ایک سلسلسہ گفتگو میں فرمایا کہ آج کل لوگوں کو گناہوں پر بڑی دلیری ہے جو نہایت ہی خطرناک بات ہے بعض گناہ وہ ہیں جن میں لوگوں کا زیادہ ابتلاء ہے اور ان کو ہلکا سمجھتے ہیں مثلا بدنگاہی ہے اس میں عوام تو کیا خواص تک کو ابتلاء ہے یہاں پر خواص سے مراد جاہل درویش اور مدعیان محبت رسول ہیں جو بدعات کے حامی ہیں اور مولود مروجہ کی مجالس میں امرد لڑکوں کو ساتھ رکھتے ہیں معلوم بھی ہے کہ یہ مرض کتنا بڑا مہلک ہے اور خدا کے قہر اور غصہ کو بھڑکا نے والا ہے ، یہ بدنگاہی نہایت سخت اور خبیث فعل ہے ۔
ایک شخص نے کسی بزرگ کو ان کے انتقال کے بعد خواب میں دیکھا پوچھا کیا حال ہے کہا کہ حق تعالی نے ارشاد فرمایا کہ جس جس گناہ کا اقرار کرتے ہوئے شرم آئی اس لئے وہ اب تک معاف نہیں ہوا وہ گناہ یہ ہے کہ میں نے ایک مرتبہ ایک امرد لڑکے کو بدنگاہ سے دیکھ لیا تھا بس اس کا اقرار کرنا میرے لیے مشکل ہورہاہے اس لئے کہ اس خبیث گناہ کا اقرار خدا کے سامنے کرتے ہوئے شرم دامن گیر ہے ہمت نہیں کس منہ سے اقرار کروں کہ میں نے یہ گناہ کیا ہے بس اس کے عذاب میں مبتلاہوں اور یہ عقوبت اور عذاب میرے لیے سہل ہے اس سے کہ حق سبحانہ ، تعالیٰ کے سامنے اس گناہ بدنگاہی کا اقرار کروں واقعی یہ بدنگاہی ایسی ہی سخت بلا ہے اہل فن نے لکھا ہے کہ دوچیزیں قلب کا ستیاناس کرنے والی ہیں اور نوانیت کو برباد کرنے والی ایک غیبت اور ایک بدنگاہی مگر یہ ہی دونوں چیزیں آج کل لوگوں میں شیر وشکر بنی ہوئی ہیں ۔
(ملفوظ66)سہل علاج کی درخواست طالب کاکام نہیں :
فرمایا کہ ایک صاحب کا خط آیا تھا امراض باطنی کے متعلق لکھا تھا کہ فلاں مرض ہے اس کا سہل علاج بتلادیجئے میں نے لکھ دیا کہ طالب کو حق نہیں کہ وہ
سہولت کی درخواست کرے اس پر فرمایا کہ لوگ مجاہدہ سے گھبراتے ہیں اس کی ایسی مثال ہے اگرکوئی کسی عورت پر عاشق ہوجائے اور وہ عورت کچھ شرائط وصل کے
بتلائے اور اس پر یہ عاشق کہے کہ اگرملنا چاہو تو سہولت سے مل جاؤ ورنہ جانے دو تو کیا یہ عاشق کہلائے جانے کے قابل ہے نیز ایسی درخواست کرنا خلاف ادب بھی ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ شیخ سے تعلیم حاصل کرنا مقصود نہیں بلکہ الٹی شیخ کو تعلیم دینا مقصود ہے شیخ کو شیخ ہی نہیں سمجھتا کیونکہ جس شخص کو اتنی بھی خبرنہ ہو کہ اس تعلیم سے طالب پرمشقت ہوگی وہ شیخ ہی کب ہے سوشیخ توخود ہی شفقت کی بناء پرسہل علاج تجویز کرتا ہے مگر ضرورت کے موقع پرخود شیخ بھی مجبور ہوجاتا ہے کیونکہ بعض امراض کا ازالہ سخت مجاہدات ہی سے ہوتا ہے جیسے بعض امراض جسمانیہ میں طبیب مجبور ہے کہ شاہترہ اور چرائتہ کلو اور بیخ حنظل کے بخار اورسوداویت کا علاج مشکل ہوتا ہے بہرحال طالب کو حق نہیں کہ وہ سہولت یا سختی کی درخوات کرے جیسے مریض جیسے مریض کو حق نہیں طبیب کے پاس جاکر کہے ایسا نسخہ تجویزکردیجئے جو میٹھا ہوکر وانہ ہو سیٹہا نہ ہوا اگر ایسا کرے تو طبیب کیا خاک علاج کرے گا ۔
(ملفوظ65)فتن کا ایک خاص اثر :
ایک مولوی صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ جی ہاں فتن کا ایک خاص اثر ہوتا ہے اس لئے کہ بشریت ہے اس لئے تاثر بعید نہیں اس زمانہ میں
میں خود اپنے اندراثر پاتا تھا اسی واسطے حدیث شریف میں اس قلیل کے فتن کے وقت ارشاد ہے فلیلحق بابلہ بغنمہ بارضۃ (مشکوۃ عن المسلم ) اور ارشاد ہے علیک لمن انت منہ یعنی بعشیرتہ ( جمع الوائد عن ابی دوؤد) یعنی اپنے مواشی اپنی جائداد کنبہ میں پڑے اگر اس کا کوئی اثر نہ تھا تو حضور ﷺ یہ کیوں فرماتے ۔
(ملفوظ 64)تحریکات کا زمانہ نہایت پرفتن تھا :
ایک مولوی صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ جی ہاں تحریکات کا زمانہ نہایت ہی پرفتن تھا مزا حا فرمایا کہ اس لئے کہ اہل فتن کے مقلدوں کی بنیاد ڈالی ہوئی تھی ، اس میں خیراور برکت کہاں نہایت ہی زبردست فتنہ تھا دین اور دنیا دونوں کے اعتبار سے ، لوگوں کا دنیا کا تو خسارہ ہواہی مگر آخرت کے بربادکرنے میں بھی بدفہموں نے کسرنہیں رکھی ، اس ہی زمانہ میں جس وقت حضرت مولانا دیوبندی رحمتہ اللہ علیہ مالٹا سے تشریف لائے تو میں بغرض زیارت دیوبند حاضرہو وہاں
ایک صاحب فرمانے لگے کہ آپ کو معلوم ہے کہ زمانہ غدر میں آپ کے بزرگ کھڑے ہوئے تھے میں نے کہا کہ جی ہاں کھڑے ہوئے تھے یہ بھی معلوم ہے اور ایک بات اور بھی معلوم ہےجو آپ کو معلوم نہیں وہ یہ کہ بیٹھ بھی گئے تھے آخری فعل حجت ہوا کرتا ہے تو منسوخ پرعمل کرو اور ہم ناسخ پرعمل کریں اب یہ بتلاؤ کہ مسنو خ پرعمل کرنے والا اپنے بزرگوں کامتبع کہلائے گا یا ناسخ پرعمل کرنے والا اوروہ منسوخ پرعمل کرنیوالے تم ہو یا ہم یہ سن کررہ گئے اس وقت لوگوں کی عجیب ہی حالت تھی ایسا معلوم ہوتا تھا کہ جیسے کوئی نشہ پی کر بے خبراورمدحوش ہوجاتا ہےکہ کسی بات کی خبر ہی نہیں رہتی یہ حالت تھی نہ حدود کی رعایت نہ اصول ک پرواہ دین اور شعائر دین کی طرف مطلق توجہ ہی نہ تھی بس ایک ہی بات کے ہوش تھے کہ جوگاندھی کی زبان سے نکل جاتا اس کو قرآن وحدیث سے ثابت کرنے اور لوگوں سے عمل کرانے پرتمام اپنی قوت صرف کردینا اپنی فلاخ اور بہبود کا باعث سمجھتے تھے یہاں تک خیالات فاسدہ کا غلبہ ہوچکا تھا کہ ایک وعظ کا جلسہ سہارنپورمیں ہوا اس جلسہ میں ایک مقرر نے بیان کیا کہ بعض لوگ کہتے یا کہ اگرسورج مل گیا تو
ہندو مسجدوں میں اذان نہ ہونے دیں گے توکیا بلااذان کے نماز نہیں ہوسکتی یا کہتے ہیں کہ گائے کی قربانی نہ ہونے دیں گے توکیا بکرے کی قربانی نہیں ہوسکتی کیا گائےکی قربانی واجب ہے ، یہ مسلمان ہیں اور مسلمانوں کے راہبر اورمقتدا بنے ہوئے ہیں مسلمانوں کی باگ ایسے راہزنوں کے ہاتھ میں ہے ایسے بددین بدفہم لوگ
مسلمانوں کے جہاز کے ناخدا بنے ہوئے ہیں اس مقررکے بیان میں ایک اور بات رہ گئی اگر اس کو بھی بیان کردیتاتو پھر کوئی جھگڑا ہی نہ رہتا وہ یہ کہ اگرایمان اور اسلام
پرہندوؤں نے نہ رہنے دیا تو کیا بدوں اسلام اور ایمان کے ساتھ زندہ نہ رہیں گے یہی وہ لوگ ہیں جو اسلام کے دوست نما دشمن ہیں اس بدفہم سے کوئی پوچھتا کہ جب شعائر اسلام کے چھوڑدینے کو گورا کرنے کی مسلمانوں کو تعلیم کررہا ہے توپھر انگریزوں ہی میں جاکر جذ ب ہوجا عیسائیت ہی قبول کرلے انکی تو حکومت بنی بنائی ہے ہندوں کی حکومت کیلئے تو بڑی جدوجہد کی ضرورت ہے پھر کامیابی بھی محتمل اجی اسلام اور شعائر اسلام کو چھوڑنا ہی ہے تو اس میں کیا انگریزاور کیا ہندو بلکہ تیری محبوبہ
دنیا ہندوں سے زیادہ انگریزوں کے پاس ہے بدفہم سمجھتے ہیں کہ تدابیرے سے کام چل سکتا ہے میں کہتا ہوں کہ نرمی تدبیروں سے کام نہیں چل سکتا ہے تائید حق سے
اور وہ موقوف ہے طلعت اور فرمانبرداری پرباغیوں ، سرکشوں اور نافرمانو ں کے ساتھ تائید حق نہیں ہو ا کرتی یہ ہی وجہ ہے کہ اسوقت کسی کام میں بھی برکت نصیب
نہ ہوئی اور جہاں ایسے ایسے راہبر اور پیشوا ہوں گے یہ ہی نتیجہ ہوگا کسی نے خوب کہا ہے
گربہ میروسگ وزیروموش رادیوان کنند ایں چنیں ارکان دولت ملک راویراں کنند
( بلی کو صدر، کتے کو وزیراعظم ، چوہے کو وزیرمملکت بنادیں تو ایسے ارکان دولت توملک کو ویران ہی کریں گے ۔ 12)
برکت تدابیر منصوبہ پرعمل کرنے سے میسرہوسکتی ہے اور یہ ہڑتال اور جلوس یہ سب یورپ ہی سے سبق حاصل کیا ہے یہ سب انہیں ک تدابیر ہیں جن کے خلاف تم جدوجہد کررہے ہو ان تدابیر کی جوتم نے اختیار کررکھی ہیں اس سے زیادہ وقعت نہیں جیسے ایک گاوں میں ایک بوجھ بجکڑرہتا ہے اس گاؤں کا ایک آدمی کھجورکے درخت پرکھجوریں کھانے چڑھ گیا وہاں پہنچ کر زمین کو دیکھا توبڑی دورنظر آئی گھبراہٹ میں اترنا مشکل پڑگیا تمام گاؤں جمع ہوگیا مگریہ کسی کی سمجھ میں نہ آیا کہ اس کو اتاریں کس طرح ، آخریہ طے ہوا کہ بوجھ بجکڑکو بلاؤ آیا درخت کے قریب کھڑے ہوکر اوپر نیچے دیکھا اور بہت غور اورفکر کے بعد کے سوچ سمجھ کرکہا کہ سمجھ کرکہا کہ سمجھ میں آگیا رسے لاؤ رسے آئے کہا کہ ان میں پھندا لگا کر اوپر پھینکوتا کہ اس کے پاس تک پہنچ جائے اس سے کہاں کہ تو پکڑلینا غرض کہ رسا پھینکا گیا اس نے
ڈال لیا اب لوگوں سے کہا کہ لگاؤ جھٹکا مزا حا فرمایا کہ جھٹکا ہوتا ہی ہے ناجائز لوگوں نے جھٹکا لگایا وہ شخص درخت سے زمین پرآکر پڑا ہڈی پسلی ٹوٹ گئیں دماغ پھٹ کر
بھیجا الگ جاپڑا ختم ہوگیا لوگوں نے کہا کہ یہ کیا کیا یہ تو مرگیا تو بوجھ بجکڑکہتے ہیں کہ مرگیا سسرااپنی موت مرااس کی قسمت میں ے تو ہزاروں آدمی اسی تدبیر سے رسے کے بذریعہ کنواں سے نکلوائے ہیں کنویں سے نکلوالینے پر قیاس کیا کھجورکے درخت پرسے اتروانے کو یہی حقیقت آج کل کے ان عقلاء اور لیڈروں کے قیاسیات اور تدابیر کی ہے یہ بھی عقل اور فہم میں اس بوجھ بجکڑسے کم نہیں بلکہ چار قدم اور آگے بڑھے ہوئے ہیں پھر اس پر ناز ہے دعوی ہے کہ ہم اہل عقل اوراہل فہم ہیں میں تو کہا کرتا ہوں کہ یہ آج کل کے اہل عقل اہل اکل ہیں عاقل نہیں آکل ہیں معلوم بھی ہے کہ ایک تدبیر ایک کیلئے نافع اور مفید ہے اور ایک کے لئے وہی مضر جیسے بوجھ بجکڑکی تدبیر ایک کیلئے تو مفید تھی کہ رسے کے ذریعے کنوئیں سے نکلوالیا اور دوسرے کیلئے مضر کھجور کے درخت سے رسے کے ذریعہ اتروایا ، ایک کے لیے
مفید اس لئے ہوئی کہ کنویں میں تھا پستی سے بلندی کی طرف آگیا اور دوسرے کے لیے مضر اس لئے ہوئی کہ بلندی سے پستی کی طرف آیا جس کا نتیجہ ہلاکت ہو توان تدابیر غیرمنصوص سے یہ پستی کی طرف جائیں گے اس لئے کہ تدابیر منصوصہ بلندی کی طرف ہیں ، اتنی تو خبر ہے ہی نہیں مگر پیشوا مقتدا ء بننے کو جی چاہتا ہے اصل بات یہ ہےکہ اگردین ہوتو عقل میں بھی نور ہودین کا تو نام ونشان ہی نہیں اپنی من گھڑت باتوں اور تدابیر پر کودتے اچھلتے پھرتے ہیں ملک کو تباہ برباد کیا لوگوں کا دین بھی خراب کیا کسی نے خوب کہا ہے
گربہ میرسگ وزیروموش رادیواں کنند ایں چنیں ارکا ن دولت ملک راریراں کنند
(ملفوظ63)ملک کی خدمت کی دو قسمیں :
ایک صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ ملک کی خدمت کی دو قسمیں ہیں ایک سرحد کی حفاظت اورایک اندرونی حفاظت اگرسرحد کی حفاظت کرنے والے ملک کے اندر لوٹ آئیں توملک کی خیرنہیں غیم ملک پرقبضہ کرلے گا اور
اگردفتری لوگ اندرون ملک سے سرحد پرلوٹ جائیں تب بھی اندیشہ مضرت کا ہے اس لئے کہ نظام میں گڑبڑہوجائے گی ہرجماعت جب تک اپنے اپنے فرائض
منصبی کو انجام نہ دے گی بقاء حکومت دشوارہے اس لئے میں کہا کرتا ہوں کہ مسلمانو ں میں بھی دوقسم کے لوگ ہونے چاہیئں ایک سرحدی اور ایک دفتری ، ہندو بڑے ہوشیار ہیں انہوں نے دوگروہ تیار کئے ہیں ایک ان تحریکات کے مخالف گوباطن میں سب شریک ہیں اور ایک تحریکات کے موافق تو جس جماعت کا غلبہ ہوگا وہ
دوسری پناہ دے گی مسلمانوں میں یہ بات نہیں جس طرف کو ایک جائے گا سب اسی طرف جو جائیں گے بھیڑاچال مشہور ہے اور اگر کوئی دور اندیش الگ رہنا چاہے تواس کو بدنام کرتے ہیں اس کو دشمن اسلام کہتے ہیں اور اس پر قسم قسم کے بہتان اورالزامات لگاتے ہیں ان کے یہاں نہ کوئی اصول ہیں نہ قواعد ایسی بے ڈھنگی باتیں کرتے ہیں جن کے نہ سرنہ پیر مسلمانوں میں اتنا تو مادہ ہے ہی نہیں کہ اپنے دوست اوردشمن ہی کو پہچان سکیں ان کی باگ ایسے لوگوں کے ہاتھ میں ہے کہ جونہ اصو ل سے واقف نہ دین کی خبر محض من گھڑت باتیں اوروہ بھی بے اصول ، بھلا یوں بھی کہیں کام چلاکرتا ہے زبانی جمع خرچ جس قدر چاہو کر الو عملی صورت کا نام ونشان نہیں اسٹیج اور پلیٹ فارموں پرھواں دھار تقریریں اور زور شور بہت کچھ اور افسوس کہ نماز تک کے بھی پابندنہیں یہ مسلمانوں کے راہبر اور لیڈر ہیں سواس طرح ہوچکی کامیابی ، اس لئے کہ کامیابی توحق جل علی شانہ کے قبضہ قدرت میں ہے اور ان سے بغاوت اور سرکشی اختیار کررکھی ہے پھر کامیابی کیسی حق تعالی مسلمانو ں کو سمجھ دے اور فہم سلیم عطافرمائے ۔
(ملفوظ62)تقیہ نہ توریا ء صرف بوریا :
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ یہاں پرکوئی خفیہ آئے یا سی آئی ڈی آئے جو کوئی آئے آوے ہم تو جوبات ہےصاف کہتے ہیں کہ ہم نہ توتقیہ کرتے ہیں اور نہ توریہ جانتے ہیں صرف بوریہ کو جانتے ہیں ۔
(ملفوظ61) بدبختوں نے تو انبیاء کی تعلیم سے بھی اعراض کیا :
ایک صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ ب ے چارت علماء تو کس شمار میں ہیں قطب اور غوث اورولی کس قطار میں ہیں انبیاء میں توکوئی کمی نہیں
تھی مگر بدبختوں نے اپنی بداستعدادی کی وجہ سے انبیاء سے اور ان کی پاکیزہ تعلیم سے بھی اعراض کیا ۔
(ملفوظ 60)اہل کتاب دنیا کے اور مشرکین دین کے دشمن ہیں :
ایک صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ اہل کتا ب دین کے دشمن نہیں دنیا کے دشمن ہیں گو اس کے ضمن میں دین کی بھی دشمنی ہوجائے اور مشرکین دین کے دشمن ہیں معیار اد کا یہ ہے کہ جس قدر قوت اورسطوت اہل کتاب کو ہے اگر مشرکین ہوجائے تو یہ ہندوستان میں مسلمانوں کا بیچ تک بھی نہ چھوڑیں ہزار ہا واقعات اور مشاہدات موجود ہیں اس پر بھی اگر کوئی اختلاف کرے تو اس کا کوئی علاج نہیں بقول شاعر
جواس پربھی نہ وہ سمجھے تو ا س بت کو خدا سمجھے
(ملفوظ 59)انسانیت بھی اہل اللہ کی صحبت سے آتی ہے :
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ میں تجربہ کی بناء پرکہتاہوں کہ جب تک اہل اللہ کی صحبت نہ ہو بزرگی تو کیا انسانیت بھی نہیں آسکتی اور بزرگی آبھی جائے مگرانسانیت پیدا نہیں ہوسکتی ۔
(ملفوظ 58) فضول منازاعت سے نفرت :
ایک مولوی صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ فضول منازعت کی فرصت کس کو ہے ان کی فضولیا ت میں تو وہ پڑے جس کو فرصت ہو کون ان
قصوں میں پڑے ان جھگڑوں میں پڑا کر آدمی اپنے ضروری کاموں سے بھی رہ جاتا ہے ہمارے حضرت حاجی صاحب رحمتہ اللہ علیہ نے اس قطع منازعت کے لیے ایک عجیب دستوارالعمل بیان فرمایا تھا کہ اگر کوئی تم سے باحق مباحثہ یا مناظرہ کرے تو اس مثل ہر عمل کرنا کہ ایک نائی سے ایک شخص نے کہا کہ میاں داڑھی کے سفید با ل چن دو اس نے طرف سے اس طرف تک داڑھی صاف کی اور سامنے رکھ کر چل دیا کہ تم خود چننے رہومجھ کو اتنی فرصت کہاں کہ ایک ایک بال چنوا اس طرح تم کرنا جب کوئی تم سے جھگڑے یا الجھے توتم سب رطب ویا بس اس کے حوالہ کرکے اپنے کام میں لگ جاؤ اور ایسانہ کرنا دلیل ہے اس کی کہ اس کوکوئی اور کام نہیں بالخصوص عشق ومعرفت سے خالی ہونے کی تویہ صاف دلیل ہے اسی کو فرماتے ہیں
چہ خوش گفت بہلول فرخندہ خوئے چوبگذشت برعارف جنگ جوئے
گر ایں مدعی دوست بشباختے بہ پیکا ر دشمن نہ پرداختے
(حضرت بہلول مبارک قدم نےکیا خوب فرمایا جبکہ ان کا گذر ایک (ظاہری ) عارف پرہوا جوجھگڑا کررہاتھا (آپ نے فرمایا کہ ) اگر سب کو دوست (حق تعالی ) کی معرفت حاصل ہوتی تو اس کو دشمن کی طرف توجہ کی فرصت ہی کب ہوتی ۔ 12)

You must be logged in to post a comment.