(ملفوظ 96) حضرت حکیم الامت کا بجز حقوق مالیہ جملہ حقوق معاف فرمانا :

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ میں بجز حقوق مالیہ کے اور سب حقوق بندگان خدا معاف کردیتا ہون جیسے سب دشتم وشکایت وغیبت وغیرہ اور حقوق مالیہ اس لئے معاف نہیں کرتا ممکن ہےکہ میرا کوئی قلمدان ہی اٹھا کرلے جائے کہ یہ توحقوق مالیہ بھی معاف کرچکا۔

(ملفوظ 95)اخلاق متعارفہ سے اصلاح نہیں ہوسکتی :

ایک صاحب کی غلطی پرمواخذہ فرماتے ہوئے فرمایا کہ اگر میں اخلاق متعارفہ اختیار کروں اور تمہاری للوپتو میں رہوں تو تمہاری اصلاح کیسے ہو باقی اصلاح کے اس طرز خاص میں مجھ کو اپنی کسی بات اور کسی کام اورکسی حالت پر ناز نہیں اور ناز توکس چڑیا کانام ہےمیں تو واقعی اپنے کو کلب اورخنزیر سے بدتر سمجھتاہوں بھلاکوئی اس کاکیا یقین کرسکتاہے اس لیے میں بتلاتا ہوں کہ خنزیر سے بدتر سمجھنا اس معنی کرہے کہ ان میں عقوبت کا احتمال نہیں اورہم میں عقوبت اورعذاب کا احتمال ہے اب بتلاؤ کون اچھا ہے نیز باب اصلاح میں میں بحمداللہ امیں ہوں یعنی کسی کی حالت کی اطلاع دوسرے کو نہیں کرتا اگر کسی کامضمون نقل کراتا ہوں تواس کانام نہیں نقل کراتا کہ یہ کس کا مضمون ہے غرض میں ہرقسم کی رعایت کو ملحوظ رکھتاہوں اورامراض باطنی کاسہل سے سہل علاج تجویز کرتا ہوں اورکسی مرض کو لاعلاج نہیں مگرطب روحانی میں بحمد اللہ کہیں گاڑی نہیں اٹکتی پھرجب اتنی رعایتوں پربھی مجھ کو اذیت دی جاوے توکہاں تک تغیرنہ ہو آخرمیں بھی انسان ہوں بشرہوں تومجھ کواس قدر ستایا ہی کیوں جاتا ہے اس پر کچھ کہتا ہوں تو مجھ کوبدخلق اورسخت گیرمشہور کرتے ہیں اوراپنی حرکت کو نہیں دیکھتے اس کی بالکل ایسی مثال ہےکہ چپکے سے ایک شخص کے سوئی چھبودی اور الگ ہوگئے اب وہ چیخ رہاہے چلارہاہے جھلا رہاہے اس کے چیخنے اور چلانے اورجھلانے کوتو سب دیکھ رہے ہیں مگر اس کے سوئی چھبونے کو کسی نے نہیں دیکھا پھراس پریہ کہا جائے کہ میاں ایک ذراسی سوئی ہی تو چھبوئی ہے اس قدر غل کیوں مچاتے ہو جی ہاں جب تمہاے چھبوئی جائے تب پتہ چلے اگرکہوں کہ ہم توبرداشت کرسکتے ہیں تومیں کہوں گا کہ تم بے حس ہوجیسے فالج زدہ پر کوئی اثرنہیں ہوتا دوسرا توبے حس نہیں اس کو محسوس ہوتا ہے ۔

(ملفوظ 94)عمل شروع کرتے ہی دشواری سہولت بن جاتی ہے :

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ عمل تواگر دشواری ہوتو شروع کردے پھرسہولت بھی حق تعالی ٰ میسر فرمادیتے ہیں چنانچہ فرماتے ہیں فاما من اعطی ٰ واتقی ٰ وصدق بالحسنی ٰ فسنیسرہ للیسریٰ اے ہمارے اکابر تسہیل کا بہت قصد کرتے ہیں مگربعض چیز سہولت کی ہوتی ہی نہیں کیا کیا جاوے ایک شخص بی اے ہیں وہ یہاں پرآئے تھے ہیں سمجھدار شخص یہاں سے وطن واپس جاکر لکھا کہ میرے اندر کبرکا مرض ہے اور نفس اس لکھنے پربھی تیار نہیں کہ کبر کو اپنی طرف منسوب کرے میں نے لکھا کہ یہ مضمون مجھ کو پانچ مرتبہ لکھ کربھیج دو پانچ مرتبہ بھی نہیں لکھنے پائے کہ مرض سے شفاہوگئی اب اس سے زیادہ اور کیا تسہیل ہوگی اب وہ بتلائیں جواس طریق کو بدعت کہتے ہیں کہ اس میں بدعت کی کونسی بات ہے یہ تو تدابیر ہیں جیسے طبیب جسمانی امراض کی تدابیراختیار کرتاہے ایسے ہی اس طریق میں خاص تدابیر ہیں ان ہی تدابیر کانام مستقل فن ہوجانے کی وجہ سے تصوف رکھ دیا ہےیہ تدابیر اس مقصود کےمعین ہیں توان میں بدعت کی کونسی بات ہوئی مگرہرحال میں یہ سب کچھ موقوف ہے ارادہ پرمگر لوگ اردہ ہی نہیں کرتے محض تمنا کرتے ہیں اگر ارادہ کریں سخت سے سخت کام آسان ہوجائے اور بے ارادہ آسان سے آسان کام سخت ہوجاتاہے ہمارے خاندان کی ایک عورت کی حکایت کہ ان کو آنکھ کھلنے کے وقت شب کو پیاس لگی خاوند سےکہا کہ پیاس گیا لگ رہی ہے خاوند نے کہا کہ اٹھ کرپانی پی لومگر کم ہمتی سے نہیں اٹھی خاوند تھے ظریف کچھ دیر کے بعد کہا کہ مجھ کو بھی پیاس لگ گئی پانی پلادو عورتوں کو شوہرکی راحت ضاص خیال ہوتا ہے اس لئے اٹھ کرپانی لائی خاوند نےکہا کہ مجھ کو پیاس نہیں بہانہ سے منگایا ہے تم پیلو تب سمجھی اب دیکھ لیجئے اپنے لئے پیاس لگنے پر پانی پینے کا ارادہ نہ تھا اٹھنا مشکل ہوگیا اور خاوند کیلئے ارادہ کیا تو آسان ہوگیا حق تعالیٰ ارادہ کے متعلق فرماتے ہیں من ارادالاخرۃ وسعی ٰ لھا سعیھا فاولئک وھو مومن کان سعیھم مشکورا اور تمنا کے متعلق فرماتے ہیں ام للانسطن ماتمنی تمنا کے متعلق یہ فرمایا اورارادہ کے متعلق یہ فرمایا جب انسان ارادہ کرتا ہے سخت سے محنت اور مشکل سے مشکل کام سہل ہوجاتا ہے اوردرمیان کے تمام حائل اورموانع خود بخود دور ہوتے چلے جاتے ہیں بھر اس کام کے ہرجز ومیں اردہ کی ضرورت نہیں رہتی جیسے کوئی شخص بازار جانے کا ارادہ کرے تواول مرتبہ تو پہلاقد م اٹھا نے پر ارادہ کی ضرورت ہوگی پھرآخرتک ارادہ کی ضرورت نہیں رہتی وہی پہلا ارادہ ممتد ہوتا چلاجاتا ہے ورنہ اگر ہرقدم پرمستقل ارادہ کرے توصبح سے شام تک بھی بازار کا راستہ طے نہ کرسکے خلاصہ یہ ہے کہ کام شروع کردینا شایئے اوریہ دیکھنا چاہئے کہ کچھ حاصل بھی ہوا یا نہیں جیسے چکی پیسنے والی عورت اگرچکی کے ہرپھیرپر یہ دیکھے کہ کس قدر پس چکا تو بس آٹا پس چکا اس کی صورت تویہ ہی ہے کہ غلہ ڈال لے جائے اورچکی کوگھمائے جائے جب صبح کو دیکھی گی تو چکی کا گرنڈ یعنی مخزن آٹے سے بھراپائے گی غرض کام کرنا چاہئے اوراس پرآمادہ رہنا چایئے کہ چاہے کچھ نفع ہویا نہ ہواورعمل بھی خواہ بھی ہواوکبھی نہ ہو اس کی طرف نظرہی نہ کرے کام شروع کردے اور ایک اوربات کام کی اس وقت ذہن میں آئی وہ یہ کہ ماضی کی کوتاہی کو بھلادیناچاہئے یہ بھی ایک بہت بڑی غلطی ہے کہ ماضی پرمستقل کو قیاس کرتے ہیں کہ آئندہ بھی ایسی ہی کوتاہی ہوگی اس سے بھی ہمت ٹوٹ جاتی ہے نیز اگرکام کرنے کے زمانہ میں کوئی لغزش ہوجائے یا کسی نامناسب بات یا فعل کا صدور ہوجائے اس کابھی مراقبہ کرنے پر بیٹھ جائے بس دل سے اللہم اغفرلی کہہ کر آگے چلے ورنہ پھریہ مراقبہ بھی اپناہی مطالعہ ہوگا اس طرف کا تومشاہدہ پھر بھی نہ ہوا ایک ضروری بات اوربھی ہے کام کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ خواہ قلیل ہی کی توفیق ہو اور ہمیشہ کے لئے بھی توفیق کی امید نہ ہو اس کو بھی غنیمت سمجھے مثلا یہ خیال کرےکہ آج کی دورکعت بھی کیوں چھوڑیں شاید ہی نجات کا سبب ہوجائیں سواس طریق سے کام کرکے دیکھو پھر دیکھو گے کیا سے کیا ہوتا ہے ۔
8/ربیع الاول 1351ھ مجلس بعد ظہر یوم پنجشنبہ

(ملفوظ 93)طریق کامل کی صحبت سے سمجھ آسکتاہے :

ایک صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ حقیقت تویہ ہے کہ طریق کامل کی صحبت ہی سے سمجھ میں آسکتا ہے کتابو ں کے دیکھنے سے کیا ہوتا ہے کتابوں میں تو قسمت ہی کچھ ہے مگر بتلانے والے کی بھی ضرورت ہے جیسے طب کی کتابوں میں سب کچھ ہے مگر بدون طبیب حاذق کے کچھ نہیں کرسکتے ایسے ہی یہاں سمجھ لیا جائے ۔

(ملفوظ 92)اصل چیز طلب اور ہمت ہے :

ایک صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ ہمارے ایک بزرگ کا ارشاد ہے کہ اگر کوئی دوام نہ ہو کبھی نہ ہوتو اس مجموعہ ہی دوام کرلو یہ بھی ایک قسم کا دوام ہے مگریہ علاج حقیقت نہیں سب تدابیر ہیں اصل چیز طلب اور ہمت ہے اس سے کام کرنے کی ضرورت ہے اور تدابیر جزئیہ حیلے ہیں اس سے کام لینے کے۔

(ملفوظ 91) طریق اصلاح جنم روگ ہے :

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ یہ طریق اصلاح ہے جنم روگ ہے عمر بھر یہ ہی سلسلہ رہتا ہے مگرلوگ یہاں آرام چاہتے ہیں کہ دنیاہی میں جنت ہوجائے یہاں تومشقت مثل لازم کے ہے اور جس قدر ہوگی اتنا ہی اجربھی بڑھے گا وہ مشقت یہ ہے کہ ہرقدم پرنفس کا مقابلہ کرنا پڑتا ہے یہ نہ ہوتو بھرانسان کا کمال ہی کیا ہوگا یعنی شرکا جوداعیہ طبعی ہوتا ہے اس کی مخالفت کرنا اوراس عقل سے مغلوب کرنا یہی مجاہدہ اور مشقت ہے باقی محض حدیث النفس کوئی چیز نہیں جب تک اس کے اقتضاء پرعمل ہہو عقل کاکام صرف منفعت کودکھلانا ہے پھر اس کے بعد اگر اتباع کیا طبیعت کا تویہ شخص حیوان ہے اور اگر اتباع کیا عقل کا تو انسان ہے مگر خود عقل کے اتباع کےبھی حدود ہیں ورنہ حدود سے آگے غلوکرنے سے یہ عقل خود سبب ہوجاتی ہے غلبہ حیوانیت کی اس لئے جوچیز حدسے گزجاتی ہے اس کی حقیقت اس کی خاصیت سب بدل جاتےہیں اب ایک بات اوررہ گئی ہے وہ یہ کہ نفس کے لئے بعض اوقات لوگوں کوملامت مانع عمل ہوجاتی ہے مگرحقیقت یہ ہےکہ یہ طعن وتشیع خود موجب اجرہیں اس کے ہوتے ہوئے تومجاہدات اورریاضیات میں زیادہ برکت اور نورانیت پیداہوتی ہے یہ بدنی مجاہدات سے بھی زیادہ مجاہدہ ہے غرض یہ تمام موانع ہیں نفس کو بچہ کی طرح بہلانا اورسمجھانا چاہے یہ اس وقت کام دیتا ہے اس بہلانے پر ایک بزرگ کی حکایت یاد آئی کہ وہ شب کوایک رکابی پلاؤ کھلاؤں گا تمام شب اسی طرح عبادت میں گذر جاتی اور صبح کو وہ رکابی پلاؤ کی بدستور موجود رہتی مگر یہ بھی ان ہی حضرات سے نفس تھے جوروزانہ بہلانے میں آجاتے تھے اب توکوئی کرکے دیکھے ایک دن تونفس مان لے گا یا زائد سے زائد دودن پھرتیسرے روز قبضہ میں آنا مشکل ہوگا یوں کہے گا کہ بس تمہارے وعدوں کا تجربہ کرچکا اب قابو نہ آوں گا سواب ایسا بھی کرنا نہ چاہئے کام بھی نکال لے اور حسب وعدہ اسکو کھلابھی دے خلاصہ یہ ک نفس کو راہ پرلانے کی مختلف تدبیریں ہیں جوتبدل حالات سے بدلتی رہتی ہیں جس طرح ہوسکے کام نکالناچاہئے ۔

(ملفوظ 90)تہجد پڑھنے کے لئے ہمت سے کام لینا :

ایک خط کے جواب میں فرمایا کہ اگرتہجد پردوام نہیں ہوتا تو ترک تہجد پربھی دوام نہیں ہونا چاہئے اپنی طرف سے ہمت رکھے پھرناغہ بھی عمل کے حکم میں شمار ہوگا۔

(ملفوظ 89)متعلم کو سہل تعلم کی درخواست کا حق نہیں :

فرمایا کہ ایک خط آیا تھا اس میں بعض امراض باطنی کو لکھ کرلکھاتھا کہ ان کا کوئی سہل علاج تجویزفرمایا جاوے دیکھئے جس کی درخواست کی گئی ہے کتنی بدنما بات ہے میراایک وعظ ہے التحصیل والتسہیل اس میں مسئلہ کو بسط کے ساتھ بیان کیا گیا ہے کہ معلم کے ذمہ کیا چیز ہے آیا طریق تحصیل کی تعلیم اور خود اکثر طرزقرآن وحدیث کا یہی تعلیم تحصیل ہےمثلا فرمایا گیاہے لاتقربو ا الزنا (اور زنا کے پاس مت پھٹکو ۔12) یہ نہیں فرمایا کہ اس پچنے کی سہل تدبیر یہ ہے دوسری جگہ اس کے مقدمات کا انسداد بتلایا گیا ہے یغضوا من ابصارھم ( اپنی نگاہیں نیچی رکھیں ۔ 12) یہ خود عمل مشقت کا ہے اس کی تسہیل کا طریق نہیں بتلایا گیاہان کہیں کہیں تبرعا تسہیل کا طریقہ بھی بتلایا گیاہے مگر اس میں اطراد اور عموم نہیں اس غلطی میں بکثرت لوگ مبتلا ہیں کوئی سہل علاج بتلادو ، سوکیا یہ معلم کے ذمہ دار اورنہ متعلم کو اس کے مطالبہ کا حق ہے ہاں شفقت ورحمت کی بنا پر اگر اس کی کوئی اصل ہوتی تو حضورﷺ ہرعمل میں سہولت کی تدبیر بتلا دیتے مگر نہیں بتلائی بہرحال قرآن پاک اورحدیث میں تسہیل کی تدبیر ہرجگہ نہیں بتلائی گئی مگر پھر بھی اکثر لوگ شیوخ سےمطالبہ کرتے ہیں کہ اس سے بچنے کاسہل طریق بتلایئے اس میں کثرت سے لوگوں کو ابتلا ہورہاہے یا بعضے اگر اس کابراہ راست مطالبہ نہیں کرتے مگر وہ بواسطہ اس کے طالب ہوتے ہیں اس طرح سے کہ کیفیات وثمرات کےمتظررہتے ہیں کہ ذوق وشوق ہوتا کہ سہولت سے عمل کا صدور ہوتارہے مگریہ کیفیات بھی کوئی اختیاری چیزیں نہیں بعض اشخاص سے حق تعالیٰ کو ساری عمرمجاہدہ کرانا منظور ہوتا ہے اوروہ جانتے ہیں کہ ثمرات کے بعد یہ عمل چھوڑ دیگا وہاں ثمرہ مرتب نہیں فرماتے اب ایک شبہ اس سہولت کے متعلق اور ہوجاتا ہےکہ اگرشیخ صاحب تصرف ہوتو بڑی سہولت سے کام ہوسکتاہے اس کا جواب یہ ہے کہ شیخ کا اول تو صاحب تصرف ہونا ہی ضروری نہیں اور یہ کوئی نقص نہیں منافی کمال نہیں اوراگرشیخ صاحب تصرف بھی ہوتویہ کیا ضروری ہے کہ وہ تمہارے لئے تصرف ہی سے کام لے اگر اس کو تم سے کسی مصلحت کے سبب چکی ہی پسوانا مقصود ہوتو تم کیا حق ہے اس کی تجویز میں داخل دینے کا اور اگر اس پر بھی دخل دیا جاوے توشیخ کا ابتاع کہاں ہوا اس صورت میں تو اپنا ہی اتباع ہواایک بزرگ کا حکایت ہے کہ ان کا ایک مرید برسوں سے خانقاہ میں پڑا ہواتھا کرتا کراتا کچھ نہ تھا وہ لوگ آتے کوئی مہینہ میں کوئی دومہینہ میں کوئی چھ مہینے کوسال دوسال میں کام کرکیا اورصاحب اجازت ہوکر چل دیتے مگریہ شخص اسی انتظار میں تھا کہ شیخ ہی خود کچھ تصرف کریں حتی کہ انتظار میں اس کویہ وسوسہ ہونے لگا کہ غالبا شیخ بیچارے تصرف سے کورے ہیں اس خطرہ کی اطلاع شیخ کوہوگئی یہ لوگ بڑے عالی ظرف ہوتے ہیں اس کوپی گئے اتفاق سے ایک روزشیخ نے اس مرید سے فرمایا کہ آج ایک مٹکا پانی سے بھرکر خانقاہ کے دروازہ پر رکھو اورایک پچکاری لاؤ اور ہم کو اطلاع کرو غرض یہ کہ مرید صاحب نے سب انتظام مکمل کرکے شیخ کو اطلاع کی شیخ خانقاہ کے دروازہ پرپچکاری ہاتھ میں لے کربیٹھے خانقاہ کا دروازہ لب سڑک تھا ہندو مسلمان کفار کے سوسوددود سو کے غول خانقاہ کے دروازہ کے سامنے سے گذرتے تھے پچکاری بھربھر کفار کے مجمع پرمارتے جس کافر پر ایک چھینٹ بھی پڑجاتی بیسا ختہ وہی کلمہ شہادت پڑھنے لگتا ایک ہی تاریخ میں شیخ نے ہزاورں کفار کومسلمان بنادیا جب پانی ختم ہوگیا شیخ مسند پرجابیٹھے اور اس مرید کو بلاکرفرمایا کہ دیکھا کہ تمہارا شیخ کیسا صاحب تصرف ہے دیکھا شیخ کا تصرف ایک ہی تاریخ میں ہزارہاکفار کو مسلمان بنادیا کفر سے نکال کراسلام میں داخل کردیا مگر یادرکھو تجھے تو چکی ہی پسواؤ نگا جب ہی کچھ حاصل ہوگا تو شیخ کبھی صاحب تصرف ہوتا ہے مگرکسی مصلحت سے اس کا ظہور نہیں ہوتا مگر اصل بات وہی ہے جومیں کہہ آیا ہوں کہ اگرشیخ صاحب تصرف بھی نہ ہوتو نقص کیا ہے ایسے ہی صاحب کشف ہونا بھی شیخ کا ضروری نہیں ضرورت کی جوچیز ہے وہ فن ہے شیخ کے لئے فن سے واقفیت ضروری چیز ہے باقی یہ سب چیزیں زوائد سے ہیں بلکہ آج کل تواگرکوئی صاحب تصرفات بھی ہو مگر سنت سے ہٹا ہوا ہو اس سے زیادہ بچنے کی ضرورت ہے ۔

(ملفوظ 88)حضرت حکیم الامت نے مدتوں بعد طریق زندہ کیا:

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ طریق مردہ ہوچکاتھا مدتوں کے بعد دوبارہ زندہ ہوا اور حقیقت واضح ہوئی مگرلوگ اب بھی یہی چاہتے ہیں کہ سب غیربودہوجائے سویہ کیسے ہو سکتاہے جس کو خدا نے کشادہ کردیا اس کو بند کون کرسکتا ہے مایفتح اللہ للناس من رحمۃ فلاممسک لہاومایمسک فلامرسل لہ من بعد ہ وھوالعزیزالحکیم (اللہ جو رحمت لوگوں کے لئے کھول دے سو اس کا کوئی بند کرنے والانہیں اورجس کو بند کردے سواس کے بعد اس کا کوئی جاری کرنیوالا نہیں اور وہی غالب حکمت والاہے ۔12) اب بحمداللہ طریق بے غبار ہے صدیوں تک تجدید کی ضرورت نہیں اور جب ضرورت ہوگی حق تعالیٰ اور کسی کو پیدا فرمادینگے مگراس چودھویں صدی میں تو ایسے ہی پیرکی ضرورت تھی جیسا کہ میں ہوں لٹھ ۔
8/ربیع الاول 1351ھ مجلس خاص بوقت صبح یوم پنبشنبہ

(ملفوظ 87)ایک کوڑھ مغز کا خط:

فرمایا کہ ایک خط آیا ہے لکھا ہے کہ حضرت والا کے وسیلے سے بندہ کے سب اعمال وعادات درست ہوجائیں گے میں نے جواب لکھاہے کہ میرے وسیلہ کو اصلاح اعمال سے کیا تعلق یہ اس لئے پوچھا تاکہ معلوم ہوکہ سمجھ کرلکھاہے یا محض الفاظ ہی ہیں اس لئے یہ سوال کی بات تھی ایسے مطالبات کی بناء پرمجھ کو متشدد سمجھتے ہیں چنانچہ باربارایسے ہی سوال وجواب کرنے پر ایک شخص نے لکھاتھا کہ آپ گورنمنٹ کے بہت خیرخواہ ہیں ٹکٹ بہت بکواتے ہیں حاصل یہ کہ ڈاک کے ٹکٹ زیادہ خرچ ہوتے ہیں اب بتلائے ایسے کوڑھ مغزوں کاکیا علاج ۔