ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ میں عرض کروں دوسروں سے تو میں کیا خدمت لے سکتا ہوں اور کسی کوکیا ستا سکتا ہوں میں نے تو اپنے تنخواہ دارملازموں تک سے کہ رکھا ہے کہ جوکام نہ کرسکو صاف کہدو کہ ہم نہیں کرسکتے مجھ کو اس پرکوئی ناگواری نہ ہوگی چنانچہ بعضے کام سے وہ بے تکلف انکارکردیتے ہیں جس سے مجھ کو بحمداللہ کوئی ناگواری نہیں ہوتی تو جس شخص کا اپنے تنخواہ دار ملازموں کے ساتھ یہ برتاؤ ہو وہ دوسروں سے تو کیا کام اورخدمت لے سکتا ہے اسی لئے میں قریب قریب سب کام اپنے ہاتھ سے کرتا ہوں مجھ کو اس کا بے حد خیال رہتا ہے کہ کسی کو میری وجہ سے تکلیف نہ ہو ۔
(ملفوظ 196)حسن معاشرت کی تعلیم :
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ آج کل بدفہمی اوربدعقلی کا ایسا بازارگرم ہے کہ اچھے خاصے لکھے پڑھے لوگ ان علتوں میں مبتلا ہورہے ہیں ایک صاحب جویہاں دو تین روز سے مقیم تھے اوریہاں سے ابھی گئے ہیں دوپہر مجھ سے کہتے ہیں کہ فلاں فلاں کام کے لئے ایک تعویذ کی ضرورت ہے اور میں آج ہی چلا جاؤں گا مجھ کو بہت ہی ناگوار ہوا میں نے کہا کہ یہ کیا نامعقول حرکت ہے آخر کئی روز سے تمہارا قیام تھا عین چلنے کے وقت اوروہ بھی بے وقت تعویز کی فرمائش مگر خیر چونکہ نووارد تھے اتنی رعایت میں نے ان کی اب بھی کی کہ یہ کہہ دیا کہ بذریعہ خط تعویذ منگالینا اور ان بیچاروں کی کیا شکایت کی جاوے بعض لوگ یہاں پردس دس پندرہ پندرہ روز رہتے ہیں اورعین چلنے کے وقت دوتعویذ دیدو چارتعویذ دیدو میں کہتا ہوں کہ پہلے سے کیا مرگئے تھے جوچلتے وقت فرمائش کی آخر دوسرے کو بھی کچھ وقت دینا چاہئے اس کے مصالح اوروقت کی بھی تورعایت کرنی چایئے اس لئے کہ بعض وقت کسل ہوتا ہے یازیادہ مشغولی ہوتی ہے افسوس ہے میں توہربات میں سب کے مصالح کی رعایت کروں اوریہ ایسے نواب صاحب ہیں کہ ان کے حکم ہی کے ساتھ تعمیل ہوجاوے ایسی تعمیل توجہاں ہوتی ہوگی یہاں پرتوبجائے تعمیل کے بحمد اللہ تعلیم ہوتی ہے دماغوں میں سے خناس نکالا جاتا ہے بالخصوص یہاں پرمتکبروں کی اچھی طرح خبرلی جاتی ہے میں تواسی حسن معاشرے کی تعلیم پرکہا کرتا ہوں کہ یہاں پرآکردین توسیکھتے ہی ہو یہاں سے دنیا بھی سیکھ جاؤ ۔
(ملفوظ 195)ظاہراورباطن دونوں کی ضرورت:
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ اورفنون توسب مشکل ہیں اورحاصل بھی دیر میں ہوتے ہیں مگریہ آج کل کی بزرگی اورصوفیت اوردرویش تواس سہل ہیں کہ ہلدی لگے نہ پھٹکری کچھ کرنا پڑے نہ دھرنا درویش ہوجاتے ہیں ، جہاں گردن جھکائی اورآنکھیں بند کیں اور کپڑے رنگے لٹیں بڑھائیں یا کفنی پہنی تسبیح ہاتھ میں لی بس درویش ہوگئے شاہ صاحب گائے جانے لگے ۔ غالبا حضرت حاجی صاحب رحمتہ اللہ علیہ فرماتے تھے کہ دورویشی دوپیسہ میں ملتی ہے ایک پیسہ کا گیرواورایک پیسہ کی تسبیح لیکردرویش ہوگیا آنکھ بند کرنے اورگردن جھکانے پرایک لطیفہ یاد آیا کہ ایک مرتبہ مولانا رفیع الدین صاحب
کے مزار پرگئے اسی سفر میں ایک مقام ہے براس مشہور ہے کہ وہاں بعض قبور انبیاء علیھم السلام کی ہیں وہاں بھی تشریف لے گئے چند طلباء بھی ہمراہ تھے منجملہ اوروں کے میں بھی تھا مولانا ان مزاروں پرپہنچ کرمراقب ہوکر بیٹھ گئے بعضے طالب علم بھی حضرت مولانا کے پیچھے گردن جھکا کر آنکھ بند کرکے بیٹھ گئے میں نے ان سے کہا کہ باطن کی تو پہلے ہی سے آنکھیں چھوٹی ہوئی تھی مگرظاہر کی بھی پھوڑبیٹھے بس آج کل یہی ہورہا ہے یہی چیزیں معراج ترقی ہیں باطن کا منکرنہیں لیکن باطن کے ساتھ ظاہرشریعت بھی تو ہو جس کو آج کل کی درویشی میں بیکار قراردے لیا گیا ہے نہ نرے ظاہرہی سے کچھ بنتا ہے نہ نرے باطن سے دونوں کی ضرورت ہے ۔
(ملفوظ 194) پیٹ کے درد کا دم :
ایک صاحب نے پیٹ کے درد کے لئے تعویذ کی درخواست کی فرمایا تفسیر حسینی میں نقل کیا ہے کہ ایک بزرگ تھے محمدواسع ان کے کہیں درد ہوا خادم کو حکم دیا کہ طبیب کوبلا لاؤ ، طبیب نصرانی تھا خادم اس کو بلانے جارہاتھا راستہ میں حضرت خضرعلیہ السلام ملے دریافت فرمایا کہ کہاں جارہے ہو غرض کیا کہ فلاں بزرگ کے دور ہے طبیب کوبلانے جارہا ہوں فرمایا جاؤ ان بزرگ سے میرا سلام کہو اورکہ دو کہ تم کومناسب نہیں نصرانی طبیب سے رجوع کرنا اور یہ آیت دم کردیں ۔ وبالحق انزلنہ و بالحق نزل وما ارسلنک الا مبشرا ونذیرا (اور ہم نے اس قرآن کو راستی ہی کے ساتھ نازل کیا اوروہ راستی ہی کے ساتھ نازل ہوگیا اور ہم نے آپ کو صرف خوشی سنانے والا ڈرانے والا بناکر بھیجا ہے ۔ 12) پھرفرمایا کہ میں ایسے مواقع کیلئے اکثر یہی آیت اورکبھی کوئی دعاء حدیث شریف کی لکھ کردیتا ہوں میں اس فن سے واقف نہیں یہ ایک مستقل فن ہے نیز ان تعویز گنڈوں سے مجھ کو بڑی ہی وحشت ہوتی ہے مگر حضرت حاجی صاحب رحمتہ اللہ علیہ کے ارشاد کی وجہ سے کہ انہوں نے فرمایا تھا کہ جوکوئی اس حاجت کے لئے آیا کرے جوبھی جی میں آئے اللہ کا نام لکھ کردیدیا کرنا کچھ دیدیتا ہوں ورنہ طبعا چیزوں سے مجھ کو مناسبت نہیں ۔
(ملفوظ 193)گناہوں کی بدولت نئی نئی بیماریاں :
ایک صاحب نے عرض کیا کہ حضرت آج کل ایسے ایسے امراض پیدا ہو رہے ہیں جن کے سمجھنے سے طبیب بھی قاصر ہیں فرمایا کہ حدیث شریف میں بھی توآیا ہے کہ گناہوں کی بدولت تمہارے اندر ایسے ایسے امراض پیدا ہوں گے جو کبھی تمہارے باپ دادا نے بھی نہ سنے ہوں گے ۔
(ملفوظ 192)ظاہر رونق سے طبعی نفرت :
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ اس بدفہمی اور بدعقلی کا میرے پاس کیا علاج ہے کہ ہرایک شخص کو اس کے کام سے میرے جلد فارغ کردینے پربھی سمجھتے ہیں کہ یہ روکھا پن ہے کیونکہ زیادہ باتیں کیوں نہیں کیں جس کی وجہ یہ ہے کہ میں کسی سے فضول تعلقات بڑھانا محض مجلس کی وزینت ہے سویہ کام کون کیا کرے بعض طالبان جاہ آنے والوں کے کام میں اس وجہ سے بھی دیرکیا کرتے ہیں کہ تھوڑی دیرمجلس آرائی توہوگی رونق بڑھیگی مگر مجھ کو ان باتوں سے طبعی نفرت ہے ۔ ظاہری رونق نہ ہونے کی حالت میں جوباطنی رونق ہوتی ہے اس سے ان لوگوں کا قلب خالی ہے جب ہی توایسی باتیں سوجھتی ہیں میں توبڑی رونق یہ جانتا ہوں اوریہی چاہتا ہوں کہ ایک دوسرے کوکوئی تکلیف نہ ہو اور یہ مذہب ہو۔
بہشت آنجاکہ آزارے نباشد کسے را با کسے کارے نباشد
( وہی جگہ بہشت سے جہاں کسی کوکسی سے کوئی تکلیف نہ ہو اور کسی کوکسی کی احتیاج نہ ہو)
(ملفوظ 191)تعویذ منگوانے والے کی بدفہمی :
فرمایا کہ آج ایک خط آیا تھا دوپہرہی جواب لکھ کرروانہ کرچکا ہوں اس میں لکھا تھا کہ ایک آسیب کا تعویذ چاہئے لیکن لفافہ پرنہ خود پتہ لکھا نہ اس پرٹکٹ چسپاں کیا اس بدفہمی کو ملا حظہ فرمایئے اب کہاں تک بیٹھا ہوا ان کی کوتاہیوں کی تاویلیں کیا کروں کوئی حد بھی ہے پتہ لکھنا اور ٹکٹ چسپاں کرنا یہ میرے ذمہ رکھا میں نے یہ لکھ دیا ہے کہ تم پرخود آسیب ہے جس نے تمہارے دماغ کو محبوط کررکھا ہے پہلے اپنا علاج کرو تمہیں ااتنی تمیز نہ ہوئی کہ جب تم لفافہ پر پتہ لکھ سکتے تھے ٹکٹ چسپاں کرسکتے تھے تو ایسا کیوں نہیں کیا جب تم نے اپنے کرنے کا کام نہیں کیا تومجھ سے کسی کام کی امید کرنا یہ کم عقلی اور ندفہمی نہیں تواور کیا ہے اس کے بعد فرمایا کہ گالیاں توبہت دیں گے خیردیا کریں آخرایسی حماقت کرتے کیوں ان بیفکروں کو ذرا حقیقت کا پتہ توچلے اور یہ تومعلوم ہوکہ جس سے خدمت کیا کرتے ہیں اس کی بھی کچھ رعایت کیا کرتے ہیں اور اس کے بھی کچھ حقوق ہوتے ہیں ۔
(ملفوظ 190)مشورہ دینے سے معذوری کا سبب:
ایک صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ مشورہ دینے کے متعلق میرا یہ معمول ہے کہ اکثر لوگوں کے سوال کے جواب میں لکھ دیتا ہوں کہ مصالح کا استیعاب (احاطہ ) نہیں جومدار ہوتے ہیں مشورہ کے اس لئے دینے سے معذور ہوں ۔
(ملفوظ 189)خواب کے بارے میں لوگوں کا غلو:
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ آج کل لوگوں کو بڑا مرض ہے ان میں سے ایک خواب ہی کا سلسلہ ہے اس میں اکثر لوگوں کو غلو ہے میں تواکثر جواب میں لکھ دیتا ہوں کہ مجھ کو اس فن سے مناسبت نہیں اس لئے تعبیرسمجھ میں نہیں آئی خواب کی باتیں پوچھتے ہیں بیداری کی کوئی بات ہی نہیں رہی جواصل چیز ہے کیا خبط ہے ۔
(ملفوظ 188)مشورہ لینے والوں کی دو قسمیں :
ایک صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ آج کل بزرگوں سے مشورہ لینے والے اکثر دو قسم کے لوگ ہیں ایک وہ جن کے عقیدہ میں غلو ہے وہ ان کے مشورہ کو قضاء مبرم سمجھتے ہیں کہ جوبزرگ کی زبان سے نکلے گا وہی ہوگا گو اس کو برکت کے الفاظ سے تعبیر کرتے ہیں مگر عقیدہ برگت سے بہت آگے بڑھا ہوا ہے اورایک وہ ہیں کہ پہلے سے اس بات کو طے کرچکتے ہیں اورمشورہ محض اس وجہ سے لیتے ہیں تاکہ رائے تو اپنی رہے مگر کسی مصلحت سے ان کی طرف منسوب ہو اس لئے میں نے مشورہ دینا ہی چھوڑدیا ۔

You must be logged in to post a comment.