(ملفوظ 248) علماء کا اصلاح باطن کے لئے قلیل مدت تجویذ کرنا :

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ اہل علم سے تعجب ہے کہ وہ بھی اس طریق سے نا واقف ہیں اہل علم اور طلباء کو سخت ضرورت ہے اس فن کے جاننے کی اور ان کی واقفیت کی وجہ سے جاہلوں اور نا اہلوں کو موقع مل گیا مخلوق کے گمراہ کرنے کا اور دوسروں کی فکر اور اصلاح تو بعد میں رہی مگر ان اہل علم کو اپنی خیر تومنانی چاہئے نہ جاننے کی وجہ سے خود انسان بہت غلطیوں میں مبتلا رہتا ہے درسی کتابوں کے پڑھنے میں تو دس برس صرف کردیں گے مگر ( اصلاح باطن کیلئے ) چھ ماہ بھی صرف کرنا مشکل ہے اور بعض تونحو صرف ہی میں تمام عمر صرف کردیتے ہیں مگرمحو کے واسطے ایک منٹ اور ایک سیکنڈ بھی صرف کرنا موت ہے معلوم بھی ہے کہ اس طریق کی حقیقت ہے کیا اسی حقیقت کے حاصل کو فرماتے ہیں
یک چشم زون غافل ازاں شاہ نباشی شاید کہ نگا ہے کند آگاہ نباشی
( ایک پل کےلئے بھی اوس شاہ سے غافل مت ہو شاید کسی وقت نظرعنایت کرے اور بوجہ غفلت کے تم کو خبربھی نہ ہو ۔ )
اوراگر اعتقاد سے نہیں کرسکتے تو بطور امتحان دیکھو اسی کو مولانا رومی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں
سالہا تو سنگ بودی دلخراش آزموں رایک زمانے خاک باش
( برسوں تک پتھر رہ چکا ، آزمائش ہی کے طور پرچندہ روز خاکساری اختیار کرکے بھی دیکھ لو،)
مگر شرط اس کی رفع موانع ہے اسی کو فرماتے ہیں
جملہ اوراق وکتب درنار کن (یعنی کتب مانعہ ) سینہ را از نور حق گلزار کن ،
( جوعلوم طریق حق میں مانع ہیں ان کو آگ لگادو ، اور سینہ کو نورحق سے گلزاربنالو ۔ 12)
اور اسی کو فرماتے ہیں چند خوانی حکمت یونیاں حکمت ایمانیاں راہم بخواں
( یونانیوں کی حمکت کب تک پڑھوگے ایمان والوں کی حکمت بھی پڑدیکھو ۔12)
مگر یہ بدوں کسی کامل کی صحبت کے پیدا ہونا مشکل ہے کسی کی جوتیاں سیدھی کرو اسی کو فرماتے ہیں
بے عنایات حق وخاصاں حق گر ملک باشد سیہ ہستتش ورق
( حق تعالٰی اور ان کے خاص بندوں کی عنایتوں کے بغیر اگر فرشتہ بھی ہے تو اس کا بھی نامہ اعمال سیاہ ہے ۔ 12)
جس کسی اہل محبت اختیار کرو اور اپنا کچا چٹھا اس کے سامنے رکھ دو وہ تم کو منزل مقصود پرلے جائیگا اور دشوار گھاٹیوں سے نہایت آسانی اور سہولت سے نکال لے جائے گا اسی صحبت کو مولانا فرماتے ہیں
قال رابگذراو مرد حال شو پیش مردے کاملے پامال شو
( قال کو چھوڑ کرمرد حال بن جاؤ، اور کسی مرد کامل کے آگے پامالی ہوجاؤ۔ 12)
باقی بدون راہبر کے اس طریق میں رکھنا سخت خطرہ ہے بڑی ہی نازک راہ ہے اسی کومولانا فرماتے ہیں
یا ر باید راہ راتنہا مرد بے قلاؤ زاندریں صحرا مرد
( راہ سلوک کے لئے رہبرکی ضرورت ہے ، بغیر رہبر کے اس جنگل میں تنہا مت جاؤ ۔ 12)
مگر یہ نہ سمجھا جائے کہ سب کچھ وہی کرے گا یہ بھی آج کل عام غلطی ہورہی ہے بلکہ مطلب یہ ہے کہ وہ تم کو تدابیر بتلائے گا اس لیے کہ وہ اس راہ کا واقف ہے وہ اس کو طے کرچکا ہے باقی کا م تم کوہی کرنا پڑے گا اوروہ کام اگرنفس کوشاق معلوم ہوتو اس کا سبب محبت کی کمی ہے ورنہ محبت وہ چیز ہے کہ بڑے سے بڑے مشکل کام کو آسان کردیتی ہے اور یہ سب دشواریاں ہم کو نظر آرہی ہیں وہ نہ ان کے نزدیک کون مشکل ہے پس اپنی قوت کو مت دیکھو ہم ان کے کرم پرنظر کرو پھر خود ہمت قوی ہوجائے گی اسی کو مولانا فرماتے ہیں
تو مگو مارا بداں باز نیست باکریماں کارہا دشوار نیست
( تم یہ مت کہو کہ اس شاہ تک رسائی نہیں ہوسکتی ( وہ کریم ہیں اور) کریموں کے لئے کام مشکل نہیں ہے ۔ ( وہ خود اپنی طرح کھینچ لیں گے ۔ 12)
خلاصہ یہ ہے کہ ہمارے کرنے کا جو کام ہے وہ ہم کریں اور جوان کے کرنے کا ہے وہ کریں گے اور وہ تو کریم ہیں وہ کیوں نہ کریں گے مگر طلب بھی شرط عادی ہے ورنہ سب وہی بنادیں گے خود کرنے پر یا د آٰیا کہ ایک بزرگ سے کسی نے اولاد نہ ہونیکی شکایت کی اور گنڈا مانگا بذرگ نے کہا کہ گنڈا میں دیتا ہوں مگر پیرجی کے گنڈے ہی پرمت رہنا کچھ کمر کا زور بھی لگانا تو صاحب کم ازکم طلب صادق اور خلوص توہو بدوںن اس کے کام بننا مشکل ہے ۔

(ملفوظ 247)پیری مریدی کی اچھی خاصی دکانداری :

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ آج کل پیری مریدی کا سلسلہ بھی اچھی خاصی دکانداری ہوگئی ہے میں تواسی وجہ سے بہت کم بیعت کرتا ہوں اگردیکھتا ہوں طلب صادق ہے خلوص سے بیعت کر لیتا ہوں ورنہ صاف انکار کردیتا ہوں طلب صادق ہے خلوص سے بیعت کرلیتا ہوں ورنہ صاف انکار کردیتا ہوں ان دکاندارنا اہل جاہلوں کی بدولت طریق بدنام ہوگیا اب تو خود مرید بھی ایسے پیروں کو ذلیل سمجھنے لگے میں نے ایک حیدر آباد دکن کے رئیس کے متعلق متعلق قصہ سنا ہے کہ ان کے پیر آئے نقیب تک استقبال کیا آداب بجالائے اورلاکرمسند پر، بٹھلایا مؤدب بیٹھے اور بڑی رقم خدمت میں پیش کی ظاہر میں تو یہ ٹیپ ٹلو ااور ادب احترام ، اور باطن میں یہ خیالات مگرایسے بددینوں اورجاہلوں کی یہ ہی گت بننی بھی چاہئے یہ ہی وجہ ہے کہ امراء کی نظر میں اہل دین اوراہل دین کی اوراہل علم کی بالکل تحقیر ہوگئی مگرالحمد اللہ یہاں پرآکرسب کے دماغ درست ہوجاتے ہیں میں جوبعض امراء کے ساتھ خشکی کا برتاؤ کرتا ہوں اس کی یہ ہی وجہ ہے کہ یہ دوسری جگہ کے خراب کئے ہوئے آتے ہیں سب کو ایک سا سمجھتے ہیں میں ان خردماغوں کو یہ دکھلاتا ہوں کہ اہل علم اوراہل دین میں بھی اسپ دماغ ہیں ان کی نبضیں میں اچھی طرح پہنچانتا ہوں اسی وجہ سے بدنام ہوں مگر وہ الزام رتکبر کا ہے تملق کا نہیں سو اس میں مجھ کو ایک خط اور لذت ہے ۔

(ملفوظ 246)حضرت امام ابوحنیفہ کی ذہانت (حکایت )

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ امام صاحب کی ذہانت مشہور ہے ایک مرد نے اپنی بیوی سے کہا اگرتومجھ سے صبح تک نہ بولی تو تجھ پرطلاق ہے عورت مرد سے الگ ہونا چاہتی تھی دل میں بڑی خوش ہوئی اس شخص کو بھی فکرہوئی امام صاحب کے پاس جاکر واقعہ عرض کیا آپ نے فرمایا کہ گھبراؤ مت جاؤ ہم کوئی صورت نکادیں گے یہ شخص بہت پریشان تھا کہ امام صاحب نے نہ کوئی مسئلہ بتلایا اورنہ کوئی تدبیر صبح ہونے پر معاملہ ہی ختم ہوجائےگا آخرشب میں امام صاحب نے اس ہی محلہ میں آکر تہجد کے وقت اذان دی یہ عورت سمجھی کہ صبح ہوگئی خوش ہوکر مرد سے بولی پڑی کرلیجئے صبح ہوگئی خدا تعالٰی نے مجھ کو نجات دے دی ۔ مرد بیچارے کی بری حالت ہوگئ صبح کو امام صاحب کے پاس آیا اور واقعہ بیان کیا آپ نے فرمایا کہ یہ تہجد کی اذان تھی صبح نہیں ہوئی تھی چنانچہ اس میں الصلوۃ خیرمن النوم نہیں کہا گیا تب مرد کی جان میں جان آئی اور عورت اپنا سا منہ لے کررہ گئی ایک دوسرا واقعہ ہے ایک مرد نے اپنی بیوی سے قسم کھائی کہ اگرمیں تجھ سے پہلے بولوں تو تجھ پرطلاق ۔ عورت نے قسم کھائی کہا اگر میں پہلے بولوں تو میرا فلاں غلام آزاد اس پرتمام علماء سے رجوع کیاگیا سب نے بالاتفاق یہ ہی کہا کہ دوصورتوں میں سے ایک صورت ضرور ہوگی یا طلاق یا غلام آزاد امام صاحب سے رجوع کیا فرمایا کہ جاؤ تم بولو کچھ نہ ہوگا اس کوسن کرتمام علماء چڑھ آئے اور سب کو بڑا تعجب ہوا کہ امام صاحب نے یہ فتوٰی کیسے دیا اور آکر پوچھا امام صاحب نے فرمایا کہ مرد کے حلف کے بعد عورت نے کلام میں تقدیم کی ( یعنی جب مرد نے قسم کھائی کہ اگرمیں پہلے بولوں تو تجھ کو طلاق اس پرعورت نے مرد سے کہا کہ اگرمیں پہلے بولوں توغلام آزاد تو مرد کی قسم کے بعد پہلے عورت اس سے بات کہہ کربول چکی لہذا اب جومرد بولے گا وہ عورت سے پہلے نہ ہو لہذا طلاق نہ پڑی اور جب مرد نے بول لیا تب عورت بولے گی تو غلام بھی آزاد نہ ہو ا ) 12۔ اب جومرد بولے گا توحلف کے بعد توتقدیم نہ ہوگی سب کو حیرت ہوگئی ایک اور حکایت ایک طالب علم کی ذہانت کی لکھی ہے کہ ایک حسین جاریہ فروخت ہورہی تھی ایک طالب علم شخص اس کو دیکھ کر عاشق ہوگیا مگر بیچارہ مفلس تھا اتنی وسعت اور قوت نہ تھی کہ زردے کرخرید سکے غضب کی تدبیر کی ایک امیردوست کے پاس پہنچ کر ایک جوڑا ایک گھوڑا عاریت کےکر اور چند دوستوں کے جلوس لے کر بازار کی طرف سوار ہوکر چلا جس سے معلوم ہوا کہ کوئی بہت بڑا رئیس اعظم ہے اس سودا گر کی دکان پرپہنچا اوراس سے اس جاریہ کا سوداگر صرف زر کا مطالبہ کرسکتا ہے اس کی واپسی کی کوئی صورت ہی نہ رہی ذہانت بھی عجیب چیز ہے میں تو کہا کرتا ہوں کہ ذہانت توخدا کی نعمت ہے بشرطیکہ اس کا استعمال محل پر ہو ۔

(ملفوظ 245)ٹین کے سائبان میں نماز کا حکم :

ایک صاحب نے عرض کیا کہ حضرت ٹین کے سائبان میں امام کھڑا ہوتو نماز ہوسکتی ہے نمازمیں کوئی نقص تونہیں فرمایا کیوں اس میں شبہ کیوں ہوا شبہ کی وجہ بیان کیجئے عرض کیا کہ چوبی ستون کھڑے کرکے ان میں دروازے محراب کی صورت میں بنائے گئے ہیں ، فرمایا کہ کیا ستون اس قدر موٹے ہیں کہ امام مقتدیوں کو نظر آئےگا عرض کیا کہ ستون تو پتلے ہیں فرمایا کہ پاؤں اگرامام کے باہر ہوں محراب سے توجائز ہے ہاں موٹے موٹے ستون جو ساترد چھپانیوالے ہوں امام کے لئے وہاں کھڑا ہونا نہیں چاہئے ۔

(ملفوظ 244)انگریزی تعلیم کی خرابیاں :

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ یہ عورتیں آج کل انگریزی پڑھتی ہیں یہ مردوں کے بھی زیادہ آزاد ہوجاتی ہیں وجہ یہ کہ کم عقلی ہوتی ہیں اس لئے زیادہ برباد ہوتی ہیں اور مرد بھی کافی پیمانہ پرانگریزی پڑھ کر خراب ہوجاتے ہیں اسی لئے میں توکہا کرتا ہوں فتویٰ دیتا ہوں کہ جہاں داماد کا حسب نسب دیکھا جاوے وہاں ایمان بھی دیکھا جاوے اب تو وہ زمانہ ہے کہ ایمان ہی لالے پڑگئے یہاں پرقصبہ میں ایک لڑکی ہے اس کا نکاح ایک شخص سے دوسرے قریب کے قصبہ میں ہوا ہے اس شخص کا وعقیدہ سنیے کہتا ہے کہ حضور کو پیغمبر کہنا یہ ایک مذہبی خیال ہے البتہ یہ میں بھی مانتا ہوں کہ وہ بہت بڑے ریفارمرتھے اور جو باتیں اس وقت کے مناسب تھیں حضور نے تعلیم فرمائیں مگر حضور لوگ نادان اب تک بھی ان ہی باتوں کے لکیر کے فقیر بنے ہوئے ہیں اور اس سے کوئی یہ نہ سمجھے کہ میں حضور کی توہیں کرتا ہوں نہیں نہیں میں آپ کی بڑی قدر کرتا ہوں مگر نبوت کا خیال یہ محض ایک مذہبی خیال ہے یہ تو خیالات ، اور لڑکی نکاح میں سمجھی جاتی ہے دھڑا دھڑ ہورہی ہے حالانکہ نکاح رخصت ہوچکا یہ ہے اس انگریزی پڑھنے والوں کا رنگ ۔

(ملفوظ 243)دیہات میں جمعہ کا جواز پوچھنے والے سے عجیب سوال :

فرمایا کہ ایک شخص نے بذریعہ خط دریافت کیا ہے کہ دیہات میں جمعہ جائز ہے یا نہیں میں نے آج عجیب جواب لکا ہے یہ لکھ دیا ہے کہ کون سے امام کے نزدیک اب بڑا گھبراوے گا اگر میں لکھتا کہ جائز نہیں تو چونکہ وہ میرا فتویٰ ہوتا سائل بڑی گڑبڑ کرتا اب ایک امام کا قول نقل کردوں گا اور اب چونکہ اس نے کسی امام کو قول دریافت نہیں کیا اس لئے نہیں لکھا اسی جواب کی نظیر ایک دوسرا جواب یاد آیا ایک شخص نے لکھا تھا کہ یہ چھوٹی قومیں کیوں ذلیل ہیں میں نے لکھا کہ دنیا میں یا آخرت میں پھر خط آیا جس میں لکھا شافی جواب نہ ملا اورکچھ اعتراضا بھی لکھا میں نے لکھ دیا کہ جہاں سے شافی جواب ملے وہاں سے منگا لولوگ اپنا تابع بنانا چاہتے ہیں ہم سے خدمت لینے کا توحق ہے مگر حکومت کرنے کا حق نہیں ۔

(ملفوظ 242) اللہ تعالٰی کی تھوڑی محبت بھی بڑی نعمت ہے :

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ ایک صاحب لکا تھا کہ مجھ کو اللہ تعالی سے محبت تو ہے مگر اس درجہ کی نہیں جس درجہ آپ سے تعلق رکھنے والوں میں دیکھتا ہوں میں نے لکھا کہ نہ سہی اس درجہ کی مگر ہے تو سہی بلابودے اگرایں ہم نہ بودے ۔ انسان موجود کا شکر نہیں کرتا مفقود پرنظر کر کے ناشکری کرتا ہے اس کی بلکل ایسی مثال ہے کوئی شخص کہے کہ میرے پاس غلہ توہے مگراتنا نہیں جتنا پڑوسی کے یہاں ہے اس میں تو موجود پرشکرنہ ہوا۔

(ملفوظ 241) طریق الاصلاح :

ملقب بہ طریق الاصلاح ) فرمایا ک ایک مولوی صاحب کا خط آیا ہے لکھا ہے کہ میرے کاموں میں نظم نہیں ہے ( یعنی انتظام نہیں ) میں نے لکھ دیا کہ نثر یعنی پراگندی کی وجہ سے مشقت زیادہ ہوتی ہے جس پرزیادہ ثواب کی امید ہے پھر فرمایا کہ نظم اور نثر میں کیا رکھا ہے آدمی کو کام کرنا چاہئے حضرت مولانا محمد یعقوب صاحب رحمتہ اللہ سے ایک شخص نے شکایت کی کہ مجھ سے دوام نہیں ہوتا عجیب جواب فرمایا کہ یہ بھی ایک قسم کا دوام ہے کہ کبھی ہوگیا اور کبھی نہیں اس مجموعہ پرتودوام ہے مگر اس پر ایک طالبعلمانہ شبہ ہوتا ہے وہ یہ کہ جودوام مطلوب ہے ، وہ یہ تو نہیں اس کا جواب یہ ہے تحقیقی نہیں معالجہ کبھی غیرت حقیقت سے بھی ہوتا ہے اور اس کو طبیب ہی سمجھ سکتا ہے کہ مریض کے لئے کونسی تدبیر نافع ہوگی اور ہرشخص کے لئے جدا تدبیر ہوتی ہے معالج مریض کی خصوصیت طبیعت سے سمجھ گئےکہ اس کا علاج اس عنوان سے ہوجاوے گا اوراس مجموعہ کو دوام کہہ دینے سے دوام مطلوب بھی میسر ہوجائےگا یہ ایک طریق ہے طالب کولے کرچلنے کا تاکہ ہمت نہ ہارجائے اوریہ سب باتیں مصلح ہی سمجھ سکتاہے اس ہی لئے میں کہا کرتا ہوں کہ اس فن کی مثال بالکل طب نفع ہوجاتا ہے گواس کا مضمون متحقق نہ ہو یہ مسئلہ حدیث سے ثابت ہے کہ حضورﷺ نے بھی بہت جگہ عنوان سے کام لیا ہے معنون سے قطع نظرکرکے چنانچہ عبداللہ بن ابی کے جنازہ پرنماز پڑھنے کے وقت حضرت عمر نے یہ آیت پیش کرکے شبہ کیا ہے ، استغفرلھم اولا تستغفرلھم ان تستغفرلھم سبعین مرۃ فلن یغفراللہ لھم ( آپ خواہ ان کے لئے استغفار کریں یا ان کےلئے استغفار نہ کریں اگرآپ ان کے لئے ستر بار بھی استغفار کریں گے تب بھی اللہ تعالٰی ان کو نہ بخشے گا ۔12) آپ نے ارشاد فرمایا خیرنی فاخترت اور فرمایا سازید علی السبعین ( مجھ کو اختیار دیا گیا ہے لہذا ایک مشق کو میں نے اختیار کرلیا ) حضور نے یہاں پر محض الفاظ سے تمسک کیا اورمعنی کی طرف التفات نہیں فرمایا بلکہ فرط رحمت کی وجہ سے صرف الفاظ سے تمسک کیا اس سے معلوم ہوا کہ بعض دفعہ مصلحت دینیہ سے محض عنوانات سے کام لینا بھی سنت سے ثابت ہے خلاصہ یہ ہے کہ عنوان کو بعض آثار میں بڑا دخل ہوتا ہے اس کی تائید میں ایک قصہ بیان کرتا ہوں میں ایک مرتبہ سخت بیمارہوگیا ایک طبیب کے پاس قارورہ بھیجا قارورہ دیکھ قارورہ لے جانے والا سے کہا کہ یہ شخص زندہ کیسے ہے اس کی حرارت عزیزیہ توبالکل ختم ہوگئی ہے اس نے آکر مجھ سے کہا مجھ بہت بڑا اثر ہوا میں نے اس سے کا یہ کیا بیہودگی ہے تم نے مجھ سے کیوں کہا اس نے غلطی ہوگئی میں نے کا اس کا تدارک بتاؤ اس نے تدارک پوچھا میں نے کہا واپس جاؤ اور آکر مجھ سے یوں کہو کہ حکیم صاحب نے کہا ہے کہ اس وقت میں نے غور نہیں کیا تھا اچھا خاصہ قارورہ ہے وہ واپس گیا اور آکر میرا سکھایا ہوا مضمون مجھ سے نقل میں نے ہی سکھا کر بھیجا ہے اور میرا ہی مضمون مجھ سے نقل کیا ہے تویہ عنوان ہی کا اثر تھا جو معنون سے بالکل خالی تھا اور ایک واقعہ اس کی تائید میں یاد آیا ۔ ریاست رام پورمیں ایک درویش تھے ان پرایک قبض کا حال طاری ہوا اس سے وہ اپنے کو یون سمجھنے لگے کہ توشیطان ہے اور تومردود ہوچکا اس حالت میں وہ درویش ایک مولوی صاحب کے پاس آئے یہ مولوی صاحب شیخ بھی تھے مولوی صاحب اس وقت درس میں مشغول تھے دریافت کیا کو ن کہا کہ شیطان مولوی صاحب نے بلاکیس خیال کے لاحول ولاقوۃ الا بااللہ العلی العظیم پڑھ دیا یہ سن کروہ دریش چل دیئے اور اپنے حجرہ پرپہنچ کر مرید سے کہا کہ میں مردود ہوں شیطان ہوں میں اپنے کو دنیا سے مٹانا چاہتا ہوں اور صورت یہ ہے کہ میں اپنی گردن الگ کرتا ہوں اگر کچھ کھال الجھی رہ جائے اس کو تو الگ دینا اور اس کے بعد درویش خودکشی کرکے ختم ہوگئے ، ایک مولوی مظہر تھے جوموجز میں میرے ہم سبق تھے انہوں نے یہ واقعہ حضرت مولانا محمد یعقوب صاحب رحمہ اللہ کی خدمت میں بیان کیا حضرت مولانا نے سن کر فرمایا کہ ہم تو ان مولوی صاحب سمجھتے تھے مگر معلوم ہوا کہ کچھ بھی نہیں اگرمیرے ساتھ یہ معاملہ پیش آتا تومیں کہا کہ پھر گھبرانے کی کیا بات ہے شیطان ہی ہوتو کیا ہے شیطان بھی تو انہیں کا ہے تو نسبت تو اب بھی قطع نہیں ہوئی تو اس سے قبض ختم ہوجاتا اس میں یہ سوال ہوتا ہے کہ یہ نسبت جو شیطان کو حاصل ہے کیسی ہے بظاہر ہے کہ تکوینی ہے جو کہ مطلوب نہیں اور وہ نسبت رضا کی نہیں جو کہ مطلوب ہے تواس سے قبض کیسے رفع ہوجاتا ہے تو اس کا حل بھی یہی ہے کہ مولانا کو بصیرت سے معلوم ہوگیا کہ اس عنوان ہی سے علاج ہوجاتا اس ہی لئے اس طریق میں شیخ کامل کی ضروت ہے یہ شان ہمارے حضرات کی تھی بڑے بڑے مایوس العلاج کامیاب ہوکر نکلتے تھے یہ حضرات حکیم تھے اس عنوان پرایک حکایت یاد آئی ایک بادشاہ نے خواب دیکھا کہ میرے سب دانت ٹوٹ گئے کسی معبر کو بلا کرتعبیر دی کہ آپ کا سب خاندان آپ کے سامنے مرجائےگا بادشاہ یہ سن کر برہم ہوا اور معبرکو نکلوادیا اسکے بعد ایک دوسرے معبر کوبلوایا اورخواب بیان کیا تعبیر چاہی انہوں نے ی تعبیردی کہ آپ کی عمر آپ کے سب خاندان سے بڑی ہوگی اس پر بادشاہ خوش ہوا اور یہ کہا کہ بات وہی ہے صرف عنوان کا فرق ہے مگر اس سے طبیعت پرکوئی گرانی نہیں ہوئی اور اس کو خلعت دے کر نہایت عزم واحترام سے رخصت کیا اسی پرایک تفریح کرتا ہوں اگر کسی لڑکے کو کہئے اومرغی ک بچے آگ ہوجائے گا برہمی پیدا ہوجائے گی اور اگریوں کہا جائے کہ او چوزہ خوش ہوجائے گا حالانکہ مرغی کے بچے ہی کو چوزہ کہتے ہیں اور مثال لیجئے ایک عورت کوئیں پر پانی بھررہی ہے تین مسافر آ پہنچے ان میں سے ایک شخص پہنچتا ہے اور کہتا ہے کہ اماں پانی پلادو پانی پلائیگی دعائیں دیگی دوسرا شخص آتا ہے میرے باپ کی جورو پانی پلادے تو گالیاں سنائے گی تیسرے نے کہا اے وہ عورت جومیرے باپ سے ایسا کراتی ہے پانی پلادے یہ سن کراتنا غصہ آوے گا کہ اگر قدرت ہوتو قتل کردے حالانکہ اماں اور باپ کی جورو اورمیرے باپ سے ایساویسا کرانے والی سب کے ایک ہی معنی ہیں صرف عنوان کا فرق ہے پس جولوگ نرے الفاظ پرست ہیں اور حقائق کو نہیں جانتے انکو ان چیزوں کی کیا خبر وہ بجز بزرگوں پراعتراض کرنے کے کیا سمجھ سکتے ہیں ان باتوں کے سمجھنے کے لئے بڑے فہم کی ضرورت ہے اور یہ نصیب ہوتا ہے کسی کی صحبت میں رہنے سے اور اسی کا آج کل قحط ہے حق تعالیٰ فہم سلیم عطاء فرمائیں ۔

(ملفوظ 240)سرکاردوعالم ﷺ کی انوکھی شان :

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ جناب محمدالرسول اللہ ﷺ چونکہ ہمارے ہیں اس لئے ہم کو حضور کی شان انوکھی نہیں معلوم ہوتی مگر جب دوسرے مذاہب کے آدمی غورکر کے دیکھتے ہیں تو ان کو حضور کے حالات پربڑا تعجب ہوتا ہے اور واقعی ہیں عجیب حالات اورکیسے نہ ہوں آخرمامورمن اللہ ہیں اور خاتم نبوت ہیں عالم کی آفرینش کے سبب آپ ہی ہیں سب کچھ آپ ہی کی ذات مبارک کیلئے پیدا کیا گیا اورآپ ہی کی شان یہ ہے
لا یمکن الثناء کما کان حقہ بعد از خدا بزرگ توئی قصہ مختصر
( جو ثناء آپ کی شان کے لائق ہے وہ توہم سے ممکن ہی نہیں ، بس مختصر طور پرکہ سکتے ہیں کہ اللہ تعالی کے بعد آپ ہی کا ردجہ ہے ۔ 12)

(ملفوظ 239)آداب معاشرت کو عوام نے دین نہیں سمجھا :

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ معاشرت توآج کل لوگوں کی نہایت ہی گندی اور خراب ہے شریعت مقدسہ نے ہمارے ہرمعاملے اور ہرقسم کے فعل وقول کی تعرض کیا ہے آزاد نہیں چھوڑا پرچیز کے متعلق تعلیم ہے اور اس کا مکمل قانون ہے مگر آداب معاشرت کو لوگوں نے دین کی فہرست ہی سے نکال دیا ہے سمجھتے ہیں کہ نماز ورزہ حج زکوۃ ذکروشغل تلاوت قرآن نفلیں ان چیزوں کے متعلق احکام ہیں آگے جوکچھ چاہیں کرتے پھریں جس کے معنی آج کل آزادی ہیں سو خوب یادرکھو کہ تم ہرگزہرگز آزاد نہیں چھوڑا گیا مثل بھینسے اور سانڈ کے جس کے گیہوں چاہیں کھالیں اور جس کے چنے چاہیں کھالیں ہوہم کو ایسا نہیں چھوڑدیا گیا بلکہ شریعت نے ہماری رفتار گفتار نشست وبرخاست لین ودین کھانے پینے وغیرہرچیز سے تعرض کیاہے اوراس کے متعلق شریعت میں مکمل قانون ہے مگراب تویہ ہوگیا ہے کہ ہاتھ میںتسبیح لے لی ٹخنوں سے اونچا پاجانہ اور گھٹنوں سے نیچاکرتا پہن لیا اوراشراق وچاشت اور تہجد کی نفلیں پڑھ لیں بس ہوگئے کامل مکمل مگر کم بل نہ ہوئے ـ( یعنی بل کم نہ ہوئے ) بلکہ زیادہ ہی بل رہے انکسار نہیں عجز افتقار نہیں خلاصہ یہ ہے عبدیت نہ پیدا ہوئی وہی تیلی کے بیل کی طرح تمام دن چلا مگررہا وہیں بڑے بڑے کوئی مولانا ہیں کوئی مقتدانا ہیں کوئی شیخ المشائخ ہیں کوئی صوفی ہیں ایسی مثال ہے کہ جیسے لفافہ پر پتہ توبڑے جلی قلم سے خوشخط عربی میں لکھا ہوا ہے مگر اندرکام کا مضمون ندارد اسی کوایک بزرگ فرماتے ہیں
از بروں چوں گور کافرپرحلل واندروں قہر خدائے عزوجل
از بروں طعنہ زنی بربایزید ورد رونت ننگ می واردیزید
( ظاہری حالت توایسی ہے کہ حضرت بایزید پربھی طعن کرتے ہو اورباطنی حالت ایسی گندی کہ یزید بھی تم سے شرماوے ۔ 12)
17/ ربیع الاول 1351ھ مجلس عبد نماز ظہر یوم شنبہ