ایک مولوی صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ آج کل کا تقدس اور تقوٰٰی طہارت اورزہد بی بی تمیزہ کاسا وضو ہے جونہ جنابت سے ٹوٹتا تھا اورنہ دل بول براز سے مہینوں ایک ہی وضو سے نماز پڑھی اور درمیان میں سب کچھ ہوتا رہا ایسا ہی آج کل کا تقویٰ ہے کہ ایک بار اس رجسٹری ہوجائے پھرکوئی چیز اس میں مخل نہیں ہوتی پھر لطف یہ ہے کہ اگراس بے احتیاطی کا اثر دوسروں تک پہنچے اور کوئی خیرخواہ ان سے کہے کہ حضرت یہ لوگ آپ کے معتقد ہیں آپ کے فعل سے استدلال کرتے ہیں گمراہ ہوتے ہیں آپ کواحتیاط مناسب ہے تواس پر جواب ملتا ہے کہ آپ ذاتیات پرحملہ کرتے ہیں حالانکہ وہ ذاتیات نہیں ہوتے اور اگر بالفرض ذاتیات بھی ہوں تب بھی حیرت ہے کہ تم تو آیات بینات اور دینیات پر حملہ کرو اور کوئی تمہاری ذاتیات کے قلب میں ہوتی تھی اب یہی بات نہیں رہی لوگوں میں اسی کی کمی ہوگئی ۔
(ملفوظ 136 )اہل اللہ اورخاصان کی شان :
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ اہل اللہ اور خاصان حق کی شان ہی جدا ہوتی ہے ان کی تکالیف ظاہری بھی ان کے لئے موجب راحت باطنی ہوتی ہیں اس لئے ان کی حالت کا دوسروں کو اپنی حالت پرقیاس کرنا بلکل ہی غلط ہے مولانا رومی رحمہ اللہ اسی کو فرماتے ہیں
کارپاکان راقیاس از خود مگیر، گرچہ ماند درنوشتن شیر و شیر
چنانچہ حضرت شیخ عبدالقدوس صاحب گنگوہی رحمہ اللہ پرجب فقرہ وفاقہ ہوتا تو کبھی ان کی بیوی چونکہ ان کے پیر کی بیٹی تھیں کہتیں کہ حضرات اب تو تحمل نہیں کچھ کھانے پینے کا انتظام کرنا چاہئے تو بیوی کے جواب میں فرماتے انتظام ہورہا ہے گھبراؤ مت وہ دریافت کرتیں کہاں ہورہا ہے فرماتے جنت میں ماشاءاللہ وہ بی بی بھی ایسی تھیں کہ جنت کے وعدہ پران کو سکون ہوجاتا تھا اب تویہ حالت ہے کہ ایمان رہے یا جائے آمدنی ہوروپیہ ہو، عیش وعشرت میں کوئی فرق نہ آجائے چاہے اللہ اور رسول کے تعلقات میں کیسا ہی فرق آجائے ۔
(ملفوظ 135)فقہاء کاعلم غیر فقیہہ کی سمجھ سے بالا ہے :
ایک مولوی صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ فقہاء کی شان اور ان کا علم غیرفقیہ کی سمجھ سے بالاتر ہے اور اس کی ایک غامض وجہ ہے وہ یہ کہ ان میں صرف علم ہی نہیں تھا بلکہ اس سے بڑھ کرایک اور چیز ان میں تھی اوروہ خشیت حق ہے اس کو حقیقت رسی میں خاص دخل ہے ان اسباب سے وہ حضرات اجتہاد کے اہل تھے اوراس وقت کے تواجتہاد میں بھی وہی سوجھتا ہے جو نفس میں ہوتا ہے الاماشاء اللہ مگراکثریت اسی اتباع ہوی ٰ کی ہے اسی لئے اج کل کے غیرمقلدوں کے متعلق قاری عبدالرحمن صاحب پانی پتی فرمایا کرتے تھے کہ یہ عامل بالحدیث توہیں مگرکونسی حدیث اس لئے کہ حدیث کی دو قسمیں ہیں ایک حدیث رسول ﷺ اور ایک حدیث النفس سویہ دوسری قسم کےعامل بالحدیث ہیں اور حضرت سچ تویہ ہے کہ اگر ہم میں علمی اسباب بھی اجتہاد کے ہوتے تب بھی ہم اس قابل نہ تھے کہ ہم کو اجتہاد کی اجازت دی جائے اگر ہم علم میں ذہن میں عقل وفہم میں ان حضرات کے برابر بھی ہوتے تب بھی ہم میں اوران میں جوایک بڑا فرق ہوتا وہ خشیت حق کا ہے ان کے قلوب میں حق سبحانہ تعالٰی کی جوخشیت ہے حتی کہ جس کا قلب خشیت حق سے لبریز ہوتا ہے اسکے کلام تک تک کی شان جدا ہوتی ہے اور یہ شان خاص ہونا ایسی بدہی بات ہے کہ اسکا اندازہ اس زمانہ جہل میں بھی ہوسکتا ہے اہل فہم اس فرق کو معلوم کرسکتے ہیں ۔
(ملفوظ 134)اپنا مقصود طاہرکئے بغیرکیسے اصلاح کی امید ہوسکتی ہے :
ایک صاحب کی غلطی پرمواخذہ فرماتے ہوئے فرمایا کہ جب آدمی اپنے مقصود ہی کو ظاہر نہیں کرسکتا توآ گے اس سے کیا امید ہوسکتی ہے مجھ کوتو اس کا بھی قلق ہوتا ہے کہ سفر بھی کیا روپیہ بھی صرف ہوا وطن چھوڑا اور پھر محرومی رہی میں یہ کیسے مان لوں کہ گھر سے اتنی دور آگئے اورمقصود کوئی ذہن میں نہ ہوکیا ہونہی دیوانوں کی طرح دھکے کھاتے تھے پھرتے ہیں یا کچھ دماغ میں خلل ہے ایسے ایسے کوڑمغز اور بدفہم میرے حصہ میں آتے ہیں خدا معلوم کیا کوئی خاص مدرسہ ہے بدفہموں کا جہاں یہ لوگ تعلیم پاکر آتے ہیں اب اگر کچھ کہتا ہوں توبدنام ہوتا ہوں اوراگرنہیں کہتا توبت کی طرح بیٹھے ہیں نہ ہاں کچھ نہیں اسکے بعد فرمایا ارے بندہ خدا کچھ تو دوسرے آدمی کو جواب دینا چاہئے اگرکوئی جواب نہیں تویہ ہی کہ دو کہ کوئی جواب نہیں یہ بھی ایک جواب ہے اس پران صاحب نے عرض کیا کہ میں ذرا سوچ کر پھر کسی وقت جواب دوں گا فرمایا ماشاءاللہ ایک بات تو فہم کی کہی اگریہ پہلے ہی سے کہ دیتے تومجھ کو اتنی پریشانی نہ ہوتی اچھا جاؤ اورتنہائی میں بیٹھ کر جواب سوچ لواور جب سمجھ میں آجائے تومجھ کوخود تویادرہے گا نہیں تم خود اطلاع کردینا اوراس میں بھی یہ آزادی ہے اگر تمہارا جی چاہے تواطلاع کرنا اگرنہ چاہے مت کرنا مجھ کو انتظار نہ ہوگا اگراطلاع میں اپنا نفع سمجھو اور مجھے اصلاح کرانا مقصود ہو اطلاع کرنا ورنہ جوارادہ ہواس پرعمل کرلینا میری طرف سے بالکل آزادی ہے ۔
(ملفوظ 133)خدا سے محبت پیدا کرنا تمام تصوف کی جڑ:
ایک صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ اس راہ میں صرف ایک ہی طریق ہے کامیابی کا وہ یہ کہ خدا سے محبت پیدا کرو بس یہی جڑ ہے تمام تصوف کی بدوں اس کے اس راہ میں کامیابی مشکل ہے اب رہا یہ کہ محبت پیدا کرنے کا کیا طریق ہے سووہ طریق یہ ہے کہ اہل محبت کے پاس بیٹھو ان کی صحبت اختیار کرواس کی برکت سے یہ چیز نصیب ہوجائےگی اور یہ چیز نہ پیرکی توجہ پرموقوف ہے اور نہ کسی تعویذ گنڈوں پریہ خود اپنی طلب پرموقوف ہے اب جس کوبھی عطا ہوجائے مگرطلب ضرور شرط ہے ۔
(ملفوظ 132) مدارس میں منگل کوچھٹی کا سبب :
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ یورب کے شہروں میں مدارس میں منگل کی بھی چھٹی ہوتی ہے اس لئے کہ وہاں کےلوگوں میں مشہور ہے کہ امام ابوحنیفہ کی وفات منگل کے روزہوئی ہمیں تویہ بھی معلوم نہیں کہ امام صاحب کی وفات منگل کے ورز ہوئی۔
(ملفوظ 131)اعلاء السنن اور تفسیرمیں مذہب حنفی کا کام
ایک سلسلہ گفتگومیں فرمایا کہ مولوی صاحب ایک تصنیف کا وعدہ کرگئے ہیں جس میں آیات سے اثبات ہوگا مذہب حنفی کا کیونکہ مدرسہ دیوبند میں جیسے پہلے سے حدیث شریف کا دورہ ہوتا ہے امسال تفسیر کا دورہ بھی تجویز کیاگیا ہے اس میں مدارک بھی ہے اس کے مصنف حنفی ہیں تواس نئی کتاب میں اس میں زیادات ہوجاوے گی جیسے یہاں ایک کتاب مذہب حنفی میں حدیث کی ہوگئی ہے اعلاء السنن اسی طرح یہ ایک کتاب تفسیر کی ہوجائے گی جس کا وعدہ مولوی صاحب کرگئے ہیں پھرحدیث کی کتاب مذکورکی ترتیب پرفرمایا کہ اللہ کا شکرہے کہ یہاں کسی کوامداد کے لئے نہ تحریک کی جاتی ہے اور نہ ترغیب دی جاتی ہے اورکام سب جگہ سے زائد ہورہاہے ۔
(ملفوظ 130) فناء نفس مقدم ہے مجاہدہ پر :
ایک سلسلہ گفتگومیں فرمایا کہ جوشخص یہاں اصلاح کے لئے قیام کے ارادہ سے آتا ہے یا طالب علم مدرسہ می داخل ہونے کےلیے آتاہے اس کو دو وصیتیں کردی جاتی ہیں ایک یہ کہ کسی سے دوستی مت کرو اور دوسری یہ کہ کسی سے دشمنی مت کرو یہاں تو وہ رہ سکتا ہے جومردہ ہوکررہے یہاں زندوں کا کام نہیں اورجگہ تو ماہدہ مقدم ہے فناء نفس پراوریہاں فناء نفس مقدم ہے مجاہدہ پر۔
(ملفوظ 129 )سنی سنائی روایت پرعمل نہ فرماما :
ایک گفتگو میں فرمایا کہ الحمداللہ میرے عادت ہے کہ میں سنی سنائی روایتوں پر عمل نہیں کرتا اگر مدعی علیہ اس واقعہ کا انکار کرے تو میں اس پرعمل نہیں کرتا باقی رہا شبہ سویہ میرے اختیار میں نہیں شبہ توہوہی جاتا ہے مگریہ حق تعالیٰ کا فضل ہے کہ جوچیز اختیار میں ہے اس میں کبھی حدود سے تجاوز نہیں ہوتا ۔
(ملفوظ 128)خدمت کے شرائط میں ایک بے تکلفی بھی ہے :
ایک صاحب کی غلطی پرجوکسی خدمت کے متعلق صادر ہوئی تھی مواخزہ فرماتے ہوئےفرمایا کہ جب تک بے تکلفی نہ ہو کسی کی خدمت نہیں کرنا چاہئے ایسی خدمت سے مخدوم کو تکلیف پہنچتی ہے کیونکہ خدمت کے شرائط میں سے ایک بے تکلفی بھی ہے لوگ خدمت میں کوئی شرط ہی نہیں سمجھتے حالانکہ نماز وروزہ جوقربات مقصود سے ہیں ان تک بھی شرائط ہیں مگر لوگ اس میں کچھ بھی شرائط نہیں سمجھتے اگر شرائط خود معلوم نہ ہوں آدمی کم از کم تحقیق تو کرلے کہ کیا شرائط ہیں اول تو فطرت سلیمہ کا مقتضایہ ہی ہے کہ خود ایسی شرائط جوکہ موٹی باتیں ہیں سمجھ میں آجائیں لیکن اگرکسی کی ایسی فطرت نہ ہو تویہ موٹی بات ہے کہ کسی سے معلوم ہی کرلے لیکن یہ باتیں ہوتی ہیں فکرسے اور فکرہے نہیں جوجی میں آیا کرلیا اس پران صاحب نے معافی کی درخواست کی فرمایا کہ معاف ہے مگر آئندہ ایسی باتوں کا خیال رہے بے ڈھنگا پن براہے ۔

You must be logged in to post a comment.