ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ علامہ شامی نے لکھا ہے کہ مفتی کو مسئلہ میں تشقیق نہ کرنا چاہئے بلکہ سائل سے ایک شق کی تعیین کراکر صرف اس کا جواب دیدینا چاہئے تجربہ سے معلوم ہوا بڑے کام کی وصیت ہے مفتیوں کے کام کی بات ہے کیونکہ تشقیق میں بعض اوقات اپنے مفید شق کا دعوٰی کرنے لگتا ہے ۔
(ملفوظ 267) زبان عربی کی شوکت :
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ عربی زبان میں سب زبانوں سے زیادہ شوکت ہے دیکھئے عائش اور عائشہ جیون اور جیونی کا ترجمعہ ہے مگر عربی میں کیسی شوکت معلوم ہوتی ہے اور اردو میں آکر کیسارکیک معلوم ہوتاہے اسی طرح فارسی کی ایک خاص خاصیت ہے یعنی جس طرح وہ آتش پرستوں کی زبان ہے اسی طرح اس میں آگ ہے شورش ہے ۔
(ملفوظ 266)عورتوں کو بھی السلام علیکم کہنا چاہئے :
ایک سلسلہ گفتگو فرمایا کہ عورتوں میں رسم ہے کہ جب آپس میں ملنے کے وقت سلام کا موقع ہوتا ہے تو فقط لفظ سلام کہتی ہیں مگر کاندہلہ میں تو پہلے سے اور یہاں تھوڑے روز سے جولڑکیاں ہیں آپس میں پورا اسلام کرتی ہیں السلام علیکم اب الحمداللہ اس کی رسم ہو گئی ہے جونہایت مبارک بات ہے ۔
(ملفوظ 265)تعویذ سے اصلاح نہیں ہوتی :
فرمایا کہ ایک بی بی کا خط آیا ہے کچھ شکایتیں خاوند کی لکھ کر لکھا ہے اگرمیں بڑے اطوار سے منع کرتی ہوں تو نہایت زجروتوبیخ سے پیش آتا ہے کوئی ایسا تعویذ یا وظیفہ بتلادو جس سے اس کی اصلاح ہوجائے میں نے لکھ دیا ہے کہ اگر کہنے میں کوئی مضرت کا اندیشہ نہ ہوتو نہایت نرمی اور خوشامد سے کہہ دیا کرو ورنہ مجبوری ہے کہو ہی مت پھرفرمایا کہ کہیں وظیفوں اور تعویزوں سے اصلاح ہوتی ہے جوشخص اپنی اصلاح خود نہ چاہے اس کی اصلاح مشکل ہے ۔
(ملفوظ 264)ضوابط اپنی راحت کیلئے ہیں :
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ میرے یہاں جو ضوابط ہیں ان سے دوسرون کو تکلیف دینا نہیں چاہتا ہاں اپنی راحت کا انتظام کرتا ہوں تو یہ کوئی جرم نہیں یہ صاحب جن کا یہ خط ہے بیس برس سے مجھ کو ستارہے تھے آج ایک قاعدہ کے ماتحت اس کا انسداد ہوا ۔
(مفلوظ 263)اصلاح کرنے کا کام بہت ٹیڑھا ہے :
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ اصلاح کا کام بہت ٹیڑھا ہے خود کوفت اٹھاؤ اوپر سے بدنام ہومیں اب اردہ کرچکاہوں کہ اس کام کو اس طور پرکہ خود احتساب کروں انشاءاللہ تعالٰے چھوڑدوں گا سو دفعہ کسی کی خوشی پڑے خوشامد کرے کوئی بات بتلادی ورنہ خود محاسبہ یا مواخذہ نہ کروں گا میرا جو مقصود تھا کہ طریق کا اظہار ہوجائے وہ بحمداللہ پورا ہوگیا سب کوطریق کی حقیقت معلوم ہوگئی اس کی جوگول مول حالت تھی وہ ظاہر ہوگئی اب بے غبار ہے عوام تک کومعلوم ہوگیا اور جہاں کچھ تھا بھی بس صرف یہ تھا کہ اور راد کو اور کیفیات کو طریق سمجھا جاتا تھا اس کا ثمرہ اعمال تو بلکل حذف ہی کردئے گئے تھے صاف کہتے ہیں کہ اعمال کا کیا ہے یہ تو کتابوں میں ہیں میں نے کہا کہ اوراد بھی تو کتا بوں میں ہیں تو ان ہی میں کیا رکھا ہے ۔
(ملفوظ 262) قصبہ والوں کی عقیدت اورمحبت :
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ اپنے قصبہ والوں کومیرے ساتھ عقیدت زیادہ ہے مگر محبت ہے اور عقیدت سے تومجھ پربوجھ ہوتا ہے ہاں محبت سے خط ہوتا ہے اور اگردونوں چیریں جمع ہوجاویں تو عقیدت پرمحبت کو غالب کرنا چاہئے ایک صاحب نے عرض کیا کہ عقیدت ہی سے تومحبت ہوتی ہے فرمایا کہ اول تو یہ غلط ہے بدون عقیدت بھی محبت ہوتی ہے دیکھئے اہل وعیال سے محبت ہوتی ہے عقیدت نہیں ہوتی پھر اگرشروع میں ایسا ہوا بھی ہومگر ترتب آثار کے وقت بناء عقیدت کی طرف التفات بھی نہیں ہوتا صرف محبت ہی موثر ہوتی ہے دیکھئے صحابہ کو حضورﷺ سے جو محبت ہوئی گو وہ رسالت ہی کی وجہ سے ہوئی مگر جب خدمت کرتے تھے اس وقت رسالت کا خیال بھی نہ آتا تھا مثلا ہدیہ وغیرہ جودیتے تھے رسالت کی بناء پرتھوڑا ہی دیتے تھے توابتداء میں محبت رسالت ہی کی وجہ سے ہوئی مگر اس کے بعد کرتے تھے وہ صرف محبت کی وجہ سے ۔
(ملفوظ 261)دین کی خدمت سب کے ذمہ ہے :
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ یہ تو دین ہے اس کی خدمت سب کے ذمہ ہے بڑی خوشی کی بات ہے کہ دین کی خدمت کرنے والے پیدا ہوں اور موجود بھی ہیں بحمداللہ یہ کام ایک پرموقوف نہیں بہت سے دین کی خدمت کے لئے کھڑے ہونے والے ہوتے رہتے ہیں ۔ واللہ ثم جب یہ معلوم ہوتا ہے کہ بعد میں بھی دین کی خدمت کرنے والے ہوں گے تو مسرت اورخوشی کی انتہاء نہیں رہتی ۔
(ملفوظ 260) وسعت اور سہولت :
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ میں فخریہ نہیں کہتا اللہ کا شکر ہے کہ کہیں بھی اس قدر وسعت اورسہولت نہیں جس قدر میرے یہاں ہے اس قدرتوتوسع اور پھرلوگ کہتے ہیں کہ تنگی ہے سختی ہے میں تو کہا کرتا ہوں کہ سختی اورچیزہے اور مضبوطی اورچیز ہے ریشم کارسا مضبوط تو اس قدر ہوتا ہے کہ اگر ہاتھی کو اس میں باندھ دیا جائے تووہ بھی نہیں توڑ سکتا مگر نرم اس قدرکہ جس طرح چاہو اس کو موڑ توڑ لو اور جہاں چاہے گرہ لگا لو تو میں سخت نہیں اورنہ میرا یہاں سختی ہے ہاں الحمدللہ مضبوط ہوں میرے یہاں مضبوطی ہے ۔
(ملفوظ 259)غامض بدعتیں :
ایک صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ شب برات کا حلوہ اگر آپ نہ کھاویں تو پکانے والے پکاویں بھی نہیں یہ بدعتیں ، ڈھیلے پن سے جاری ہوئیں مزاحا فرمایا کہ اگر دھیلے ( یعنی سخت ) بن جائیں تو سب بدعتیں ختم ہوجائیں پھرفرمایا بعض بدعتیں ایسی غامض ہوتی ہیں کہ بعض دفعہ اکابر کو تنبہ نہیں ہوتا چنانچہ مولانا شیخ محمد صاحب نے حضرت حاجی حاحب رحمتہ اللہ علیہ سے عرض کیا کہ دل چاہتا ہے کہ ترک حیوانات کے ساتھ ایک چلہ کھینچوں ، حضرت نے فرمایا کہ یہ توبدعت ہے تب تنبہ ہوا قصہ رامپور میں ایک تقریب تھی ختنوں کی وہاں پر مجھ کو بلایا گیا اور اپنے اورحضرت بھی تھے وہاں پہنچ کر مجھ کو معلوم ہوا کہ کہ بڑا تفاخر کا سامان کیاگیا ہے شریک نہیں ہوا اور خفیہ گھر چلا آیا اس پرایک صاحب یہاں پربزرگوں کی نصرت کے لیے مناظرہ کی نیت سے تشریف لائے وہ اب بھی زندہ ہیں اورمجھ سے کہا کہ مجھے ان رسوم کے متعلق کچھ عرض کرنا ہے میں نے کہا کہ ضرورشوق سے مگر کچھ شرائط ہیں ایک تویہ کر یہ دیکھ لیا جاوے کہ اپنے کسی معتقدفیہ کی نصرت مقصود نہیں یہ حلف سے بیان فرما کر جوشبہ فرمایئے بس سب اعتراضات ختم ہوگئے اسی سلسلہ میں حضرت مولانا خلیل احمد صاحب رحمہ اللہ سے ایک صاحب نے دریافت کیا اسی تقریب کی شرکت اور عدم شرکت کے متعلق کہ اگریہ بات جائز تھی تو وہ کیوں نہیں شریک ہوا (مراد میں ہوں ) اور اگر ناجائز تھی تو آپ کیوں شریک ہوئے اس پرمجھ کو تومولانا نے خفیہ خط لکھا کہ اصلاح الرسوم پرنظر ثانی کی ضرورت ہے اورمجمع میں یہ جواب دیا جو میں نقل کررہاہوں کہ وہ تقوے پرعمل کرتا ہے اورہم فتوے پرعمل کرتے ہیں اس لئے بعض دفعہ ہمارا اس کا اختلاف ہوجاتا ہے میں نے مولانا خلیل الرحمن احمد صاحب رحمہ اللہ کو خط کا جواب لکھا کہ میں نظراول ثانی ثالث رابع سب کچھ کرچکا ہرنظر کا وہی نتیجہ ہے جونظر اول کا تھا ہاں اس کی اور صورت ہے وہ یہ کہ آپ نظرفرما کر اس میں غلطی نکالیں میں اس کا رد نہ کروں گا اس کوشائع کردوں گا ناظرین دونوں کو دیکھ لیں گے اب چاہے کوئی ادھرجائے یا ادھر جائے مگر جورسمیں مٹ چکی ہیں اگرآپ کی تحریرپرانہوں نے پھردوبارمدعو کیا تو اس کو آپ خود دیکھ لیں اس کے بعد حضرت مولانا نے کبھی کچھ اس کے متعلق نہیں فرمایا حضرت مولانا محمود حسن صاحب رحمہ اللہ سے بھی لوگوں نے پوچھا آپ نے جوواقعی بات تھی وہ فرمائی مولانا خلیل احمد صاحب رحمہ اللہ کا جواب تو تواضع بیان فرمادی اور یہ جواب دیا کہ سچ یہ ہے کہ جس قدر عوام کی حالت اسے (یعنی مجھکو) معلوم ہے ہمیں معلوم نہیں اس لئے وہ ایسی چیزوں کو روکتا ہے اور کوئی شبہ نہ کرے کہ نعوذ باللہ کیا مجھ کو اپنے اکابرسے زیادہ علم ہے اس کا جواب یہ ہے کہ عوام کی حالت کا علم یہ ایک محسوسات کا علم ہے اور محسوسات کا علم کوئی کمال نہیں بلکہ احکام کا علم کمال ہے اسی معاملہ میں ایک بزرگ نے مجھ سے کہا کہ تم نے اپنی جان توبچالی اوراگرکوئی اعتراض کرے کہ تمہارے اکابر کی شرکت کیوں ہوئی اس کا کیا جواب دوگے میں نے کہا کہ مجھ کو کسی نئے جواب کی ضرورت نہیں میں وہ جواب دوں گا جوہمارے اکابر نے حضرت حاجی صاحب رحمہ اللہ کے مولود میں شریک ہونے کے متعلق سکھلارکھا ہے وہ جواب یہ سکھلایا ہے کہ حضرت حاجی صاحب رحمہ اللہ کو عوام کی حالت کی زیادہ خبرنہیں ہم کوخوب خبرہے بس میں بھی یہ ہی جواب دوں گا ،
اب اصلاح الرسوم بحمداللہ اپنی حالت پرہے اور یہ حضرات تواپنے بڑے ہیں مجھ کو توان بڑوں کے بڑوں کے ساتھ اختلاف رہا اوروہ سب خوش تھے ۔

You must be logged in to post a comment.