوسری میں چلے گئے دوسری گری تیسری میں چلے گئے اسی طرح گیارھویں میں وفات ہوگئی قصہ ختم کبھی مرمت بھی نہیں کرائی واقعی فانی چیز کی کیا ترقی اور کیا اس سے انسان جی لگائے وہ تو چھوٹ جانے والی چیز ہے ان حضرات کے حالات کودیکھ کریوں معلوم ہوتا ہے کہ ان کو اس عالم سے تعلق ہی نہ تھا اور واقع میں تعلق کی چیز بھی نہیں حق تعالٰٰی ظاہرفرماتے ہیں اس کی حقیقت کو ۔
(ملفوظ 270)اپنی تصانیف پرتقاریظ نہ لکوانے کا اہتمام :
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ میں نے کتابوں پرتقریظ لکھوانے کو ایک زائد چیز سمجھا بلکہ نفرت رہی چنانچہ میری کسی کتاب پرتقریظ نہیں اوریہ اس لئے کہ اگرنافع ہے تو لوگ بلا تقریظ بھی دیکھیں گے اور اگرنا فع نہیں تو تقریظ کے بعد بھی نہ دیکھیں گے تقریظ کا مضمون کتاب پر کوئی اثر نہیں ہوتا ایک زائد سی چیز معلوم ہوتی ہے جس کا کوئی حاصل نہیں ۔
(ملفوظ 269) شب وروز مسلمانوں پرظلم :
ایک صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ رات دن مسلمانوں پر مظالم کئے جائیں قتل وغارت کیا جائے کچھ نہیں لیکن اگرمسلمان انتقام میں بھی ایسا کریں تو گنوارپن ہے وحشت بربریت ہے خود وحشی اور گنوار اور دوسروں کو وحشی سمجھتے ہیں ۔ 19/ ربیع الاول 1351ھ مجلس خاص بوقت صبح یوم دوشنبہ

You must be logged in to post a comment.