(ملفوظ 238) عملیات میں عامل کی قوت خیال کوبڑا دخل ہے :

ایک صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ جی ہاں عملیات میں تھوڑا تھوڑا دونوں کا اثرہوتا ہے یعنی خود الفاظ کا بھی اورعامل کے خیال کا بھی مگریہ ممکن ہے کہ ایک کا زیادہ اورایک کا کم ہوتا ہو باقی تجربہ یہ ہے کہ عامل اگربددلی یا بے توجہی سے تعویذ لکھے تواثر نہیں ہوتا عامل کی قوت خیالیہ کو اس میں داخل ہے اور کبھی بدون ان اسباب کے بھی کام چل جاتا ہے چنانچہ میرے ایک دوست ہیں ان کی لڑکی پرآسیب کا اثر ہوا میں نے اطلاع ہونے پربجائے تعویز لکھ کردینے کے ایک مضمون پرچہ پرلکھ دیا کہ اس جن کو یہ مضمون دکھلا دینا اس پرچہ کا مضمون یہ تھا کہ اگر تم مسلمان ہوتو میں تم کو قرآن وحدیث ک وہ عیدیں جو کسی مسلمان کے ستانے پروارد ہیں یاد دلاتا ہوں اوراگرتم کافرہوتو ہم اول صلح کی درخواست کرتے ہیں اوراگرصلح منظور نہیں تو جنگ کی صورت میں گومیرے پاس کوئی سامان مقابلہ کا نہیں مگر بحمداللہ مسلمانوں میں ایسے لوگ موجود ہیں کہ جوتمہاری کافی طرح پرخدمت کریں گے پرچہ پہنچنے پرمعلوم ہوا کہ اس پرچہ کے مضمون کو پڑھ کریہ کہا کہ اب ہم جاتے ہیں اس لئے کہ یہ ایسے شخص کا رقعہ نہیں ہے کہ جس پرخیال نہ کیا جاوے خاموشی سے سلام کرکے رخصت ہوا تو ان میں بھی ہرقسم کی طبائع کے ہوتے ہیں شریف بھی اور شریر بھی یہ بیچارے کوئی شریف ہوں گے ۔

(ملفوظ 237)تعویذ گنڈوں میں عوام کا غلو:

ایک سلسلہ گفتگومیں فرمایا کہ آج کل تعویذگنڈوں کے باب میں عوام عقائد میں بہت غلو ہوگیا ہے خصوص دیہاتی لوگ توہرمرض کو آسیب ہی سمجھتے ہیں اگریہی تعویزوں کی رفتار رہی توشاید آگے چل کرنکاح بھی نہ کیا کریں گے تعویزہی سے اولاد حاصل کرنیکی کوشش کریں گے ایک شخص نے مجھ سے کہا کہ میرے اولاد نہیں ہوتی تو تعویز دیدو میں نے کہا ہیں میں ان تعوہزات گنڈوں سے بڑاگھبراتا ہوں اس قطعا مناسبت نہیں ۔

(ملفوظ 236) فضول تحقیقات کی مثال :

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ فضول تحقیقات میں رکھا ہے آدمی کو عام کرنا چاہئے کام کرنے والے کبھی عبث اور فضول چیزوں کو پسند نہیں کرسکتے اور فضول تحقیق کی بالکل ایسی مثال ہے جیسے کوئی شخص کسی کے یہاں مہمان بن کرجائے اوروہ اس کی تحقیق شروع کرے کہ کھانا کہاں پکتا ہے ۔ پکانے والا کون ہے ۔ نمک مرچ گرم مصالحہ گھی آٹا کہاں سے آیا اور کون لایا اور کتنا کتنا آیا ۔ چولہے میں اپلے جلتے ہیں یا لکڑیاں اور جلتے ہیں تو کیسے دھواں کہاں جاتا ہے ارے بندہ خدا تجھے ان بکھیڑوں سے کیا غرض ہے کھانا پک کرسامنے آجاوے گا کھالینا کیوں وقت بیکار کھویا اگرکچھ بھی نہ معلوم ہو مگر کھانا ہواور برف کا پانی ہوہواکے پنکھے ہوں فرش ہواور ایک کمرے میں بٹھلا کرسب چیزیں سامنے رکھدی جائیں بس کھا کرالگ ہویا مثلا کسی نے آم کھانے کودیا اب اس کی تحقیق کرنا کہ اس آم کا کس قدر وزن ہے کتنا لمبائی ہے اس سے ملطلب ہی کیا کہا کیوں نہیں لیتا مثل مشہور ہے کہ آم کھانے سے غرض پیڑ گننے سے کیا کام ، مثلا یہ خبط نہیں تو اور کیا ہے کہ مریخ ستارے کی تحقیق میں سرگرداں ہیں اورجن کے بنائے ہوئے ہیں ان کی کچھ بھی تلاش اورفکر نہیں یہ سب غفلت آخرت کے دن کو کھٹلانے کی بدولت ہے جس کی نسبت حق تعالٰی فرماتے ہیں ۔ ونفخ فی الصور فصعق من فی السموات ومن فی الارض الایۃ ( اورصورتیں پھونک ماری جاویگی سوتمام آسمان اورزمیں والوں کے ہوش اڑجاویں گے ) اورفرماتے ہیں یقول الانسان یومئذ این المفرکلا لا وزرالی ربک یومئذن المستقر ( اس روز انسان کہے گا کہ اب گدہر بھاگو ہرگز نہیں کہیں پناہ کی جگہ نہیں اس دن صرف آپ ہی کے رب کے پاس ٹھکانا ہے ۔12) تو فکر اور تحقیق کی چیز تویہ ہے کہ یہ واقعات ہوں گے پھران واقعات کے متعلق کوئی فضول سوالات کرنے لگے مثلا کوئی موت کی تحقیق کرے کہ کس طرح آئے گی جان کس طرح نکلے گی تواس سے بھی کوئی فائدہ نہیں ارے بھائی ایک دن مروہی گے جب موت آوے گی مرجائیو جب تک زندہ ہوزندہ رہو کس قدرغضب اور ظلم کی بات ہے کہ مریخ کے سفر میں مرجانے کو ترقی اور ہمت س تعبیر کرتے ہیں اور جوخدا کے نام پرجان دے اس کو وحشیانہ حرکت بتلاتے ہیں سمجھنے کی بات ہے کہ ثمرہ اور غایت بھی ہے اس پرجان دینا وحشیانہ حرکت ہے یا مریخ ستارے کی تحقیق پر جان دینا جس کا ثمرہ نہ غایت یہ وحشیانہ حرکت ہے جوچیز کام کی تھی یعنی روحانیات اور علوم ان سے تو یہ لوگ بالکل کورے ہیں صرف مادیات میں ایک درجہ تک کامیاب ہیں کمال اس میں نہیں اور نہ کمال حاصل کرسکیں گے کہ موت آدبائیگی اور بلکل بے سرسامان آخرت میں جاپہنچیں گے یہاں ہی کرلیں جوکچھ کرنا ہے ایسے ہی لوگوں کے حق میں حق تعالیٰ فرماتے ہیں : ربما یودالذین کفروا لوکانو مسلمین ذرھم یاکلوا و یتمتعو ا ویلھھم الامل فسوف یعلمون ( کافرلوگ باربار تمنا کریں گے کہ کیا خوب ہوتا اگر وہ مسلمان ہوتے آپ ان کوان کے حال پر رہنے دیجئے کہ وہ کھالیں اورچین اڑالیں اورخیالی منصوبے انکو غفلت میں ڈالے رکھیں ان کو ابھی حقیقت معلوم ہوئی جاتی ہے ۔ 12) اور بفضلہ تعالٰی ان کی یہ تحقیقات اسلام کے لئے حال میں بھی مضرنہیں بلکہ اکثر میں اسلام کی تائید ہوگئی مثلا جس روز یہ لوگ مریخ ستارے میں پہنچ جائیں گے ہم کہیں گے حدیث میں جوسات زمینیں آئی ہیں ممکن ہے ان میں سے ایک زمیں یہ بھی ہوغرض ہماری نصوص کی گاڑی کہیں نہیں اٹکتی اورمثلا اگر وہاں آبادی کا مشاہدہ ہوجائے توہم اس آیت کی ومن آیاتہ خلق السموات والارض وما بث فیھما من دابۃ ( اور منجملہ اسکی نشانیوں کے پیدا کرنا ہے آسمانوں کا اور زمیں کا اور ان جانداروں کا جواس نے زمیں وآسمان میں پھیلارکھے ہیں ۔ ) کی سہل تفسیر کردیں گے جس میں فیھما اپنے متبادرمعنی پررہے گا فی مجموعہما کی ساتھ تفسیر کی ضرورت نہ رہے گی ۔

(ملفوظ 235)غیرمحقق مشائخ کا حال :

ایک صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ آج کل کے غیرمحقق مشائخ وہی مرغے کی ایک ٹانگ متقدمیں کے زمانہ کی تعلیم اور دو مجاہدات کے متعلق طالبوں کودئے چلے جاتے ہیں کچھ خبر نہیں کہ طالب کو فرصت کتنی ہے جسمانی قوت کا کیا حال ہے اور نہ یہ خبر کہ یہ کام کر بھی سکتا ہے اور نہ یہ معلوم کہ اس کی مناسبت کس چیز سے ہے یعنی اس کے لئے ذکروشغل کی کثرت مناسب ہے یا تلاوت قرآن کی کثرت حالانکہ شیخ کو مبصر ہونا چاہئے اس کی تشخیص اور تجویز طبیب حاذق کی طرح ہونا چاہئے مثلا آج کل قویٰ کمزور ہیں اس لیے کم کھانا کم سونا کسی طرح مناسب نہیں اس سے اندیشہ ہے تندرستی خراب ہوجانے کا میرے یہاں بحمداللہ ہرشخص کی حالت لے موافق تعلیم ہوتی ہے شاق تعلیمات پہلے لوگوں کے واسطے ہوتی تھیں وہ قوی تھے ان کے قویٰ اس قسم کے مجاہدات برداشت کرسکتے تھے اب برداشت نہیں کرسکتے نہیں تو ایسی حالت میں آدمی کیوں اس قدرمشقت میں پڑے حق تعالٰی فرماتے ہیں لا یکلف اللہ نفسا الاوسعہا اور فرماتے ہیں کلوا من طیبت مارزقنکم خوف کھاؤ پیو اور نیک کام کرو ۔

(ملفوظ 234)دروحاضرمیں عملیات میں غلو:

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ آج کل لوگوں کو عملیات کے باب میں اس قدر غلوہے کہ مجموع العزائم بنے ہوئے ہیں ان چیزوں میں پڑکرمقصود سے بہت زیادہ جا پڑے اس لئے کہ اصل مقصود اصلاح نفس وانسداد رذائل ہے مگر اس کی بلکل پرواہ نہیں محمد غوث گوالیری نے موکل تابع کررکھے تھے ایک بار ان کو حکم دیا کہ شاہ عبدالقدوس صاحب رحمتہ اللہ کو جس حالت میں ہوں لے آؤ ہم زیارت کریں گے شاہ عبدالقدوس صاحب رحمتہ اللہ تہجد سے فارغ ہوکر مراقب بیٹھے تھے افاقہ جوہوا دیکھا کہ موکل سامنے کھڑے ہیں دریافت کیا کہ تم کون ہو عرض کیا کہ موکل ہیں اورمحمد غوث صاحب گوالیری کے بھیجئے ہوئے وہ مشتاق زیارت ہیں اگر اجازت ہو ہم حضرت کو بہت آرام سے وہاں پرلے چلیں فرمایا کہ انہی کویہاں پرلے آؤ ، وہ موکل لوٹ گئے اور محمد غوث صاحب کو پکڑ کرلے آئے ان کو تعجب ہوا کہ قاعدہ سے تابع تو میرے اور اطاعت کی شیخ کی حضرت شاہ عبدالقدوس صاحب رحمتہ اللہ علیہ نے ان کو نصیحت کی کہ کس خرافات میں مبتلا ہو انہوں نے توبہ کی اور حضرت شیخ سے باطنی تعلق پیدا کیا بس یہ حقیقت ہے ان عملیات کی ایک مرتبہ میں نے طالب علمی کے زمانہ میں حضرت مولانا محمد یعقوب صاحب رحمتہ اللہ سے عرض کیا کہ حضرت کو ئی ایسا بھی عمل ہے کہ جس سے موکل تابع ہوجائیں فرمایا ہے تومگر یہ بتلاؤ کہ تم بندہ بننے کے لئے پید اہوئے ہو یا خدائی کرنے کےلئے بس مولانا کا اتنا کہتا تھا کہ مجھکو بجائے اشتیاق کے ان عملیات سے نفرت ہوگئی حضرت مولانا فضل الرحمن صاحب گنج مراد آبادی کے ایک مرید کو یہ وسوسہ تھا کہ حضرت عمل پڑھتے ہوں گے جس کی وجہ سے اس قدر معتقدین کا ہجوم ہے آپ کو اس خطرہ پراطلاع ہوگئی فرمایا کہ ارے معلوم بھی ہے کہ ان عملیات سے نسبت باطنی سلب ہوتی ہے قربان جایئے حضوراقدسﷺ کے کہ ان سب فضولیات سے بچاکر ہم کو ضروری چیزوں کی طرف لائے میں نے ان چیزوں کے عاملوں کو دیکھا ہے کہ ان میں کوئی باطنی کمال نہیں ہوتا بلکہ اور ظلمت بڑھتی ہے الحمداللہ مجھے مولانا کے ارشاد کے بعد عملیات سے کبھی مناسبت نہیں ہوئی۔

(ملفوظ 233)انسان حیوان عاشق ہے:

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ طالب علمی کے زمانہ میں میں نے انسان کی (مراد مومن ہے ) بجائے حیوان ناطق کے دوسری تعریف کی تھی جومومن کے ساتھ خاص ہے حیوان عاشق یہ عشق ہی ہے کہ ملائکہ تک پراس کو شرف حاصل ہے ۔

ملفوظ (232) عدم مناسبت سے اصلاح نہیں ہوسکتی :

ایک نووارد صاحب سے حضرت والا نے دریافت فرمایا کہ کچھ کہنا ہے عرض کیا کہ اس وقت توکچھ کہنا نہیں کوئی تنہائی کا وقت مل جائے تو اس وقت عرض کروں گا فرمایا کہ تنہائی کا وقت میرے پاس نہیں نہ اتنی فرصت اس کی دوسری صورت یہ ہے کہ مجھ کوایک پرچہ لکھ کر دیدو اس کو میں ہی پڑھوں گا یہ بھی تنہائی ہی ہے عرض کیا کہ لکھ کربکس میں ڈال دوں فرمایا تم کواختیار ہے میں نے ایک صورت سہل تم کوبتلادی ہے یہ فرما کردریافت فرمایا کہ میں نے تم کو پہچانا نہیں اور نہ تم نے خود ہی کوئی تعارف کرایا عرض کیا کہ میں سہارنپور کے قریب ایک گاؤں ہے وہاں کا رہنے والا ہوں ۔ دریافت فرمایا کہ اس کا کچھ نام نہیں یہ گول مول اور ادھوری باتیں کیوں کرتے ہو کیا اس سے اذیت نہیں ہوتی کیا بدفہمی کا کوئی خاص مدرسہ ہے کہ تم لوگ وہاں تعلیم پاکر آتے ہو اور یہ بتلاؤ کہ اس آنے سے قبل کبھی خط وکتابت بھی تم نے مجھ سے کی یا نہیں ۔ عرض کیا کہ ایک خط بھیجا تھا اس کا جواب مجھ کو ملا وہ مکان پر بھول آیا۔ فرمایا کہ تمہاری طلب کا حال تو اسی سے معلوم ہوگیا معلوم ہوتا ہے کہ تم میں بے فکری کا بھی مرض ہے عرض کیا کہ راستے میں آکر یاد آیا فرمایا کہ اگر فکر ہوتی تولوٹ کرجاتے اورلیکر آتے عرض کیا کہ اس خیال سے نہیں لوٹا کہ نہ معلوم پھرکب جانا ہو ، فرمایا کہ اب یہ سوال ہے کہ گھرس لے کر کیوں نہیں چلتے تھے کیا اچھا عزر ہے کبھی ایسا بھی ہوا ہے کہ غسل خانہ میں نہانے گئے ہوا اور پاجامہ بھول آئے ہو اور ننگے آکھڑے ہوئے ہو ہم توجب جانیں کہ کوئی ملازمت کو جائے اور سرٹیفیکٹ گھر بھول آئے اس تمام بے فکری کی مشق دین ہی پرہوتی ہے پھر دریافت فرمایا کہ اور آئے کب تھے عرض کیا گیارہ بجے والی گاڑی فرمایا کہ اس وقت ملے تھے عرض کیا کہ نہیں دریافت فرمایا کہ کیوں عرض کیا کہ یہ خیال ہوا کہ شاید سونے کا وقت ہو فرمایا کہ ملنے میں کتنی دیر لگتی ہے عرض کیا کہ تھوڑی سی ، فرمایا کہ اس سے تمہاری آدمیت کا پتہ چلتا ہے تم مجھ سے بلکل مناسبت نہیں اب میں کہتا ہوں کہ تم پرچہ بھی نہ ڈالنا جواب نہ ملے گا عرض کیا کہ غلطی ہوئی فرمایا کہ غلطی ہی کا درجہ بتلارہا ہوں خدانخواستہ انتقام تھوڑا ہی لے رہاہوں میں تم کو کسی مصلح کا پتہ بتلادوں اگا اگر پوچھو گے یہ اس وجہ سے کہ اصلاح فرض ہے اور مجھ سے تمہاری اصلاح ہونہیں سکتی جس وجہ سے عدم مناسبت ہے چنانچہ اسی تھوڑی سی دیر میں تین باتیں ثابت ہوئیں ۔ طلب کی حقیقت بے فکری ۔ آدمیت اس لئے تم کو دوسری طرف رجوع کرنا چاہئے جس سے مناسبت ہو پھر فرمایا کہ میں جودوسرے کے سپرد کرنے کو کہتا ہو تو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ یہ عتاب اور اس کا اثر ہے حالانکہ نہ عتاب ہے ، نہ اس کا اثر تو صرف یہ ہے کہ زبان سے شکایت کرلیتا ہوں اور باقی سپرد کردینا یہ مصلحت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ اس طریق میں معلوم کا انقباض سد عظیم ( بڑی رکاوٹ) ہے انقباض کی حالت میں کوئی نفع نہیں ہوسکتا اور اس کا سبب عدم مناسبت ہے جب تناسب نہیں خاک نفع نہیں ہوسکتا جب نفع نہیں تو کیوں میں اس کو مجبور کروں اور کیوں خود پریشانی اور کلفٹن اٹھاؤں اٹھاؤں ہوتو ان چیزوں کو بھی برداشت کروں اس لئے دوسروں کے سپرد کردیتا ہوں جہاں انقباض نہ ہو۔

(ملفوظ 231 )اعتدال مطلوب ہے :

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ جی یوں چاہتا ہے کہ کوئی چیز اپنی حد سے نہ بڑھے اہل تحریکات کی طرح اپنی غرض پورا کرنے کے لئے احکام کو خدانخواستہ بدلنا تھوڑا ہی گوارا ہوسکتا ہے مجھ کو تو دوسروں کی ایسی حرکتیں سن کر غیرت آتی ہے خود توکیا ایسی باتیں کرتا جیسے بعضے فرمائش کرتے ہیں ۔
16/ ربیع الاول 1351ھ مجلس بعد نماز جمعہ

(ملفوظ 230)کسی مدرسہ کے مہتمم کے اختیارات محدود کرنا مضرتوں کا پیش خیمہ ہے :

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ فلاں مدرسہ کے مہتمم کے اختیارات کو محدود کرنا بڑا ہی زبردست مضرتوں کا پیش کا خیمہ ہے جس کا نتیجہ آگے چل کر معلوم ہوگا میں نے ایک صاحب سے مدرسہ کے انتظام کے متعلق کہا تھا کہ اگر مجھ کو کامل اختیارات ہوتے تو میں اول کیا کرتا مہتمم صاحب کے ذریعہ سے واقعات معلوم کرتا اور بعد جو انتظام خود اپنی سمجھ میں آتا وہ کرتا اور اگر تردد رہتا تو سارے ہندوستان میں اشتہار دیکر علماء و عقلاء سے مشورہ لیتا اس صورت میں تمام لوگوں مدرسہ سے عشق ہوجاتا اوریہ سمجھتے کہ یہ جمہوریت صحابہ جیسی ہے کہ رائے سب کی اور حکومت ایک کی تدابیر تو سب ذہن میں مگر کوئی کرنے بھی دے اور اب تو کچھ ایسا انقلاب ہو ہے کہ پرانے لوگوں میں بھی جدید باتوں کا زہریلا اثرپیدا ہوگیا ہے نیچریت کا غلبہ ہے اس لئے کوئی مفید تحریک نہیں چلتی ۔

(ملفوظ 229)انگریزوں نے ہم سے تہذیب سکھی ہے :

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ میں تو کہا کرتا ہوں کہ انگریزوں نے ہم سے تہذیب سیکھی ہے یا ہم نے ان سے بعض لوگ کہا کرتے ہیں کہ تمہارے مزاج میں تو انگریزوں کا سا انتظام ہے یوں مت کہوکہ ہم میں ان کا سا انتظام ہے کیونکہ وہ چیزیں کہاں سے لائے یہ چیزیں توہمارے گھر کی ہیں جن کو مسلمانوں نے چھوڑدیا کا اور دوسروی قوم نے اختیار کرلیا اس غفلت اور بے خبری کی کوئی حد ہے کہ اپنی چیزوں کو دوسروں کی سمجھتے ہیں۔