(ملفوظ 187)چشتیہ کا پہلا قدم فنا ہے :

ایک صاحب نے عرض کیا کہ حضرت اکثرلوگوں کی عادت ہے کہ سفرکے وقت عمدہ کپڑے بدل کرچلتے ہیں اور بعض گھرپہنچ کر بدلتے ہیں فرمایا کہ جس طرح جی چاہے کرلے مگردونوں صورتوں میں منشا تفاخرو کبرنہ ہو اور بھائی ہم تو چشتی ہیں ہمارا تو پہلا قدم فناء ہے اوروں کے یہاں تو پہلے اور چیزیں ہیں بعد میں فنا ہے اور ہمارے یہاں پہلے فنا ہے بعد میں اور چیزیں ہیں ۔

(ملفوظ 186) یورپ کی تقلید اور تہذیب اختیار کرنے پراظہار افسوس :

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ زیادہ زیب وزینت کا صدور مرد سے برا ہے یہ عورتوں ہی کے لئے اچھی معلوم ہے اور اب تو وہ زمانہ ہے کہ عورتوں نے یورپ کی تقلید میں زیور اور لباس میں مردانہ طرز اختیار کرلیا اورمردوں نے زینت میں عورتوں کا طرزاختیار کرلیا عورت اگر آدھ گھنٹہ میں سنگار سے فراغ حاصل کرسکتی ہے تو مرد صاحب فیشن کی درستی سے ایک گھنٹہ میں فراغ حاصل کر سکیں گے پھر کہتے ہیں کہ ہم آزاد ہیں ہزاروں زنجیروں میں توجکڑے ہوئے فیشن کے دلدادہ اور آزادی کا دعوی شرم آنا چاہئے اتنی بڑی تو قید کہ سرسے پیر تک قیود ہی قیود اور دعوٰی یہ کہ آزاد ہیں ہاں اللہ رسول کے احکام سے آزادی کا اگر دعوی کریں تو بلکل صحیح ہے دوسرے خوش لباسی میں غلو کا ادنی اثریہ ہے کہ عالی مرتبہ لوگوں کی نظر میں موجب تحقیر ہوجاتی ہے ایسی فضولیات اور عبث میں وہی شخص مبتلا ہوسکتا ہے جوکمالات سے کورا ہو بس اسی سے تحقیر ہوتی ہے میں جس وقت کسی کو ایسے تکلفات میں منہمک دیکھتا ہوں سمجھ جاتا ہوں کہ یہ عالی خیالات سے خالی ہے جب ہی توان ادنی باتوں کی طرف اس کا میلان ہوا مگرآج کل یہ مرض اچھے لوگوں تک میں ہوگیا ۔

(ملفوظ 185)لوگوں کی بے پرواہی کا سبب :

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ اس پرقدرت توہے کہ میں نئے آنے والوں سے خود اہتمام کرکے پوچھ لیا کروں کہ کس کام کوآئے ہیں مگر بعض اوقات غیرت آتی ہے کہ صاحب حاجت تو نواب بنا بیٹھا رہے اور میں محتاجوں کی طرح ان سے التجا کروں اور لوگوں کی اس بے پرواہی کا سبب ان کے دلوں میں ملانوں کی بے وقعتی ہے بات توبظاہر چھوٹی سی ہے مگر منشاء اس کا برا ہے اور منکربات کے چھوٹی ہونے کی مثال ایسی ہے کوئی شخص چھوٹا سا پرانی جوتی کا ٹکڑا اٹھا کر کسی دوسرے شخص کے سرپر رکھ دے اور وہ اس پربگڑے تو اس کو کوئی کہے کہ یہ چھوٹی سی چیز ہے اس قدر کیوں بھگڑتے ہو وہ شخص جواب دے گا وہی ہماری طرف سے سمجھ لیا جائے اور میں پوچھتا ہوں کہ اچھا چھوٹی ہی بات سہی مگر آخر پیدا ہی کیوں ہوئی اور حق ہی کیا ہے ان بیہودوں کو مسکینوں غریبوں ملانوں کو حقیر سمجھنے کا ۔

(ملفوظ 184)قنوت نازلہ ایک ماہ تک پڑھنے کا جواز :

ایک مولوی صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ میں مدت سے خود اس مسئلہ کی تلاش میں تھا کہ قنوت نازلہ اگرپڑھے توکب تک پڑھا کرے بہت سے علماء سے دریافت کیا کسی نے شافی جواب نہیں دیا اب بحمداللہ حدیث سے سمجھ میں آگیا کہ حضورﷺ سے ایک ماہ سے زائد منقول نہیں حالانکہ حوادث بعد میں بھی باقی رہتے تھے اس سے زیادت زیادت علی المنقول ہے رہا یہ شبہ کہ جب حوادث رفع نہ ہوں تو دعاء کیسے منقطع کردی جاوے اس کا جواب یہ ہے کہ ایک ہی مہینہ تک پڑھنے کی برکت سے ان شاءاللہ رحمت ہوجائے گی نیز عقلا اس کو اس طرح سمجھ لیجئے کہ اگر کسی پرکوئی حادثہ آجائے تو کیا جب تک وہ حادثہ رہے برابر ہاتھ پھیلائے بیٹھا رہے یہ تکلیف مالایطاق کیسے ہوسکتی ہے آخر انقطاع گواوقاب خاصہ کے لئے یہاں بھی پایا گیا تو نفس انقطاع کی مشروعیہ ثابت ہوگئی باقی ویسے مثل دوسری دعاؤں کے دعاء کرتے رہنا مسنونہ ہے کلام دعا بضمن قنوت میں ہے ۔
14/ ربیع الاول 1351ھ مجلس بعد نماز ظہر یوم چارشنبہ

(ملفوظ 183)زمانہ تحریکات وفودتھا نہ بھون سے سکوت لے کرگئے :

ایک صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ بہت لوگوں نے اس زمانہ تحریک میں تبادلہ خیالات کے لئے یہاں پرآنا چاہا اوربعضے آئے بھی مگر بحمداللہ کچھ دے کرتوگئے نہیں ( یعنی تحقیق ) لے کرہی گئے ( یعنی سکوت ) بعض وفود بھی آنے کیلئے تیارہوئے چنانچہ میرٹھ سے ایک وفد آنے والا تھا بیرسڑ وغیرہ اس کے ارکان تھے کسی نے ان سے کہ دیا کہ جاتورہے ہو دوسرے کو جذب کرنے کے لئے مگر ذرا اپنی خیرمنانا کہیں وہاں جا کرتم ہی ویسے نہ ہوجاؤ نہ معلوم اس مشورہ کا کیا اثر ہوا پھر نہیں آئے ایک سندھی مولوی صاحب نے جوان سے مرید تھے ان سے کہا کہ حضرت کبھی آپ ہی ویسے نہ ہوجائیں وہ بھی نہ آئے ایک اور مولوی صاحب نے ایک مجمع کی طرف سے آئے آنے کے قبل بواسطہ ان سے یہ گفتگو ہوچکی تھی کہ اپنے کی تین غرضیں ہوسکتی ہیں ایک افادہ ایک استفادہ ایک مناظرہ ۔ اگرافادہ مقصود ہے تومیرے ذمہ اس کا جواب نہ ہوگا وہ تبلیغ ہوگی اپنا فرض ادا کرکےتشریف لے جایئے عمل کرنا نہ کرنا میری توفیق پرہے اور اگر استفادہ مقصود ہے تو اس کے لئے پہلے سے تردد لازم ہے اور تردد آپ کوہے نہیں اس لئے کہ شرکت کرچکے شرکت کا اعلان کرچکے یہ شق قایل کو تسلیم نہیں رہا مناظرہ اس میں بے تکلفی شرط ہے سو مجھ میں اورآپ میں پہلے سے بے تکلفی نہی وہاں سے جواب آیا جو چاہو سمجھو آنے کی اجازت دیدو میں نے اجازت دے دی وہ آئے اور درخواست کی کہ مجھ کو تنہائی میں کچھ کہنا ہے میں نے کہا کہ جلوت میں گفتگو کرنے میں تو آپ کے لئے خطرہ ہے کہ آپ کے اسرار ظاہر ہوں گے مگر آپ اس خطرہ کیلئے تیار ہیں اور خلوت میں میرے لئے خطرہ ہے کہ مجھ پراشتباہ ہوگا مگر میں اس کے لئے تیار نہیں پس آپ کے لئے خلوت اور جلوت دونوں برابرہے کیونکہ آپ اعلان کرچکے ہیں توپوں فوجوں بندقوں مشین گنوں اور جیل خانوں کیلئے تیار ہوچکے ہیں مگر میرے لئے خطرہ ہے وہ یہ کہ سمجھا جائے گا کہ گورنمنٹ کے خلاف کوئی سازش کرنے کا ارادہ ہے اس لئے جوکہنا ہو مجمع میں کہئے بس بیچارہ رہ گئے اگے طویل قصہ ہے میں نے اس کا خلاصہ عرض کیا ہے اللہ کا شکر ہے کہ اپنے فضل سے عین وقت پردل میں ضرورت کی چیز ڈال دیتے ہیں اس میں میرا کوئی کمال نہیں جس سے چاہے اپنا کام لے لیں اس ہی زمانہ تحریک میں ایک صاحب نے مجھ سے پوچھا کہ اگر مسڑمحمدعلی صاحب یہاں پر آئیں توکیا ان کو اجازت ہوسکتی ہے میں نے کہا کرآنکھوں پرآئیں مگر چند شرائط ہیں پہلے سے اس لئے ظاہر کئے دیتا ہوں کبھی آنے کے بعد ان کو خیال ہوکہ کس دیہاتی سے پالا پڑا اس لئے جوباتیں ضروری ہیں صاف صاف کہے دیتا ہوں اول شرط یہ ہے کہ آنے سے پہلے مجھ کو یہ بتلادیں کہ کس غرض سے آرہے ہیں آیا مطلق ملاقات مقصود ہے یا کہ اور کچھ اگر مطلق ملاقات مقصود ہے تو شرائط میں کمی ہوگی ورنہ شرائط زائد ہونگی اور میں اسی وقت وہ بھی بیان کئے دیتا ہوں تاکہ وہ غور کرسکیں پھر جیسے رائے ہو عمل کریں سو اول شرط ہے کہ آنے سے قبل آنے کی غرض بتلادیں ، دوئم یہ کہ جس وقت وہ یہاں پر آئیں گے میں ان کےلئے بجز اول بارکے باربار کھڑا نہ ہونگا اس لئے کہ اس طرح سے کھڑا ہونا اعتقاد تقدس کی بناء پرہوتا ہے اور میں اس میں ان کا معتقد نہیں سوئم یہ کہ زمانہ قیام خانقاہ میں ان کو اور کسی سے گفتگو کی اجازت نہ ہوگی جو کچھ بھی تعلق ہوگا وہ مجھ سے ہوگا یہ ہیں شرائط اگر یہ منظور ہوں بسم اللہ ان کا گھر ہے تشریف لے آویں اس کے بعد پھر کوئی بات نہیں معلوم ہوئی ۔

(ملفوظ 182)زمانہ تحریکات بوجہ اہمال احکام فتنہ کا زمانہ :

ایک صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ زمانہ تحریک بوجہ اہمال احکام کے بڑے فتنہ کا زمانہ تھا میں نے توصاف بزریعہ اشتہاراعلان کردیا تھا کہ یہ تحریک فتنہ ہے اس اعلان ہی کی وجہ سے زیادہ دشمنی لوگوں کے دلوں میں پیدا ہوگئی تھی اس لئے کہ وہ اس کو دین سمجھ رہے تھے میں نے فتنہ کہہ دیا بعض لوگوں نے مجھ سے بیان کیا کہ یہ معترضین یوں کہتے ہیں کہ اس کی وجہ سے لاکھوں مخلوق بیٹھی ہوئی ہے میں نے سن کر کہا کہ بلکل غلط ہے میں ہی لاکھوں مخلوق کی مصلحت کی وجہ سے بیٹھا ہوا ہوں اور اس کی شرح یہ ہے کہ اگر بروز قیامت حق تعالٰٰی نے مجھ سے سوال فرمایا کہ جس مسئلہ کوتو سمجھا نہ تھا اس میں کیوں شرکت کی جس کی وجہ سے ہماری لاکھوں مخلوق تباہ اور پریشان ہوئی تو میرے پاس اس کا کوئی جواب نہیں باقی ان عوام شرکاء میں زیادہ وہ لوگ ہیں جن کو نہ عاقبت کی فکر نہ خدا کا دل میں خوف نہ اللہ رسول سے محبت بس ایک ہی چیز دل میں بسی ہوئی ہے یعنی دنیا اور اس کی ترقی ان کی سمجھ میں نہیں آتا کہ ترقی کے کچھ حدود بھی ہیں یا نہیں کیونکہ ایسی ترقی کہ جس میں نہ حدود کے تحفظ کا خیال ہو نہ احکام پرعمل کرنے کی کوئی پرواہ ہو ایسی ترقی کیا ترقی ہے میں نے ایک مرتبہ لکھنؤ ایک وعظ میں جس میں نئے تعلیم یافتہ اور بیرسڑ اور وکلاء کا زیادہ مجمع تھا بیان کیا تھا کہ ترقی ترقی گاتے ہو آخراس کے کچھ حدود بھی ہیں اوراس کا کوئی معیار بھی ہے یا نہیں کیا ہرترقی کوگو اس کے نہ اصول ہوں نہ قواعد سب ہی کو محمود سمجھتے ہواگر یہ بات ہے تو پھر مرض کی وجہ سے جو مریض کے جسم پر ورم ہوجاتا ہے جس سے وہ فربہ نظرآنے لگتا ہے ڈاکٹروں اور طبیبوں سے اسکا علاج کیوں کراتے ہو اور اس کو کیوں مذموم سمجھتے ہو وہ بھی تو ایک ترقی کی قسم ہے اس بیان کا ان لوگوں پربڑا اثر ہوا۔

(ملفوظ 181 ) زمانہ تحریکات میں رحمت خداوندی کا مشاہدہ :

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ زمانہ تحریک خلافت میں نے توکھلی آنکھوں حق تعالٰٰی کی رحمت اور فضل کا مشاہدہ کیا ہے مجھ کوتو کنکریوں کے بدلے جواہرات عطاء فرمائے گئے ہیں نماز کوئی پڑھے روزہ کوئی رکھے تہجد کوئی پڑھے تلاوت قرآن کوئی کرے اورثواب سب کا ملے اشرف علی کو اس لئے کہ بلاوجہ مجھ کو سب وشتم کیا گیا بہتان باندھے گئے اس کے عوض میں ان کی نیکیاں حق تعالٰی نے مجھ کوعطاء فرمائیں یہی وجہ ہے کہ میں نے سب کومعاف کردیا کیونکہ یہ تو سب میرے محسن ہیں اپنی عبادات کاثوات مجھ کو دیدیتے ہیں لوگوں نے میرا کچھ نقصان نہیں کیا نفع ہی پہنچایا اس کے مناسب ایک بزرگ کی حکایت یاد آئی کہ ان کو ایک شخص گالیاں دیا کرتا تھا یہ بزرگ اس کی مالی اعانت کیا کرتے تھے ایک روز اس نے یہ سمجھ کریہ تومیرے محسن ہیں بری بات ہے کہ میں ان کوگالیاں دوں گالیاں دینی بند کردیں اسی روز سے ان بزرگ نے اس کوجو روپیہ پیسہ دیا کرتے تھے بند کردیا اس نے سبب دریافت کیا آپ نے فرمایا کہ بھائی یہ تو تجارت ہے لینا دینا ہے تم ہم کودیتے تھے ہم تم کو دیتے تھے یعنی تم گالیاں دیتے تھے جس سے تہماری عبادت کا ثواب مجھ کو ملتا تھا تم نے میرے دین کا نفع بند کرلیا میں تمہاری دنیا کا نفع تم سے روک لیا اسی نکتہ کی وجہ سے مجھ پران برا کہنے والوں کی کسی بات کا اثر نہیں ہوتا بلکہ ان کو محسن سمجھتا ہوں صاحب ویسے تو کوئی عمل میرے پاس ہے نہیں یوں ہی دوسروں کے چندہ سے کچھ ذخیرہ آخرت جمع ہوجائے گا دنیوی زندگی بھی اسی طرح پوری ہوئی یعنی مفت خوری میں پہلے تو والد صاحب کی حیات میں ان کی کفالت کی وجہ سے کما کرنہ کھایا پھر معتقدین پیدا ہوگئے اب یہ کھلارہے ہیں میرے پاس کرنا دہرنا کچھ بھی ایسےہی آخرت کے لئے نہ کچھ کرانہ دہرا وہاں بھی مفت ہی کام بن جائےگا ۔

(ملفوظ 180)معصیت کی ظلمت :

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ میں تو کہتا ہوں کہ معصیت وہ چیزہے کہ اگراس کوکوئ چھپ کربھی کرے تواسکا ضمیرخود اس پرلعنت کرتا ہے اور اس سے اس کو جس قدر تکلیف ہوتی ہے وہ اس کے لئے سوہانے روح ہوتی ہے البتہ اگرکثرت کی وجہ سے کسی کے اندر بے حسی پیدا ہوگئی ہوتو اس کا کوئی ذکر نہیں ورنہ نوراورظلمت میں آنکھیون والے کے لئے امتیاز کرنا کوئی مشکل بات نہیں ۔

(ملفوظ 179) زمانہ تحریکات میں حضرت کو قتل کی دھمکیاں :

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ زمانہ تحریک میں لوگوں نے ستانے میں کون سی کسراٹھا رکھی تھی جوکچھ نہ کہنا تھا کہا جوکچھ نہ کرنا تھا کیا میں تو خدا کے سپرد کرکے مطمئن ہو چکا تھا ایک روز مسلمانوں کی موجودہ حالت کا مجھ پراس قدراثر ہوا کہ کھانا تک تلخ معلوم ہونے لگا اسی روز اپنی ایک حالت کا غلبہ ہوا کہ تمام دنیا ایک طرف جارہی ہے اور اس میں علماء بھی بکثرت شریک ہیں کہٰیں میں ہی تو غلطی پرنہیں اس حالت کا اس قدر غلبہ تھا کہ اس روز کھانا بھی نہیں کھایا گیا عشاء کی نماز پڑھ کرمکان پرپہنچا چارپائی پر بیٹھ کرلیٹنے کا ارادہ تھا کہ دفعتہ زبان پریہ جاری ہوگیا اب چاہے اس کو وارد سے تعبیر کرلیاجائے ۔ امنت بااللہ وملئکتہ وکتبہ ورسلہ والیوم الآخر والقدر خیرہ وشرہ من اللہ تعالٰی والبعث بعدالموت ( ایمان لایا میں اللہ پراوراس فرشتوں پر،اور اس کی کتابوں پر،اوراس کے رسولوں پر، اورقیامت پرتقدیر کی ہربھلائی اور برائی پر، کہ وہ سب اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے اور بعد موت کے اٹھائے جانے پر۔ 12) پرقلب میں ڈالا گیا کہ تم تو بعدالموت کے لئے تیاری کررہے ہوان دنیا کے ذرا سے فتنوں سے کیوں ڈرتے ہو اور مشوش ہوتے بعدالموت جو واقعات پیش آنے والے ہیں ان کے سامنے ان کی حقیقت ہی کیا ہے مثلا جان کندنی ہے قبر ہے ، میدان حشرہے ، میزان عدل ہے ،پل صراط ہے بس اسی وقت قلب کو سکون ہوگیا پھرتوچین سے کھاتا تھا چین سے سوتا تھا یہاں تک لوگوں نے ستانے اور ایذا پہنچانے کی کوشش کی کہ بھنگن تک سے کہا گیا کہ تو اس گھرکمانا چھوڑدے اس نے جواب دیا کہ چاہے تمام قصبہ چھوڑ جائے مگر یہ گھر نہیں چھوٹ سکتا یہ سب خدا کی طرف سے فضل تھا ورنہ عنایت فرماؤں کی عنایتوں کا کوئی حددود حساب ہی نہ تھا اب کیا کہا جائے وہ قصہ ہی ختم ہوچکا غالب نے خوب کہا ہے
سفینہ جبکہ کنارے پہ آلگا غالب خدا سے کیا ستم وجور ناخدا کہئے
میں توسب کو دل سے معاف کرچکا ہوں ہاں جن لوگوں نے ستایا سب وشتم کیا بہتان باندھے ان سے خصوصیت کے تعلقات نہیں رکھ سکتا عام مسلمانوں کا ساتعلق رہے گا دل ملنا مشکل ہے ایک بات ہوتو عرض کی جائے قتل کی دھمکیاں الگ تھی خانقاہ خالی کرانے پرزور دینے کے الگ منصوبے ہورہے تھے نماز پیچھے نہ پڑھنے کا اعلان الگ تھا سی آئی ڈی سے تنخواہ پانے کی شہرت الگ دی جارہی تھی اللہ کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ مجھ کوکسی کے دروازہ پرجانے کی ضرورت پیش نہیں آئی ان ہی لوگوں کو یہاں پربھیج دیا اور قریب قریب سب نے معافی کی درخواستیں کیں میں نے اس نیت سے سب کو معاف کریا کہ میں بھی اللہ کا قصوروار ہوں شاید وہ بھی مجھ کو معا ف کردیں ۔
ایک صاحب کے سوال کے جواب میں مخالفین کے متعلق فرمایا کہ بکنے بھی دو جس وقت آنکھیں کھلیں گی اس وقت سب پتہ چل جائےگا اورمجھ کوجوجی چاہے کہیں مجھ پر بحمداللہ کوئی اثر نہیں نہ ان کے جواب کی فکر کہ عبث ہے اوریہ حق تعالیٰ کی رحمت اور فضل ہے کہ مجھ عبث سے طبعا نفرت ہے بلکہ غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ س فکر میں پڑنا اچھی خاصی مخلوق پرستی ہے کہ ان بیہودوں کی للو پتو کیا کریں کوئی خوش رہے یا ناراض کوئی معتقد کوئی یا نہ آئے سب برابرہے
حافظ خوب کہتے ہیں
ہر کہ خواہد گو بیاؤ ہر کہ خواہد گو برو داروگیروحا جب ودربان دریں درگاہ نیست
( جس کا جی چاہے آئے اورجس کا جی چاہے چلا جاوے اس درگاہ میں نہ کوئی دربان ہے نہ داروگیر۔ 12)
اہل حق کا کوئی کام مخلوق کے راضی کرنے یا ناراض کرنے کی بناء پرنہیں ہوتا بلکہ ہرکام کی بناء رضا حق ہوتی ہے نہ ان کو مخلوق سے طمع ہوتی ہے نہ ان پرمخلوق کا خوف ہوتا ہے کہ جس کوجہ سے وہ کتمان حق کریں بلکہ اس بارہ میں خود ان کی یہ شان ہوتی ہے جس کو مولانا رومی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں
ہیت حق است ایں ازخلق نیست ہیبت ایں مرد صاحب دلق نیست
( یہ ہیبت اللہ تعالیٰ کی جانب سے ہے مخلوق کی نہیں ۔ نہ اس گڑری والے کی ہے ۔ 12)
ان کی نظروں میں مخلوق کی وقعت ہو ان کے دل میں ان کے خوف کیا ہوسکتا ہے اور ان کے دکھلانے یا راضی کرنے کے واسطے ان کیا کام ہوسکتا ہے وہ بدون کس خوف کے لایخافون لومتہ لائم کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے نہیں ڈرتے ، پرعمل کرتے ہوئے صاف اظہار حق کرتے ہیں اور وہ خدا سے کام رکھتے ہیں مخلوق کے جھاڑو مارتے ہیں اور ان کی یہ شان ہوتی ہے
خلق میگوید کہ خسرو بت پرستی میکند آرے آرے باخلق و عالم کارنیست
(مخلوق کہتی ہے کہ خسروبت پرستی کرتا ہے ، ہاں ہاں کرتے ہیں کرے کوئی کیا کرے ہمارا معاملہ اللہ تعالٰی سے ہے ، مخلوق وغیرہ سے نہیں کوئی کام نہیں ۔ 12)

(ملفوظ 178)تھانہ بھون میں بہت سے صاحب کمال پیدا ہوئے :

ایک سلسلہ گفتگو میں حضرت والا نے چند مہمانوں کو جوپورپ کی طرف کے رہنے والے تھے اپنی طرف متوجہ کرکے فرمایا کہ دیکھئے یہ توہماری حالت ہے کہ الحمداللہ اپنے بزرگوں کا نہایت درجہ کا ادب احترام کرتے ہیں مگر پھر بھی کانپور میں مخالفین نے یہ مشہور کیا ہے کہ میں نے حضرت حاجی صاحب رحمتہ اللہ علیہ کے حجرہ کا پاخانہ بنوایا میں نے سن کرکہا کہ یہ صغری ہے اور کبری کیا ہوا وہ یہ کہ جوحجرہ کا پاخانہ بنوائے وہ عاصی ہے سو اس کبری کی کیا دلیل ہے شریعت میں اس میں کیا قباحت ہے محبت اورادب تو اور چیز ہے میں تو یہ پوچھتا ہوں کہ شیریعت کا کیا حکم ہے یہ بتلاؤ فتویٰ دو اور واقعہ یہ ہے کہ میں نے پاخانہ کا حجرہ بنوایا ہے حجرہ کا پاخانہ نہیں بنوایا پہلے آدمی تحقیق کرلے یہ فرمایا کہ حضرت والا ان مہمانوں کو ہمراہ لے کر اس مقام پرتشریف لے گئے اور اس مقام کا نقشہ سمجھا یا کہ یہ ہے وہ مقام یہ جگہ پاخانہ کی حد میں تھی مگر اس جگہ کونجاست سے کوئی تعلق نہ تھا اس لئے قد مچوں کی جگہ پراتنی کرسی دیدی گئی کہ وہ جگہ دفن ہوگئی اب اس کو داخل حجرہ لرلیا گیا ہے جس کو آپ لوگ دیکھ رہے ہیں یہ حقیقت ہے اس واقعہ کی جس کو اس طرح مسخ کیا ہے اسی واسطے میں کہا کرتا ہوں کہ بدعتیوں میں دین نہیں ہوتا اور دین کی باتوں کی وہابیت کہتے ہیں اسی بناء پرمولانا فیض الحسن صاحب مرحوم نے وہابی بدعتی کی عجیب تفسیر کی تھی کہ وہابی کے معنی ہیں بے ادب باایمان اور بدعتی کے معنی ہیں با ادب بے ایمان ۔