ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ آج کل جمہوریت کا زور ہے اس کی ترجیح میں کہتے کہ شخصیت اس لئے مضر ہے کہ ایک شخص کا کچھ اعتبار نہیں دین فروشی کردے ملت فروشی کردے قوم فروشی کردے اسی خیال سے جمہوریت قائم کرنے کی چیزہے لیلکن غور کرنے کی چیز ہے لیکن غور کرنے سے اس کا حاصل یہ نکلتا ہے کہ یہ نکلتا ہے کہ تمہارے تمدن میں نالائق بھی حاکم ہوسکتا ہے جس میں یہ احتمال ہوسکتے ہیں اور ہمارا مسلک یہ ہے کہ بادشاہ لائق ہو ایسے شخص کا انتخاب کرو جس پریہ احتمالات ہی نہ ہوں اور جیسے شبہات تم نے شخصیت میں نکالے ہیں ایسے شبہات جمہوریت میں بھی ہوسکتے ہیں جن کے انسداد کے لئے تم نے جماعت کا انتخاب کیا ہے چنانچہ ایسے واقعات بھی کثرت سے ہیں اب اس کے بعد دیکھ لوکہ کونسی بات عقل کے موافق ہے اور کون نہیں دوسری بات یہ ہے کہ رعایا پرجوہیبت ہوتی ہے وہ شخصیت ہی سے ہوتی ہے جمہوریت اور جماعت کی ایسی ہیبت نہیں ہوتی اور ان درجہ کی ترغیب کام کی ہوسکتی ہے اس لئے کہ طبعا اس کا بھی خاص اثر ہوتا ہے کام کرنے والوں پر کہ ہمارے اس کام سے امیر یا سردارخوش ہو اس سے ان کا دل بڑھتا ہے اور جمہوریت میں کوئی خوش ہونے والا معین نہیں اس لئے کسی کی خوشی کا اثر ہی کیا ہوگا آج ایک جماعت انتخاب میں ہیں کل دوسری ہے بس اورشخصیت میں رعایا اور حاکم میں خاص تعلقات ہوتے ہیں جس کواہل ذوق اچھی طرح سمجھ سکتے ہیں ۔
(ملفوظ 146)جانوروں میں عقل :
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ میں تووثوق کے ساتھ کہا کرتا ہوں کہ جانوروں میں بھی عقل ہے مگر اتنی نہیں کہ جس سے وہ احکام کے مکلف ہوں میرے اس دعوے کے موید اس کثرت سے واقعات ہیں کہ مضطرہوکر ماننا پڑتا ہے کہ جانوروں میں بھی ضرور عقل ہے ۔
(ملفوظ 145) عوام کے اکثر شبہات کا منشاء جہل بسیط ہے :
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ شبہات جوعوام میں پیدا ہوتے ہیں ان کا منشا اکثرجہل بسیط ہوتا ہے اسی لئے وضوح حق کے بعد بہت صاف الفاظ میں غلطی کا اقرار کرلیتے ہیں بخلاف مدعیان عقل کے کہ جہل مرکب میں مبتلا ہوتے ہیں اس لئے انکار رجوع کرنا بھی رجوع کرنا بھی پیچدار عنوان سے ہوتا ہے ہمارے قصبہ میں ایک بڑی بی تھیں انہوں نے مجھ سے سوال کیا تھا کہ کیا اللہ میاں زندہ ہیں میں نے جواب میں مقدمات فطریہ سے کام لیا میں نے کہا کہ یہ بتلاؤ مینہ کون برساتا ہے کہنے لگی اللہ میاں میں نے کہا کہ یہ بچے وغیرہ کون دیتا ہے کہنے لگی اللہ میاں میں نے کہا کہ اب یہ بتاؤ کہ اگر زندہ نہ ہوتے تو یہ کام کون کرتا بڑی بی مان گئیں جنٹلمیں نہ تھیں ورنہ یوں کہتیں کہ میں پہلے سوال کو واپس لیتی ہوں کیا بیہودہ متکبرانہ کلمہ ہے جس میں ندامت کا نام تک نہیں مگرمہذہب لوگ اس کے اس قدر دلدار ہیں کہ تمام تہذیب کواسی ختم سمجھتے ہیں ۔
(ملفوظ 144)تحریکات حاضرہ کے دینی انقلاب پراظہار افسوس :
ایک صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ تحریکات حاضرہ میں کس قدر جلد دینی انقلاب ہوگیا اور یہ تو اس حالت میں ہے کہ یہ لوگ اپنے مقصد میں ناکام رہے اگر سوراج مل جاتا اور کامیابی ہوجاتی تب دیکھتے کہ دین کا کیا حشر ہوتا اور عوام تو بیچارے کس شمار میں ہیں علماء تک اس گڑبڑ میں پھنس گئے اور حدود سے گذر کربے قیدی کے میدان میں آکھڑے ہوئے اور زیادہ گمراہی ان ہی لوگون کی وجہ سے پھیلی اس لئے کہ یہ لوگ مقتدا اور پیشوا کہلاتے ہیں تو ان کا اثر ہونا ہی چاہئے تھا بعضوں کی بے قیدی سن کرآپ کو تعجب ہوگا کہ ایک مشہور عالم نے اپنے وعظ میں سہارنپور میں بیان کیا کہ بعض لوگ خوامخواہ کے اوہام میں مبتلا ہیں کہتے ہیں کہ اگر سوراج مل گیا تو ہندو مسجدوں میں اذان نہ ہونے دیں گے توصاحبو کیا گھرمیں نماز نہیں ہوسکتی اور کہتے ہیں کہ گائے کی قربانی نہ ہونے دیں گے توکیا بکرے کی قربانی نہیں کرسکتے کیا گائے کی قربانی فرض و واجب ہے ، یہ واعظ ہیں اور عالم کہلاتے ہیں اتنی بات کہنے کی اور رہ گئی کہ اگر وہ اسلام پرنہ رہنے دیں گے تو کیا غیراسلام پروہ کر زندہ نہیں رہ سکتے ذرا ذہنیت تودیکھئے کہ جوہندو چاہیں گے اسکو گوارا کرلیں گے اس درجہ تک بوبت پہنچ چکی ہے ۔ اللہم احفظنا ۔
(ملفوظ 143) عورتوں میں بے حیائی کا مرض :
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ اکثر اقوام میں عورتوں میں بے حیائی کا مرض عام ہوگیا ہے میں نے خود اخباروں میں پڑھا ہے کہ امریکی عورتوں کے سنگار پرڈبل فیس خرچ ہوتی ہے اگرمکمل سنگار کرایا جائے توفیس کے پچاس روپیہ خرچ ہوتے ہیں اور نسگار کرنے والے کے سامنے تقریبا برہنہ ہوجاتی ہیں ۔
(ملفوظ 142)کانگریس محض ایک سیاسی جماعت ہے :
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ اس کوکوئی اپنی اصطلاح میں خواہ بے غیرتی کہے یا ضعف پر محمول کرے صاف بات یہ ہے کہ ہم اپنے بھائیوں کی ہرامرمیں موافقت اور ہرقسم کی امداد نہیں کرسکتے اور حقیقت میں اس کوامداد ہی کہنا صحیح نہیں کہ حدود سے تجاوز کرکے کسی کی موفقت کر لے کیونکہ حدود شریعت سے گذر کرآدمی جو کام بھی کرے گا اس کا برا ہی حشر ہوگا پھر وہ امداد کیا ہوئی چنانچہ اسی بناء پرہم لوگ کانگریسیوں کی امداد نہیں کرسکتے ہیں بلکہ محض سیاسی جماعت ہے جس میں زیادہ حصہ مذہب کے خلاف ہے اگر خدانخواستہ اس جماعت کا ہندوستان میں غلبہ ہوگیا اور خدا نہ کرے کہ وہ دن آئے تو یہ بھی ہندوستان میں وہی کریں گے جوبالشویک کررہے ہیں۔
(ملفوظ 141) بیعت کی غایت اطلاع حالات پرہے :
ایک مہمان بہت دور کے رہنے والے آئے تحقیق کرنے پرمعلوم ہوا کہ کابل سے بھی ایک ماہ کی مسافت پران وطن ہے انہوں نے بیعت کی درخواست کی اس پر فرمایا کہ ہرمطلوب میں مقصود اس کی غایت ہوتی ہے اور اس کا ترغیب عادۃ موقوف ہے اطلاع حالات پراورآپ کے یہاں شاید ڈاک کا انتظام نہ ہوتوایسی حالت میں اگرآپ اپنے حالات کی اطلاع نہ دے سکے تونری بیعت سے کیا فائدہ ان صاحب نے عرض کیا کہ ڈاک کا انتظام کافی ہے برابر وہاں سے ہندوستان میں خطوط کی آمد ورفت رہتی ہے میں ضرور حضرت سے اپنی اصلاح کے متعلق خط وکتابت رکھوں گا فرمایا کہ اگریہ بات ہے تومجھ کو خدمت سے کیا عذرہوسکتا ہے میں تواس کام کے لئے بیٹھا ہی ہوں باقی جوشبہ تھا وہ آپ سے کہہ دیاگیا اوربتلادیا گیا کہ بیعت اصل نہیں اصل دوسری چیز ہے اور آپ کے جواب سے وہ شبہ رفع ہوگیا اب آپ کو ان شاء اللہ تعالٰی بعد نمازمغرب بیعت کرلوں گا آپ یاداشت کے طور پرایک پرچہ لکھ کرمجھ کودیدیں اس میں اپنا نام اورلفظ بیعت لکھ دیں تاکہ مجھ کو یاد رہے ان صاحب نے ایک پرچہ لکھ کرپیش کردیا اور بعد نماز مغرب نفلوں سے فراغ پران صاحب کو بیعت فرما لیا گیا ۔
(ملفوظ 140 ) مسئلہ تصور شیخ کے متعلق حضرت کی رائے :
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ تصور شیخ کا مسئلہ کبھی جی کو نہیں لگا اس سے طبیعت الجھتی ہے بلکہ اچٹتی ہے میں حرکت کا فتوی تو نہیں دیتا یہ تو مولانا شہید رحمہ اللہ ہی کا منصب تھا مگرایسا حلال سمجھتا ہوں جیسے اوجھڑئ کو حلال سمجھتا ہوں مگر کھا نہیں سکتا پس اسی درجہ میں سمجھتا ہوں تصور شیخ کو گوحضرت مجدد صاحب نے اس کے نافع اورمحمود ہونے پربڑا زور دیا ہے مگر میں امرفطری کو کیا کروں ۔
12/ربیع الاول 1351ھ مجلس بعد نمازظہریوم دوشنبہ
(ملفوظ 139)آجکل کے غیرمقلدین کی بے انصافی :
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ آج کل کے غیرمقلدین کی بے انصافی ملاحظہ کیجئے جواپنے اجتہاد سے اصول قائم کئے ہیں کہ وہ بھی منصوص نہیں ان کو تمام دنیا کے سامنے پیش کرتے ہیں اور عمل کرنے پر ترغیب دیتے ہیں اور حنفیہ نے جو اصول قائم کئے ہیں جو اجتہادی ہونے میں ان ہی کے ہم پلہ ہیں ان کو تسلیم نہیں کرتے آخر ان میں اوران میں فرق کیا ہے کہ ان کے قائم کردہ اصول توبدعت نہ ہوں اور حنفیہ کے اصول بدعت ہوں جودلیل ان کی سنیت کی بیان کی جائے گئ وہی جواب اور دلیل ہماری طرف سے ہوگا دیکھیں کیا جواب ملتا ہے۔
(ملفوظ 138 )غفلت کی حد :
ایک سلسلہ گفتگومیں فرمایا کہ تعجب ہے کہ اہل باطل کو تو اجازت ہے کہ وہ اہل حق سے تعصب رکھیں اوراہل حق کو اس کی بھی اجازت نہیں کہ وہ مدافعت بھی کرسکیں کتنے بڑے ظلم اور اندھیر کی بات ہے اور یہ اہل باطل اپنے مسلک کی اشاعت کے لئے اس قدر اہتمام کرتے ہیں کہ اگراس میں ذرا کمی ہوتوان کا زندہ رہنا دشوار ہے اس لیے کہ حق تعالیٰ کی نصرت تو ان کے ساتھ ہے نہیں محض قوت ظاہری اور سامان ظاہری پران کی مذہبی زندگی کا مدار ہے وہ بھی نہ ہوتو بس خاتمہ ہے اور یہی وجہ ہے کہ اہل باطل ہمیشہ متفق ومشغول تدابیر رہتے ہیں اور اہل حق ہمیشہ اس خیال میں رہتے ہیں کہ اللہ کا دین ہے وہ خود حفاظت کریں گے اس لئے وہ زیادہ اہتمام نہیں کرتے اور فی نفسہ تویہ خیال نہایت صحیح اور مبارک خیال ہے مگر اس میں ایک بہت بڑی غلطی مضمر ہے جس کو میں اس وقت ظاہرکرنا چاہتا ہوں وہ یہ ہے کہ اس خیال میں غلو ہوگیا ہے یعنی اس قدر بے پروائی ہوگئی ہے کہ وہ توکل اور استغناٰء کے درجہ سے بڑھ کرغفلت کی حد تک پہنچ گئی اور یہ استغنا ایسا ہے جیسے کوئی شخص یہ دیکھ کر کہ حق تعالٰی فرماتے ہیں ۔ انا نحن نزلناالذکروانا لہ لحافظون ، یعنی ہم قرآن مجید کے محافظ ہیں یہ رائے دے کہ لوگ حفظ کرنا چھوڑ دیں حالانکہ یہ حکم فرمانا کہ تم حفاظت کرو یہ بھی حق تعالٰی ہی کی توحفاظت ہے اور اس حالت میں حق تعالٰی کی حفاظت کا یہ محض اثر ہے کہ تدبیر میں زیادہ اہتمام کی ضرورت نہیں ضروری توجہ اور معتدل سعی کافی ہے ۔

You must be logged in to post a comment.