ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ طریق میں نفع کے لیے دو چیزیں خاص طور پر ضروری ہیں ایک اطلاع اور ایک اتباع یعنی تعلیم کا اتباع اور حالات کی اطلاع اور ایک تیسری چیز اور ہے جوسب سے پہلی شرط ہے یعنی مناسبت یہ سب سے زیادہ اس لئے اہم ہے کہ تعلیم کا اتباع اور حالات کی اطلاع تو ختیار ی ہے اور مناسبت غیراخیتاری ہے اور ہونے پربھی کبھی خفی ہوتی ہے کثرت سے مخالطت کرنے سے بھی ظہور نہ ہوتو چاہے کہ دوسری جگہ تعلق تلاش کرے ۔
( ملفوظ 76 )دین میں تنگی نہ ہونے کی مثال :
ایک سلسلہ گفتگومیں فرمایا کہ دین میں تنگی نہیں اگرتنگی ہوتی تو حضور یہ نہ فرماتے الدین یسر (دین آسان ہے ) اور جوآدمی اس میں تنگی سمجھتاہویہ اس کی نظر کا قصور ہے میں اس کی ایک مثال بیان کرتاہوں جیسے ایک سڑک ہے سیدھی جس میں کہیں ٹیڑھا پن نہیں اورچوڑی بھی اس قدر ہے کہ اس میں چارپانچ موٹر برابرچل سکتے ہیں اور سڑک پردورویہ درخت کھڑے ہیں اور یہ مسئلہ ہے علم مناظر کا اور مشاہدہ بھی ہے کہ نگاہ دور پہنچ کراس قدر سمٹ جاتی ہے کہ درخت باہم ملے ہوئے نظر آنے لگتے ہیں اب جو شخص حقیقت سے ناواقف ہے وہ آگے بڑھنے کی ہمت نہیں کرسکتا اس کو وہم ہے کہ آگے سڑک بند ہے مگر جو حقیقت سے باخبرہے واقف ہے اس سے کہے گا کہ تو چلنا شروع کرہمت نہ ہار جہاں تک کھلاہوا نظرآرہاہے وہاں تک چل آگے پھرراستہ کھلاہو نظر آویگا اسی کو مولانا رومی فرماتے ہیں
گرچہ رخنہ نیست عالم را پدید خیرہ یوسف ؑ دارمی باید دوید
(اگرچہ عالم میں کوئی راستہ نظر نہیں آتا مگر یوسف علیہ السلام کی طرح بھاگنا چاہئے )
جب تک تم نے چلنا شروع نہیں کیا اسی وقت تک تم کودین کے راستہ میں تنگی اور دشواری نظرآتی ہے ذرا چلنا توشروع کرو بخود راستہ کھلتا نظر آئے گا جو تمہارے لئے مشکل ہے جب راستہ میں قدیم رکھوگے سب آسان نظر آوے گا ذرا تو ہمت سے کام لو اسی کو مولانا فرماتے ہیں
تومگومارا بداں شہ بارنیست باکریماں کارہا دشوار نیست
( تویہ مت کہہ کہ اس شاہ تک ہماری رسائی نہیں ہے کیونکہ کریموں کے لئے کوئی کام دشوار نہیں ہے )
اورکسی نے خوب کہا ہے
مرد بادید کہ ہراساں نشود مشکلے نیست کہ آساں نشود
(مرد کوچاہے کہ گھبراوے نہیں کوئی مشکل ایسی نہیں جوآسان نہ ہوجائے ۔ (ہمت شرط ہے ))
اوراسی دشواری کے توہم کے متعلق مولانا فرماتے ہیں
اے خلیل یہاں شعلے اور دھواں نہیں ہے یہ سب نمرود کا دھوکہ اور جادو ہے ۔ 12)
اوریہ دشواریاں اورتنگی سب خیالی ہیں حقیقی نہیں اور اگر بالفرض واقعی بھی ہوں تو خلوص اور طلب وہ چیز ہے کہ دشواریوں کو ھباء منثورا کردیتی ہیں دیکھئیے ! جب زلیخا حضرت سیدنا یوسف ؑکوبہانے سے محل کے اندر لے گئی تواس محل کے آگے پیچھے سات دروازے تھے اور ہرایک دروازہ پر ایک ایک مضبوط قفل لگاتھا جب یہ اطمیناہوگیا کہ ساتوں دروازے نہایت مضبوطی سے بندہوچکے تب اپنی خواہش کا اظہار کیا اب ظاہرا سیدنا یوسف علیہ السلام اگربھاگنا بھی چاہیں تو کہا ں جاسکتے ہیں اس حالت میں اگر ان کوحق تعالیٰ پرکامل بھروسہ اور توکل نہ ہوتا اور ہماری جیسی ان کی بھی ہمت ہوتی تو وہاں سے خلاصی کی کیا صورت ہوسکتی تھی مگر شان نبوت کا اقتضاء یہ اعتقاد فرماکرسیدنا یوسف علیہ السلام دروازہ کی طرف دوڑے آپ کادوڑنا تھا اورقفلوں کا خودبخود ٹوٹ ٹوٹ کردروازہ کھل جاتا تھا اسی طرح ساتوں دروازوں سے باہر ہوگئے اسی کو مولانا رومی ؒ فرماتے ہیں
گرچہ رخنہ نیست عالم راپدید خیرہ یوسف دارمی باید ددید
دراصل بات یہ ہے کہ جوتنگی ہم کو دین میں نظرآتی ہے وہ تنگی خود ہمارے اندر ہے دین کی مثال بلکل آئینہ جیسی ہے کہ ہماری ہی صورت اس کے اندر نظرآتی ہے جیسے ایک حبشی سفر کررہا تھا راستہ پرایک شیشہ پرڑا ہوا نظر آیا اس کو اٹھاکر اپنی صورت جواس میں دیکھی توکالی صورت موٹے موٹے ہونٹ بے ڈھنگی ناک نظرآئی اس نے کبھی آئینہ نہ دیکھا تھا یہ سمجھا کہ اس کے اندر کوئی دوسراشخص ہے شیشہ کو دور مارا اور کہا کہ اگر ایسا بدصورت توجناب ہی کی صورت تھی مگر الزام شیشہ پراسی طرح تنگی تواپنے اندر اور الزام دین پرجیسے ایک عورت بچے کو پاخانہ پھرا کر اور کپڑے سے پونچھ کرعید کا چاند دیکھنے لگی عورتوں کو عادت ہوتی ہے اکثر ناک پرانگلی رکھ کربات کرتی ہیں چاند دیکھتے وقت ناک پر بھی اتفاق سے انگلی رکھی تھی اوراس کا پاخانہ لگارہ گیا تھا تو کہتی ہےکہ اے ہے ابکے چاند سڑا ہوا کیوں ہے بھلابتایئے چاند اور بدبو وہ بدبو تو اپنے میں تھی مگر الزام چاندپر ۔
(ملفوظ 75)خانقاہ کے قواعد وضوبط کا سبب:
ایک صاحب کی غلطی پرمتنبہ فرماتے ہوئے فرمایا کہ یہ میرے یہاں جو قواعد اورضوابط ہیں یہ گھڑے ہوئے نہیں ہیں جوں جوں تجربات ہوتے گئے ان میں اضافہ ہوتا رہا ۔ مثلا ایک یہی معمول ہے کہ یہاں نئے آنے والوں کیلئے یہ قید ہے کہ وہ مجلس میں خاموش بیٹھے رہیں اور زمانہ قیام میں مکاتبت مخاطبت قطعا نہ کریں اس کی بھی ضرورت پیش آئی یہ سب اپنے اور دوسروں کی راحت رسانی کی تدابیر ہیں اس پر بھی تم جیسے عقلمند ستانے سے باز نہیں آتے یہ تواتنے قواعد اور ضوابط پرحالت ہے اوربدوں اس کے توزندگی ہی دشوار کردیتے اگران سب قواعد اورضوابط کی ضرورتیں کروں اچھاخاصا ایک رسالہ تیار ہوجائے ۔
(ملفوظ 74)اہل باطل سے دشمنی خطرناک ہے:
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ اہل باطل سے دشمنی ہونا بھی نہایت ہی خطرناک ہے دین تو ان کے قلب میں ہوتا نہیں اور اس کے نہ ہونے کی وجہ سے خدا کاخوف بھی قلب میں نہیں ہوتا اس ہی لئے بددین کی دشمنی خطرناک ہوتی ہے کیونکہ اس کے یہاں کوئی حدود یا آئیں تو ہوتے ہی نہیں وہ جوچاہے کرسکتاہے جوجی آئے کہہ سکتاہے بخلاف اہل حق اوراہل دین کے کہ وہ حدود سے تجاوز کرکے دشمنی بھی نہیں کرسکتے دل میں خدا تعالیٰ کا خوف ہوتا ہے اپنی آخرت خرا ب ہونے کا ہروقت خیال رہتا ہے وہ کیسے حدود سے تجاوز کرکے کسی کو ایذاء پہنچا سکتا ہے مگرحق تعالیٰ ان کے لیے انتقام لیتے ہیں ۔
دیکھئے کہ حضرت مولانا گنگوہی ؒ حضرت مولانا محمد قاسم ؒ وحضرت مولانا شہید ؒ کیسی تو ہسپتال ، پھر افسوس ہےکہ ایسی مقدس ہستیوں کو کافر کہا جاوے العیاذبااللہ پھرکیوں نہ ان لوگوں پروبال آوے مگریہ لوگ ایسے بدفہم ہیں کہ وبال کو کمال سمجھتے ہیں چنانچہ ان ہی میں ایک خاں صاحب نے خواب دیکھا کہ دوزخ کی کنجی میرے ہاتھ میں رکھی گئی ان کے متبعین اور معتقدین نے اس سے یہ مطلب نکالا اورتعبیر بیان کی کہ اعلحضرت جس کو چاہیں گے اپنے فتوے سے دوزخ میں داخل کردیں گے میں نے سن کر کہا کہ یہ تعبیرمحض غلط ہے کسی کو جہنم میں داخل کرنا کس کے اختیار میں ہے بلکہ اس کی تعبیریہ ہے کہ یہ لوگوں کے عقائدتباہ کرکے فاتح ہورہے ہیں ابواب نارکے ۔
اسی سلسلہ میں ایک مولوی صاحب نے عرض کیا کہ بیعت کے وقت طالب سے یہ بدعتی لوگ یہ شرط کرتے ہیں کہ بہشتی زیور مت دیکھنا فرمایا کہ یہ شرط ان کی حالت کے بالکل مناسب ہے وہ تودوزخی زیور کے مستحق ہیں ان کو بہشتی زیور سے کیا تعلق پھرفرمایا کہ یہ لوگ ایسے بے عقل ہیں کہ یہ بہشتی زیور پراعتراض کرتے ہیں حالانکہ اس میں مختار، شامی وغیرہ کے مسائل ہیں جن کو وہ مانتے ہیں ۔
تویہ ایسا قصہ ہو ا کہ جیسے ایک شخص نے اپنے حقیقی بھائی کو ماں کی گالی دیں اس پرکسی نے کہا کہ وہ تمہاری بھی تو ماں ہے کہا کہ اس میں دوحیثیتیں ہیں اس کی ماں ہونے کی اور ایک میری ہونے کی تو اس کی ماں ہونے کی حیثیت سے تو وہ ایسی ہی ہے اور میری ماں ہونے کی حیثیت سے مکرمہ معظمہ ہے تو اسی طرح یہاں بھی وہ مسائل اس حیثیت سے کہ ان کی نسبت بہشتی زیور میں میری طرف ہے دیکھنے کے قابل نہیں اور اس حیثیت سے کہ درمختار وغیرہ کی طرف منسوب ہیں قابل قبول ہیں کیا ٹھکانہ ہے اس عناد کا ۔ چنانچہ بہشتی زیور میں ایک مسئلہ ہے ا ور ترکیب مذہب میں منصوص ہے مگر بدوں تحقیق اور بدوں سمجھے اعتراض کرنے سے ، غرض اور واقعہ یہ ہے کہ سمجھے تووہ جس کو علم سے مناسبت ہو دوسرے طبیعت میں انصاف اورعدل بھی ہوعناد نہ ہو ۔ نیز سمجھنے کے لیے اس کی بھی ضرورت ہے کہ خالی الذہن ہو ورنہ اگر پہلے ہی سے یہ ارادہ کرلیا جاوے کہ اس کے خلاف کرنا ہے یا کہنا ہے تو پھراگرسمجھ میں بھی آجائے تب بھی نتیجہ وہی نکالا جائے گا جودل میں ہے دہلی میں مولانا شاہ محمد اسحاق صاحب کے زمانہ میں ایک بدعتی مولوی تھے جوہرمسئلہ میں شاہ صاحب سے اختلاف کرتے تھے شاہ صاحب میراں کے بکرے کو حرام فرماتے تھے وہ جائز کہتے تھے ایک سمجھدار شخص نے دیکھا کہ دومولویوں میں اختلاف ہے اور اختلاف بھی حلت اور حرمت کا اس نے نہایت دانش مندی سے دونوں کا اس طرح امتحان لیا کہ ایک روز دونوں کی دعوت کی جب کھانا دسترخوان پرآگیا صاحب خانہ نے دونوں جماعتوں سے عرض کیا کہ یہ جودسترخواں پرسالن ہے یہ میں نے میران کے نام کا بکراکیاتھا یہ اس کا گوشت ہے اب کھانے نہ کھانے کا اختیارہے شاہ صاحب نے توسن کرہاتھ کھینچ لیا مگر تماشا یہ ہے کہ ان مولوی صاحب نے بھی ہاتھ کھینچ لیا اس شخص سے پوچھا کہ آپ کیوں نہیں کھاتے آپ کے نزدیک توحلال ہے اس وقت انہوں نے فرمایا کہ سمجھتا تو میں بھی حرام ہی ہو ں مگرشاہ صاحب کی ضد میں حلال کہہ دیتا ہوں تب اس شخص نے کہا کہ مجھ کو تو امتحان کرنا تھا باقی واقع میں یہ میراں کے نام کا نہیں ہے کھائیے مگر صاحب یہ بھی اس وقت کے لوگ تھے اب اگرایسی بات ہوتو کھابھی جائیں ایسے بددین ہیں ایک مرتبہ ایک بدعتی مولوی صاحب نے اعلان کیا کہ جس چیز کو مولانا شہید حرام کہیں گے میں حلال کہوں گا اور بالعکس مولانا نے فرمایا کہ میں توماں سے نکاح کرنے کو حرام کہتاہوں وہ اس کو حلال کہیں اورمیں کلمہ ایمان کو حلال کہتا ہوں وہ اس کو حرام کہیں بس رہ گئے کوئی جواب بن بہ پڑا مدتوں کے بعد ان سب کی وفات کے بعد ان بدعتی مولوی صاحب کے ایک شاگرد نے جواب دیا کہ ہمارے مولوی صاحب کا اس فرمانے سے مقصود یہ تھا کہ جس کوکیوں نہ سوجھا ۔ غرض یہ حالت ہے ان لوگوں کے بغض وعناد کی اہل حق کے ساتھ بہشتی زیور کے مسائل پراعتراض کے متعلق ایک واقعہ یاد آیا ۔
میں ایک مرتبہ سہارنپور گیا مدرسہ میں بیٹھا ہواتھا اورحضرات بھی وہاں تشریف لائے میرے پاس اس کے قبل ایک خط آیا تھا کہ بہشتی زیور کے فلاں مسئلہ کے متعلق جواب کے لئے آمادہ رہنا وہ مسئلہ شرقی کا غیربیہ سے بواسطہ نکاح کرنے کا تھا میں قرائن سے سمجھ گیا کہ یہ وہی شخص ہیں جوبہشتی زیورپراعتراض کریں گے اس وقت بہشتی زیور پراعتراضات کی بھرمارہورہی تھی آکر پاس بیٹھے اور
بہشتی زیور کھول میرے سامنے رکھ کرکہا کہ اس ک دیکھ لیجئے میں نے کہا کہ دیکھ کرہی لکھا ہے تم اپنا مطلب بیان کرو مجھ کو دکھلانے سے مقصود تمہارا کیاہے یہ مسئلہ سمجھ میں نہیں آیا میں نے کہا ک مسئلہ سمجھ میں نہیں یا اس کی دلیل کہا کہ مسئلہ توظاہری ہے دلیل سمجھ میں نہیں آئی ، میں نے کہا کہ کیا اور سب مسائل کی دلیل سمجھ میں آچکی ہے صرف یہ ہی باقی ہے اگرسب کی دلیل سمجھ میں آچکی ہے تومجھ کو اجازت دیجئے میں آپ کا امتحان کرلوں اور اگراور بھی ایسے ہی مسائل ہیں جن کی دلیل سمجھ میں نہیں آئی تو اس کو بھی اسی فہرست میں داخل کرلیجئے بس بے چارے رہ گئے بالکل مبہوت تھے ۔
بعد میں معلوم ہوا کہ اسی شخص نے حضرت مولانا خلیل احمد صاحب ؒ سے بہت دیر تک اس مسئلہ میں گفتگو کرکے ان کو پریشان کیا تھا حضرت مولانا نے اپنے اخلاق سے سمجھا نے کی کوشش فرمائی مگروہ کوڑ مغز کیا سمجھتا مگرجہل مرکب سے سمجھتے ہیں کہ ہمارے ایسے اعتراضات اور سوالات ہیں کہ جن کا جواب بڑے بڑے علماء نہیں دے سکتے یہ تمیز نہیں کہ ہم میں لیاقت سمجھنے کی نہیں اس کی مثال اس طرح سمجھ لیجئے کہ ایک گنوار شخص کسی اقلیدس جاننےوالے کے سامنے کسی شکل کے متعلق کوئی سوال کرے اوروہ اس کو سمجھائے اور وہ نہ سمجھ سکے تو یہ اس کی کم سمجھی اور عدم واقفیت کہلائے گی یا جوہرفن ہے اور اقلیدس جاننے والاہے اس کو کہیں گے کہ
اس کے پاس جواب نہیں ۔ غرض وہ شخص تو اپنا سامنہ لے کر اٹھ گئے اور چلتے بنے اس کے بعد ایک جنٹلمین صاحب نئی فیشن والے پہنچے السلام علیکم وعلیکم السلام غایت تہذیب سے تمہید اٹھائی کہ حضرت جہلاء علماء کی شان میں گستاخیاں کرتے ہیں برابھلاکہتے ہیں جس سے بے حد دل دکھتاہے اور صدمہ ہوتا ہے اوریہ ایک مسئلہ ہے بہشتی زیور کااس کی وجہ سے بہت کچھ لوگوں کے خیالات میں گڑبڑ ہورہی ہے آپ اجازت دیجئے ہم ایک مجمع کرلیں آپ اس مسئلہ کی حقیقت بیان کردیں اتنی بڑی تمہید اس لئے تھی کہ یہ تعلیم یافتہ طبقے میں سے تھے ان کو اپنی لسانی پربڑا ناز تھا میں نے کہا کہ آپ کو علماء کے ساتھ محبت ہے ان کی طرف سے آپ کے دل میں درد ہے آپ ان کی شان گستاخیاں کرنے والوں سے بیزار ہیں اس پر اظہار نفرت فرمارہے ہیں میں آپ کے ان جذبات کی قدر کرتاہوں یہ سب کچھ میں نے ان کے ہی طرز میں بیان کیا ان ہی کے ایسے الفاظ ہوتے ہیں اس کے بعد میں نے دریافت کیا کہ صرف علماء ہی کی شان میں گستاخی کرنے سے آپکو صدمہ ہوتا ہے اور دل دکھتاہے کبھی آپ نے اس طرف بھی خیال کیا گیا اس گستاخی جماعت کے علاوہ ایک اور جماعت ہے جوائمہ مجتہدین کی شان میں گستاخی ہیں ، اور وہ شیعی ہیں ۔
اوران سے بڑھ کر ایک جماعت ہےجوخداوند جل جلالہ کی شان میں گستاخی کرتی ہیں یعنی دہریہ ، سوان سیکی ک گستاخی پربھی کبھی آپ کادل دکھاتو اس کے انسداد کا کیا انتظام کیا سب سے پہلے بقاعدہ الاھم فالاھم اس انتظامیہ کی ضرورت ہےکہ اللہ کو رسول کو صحابہ کو ائمہ مجتہدین کوکوئی برانہ کہے اور ا ن کی شان میں گستاخی نہ کرے جب آپ کو اس سے فراغ نصیب ہوجائے گا تب پانچویں درجہ میں علماء کے متعلق ہم انتظام کردینگے بس ان جنٹلمین کی ترکی بھی تمام ہوئی ان متکبروں کو اسی طرح جواب دینا چاہئے ان کے دماغوں میں خناس ہے گوبربھرا ہے سمجھتے ہیں کہ ہم خردماغ ہیں میں کہا کرتا ہوں کہ علماء میں بحمداللہ اسب دماغ ہیں یہ بدفہم علماء کواپنا محکوم سمجھتے ہیں میں ان کو منہ نہیں لگاتا اسی وجہ سے بدنام ہوں ان کی نبضیں پہچانتاہوں اور نسخہ بھی ویساہی تجویز کرتاہوں ۔
خیر! بدنام کیا کریں اس سے ہوتا کیا ہے ، ان کے نزدیک علماء کا یہ درجہ ہےکہ میں ایک مرتبہ علی گڑھ گیاتھا ، وقارالملک کالج میں لے گئے وہاں کی مسجد میں جمعہ بھی ہوا۔ اس وقت ایک اخبار ِِِ،،البشیر، اس نے لکھاکہ سرسیدنے ایک کعبہ تیار کیاتھا اب علماء کو بلابلاکراس کو کنیسہ بنانا چاہتے ہیں یہ ان لوگوں کے خیالات ہیں جس پرمسلمانی کا دعویٰ ہےاور قوم کے ریفارمرکہلائے جاتے ہیں اب اگرعلماء ان حرکات پرکچھ کہتے ہیں تواس پرکہاجاتا ہے کہ ان لوگوں کامشغلہ یہی ہے کہ بیٹھے ہوئے کافربنایا کریںیہ الزام ہے علماء پر۔
میں کہا کرتا ہوں کہ علماء کافربناتے نہیں کافر تو خود ہوتے ہیں ان کا علماء کافرہونا بتادیتے ہیں ایک نقطہ کا فرق ہے باقی کا فربنانا تواس کوکہتے ہیں کہ جیسے مسلمان ہونے کی ترغیب دیتے ہیں اسی طرح کافرہونے کی ترغیب دیں توایساکون کرتاہے کالج والوں کا مجھ سے یہ طے ہواتھا کہ وقتافوقتا بلایا کریں گے میں نے وعدہ بھی کرلیاتھا کہ میں آیاکرونگا اس سے تبلیغ ہوگی اور میدان صاف ہوجائے گا مگرشاید اخبارسے مرعوب ہوکرپھربلایا نہیں گیامیں نے ان مضامین کو ضائع کرنا مناسب نہیں سمجھاان کو جمع کرلیا اورانتباہات مفیدہ کے نام سے وہ مجموعہ چھپ بھی گیا ۔
ایک ایسے ہی مذاق والےشخص نے لکھا کہ فلاں مسئلہ میں کیا حکمت ہےمیں نے
جواب میں لکھا کہ سوال عن الحکمت میں کیا حکمت ہے ہم سے تواللہ تعالی ٰ کے احکام کی حکمتیں پوچھی جاتی ہیں جوکہ ہمارے افعال بھی نہیں آپ اپنے ہی سوال کی حکمتیں بتلادیجئے جوکہ آپ کا فعل ہے ایک ایسے ہی صاحب کا جوکہ ایک قریب کے قصہ میں انسپکڑتھے ایک واقعہ یاد آیا ان کا خط آیا تھا لکھاتھا کہ کافرسے سودلینا کیوں حرام ہے میں نے لکھاکہ جہلاء کو بھی اس قدر ترنہ ہونا چاہئے کہ جس سے ڈوب ہی جائیں ان ہی صاحب سے پھرکچھ مدت کے بعد جب میں اس قصبہ میں گیا توملاقات ہوئی کہنے لگے آپ تومجھ کو نہ پہچانتے ہوں گے میں نے کہا کہ واقعی چونکہ اس سے قبل آپ سے ملاقات کا اتفاق نہیں ہوا اس لئے نہیں پہچان سکا کہا کہ وہی شخص ہوں جس نے فلاں سوال آپ سے کیا تھا میں نے کہا کہ آہا آپ سے تو بہت پرانی بے تکلفی نکلی کہنے لگے کہ آپ نے ایساخشک جواب دیاتھا میں نے کہا کہ آپ ایک تھانہ دار ہیں اور ایک علاقہ آپ کے سپرد ہے جس پرآپکی ایک قسم کی حکومت ہے میں یہ پوچھتاہوں کہ کیا تمام علاقہ کے لوگوں سے آپ کا ایک ہی قسم کا برتاؤ ہے یا اہل خصوصیت سے جدا برتاؤ ہے کہنے لگے سب سے ایک قسم کا برتاؤ نہیں میں نے کہا کہ بس اسی طرح قبل ازملاقات آپ سے کوئی خصوصیت نہ تھی اس لیے ایساجواب دیا گیا اب ملاقات وخصوصیت ہوگئی ہے ایسا جواب نہ ملے گا لیکن ساتھ کے ساتھ یہ بھی ہے کہ اس ملاقات کا اثر جیسامجھ پرہوا آپ بربھی ہوگا یعنی آپ بھی مجھ سے کبھی ایساسوال نہ کریں گے میں سوچا کہ میں تومقید ہواہی ہوں ان کوکیوں آزاد چھوڑوں ۔
غرض یہ خشکی ان لوگوں کی غذا ہے اسی طرح سے ان کے دماغ درست ہوتے ہی ایسے جواب ان کو دینے چاہیئں مگر لوگوں نے خلاق کےمعنی سمجھ رکھے ہیں نرم اور شیریں گفتگو کرنے کے اس لئے اس ضابطہ کے برتاؤ کو بداخلاق سمجھتے ہیں اس نرم اورشیریں گفتگو پرایک حکایت یاد آئی ۔
ایک صاحب کا انتقال ہونے لگا تو اپنے بیٹے کو جوکہ بہت احمق تھا وصیت کی کہ بیٹا ! میرے انتقال کے بعد جومیرے دوست احباب تعزیت کوآئیں ان سے نرم شیریں گفتگو کرنا ان کو اونچی جگہ بٹھلانا بھاری کپڑوں سے ملنا قیمتی کھانا کھلانا غرض یہ کہ باپ کا انتقال ہوگیا کسی دوست کوخبر ہوئی وہ بے چارے تعزیت کوآئے مکان پرآکر دستک دی بیٹے صاحب مکان سے باہرتشریف لائے دیکھا کہ مہمان ہیں نوکروں کوحکم دیا کہ ان کومچان پربٹھاؤ چنانچہ بے چارے مچان پربٹھلائے گے اور خود بھاری کپڑے پہننے گئے وہاں سے آئے توتمام بدن قالین اور جاجم سے ملبوس اب مہمان نے دریافت کیا کہ میرے دوست کیا بیمارہوئے تھے کہ کہا روئی دریافت کیا کب انتقال ہوا کہا کہ گڑجب چند سوالات کے جواب میں یہ ہی جواب ملتارہا کہ روئی اور گڑ ! بے چارے خاموش ہوگئے تھوڑی دیرکے بعدنوکروں کوحکم دیاکہ مہمان کو مچان سے اتارو پھروقت پرکھانا آیا ان کے منہ سے نکلا کہ گوشت گلانہیں کہنے لگے خوب میں نے آپ کے لئے پچاس ورپیہ کا کتا کاٹ دیا آپ پھر بھی پسند نہ آیا ۔
آخرانہوں نے دیا فت کیا کہ آپ کی کیا حرکات ہیں کہا کہ والدصاحب بوقت انتقال وصیت فرماگئے تھے کہ میرے انتقال کے بعد جومیرے دوست احباب میرے تعزیت کو آئیں ان کو اونچی جگہ بٹھلانا بھاری کپڑے پہننا نرم اورشیریں کلام کرنا قیمتی کھانا کھلانا سو اس سے زیادہ تو میرے پاس لباس نہ تھا جس کو آپ دیکھ رہے ہیں اوراس مچان سے زیادہ اونچی جگہ اور کوئی میرے یہاں نہیں جہاں آپ بیٹھے تھے اور روئی اورگڑ سے زیادہ کوئی نرم اورشیریں چیز نہیں اور جناب میرے گھر میں کتے سے زیادہ قیمتی اورکوئی جانور نہیں اس لئے وہ آپ کے لئے کٹوادیا وہ غریب یہ سن کر بھاگے ایسے ہی یہ لوگ اخلاق کے معنی سمجھتے تھے اس لئے اہل حق کو ان کی صفائی پربدنام کرتے ہیں ۔
غرض ! عرف بدل گیا الٹا معاملہ ہورہا ہے کہ بداخلاقی خوش اخلاقی ہوگئی اورخوش اخلاقی بداخلاقی ہوگئی معلوم بھی ہے کہ اخلاق کہتے ہیں اعمال باطنہ کی تحصیل یا اصلاح کو اور اعمال باطنہ بھی وہ جو مامور بہ یا منہبی عنہ ہیں جیسے ریا ہے کبرہے حب جاہ ہے حب مال ہے کینہ ہے بغض ہے عداوت ہے حسد وغیرہ ہیں یہ ایک دوسرے کی ضد ہیں جوماموربہ ہیں وہ اخلاق حمیدہ ہیں اور جومنہی عنہ ہیں وہ اخلاق رذیلہ ہیں ۔ سومدرسہ توبنتا ہے اعمال ظاہرہ کی درستی کے لیے ان میں علماء رہتے ہیں اور خانقاہ بنتی ہے اخلاق باطنہ کی درستی کیلئے ان میں شیوخ رہتے ہیں وہاں تربیت کا اہتمام ہوتا ہے اوریہ سب شریعت ہے اس کے بعد اگرطریقت نام ہے اصلاح اخلاق باطنہ کا تب تووہ جزو ہے شریعت کا جسے کتاب الصلوٰۃ اس کا ایک جزو ہے کتاب الزکوٰۃ اس کا ایک جزو ہے اور اگرطریقت نام ہے تدابیراصلاح کا تو وہ ایک طریقہ ہے ، علاج کامثل دوسرے تدابیر طبیہ کے اور اس صورت میں مخصوصا ومقصودا مامور بہ نہیں پس مشائخ محققین جواعمال کا علاج كرتے ہیں وہ بعینہ مامور نہ نہیں نہ وہ اصل مقصود ہے بلکہ مقصود ہے بلکہ مقصود کا ذریعہ ہیں جومحض تدابیر کے درجہ میں ہے جیسے طبیب جسمانی کی تدابیر کہ ان کوکوئی
بدعت نہیں کہہ سکتا ۔ اسی طرح مشائخ کی تجویزات اوران کے علاج کو جوکہ محض تدابیر کے درجہ میں ہیں نہ عبادت کہہ سکتے ہیں نہ بدعت اوریہ ایک فن مستقل ہوگیا ہے اسی کانام عام اصطلاح میں تصوف رکھ دیا گیا اور اسی کانام فن تربیت ہے جوبڑا نازک ہے کیونکہ بدوں مجاہدہ اور ریاضت کے کہ خاص تدابیر کانام ہے ان رذائل کا علاج مشکل ہے اوریہ سب شیخ کی رائے پرہے بدوں شیخ مبصرومجرب کے اصلاح اور تربیت مشکل ہے یہ ہے حقیقت اس فن کی ۔
اب بتلایئے تجربہ کار پر کیا اعتراض ہوسکتاہے ایک شخص کہتے تھے کہ میرے اندرکبرہے میں نے کہا کہ آثار بیان کرو جیسے طبیب آثار سن کر مرض کی حقیقت کو سمجھتا ہے آثار بیان کرنے پر معلوم ہوا کہ کبرنہیں خجلت ہے میں نے کہا کہ خجلت ہے کبرنہیں کبراور چیزہے خجلتااور چیز ہے یہ ایک مثال ہے تجربہ اورعدم تجربہ کے فرق کی بس یہ تھی حقیقت اس فن کی جس میں لوگوں نے اینچ پینچ لگاکر ہوابنا رکھا ہے اوربعض ناواقفوں نے ایسی چیزوں کوجن کا درجہ محض تدابیرکا ہے اصل اور مقصود بنا رکھا ہے اور بذریعہ مقصود کو مقصود سمجھتے ہیں جو غلطی عظیم ہے ۔
(ملفوظ 73 )متبع سنت کے حال کی شان جدا :
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ اپنے سلسلہ میں پہلے بھی صاحب حال گذرے ہیں اور اب بھی ہیں مگر جوحال سنت کی اتباع سے پیدا ہوتا ہے اس کی شان ہی جدا ہوتی ہے ہمارے حضرت مولانا گنگوہی ؒ کے ایک مرید ہیں خورجہ کے رہنے والے ہیں وہ بڑے صاحب حال ہیں ہمیشہ اچھلتے کو دتے رہتے ہیں اپنے حضرت کے عاشق ہیں دیکھ کر یا نام سن کر لوٹنے پوٹنے لگتے ہیں چونکہ متبع سنت ہیں ان کے حال کی یہ شان ہے کہ عین نماز کے وقت بالکل درست ہوجاتے ہیں کبھی نماز میں تڑپنا چیخنا نہیں سنا گیا حتی کہ آہ تک بھی نہیں نکلتی یہ اتباع سنت ہی کی تو برکت ہے ایسے حضرات کی یہ شان ہوتی ہے
برکفے جام شیریعت برکفے سندان عشق ہہوسنا کے ندا ند جام جام وسندان باختن
( ایک ہاتھ میں شریعت کا بلورین پیالہ اور ایک ہاتھ میں عشق کا ہتھوڑا ہے ( کامل دونوں کو بچاتا اور دونوں کو سالم رکھے ہوئے پھرتا ہے ) مگرہرہوسناک توہتھوڑے اورجام کو بجانا نہیں جانتا )
اسی کے نہ سمجھنے سے ایک غیرمبصراور محقق گھبراکر یہ کہہ اٹھا
درمیان قعر دریا تختہ بندم کردہ بازمیگوئی کہ دامن ترمکن ہوشیارباش
(دریا کی تہہ میں ہاتھ پیرباندھ کرمجھ کو ڈال دیا ہے اور حکم یہ ہوتا ہے کہ خبردار دامن بھی ترنہ ہونے پاوے )
بات یہ ہے کہ اس بیچارے کو اس کی خبر نہیں مگر جوتیرنا جانتے ہیں وہ کھڑے ہوکر تیرتے ہیں اور دامن بھی بچالے جاتے ہیں اور صاف پار ہوجاتے ہیں اوریہ جامعیت ہم جیسوں کےلئے بے شک مشکل ہے مگر ان کے نزدیک کیا مشکل ہے اور اگر آدمی راستہ چلے تو کچھ آسان ہوجاتا ہے اسی کو مولانا فرماتے ہیں
تومگو مارا بداں شہ بارنیست باکر یماں کارہا دشوار نیست
( یہ مت کہہ کہ اس شاہ تک ہماری رسائی نہیں ہے کیونکہ کریموں کے واسطے کوئی کام مشکل نہیں ہے وہ اپنے کرم سے جب تم میں طلب دیکھیں گے خود جذب فرمالیں گے )
(ملفوظ 72)انسان دنیا میں عبد بننے کے لیے آیاہے :
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ انبیاء کو کیا تھوڑا ستایا بدفہموں نے مگر ان حضرات کی کیا شان تھی اللہ اکبر کہاذیتیں بھی سہیں تکالیف بھی برداشت کیں مگر حق تعالی سے تسخیر وغیرہ کی تدبیرکی بھی درخواست نہیں کی کیا ٹھکانہ ہے اس ظرف کا یہ ان ہی حضرات کی شان تھی اور کس کویہ شایان ہوسکتاہے آج کل تسخیرکے عمل مشائخ پڑھتے ہیں یہ تو اچھی خاصی مخلوق پرستی ہے اور اگر زیادہ نظر عمیق سے دیکھا جائے تو اپنی پرستش کرانا مقصود ہےجوشان عبد یت کے بلکل خلاف ہے انبیاء علیہم السلام کی سنت یہی ہے جس پران کا عمل تھا کہ واصبرعلی مااصابک ( جومشکل آوے اس پر صبر کرو) میں نے ایک مرتبہ طالب علمی کے زمانہ میں حضرت مولانا محمد یعقوب صاحب رحمتہ اللہ سے عرض کیا کہ حضرت کوئی ایسا عمل بھی ہے کہ جس سے موکل تابع ہوجائیں فرمایا کہ عمل توہے مگرکیا دنیا میں عبد بننے کےلئے آئے ہو یا خدا بننے کے لئے اس روز سے طبیعت میں ان عملیات سے اس قدر انقباض پیداہوگیا کہ ایسی باتوں کے ذکر سے بھی طبیعت مکدرہوتی ہے چنانچہ یہاں بھی بعضے لوگ آتے ہیں اور مہمل گفتگوئیں کرتے ہیں جس سے مجھ کو اذیت پہنچتی ہے اس کے جواب میں مجھ کوبھی مہمل گفتگو کو حق ہے مگریہ خود ایک مستقل فن ہے جومجھ کو نہیں آتا مجھ سے ایسے مہمل جملے بیان نہیں ہوسکتے ، اس لئے صاف صاف گفتگو کرتا ہوں جس سے میرا مقصود یہ ہوتا ہے کہ ایک مسلمان کی صحیح خدمت ہوجائے اس لئے بات کو سمجھنا چاہتا ہوں مگرلوگوں کو اس فن میں ایک خاص ملکہ ہے نہ معلوم کس مدرسہ کی تعلیم ہے کہ صاف بات کوبھی الجھادینا ان کے بائیں ہاتھ کاکام ہے اس مہمل پرایک حکایت یاد آئی اور یہ حکایت حضرت مولانا گنگوہی رحمہ اللہ نے بیان فرمائی تھی کہ گنگوہ میں ایک جاہل مفتی تھے ان سے خود مولانا نے یا اور کسی نے (صحیح یاد نہیں رہا )
تنگ کرنے کو ایک مسئلہ پوچھا اور وہ تھے تو جاہل مگرجواب غلط نہ دیتے تھے گومہمل دیں ۔
وہ مسئلہ یہ تھا کہ حاملہ کا نکاح جائز ہے یا نہیں واقعی مسئلہ بھی بڑے بکھیڑے کا ہے کہ آیا وہ حمل حرام سے ہے یا حلال سے ہے اگرحلال سے ہے تو اس کا حکم دوسراہے اگرحرام سے ہے تو نکاح کون کرنا چاہتاہے آیا وہی جس کا حمل ہے یا اورکوئی دوسرا شخص ، غرضیکہ بڑا قصہ ہے اور ہرصورت کا الگ الگ حکم ہے انہوں نے عجیب جواب دیا کہ یہ نکاح کرنا ایسا ہے کہ کیسا گھیرا کہا گھیرا یہ ہی گھیرا اس گھیرے میں ایسی پناہ لی کہ ہاتھ نہ آئے سائل ہی خاموش ہوگیا ایسا گھیرادیا ۔
(ملفوظ 71)صرف اہل دل کی شہادت قلب معتبرہے :
ایک مولوی صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ شہادت قلب معتبرتو ہے مگر ہرشخص کے قلب کی شہادت معتبرنہیں بلکہ اہل دل کی شہادت معتبرہے اور اہل دل ہونے کا معیار یہ ہے کہ اس کی طرف علماء صلحاء اتقیاء متوجہ ہوں وہ شخص کامل ہے درویش ہے اورجس کی طرف اہل دنیا واہل جاہ وثروت یا فساق فجار متوجہ ہوں وہ نہ کامل ہے نہ درویش ہے اور علماء اور صلحاء سے بھی مراد اہل حق ہیں ورنہ وہ یوں توبہت لوگ اہل علم کہلاتے ہیں ان سب ہی کو صلحاء ہونے کا دعویٰ ہے غرض وہ لوگ دیندارہوں دکاندار نہ ہوں ایسوں کا متوجہ ہونا معیار ہے وہ صورت دیکھ کر ادراک کرلیتے ہیں بقول مولانا
نور حق ظاہر بود اندر ولی نیک بیں باشی اگر اہل ولی
مولانا ابوالحسن صاحب نے گلزار ابراہیم میں اس کا خوب ترجمہ کیا ہے
مردحقانی کی پیشانی کا نور کب چھپا رہتا ہے پیش ذی شعور
مگرآج کل دکانداروں اور مکاروں سے زمانہ پرہے اس زمانہ میں اس راہ کے اندر اس قدر راہ زن پیدا ہوگئے ہیں کہ جس کی حداورشمار نہیں اورزیادہ ترجہلاء کو ان کی طرف توجہ ہوتی ہے ان جہلاء کے یہاں بڑا زبردست معیار کامل ہونے کا یہ ہے کہ جس قدر جوشریعت کے خلاف ہو اسی قدر وہ بڑا بزرگ اور درویش ہے ۔
اناللہ واناالیہ راجعون
7/ربیع الاول 1351ھ مجلس خاص بوقت صبح یوم چہارم شنبہ
(ملفوظ70) بدعتیوں کا مذہب اتباع ہوا :
ایک صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ ان بدعتیوں کے یہاں سوائے تبرابازی کے اور کیا ہے یہ بھی شیعوں کی طرح ہیں نہ تو علم ہے نہ حقائق شناسی محض اتباع ہوا ان کامذہب ہے فلاں شخص ہی کی تصانیف کو دیکھ لیا جائے سوائے خرافات بکنے اور گالیاں دینے کے ان میں علوم کا نام ونشان بھی نہیں خود اس کی کتابیں دیکھ کر اس کے بہت معتقد اس سے متنفرہوگئے کیونکہ ان تصانیف میں سوائے گالیوں اورخرافات کے اور کچھ بھی نہیں ، بحمداللہ ہماری تصانیف اس قسم کی نہیں صرف تحقیق ہےاس پربھی کسی کونا گواری ہواور برا لگے اس کا ذمہ دار وہ خود ہے ہم نہیں خودمیری عادت سب وشتم کی نہیں گو بعض لوگوں کو ان باتوں میں مزا آتا ہے لیکن مجھ کو ایسی باتوں سے بڑی ہی منفرد ہے اسی طرح یہ بھی عادت نہیں کہ ایک ہی چیز کو خصوص اختلافیات کولے کربیٹھ جاؤ اور کھرل کئے جاؤ کیا یہ بھی کوئی مشغلہ کی چیز ہے میرے ایک دوست ہیں حیدر آباد دکن میں عالم شخص ہیں انہیں یہ عادت ہےکہ ایسی ختلافی باتوں کا مشغلہ رکھتے ہیں ایک صاحب کی زبانی معلوم ہوا کہ اس کی بدولت بدعتی لوگ ان کی دشمن ہوگئے اور ان کی شکایت نظام تک پہنچائی اور تمام جرائم میں سے بڑا جرم ان کے سریہ منڈھا گیا کہ انہوں نے حضور نظام کی توہین کی ہے اب دیکھئے کیا ہوتا ہے اللہ تعالیٰ بے چاروں پررحم فرمائیں اوراس بلاسے نجات عطافرمائیں میرا مسلک تواس کے متعلق یہ ہے کہ اس قسم کے قصوں اور جھگڑوں میں پڑنا ہی نہیں چاہے خواہ مخواہ وقت بے کار جاتاہے آدمی اتنی دیراپنے اللہ کی یاد میں لگے کوئی کیساہی ہوہم کو اس سے کیا لینا ہے اپنے دین وایمان واعمال کی فکر چاہئے خود ہمیں ہی کیا خبرہے کہ ہمارے ساتھ کیا معاملہ ہوگا جب یہ خبرنہیں تو اس کے علم سے قبل بے فکری چاہئے خود ہی ہمیں ہی کیا خبرہےکہ ہمارے ساتھ کیا معاملہ ہوگا جب یہ خبرنہیں تواس کے علم سے قبل بے فکری کیسی البتہ ضرورت کے وقت جہاں دین پرحملہ ہو ا اس وقت اگرمناسب تدابیر اختیار کرے اور بشرط قوت اور وسعت وہمت کام کرے اور اس کو دین کی نصرت میں صرف کرے تو مضائقہ نہیں عین مطلوب ہے ، غرض کہ حدود کی ہرجگہ اورہرموقع نفع کے الٹا نقصان کا اندیشہ ہوتا ہے سو جہاں بجائے نفع کے ضرر کا اندیشہ ہو وہاں اس قسم کی باتیں کرنا مناسب نہیں ۔
(ملفوظ 69)دراصل بدعتیوں کو اہل حق سے عناد ہے :
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ اصل میں بدعتی لوگوں کو عناد ہے اہل حق سے اس عناد کےسبب ان کی عبارات سے بعید بعید لزوم ثابت کرتے ہیں کہ یہ لازم آتا ہے وہ لازم آتا ہے صریح عبارات میں تحریفات کرکے اس پر کفرکو چسپاں کرتے ہیں مولوی ابراہیم صاحب دہلوی نے اس کی مثال میں خوب کہا اکثر واعظ ظریف ہوتے ہی ہیں کہ ان کا لزوم ایساہے جیسے ایک شخص یک چشم تھا ایک شخص یک چشم تھا ایک شخص سے راہ میں ملا اور کہا کہ توحرام زادہ تیرا باپ حرام زادہ اس نے کہا کہ میاں یہ کیا واہیات ہے راہ چلتے گالیاں دیتے ہو میں نے آخرتم کو کہا کیا تھا کہنے لگا کہ یہ مشہور ہےکہ کانا حرام زادہ توتم نے جب مجھ کو دیکھا ہوگا ضرور دل میں کہا ہوگا کہ کانا حرام زادہ تومیں نےاسکا جواب دیاکہ تو حرام زادہ تیرباپ حرام زادہ اب ایسے لزوم کا کسی کے پاس کیا علاج ۔
(ملفوظ 68 )دارالعلوم دیوبند کےبڑے جلسہ میں حسب واقعہ وعظ دینا :
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ یہ اہل باطل ہمیشہ اہل حق پر اعتراض ہی کرنے میں مشغول رہتے ہیں ان کو کبھی کوئی کام کی بات بیان کرتے ہوئے نہیں دیکھا اور حدود کا تو ان لوگوں میں مطلق خیال ہی نہیں بدوں تحقیق جوجی چاہا اور جس کی نسبت چاہا کہہ دیا یہ قلب میں دین نہ ہونے کی دلیل ہے الحمدللہ اپنے حضرات کی برکت کی وجہ سے ہم لوگوں کو حدود کا اس قدر خیال رہتا ہے کہ جب دیوبند میں بڑا جلسہ ہواتھا اس میں مجھ سے حضرت مولانا دیوبندی رحمہ اللہ نے فرمایا تھاکہ اس جلسہ میں حضورﷺ کے فضائل بیان کرنا مناسب ہے یہ حضرت مولانا کا فرمانا اس خیال سے تھا کہ بڑا مجمع ہے ہرقسم کے عقائد کے لوگ اطراف سے آئے ہوئے ہیں جن میں بعضے وہ بھی ہیں کہ ہم لوگوں کےمتعلق یہ خیال کئے ہوئے ہیں کہ ان کے دل میں حضوراقدس ﷺ کی عظمت نہیں نعوذ بااللہ توایسے لوگ رسول اللہ ﷺ کے فضائل سن کر یہ سمجھ جائیں گے کہ حضورﷺ کے متعلق ان کے یہ خیالات ہیں میں نے عرض کیا کہ ایسے بیان میں روایات کے یاد ہونے کی ضرورت ہے اور روایات مجھ کو محفوظ نہیں میری روایات پر نظربہت کم ہے فرمایا کہ اگر یاد آجائے بیان کردینا یہ حضرت کامشورہ تھا اور نیک مشورہ تھا مگر اپنا اپنا مذاق ہے مجھ کو اس کا بیان اس نیت سے کرتے ہوئے شرم معلوم ہوئی کہ اپنے منہ سے ہم یوں کہیں کہ ہم محب رسول ہیں اور ایسے ہیں ویسے ہیں دوسرے یہ وعظ تو اپنی مصلحت تبریہ کے لیے ہوامخاطبین کی مصلحت سے نہ ہوا اس لئے میں حب دنیا کا بیان کیا جس کا آج کل عام مرض ہے اور لوگوں میں سب خرابیاں حب دنیا کے سبب ہیں ۔
6/ربیع الاول 1351ھ مجلس بعد نماز ظہر یوم سہ شنبہ

You must be logged in to post a comment.