(ملفوظ 228)شیون اہل حق :

( ملقب بہ شیون اہل الحق ) ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ فلاں مدرسہ کی سرپرستی میرے سر زبردستی تھوپی گئی کرتے کراتے سب کچھ خود ہیں میرا تو محض نام ہی نام ہے کیا فائدہ ایسی سرپرستی سے مجھے خدمت سے انکار نہیں علماء کو میں اپنا بھائی سمجھتا ہوں اور طلبہ کو مثل فرزند کے سمجھتا ہوں مگر ضرورت اس کی ہے کہ خدمت طریقہ کے ساتھ لی جائے یہ تومحض بے ڈھنگا پن ہے کہ نہ اصول ہیں نہ قواعد مجھے آج تک یہی معلوم نہیں کہ میرے فرائض ہیں کیا اور یہ فساد کرنے والے اورمدرسہ سے مخالف کرنیوالے تو خود اغراض میں مبتلا ہیں الاماشاء اللہ شکایت توخود مجھ کو بھی کارکنان مدرسہ سے ہے مگر شکایت کا یہ طریقہ نہیں ، جو ان مخالف لوگوں نے اختیار کر رکھا ہے انہوں نے تو مدرسہ ہی کو بیخ بنیاد سے اکھاڑ دینے کا انتظام کردیا مجھ کو مدرسہ والوں کے ساتھ تو صرف طریقہ کا سے اختلاف ہے اور مخالفین کے ساتھ ان باتوں سے اختلاف ہے جو بدون تحقیق کا رکنان مدرسہ کے سرتھوپی گئیں آخردین بھی کوئی چیز ہے دشمنی میں بھی حدود سے تجاوز ہونا چاہئے دوسرے یہ کہ اگران کو دشمنی بھی ہے تو کارکنان مدرسہ سے نہ مدرسہ سے تو ایسی حرکت کرنا یا وہ طریقہ اختیا رکرنا جس سے مدرسہ کو نقصان پہنچے یہ کس درجہ عقل کی بات ہے اور خاص اغراض پورا کرنے کی وجہ سے چالاکیاں اور پالیسی اختیار کرنا کون سی کمال کی بات ہے ایسی پالیسی تو ہم بھی جانتے ہیں مگر استعمال سے نفرت ہے میں نے اس کی مثال میں ایک صاحب سے کہا تھا کہ گوہ کھانا کون نہیں جانتا سب جانتے ہیں ہاتھ میں لے کر منہ میں رکھ کرنگل جاوئے مگر دیکھنا یہ ہے کہ اس کا کھانا کیسا ہے کوئی شریف آدمی سلیم الطبع کبھی ایسی باتوں کو گوارہ نہیں کرسکتا اور نہ اختیار کرسکتا ہے طالب علموں میں جیسے غربت مسکنت انکساروغیرہ کی شان ہونا اوروں سے زیادہ احسن ہے ویسی ہی ان میں اس کے مقابل دوسری شان جیسے غرض پرستی پالیسی وغیرہ کا ہونا اوروں سے زیادہ اقبح ہے اللہ ان رذائل سے بچائے میں تو اس کی ایک مثال بیان کیا کرتا ہوں کہ خشک روٹی اگر بس بھی جائے آدمی کھاسکتا ہے لیکن زردہ پلاؤ بریانی قورمہ متنجن اگر خواب ہوگا تو گھر والوں کو توکیا پڑوسیوں تک کو محلہ میں نہ ٹھہرنے دے گا اس میں اس قدر بدبو تعفن ہوگا اسی طرح عوام کے عیوب سے علماء کے عیوب نہایت اقبح واشنع ہیں مگر افسوس ہے کہ آج کل ہم اہل علم نے دنیا کے جھگڑوں قصوں میں پڑکر درس تدریس سب ہی کچھ برباد کیا ورنہ اگر یہ اطاعت واخلاص اختیار کرتے تو بدون ان وسائط کے اللہ تعالیٰ ان کو ہرطرح کی کامیابی عطا فرماتا موسی ٰ علیہ السلام کے پاس کون سا سامان تھا حتی کہ جب ان کو تبلیغ کا حکم دیا گیا تو انہوں نے بے سامانی کو دیکھ کر یہ دعاء کی تھی ۔ ( رب انی قتلت منھم نفسا فاخاف ان یقتلون ) اے میرے رب میں ان میں سے ایک آدمی کا خون کردیا تھا ، سو مجھ کو اندیشہ ہے کہ وہ لوگ مجھ کو قتل کردیں ) اور جواب میں بجائے سامان عطا ہونے کے یہ ارشاد ہواتھا یجعل لکما سلطانا فلایصلون الیکما ( اور ہم تم دونوں کو ایک خاص شوکت عطا کرتے ہیں جس سے ان لوگوں کو تم پردستری نہ ہوگی ۔ 12) یہی صفت اللہ والوں کو عطاء فرماتے تھے یعنی ہیبت اور شوکت پس ان کا خداد اور رعب ہوتا ہے اسی کو مولانا رومی رحمتہ اللہ فرماتے ہیں ۔
ہیبت حق ست این از خلق نیست ہیبت ایں مرد صاحب دلق نیست
مجدد صاحب کو جہانگیر بادشاہ نے بلایا تھا اور تخت کے سامنے ایک عارضی کھڑکی لگوائی جس میں داخل ہونے والا بدون سرجکائے داخل نہ ہوسکے اوراس کھڑکی میں سے آپ کو آنے کا حکم ہوا مقصود یہ تھا داخل ہونے کے وقت تخت کے سامنے آپ کا سرجھکے گا آپ نے یہ لطیفہ کیا کہ اس کھڑی میں پہلے پیرداخل کئے تو اس صورت میں بادشاہ کی طرف پیرہوئے اس پربادشاہ پرہم ہوا اور مجدد صاحب کے قتل کا حکم دیا مگر دربار میں ایک مولوی صاحب تھے ولایتی انہوں نے سفارش کی تب قتل کا حکم قید سے مبدل ہوا اور گوالیار کے قلعہ میں قید کئے گئے ان حضرات پر کسی کا اثر نہیں ہوتا سوائے ایک ذات کے اوروہ حق سبحانہ تعالیٰ کی ذات ہے میں نے بڑے بڑے اہل جاہ کو کہتے سنا ہے کہ حضرت مولانا رشید احمد صاحب رحمتہ اللہ کے سامنے بولانہ جاتا تھا اور حالانکہ حضرت کی حالت یہ تھی کہ آواز بھی کبھی بلند نہ ہوتی تھی ملا محمود صاحب نہایت سادہ بزرگ تھے ایک مرتبہ سبق میں ایک طالب علم کے گھونسہ مارا وہ ہٹ گیا تو گھونسہ زمین پرلگا اور غصہ بھڑک گیا جوتہ پھینک کرمارا وہ اس کی زد سے بھی بچ گیا اور بھی غصہ بھڑک گیا بڑا شوروغل مچا میں ان کی درسگاہ سے ایک طرف کو جارہا تھا اس طرف حضرت مولانا قاسم صاحب رحمتہ اللہ تشریف رکھتے تھے مجھ کو بلایا اور واقعہ پوچھا باوجود یہ کہ نہایت سفقت فرماتے تھے مگر جواب دینے کی اہمت نہ ہوئی بات نہ کی جاتی تھی حتی گھونسہ کا لغت بھول گیا یہ ہیبت ان حضرات کو خدا داد عطاء ہوتی ہے ۔ انتھت رسالۃ شیون اھل الحق ۔

(ملفوظ 227)طریق سے اجنبیت کا عجیب حال:

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ طریق سے لوگوں کو اس قدر اجنبیت ہوچکی ہے کہ عوام توعوام خواص اور شیوخ تک اس کا مضحکہ اڑاتے ہیں یہ طریق سے عدم مناسبت کا پتہ دیتی ہے اور عدم واقفیت پردال ہے اپنی جماعت کے بہت لوگوں کی یہ حالت ہے دوسروں کی کیا شکایت ۔

(ملفوظ 226)قوت حافظہ میں کمی کے باوجود کام :

(ملفوظ 226) ایک صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ اجی حضرت میرے اندر کمال توکیا ہوتا جس زمانہ میں مدرسہ میں پڑھا کرتا تھا اسوقت بھی استعداد وغیرہ کبھی نہیں ہوئی اس لئے کہ میں نے توجہ سے پڑھا ہی نہیں اور نہ کبھی ذہن ایسا ہوا البتہ حافظہ میرا مدرسہ میں مشہور تھا اساتذہ میں بھی اور طلبہ میں بھی اور اب تویہ بھی یاد نہیں رہتا کہ مناجات مقبول کی منزل بھی پڑھی ہے یا نہیں باوجود اس نقص کے پھر جو کچھ کام ہوا یہ سب فضل خداوندی ہے اور یہ کو ئی فخر کی بات نہیں ہے وہ جس سے چاہیں اپنا کام لے لیں ہاں تحدیث بالنعمتہ کی صورت میں مسرت ضرور ہے ۔

(ملفوظ 225)ذہانت بھی خدا تعالٰی کی بہت بڑی نعمت ہے:

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ ذہانت بھی خدا کی ایک بڑی نعمت ہے مولوی غوث علی صاحب پانی پتی سیاحت میں ایک مقام پرپہنچے وہاں معلوم ہوا کہ ایک شیعی وصیت کر مراہے کہ میرے دونوں بیٹیوں کی شادی حضرت امام مہندی علیہ السلام کے کی جائے اب وہ لڑکیاں بلکل جوان ہیں مگر حضرت امام کے انتظار میں ان کی شادی نہیں کی جاتی مولوی صاحب بڑے ہی دانشمند اور ذہین تھے کہا کہ ظاہرہے کہ حضرت امام تومتبع شریعت ہوں گے وہ دونوں بہنوں کوکیسے جمع کرلیں گے سوایک کا تونکاح کردینا چاہئے چنانچہ ایسا کردیا گیا پھرفرمایا کہ یہ بے انصافی ہے کہ ایک کی شادی ہودوسری کی نہ ہو دوسری کی بھی کردو اور وصیت پراس طرح عمل کیا جاوے کہ ایک یاداشت لکھ کرخاندان میں محفوظ کردو کہ حضرت امام کے وقت میں ان لڑکیوں کی نسل میں جولڑکی ہواس کو حضرت کے نکاح میں دیدیں چنانچہ سب نے پسند کرکے ایسا ہی کیا ۔

(ملفوظ 224)مسلمان ظلم کے سبب تباہ ہوئے :

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ مسلمان ظلم کے سبب تباہ ہوئے اب ہندوؤں نے ظلم شروع کیا ہے ان شاءاللہ یہ بھی تباہ ہوں گے ہنود کے پاس روپیہ ہے قانون دان ہیں مسلمانوں کے پاس کوئی سامان نہیں مگر ان کو کسی مادی سامان کی ضرورت بھی نہ تھی اگر یہ حق تعالٰی کو راضی رکھتے تمام پریشانیوں کی جڑ خدا تعالٰی سے صحیح تعلق کا نہ رکھنا ہے اور یہ مسلمانوں کی انتہائی بدفہمی ہے غیر قوموں کی بغلوں میں جاکر گھستے ہیں ان کواپنا دوست سمجھتے ہیں حق تعالٰی فرماتے ہیں انما ولیکم اللہ ورسولہ والذین امنوا حصر کے ساتھ فرماتے ہیں کہ تمہارا کوئی بھی دوست نہیں سوائےاللہ اور رسول اورمومنین کے۔

(ملفوظ 223 )کرایہ کے دو ضروری مسئلے َََِِ: ِ

ایک صاحب نے عرض کیا کہ حضرت اکثر کرایہ کے مکان میں درخت ہوتے ہیں امرود کے یا بیری وغیرہ کے ان کو پھل کرایہ دار کو کھانا جائز ہے یا نہیں فرمایا کہ بلااذن جائز نہیں ایک دوسرے سوال کے جواب میں فرمایا کہ گائے کوکوئی دودھ پینے کے لئے کرایہ پرلے لے یہ جائز نہیں اس پرفرمایا کہ فقہ کا باب بھی نہایت ہی ادہم ہے مجھ کوتو فتوی دیتے ہوئے بڑا ہی خوف معلوم ہوتا ہے اور بعض لوگوں کواس بڑی جرات ہے ذرا خوف نہیں کرتے ۔

( ملفوظ222) مشغولی میں تکلیف کا احساس نہیں ہوتا :

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا آج جمع ہوۓ استفتوں کا جواب پورا ہو گیا مگر سر میں بھی درد ہو گیا یہ دیکھا ہے کہ جس روز کوئ بڑا کام ختم ہوتا ہے ختم کے بعد تکلیف محسوس ہوتی ہے جیسے منزل پر پینچ کے تکان ہوتا ہے اور درمیان میں مشغولی کی وجہ سے پتا بھی نہیں چلتا ۔

(ملفوظ 221)طالب اصلاح اپنی آؤ بھگت چاہتے ہیں :

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ آج کل جوطالب کہلاتے ہیں ان کی بھی یہ حالت ہے کہ آتے ہیں اصلاح کی غرض سے اور چاہئے یہ ہیں کہ ہماری آؤ بھگت ہو خاطر تواضع ہو کھانا پینا بھی نفس کےموافق ہو مگر میرے یہاں بحمداللہ کوئی سامان اس قسم کی دلجوئی کا نہیں سب دلشوئی کے سامان ہیں پہلے بزرگوں نے اصلاح کے متعلق طالبوں پربڑی بڑی سختیاں کی ہیں میں تواس قدر سختی کرتا بھی نہیں حضرت شمس الدین ترک پانی پتی رحمتہ اللہ علیہ حضرت مخدوم علاؤ الدین رحمہ اللہ کی خدمت میں مدت دراز تک رہے اوران کے ساتھ برتاؤ کی یہ حالت رہی کہ آنے میں ذرا اوپرہوگئی تواسطرح خطاب ہوتا تھا کہ ارے آیا نہیں کیا ٹانگیں ٹوٹ گئیں مشہور یہ ہے کہ سچ مچ ٹانگوں سے معزور ہوجانے پر فرماتے جلدی چلوٹانگیں ٹھیک ہوجاتیں اوراس سے بھی سخت سخت الفاظ سے پکارا جاتا ہے بڑے دھکے مکے کھا کرآدمی بنتا ہے اب تو بدون پل صراط کوطے کئے ہوئے جنت میں جانا چاہتے ہیں خادمیت سے گھبراتے ہیں اتباع سے عار ہے بس ان کومخدوم بنادو اس زمانہ میں کچھ ایسا زہریلا اثر پھیلا ہے کہ ہرشخص کے اندر الاماشاء اللہ کبربھرا ہوا ہے دماغوں میں گوبر ہے پھر جب طالب ہوکر تمہارا یہ حال ہے تو دوسرا ہی تمہاری کو ن غلامی کرنے لگا وہ بھی آزاد ہے خصوص یہاں تو نرالا ہی رنگ ہے یہ للو پتو اور جگہ ہے یہاں پرتو قدم قدم پرروک ٹوک محاسبہ معاقبہ دار گیر ہوتی ہے بعد میں کہیں جاکر دوسری چیزیں ہیں پہلے میزان عدل ہےپھر پل صراط اس کوطے کرنے کے بعد جنت ہے ۔
16/ربیع الاول 1351ھ مجلس خاص بوقت صبح یوم جمعہ

(ملفوظ 220)اہل عشق کی شان جدا ہوتی ہے :

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ اہل عشق کی شان ہی جدا ہوتی ہے یہ حضرات بظاہر اس عالم میں نظر آتے ہیں مگر معنی اس عالم میں نہیں ہوتے ہروقت محبت میں غرق رہتے ہیں نہ ہنسنے کا خیال نہ رونے کا نہ کسی سے ملنے کا شوق نہ کھانے کمانے کی فکر عشق ایسی ہی چیز ہے اور یہ حالت بدون عشق نہیں ہوسکتی یہ عشق ہی کا خاصہ ہے کہ سوائے محبوب کے سبکو فنا کردیتا ہے اسی کومولانا رومی فرماتے ہیں
عشق آن شعلہ است کوچوں برفروخت ہرچہ جزمعشوق باقی جملہ سوخت ،
تیغ لا در قتل غیر حق براند درنگر آخر کہ بعد لاچہ ماند ،
ماند الا اللہ و باقی جملہ رفت مرحبا اے عشق شرکت سو زرفت
گویا اسی کا ترجمہ گلزار ابراہیم میں کیاگیا ہے
عشق کی آتش ہے ایسی بد بلا دے سوا معشوق کے سب کو جلا
اس ہی لئے میں کہا کرتا ہوں کہ یہ حضرات مغلوب ہونے کی وجہ سے معزور ہیں ان کو اپنی ہی خبر نہ تھی ان پرملامت کرکے اپنی عاقبت خراب کرنا ہے کسی کو کیا خبر کہ ان پرکیا گذرتی ہے ۔

(ملفوظ 219)صاحب مقام راسخ ہوتا ہے :

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ کوئی قاعدہ کلیہ اس طریق کا نہیں کیونکہ یہ طریق عشق ہے اور عشق کا انضباط ہی کیا مردہ کا کیا انضباط وہ تو زندہ کے ہاتھ میں ہے مردہ بدست زندہ مشہور ہے اسی کو مولانا نے کہاہے
خفتہ از احوال دنیا روز و شب چوں قلم در پنجہ تقلیب رب
( حق تعالیٰ کا عاشق دنیا کے رات دن کے احوال سے بے خبر ہوتا ہے جیسے کہ قلم دوسرے کے ہاتھ میں ہوتا ہے اسی طرح عاشق ) احکام خداوندی کا تابع ہوتا ہے ۔ 12)
البتہ صاحب مقام راسخ ہوتا ہے اس میں انقلاب کم ہوتا ہے بخلاف صاحب حال کے کہ اس کی کیفیا ت میں بکثرت انقلاب ہوتا ہے اور نا واقف لوگ صاحب کیفیات ہی کوزیادہ کامل سمجھتے ہیں حالانکہ کوئ چیز نہیں اصل چیز مقام گومقام بھی ایک اصطلاح میں حال ہی ہے مگر ہے راسخ اوراس درجہ کے شخص کے واردات بھی قابل اتباع ہوتے ہیں گودوسروں کے لیے نہ سہی مگر خود اس کے لئے قابل اتباع ہوتے ہیں حتی کہ اگر وہ ان واردات کا اتباع نہ کرے تواس کو کچھ نہ کچھ بستی میں ایک بزرگ رہتے تھے ایک اور مسافر بزرگ اس بستی میں آئے انہوں نے ان سے ملنے کا ارادہ کیا مگر ان کے قلب پروارد ہوا کہ مت جاؤ یہ نہیں گئے تھوڑی دیر بعد پھرارادہ کیا کہ ملنا چاہئے پھر وارد ہوا کہ مت جاؤ اس پرخیال ہوا کہ وجہ کیا ایک بزرگ اورنیک شخص ہیں معلوم ہوتا ہے کہ خیال بے بنیاد ہے ضرور ملنا چاہئے اٹھ کر چل دیئے تھوڑی چلے تھے ٹھوکر لگی اور گر کرٹانگ کی ہڈی ٹوٹ گئی المام ہوا کہ تمیں ملنے سے منع کیا گیا تھا اس منع کی کیوں مخالفت کی بعد میں ممانعت کی معلوم ہوئی کہ وہ بزرگ بدعتی تھے جن کی ملاقات سے منع کیاگیا تھا تو وارد کی عدم اتباع پراس قسم کی تکوینی سزا ہوجاتی ہے مگر اخروی سزا نہیں ہوتی بس یہ ضررہوتا ہے اوروجہ اس کی غور سے کام نہ لینا ہے ملامت اس پرہوتی ہے کہ واقعہ میں تحقیق اوراختیار کیوں نہیں کی اس طریق میں بہت ہی دقیق باتیں پیش آتی ہیں اس واقعہ میں احتیاط یہی تھی کہ نہ ملتے کیونکہ اگر وہ شخص واقع میں بزرگ ہی تھے تب بھی ان سے ملنا کوئی واجب تونہ پھر اصول صحیحہ سے تحقیق کرسکتے ہیں ایسے امور میں خاص سمجھ کی ضرورت ہوتی ہے ۔