(ملقب بہ آداب الفقیر ) ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ اگر انسان میں عبدیت پیدا ہوجائے تووہ انسان ہے ورنہ حیوان سے بھی بدتر ہے ، بل ھم اضل ( بلکہ وہ زیادہ گمراہ ہیں ) میں اس کی تصریح ہے اسی کے متعلق مولانا رومی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں
گر بصورت آدمی انسان بدے احمد و بو جہل ہم یکساں بدے
( اگر ظاہری صورت سے آدمی انسان بن جاتا تو حضوراقدس ﷺ اور ابوجہل یکساں ہوتے ۔ 12) انسانیت حقیقی یہی ہے عبدیت ہو فنا ہو افتقار ہو انکسار ہو عجزہو کیونکہ یہ سبعلامت ہیں عبد کامل کی اگراس راہ میں چل کربھی یہ باتیں نہ پیدا ہوئیں تو سمجھ لینا چاہئے کہ وہ بالکل محروم اور ناکام ہے کیونکہ محض ظاہری صورت اورلحم وپوست کو آدمیت سے کیا تعلق اس کے متعلق بھی مولانا رومی رحمہ اللہ فرماتے ہیں
آدمیت لحم وشحم و پوست نیست آدمیت جز رضائے دوست نیست
(انسانیت گوشت اورچربی کا نام نہیں ہے ، انسانیت کی حقیقت یہ ہے اس کو حق تعالیٰ کی رضا حاصل ہو ۔ 12)
غرض عبدیت بڑی چیز ہے جس میں بعض آثاریہ ہیں کہ بعض مرتبہ جس وقت عبدیت کا غلبہ ہوتا ہے اس وقت کسی چیز کو اپنی طرف منسوب کرتے ہوئے بھی غیرت معلوم ہوتی ہے اس لیے کہ اس نسبت میں ظاہرا دعوے کی سی شان معلوم ہوتی ہے اسی عبدیت کی بدولت فنا وافتقارو انکسار وعجزپیدا ہوتا ہے اور ہروقت اس کے اندر ایک احتیاج کی سی کیفیت غالب رہتی ہے جوعین مقصود اور مطلوب ہے شیخ اسی کیفیت کے پیدا کرنے کی طالب کے اندر کوشش کرتا ہے تاکہ اس کے اندر سے دعوے کی سی شان جاتی رہے کیونکہ تجربہ ہے کہ بدوں مؤثر کے اثر میں استحکام نہیں ہوتا جس کی ایک نظیر یاد آئی کہ ایک مرتبہ حضرت حاجی رحمہ اللہ سے حضرت مولانا محمد قاسم صاحب رحمہ اللہ نے سوال کیا کہ حضرت میرا ارادہ ہے کہ میں نوکری چھوڑدوں اگر اجازت ہوحاصل یہ تھا توکل اختیار کروں اس وقت حضرت مولانا مطبع مجتبائی میرٹھ میں دس روپیہ کے ملازم تھے اب دیکھئے حضرت حاجی رحمہ اللہ کیا جواب فرماتے ہیں کہ مولانا یہ پوچھنا خود دلیل ہے تردد کیا ورتردد دلیل ہے خامی کی اور خامی کی حالت میں ترک اسباب کرنا موجب تشویش ہوگا اور جب پختگی کی حالت پیدا ہوجائیگی تواس وقت پوچھنا تو درکنار اگر کوئی تم کو روکے گا بھی تب بھی رسے توڑا کربھاگو گے اسی طرح یہاں سمجھ لیجئے کہ شیخ اسی استحکام آثارکے لئے عبدیت کے راسخ کرنے کی کوشش کرتا ہے تاکہ اس سے آثار میں استحکام ہوورنہ بدوں کیفیت کے رسوخ کے گاڑی چلنا مشکل ہوتا ہے اس کی ایسی مثال ہے کہ ایک صورت تویہ ہے کہ انجن کے ذریعہ سے گاڑی چلتی ہے اور دوسری صورت یہ ہے کہ کبھی اسٹیشن پردیکھا ہوکہ مال وغیرہ کے ڈبوں کومزدور لائن پردھکیلتے ہیں تو فقدان کیفیت کی مثال مزدور جیسی اور کیفیت پیدا ہوجانے کی مثال انجن جیسی ہے بس شیخ اسی کی کوشش کرتا ہے اور شیخ وطالب میں مناسبت کی اورمناسبت کی عقلا دوصورتیں ہوسکتی ہے ۔
ایک شیخ کو طالب کےمقام پرتنزل کرنا دوسرے طالب کو اپنے مقام پرلے جانا اول میں شیخ کو مشقت ہوتی ہے اور طالب کو سہولت اور ثانی میں بالعکس مگرشیخ کی سفقت وکمال کا مقتضا پہلی صورت ہے اس لئے وہ اس کو اختیار کرتا ہے پس شیخ کے لیے وہ وقت جبکہ وہ طالب کے مقام کی طرف نزول کرتا ہے بہت سخت ہوتا ہے پس شیخ کے لئے وہ وقت جبکہ وہ طالب کے مقام کی طرف نزول کرتا ہے بہت سخت ہوتا ہے اور انبیاء علیہم السلام کا نزول اس سے بھی سخت ہوتا ہے کیونکہ بوجہ بون بعید (بہت زیادہ فرق ہونے ) کے ان کو زیادہ تنزل کرنا پڑتا ہے خصوص حضور ﷺ کا نزول ) پھر جبکہ مخاطب اس نزول کی قدر بھی نہ کرے تو وہ اس عارض کی وجہ سے اور بھی سخت ہوجاتا ہے اسی لیے حضورﷺ فرماتے ہیں کہ مجھ کو سب انبیاء سے زائد اذبت ہوئی ہے اور یہ مشقت اس پرہے کہ انبیاء علیہم السلام کا فطری امرتھا تسہیل الصعاب ( دشواریوں کوآسان کردینا ) ورنہ دشواری کی کوئی حد ہی نہ رہتی ، توشیخ کا بڑا ہی کما ل ہے کہ طالب کے مقام پرنزول کرکے آتا ہے طالب کواپنے درجہ پر نہیں لے جاتا جیسے ایک طالبعلم میزان پڑھتا ہے اورایک بہت بڑا علامہ اس کو پڑھاتا ہے تووہ علامہ اس کے مقام کی طرف نزول کرگا تب اس کو نفع ہوگا طالب علم کو اپنے مقام کی طرف نہ لیجائے گا اس کے مناسب ایک واقعہ یاد آیا کہ ایک مرتبہ حضرت حاجی صاحب رحمہ اللہ مجلس میں یہ فرمارہے تھے کہ بلاء بھی نعمت ہے اورلوگ اس تقریر سے متاثرہو رہے تھے عین اس وقت میں ایک شخص آیا جس کے ہاتھ می کسی دوسرے شخص نے لڑائی کے وقت کاٹ لیا تھا اور اس کی وجہ سے تمام ہاتھ ورم کرآیا تھا اور اس کی سخت تکلیف تھی اس نے آکرحضرت حاجی رحمہ اللہ سے عرض کیا کہ حضرت دعاء فرمادیجئے کہ میری تکلیف جاتی رہے میں بھی اس مجلس میں موجود تھا اب مجھ کو طالب علمانہ شبہ ہوا کہ حضرت ابھی ثابت فرما چکے ہیں کہ ہرمصیبت اور بلاء و تکلیف خداکی نعمت ہیں اب اس درخواست کے بعد دوہی صورتیں ہیں اگر اس کی صحت کے لئے دعاء کی تو وہ نعمت کے دفع ہونے کی دعاء ہوگی اور اگردعانہ کی تویہ منصب شیخ کے خلاف ہوگا کہ حضرت اس کو مقام تلذذ بالنعمت پرلے گئے جس سے اس کو ذرا مناسبت نہیں تواس صورت میں حضرت عام مخلوق کے کام نہ آئے حضرت نے معمول کے خلاف اعلان کے ساتھ فرمایا کہ سب اس شخص کے لئے دعاء کریں اور باآوازبلند دعاء فرمانا شروع کی اے اللہ یہ ہم جانتے ہیں کہ یہ بلاء بھی نعمت ہے مگر ہم لوگ اپنے ضعف تحمل کے سبب اس نعمت کی برداشت نہیں کرسکتے اس لئے آپ اپنی رحمت سے اس نعمت بلا کو نعمت صحت سے مبدل فرمادیجئے مجھ کو اس وقت نہایت حیرت ہوئی ۔
حضرت حاجی صاحب رحمہ اللہ کی شان تحقیق ہرامر میں عجیب وغریب تھی ایک مرتبہ مولانا رحمت اللہ صاحب کیرانوی نے واپسی قسطنطنیہ کے بعد حضرت سے کہا کہ سلطان عبدالحمید خان صاحب می ایسی ایسی خوبیاں ہیں اگر آپ کہیں تو سلطان سے آپ کا بھی تذکرہ کروں حضرت نے فرمایا کہ غایت مافی الباب اس تذکرہ سے وہ میرے معتقد ہوجائیں گے پھراس اعتقاد کا کیا نتیجہ ہوگا صرف یہ ہوگا کہ وہ مجھ کو آپ کی طرح بلائیں گے جس کا حاصل یہ ہوگا کہ بیت اللہ سے بعد ہوگا اور بیت السلطان سے قریب مگر اس ارشاد میں بظاہر ایک دعوٰٰی اپنے بڑے اور سلطان کے چھوٹے ہونے کا معلوم ہوتا تھا ساتھ ہی اچھا اچھا تدارک فرمایا کہ آپ سلطان کو عادل بتلاتے ہیں اورحدیث میں ہے کہ سلطان عادل کی دعاء مستحجاب ہوتی ہے سوا گرممکن ہو میرے لئے اس سے دعاء کرادیجئے مگراس کا یہ طریق توعرفا مناسب نہیں کہ ایک فقیر کے لئے سلطان سے دعاء کو کہا جائے سو مناسب صورت یہ ہے کہ ان سے میرا سلام کہہ دینا وہ اس کا جواب دینگے پس وہی جواب دعاء ہوجائے گی ۔
(ملفوظ 166)آداب التربیت :
(ملقب بہ آداب التربیۃ ) ایک سلسلہ گفتگومیں فرمایا کہ یہ تربیت اور اصلاح کا باب نہایت ہی نازک ہے اس میں بڑے تجربہ اورفن کی ضرورت ہے شیخ کا ولی ہونا قطب ہونا بزرگ ہونا ضروری نہیں مگرفن سے واقف ہونا ضروری ہے ہاں فن جاننے کے ساتھ اگر ولایت اوربزرگی بھی ہوتو اس کی تعلیم مٰیں خاص برکت ہوگی آج کل فن نہ جاننے کی وجہ سے لوگ بڑی گڑبڑ کرتے ہیں اور منزل مقصود سے توبہت ہی دور رہتے ہیں مقصود کی ہوا تک بھی نہیں لگی ایک صاحب نے بذریعہ خط اپنے نفس کی صلاح کی درخواست کی تھی اس پرمیں نے لکھا کہ ہرمرض کو ایک ایک کرکے لکھ کراس کا علاج پوچھو اس پر یہ مہمل جواب آیا میں حقیقت سے توواقف ہوں مگر یہ سمجھ میں نہیں آتا کہ مجھ میں مرض کیا کیا ہیں اس پرمیں نے لکھا کہ میری سمجھ میں یہی نہیں آیا کہ حقیقت کی توخبرہواور مرض کی خبرنہ ہو اس پرجواب آیا اور بہت طویل تحریر لکھ کربھیجی جس میں اپنی تمام سوانح عمری درج کی رتھی آخرمیں لکھا تھا کہ میری حالت ہے اب آپ سمجھ لیں کہ کون کون مرض میرے اندر ہیں جوقابل علاج ہیں اس پر میں نے لکھا کہ یہ طریقہ معالجہ کا نہیں ہے کہ ایک کتاب تصنیف کرکے بھیج دی تم نے میری پہلی بات کا اب تک جواب نہٰیں دیا اور اتنی بحرطویل لکھ کرایذادی جب تم مرض کا ہونا نہ ہونا نہیں بتلاسکتے جوکہ خاص تمہارے حالت ہے تواتنے دورسے بے بتلائے ہوئے سمجھ لینا ضروری ہے اور میں اس سے قاصرہوں توتم کویہ حق صاصل ہے کہ مجھے لکھو کہ جب تجھ کواتنا بھی سلیقہ نہیں تو تجھ سے تعلق رکھنا ہی فضول ہے تو پھرمیری طرف سے اجازت ہے کسی اور سے تعلق کرو پھر فرمایا کہ یہ تو امور طبیعہ اور فطری ہیں کہ اپنی حالت کوآدمی اس طرح لکھے کہ جس کو دوسرا سمجھ بھی تولے یہ گول مول باتیں لکھنایا کرنا کون سی عقلمندی کی بات ہے ایک ضروری بات یہ ہے کہ آدمی جس کے پاس جاوے اورجس کام کوجاوے اس سے صاف کہہ دے اس میں کسی کی تعلیم کی کونسی ضرورت ہے مثلا بازار جاتے تویہ نہیں کہتے کہ سودا دیدو بلکہ اس چیز کا نام لیتے ہیں کہ نمک دیدو مرچ دیدو گرم مصالحہ دیدو ایسا کبھی نہیں ہوتا کہ اس چیز کا نام نہ لیں یا اسٹیشن جاکر یہ کہتے کہ ٹکٹ دیدو اوراس مقام کا نام نہ لیتے ہوں جہاں کا ٹکٹ لینا ہے بلکہ یوں کہتے ہیں کہ نانوتہ کا ٹکٹ دیدو سہارنپوررامپورکا ٹکٹ دیدو وہاں ناقص کلام کو کافی نہیں سمجھتے مگران نا تمام باتوں کی مشق کے لئے بیچارے ملا ہی رہ گئے ہیں یہاں پرآکر کہتے ہیں کہ تعویذ دیدو اب یہ کچھ نہیں کہ کس چیز کا تعویذ کیا ملانے ان کے باوا کے نوکر ہیں کہ بیٹھے ہوئے پوچھا کریں مگر میرے یہاں آکران کا دماغ درست کردیا جاتا ہے کہ ایسی بیہودگیوں پرروک ٹوک ہوتی ہے گوباہر جاکر بد نام کرتے ہیں کہ بدخلق ہے سخت گیر ہے مگر اس کے ساتھ اپنے اخلاق حمیدہ اورنرم خوئی کا کوئی ذکر نہیں کرتے کہ ہم نے بھی کسی کو ستایا ہے اور اذیت پہنچائی ہے یا نہٰیں ان لوگوں کے صاف نہ کہنے پرصرف ایک یہ بات باقی رہ جاتی ہے کہ میں ان سے پوچھا لیا کروں کہ کیا کہتے ہواورمیں یوں اس پرقادر بھی ہوں اورپوچھ بھی سکتا ہوں مگر پوچھتے ہوئے غیرت آتی ہے اس لئے کہ جب ان نالائقوں کی یہ حالت ہے کہ ان کے قلوب میں اہل علم اوراہل دین کی وقعت نہیں توہمیں ہی کون سی ضرورت ہے کہ ان سے چاپلوسی کریں یہ پوچھنا اس حالت میں میرے لئے موت کے برابر ہے بلکہ ایک حیثیت سے موت محبوب ہے اور تلخ ہے آخر یہ کس قاعدہ سے میرے ذمہ ہے کہ کام تو اس کوپوچھوں میں مجھ کوضرورت اور غرض ہی کیا ہے بہت سے بہت غیرمعتقد ہوجائیں گے سو میری جوتی سے ایسے بدفہموں کا تو غیر معتقد ہی ہونا بہترہے اور زیادہ سے تکبر کا الزام ہوگا مگر تملق کا توالزام نہ ہوگا باقی مجھ کو تواس سے بھی مسرت ہوتی ہے کہ ایک بدفہم اپنی بدفہمی مطلع توہوا دوسرے رسمی پیروں کے یہاں توایسے بدفہموں اوربدعقلوں کی بڑی آؤ بھگت اورچاپلوسی ہوتی ہے خوشامدیں کی جاتی ہیں اور محض غرض کی بناء پراور وہ غرض دنیا ہے جواہل علم اور درویشوں کی شان سے نہایت بعید ہے ۔ استغفراللہ لاحول ولاقوۃ الا باللہ جویہاں کا طرز ہے اپنے بزرگوں کایہی طرز دیکھا اور یہی پسند بھی ہے میں تو اس طرز کے خلاصہ میں یہ کہا کرتا ہوں کہ اور جگہ برکت ہے میرے یہاں حرکت ہے ۔ اور مصلحین شیخ ہیں اور میں میخ ہوں یہاں دلشوئی ہوتی ہے اور جگہ ولایت قطیبت غوثیت ابدالیت تقسیم ہوتی ہے میرے یہاں انسانیت آدمیت سکھائی جاتی ہے اگر ولی بننا بزرگ بننا قطب بننا غوث بننا ہوتواور جگہ جاؤ انسان بننا ہو یہاں پر آؤ ایک شاعر نے خوب لکھا ہے
زاہد شدی وشیخ شدی دانشمند ایں جملہ شدی ولے مسلمان نہ شدی
میں نے اس کو اس طرح بدل دیا ہے اس لئے کہ یہ جملہ سخت ہے کہ مسلمان نہ شدی
زاہد شدی وشیخ شدی دانشمند ایں جملہ شدی ولیکن انسان نہ شدی
توولی بن سکتا ہے بزرگ بن سکتا ہے مگر انسان بننا بہت مشکل ہے مولوی ظفراحمد حضرت مولانا خلیل احمد صاحب رحمتہ اللہ علیہ سے بیعت ہیں ایک مرتبہ حضرت حاجی صاحب رحمہ اللہ کوخواب میں دیکھا عرض کیا کہ حضرت دعاء فرمادیجئے کہ میں صاحب نسبت ہوجاؤں حضرت نے جواب میں فرمایا کہ صاحب نسبت تو تم ہومگر اصلاح کراؤ اوراپنے ماموں سے کراؤ تب انہوں نے اس طرف رجوع کیا غرض بزرگی اور ولایت اور چیز ہے اور انسانیت اور آدمیت اور چیز ہے خلاصہ یہ ہے کہ یہاں پرانسان بنایا جاتا ہے اگریہ طرز کسی کونا پسند ہو یہاں نہ آئے اور کہیں جائے اور میں اس موقع پریہ پڑھا کرتا ہوں ۔
ہاں وہ نہیں وفا پرست جاؤ بے وفا سہی جس کوہوجان ودل عزیزاس کی گلی میں جائے کیوں
اور میں یہ بھی بتلائے دیتا ہوں کہ انسانیت اور آدمیت بدون کسی کی جوتیاں کھائے ہوئے پیدا نہیں ہوسکتی الاماشاء اللہ اگرکسی کوخدا داد فہم سلیم عطا فرمایا گیا ہوتو یہ دوسری بات ہے مگر اکثر یہی ہے کہ جوتیاں کھانے کی ضرورت ہے اور ایسانہ ہونا مصداق ہے النادرکالمعدوم کا اور میں اس موقع پرایک مثال دیا کرتا ہوں کہ مربا جبھی بننا ہے کہ پہلے سیب کو خرید کرلاتے ہیں پھر اسکو چاقو سے چھیل کراس کا چھلکا الگ کرتے ہیں اور وہ جوکہیں داغ ہوتا ہے اس کو چاقو کی نوک سے جدا کرتے ہیں پھرایک دیگچی میں پانی بھر کرچولہے پررکھ کراور آگ جلا کراوراس میں ان صاف شدہ سیب کو جوش دیتے ہیں مابعد اس کواتارکرٹھنڈا ہوجانے کے بعد اس کو پھر چاقو کی نوک سے کوچتے ہیں تاکہ قوام اس کے اندر اثر کرسکے پھرقوام تیار کرکے اس میں کوڈالتے ہیں اور پھر کئی روز ایک مرتبان میں بند رکھتے ہیں رکھتے ہیں تب جاکر یہ مربا اس قابل ہوتا ہے کہ جس غرض سے طبیب نے اس کو بتلایا ہے اس کے لئے مفید ہوسکے تواس طرح مربا بن کرپھر کہیں طبیعت کامربی بننے کے قابل ہوسکتا ہے اگرہرکوچنے پروہ سیب ہاتھ سے نکال کربھاگنے لگے اور اس کی برداشت نہ کرسکے توبس بن چکا مربا اسی طرح اگرشیخ کی ہرڈانٹ اور ڈپٹ پرطالب کے دل میں کدورت پیدا ہو اور برداشت نہ کرسکے توبن چکے مربی ایک حکایت حضرت مولانا رومی رحمتہ اللہ علیہ نے مثنوی میں بیان فرمائی ہے اس میں ایک شخص کا اپنی کمرپرشیر کی تصویر گود وانے کے لئے جانا اورہرسوئی کے کوچنے پر یہ کہنا کہ یہ کیا بناتا ہے اور اس کا بتلانا کہ یہ کان بناتا ہوں سربناہوں پیٹ بناتا ہوں دم بناتا ہوں اوراس کا یہ کہنا کہ یہ شیرکا نقش کوئی سنے کا تھوڑا ہی یا بے دم کا شیرنہیں ہوتا اور اس پراس گودنے والے کا سوئی ہاتھ سے پھینک کریہ کہنا مفصلا مذکور ہے
شیر بے گوش وسرواشکم کہ دید ایں چنیں شیرے خدا ہم نافرید
گربہر زخمے تو پر کینہ شوی، پس کجا بے صیقل آئینہ شوی
چوں نہ داری طاقت سوزن زون پس تواز شیر ژیاں ہم دم مزن
تو صاحب اصلاح تواصلاح ہی کے طریق سے ہوسکتی ہے بدون طریقہ تو کوئی ادنی سے ادنی کام بھی انجام کونہٰیں پہنچ سکتا اور دوسرے پیروں کے یہاں جوان لوگون کی آؤبھگت ہے ان میں بعض کی نیت توصالح ہوتی ہے مزاحا فرمایا کہ اور بعض کی خسرہوتی ہے جن کی صالح ہوتی ہے وہ یہ ہوتی ہے کہ یہ لوگ ہم سے لگے بندھے رہیں کہیں کسی بدعتی وغیرہ کے ہاتھ میں جاکر نہ پھنس جائیں خیر اپنا مزاق ہے مجھ کو تواس سے غیرت آتی ہے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ نعوذ باللہ دین ان کامحتاج ہے دین ان کا طالب ہے اور یہ اس کے مطلوب ہیں اورمیں سب کومشورہ نہیں دیتا کہ سب اپنے اخلاق ایسے بنالیں مگر مجھے معاف رکھیں اور جن کی نیت خسرہوتی ہے اسی کا منشا نہایت ہی مزموم ہے بلکہ نہایت ہی مردود وہ یہ کہ اگر ہم نے ان کے ساتھ ایسا برتاؤ نہ کیا تویہ غیر معتقد ہوجائیں گے اور جوخدمت کرتے ہیں وہ نہ کریں گے پس یہ لوگ تو ہروقت اینٹھنے میں رہتے ہیں اورپیروں کی طرف سے ان کا تملق ہوتا ہے سو یہ درجہ تو نہایت براہے ہمارے حیدرآبادی ماموں صاحب تھے توہمارے مسلک کے خلاف غالی صوفی تھے مگردکاندار نہ تھے اور اکثر ان کی باتیں حکیمانہ ہوئی تھیں وہ فرمایا کرتے تھے کہ حیدر آباد دکن کے امراء تو جنتی ہیں اورمشائخ وہاں کے دوزخی اس لئے کہ امراء جوتعلق رکھتے ہیں مشائخ سے وہ محض اللہ کے واسطے ہے اور مشائخ جوتعلق کرتے ہیں امراء سے یہ دنیا کے واسطے ہے واقعی بڑے کام کی بات فرمائی ایسا ہی ہو رہا ہے ایک ایسے ہی مرید نے اپنے ایسے ہی پیر سے خواب بیان کیا کہ حضرت رات میں نے ایک خواب دیکھا ہے کہ گویا میری انگلیاں توپاخانہ میں بھری ہیں اور آپ کی شہد میں پیرصاحب سن کرآپے سے باہرہوگئے کہ ٹھیک توہے تودنیا کا کتا ہے تیری حالت کی ایسی ہی مثال ہے جیسے پاخانہ اور ہم اللہ والے بزرگ ہیں ہماری حالت کی مثال شہد کی سی ہے مرید کوئی بڑا ہی مسخرہ اورظریف تھا کہنے لگا کہ حضرت نے تعبیرمیں جلدی فرمائی ابھی خواب پورا نہیں ہونے پایا فرمایا کہ بیان کرو آگے کیا باقی ہے اس نے کہا کہ یہ بھی دیکھا کہ تمہاری انگلیاں تومیں چاٹ رہا ہوں اورمیری انگلیاں تم چاٹ رہے ہوبس پیرصاحب گم ہوگئے تعبیروغیرہ سب ختم ہوگئی اب یہ خواب واقعیہویانہ ہومگر واقعہ یہ ہے کہ اس نے اس حکایت مٰیں معاملہ کی حقیقت کوظاہر کردیا کہ ہم تم سے دین کی وجہ سے تعلق رکھتے ہیں جومثل شہد کے ہے اور تم مجھ سے دنیا کی وجہ سے تعلق رکھتے ہوجومثل پاخانہ کے ہے اور ان عوام بیچاروں کی اتنی خطا نہیں ان کے خلاق تو خوشامد کرکرکے خراب کئے گئے ہیں ورنہ وہ پھربھی ان پیروں سے زیادہ محل کوسمجھتے ہیں نواب عمرخاں کے پاس جب وہ حج کوجارہے تھے جہاز میں ایک بہت بڑا افسر انگریز مزاج پرسی کو آیا نواب صاحب نے نہایت بے رخی کے ساتھ ملاقات کی لیٹے ہوئے تھے بیٹھے تک نہیں وہ کھڑا رہا اور جوسوال اس نے کیا نہایت روکھا جواب دیا جب وہ چلا گیا توسہارنپورکے ایک رئیس نے نواب صاحب سے عرض کیا کہ خان صاحب یہ آپ کا مہمان تھا گو کافر تھا مگر جناب رسول اللہ ﷺ نے خود کفار کی بھی جب کہ وہ مہمان ہوئے مدارت فرمائی ہے اس لئے آپ کو بھی مہمان ہونے کی حیثیت سے مدارت اور احترام کرنا مناسب تھا نواب صاحب نے پٹھانوں والا جواب دیا کہ الفاظ تودیہاتی تھے مگر مقصود صحیح تھا جواب یہ دیا کہ حضور ﷺ کوتو پیغمبری کرنا تھی مجھ کو پیغمبری کرنا تھوڑا ہی ہے یہ جواب بظاہر بڑا بے ادبی کا ہے مگر حاصل اور مدلول اس کا صحیح ہے کہ اس وقت تالیف قلوب کی ضرورت تھی اوراب ضرورت نہیں رہی البتہ ایک اس سے مستثنٰے ہے وہ یہ کہ جہاں تبلیغ نہ ہوئی ہو وہاں اب بھی تالیف قلب مناسب ہے باقی جہاں تبلغ ہوچکی ہووہاں ان عرفی اخلاق کی ضرورت نہیں سودیکھئے اس دیہاتی پٹھان نے ان رعایات کا محل مگر یہ پیر نہیں سمجھتے ۔
(ملفوظ 165)سمجھانے اورلٹھ مارنے میں فرق :
ایک صاحب نے عرض کیا کہ حضرت بعض لوگ ختم میں ایسے بھی دعاء کرانے آتےہیں جو واقع میں ظالم ہوتے ہیں مثلا ابتداء میں خود مار پیٹ کی اور پھر دعاء چاہتے ہیں ایسے لوگوں کی رقم مدختم میں داخل کرانا چاہئے یا نہیں اور ان کے لئے دعاء کرنا جائز ہے یا نہیں ایسی حالت میں طالبان دعاء سے کیا کہہ دیا کروں فرمایا کہ تم صرف یہ جواب دیدیا کرو کہ بھائی اول واقعہ بیان کرکے کسی علم سے حکم شرعی پوچھ لوکہ اس کے لئے دعاء جائز ہے یا نہیں اگروہ کہہ دیں اورہم کوبھی ان کی زبان سے سنواوو توہم دعاء کردیں گے غرض کیا کہ میں توعذر کردیتا ہوں فرمایا کہ ایک تولٹھ سامارنا ہوتا ہے اور ایک سمجھانا ہوتا ہے توعذر کی تفصیل بیان کردینے کی ضرورت ہے تاکہ وہ بھی تو سمجھ جائے ۔
(ملفوظ 164)تشبہ بالنصاری پرافسوس :
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ تشبہ النصاریٰ لوگوں کوگٹھی میں پڑگیا ہے ان کی سی صورت ان کا سا لباس ان کی سی وضع قطع پھرتصدیق میں فرق کیارہ گیا لیکن قدرتی فرق کہاں جاتا ہے گوظاہر میں تشبہ کے کتنے ہی انتظام کرلو مگر قدرتی چیزوں میں برابری کیسے ہوسکتی ہے ۔
(ملفوظ 163)دیہاتیوں کی ذہانت :
ایک صاحب نے موروثی کے متعلق کچھ ذکر کیا حضرت والا نے جواب دیتے ہوئے فرمایا کہ میرے اساتذہ میں ایک بزرگ تھے ملا محمود صاحب ان کے ایک بھائی تحصیلداررتھے اور تھے مرتشی ( رشوت لینے والے ) مگران کی بدلی نہیں ہوئی تھی ، ایک گنوار دیہاتی بیڑا اٹھا کر چلا میں بدلی کراکرآؤں گا کلکڑیورپین تھا اس کے پاس یہ گنوار دیہاتی بنگلے پر پہنچا وہ ٹہل رہا تھا جاکر سلام کیا کلکڑ نے دریافت کیا کہ چودھری کیسے آئے کہا کہ تجھ سے ایک بات پوچھوں ہوں یہ بتلا کہ موروثی کسے کہیں ہیں کلکڑ نے جواب دیا کہ بارہ سال زمیں جس کے قبضہ میں رہے اس میں حق موروثی ہوجاتا ہے پھر اس کے قبضہ سے کوئی نہیں نکلوا سکتا کہا کہ میں بھی تیرے پاس اسی واسطے سے آیا ہوں یہ جو تحصیلدار ہے اس کو تحصیل میں گیارہ سال تو ہوگئے اگرایک سال اور تحصیل میں رہ گیا توپھر نہ تیرے باپو سے جا اورنہ میرے باپو سے جا کلکڑ سمجھ گیا اور بعد تحقیق واقعات فورا حکم تبادلہ کا بھیج دیا ان دیہاتیوں کی ذہانت بڑے غضب کی ہوتی ہے انکے دماغ نہایت صحیح ہوتے ہیں ان کے پاس الفاظ تو ہوتے نہیں اس لئے کہ علم نہیں ہوتا مگر ترجمانی غضب کی کرتے ہیں ۔
(ملفوظ 162)مواعظ وتصانیف پرحق تعالٰٰی کاشکر :
حضرت والا کے رسائل اورمواعظ کا ذکرتھا فرمایا کہ مجموعہ مواعظ اور رسائل کی تعداد اس وقت بفضلہ تعالٰی پانچ سواکیاون (551) ہے پھر فرمایا بہشتی زیور کے گیارہ حصہ ہیں یہ سب مل کر ایک ہی رسالہ ہے اسی طرح تفسیر بیان القرآن کی بارہ جلدیں مل کرایک ہی کتاب ہیں اس طرح پر اس قدر مجموعی تعداد ہے اللہ تعالٰٰی کا فضل ہے کہ اس قدر کام لے لیا ورنہ مجھ میں اتنی قابلیت کہاں تھی اس کے بعد 1357ھ کے وسط تک پوری ساڑھے سات سوتصانیف ہوگئیں والحمداللہ )
(ملفوظ 161 ) ادائیگی قرض کے لئے وظیفہ :
ایک صاحب نے سوال کیا کہ میں قرض دار ہوں دعاء فرمادیجئے اور کچھ پڑھنے کو بتلادیجئے فرمایا کہ یا مغنی بعد نماز عشاء گیارہ سو بارپڑھا کرو اول وآخر گیارہ بار درود شریف یہ عمل حضرت حاجی صاحب رحمتہ اللہ علیہ فرمایا کرتے تھے ۔
(ملفوظ 160)اکبر بادشاہ کوساتھی بددین ملے :
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ اکبرشاہ کو جیسے عاقل لوگ ملے اگرایسے لوگ عالمگیر رحمتہ اللہ علیہ کو ملتے تو نہ معلوم ان کا ملک کہاں تک پہنچتا اب تو عالمگیر رحمتہ اللہ علیہ نے خود ہی کیا جو کچھ کیا باقی اکبر کوبھی بددین ملے نیک نہ ملے اس لئے کوئی نفع نہیں ہوا ۔
(ملفوظ 159 ) تعلقات بڑھانے کی خرابیاں :
ایک صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ اکثر خرابیاں تعلقات بڑھانے کی ہیں ان کوکم کرنا چاہئے میں نے تو صرف ایک تعلق کو مستثنٰے کیا ہے یعنی تصنیف کے کام کو کہ اس سےخود کو بھی نفع ہے اوردوسروں کوبھی نفع پہنچتا ہے اسی لئے علماء کا قول ہے کہ طول امل (لمبی لمبی امیدیں باندھنا ) ہرچیز میں برا ہے الافی العلم ( مگرعلم میں ) یہ استثناء اس لئے ہے کہ یہ آلہ ہے دین کا اورطول امل کی ممانعت ہے آلات فی الغفلت میں نیزیہ علم معین ذکر ہے ذکراللہ میں جو کہ مقصود طریق ہے اور اپنے قوٰی کودیکھ کرکچھ روزسے یہ بھی چاہ رہا ہوں کہ تصنیف بھی بند کردوں مگرمیں اس سے بھی ڈرتا ہوں کہ کہیں ذکرکے لیے بھی قلب خالی نہ ہو اور تصنیف بھی نہ رہے اگر ایسا ہوا تواورکچھ اعمال توہیں نہیں شاید یہی عمل قبول ہوجائے کہ تصنیف سے کوئی نیک بندہ منتفع ہو اور وہی ذریعہ نجات ہوجائے اس لئے میں اس عارض کی وجہ سے اس کو ذکر سے افضل سمجھتا ہوں گو فی نفسہ افضل تو وہی ذکرہے اب رہا یہ کہ تصنیف اعمال متعدیہ میں سے ہے اور اس میں مشغول ہونا افضل ہے یا اعمال لازمہ میں سو عقل تو اعمال متعدد ہی کوترجیح دیتی ہے مگر طبیعت مذاق اعمال لازمہ کو ترجیح دیتا ہے ۔
(ملفوظ 158 )تعلقات اورمشاغل غیرضروری کو ترک فرمانا :
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ تعلقات اور مشاغل غیرضروری کو سب کو قطع کردیا البتہ جوضروری ہیں وہ مستثنٰے ہیں اب میں اس کا لوگوں کوکس طرح یقین دلاؤں یہ وجدانی اورذوقی بات ہے کہ ان حضرات کو کسی چیزسے دنیوی محبت نہیں البتہ ضرورت کا اور شفقت کا تعلق ہے میں نے ایک تذکرہ میں دیکھا ہے کہ ایک مرتبہ حضرت علی رضی اللہ عنہ حضرت امام حسین کو گود میں لئے بیٹھے تھے انہوں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے سوال کیا کہ کیا آپ کو مجھ سے محبت ہے فرمایا ہاں کہا کہ اور بھائی سے بھی فرمایا ہاں پوچھا اوراماں سے بھی فرمایا کہ ہاں ، کہاں کہ دل کیا ہے سرائے ہے ایک کوٹھری میں ایک مسافر پھرپوچھا کہ اگرآپ کو اختیار دیا جائے کہ یا تو خدا اور رسول سے تعلق رکھا جائے یا گھروالوں سے اس وقت آپ کیا کریں گے فرمایا کہ گھروالوں کوچھوڑدوں گا کہا کہ بس تویوں فرمایئے کہ گھروالوں پرصرف شفقت ہے باقی محبت اللہ ورسول ہی سے ہے اور اس محبت کےلئے جتنے غیرضروری تعلقات کم ہوں یہ معین ہوتے ہیں حضرت حق کی محبت میں ان تحریکات میں میرے شریک نہ ہونے کے اسباب میں سے یہ بھی ہے کہ اس میں غیر ضروری تعلقات کوخاص دخل ہے مثلا بلاضروت دوسروں کو آمادہ کرنا رغبت دلانا ارے بھائی فلاں کام کرلو سواس سے مجھ کوبڑی کلفت ہوتی ہے کیونکہ اس میں ہروقت یہ ہی خیال رہے گا کہ فلاں شخص اس کام کے کرنے پرراضی ہے یا نہیں اور اگر راضی ہوکر الگ ہوگیا توکام کیسے چلے گا سواس ضیق میں کون پڑے حق سبحانہ ، تعالیٰ ایسی ہی مشغولی اور تصدی ( پیچھے پڑنے ) کے متعلق فرماتے ہیں ، امامن استغنٰے فانت لہ تصدی وما علیک الایزکٰی وامامن جآءک یسعٰی وھو یخشٰی فانت عنہ تلھٰی کلا انھا تذکرہ فمن شاءذکرہ اور ایک مقام پرفرماتے ہیں ۔ ( توجوشخص بے پرواہی کرتا ہے آپ اس کی توفکر میں پڑھتے ہیں حالانکہ آپ پرکوئی الزام نہیں کہ وہ نہ سنورے اور جوشخص آپ کے پاس دوڑتا ہوا آتا ہے اور ڈرتا ہے آپ اس سے بے اعتنائی کرتے ہیں ہرگز ایسا نہ کیجئے ،قرآن نصیحت کی چیز ہے سو جس کا جی چاہے اس کو قبول کرے 12۔) وان کان کبرعلیک اعراضہم فان استطعت ان تبتغی نفقا فی الارض اوسلما فی السمآء فتاتیھم بآیۃ ۔ ( اوراگر آپ کو ان کا اعراض گراں گزرتا ہے تواگر آپ کویہ قدرت ہے کہ زمین میں کوئی سرنگ یا آسمان میں کوئی سیڑھی ڈھونڈلو ، پھرکوئی معجزہ لے آؤ توکرو)
اور ایک جگہ فرماتے ہیں ۔ ولقد نعلم انک یضیق صدرک بمایقولون ( اور واقعی ہم کو معلوم ہے کہ یہ لوگ جوباتیں کرتے ہیں اس سے آپ تنگ دل ہوتے ہیں ) غرض جابجا قرآن میں مصرح ہے کہ اس کا شدید اہتمام نہ کیجئے کہ ہدایت ہوہی جائے اور اس تعلیم خداوندی میں ایک رازہے وہ یہ کہ آزادی اور اعتدال کی صورت میں ہمیشہ کرسکتا ہے اسی بناء پرحق تعالٰی فرماتے ہیں کہ اس ثمرہ کے منتظر نہ رہنا چاہئے جس کواہل ظاہرہ ثمرہ کہتے ہیں چنانچہ ارشاد ہے ، انک لا تھدی من احببت ولکن اللہ یہدی من یشآء ( آپ جس کو چاہیں ہدایت نہیں کرسکتے بلکہ اللہ جس کوچاہے ہدایت کردیتا ہے ) سبحان اللہ کیا پاکیزہ اورپرمغز تعلیم ہے چنانچہ یہ فرمایا کرکہ ولقد نعلم انک یضیق صدرک اس سے بچا دیا کہ ضیق صدرمٰیں کیوں مبتلا ہوا جائے چھوڑیئے اس کوجیسے لڑکا پڑھنا نہ چاہے اور استاد پڑھانا چاہے توسخت کوفت ہوتی ہے بس اس کا علاج یہ ہی ہے کہ ایک دوبارتقریر کردے اور کہہ دے کہ جاؤ بھاگو بلاضرورت دوسروں کی فکر میں پڑنا اس کی نسبت ماموں صاحب فرمایا کرتے تھے کہ دوسروں کی جوتیوں کی حفاظت کی بدولت کہیں اپنی گٹھڑی نہ اٹھوا دینا ہندؤں کا ایک میلہ تھا وہاں کچھ عورتیں نہانے گئیں اوراپنا زیور اتار کرایک شخص کودیدیا کہ اس کو طشت کے نیچے رکھ کراس طشت پربیٹھے رہنا کسی نے دیکھ لیا اورپاس کو اس طرح گذرا کہ دوچار اشرفیاں ٹپکا کرآگے بڑھ گیا یہ محافظ ان کولینے کواٹھا اس چور کا ساتھی پیچھے تھا بس طشت کواٹھا کر سب زیور اوڑالے گیا بس یہی حالت ہوجاتی ہے اس شخص کی بھی دوسروں کی اصلاح کی فکر میں خود کو بھی خراب کرلیتے ہیں جیسے لڑکے پڑھانے کی مثال میں لڑکے پربلا ضرورت محنت ہوئی اورخود اپنا دماغ خراب کرلیا اور لڑکے کو کچھ نفع نہ ہوا ۔

You must be logged in to post a comment.