(ملفوظ 258)طریق سے اجنبیت پرظہار افسوس :

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ آج کل طریق سے اس قدر اجنبیت ہوچکی ہے اور یہاں تک حالت پہنچ چکی ہے کہ لوگ سمجھتے ہیں کہ یہ اصلاح کا جوطریق ہے فساد دماغ کا اثر ہے اب تو اپنی ہی جماعت ان باتوں پرہنستی ہے اور بعضے اپنے بزرگوں کی نسبت بیہودہ کلمات استعمال کرتے ہیں کم ازکم ایسے کلمات تو اب بھی اکثر نکل جاتے ہیں کہ انہیں ضروریات کی خبر نہ تھی بھولے بھالے بزرگ تھے یہ بد دماغ بیدار مغز اور روشن دماغ پیدار ہوئے ہیں جن کو ابدست لینے کی بھی تمیز نہٰیں معلوم بھی ہے کہ وہ ایسے بھولے اور بے خبربھی نہ تھے اگران کو خبرنہ ہوتی توتلوار لے کرظالموں کا مقابلہ نہ کرتے اور تم نے ابھی تک اتنا کرکے بھی نہ دکھایا جتناہ کرگئے تمہارے تو کاغذی ہی گھوڑے دوڑرہے ہیں شرم نہیں آتی بزرگوں پرطعن تشنیع کرتے ہوئے چھوٹا منہ اور بڑی بات جس چیز کی تم کو خبر ہے ان حضرات کو اس کو بھی خبر تھی اور ایک بات کی اور بھی خبرتھی جس کی طرف سے تم بے خبر ہو وہ یہ کہ اگرحکم ہوا قم تو کھڑے ہوگئے حکم ہوا قعد بیٹھ گئے تمہاری طرح تھوڑا ہی تھے کہ احکام اسلام اور اسلام کو بدنامکرنے کے لیے کھڑے ہوئے اور اس پر کہتے ہیں کہ میدان میں آناچاہئے لعنت ہو ایسے میدان پرکہ جس میں اللہ اور رسول کی مخالفت ہو یاد رکھو میدان ہی میں رہوگے اب تو یہ ہی سبق رہ گیا ہے کہ میدان کی تعریفیں کی جاتی ہیں اورحجروں کی مذمت حالانکہ یہ میدان کی رونق وشوکت حجرہ ہی سے ہے میدان کا جوانجن ہے وہ حجروں ہی میں ہے اور تم ان کو ہی تھوڑ پھوڑ کرنے لگے اور ان کی تعمیر کوگرانے لگے تومیدان میں رہ ہی کیا جاوے گا اور یہ قوت جوہوئی ہے حرکت اور بیداری یہ انہیں بزرگوں کی بدولت ہوئی ہے جن کو تم بھولے اوربے خبر بتلاتے ہو۔

(ملفوظ 257)چھوٹوں کی صحبت کی ضرورت:

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ جب میں سفر کیا کرتا تھا باہرجاکر یہاں کی قدرمعلوم ہوتی تھی اب تو سفرہی نہیں کرتا ایک کونہ میں پڑا ہوا ہوں اور وہ قدر کی بات یہ ہے کہ یہاں کے رہنے ولے لوگ اپنے کو چھوٹا سمجھتے ہیں لیکن اگرواقع میں چھوٹے ہی ہوں تب بھی چھوٹوں کی صحبت کی بھی تو ضرورت ہے اور امت محمدیہ میں تومن کل الوجوہ نہ کوئی چھوٹا نہ کوئی بڑا اللہ کا شکر ہے کہ میں بھی اپنے کواپنے دوستوں سے مستغنٰی نہیں سمجھتا بلکہ محتاج سمجھتا ہوں اور کچھ نہ سہی دعاء وبرکت صحبت ہی میں سہی ہرشخص کو اپنے بھائی مسلمان سے اپنے کو مستغنٰی نہیں سمجھنا چاہے اسی میں عافیت ہے کونوا مع الصدقین ارشاد ہے صادقین کی معیت حق تعالٰٰی نصیب فرمائیں اور اللہ شرور سے اپنی حفاظت میں رکھیں ۔

(ملفوظ 256) اسراف کی بدولت مسلمان تباہ ہوگئے :

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ ان فضول خرچیوں اور اسراف کی بدولت مسلمان تباہ وبرباد ہوگئے مگر اس پر بھی آنکھیں نہیں کھلتیں ایک کو ایک دیکھ کرعبرت حاصل کرسکتا ہے مگر نہیں کرتے یہ مولوی صاحب کے دادا کا گاؤں تھا فضول خرچیوں کی بدولت جاتا آتا رہا بیٹے کی شادی میں اس قدر روپیہ صرف کیا جس کی کوئی انتہا نہ تھی بعد شادی حضرت مولانا محمد قاسم صاحب رحمہ اللہ ان کے پاس تشریف لائے اور جاکر کہا کہ بھائی صاحب ورپیہ سے کوئی جائیداد خریدتا ہے کوئی زیور خریدتا ہے اس میں یہ فایدہ ہوتا کہ اگر وقت پرکل قیمت نہ ملے تو آدھی تہائی کچھ تو قہمت اٹھ آئے مگر آپ نے جوچیز خریدی ہے یعنی نام اس کی قیمت پھوٹی کوڑی بھی نہیں مل سکتی ان کی یہ حالت تھی کہ پہلوانوں کو دعوت دیدی دور دور سے پہلوان آرہے ہیں دنگل ہورہے ہیں ان کو کھلایا پلایا جارہا ہوگئے اور نتیجہ کچھ بھی نہیں ۔

(ملفوظ 255)حضرت حکیم الامت بطور سرپرست دارالعلوم :

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ ایک بارمدرسہ دیوبند کے متعلق بعض امور ضروریہ میں مشورہ کے لیے یہاں پرمجلس شورٰی آئی تھی اس وقت میں مدرسہ کا سرپرست تھا میں نے سب سے اول یہ سوال کیا کہ اختلاف آراء کے وقت کیا سرپرست کی رائے پراخیر فیصلہ ہوگا یا کثرت رائے کا اعتبار ہوگا اور سرپرست کے اختیار کیا کیا ہیں وجہ اس سوال کی یہ تھی کہ پہلی صورت میں تو سرپرست کو مجلس ہی میں رائے ظاہر کرنیکی ضرورت ہوگی اور دوسری صورت میں وہ اپنی رائے کو محفوظ بھی رکھ سکتا ہے اس کا کوئی متفق علیہ جواب نہ ملا میں خاموش ہوگیا اس کے بعد میں یہ سمجھے ہوئے تھا کہ تنخواہ دار کا ممبر ہونا اصل کے خلاف ہے اس لئے میں نے مولوی حبیب الرحمن صاحب مہتمم اور مولانا انور شاہ صاحب صدر مدرس سے کہا کہ آپ حضرت تھوڑی دیر کو اس جگہ سے الگ ہوجائیں کیونکہ یہ دونوں حضرات تنخواہ دار تھے مگر جب ممبروں کی فہرست دکھلائی گئی تھی جس میں ان دونوں حضرات کا نام بھی تھا میں نے ان کو پھر بلاکرمجلس میں شریک کرلیا اس پرشاہ صاحب کی جماعت نے مجھ کو بے حد بدنام کیا اور ایسے الفاظ استعمال کئے کہ جس میں خود شاہ صاحب کی بھی اہانت تھی مثلا یہ کہ مجلس سے اٹھا دیا نکال دیا مگر مولوی حبیب الرحمن صاحب کی جماعت ایک کلمہ بھی زبان پرنہیں لائی البتہ خود شاہ صاحب کے متعلق کبھی بات نہیں سنی مگر اپنی جماعت پربھی کوئی روک ٹوک نہیں کی جس کی وجہ سے ان اکا بھولا پن تھا ایک صاحب نے سوال کیا کہ کیا عالم بھی بھولے ہوتے ہیں فرمایا بہت ، یہ تو فطری امرہے علماء بھی بھولے ہوتے ہیں بزرگ بھی بھولے ہوتے ہیں البتہ انبیاء علیہم السلام بھولے نہیں ہوتے اعلی درجہ کے عاقل ہوتے ہیں جن کا بڑے فلاسفہ کفا رلوہا مانتے تھے ورنہ وہ تو تمسخرہی اڑادیتے اور علماء میں بھی بعضے اس شان کے ہوتے ہیں چنانچہ ہماری جماعت میں مولوی حبیب الرحمن صاحب ایسے تھے کہ جس قدر یہ لیڈر پیڈر ہیں سب ان سے گھبراتے تھے حافظ احمد صاحب بھولے تھے مگر جرنیل تھے مولوی حبیب الرحمن صاحب میں صرف ایک کمی تھی وہ یہ کہ نرم تھے اور نرم آدمی سے انتظام میں گڑبڑ ہوجاتی ہے یہ تازہ فساد مدرسہ میں ان کے نرم ہونے کی وجہ سے ہوا مگر دونوں صاحب مخلص بہت تھے مدرسہ کے فساد کے زمانہ میں یہ فرمایا کرتے تھے کہ ہم کسی کی مخالفت کی پرواہ نہیں بس اس شخص سے تعلق رہے ( یعنی احقراشرف علی سے ) پھرچاہے ساری دنیا ہم سے چھوٹ جائے ہمیں پرواہ نہیں ۔
18/ربیع الاول 1351ھ مجلس بعد نمازظہر یوم یکشنبہ

(ملفوظ 254)اصلاح الرسوم کتا ب کا الٹ استعمال :

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ آج کل بدفہموں سے دنیا بھری ہوئی ہے ایک شخص مجھ سے کہتے تھے کہ ان سے ایک بدعتی نے کہا کہ ہم اصلاح الرسوم سے بڑا فائدہ ہوا اور وہ یہ کہ ہم بہت سی رسمیں بھول گئے تھے عورتوں سے پوچھنی پڑتی تھیں اب کتاب سامنے ہے دیکھ دیکھ کرسب رسمیں کرلیتے ہیں اس کی بلکل ایسی مثال ہے جیسے قرآن مجید کفار کے کلمات ہیں ۔
عزیرابن اللہ المسیح ابن اللہ ان اللہ ثالث ثلثہ ( حضرت عزیزاللہ کے بیٹے تھے ، حضرت مسح اللہ کے بیٹے تھے ، اللہ تین معبودوں میں ایک ہے ۔ 12) ان کو دیکھ کرکوئی کافرکہے کہ اس سے ہم کو بڑا نفع ہوا قرآن میں دیکھ دیکھ کر سب کفریات کا دعوٰی کرلیتے ہیں بھلا اس بدفہمی کا ۔

(ملفوظ 253)اہل علم میں احتیاطی کی کمی کی شکایت :

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ آج کل تواہل علم میں بھی احتیاط کی شان بہت کم رہ گئی ہے ایسے واقعات سن کر سخت رنج ہوتا ہے اور بالخصوص اس تحریکات کی بدولت تو یہ بے احتیاطی بہت ہی زیادہ ہوگئی حلال وحرام کی بلکل پرواہی نہیں رہی اپنی ہوائے نفسانی کے لیے قسم قسم کے حیلے حوالے کرتے ہیں اور اب تواللہ تعالی کے ساتھ حیلے کرنے لگے ہیں اس قدر دلیری بڑھ گئ ہے بلکل وہ حالت ہوگئی ہے
زنہارازاں قوم نباشی کہ فرینبد حق رابسجودے ونبی رابدرودے
( ان لوگوں میں سے ہرگز نہ ہونا جو ایک سجدہ کرکے حق تعالٰی کو دھوکہ دینا چاہیں اورایک دورود پڑھ کرحضورﷺ کودھوکہ میں لانا چاہیں ( کہ ہم اللہ اوراس کے رسول اللہ ﷺ کے محب اور شیدائی ہیں ) ۔ 12)
باقی نفس حیلہ کا جائز یا ناجائز ہونا اسمیں تفصیل ہے وہ یہ کہ اگروہ حیلہ شریعت کی مصلحت سے ہے نفس کی مصلحت سے نہیں تب تو جائز ہے اور اگرنفس کی مصلحت سے ہے تو ناجائز ہے اور تحصیل شریعت کیلئے اس میں شریعت کا ابطال ہے مثلا اغنیاٰء کو حکم ہے مساکین کیلئے زکوۃ دینے کا جس کی غرض اغناء مساکین ( مساکین کو غنی کرنا ) ہے اب بعض لوگ یہ حیلہ کرتے ہیں کہ سال گذرنے کے قریب دوسرے کے نام ہبہ کردیا پھر اس نے واپس کردیا یہ صورت اور حیلہ جس میں اغناء مساکین ہی کا ابطال ہے کہاں تک جائزہوسکتا ہے حاصل یہ کہ جہاں حیلہ سے غرض شرعی کی تحصیل ہووہاں حیلہ جائز ہے اور جہاں غرض شرعی کا ابطال ہو وہاں ناجائز ہے۔

(ملفوظ 252) عمدہ غذائیں کھانے کی نیت :

ایک صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ اچھی عمدہ اورمقوی غذائیں کھانا چاہئے اور خوب کام کرنا چاہئے ہمارے حضرت حاجی صاحب رحمتہ اللہ علیہ فرمایا کرتے تھے کہ چار انگشت حریر کو جوجائز فرمایا گیا ہے اس میں بھی فقہاء نے یہی حکمت لکھی ہے جیسا بدایہ میں مذکور ہے لیکون انمرذجامن حریر الجنۃ یعنی اس کو دیکھ کرنعمائیے جنت کے نمونہ کا مشاہدہ اور اس سے رغبت ہوپھر اس رغبت سے اعمال صالحہ کی توفیق ہوگی حضرت حاجی صاحب رحمہ اللہ کا یہ ارشاد کیسا علم عظیم ہے حضرت کی اور بھی بڑی حکیمانہ باتیں ہوئی تھیں چنانچہ ایک بات فرمایا کرتے تھے کہ جوچیز کسی کے پاس حب فی اللہ کے تعلق سے آئی ہو اس میں سے ضرور کھانا چاہئے اس میں نور ہوتا ہے یہ ہیں علوم حقیقی جوان حضرات کو عطاء ہوتے ہیں اس لئے کہ ارشاد خلق ان کے سٌپرد ہوتا ہے اس کے لیے ان علوم کی ضرور ہے اور یہ بات حضرت میں خاص درجہ میں ممتاز تھی دوسرے مشائخ معاصرین سے جس پرحضرت مولانا محمد قاسم صاحب رحمہ اللہ جسے قتل یہ کہا کرتے تھے کہ میں حضرت حاجی صاحب کا معتقد علم کی وجہ سے ہوں واقعی حضرت حاجی صاحب رحمہ اللہ کی شان ہی جدا تھی ۔
آفا قہا گرویدہ ام مہربتاں ورزیدہ ام بسیارخوباں دیدہ ام لیکن تو چیزے دیگری
( تمام جہان چھان ڈالے بہت محبوبوں سے محبت کرکے آزمایا ہزاروں حسینوں کودیکھا
لیکن تم تو کچھ چیز ہی اورہو ۔ ( جس کا بیان میں لانا ہی مشکل ہے ) ۔12)
اور اب تو مشائخ میں علوم اورحقائق کا پتہ بھی نہیں صرف لذائد کے ترک کی ترغیب دی جاتی ہے اور حضرت کے یہاں ان کے اختیار کرنے میں ان کے ترک سے زیادہ نفع ہے جیسے ابھی مفصل بیان ہوا ۔

(ملفوظ 251)نفس کے حقوق :

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ نفس کے بھی حقوق ہیں ایک صاحب مجھ سے کہنے لگے کہ تم بہت ہی اپنے نفس کی رعایت کرتے ہو میں نے کہا کہ یہ صغریٰ ہے اور کبرٰی کیا ہے کہ نفس کی رعایت جائز نہیں اگرقوی کی رعایت وحفاظت نہ کی جاتی تو اتنا کام تھوڑا ہی ہوسکتا تھا ۔

(ملفوظ 250)کام کرنے والے طلب رضائے حق کی نیت کریں:

ایک مولوی صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ کیا کثرت جماعت ہی سیکا ہوتا ہے کام تو قلیل جماعت سے بھی ہوسکتا ہے بشرطیکہ کام کرنے والے رضائے حق نہیں اورجب تک مسلمانوں میں یہ بات رہی یہ غالب رہے طلحہ بن خویلد نے اپنے وزیرسے پوچھا تھا کہ ہمارے پاس سب سامان ہے تلواریں ہیں جمعیت زیادہ ہے پھر بھی یہ مسلمان ہم پر غالب آتے ہیں ان میں ایسی کون چیز ہے جس کا یہ اثر ہے وزیر سمجھدار تھا عجیب جواب دیا کہ ہم میں ان میں ایک فرق ہے وہ یہ کہ ان میں کا تو ہرشخص خود تو زندہ رہنا چاہتا ہے اور دوسرے کو مردہ بنانا چاہتا ہے ان کے نزدیک مقدم موت ہے اور ان کے نزدیک مقدم حیات ہے بس یہ چیز ان لوگوں میں زیادہ ہے جوہم میں نہیں یہی وجہ ہے کہ ان پرکوئی غالب نہیں آسکتا اور یہ طلب رضاہی سے ہوسکتی ہے اسی باب کا اورایک واقعہ ہے کہ ایک بادشاہ نے چند صوفیہ کو کسی کی نمائی ( چغلی ) پرقتل کرنا چاہا اور جلادیا کو حکم دیا جلادنے ایک کی گردن مارنا چاہا دوسرا بولا کہ پہلے مجھ کو قتل کیا جائے اس کوقتل کرنا چاہا تو تیسرے نے کہا مجھ کو پہلے قتل کردو علی ہذا جلاد چکر میں آگیا اور بادشاہ کو اطلاع دی اس پراثر ہوا اور سب کچھ چھوڑدیا کہ ایسے لوگ بد دین نہیں ہوسکتے یہ تو طلب رضا کے متعلق استطراد احکایتیں تھیں اب اصلا مضمون کی طرف عود کرتا ہوں میں یہ کہہ رہا تھا کہ مدار اعظم کامیاب کا طلب رضا ہے اب میں کہتا ہوں کہ اول تو تدابیر ہیں کیا چیز مشیت کے سامنے اور اگر ہوں بھی تویہ بھی تو تدابیر ہی میں سے ہے کہ خدا کو راضی کیا جائے اس تدبیرسے کیوں جان چرائی جاتی ہے اور یہ وہ تدبیر ہے کہ اس پرتمام تدابیر قربان ہیں میں بقسم عرض کرتا ہوں کہ اگر مسلمان اللہ کو راضی کرلیں تو انہیں کو تمام عالم پرعزت اور غلبہ حاصل ہو اور تمام دنیا کے مالک ہوں میرا مقصود اس بیان کرنے سے یہ نہیں کہ تدابیر اختیار نہ کرو ضرور کرو مگر اس کے ساتھ ہی حق تعالٰی کو راضی کرنے کے لئے بھی سعی کرو اس سے بھی ایک منٹ کےلئے غفلت نہ ہو اور ان تدابیر کے اختیار کرنے کے بعد بھی حق سبحانہ تعالٰی ہی کی طرف نظر رکھواسی کو فرماتے ہیں
عقل در اسباب می وارد نظر، عشق می گوید مسبب رانگر
( عقل اسباب پرنظر رکھتی ہے اور عشق کہتا ہے کہ اسباب کے پیدا کرنے والے کو دیکھو ۔ 12)

(ملفوظ 249 ) تعلیم اور تبلیغ کے حدود اور اصول :

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ تبلیغ کرنے کے بھی حدود اصول ہیں ہم کو ہرچیز کی تعلیم دی گئی ہے اور تعلیم بھی وہ نہایت پاکیزہ بڑے بڑے فلاسفہ اس کی مثال پیش نہیں کرسکتے دیکھئے حضورﷺ کو قرآن پاک میں یہ تعلیم دی گئی ہے کہ آپ اس فکر میں نہ پڑئیے کہ یہ ایمان ہی لے آئیں آپ تو حکم پہنچا دیجئے اگر نہ مانیں تو چھوڑ دیجئے چاہے سارے دوزخ میں جائیں کس قدر مغز اور پاکیزہ تعلیم ہے اس میں راز یہ ہے کہ کہیں ثمرہ مرتب ہونے کو مقصود نہ سمجھا جائے اس صورت میں کام کرنے والے کو کبھی الجھن نہیں ہوسکتی اور نہ ہمت ٹوٹ سکتی ہے اس کے خلاف میں یہ ہوتا ہے کہ اگر ثمرات کو مرتب ہوتے دیکھا جائے تو کام کرتے رہیں اور اگرثمرات کومرتب ہوتے نہ دیکھا جائے تو ہمت توڑ کے بیٹھ جائیں تبلیغ کرنا خود مقصود مستقل ہے یہی ہمیشہ اپنے بزرگوں کا مسلک رہا اس باب میں ان کی نظر میں ایک ہی ثمرہ تھا یعنی خدا کو راضی کرنا اور یہ ہر وقت حاصل ہوسکتا ہے خواہ تبلیغ مؤثر ہو یا نہ ہو اور اصل بات یہ ہے کہ جو کام اختیاری ہے اس کو تو انسان تکمیل کرسکتا ہے اور غیر اختیاری کی فکر میں پڑکراصل مقصود سے دور جا پرڑتا ہے سو تبلیغ کرنا اختیاری ہے اور ثمرہ مرتب ہونا اختیاری کو کرے غیراختیاری کے درپے نہ ہو ورنہ وہ اختیاری بھی ہاتھ سے جاتا رہتا ہے۔