ایک مولوی صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ مقصود تو اصلاح نفس ہے اب اسکی تعبیر چاہے جن الفاط میں کرلی جاوے طریق کا مقصود اورحاصل صرف یہی ہے اوراسی اصلاح کے طرق اور تدابیر کو اصطلاح میں سلوک کہتے ہیں اوریہ طریق بالتخصیص واجب اور فرض نہیں اصلاح فرض ہے خواہ دوسری تدابیر سے ہو اصل مقصود اصلاح نفس ہے اس پربھی اگر معترض اعتراض کرے تو اس بدفہمی کا ہمارے پاس کوئی علاج نہیں آخرطبیب جسمانی بھی تو تدابیر کو اختیار کرتا ہے اس کوکوئی بدعت نہیں کہتا تواس میں اور اس میں کیا فرق ہے البتہ خاص تدابیر کو کوئی قربت مقصود سمجھ جائے تووہ ضرور قابل نکیرہے لیکن کسی محقق کا یہ مسلک نہیں ۔
(ملفوظ 206) متکبرین کا علاج خانقاہ امدادیہ میں :
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ ان متکبروں کا علاج بحمداللہ یہاں پرآکر بہت اچھی طرح ہوتا ہے ان کے دماغوں کاخناس خوب نکالا جاتا ہے حضرت مولانا محمود حسن صاحب رحمتہ اللہ علیہ دیوبندی ایسے لوگوں سے فریاد کرتے تھے کہ ایسے متکبروں کوتو تھانہ بھون بھیجنا چاہئے وہیں درست ہوتے ہیں حضرت مولانا محمد قاسم صاحب رحمتہ اللہ فرمایا کرتے تھے کہ جس کا پیرٹرانہ ہواس مرید کی اصلاح نہیں ہوسکتی ۔
(ملفوظ 205)امام صاحب کے نزدیک گاؤں میں جمعہ جائزنہیں :
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ آج کل دیہات میں جمعہ کرنے اورکرانے کا لوگوں میں بڑا زور شور ہے حالانکہ امام صاحب کے نزدیک گاؤں میں جمعہ جائزنہیں گاؤں میں جمعہ پڑھ کرظہر ذمہ میں باقی رہتا ہے مگر کچھ پرواہ نہیں احکام کا اتباع تھوڑا ہی مقصود ہے اپنے جی چاہے کا اتباع کرتے ہیں دین تھوڑا ہی مقصود ہے نظر تواس پرہے کہ کوئی ان سے یہ سوال کرے کہ آج کی نماز ظہر کی تم نے نہیں پڑھی تواسکا کیا جواب ، جمعہ پڑھنے سے جہاں پرجمعہ صحیح نہ ہو ظہر سرسے تھوڑا ہی اترسکتا ہے ایک شخص مجھ سے کہنے لگے کہ گاؤں میں جمعہ کیون نہیں ہوتا اس کی کیا وجہ میں نے کہا کہ بمبئی میں حج کیوں نہیں ہوتا اس کی کیا وجہ بس گم ہوگئے پھر کچھ نہیں بولے اپنے ہی اعتراض کا جواب لینا آتا ہے دوسرے کا بھی توجواب دینا چاہئے ۔
(ملفوظ 204 )شرائط سماع ازفوائدالفواد:
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ حضرات صوفیہ کو بدنام کیا جاتا ہے کتنے غضب اورظلم کی بات ہے کہتے ہیں کہ ان کے اعمال سنت کے خلاف تھے یہ بدعتی تھے خود حضرت سلطان جی سے سماع کے لئے بہت شرائط منقول ہیں باقی اگرکسی سے کسی شرط کے کم ہوتے ہوئے صدور ہو گیا ہو تو اس کی وجہ دوسری طرف کاغلبہ ہے جس کو عشاق ہی سمجھ سکتے ہیں پھر کیفیت خاص ان حضرات کی سماع ہی پرموقوف نہ تھی ایک مرتبہ حضرت سلطان جی نے فرمایا کہ کسی قوال کو بلاؤ تلاش کیا اس وقت نہ ملا فرمایا اچھا دیکھو قاضی حمیدالدین ناگوری کا خط آیا ہوا ہے وہ لاؤ لایا گیا فرمایا پڑھ کرسناؤ ایک خادم نے پڑھنا شروع کیا اس کے اول میں یہ عبارت تھی ازخاک پائے درویشاں وگردراہ ایشان بس اسکو سنتے ہی حضرت پروجدطاری ہوگیا تین دن رات یہ ہی کیفیت رہی نماز کے وقت ہوش ہوجاتا اورجہاں نمازسے فراغ ہوا پھراسی کیفیت کا غلبہ ہوجاتا تھا غرض ان کے مغلوب ہونے کی یہ حالت تھی اسی لئے میں کہا کرتا ہوں کہ وہ حضرات معذور تھے ان کو برا کہ کر کیوں اپنی عاقبت خراب کرتے ہو ایک شخص تھے فضل الرحمن مولانا فیض الحسن کے داماد وہ ایک پنجاب کے بزرگ کی حالت بیان کرتے تھے کہ پنکھے کی آواز پرکواڑکی آواز پران کو وجد ہوجاتا تھا اور ان کے وجد کو آج کل کے جہلاء کے سماع ووجد پرقیاس نہیں کرنا چاہئے اب توسماع شہوت اور لذت کے وابطے سنتے ہیں مولانا نصیرالدین چراغ دہلوی حضرت سلطان جی کے خلیفہ ہیں یہ سماع کے خلاف تھے انہوں نے ایک شخص کے اس سوال پرکہ آپ کے شیخ توصاحب سماع ہیں جواب فرمایا تھا کہ شیخ کافعل سنت نہیں ہوتا یہ حضرت کو پہنچایا گیا کہ نصیرالدین آپ کے متعلق ایسا فرماتے ہیں فرمایا کہ نصیرالدین راست می گویند، یہ حالت ہے ان حضرات کی اب اس کے سوا کیا کہا جاسکتا ہے کہ غلبہ حال میں ایسا ہوتا تھا اس لئے وہ حضرات معذور تھے حضرت سلطان نظام الدین صاحب قدس سرہ فوائدالفواد میں سماع کے متعلق چارشرائط فرماتے ہیں سامع مسمع ، مسموع، آلہ سماع اوراس کی اس طرح تفصیل فرماتے ہیں۔ سامع ازاہل دل باشد ازاہل ہواوشہوت نباشد ، مسمع مردتمام باشد کودک وزن نباشد ۔ مسموع مضمون ہزل نباشد ، آلہ سماع چنگ ورباب درمیان نباشد، اسی طرح ایک بزرگ سے ان کے کسی مرید نے اپنے لئے سماع کی اجازت چاہی اورخود ان کے فعل کو سند میں پیش کیا ان بزرگ نے مجلس سماع قائم کراکر اوراس شخص کے ہاتھ میں پانی کا کٹورا بھروا کررکھ دیا اور جلاد سے ظاہر میں کہا کہ اگرایک قطرہ بھی پانی کا زمیں پرگرے فورا اس شخص کی گردن اوڑا دینا اورخفیہ منع فرمادیا وہ کٹورا لئے اسی فکر میں بیٹھا رہا کہ کہیں پانی نہ گرپڑے اورسماع ہوتا رہا آخرجب مجلس ختم ہوگئی بزرگ نے پوچھا کہو کچھ لطف آیا عرض کیا کہ خاک لطف آیا میں تواسی مراقبہ میں رہا کہ اگر ایک قطرہ پانی کا گرا تو وہ میرے خون کا قطرہ ہوگا فرمایا بس تم کو ذراسی مشغولی میں کچھ لطف محسوس نہ ہوا اور یہاں تو چوبیس گھنٹے ارے چلتے ہیں تو ہم کو نفسانی لطف کہاں پھر اپنے کوہمارے ارپر قیاس چہ معنی تویہ لوگ حقیقت میں معذورہیں۔
(ملفوظ 203)ایک جوگی کے حضرت سلطان نظام الدین دہلوی کے مرض سلب کرنے کی حکایت :
ایک صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ پہلے مرتا ض لوگ بڑے بڑے طویل زمانہ تک حبس دم کرتے بوجہ ضعف قوی کرنے سے بھی ایسا نہیں ہوتا ، ایک فقیر نے حبس دم کا انتظار کیا تھا نا کامیاب رہا دماغ خراب ہوگیا اب قوی بوجہ کمزوری کے ایسی مشقتوں کی برداشت نہیں کرسکتے پہلے زمانہ میں توہندو بڑی بڑی محنتیں کرتے تھے اب ان میں بھی صاحب اثرنہیں گو ایسا اثر مطلوب نہیں حضرت سلطان نظام الدین قدس سرہ کے زمانہ میں ایک جوگی تھا اس نے یہ مشق کی تھی کہ مریض پرنظرڈال کرمرض سلب کرلیتا تھا ایک مرتبہ حضرت سلطان نظام الدین صاحب قدس سرہ پرایک دورہ پڑا جس میں بے ہوشی جاتی تھی ہوش آجانے پرخدام نے عرض کیا کہ اگر اجازت ہوتو فلاں جوگی کےیہاں جومرض کو سلب کرلیتا ہے حضرت کا پلنگ لے چلیں دورہ ہوگیا اور بہیوشی طاری ہوگئی مریدین کو پیرسے عشق کا درجہ ہوتا ہی بےخلوص ہوتا ہے پیرکی تکلیف برداشت نہیں کرسکتے آپس میں مشورہ کرکے اور پلنگ اٹھا کراس جوگی کے مکان پرجا رکھا اورخلاف کرنے کا تدارک معانی چاہئے سے سوچ لیا اس نے دیکھا کہ اتبا بڑا شخص میرے مکان پرٰآیا پھولا نہیں سمایا فورا سب کام چھوڑا اس طرف متوجہ ہوا اور فورا مرض کو سلب کرلیا حضرت ایک دم اٹھ کربیٹھ گئے اور ایسا معلوم ہوتا تھا کہ کوئی مرض ہواہی نہ تھا دیکھا کہ جوگی کا مکان ہے سمجھ گئے کہ یہ لوگ محبت کی وجہ سے میرے تکلیف کو برداشت نہیں کرسکے اس لئے کسی کو کچھ نہیں کہا بلکہ اس جوگی کی طرف متوجہ ہوئے اور دریافت فرمایا کہ یہ بتلاؤ کہ یہ تاثیر جوتمہارے اندر ہے یہ کیا ہے اور عمل کی بدولت ہے اس عرض کیا کہ میرے پاس صرف ایک چیز ہے جومیرے گرونے مجھ کو تعلیم کی تھی اور وہ یہ کہ کہ کہا تھا کہ ہمیشہ نفس کے خلاف کرنا مطلب یہ کوئی نفس کا چاہانہ کرنا بس میرے پاس صرف یہی ایک عمل ہے اس کی بدولت یہ تصرف کرتا ہوں اورمرض کوسلب کرلیتا ہوں یہ سن کرحضرت سلطان جی نے دریافت فرمایا اچھا یہ بتلاؤ کہ تمہارا نفس مسلمان ہونے کوچاہتا ہے عرض کیا کہ نہیں فرمایا پھرگرو کی تعلیم پرکہاں عمل رہا ادھر تویہ فرمایا اور ادھر توجہ کی نتیجہ یہ ہوا کہ اس نے ایک دم کلمہ پڑھ لیا اورمسلمان ہوگیا آپ نے درحقیقت اس پربھی عمل کیا ھل جزاء الاحسان الا الاحسان اس نے آپ کی مرض جسمانی کو سلب کیا تھا آپ نے اس کے مرض باطنی کو یعنی کفر کو سلب فرمایا احسان کا بدلہ احسان ہوگیا ۔
(ملفوظ 202)احکام التبرکات :
(ملقب بہ احکام التبرکات ) ایک مولوی صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ اس جبہ کے متعلق جو کہ جلال آباد میں ہے اصل چیز جو قابل تحقیق اور قابل غور ہے دوامر ہیں ایک تویہ کہ اس کے ثبوت کا درجہ کیا ہے اورایک یہ کہ اس کے ساتھ معاملہ کیا کرنا چاہئے سواس کو ایک مثال سے سمجھ لیجئے جیسے ایک سیدھا ہو اور اس کے سید ہونے میں اختلاف ہوتواس کا درجہ ثبوت تومحض احتمال ہے اور اس کے ساتھ معاملہ ہرشق میں احتیاط کا کیا جاوے گا مثلا اس کا احترام بھی کیا جاوے گا اور اس کو زکوۃ بھی نہ دی جاوے گی اورجوشخص یہ احتیاط نہ کرے اس سے نزاع بھی نہ کیا جاوے گا ۔ دیکھئے سعد بن وقاص کے بھائی عتبہ نے حضرت سعد کو زمعہ کی لونڈی سے جوان کا لڑکا پیدا ہوا تھا وصیت کی تھی کہ اس پرقبضہ کرلینا وہ میرے نطفہ سے ہے مگرحضور ﷺ نے الولد للفراش کے قاعدہ سے وہ لڑکا ان کو نہیں دیا لیکن اشتباہ کے سبب حضرت سودہ کو اس لڑکے سے پردہ کرنے کاحکم دیا سو اس واقعہ میں حضورﷺ نےاس قدر ضعیف احتمال پر احتجاب کا وہ معاملہ کیا جیسا کہ اصل کے ساتھ یعنی عتبہ سے اس لڑکے کا نسب ثابت ہوتا معاملہ کیا جاتا آج سمجھ میں آیا یہ دونوں باتیں آج ہی سمجھ میں آئیں آپ نے سوسمار نہیں کھایا اس احتمال پرکہ یہ کوئی امت مسموخہ نہ مگر چونکہ اس وقت تک یہ محض احتمال کے درجہ میں تھا اس لئے دوسرون کو منع بھی نہیں کیا دیکھئے آپ نے اپنی ذات کے لئے احتمال کے ساتھ وہ معاملہ کیا جوحقیقت کے ساتھ کیاجاتا مگر دوسروں کو مجبور نہیں کیا اسی طرح یہاں پربھی دوسروں کو اس جبہ سے برکت حاصل کرنے پرمجبورنہ کیا جاوے اور خود اگرچاہے برکت حاصل کرے اورمیں نے ایک اور صاحب کے سوال کے جواب میں یہ بھی لکھا ہے کہ تعزیوں کو اس پرقیاس نہ کیا جاوے کیونکہ وہاں مانع شرعی موجود ہے کہ یہ آلہ ہے شرک اورکفر کا ایک شخص نے حضرت حاجی صاحب رحمتہ اللہ علیہ کو اس طرح خواب میں دیکھا کہ حضرت جلال آباد کا یہی جبہ پہنے ہوئے ہیں حضرت مولانا محمد قاسم صاحب رحمتہ اللہ علیہ نے تعبیر فرمائی کہ حضرت سنت کے متبع ہیں توحضرت کے ارشاد سے اس کو صحیح سمجھنے کی گنجائش معلوم ہوتی ہے ۔ حضرت مولانا گنگوہی رحمتہ اللہ علیہ نے میرے خط کے جواب میں اس کے متعلق تحریر فرمایا تھا کہ اگر منکرات سے خالی موقع مل جائے توزیارت سے ہرگز ہرگز دریغ نہ کریں میں نے اس میں ایک مقدمہ اور ملایا ہے کہ شرعی مخدوم بھی نہ ہوزیارت کرنے میں اس مقدمہ کوملانے کے بعد مطلق زیارت کرنے میں جبکہ منکرات سے پاک ہو کوئی قباحت نہیں رہتی ۔
حضرت شاہ عبدالعزیزصاحب رحمتہ اللہ علیہ نے ایسی چیزوں کے متعلق کسی تحریرمیں جس کی تعیین یاد نہیں فرمایا ہے کہ جب حضور ﷺ کا نام آگیا توہمیں احترام ہی کرنا چاہئے اوراس جبہ کے متعلق بعض اوقات اس کے خدام میں مشہور ہیں مثلا کوئی شخص زیارت کو آیا اورمخلص نہ ہوتو قفل نہیں کھلتا دوسرے وقت کھل جاتا ہےاور ایک برکت توخاص معلوم ہوتی ہے وہ یہ کہ اس کے جوخدام ہیں وہ لالچی نہیں اگر کوئی کچھ بھی نہ دے تو غریب زیارت کراکرچلے جاتے ہیں جوکھانے کو دیا کھالیتے ہیں خود وہ بھی طلب نہیں کرتے ۔ ایک شخص تھے حاجی عبدالرحیم میرے بھائی کے کارندہ وہ بیان کرتے تھے کہ ایک شخص غریب آدمی تھا اس کو کچھ ضرورت ہوئی کہیں سے ادھار نہیں ملا تو اس نے قرآن شریف لے جاکر ایک ہندو سے کہا کہ اس کو رکھ لو اور دو روپیہ دیدو اس نے بڑے ادب واہتما م سے لے لیا اوردو روپیہ دیئے جب اس شخص میں وسعت ہوئی تو یہ اس ہندو کے پاس گیا اور کہا کہ یہ روپیہ لیلو اور قرآن شریف دیدو اس ہندو نے ہاتھ جوڑکر کہا کہ اگر لیجاؤ توتمہارا قرآن ہے لیکن اگرچھوڑدو تو بڑا احسان ہوگا جس روز سے یہ قرآن دکان میں آٰیا ہے بڑی برکت معلوم ہوتی ہے اور اس جبہ میں اورتغریوں میں فرق بیان کرتے ہوئے یہ بھی فرمایا کہ یہ تو تغریوں کا حکم اصلی ہے باقی بعض عوارض کی وجہ سے یہ بدل بھی جاتا ہے اس کے متعلق ایک واقعہ بیان فرمایا کہ ایک گاؤں ہے کانپور کے ضلع میں گجنیر پورپ میں وہاں کے لوگوں کے متعلق شدھی ہونے کی خبرسنی تھی میں اس گاؤں میں ایک مجمع کے ساتھ گیا اوراس باب میں ان لوگوں سے گفتگو کی ان میں ایک شخص تھا جوذرا چودھری سمجھا جاتا تھا میں نے اس کو بلا کردریافت کیا کہ سنا ہے کہ تم شدھی ہونےکو تیار ہو اگرتم کواسلام میں کچھ شک ہوہم سے تحقیق کرلو اس نے کہا کہ میرے یہاں تعزیہ بنت ہے ( بنتا ہے ) پھرہم ہندو کا ہے کوہونے لگے میں نے اس کو تغریہ کی اجازت دیدی کیونکہ یہاں عارض کے سبب یہ بدعت وقایہ تھی کفرکی اور میری اس اجازت کا ماخذ ایک دوسرا واقعہ تھا کہ اجمیر میں حضرت مولانا محمد یعقوب صاحب رحمتہ اللہ علیہ نے اہل تعزیہ کی نصرت کا فتویٰ دیدیا تھا قصہ یہ تھا کہ مولانا ایک زمانہ میں اجمیر تشریف تشریف رکھتے تھے عشرہ محرم کا زمانہ آیا اور غالبا ایک درخت کے نیچے سے تعزیہ کے گذرنے پرشیعی صاحبان اور ہندوں میں جھگڑا ہوا اب صورت یہ تھی کہ اگرتنہا شیعی صاحبان مقابلہ کریں توغلبہ کی امید نہ تھی اس لئے کہ ان کی جماعت قلیل تھی اورہندوں کی کثیر اس بناء پرشہر اجمیر کے عمائد مسلمان سنیوں نے مقامی علماء سے استفتا کیا کہ یہ صورت ہے ہم کوکیا کرنا چاہئے وہاں کے علماء نےجواب دیا کہ بدعت اور کفر کی باہم لڑائی ہے تم الگ رہنا چاہئے پھراہل شہر جمع ہوکر مولانا کے پاس آئے اورکل واقعہ عرض کیا اور کفر کی لڑائی ہے مگر یہ بھی تودیکھنا ہے کہ کیا ہندواس کو بدعت سمجھ کر مقابلہ کررہے ہیں یا اسلام سمجھ کرمقابلہ کررہے ہیں سویہ بدعت اور کفر کی لڑائی نہیں بلکہ اسلام اور کفر کی لڑائی ہے یہ شیعی صاحبان کی شکست نہیں بلکہ اسلام اور مسلمانوں کی شکست ہے لہذا اہل اتغریہ کی نصرت کرنا چاہئے اسی طرح تعزیہ بدعت ضرورہے لیکن وہاں میں نے اس کووقایہ کفر سمجھ کراجازت دیدی ہمارے بزرگ بحمداللہ جامع بین الاضداد تھے جو محقق کی شان ہوتی ہے ۔
(ملفوظ 201)احکام ومسائل میں اپنی رائے دینے کا مرض :
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ یہ مرج آج کل بہت عام ہوگیا ہے کہ احکام اور مسائل میں رائے لگاتے ہیں جس کا مطلب یہ ہوا کہ شریعت مقدسہ کو اپنے تابع بنانا چاہتے ہیں کہتے ہیں ہمارے خیال میں یوں ہونا چاہئے اس بدفہمی کا کیا علاج کہ خالق کے مقرر کردہ احکام میں رائے زنی کرتے ہیں ۔ ارے تم ہو کیا چیز اور تمہارا خیال ہی کیا ہے یہ تو ایسا ہے جیسے ایک دانسشمند انسان کی رائے پرچند بھنگے مل کررائے دیں یا پانی کے اندر جوخرد بین سے کیڑے نظرآتے ہیں وہ کسی دانشمند انسان کی رائے کے مقابلہ میں اپنی رائے پیش کریں اور اپنے خیال کا اظہار کریں سو جونسبت ان کیڑوں کو انسان سے ہوگی بندوں کو حق تعالٰٰی سے اتنی نسبت بھی نہیں ان کی ذات وراءالوراء ہے چہ نسبت خاک رابعالم پاک ہی لوگوں کی نسبت کہا گیا ہے
گربہ میروسگ وزیروموش رادیواں کنند ایں چنیں ارکان دولت ملک راویراں کنند
( بلی کو صدر سلطنت اور کتے کو وزیراعظم اور چوہے کو وزیرمملکت بنادیں توایسے ارکان دولت ملک کوویران کردیں گے )
واقعی بات یہ ہے کہ حق تعالٰی خود اپنے دین کے محافظ ہیں ورنہ نہ معلوم اگران اہل الرائے کے قبضہ میں اسلام اور احکام ہوتے توان کی کیا گت بناتے وہ تو غنیمت ہے ان کے قبضہ میں کچھ ہے نہیں چنانچہ حق تعالٰی فرماتے ہیں انا نحن نزلنا الذکر وانا لہ لحافظون ۔ ( ہم نے قرآن کو نازل کیاہے اورہم اس کے محافظ ہیں ۔ 12)
سوجب دین کے وہ خود محافظ ہیں بھلا اس کو کون مٹاسکتے ہے گوان بدفہموں نے تو مٹانے میں کوئی کسراٹھا نہیں رکھی اس لئے کہ ان کا مکراور دام کچھ کم نہیں اسی کو فرماتے ہیں
چراغ راکہ ایزد برفرد زد، ہر آنکس تف زندریشیش بسوزد (جس چراغ کوحق تعالٰی روشن فرمادیں اس کے بجھانے کی جوکوشش کرے گا اس کی داڑھی جل جاوئے گی ۔ 12)
اور فرماتے ہیں
اگر گیستی سراسر بادگیرد چراغ مقبلاں ہر گز نہ میرد
( اگر تمام روئے زمین میں آندھیاں آجاویں تب بھی خاصان خدا کا چراغ گل نہ ہوگا )
15/ ربیع الاول 1351ھ مجلس خاص بوقت صبح یوم پنجشنبہ
(ملفوظ 200)بدعتی لوگ ہمیشہ دوسروں پراعتراض کرتے ہیں :
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ بدعتی لوگ ہمیشہ دوسروں ہی اعتراض کرنے میں مشغول رہتے ہیں مگرکوئی مفید بات یا کام کبھی نہیں کرتے ان کے یہاں چند چیزیں ہیں جن کو مایہ ناز سمجھتے ہیں مگر دین ان میں بھی نہیں ہوتا نہ فہم سے کام لیتے ہیں ایک مرتبہ کا نپور میں میں نے وعظ میں گیارھویں کے متعلق بیان کیا اس میں ایک انسپکڑ پولیس بھی شریک تھے بعد وعظ کے مجھ سے کہا کہ ہماری بڑی مشکل ہے فلاں فلاں عالم تو اس کو جائز کہتے ہیں اور تم اس کو بدعت کہتے ہو ہم کیا کریں میں نے کہا کہ اس کا جواب بعد میں دوں گا پہلے یہ بتلایئے کہ آپ کو تردد رفع کرنا ہے یا اعتراض کرنا مقصود ہے کہا کہ تردد رفع کرنا مقصود ہے میں نے دریافت کیا کہ تردد تو دونوں ہی جانب ہونا چاہئے سوجیسے مجھ سے اس وقت کہا گیا ہے کبھی ان مجوزین ( جائز کہنے والوں ) سے بھی اس طرح کہاہے کہ فلاں فلاں منع کرتے ہیں اور آپ اجازت دیتے ہیں ہم کیا کریں ، بس داروغہ جی ختم ہوگئے ۔
(ملفوظ 199) صفائی معاملات میں بڑی راحت ہے :
ایک صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ معاملہ کی صفائی بڑی راحت کی چیز ہے مگر لوگ اس سے برا مانتے ہیں یہ سب رسم کی خرابی ہے اور بدمعاملگی سے تکلیف سب کو ہوتی ہے مگر بے حسی ہوگئی ہے ان ہی باتوں کو میں مٹانا چاہتا ہوں اسی بدخلق مشہور کیا جاتا ہوں اب میں اکیلا کہاں تک اصلاح کروں ۔ یک اناروصد بیمار کا مصداق ہورہا ہے مگر پھر بھی بحمد اللہ بہت کام ہوگیا اور گو عمل عام نہ ہوا ہومگر علم تو بہت عام ہوگیا اوراس اصلاح میں میں سب مصلحین کا جو ساکت ہیں وقایہ بن گیا ورنہ سب ہی بدنام ہوتے اب اور حضرات تواپنے اخلاق متعارفہ کی وجہ سے لوگوں کو کچھ کہتے نہیں اور میرے اندر یہ اخلاق متعارفہ بحمداللہ ہیں نہیں اس لئے میں ہی روک ٹوک کرتا ہوں اس لئے مجھ کو ہی بدنام کرتے ہیں مگر مجھ کو اس کی پرواہ نہیں کیا کریں بدنام ہوتا کیا ہے ان کے بدنام کرنے کی وجہ سے میں اپنا مسلک اور اپنا طرز تھوڑا ہی بدل سکتا ہوں جس کو یہ طرز پسند نہ ہو وہ یہاں نہ آئے بلانے کون جاتا ہے بقول غالب
ہاں وہ نہیں وفا پرست جاؤ وہ بے وفا سہی جس کو ہوجان ودل عزیز اسکی گلی میں جائے کیوں
(ملفوظ 198)تحریک کی بدولت ایک صاحب کی بربادی :
فرمایا کہ ایک خط آیا ہے جن صاحب کا یہ خط ہے پہلے سرکاری ملازم تھے
اس تحریک کی بدولت ملازمت سے مستعفیٰ ہوگئے اب ملازمت تلاش کرتے ہیں مگرنہیں ملتی پریشان ہیں دین اور دنیا دونوں برباد ہوئے اوراس کانگریس کی وجہ سے توہر شخص پریشان ہے یہ کانگریس کی نحوست کا اثرہے اور دور تک اس کی نحوست پھیل رہی ہے میں تو کہا کرتا ہوں کہ انگریزوں کو تو خواہ نقصان پہنچا ہو یا نہیں مگر ملک توتباہ برباد ہو گیا جا بجا خونریزی ہورہی ہے بعض لوگ کہتے ہیں کہ سوراج مل جائے گا امن ہوجائے گا میں کہتا ہوں کہ خونریزی اور فساد بڑھے گا امن کو لوگ ترس جائیں گے آثار یہی کہہ رہے ہیں ۔

You must be logged in to post a comment.