(ملفوظ 116)ایک نیا مذہب صلح کل :

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ اجکل ایک مذہب نکلا ہے صلح کل اور وہ لوگ یہ شعر پڑھا کرتے ہیں
حافظا گروصل خواہی صلح کن باخواص و عام یا مسلمان اللہ اللہ بابرہمن رام رام
یہ شعر حافظ کاتوہے نہیں مگر حافظ کا نام لگ گیا کیا دنیا میں یہ ہی ایک حافظ تھے اور سب ناظرہ خواں تھے یہ مذہب جاہل ہندو صوفیوں کا ہے کہ وہ تصوف میں کفرواسلام کی کچھ قید نہیں سمجھتے تھے چنانچہ ان کی رائے کامل بزرگوں کے متعلق بھی یہی ہے اس پر حضرت مولانا فضل الرحمن صاحب گنج مراد آبادی رحمہ اللہ کا ایک واقعہ یاد آگیا مولانا سے اکثر لوگ تبرک مانگا کرتے اب کہاں تک دیں اس لئے مولانا نے ایک ہندو عطار کے یہاں کچھ گولیاں ہاضمہ کی بنواکر رکھدی تھیں جو شخص تبرک مانگتا وہی گولیاں بتادی جاتیں کہ وہاں سے خرید کردم کرالو مولانا پریشان استغراق غالب تھی کبھی کبھی گولیاں دیتے وقت ان گولیوں پربجائے دم کرنے کے تھوک بھی دیتے تھے مگر باوجود اس کے ان گولیوں کو ہندو تک بعض ہندؤں نے ایسے ہندؤں پر اعتراض کیا کہ تم مسلمان کا تھوک کھاتے ہو ان ہندوں نے جواب دیا کہ یہ مسلمان نہیں یہ تواوتار ہیں ان کا کیا ہندو کیا مسلمان ، عجیب بات ہے مولانا نے ساری عمر تکمیل اسلام کی کوشش کی اور ان کے نزدیک مولانا مسلمان ہی نہ تھے تو اس اعتقاد کا منشاء وہی جہل تھا کہ درویشی میں کفر واسلام کی کوئی قید نہیں ۔

(ملفوظ 115 )ابن حزم میں حزم نہیں :

ایک صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ ابن حزم کے ذہن میں کجی توہے مگر ہیں بہت تیز باقی کجی توہے مگر ہیں بہت تیز باقی کجی پیٹ بھر کے ہے اس لئے کہ ان میں حزم (احتیاط) نہیں اسی طرح داود ظاہری ہیں ، ہیں توظاہری مگر ہیں ذہین اوریہ سب حضرات ذہانت کے ساتھ متد ین متورع (متقی ) بھی ہیں اس زمانہ میں ذہن کے ساتھ اس کا بھی قحط ہے ایسی ذہانت پرایک قصہ یاد آیا کہ ایک معقولی طالب علم سے کسی نے مسئلہ پوچھا کہ گلہری کنوئیں میں گرگئی اس کا کیا حکم ہے طالب علم صاحب کو مسئلہ تو معلوم نہ تھا مگر جہل کا اقرار کیسے کریں آپ نے معقولی تشقیقات شروع کیں کہ وہ جوگری ہے تو دوحال خالی نہیں یاتوکسی نے گرائی ہے یاخودی گری ہے ، آہستہ گری ہے یازورسے پھر یہ بھی دوحال سے خالی نہیں یا توکسی آدمی نے گرائی ہے یا جانور نے یاڈر کے خودگری تو ان شقوں میں سے کونسی صورت واقع ہوئی ہے بس اسی طرح سے ان کا جہل چھپ گیا آج کل ایسی ہی ذہانت اور تیزی کمال سمجھتی جاتی ہے ایک حکایت مولانا گنگوہی نے ایک مفتی کی بیان کی تھی ان کو عاجز کرنے کی غرض سے کسی نے ان سے مسئلہ پوچھا کہ حاملہ عورت سے نکاح کرنا کیسا ہے یہ بڑے بکھیڑے کا اور تفصیل طلب مسئلہ ہے انہوں نے اخفاء جہل کےلئے کیسا مزہ کا جواب دیا کہ یہ ایسا ہے جیسے گھیرادے دیا اور دریافت کیا گیا گھیراکہا کہ یہ ہی گھیرا جس کو گھیراکہتے ہیں چند بار کے سوال پربھی یہ ہی جواب دیتے رہے ایسا گھیرا دیا کہ خود بھی اس سے نہ نکلے بعضے ایسے بھی گذرے ہیں کہ قصدا تو تلبیس نہ کرتے تھے مگر علمی سرمایہ کی کمی سے بعضے امراض کے اثر سے بے اصول جواب ان سے صادر ہوجاتے تھے ممکن ہے کہ وہ معزور ہوں مگر عوام کو ضرر تو پہنچ جاتا ہے جس سے بچانا ضروری تھا اور بچانے کی باضابطہ صورت یہی ہے کہ ان کا ابطال کیا جاوے مگر بعض مقامات پراس سےفتنہ ہوجاتا ہے اس لئے ایسے موقع پرتحصیل مقصود کےلئے بڑی حکمت کی ضرورت ہے حضرت مولانا گنگوہی رحمہ اللہ کو اللہ تعالیٰ نے ایسا ہی حکم بنایا تھا اس حکمت کا ایک واقعہ ہے مولانا کے ابتدائی وقت میں ایک بزرگ تھے مولوی سالاربخش صاحب وہ اس علاقہ میں بہت زیادہ بااثر تھے مگر مسائل بے اصل بیان کرتے تھے مولانا کی فراست قابل ملاحظہ ہے ایک شخص مولانا سے مسئلہ پوچھنے آیا اتفاق سے اس وقت مولوی سالاربخش صاحب گنگوہ آئے ہوئے تھے مولانا نے اسی حکمت پرنظرفرما کر اس شخص سے فرمایا کہ بڑے مولوی صاحب آئے ہوئے ہیں ان سے مسئلہ پوچھو ان کے سامنے میں کیا چیز ہوں وہ شخص مولوی سالاربخش صاحب کے پاس پہنچا اور ان سے مسئلہ دریافت کیا اور یہ بھی کہہ دیا کہ میں مولانا رشید احمد صاحب سے مسئلہ پوچھنے گیاتھا انہوں نے یہ فرمایا کہ ہم مولوی صاحب کے سامنے کیا چیز ہیں مولوی سالاربخش صاحب بڑے خوش ہوئے اور خوشی کے جوش میں بولے کہ واقعی وہ بڑے عالم ہیں آج سے ہم نے یہ کام ان ہی کے سپرد کردیا بس مسائل ان ہی سے پوچھا کرو ہم سے پوچھنے کی ضرورت نہیں حضرت مولانا گنگوہی رحمہ اللہ کی فراست دیکھئے کہ کتنے بڑے خلجان کوذراسی دیر میں رفع فرما دیا واقعی یہ حضرت مولانا ہی کاکام تھا ان حضرات کی فراست سبحان اللہ ۔

(ملفوظ 114)بعض اہل علم کے قلوب میں دین کی بے وقعتی :

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ افسوس ہے آج کل بعضے حضرات دیندار اور اہل علم کہلاتے ہیں مگر اپنی اولاد کو تعلیم دنیا کی طرف بھیجتے ہیں مجھ کو توصاف معلوم ہوتا ہے کہ اس قسم کے لوگ غالبا اس پربھی پچتاتے ہونگے کہ ہم عالم کیوں ہوگئے ہم انگریزی کیوں نہ پڑھی سو یہ حالت کس قدر خطرناک ہے کہ اس سے ان کے قلب میں علم دین کی کھلی بے وقعتی معلوم ہوتی ہے حق تعالی ٰ ان لوگوں کی حالت پررحم فرمائیں اور ان کو ہدایت فرمائیں ۔

(ملفوظ 113) ثواب پہنچانے کی حقیقت :

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ بدعتیوں میں دین توہوتا نہیں یوں ہی اڑنگ بڑنگ ہانکتے رہتے ہیں کثرت سے دو باتیں ایجاد کررکھی ہیں جن کی نہ کوئی اصل معقول ہے اور نہ کوئی دلیل منقول ایک صاحب نے جوبدعتی ہونے کے ساتھ جنٹلمین انگریزی خواں بھی تھے ایصال ثواب پرمجھ سے گفتگو کی اور فاتحہ جوکھانے پرہوتی ہے اس کے متعلق سوال کیا میں نے دریافت کیا کہ ثواب پہنچانے کی حقیقت کیا ہے کہ ایک چیز کا ثواب ہم کو ملا ہم نے اس کو دوسرے کو پہنچادیا میں نے کہا کہ کھانا کھلانے سے یا دینے سے قبل ظاہر ہے کوئی ثواب کا عمل صادر ہی نہیں ہوا اس لئے ثواب بھی آپ کو نہیں ملا پھر کیا چیز پہنچاتے ہو ظاہر ہے کہ دیگ میں نکال کر طشت میں رکھنے پرتو کوئی ثواب ملا نہیں جس کو پہنچایا گیا پس گم ہوگئے اسی طرح ایک گاؤں کا شخص میرے پاس آیا اور کہا ک اجی مولوی جی کھانے پرہاتھ اٹھاکر فاتحہ پڑھنا کیسا ہے میں نے کہا کہ تم نے اللہ واسطے کبھی کپڑا دیا ہوگا کیا اس پربھی فاتحہ پڑھوائی تھی سواس میں اور اس میں کیا فرق ہے پھر میں نے دریافت کیا کہ تمہاری یہاں کولہوں ہے جس میں گنے کا رس نکلتا ہےکہا کہ ہے میں نے کہا رس نکالنے کے بعد اس کے چھلکے یعنی کھوئی مسجد میں پانی گرم کرنے کےلئے کبھی دیتے ہوکیا اس پر بھی فاتحہ پڑھتے ہویا پڑھواتے ہوسمجھ میں آگئی بہت ہی خوش ہوا اور روز سے ہنسا کہنے لگا واقعی یہ ساری باتیں بیوقوفی ہی کی ہیں غرض بدعت کی باتیں خود صریح طور پرعقل کے بھی خلاف ہیں مگر تسویل نفسانی (نفس کے دھوکہ دینے ) کہ وجہ سے اس وقت سنت اوربدعت میں فرق کرنا پڑا مشکل ہوگیا جس کے سمجھنے میں اہل علم تک گڑبڑ میں پڑجاتے ہیں چنانچہ ایک طالب علم ان رسوم کے مانع تھے دوسرے مجوز (جائز کہنے والے ) ان مجوز نے کہا کہ یہ ماتعین کا سوء ظن ہے کہ فاعلین کے عقیدہ کو فاسد سمجھتے ہیں ان کے عنوان کو مت دیکھو ان کی نیت بری نہیں وہ جوکہتے ہیں کہ یہ نیاز ہے فلاں بزرگ کی مراد یہ ہوتی ہےکہ نیاز اللہ کی اور ایصال ثواب ان بزرگ کومانع کہتا تھا کہ نیت ہی بری ہوتی ہے یہ گفتگو ایک مسجد میں ہورہی تھی کہ ایک بڑھیا کچھ مٹھائی وغیرہ لئے ہوئے آئی اور مقیم مسجد ایک طالب علم سےکہا کہ بیٹا اس پر بڑے پیرکی نیاز دے دو مانع نے امتحانا کہا کہ بڑی بی نیاز تواللہ کی ہوا اور ثواب بخش دیں بڑے پیر صاحب کوتو بڑھیا کیا کہتی ہے کہ نیاز دیدو اس وقت مانع نے مجوز سےکہا اب اپنی تاویل کودیکھ لوبڑی بی اس کو کس طرح رد کررہی ہے یہ سب خرابیاں کھانے پینے والوں کی بدولت ہورہی ہیں وہ ان تدابیر سے حلوے خوب اڑاتے ہیں بلکہ ساتھ میں حسینو ں کے جلوئے بھی کیونکہ اکثر جاہل عورتیں ایسی چیزیں لےکرآتی ہیں بڑے ہی بددین ہیں ایک ملاکی حکایت سنی ہے کہ ایک گاؤں میں ایک مسجد تھی اس میں ایک مالارہتا تھا ایک بڑھیا فاتحہ کا کھاملانے کے لئے لائی اتفاق سے اس وقت ملامسجد میں تھا نہیں ایک مسافر مسجد میں ٹھہرا ہواتھا اس عورت نے اول ملاکو آوازدی جب وہ نہ بولایہ خیال کیا کہ مقصود تو ثواب ہےلاؤ اسی مسافر کو دیدو چنانچہ وہ چیز کھانے کی مسافر کو دے کرجلدی یہ مسجد کے دروازہ سے نکلی ہی تھی کہ ملا آگیا اس عورت سے دریافت کیا کہاں آئی تھی کہا کہ فلاں چیز کھانے کی لائی تھی مگر تم نہ تھے اس لئے مسافروں کودےکر چلی آئی یہ سن کرملائے آگ لگ گئی اورخیال کیا کہ بری راہ نکلی اب ہماری تخصیص مٹ جائے گی مسجد میں پہنچا اور ایک ہاتھ میں لٹھ لےکر تمام مسجد کےصحن میں دیوانوں کی طرح مارتا پھرنے لگا اور اخیر میں خود دہڑام سے گرگیا گاؤں والے جمع ہوگئے سوال کرنے پرکہا کہ بس اب میرا یہاں گذر نہیں اورکہیں جار رہا ہوں لوگوں نے وجہ پوچھی کہا کہ بات یہ ہے کہ میں تویہاں کے مردوں کو پہچانتا ہوں مسافر پہچانتا نہیں جب مردے جمع ہوئے اس مسافر نے تقسیم میں گڑبڑکی اس کو تونا واقف سمجھ کرکچھ بولے نہیں جب میں آیا میرے سرہو گئے مجھ کو لپٹ گئے میں نے کتنا ہی ہٹایا لٹھ بجایا کہ جب مجھے دی ہی نہیں میں تم کو کہاں سے دوں مگر ایک نہ سنی آخرسب نے مل کرمجھ کو گرادیا اب اگر ہمیشہ ایسا ہی ہو امیں تو مرجاؤں گا اس لئے جاتا ہوں دوسری جگہ گاؤں والے بیچاروں نے متفق ہوکر کہا کہ بس جی ملا ہی کو دیا کرینگے یہ کماؤ لوگ ایسے شریر ہوتے ہیں ملا پر ایک حکایت اور یاد آئی ایک عورت نے کھیر پکائی اتار کررکابی میں رکھی کتا آیا منہ ڈال گیا عورت نے اپنے بچے سے کہا کہ جایہ مسجد کے ملا کودے آ، وہ لیکر گیا ملا کونہ معلوم کے روز میں کھیرملی تھی بچے کے ہاتھ سے لیتے ہی ایک طرف سے کھانا شروع کردی بچے نےکہا ملاجی ادھر سے نہ کھائیو ادہر کتے نے منہ ڈالدیا تھا ملاجی نے نہ سن کرہاتھ سے رکابی پھینک کرماری وہ رکابی ٹوٹ گئی بچہ رونے لگا ملاجی نے دریافت کیا کہ تو کیوں روتا ہے کہاکہ تم نے رکابی پھوڑدی مجھ کو میری ماں مارے گی یہ تو میرے بھیا کے پاخانہ اٹھانے کی رکابی تھی یہ حالت ان کے عوام وخواص کی ہے اسی طرح کی حالت آج کل کے کماؤ پیروں کی ہے ایک ایسے ہی گاؤں میں پیراپنے مریدوں میں گئے ایک مریدنی گنواری کے یہاں ٹھہرے ایک دوسری گنواری مریدنی آئی کہ شام کو میرے یہاں ٹھہر ے ہیں میرا حق ہے اختلاف ہونے لگا تو دونوں کے اتفاق سے پیر صاحب حکم سے کہا کہ بھائی ٹھہرا ہوں اسی کے یہاں کھانا مناسب ہے آنے والی بولی اچھی بات مگر میں نے مرغ کاٹاتھا یہ سن کر پیر پھسل گئے اور گھروالی سے کہا کہ خیر اسی کو اجازت دیدے وہ ان سے کیا کہتی جھلاکر آنیوالی سے کہا جاتوہی پیرسے یوں توں کرالیجوبس یہ حالت ہے اسی لیے ان نالائقوں کی قدر منزلت بھی ایسی ہی ہوتی ہے ایک گاؤں میں اناج کی تیاری پرسب کمیوں کا حق نکالا جارہا تھا جب اناج اٹھانے لگے توایک چودھری نے جو اس تقسیم کو دیکھ رہا تھا یوں کہا کہ ارے سب کمیوں کا حق تو نکالا مگر اس سہرے پیر کا بھی حق نکال دو وہ آوے گا ایسے نالائقوں کی سزا یہی ہے خیر یہ تو جاہل لوگ تھے جن کے واقعات ہیں باقی زیادہ افسوس بعض علماء کی حالت پرہے کہ اغراض کی بدولت راہ سے بھی گرگئے نظر سے بھی گرگئے عوام کوان سے بد گمانی ہونے لگی اگرعلماء اپنی آن بان کو باقی رکھتے توان کی بڑی قدر ہوتی اور ان پر اعتماد بھی ہوتا مگر یہ بھی پھسلنے لگے بس ان کے پھسلنے پرزیادہ ررنج ہے اس لئے کہ ان کے پھسلنے سے عوام کے گمراہ ہونے کا سخت اندیشہ ہے اس ہی لئے میں ہمیشہ اس کی کوشش کرتا ہوں کہ علماء سے لوگ بدظن نہ ہوں ان کے ساتھ مربوط رہیں کہ ان کے دین کی سلامتی اسی میں منحصر ہے اس بداعتمادی پرایک واقعہ یاد آیا کہ ایک بڑی بی نے مجھ سے مسئلہ پوچھا کہ زکوۃ کا روپیہ ہے تاکہ وہ اس کے مصرف میں صرف کردیں وہ خوش ہوئیں اورکہا کہ مدرسہ میں جومولوی صاحب ہیں میں نے ان سے بھی پوچھا تھا انہوں نے بھی یہ ہی بتلایا تھا مگر مجھ کو اطمینان نہ ہو ا تھا کہ شاید اپنے مدرسہ کی غرض سے بتلا دیا ہو اسلئے میں نے یہ خیال کیا کہ کسی بہرے تبولے سے (یعنی غنی مستغنی ٰ سے ) پوچھوں بتلائیے یہ بدگمانی کس درجہ کی بات ہے پھر جب اہل علم پر اعتماد نہ ہوگا تومسائل کس سے پوچھیں گے اسی لئے میں کہا کرتا ہوں کہ علماء کو بہت سنبھل کررہنے کی ضرورت ہےبلکہ ان جاہل صوفیوں اوردرویشوں کی حرکات سے اس قدر عوام کی گمراہی کا اندیشہ ہے جس قدر اہل علم اورعلماء کے پھسل جانے سے اندیشہ گمراہی کا ہے ان کو بہت سنبھل کرچلنے کی ضرورت ہے ۔

(ملفوظ 112)شیعوں کےخواص ہروقت تلبیس کی تدابیر سوچتے ہیں :

ایک صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ یہ شیعوں کے عوام الناس گمراہی میں درجہ کے نہیں جس درجہ کے ان کے خواص ہیں ہروقت تلبیس کی تدابیر سوچتے رہتے ہیں ایک واقعہ میں لکھنؤ کا ایک مجتہد صاحب کے پاس ایک شیعی نواب صاحب ہانپتے کانپتے آئے کہا کہ جناب آج بڑا جرم صادر ہوا اسکا کیا کفارہ ہونا چاہئے وہ جرم یہ ہوا قبلہ کی خاک شفاء کی تسبیح بھولے سے ہاتھ رہ گئی اور بیت الخلاء میں چلی گئی اوراس کا تا گا ٹوٹ کرچند دانے پاخانہ میں گرگئے اب اس گناہ کا کیا کفارہ ہے مجتہد صاحب نے جواب دیا کہ نواب صاحب فکرنہ کیجئے وہ خاک شفاء ہی نہ تھی پاک چیز ناپاک کی طرف جاہی نہیں سکتی تمام مجلس میں اس جواب پربڑی تحسین ہوئی کہ سبحان اللہ کیا نکتہ فرمایا اس مجلس میں ایک سنی بھی تھے انہوں نے کہا کہ حضرت قبلہ آپ کے جواب سے تو آج مذہب کا قطعی فیصلہ ہوجاوے گا یہ آپ کے ہاتھ میں تسبیح ہے میں نے بارہا آپ سے سناہے کہ یہ اصلی خاک شفاء کی ہے سومجھ کو اجازت دیجئے کہ اس کا تا گا توڑ کر پاخانہ کے سامنے لٹکاتا ہوں اگرتسبیح کا کوئی دانہ نہ گرا تو میں شیعی ہوجاؤنگا اور اگر گرگیا تو آگے کچھ کہہ نہیں سکتا تمام مجلس پراس جواب سے حیرت طاری ہوگئی اور مجتہد صاحب سے کچھ بھی جواب نہ بن پڑا ایک دوسرا واقعہ بھی لکھنؤ کا ہے شیعوں کے یہاں خرگوش حرام ہے مولانا اسمعیل شہید صاحب رحمتہ اللہ علیہ لکھنو کے آمد کے زمانہ میں ایک خرگوش کاشکار کرکے لائے وہ ایک گوشہ میں رکھا ہوا تھا اتفاق سے مولانا کے پاس ایک مجتہد صاحب بغرض ملاقات تشریف لائےوہ بیٹھے ہوئے تھے اتنے ایک کتا آیا وہ خرگوش کی طرف چلا مگرسونگھ کرہٹ گیا اس پرمجتہد صاحب کوایک موقع ملا فرماتے ہیں جناب مولانا دیکھئے آپ کے شکار کوکتے نے بھی نہیں کھایا مولانا نے جواب دیا کہ جناب قبلہ مجتہد صاحب یہ کتوں کے کھانے کا نہیں ہے آدمیوں کے کھانے کا ہے ۔ تیسرا واقعہ ایک صاحب نے مجھ سے بیان کیا تھا کہ عامی سنی سے ایک شیعی کی گفتگو ہوئی سنی نے کہا جب فدک پرجھگڑا تھا تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اپنے زمانہ خلافت میں اس کو کیوں نہ لے لیا شیعی نے جواب دیا کہ جو چیز غصب کرلی جاتی ہے پھر ہم لوگ اس کونہیں لیتے ، سنی نے جواب دیا کہ خلافت بھی تو غصب کرلی گئی تھی پھر اس کو کیوں لیا اس جواب پرشیعی دم بخود رہ گیا۔ چوتھا واقعہ ایک مولوی صاحب میرے دوست ہیں کیرانہ کے رہنے والے وطن ہی میں ان سے ایک شیعی نے کہا کہ مولوی صاحب یہ کیا بات ہے کہ آج کل جتنے نئے نئے فرقے نکلتے ہیں تہتر بہتر فرقہ جوبنے ہیں یہ سب سنیوں ہی میں سے بنتے ہیں کبھی آپ نے یہ بھی دیکھا کہ مومنین سے کوئی نیا فرقہ بناہومولوی صاحب نہایت ذہین اور ذکی شخص ہیں بڑی ظرافت سے کہا کہ آپ نے بالکل سچ کہا مگر اس کی وجہ آپ کو معلوم نہیں میں بتلاتاہوں وہ وجہ یہ ہے کہ یہ سب کو معلوم ہےکہ شیطان ہرشخص کو گمراہی میں اعلی درجہ پر پہنچانے کی کوشش میں لگارہتا ہے توسنی چونکہ حق پرہیں اس لئے وہ ہروقت ان کے پیچھے پڑا رہتا ہے اور نئی نئی گمراہیاں سکھلاتا رہتا ہے بخلاف تم لوگوں کے کہ تم کو گمراہی کے اعلی درجہ پر پہنچا چکا ہے اب وہاں سے کس درجہ پرپہنچا دے اس لئے تم سے بیفکر ہےیہ سن کرشیعی صاحب نے سانس نہیں لیا ۔ پانچواں واقعہ ایک خواندہ شیعی اور ایک ناخواندہ خان صاحب کا ہے سفر میں اتفاقا ساتھ ہوگیا شیعی صاحب نے کہا کہ جناب خان صاحب جن لوگوں نے امام حسین کوشہید کیا معلوم نہیں ہم تھے یاتم تھے (یہ چھیڑتھی مطلب یہ کہ شیعی تو محب حسین ہیں وہ توہو نہیں سکتے بس سنی ہی ہونگے حالانکہ یہ تاریخ کے خلاف ہے مگر بیچارے باخواندہ پٹھان تاریخ کیاجانے شیعی صاحب سمجھتے تھے کہ یہ بیچارہ اس کا جواب کیا دے گا ) خان صاحب بولے جناب واقعات تو واقف لوگ جانتے ہوں گے مگر ایک بات موٹی تو ہم بھی سمجھ سکتے ہیں وہ یہ کہ ہم نے سناہے کہ جو اصحاب کو برا کہے اس نے اللہ ورسول کو برا کہا اور جواللہ ورسول کو برا کہے وہ کافر ہے اور حضرت امام حسین کو قتل کرنا مسلمان کا کا م توہے نہیں کافر ہی ایسا کام کرسکتا ہے اب دیکھ لیجئے ان کے شہید کرنے والے کون تھے ، شیعی صاحب باوجود خواندہ ہونے کےدم بخود ہی تورہ گئے ۔

(ملفوظ 111)نفس بڑا شریرہے :

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ نفس بھی بڑا ہی شریرہے اور جبکہ غرض بھی شامل ہوتو پھر تو سونے پرسہاگہ کاکام کرتا ہے کاند ہلہ کے قریب ایک گاؤں ہے اس میں ایک سنی عورت کا انتقال ہوا بڑی مالدار عورت تھی خاوند شیعی تھا تو اس عورت کےبھائی نےیہ چاہا کہ سب ترکہ مجھ کو ملے اس کے خاوند کو کچھ نہ ملے تواس کی یہ تدبیر سوچی کہ مجھ کوایک استفتاء لکھ کردیا اورحکم شرعی اس طرح پوچھا کہ سنی عورت کا شیعی مرد سے نکاح توجائزنہیں جب نکاح نہیں ہوا تو اس عورت کی میراث بھی اس مرد کو نہ ملے گی میں نے کہا کہ کیا یہ مسئلہ آج معلوم ہوا پہلے سے کہاں سورہے تھے جب بہن نے نکاح کیا تھا اس وقت نہ بولے اور ساری عمر بہن کے لئے حرام کوگوارا کرتےرہے شرم نہیں آتی دنیا کی غرض سے تویہ بات نکالی اور دین کا کچھ خیال نہ کیا یہ نفس ایسا استاد ہے دوسری بات میں نے یہ کہی کہ اگر اسی واقعہ میں مرد مالدار ہوتا اور پہلے مرجاتا اور تم کو یہ امید ہوتی کہ پھر عورت کےمرنے پرمیں مستحق ہوں گا تو ایمان سے کہو کیا اس وقت بھی اس نکاح کوناجائز قراردے کرعورت کو میراث سے محروم کرتے جس کا نتیجہ تمہارا حرماں ہوتا بس یہ ہیں وہ باتیں جن کیوجہ سے لوگ مجھ سے ناراض ہیں مگر ہوا کریں ناراض ، مجھ کو ان کی ناراضی یا خوشی سےلینا ہی کیا ہے اللہ تعالی ٰ راضی رہیں پھرچاہے سارا عالم ناخوش اورناراض رہے بحمداللہ اس کا مجھ پرکچھ اثر نہیں مجھے کتمان حق نہیں ہوتا نہ کسی کی للو پتو ہوتی ہے میں توایک سیدھا سادھا مسلمان ہوں صاف اور سچی بات کہنا جانتا ہوں اپنے بزرگوں کا یہ ہی طرز دیکھا یہ ہی پسند ہے ۔

(ملفوظ 110)جاہل درویشوں کی روایات :

ایک صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ جی ہا ں ایسے جاہل درویشوں کی روایات تو تبرک ہیں ہی ان کی تو ذلت بھی تبرک اور عجیب بات یہ ہے علم تو ہوتا نہیں بیٹھے ہوئے چنڈوخانہ کی سی خبریں ہانکا کرتے ہیں ان کی ایسی روایات کا بس اللہ ہی حافظ ہے جن کے سر نہ پیر۔

(ملفوظ 109)آج كل سجاده نشینوں کو حکام دین کی خبر نہیں:

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ آج کل بزرگوں کے مزارات اور ان کے تبرکات کے بارہ میں نہایت ہی بد احتیاطی سے کام لیا جارہاہے جائز ناجائز حلال حرام کی قطعاپرواہ نہیں کی جاتی اوریہ ان لوگوں کے افعال ہیں جوسجادہ نشین ہیں اور اپنے کوشیخ المشائخ کہلاتے ہیں مگردین اور احکام دین کی مطلق نہ خبرہے اور نہ پرواہ ہے پھر خدامگر معلوم بزرگی اور ولایت کس چیزکا نام رکھ چھوڑا ہے چنانچہ ان سجادہ نشینوں کے پاس جس قدر یہ تبرکات ہیں جن پرانہوں نے قبضہ کر رکھا ہے ظاہر ہےکہ قاعدہ فقہیہ سے واقف تو ہیں نہیں یہ ابتداء میں کسی کی ملک خاص تھے پھراس میں مناسخہ (یعنی وراثت دروراثت ) جاری ہوکر بہت سے لوگ اس میں شریک ہوگئے تو ان سب کی ملک ہوئے پھر نہ سب کی رضانہ ہررضا معتبر مگر باوجود اس کے خلاف شرع ان سجاد نشینوں نے ان کو بدوں کسی حق کے محبوس کررکھا ہے ان کو تو یہ گناہ ہوا اور جولوگ ان کی زیارت کرتے ہیں یہ اس گناہ کے معین ہیں کیونکہ اگر کوئی بھی زیارت نہ کرے تو پھر یہ سلسلہ ہی بند ہوجائے غرض اس جماعت میں حقوق العباد کا مطلق خیال نہیں کیا جاتا خدامعلوم خداتعالی ٰ کا خوف دل سے نکل ہی گیا یہ ہیں آج کل کے سجادہ نشین اور شیخ المشائخ کہ خود گمراہ اور دوسروں کو گمراہ کرنے والے ۔

(ملفوظ 108)ایک مسلمان کی قابل رشک ایمانداری :

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ جس زمانہ میں مولوی عبدالرب صاحب دہلوی کے اہتمام سے جامع مسجد سہارنپور کی تعمیر ہورہی تھی ایک دفعہ مولوی صاحب چندہ کے لئے بمبئ گئی تھے وہا سے چندہ وصول کرکے سہارنپور واپس آرہے تھے راستہ میں منگور میں مغرب کی نماز کو اترے نماز پڑھ کررقم کی ہمیانی جس میں غالبا اڑھائی ہزار روپے اور اشرفیاں تھیں مسجد ہی میں بھول گئے اور بہلی میں سوار ہوکر روانہ ہوگئے کچھ دور جاکر وہ ہمیانی یاد آئی تو بہت پریشان ہوئے اور پھر مسجد کو لوٹے یہاں یہ قصہ ہوا کہ ایک غریب چوکیدار محلہ میں رہتا تھا وہ مسجد میں تیل بتی کردیتاتھا اس نے اپنے لڑکے کو روشنی کرنے کےلیے مسجد میں بھیجا وہاں یہ ہمسانی نظر پڑی وہ اٹھا کراپنے باپ کے پاس لایا باپ کےپاس نے کسی سے ذکر نہیں کیاحفاظت سے رکھ لی جب مولوی صاحب مسجد میں واپس آئے دیکھا کہ ہمیانی ندار د بہت ہوئے مسجد میں کھڑے ہوکر اعلان کیا کہ وہ رقم مسجد کی تھی اگرکسی نے تصرف کیا سخت وبال میں مبتلا ہوگا اور اگرکوئی ادا کردے اس کو ایسا ایسا ثواب ہوگا اور پانچ سوروپیہ انعام کے طور پراس کودوں گا لوگ جمع ہوگئے وہ شخص بھی اس مجمع میں حاضر تھا کچھ بولا نہیں مولوی صاحب سےعرض کیا میرے یہاں شب کو قیام کیجئے اطمینان سے تلاش کرینگے جب صبح ہوئی ہمیانی لاکر سامنے رکھ دی مولوی صاحب نے پانچ سو ورپیہ نکال کردینا چاہا اس نے کہا حضرت ہرمسلمان پرمسجد کی خدمت فرض ہے نہ کہ مسجد کی رقم خود لوں مولوی صاحب بے حد متاثر ہوئے اور اس کو بہت دعائیں دیں اور سہارنپور تشریف لے گئے کانپور میں منگلور کے رہنے والے ایک صاحب منشی قادر بخش نہر میں ملازم تھے انہوں نے مجھے یہ روایت کی سبحان اللہ ایمان جس کو قوی ہوتا ہے اس کے مقابلہ میں روپیہ ہے ہی کیا چیز ایسے موقع پر کوئی قوت کافی نہیں ہوسکتی بجزایمان کے اور یہ حوصلہ مسلمان ہی کا ہوسکتاہے اس حوصلہ پرایک اور قصہ یا دآیا ایک مسلمان شخص کہیں کا سفر کررہے تھے کسی اسٹیشن ریلوے پر بڑا نوٹ دیکر ٹکٹ خرید ے ٹکٹ بابوجلدی میں دس روپیہ حساب سے زائد دیدیئے اس وقت تو انہوں نے دیکھا نہیں ریل میں آکربیٹھ گئے پھر جو حساب کیا تو دس روپیہ زائد تھے انہوں نے فورا ٹکٹ کلکٹر کو جا کر واپس کئے اس بابو نے جوکہ ہندو تھا اس کا صاف اقرار کیا گیا اگر یہ واقعہ ہندو کا ہوتا تو وہ ہرگز واپس نہ کرتا یہ مسلمان ہی کاکام ہے اورحوصلہ ہے۔

(ملفوظ 107)ہرمرض پرآسیب کا شبہ کرنا درست نہیں :

ایک صاحب نے کسی مرض کے لئے تعویذ کی درخواست کی اور یہ بھی عرض کیا کہ فلاں مرض ہے مگر آسیب کا بھی شبہ ہے اور حالت یہ ہے سن کر فرمایا کہ کسی طبیب سے مرض کا علاج کراؤ ایسی حالت میں کہ مرض کاغالب احتمال ہے میں تعویذ نہ دوں گا تعویذ دینے میں یہ مفسدہ ہے کہ علاج کی طرف سے بلکل بے فکری ہوجائے گی سوا گر تعویذ دیدیا تواس کی مصلحت کوتو دیکھا مفسدہ کونہیں دیکھا اکثر عوام خصوص دیہاتی ہرمرض کو آسیب ہی کہنے لگتے ہیں اور ان تعویذوں کا تختہ مشق مجھ کواس لئے زیادہ بنایا جاتا ہے کہ میں کچھ لیتا نہیں اگر میں سوا روپیہ لینے لگوں تو پھر حکیم صاحب کے پاس جانے لگیں گے کیونکہ وہاں پانچ پیسے کا نسخہ ہوگا اور یہاں پانچ چونی کا تو جہاں خرچ کم ہوگا وہی کام ہوگا جیسے ایک بخیل رئیس بننے کی حکایت ہے وہ بیمار ہوا لوگوں نے علاج کرنے کا مشورہ دیا کہنے لگا علاج کا تخمینہ کرو چنانچہ تخمینہ کراکر اطلاع کی گئی کہنے لگا اب مرنے کے خرچ کا تخمینہ کرو اس کا بھی تخمینہ کیا گیا تو وہ اتفاق سے کم تھا کہنے لگا بس اب مرنے کے خرچ کا تخمینہ کرو اس کا بھی تخمینہ کیاگیا تو وہ اتفاق سے کم تھا کہنے لگا بس اب مرنے کوزندگی پرترجیح دی اس لئے کہ دوا میں زائد خرچ ہوتا تھا اور مرنے پرجوخرچ تھا وہ کم تھا تواکثر لوگ کم خرچ کی طرف رجوع کرلیتے ہیں پھر تختہ مشق بنانے کوبھی گوارا کیا جاسکتا ہے مگرآفت یہ ہے کہ تعویذ مانگنے میں ستاتے بہت ہیں بات پوری نہیں کہتے حتی کہ باربار پوچھنے پربھی صاف بات نہیں کہتے جس سے بڑی اذیت ہوتی ہے اسی اذیت سے بچنے کے لئے میں نے ایک مرتبہ یہ تجویذ کی کہ جوآیا کرے گا اس سے کچھ نہ پوچھوں گا بس بسم اللہ شریف کا تعویذ لکھ کردیدیاکروں گا اس تجویذ کی مشق کرنے کے لئے طالب تعویذ کا منتظر ہوکر بیٹھا کہ کوئی آئے تواس تدبیر پرعمل کرو اتفاق سے دوشخص آئے انہوں نے آکر حسب معمول جاہلانہ صرف اتنا ہی کہا کہ تعویذ دیدویہ نہیں کا کہ کس چیز کاتعویذ میں نے ان کے کہتے ہی بسم اللہ شریف کا تعویذ دیدیا اس قسم کا یہ پہلا ہی تعویذ دیاتھا وہ لےکرچل دیئے میں اپنی اس تجویذ پر بہت خوش ہوا اور خدا کا شکر یہ ادا کیا کہ تدبیر خوب رہی نہ کچھ پوچھ نہ کچھ بڑا آسان طریقہ سمجھ میں آیا میں نے مولوی شبیرعلی سے کہا کہ میں نے تعویذ کے متعلق بڑ ی سہولت کی تجویذ نکالی ہے اور وہ تدبیر بیان کی وہ بولے کچھ خبربھی ہے جن شخصوں کو تعویذ دیاتھا وہ کیا کہتے جارہے تھے یہ کہتے جارہے تھے کہ دیکھوہم نے کچھ بھی نہیں کہا او ر تعویذ مل گیا ان کوتوبے کہے ہی دل کی بات کی خبر ہوجاتی ہے تب اس تجویذ سہولت کو بھی سلام کیا یہ حالت ہے عوام کے عقائد کی اگر مجھ کو یہ واقعہ معلوم نہ ہوتا تو خود یہ تجویز کتنے بڑے مفسدہ کا پیش خیمہ بن جاتی اور یہ تو اس صورت میں ہے کہ کسی کے معاملہ میں کسی کو واسطہ نہیں بناتا ورنہ واسطے بنانے کے مفاسد میں نے مشاہدہ کئے ہیں ایک بڑا مفسدہ یہ ہے کہ تھوڑے دنوں بعد لوگ ان واسطہ صاحب کی پرستش کرنے لگیں گے یہ سمجھ کرکہ یہ مقرب ہے پھر نہ معلوم کہاں تک نوبت پہنچ جائے نیز ان واسطہ صاحب کو خود بھی تقریب کاوہم ہوجاتا ہے ایک بار ان ہی وقتوں کی وجہ سے کہ لوگ آکر دق کرتے ہیں یہ خیال ہواتھا کہ ایک شخص کو ایک رجسٹرڈ دیکر خانقاہ کے دروازہ پربٹھلادو جوآیا کرئے اس کی حالت وغیرہ لکھ کرمجھ کو دکھلا دیا کرئے مگر وہی مصیبت پیش نظر ہوگئی کہ اس میں مقرب سمجھنے کاسخت اندیشہ ہے پھر وہ مقرب لوگوں کے لئے مکرب (تکلیف دینے والا ) ہوجاتا تعجب نہ تھا کہ رجسڑبھرنے کی فیس آنے والوں سے چار آنہ لینے لگتا اس لئے آنے والوں کی بہہودہ حرکات سےمتاذی ہونا گوارا کرتا ہوں مگر الحمداللہ کسی کو واسطہ ومخصوص بناکر ایک کی روایت کو دوسرے پرحجت اور اس کےمعاملہ میں موثر نہیں بناتا اور عدل ہے اس پر حق تعالیٰ کا شکرادا کرتا ہوں اور ان کا فضل سمجھتا ہوں ۔
10/ربیع الاول 1351ھ مجلس بعد نماز ظہر یوم شنبہ