(ملفوظ 86) ایک فہیم کو جلد بیعت فرمالیا :

ایک نووارد شخص آئے اور حضرت والا سے بیعت کی درخواست کی حضرت والا نے دیافت فرمایا کہ بیعت ہوکر کیا کروگے عرض کیا کہ جوبتلاؤگے وہی کروں گا فرمایا کہ اگر ہم یہ کہیں کہ گھرجاکر خط لکھنا خط کے ذریعہ ہم بیعت کرلیں گے اس کو مان لو گے عرض کیا کہ مان لونگا فرمایا کہ اس پرتو ضد نہ کروگے کہ ہاتھ ہی پرہاتھ رکھ بیعت ہونگا عرض کیا کہ ضدکیوں کروں گا جوحکم ہوگا وہی کروں گا فرمایا ماشاءاللہ فہم سلیم اس کو کہتے ہیں اچھا بھائی میں تم کو بعد نماز مغرب بیعت کرلوں گا اس پرفرمایا کہ مجھ کو بدنام کیا جاتاہے اس شخص سے میں نے خشک برتاؤ کیوں نہیں کیا میرے یہاں جو تشددات کہے جاتے ہیں ان سے طلب کا امتحان ہوجاتا ہے ۔

(ملفوظ 85 )بڑوں کی بدفہمی کی شکایت :

ایک خط کے جواب کے سلسلہ میں فرمایا کہ اگرچھوٹا بچہ باپ کی ڈاڑھی بھی نوچنے لگے توکوئی رنج نہیں ہوتا اس لئے بچہ ہے اس کو کیا خبرہے عقل ہے بلکہ الٹا باپ اس کے ہاتھ چومتا ہے رنج تواس کاہوتا ہے کہ سمجھدار عاقل ہوکر پھرایسی حرکت کرے دیکھئے یہی خط جوبے ڈھنگے پن سے لکھا گیا ہے یہ ہی کیااذیت کے لئے تھوڑا ہے خدا معلوم تہذیب کہاں رخصت ہوگئی یہ اس آزادی کی نئی تعلیم کااثر پرانی تعلیم والوں پربھی ہوگیا اس تعلیم میں کیسازہریلااثر ہے میں نے جواب بھی ایسا لکھا کہ طبیعت خوش ہوجائے گی میں ہی کیوں رعایت کروں جب ان ہی بے فکروں کو دوسرے کی اذیت کا خیال نہیں پھر مجھ کو بدنام کرتے ہیں کہ بدخلق ہے سخت گیرہے یہ بڑے باخلق اور نرم گیرہیں شرم نہیں آتی نالائقوں کو ۔

(ملفوظ 85)بڑوں کی بدفہمی کی شکایت :

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ اس دوصدی کے اندر جس شان کے علماء ہندوستان میں گزر ے ہیں انکےزمانہ میں ان کی مثال ممالک اسلامیہ میں بھی بہت کم ہے ایک عالم تھے مکہ معظمہ میں درس فرمایا کرتے تھے کہ قرآن نازل ہوا عرب میں اور پڑھا اس کو مصریوں نے اور لکھا رومیوں نے اور سمجھا ہندیوں نے نیزسیاح لوگوں سے معلوم ہو ا کہ اسلام کو جو اچھی حالت ہندوستان میں ہے وہ ممالک اسلامیہ میں بھی نہیں اس کا راز یہ سمجھ میں آیا کہ وہاں کے لوگ اسلامی سلطنت ہونے کی بناء پربے فکر ہیں اور ہندوستان میں ہرمسلمان چاہے وہ عوام میں سے ہو یاوہ علماء ہوں اپنے کو ذمہ دار سمجھتے ہیں کہ اگرہم نے خبرنہ لی تو اور کون سرپرست ہے جوخبرگیری کرے گا اسی طرح دنیوی امور میں بھی بلادیورپ کوکوئی خاص امتیاز نہیں حضرت مولانا دیوبندی رحمہ اللہ جب مالٹا سے تشریف لائے تو ظرافت سے فرمایا کہ جب تک یورپ نہ دیکھا تھا توخیال ہوتا تھا کہ وہاں کا آسمان کم ازکم سونے کا ہوگا اورزمین چاندی کی مگردیکھنے سے معلوم ہوا کہ وہاں بھی ایساہی آسمان اور زمین ہے مالٹا کے متعلق ایک اور لطیف بات فرمائی کہ جب تک مالٹا میں رہے پاؤں توبندتھے مگر زبان کھلی ہوئی تھی اور ہندوستان میں آکر پاؤں توکھل گئے مگرزبان بندہوگئی ۔
حضرت مولانا کی عجیب ہی ذات تھی حضرت کوبہت ہی کم لوگوں نے پہچانا مدعیوں کا محض دعویٰ ہی دعویٰ ہے کہ ہم متبع ہیں تم تو محض اپنے اعتراض کے متبع ہوتم بڑے فخر سے کہتے ہوکہ حضرت اسیرمالٹا تھے ہم تویہ کہتے ہیں کہ امیرمالٹا تھے تم کہتے ہوکہ شیخ الہند تھے ہم کہتے ہیں کہ شیخ العالم تھے اب بتلاؤ مولانا کا زیادہ معتقد کون ہے جس چیز کو ہم ذریعہ نجات سمجھتے ہیں یعنی اپنے بزرگوں سے تعلق بحمد اللہ وہ حقیقت میں ہم کو حاصل ہے تمہارے زبانی دعوے سے کیا ہوتا ہے اگراجتہادی اختلاف سے تم ہمارے اعتقاد کا انکار بھی کروتم ہم دلگیرنہیں ہوتے جیسے کیمیاگر کبھی دلگیرنہیں ہوتا اگرچہ ساری دنیا اس کو جھٹلائے وہ کہتاہے کہ الحمداللہ میں کیمیائی گرہوں یہ سب جھوٹے ہیں حضرت مولانا نے مجھ سے اختلاف میں بھی اتفاق رکھا ہے یہ کتنی مسرت کی بات ہے ۔

(ملفوظ 84 )دوصدی سے ہندوستان کے بے نظیرعلماء :

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ اس دوصدی کے اندر جس شان کے علماء ہندوستان میں گزر ے ہیں انکےزمانہ میں ان کی مثال ممالک اسلامیہ میں بھی بہت کم ہے ایک عالم تھے مکہ معظمہ میں درس فرمایا کرتے تھے کہ قرآن نازل ہوا عرب میں اور پڑھا اس کو مصریوں نے اور لکھا رومیوں نے اور سمجھا ہندیوں نے نیزسیاح لوگوں سے معلوم ہو ا کہ اسلام کو جو اچھی حالت ہندوستان میں ہے وہ ممالک اسلامیہ میں بھی نہیں اس کا راز یہ سمجھ میں آیا کہ وہاں کے لوگ اسلامی سلطنت ہونے کی بناء پربے فکر ہیں اور ہندوستان میں ہرمسلمان چاہے وہ عوام میں سے ہو یاوہ علماء ہوں اپنے کو ذمہ دار سمجھتے ہیں کہ اگرہم نے خبرنہ لی تو اور کون سرپرست ہے جوخبرگیری کرے گا اسی طرح دنیوی امور میں بھی بلادیورپ کوکوئی خاص امتیاز نہیں حضرت مولانا دیوبندی رحمہ اللہ جب مالٹا سے تشریف لائے تو ظرافت سے فرمایا کہ جب تک یورپ نہ دیکھا تھا توخیال ہوتا تھا کہ وہاں کا آسمان کم ازکم سونے کا ہوگا اورزمین چاندی کی مگردیکھنے سے معلوم ہوا کہ وہاں بھی ایساہی آسمان اور زمین ہے مالٹا کے متعلق ایک اور لطیف بات فرمائی کہ جب تک مالٹا میں رہے پاؤں توبندتھے مگر زبان کھلی ہوئی تھی اور ہندوستان میں آکر پاؤں توکھل گئے مگرزبان بندہوگئی ۔
حضرت مولانا کی عجیب ہی ذات تھی حضرت کوبہت ہی کم لوگوں نے پہچانا مدعیوں کا محض دعویٰ ہی دعویٰ ہے کہ ہم متبع ہیں تم تو محض اپنے اعتراض کے متبع ہوتم بڑے فخر سے کہتے ہوکہ حضرت اسیرمالٹا تھے ہم تویہ کہتے ہیں کہ امیرمالٹا تھے تم کہتے ہوکہ شیخ الہند تھے ہم کہتے ہیں کہ شیخ العالم تھے اب بتلاؤ مولانا کا زیادہ معتقد کون ہے جس چیز کو ہم ذریعہ نجات سمجھتے ہیں یعنی اپنے بزرگوں سے تعلق بحمد اللہ وہ حقیقت میں ہم کو حاصل ہے تمہارے زبانی دعوے سے کیا ہوتا ہے اگراجتہادی اختلاف سے تم ہمارے اعتقاد کا انکار بھی کروتم ہم دلگیرنہیں ہوتے جیسے کیمیاگر کبھی دلگیرنہیں ہوتا اگرچہ ساری دنیا اس کو جھٹلائے وہ کہتاہے کہ الحمداللہ میں کیمیائی گرہوں یہ سب جھوٹے ہیں حضرت مولانا نے مجھ سے اختلاف میں بھی اتفاق رکھا ہے یہ کتنی مسرت کی بات ہے ۔

(ملفوظ 83)اجازت لے کرآنے کی حکمت :

ایک صاحب نے عرض کیا کہ حضرت جوشخص یہاں پرپہلی مرتبہ آوے اس کوتو ضرورت ہے کہ وہ اجازت لے کر حاضر ہو مگر کیا دوبارہ آنے کے لیے بھی اجازت کی ضرورت ہے یانہیں فرمایا کہ جی نہیں ضرورت توپہلی مرتبہ بھی نہیں یہ معمولی محض اس لئے ہے کہ جومقصد لے کرآتے ہیں اس میں بعض اوقات بعض شرائط ہوتے ہیں ، مثلابعض بیعت کے لئے آتے ہیں بعض کوکوئی خاص سوال کرنا ہوتا ہے اور بعض مرتبہ ان شرائط کے نہ پائے جانے سے وہ کام نہیں ہوتا تو آنیوالے کو اپنی ناکامیابی پرافسوس ہوتا ہے سواس میں بھی دوسروں ہی کی مصلحت ہے ، میری کو ئی مصلحت نہیں اور جو محض ملاقات کے لیے آتے ہیں ان کےلئے آتے ہیں ان کے لئے کچھ قیدنہیں یہ قیدی صرف ان کے لیے ہیں جوکوئی خاص مقصد لے کر آتے ہیں مثلا ان میں بعض لکھتے ہیں کہ فیض حاصل کرنیکی غرض سیحا ضری کی اجازت کی ضرورت ہے ان سے یہ سوال کرتا ہوں کہ فیض سے کیا مراد نیز اگرفیض نہ ہوا توکیا ہوگا اس لیے کہ بعض مرتبہ فیض مزعوم ہوتا ہے بعض مرتبہ نہیں ہوتا نیز بعض کو ہوتا ہے بعض کو نہیں ہوتا اس لئے پہلے سے معاملہ کی صفائی کرلیتا ہوں تاکہ آنے والے کو اپنا وقت اور روپیہ ٖصرف ہونے کے بعد عدم کامیابی پرافسوس نہ ہو اور مجھ کو اس کا ذمہ دارنہ سمجھے میں کسی کو اپنی طرف سے الجھن یادھوکہ میں ایک لمحہ کے لئے رکھنا نہیں چاہتا معاملہ صاف کرلیتا ہوں اس کے بعد وہ خود ذمہ دار ہے غرض اس میں محض آنے والوں کی مصلحت اور رعایت مقصود ہے اور اب تو تجربہ سے میں نے آنیوالوں کے لئے ایک اور قید کا اضافہ کیا ہے یہاں پرآکر مکاتبت ومخاطبت قطعا نہ کریں خاموشی مجلس میں بیٹھے رہا کریں اور اس کے بعد وطن واپس پہنچ کرلکھا کہ پہلے کہ پہلے توہماری سمجھ میں اسکی مصلحت نہ آئی تھی مگر دس روزخاموش رہنے سے جونفع اب محسوس ہواوہ دس برس کے مجاہدہ سے بھی نہ ہوتا اب بتلایئے کہ یہ قواعد اور اصول کیسے مفید ہیں یا بیکار ہیں ۔

(ملفوظ 82 )سلسلہ چشتیہ کی شان مسکنت :

ایک سلسلہ گفتگو فرمایا کہ چشتیہ حضرات کے زیادہ بدنام ہونے کی وجہ یہ ہے کہ ان میں دوشانیں زیادہ غالب ہیں ایک شان مسکنت اوردوسری شان عشق اور بعض خلاف ظاہرباتوں کا عاشق سے غلبہ حال میں سرزد ہوجانا بعید نہیں اور ایسے حضرات پرطعن اور تشنیع کرنا جہل سے ناشی ہے ان معترضوں نے عشاق کو دیکھا ہی نہیں خوب کہا ہے
توندیدی گہے سلیمان را چہ شناسی زباں مرغاں را
(تونے کبھی حضرت سلیمان علیہ السلام کو دیکھا نہیں تو جانورون کی زبان کوکیا سمجھتے سکتاہے ۔ 12)
جیسے خود کورے ہیں ایساہی دوسروں کو سمجھتے ہیں اسی کو مولانا فرماتے ہیں
کارپا کاں راقیاس از خود مگیر گرچہ مانددرنوشتن شیروشیر
(کاملین کے کاموں کو اپنے اوپرقیاس مت کرواگرچہ لکھنے میں شیر (جوجانور ہے ) اور شیر(دودھ ) مشابہ ہوتے ہیں ۔ 12)
حج ہی کے ارکان کو دیکھ لیجئے کہ ان میں سب متانت اور مشخیث دھری رہ جاتی ہے ۔

(ملفوظ 81) فیض مناسبت ہی سےحاصل ہوتا ہے :

ایک صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ عدم مناسبت کی حالت میں فیض نہیں ہوسکتا فیض مناسبت ہی سے ہوتا ہے موسی ٰ علیہ السلام اور حضرت خضر علیہ السلام میں جوافتراق ہو ا۔
موسی ٰ علیہ السلام نے نعوذباللہ کون ساگناہ کیا تھا مگرافتراق کی بناء وہی عدم مناسبت تھی اس کی نظیر طبعی مسئلہ ہے کہ توافق انزالین سے حمل قرار پاتا ہے اگر یہ تو افق نہ ہو تو ا ولاد نہ ہوگی اسی طرح جب تک شیخ سے توافق مزاج نہ ہوگا جس کا نا م مناسبت ہے نفع نہیں ہوسکتا ایک شیخ تھے بیعت کرنے سے قبل مناسبت کا عجیب امتحان لیتے تھے وہ یہ کہ اس کے لیے کھانا بھیجتے اور انداز ے سے زیادہ بھیجتے اورجب کھانے کے بعد برتن واپس آتے تو یہ دیکھتے کہ روٹی سالن تناسب سے بچاہے یا نہیں اگرتناسب سے بچتا تب تو آگے بیعت کی گفتگو کرتے ورنہ صاف انکار فرمادیتے کہ ہم میں تم میں مناسبت نہیں تم میں انتظامی مادہ نہیں اس لئے کوئی نفع نہ ہوگا اور میں تو اس قدر امتحانات بھی نہیں لیتا صرف گفتگو ہی سے معلوم کرلیتا ہوں اور اس میں اس لئے توسع نہیں کرتا کہ کوئی فوج بھر کے کہیں لام باندھنا تھوڑا ہی مقصود ہے اصل چیز اصلاح ہے سوومناسبت ہی کے بعد ہوسکتی ہے اس لیے میں ایسے موقع پریہ کرتا ہوں کہ چند مصلحوں کا نام بتلادیتاہوں تاکہ جہاں اورجس سے مناسبت ہو وہان اپنی اصلاح کرالے لوگ اس کو اپنی بدفہمی کی وجہ سے ٹالنا سمجھتے ہیں یہ ٹالنا نہیں بلکہ مقصود پرلگانا اور کامیاب بنانا ہے لیکن اگرکوئی نہ سمجھے اس کامیرے پاس کیا علاج ہے ۔

(ملفوظ 80)ملکہ یادداشت کونسبت کہنا غلط ہے :

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ آج کل ناواقفیت کی بناء پرطریق کے سمجھنے میں بکثرت غلطی کرتے ہیں کہ کثرت ذکر وملکہ یا دداشت کونسبت سمجھتے ہیں جو سخت غلطی ہےاور یہ نسبت ایسی ہے جیسے ایک شخص کے دریافت کرنے پردوسرے شخص نے کہا تھا کہ میں شہزادی سے نکاح کرنے کی فکر میں ہوں اس نے دریافت کیا کہ انتظام ہے کہ نصف سامان توہوگیا نصف باقی ہے وہ یہ کہ میں تو راضی وہوں وہ راضی نہیں ، یہ شعر بالکل اس کے حسب حال ہے
وقوم یدعون وصال لیلی ولیلیٰ لاتقذلھم بذاک
(لوگ لیلی کے وصل کا دعوی ٰ کرتے ہیں ، مگر لیلیٰ وصل کا اقرار نہیں کرتی )
نسبت ہوتی ہے دونوں طرف سے جس کی حقیقت یہ ہے کہ عبد کی طرف سے ذکر اور اطاعت ہواور حق کی طرف سے رضا ء ہو یہ ہے نسبت نہ کہ محض ذکر جورضاکے ترتب کے لئے کافی نہیں یہ صاحب نسبت ہونے کی علامت ہےایک بزرگ کو لذت نماز کے متعلق چالیس سال تک یہ دھوکا رہا کہ یہ نماز کا نشاط ہے چالیس سال کے بعد معلوم ہو ا کہ وہ حرارت غریزیہ کا نشان تھا جو بڑہاپے میں نہ رہا اسی لیے اس راہ میں ضرورت ہے کہ سرپر شیخ کامل ہو بدوں راہبر اور کامل کے سر پرہوئے اس راہ میں قدم رکھنا خطرہ ہی خطرہ ہے مولانا رومی ؒ اسی کو فرماتے ہیں
یار باید راہ را تنہا مروبے قلاؤ ز اندریں صحرا مرو
( راستہ چلنے کے لیے ساتھی کی ضرورت ہے بغیر رہبر کے اس جنگل میں مت جاؤ )
مبتدی طالب علم سمجھتا ہے کہ کتابیں ختم کرنا علامت ہے مولوی ہونے کی اور جو ختم کرچکے وہ کہتے ہیں کہ ہم کچھ بھی نہیں جانتے حضرت مولانا گنگوہی ؒ فرمایا کرتے تھے کہ اتنے مجاہدات اور ریاضات کے بعد اگر یہ بات حاصل ہوجاوے کہ ہم کچھ حاصل نہ ہوا بس کچھ حاصل ہوگیا ۔

(ملفوظ 79 )فن تربیت کے ایک مستقل محکہ ہونیکی مثال :

ایک صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ فن تربیت کے لیے پورے محکمہ کی ضرورت ہے یہ ایک مستقل محلمہ ہے اس میں داروگیر بھی ہے محاسبہ اور معاقبہ بھی ہے معافی بھی سزا بھی سب ہی کچھ ہے طبیب کے یہاں کیا کچھ نہیں ہوتا سب ہی دیکھ ہوتا ہے اور ایک چیز طبیب کے یہاں اورہوتی ہے وہ فیس ہے یہاں اس کے مقابل ٹیس یعنی چیس ہے اوریہ کوئی سفقت اورمحبت کے منافق نہیں اولادسے انسا ن کتنی زیادہ محبت ہوتی ہے مگر پھر اس کو مارتا کیوں ہے کیا مارنے پر کہہ سکتے ہیں کہ اس کو اولاد سے محبت نہیں بلکہ محبت ہی سبب ہے مارنے کاکیوں ہے کیا مارنے پرکہہ سکتے ہیں کہ اس کو اولاد سے محبت نہیں بلکہ محبت ہی سبب ہے مارنے کا اسی طرح میں نے جویہ طرز اختیار کیا ہے آخرمیر ا اس میں فائدہ ہے محض دوسروں کی اصلاح کی وجہ سے کیا ہے بھر اس کو کیوں منافی سفقت اور محبت سمجھاجاتا ہے اور حضرت ایک بات سن کر آپ کو تعجب ہوگا مگر چونکہ وہ خدا کی ایک نعمت ہےاس لئے ذکرتاہوں وہ یہ کہ میں اپنے اوپر بھی احتساب کرتا ہوں جیسے دوسروں پرکرتاہوں بلکہ یہ کہنا بھی سچ ہوگا کہ اوروں سے زیادہ اپنے پر احتساب کرتا ہوں یہ خدا کا بڑا فضل ہے جومصداق ہے اس کا ذالک فضل اللہ یوتیہ من یشاءواللہ ذوالفضل العظیم اور الحمداللہ اپنی توتاہیاں خودسمجھ میں آجاتی ہیں شیخ کے بعد کسی سے پوچھنے کی ضرورت پیش نہیں آئی ۔

(ملفوظ 78) حضرت حاجی صاحب کی دعاؤں کی برکت :

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ حضرت جاحی صاحب ؒ کی خدمت میں رہ کران چیزوں پرنظرنہ تھی کہ ہم ایسے ہوجائیں اور ویسے ہوجائیں صرف اس پر نظر تھی کہ فن مقصود حاصل سیدھا ہے یہ بھی سب حق تعالی کا فضل اور حضرت حاجی صاحب ؒ کی دعاوں کی برکت ہے ۔