ایک صاحب نے عرض کیا کہ حضرت اس کا پتہ نہیں چلتا کہ مجھ کو مخلوق سے وحشت کیوں فرمایا کہ اس کی تحقیق اورمعلومکرنے کی ضرورت ہی کیا ہے ابن الوقت ہونا چاہئے اگرمعلوم ہوجاوے اس پرراضی رہے اگرمعلوم نہ ہو اس پرراضی رہے ۔
چونکہ برمیخت بہ بندوبستہ باش چوں کشاید چا بک وبرجستہ باش
( جب تجھ کو باندھ دیں توبندھے رہو، اور جب کھول دیں تو ( تعمیل حکم کیلئے ) چست وچالاک رہو غرض راضی برضارہو۔ )
مبتدی کو ان تحقیقات اورفضول میں پڑنا ہی نہیں چاہئے اس سے تشویش ہوتی ہے اور تشویش سے مبتدی کوسخت نقصان پہنچتا ہے اس کو ضرورت ہے یکسوئی کی پھرمزاحا فرمایا پھرچاہے پاس ایک سوئی نہ ہو البتہ منتہی کوان چیزوں سے نقصان نہیں پہنچتا منتہی ان چیزوں پرخود غالب ہوتا ہے اس لئے کہ وہ ابوالوقت ہوتا ہے ۔
(ملفوظ 217)اللہ تعالٰی نے حضرت حکیم الامت سے طریق زندہ کرنے کی خدمت لی :
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ ایک مدت سے بہت بڑا حصہ تصوف کا مردہ ہوچکا تھا کام کرنے والوں کو بھی خبرنہ تھی کہ ہم کیا کررہے ہیں اور اس کا کیا انجام ہے بس اندھیری کوٹھڑی میں الاد ہند چلے جارہے تھے کچھ خبر نہ تھی خواہ سرپھوٹے یا ٹانگ ٹوٹے اب بحمداللہ طریق کافی طور پرواضح ہوگیا مدتوں کے بعد یہ طریق زندہ ہوا ہے گواب بھی بدفہم لوگ اس فکر میں ہیں اور چاہتے ہیں کہ اصلاح کا باب بند ہوجائے مگر چاہا ہوا توحق ہوا توحق سبحانہ تعالٰٰی ہی کا ہوتا ہے اور کسی کے چاہے سے ہوتا ہی کیا ہے فرماتے ہیں ۔ مایفتح اللہ للناس من رحمۃ فلا یمسک لہا وما یمسک فلامرسل لہ من بعدہ وھوالعزیزالحکیم اب ان شاءاللہ تعالیٰ صدیوں تک کے لئے طریق بے غبار ہوگیا اور اگر پھربھی کچھ گڑبڑ ہوئی توحق تعالٰی اور کسی کو پیدا فرما دیں گے یہ ان کی رحمت ہے جس سے چاہے اپنا کام لے لیں کسی خاص شخص پرموقوف نہیں ۔
(ملفوظ 216)تکرار فرائض کو فقہاء نے منع کیا ہے :
ایک صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ اہل طریق پراعراض کرنے والے بدفہم ہیں ورنہ یہ حضرات ہرگز قابل ملامت نہیں مگر مدامت کرنے والوں کو ان کے عذر کی خبر نہیں دیکھئے تکرار فرض کو فقہاء منع کرتے ہیں مگر بوقت وفات حضرت سلطان جی کی یہ حالت تھی کہ باربار غشی سے اٹھتے اور پوچھتے کہ میں نے نماز پڑھی یا نہیں عرض کیا جاتا کہ پڑھ چکے شدت شوق عبادت میں فرماتے لاؤ پھر پڑھ لو نہ معلوم پھر کیا موقع ہے ایسے عاشق لوگوں پرکیا ملامت فقہا بھی اصل سے اس کے مانع نہیں منع کی علت یہ فرماتے ہیں کہ تکرار فرض منسوخ ہوگیا اس سے معلوم ہوا کہ پہلے مشروع تھا سویہ منسوخ ہونا خود مجتہدین میں مختلف فیہ ہوسکتا ہے تو ممکن ہے کہ سلطان ہی کے نزدیک منسوخ نہ ہوا ہو اور کسی ایسے عالم محقق کا مجتہد ہونا غیرمجتہد فیہ ہوسکتا ہے علماء اورمشائخ کے ایسے اختلاف میں ہمارے حضرت حاجی صاحب رحمتہ اللہ علیہ کا یہ فیصلہ تھا کہ اگراعمال ظاہرہ میں اختلاف ہوتو فقہاء کے مسئلہ پرعمل کرتا ہوں اور اگر اعمال باطنہ میں اختلاف ہوتو صوفیہ کے قول پرعمل کرتا ہوں سبحان اللہ کیسا عجیب اور حکیمانہ فیصلہ ہے ۔
(ملفوظ 215)کیا انسان کے بال ناخن کسی کے ملک بن سکتے ہیں :
ایک مولوی صاحب کے جواب میں فرمایا کہ اس مسئلہ کے ملنے کی امید نہیں کہ انسان کے بال ناخن کس کے ملک بن سکتے ہیں یا نہیں اور حر کے متعلق توشبہ ہی نہیں وہ تو ملک ہوہی نہیں سکتے مگر غلام کے متعلق تردد ہے کہ اس کے ناخن بھی کسی کے ملک ہوں گے یا نہیں مگرغالبا یہ جزئیہ بھی نہ ملے گا البتہ قواعد سے یہ ہی معلوم ہوتا ہے کہ ملک نہ ہوگا جدا ہوجانے کے بعد مولیٰ کی ملک سے نکل جاتا ہے ۔
(ملفوظ 214)موضع نجاست کا حکم :
ایک صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ جوموقع موضوع ہو، نجاست کے واسطے گواس وقت وہاں نجاست نہ ہو وہاں قرآن مجید نہ پڑھنا چاہئے جب تک اس کا وہ استعمال نہ چھوڑ دیا گیا ہو فلاں صاحب نے نجاست نہ ہونے کے وقت علی الاطلاق جائز کہہ دیا ہے مگریہ جواب جی کو نہیں لگتا آخرقواعد بھی تو کوئی چیز ہیں مگر ان کے جواب میں کوئی قید ہی نہیں غالبا عبارت نا تمام معلوم ہوتی ہے شاید ذہن سے ذہول ہوگیا ہو بہرحال ایسے موقع پرجہاں اہل فتویٰ کے اقوال میں احتیاط ہو وہاں تو ان کا اتباع کرنا چاہئے اور جہاں ان کے یہاں احتیاط نہ ہو وہاں اپنی رائے پرجس میں احتیاط ہو عمل کرے میں تویہی زیادہ تلاش وغیرہ بھی نہیں کرتا ایسے موقع پراحتیاط کا پہلو اختیار کرلیتا ہوں ۔
(ملفوظ 213)کم فہموں کو دو چیزوں سے ناز ہوتا ہے :
ایک صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ جی ہاں جن کی طبیعتوں میں سلامتی ہوتی ہے ان کوتو ذکر وشغل سے نفع ہوتا ہے عجزوانکساری کی شان پیدا ہوتی ہے ورنہ اسی سے ناز پیدا ہوجاتا ہے کہ اپنے کو ذاکر سمجھنے لگتے ہیں میں اکثر کہا کرتا ہوں کہ دوچیزیں ایسی ہیں جن سے کج طبعوں کو ناز پیدا ہوجاتا ہے ایک ذکروشغل سے اور ایک بڑھاپے سے اس لئے کہ لوگ بوجہ بڑا ہونے کے رعایت کرنے لگتے ہیں یہ اس کو اپنی بڑائی اوربزرگی پرمحمول کرنے لگتا ہے یہ نہیں سمجھتا کہ میں بڑا آدمی ہوگیا ہوں اس لئے لوگ رعایت کرتے ہیں اور حضرت بڑائی اور بزرگی توبڑی دور کی چیز ہے اگر ایمان ہی دنیا سے سلامت چلا جائے یہ ہی غنیمت ہے اسی کو بڑی دولت سمجھنا چاہئے اور یہ مرنے سے پہلے معلوم ہو نہیں سکتا پھرنازکیسا ۔
(ملفوظ 211)آج کل کی بڑی بزرگی :
ایک صاحب کی ایک متکبرانہ غلطی پرمواخذہ فرماتے ہوئے فرمایا کہ آج کل توبڑی بزرگی اورولایت یہ ہے کہ ہاتھ میں تسبیح لیلٰی اور آہستہ آہستہ جھک کرچل لئے کوئی سمجھے گا بڑے کوئی شیخ المشائخ آرہے ہیں یا خضرعلیہ السلام دریا سے نکل کرآگئے ہیں اس کا بلکل ہی ایتمام نہیں کہ ہماری بدتمیزی اور بدتہذیبی کی بھی اصلاح ہوئی یا نہیں تمہاری اس غلطی کا سبب محض تکبرہے شرم نہ آئی کہ اور مسلمانوں کی طرف پیٹھ کرکے بیٹھ گئے گویا یہ ہی سب کے بڑے ہیں آخران میں اور مسلمانوں سے کون سی زائد چیز ہے مجھ کوسب میں زیادہ تکبر سے نفرت ہے تکبر میں اور اس طریق میں توبعدالمشرقین ہے اول قدم اس طریق میں اپنے کو فنا کرنا اورذلیل سمجھنا ہے ہر شخص سے اپنے کوذلیل وخوار سمجھے اگر یہ بات نہ پیدا ہوئی تو وہ محروم رہا اس نے کچھ حاصل نہ کیا اور یہ تو امور طبعی ہیں میرے نزدیک تو یہ سکھلانے کی باتیں نہیں مگر بے حسی کا کسی کے پاس کیا علاج بعض لوگوں کو اپنے کو بزرگ سمجنھے کا مرض ہوجاتا ہے مگرجس کو یہ معلوم نہ ہو کہ میں کس طرح اور کس حال میں مروں گا اس کو تقدس پر کیسا ناز اللہ بچائے جہل سے اورصاحب ناز کسی بات پرہوشاید ساری عمر میں ایک رکعت بھی ایسی یاد نہ آویگی کہ خدا کے حکم کے موافق ادا کی ہو پھریہ ناقص بھی جیسی کچھ ہے ان کا فضل ہے انعام ہے احسان ہے ورنہ ہم تواس کی توفیق کے بھی مستحق نہ تھے ۔
(ملفوظ 210) حق تعالٰی کا اپنے کام میں لگانا بڑی نعمت ہے :
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ حق تعالیٰ جس کو بھی اپنے کام میں لگالیں اور توفیق عطاء فرمادیں بڑی ہی دولت ہے بڑی ہی نعمت ہے ایسا شخص دنیا کی طرف متوجہ ہونہیں سکتا اورایک وقت میں دوطرفہ توجہ ہوبھی کب سکتی ہے یہ ہی وجہ ہے کہ یہ لوگ اور کاموں کے نہیں رہتے اسی وجہ سے ان کولوگ دیوانہ سمجھتے ہیں دیوانہ تو ضرور ہیں مگر یہ بھی معلوم ہے کہ کس کے دیوانہ ہیں اس دیوانگی کو فرماتےہیں
مااگر قلاش وگردیوانہ ایم مست آں ساقی وآں پیمانہ ایم
( ہم اگرچہ مفلس اور دیوانے ہیں ، مگراس ساقی اورپیمانے کے مست ہیں )
یہ خدا وند جل جلالہ کے دیوانہ ہیں ان کے عاشق ہیں جب کے عشق میں آدمی کسی اورکام کا نہیں رہتا توخالق ک عشق کا کیا پوچھنا اسی کو فرماتے ہیں
عشق مولٰی کے کم از لیلٰے بود گوئے گشتن بہراو اولے بود
( حق تعالٰی کا عشق لیلی سے عشق سے کب کم ہوتا ہے ، حق تعالٰی لے لئے گیند بن جانا زیادہ والیٰ ہے ۔ 12)
اور معترض کا منہ نہیں کہ وہ اس مذاق پراعتراض کرسکے اس لئے کہ وہ خود ہی دیکھ لے کہ ایک فانی چیز کی یعنی دنیا کی طلب میں کیسا کھپا ہوا ہے کہ اپنے خالق اور پیدا کنندہ کو بھی بھول گیا اپنے اپنے محبوب پرسب ہی مٹا کرتے ہیں باوجود اس کے جب طالب دنیا کو کوئی دیوانہ نہیں کہتا تو پھرایسوں کو جولوگ دیوانہ اور پاگل کہیں وہ خود پاگل ہیں۔
(ملفوظ 209)وساوس کا علاج :
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ ایک صاحب نے وساوس کی شکایت لکھی تھی میں نے لکھا تھا کہ اس طرف التفات مت کرو اورکثرت سے میرے مواعظ دیکھا کروآج خط آیا ہے لکھا ہے کہ وہ شیطانی وساوس آنے بند ہوگئے ایک آدھ کبھی آتا بھی ہے تو اس طرح جیسے بجلی کوند کرنکل جاتی ہے اس پرفرمایا کہ جب آدمی خلوص س کام کرتا ہے اورطلب صادق ہوتی ہے ضرور نفع ہوتا ہے مگریہ بات لوگوں میں رہی ہی نہیں ۔
(ملفوظ 208)ایک سب جج کی بدسلیقگی :
فرمایا کہ ایک صاحب کاخط آیا ہے یہ ایک مقام پرسب جج ہیں انہوں نے بہشتی زیور کی بہت تعریف لکھی ہے اورلکھاہے کہ ایک مکمل جلد جلد سے جلد روانہ کرادی جائے ۔ میں نے لکھا ہے کہ یہ فرمائش میری گرافی کا سبب ہوئی اول میں تاجر کوتلاش کروں پھر اس سے فرمائش کروں اس کے بعد تکمیل فرمائش کی معلوم کروں اگرآپ کوکسی تاجر کا پتہ نہ معلوم ہوتو اس کا پتہ مجھ سے پوچھ سکتے ہیں اس پر فرمایا کہ اتنا بھی سلیقہ نہیں یہ سب ججی کیا خاک کرتے ہوں گے فیصلے بھی بدون تحقیق کرتے لوگ ہوں گے ۔

You must be logged in to post a comment.