ایک صاحب کے سوال کےجواب میں فرمایا کہ جی ہاں آپ نے قدر کی میرے طرز کی اور اس کو سمجھا اس کا حاصل یہ ہے کہ میں کبھی کسی پراعتراض نہیں کرتاہاں کوئی مسئلہ ہوتا ہے اس کو بیان کردیتاہوں وہ بھی اس نیت سے کہ حقیقت کا اظہار ہوجائے حق واضح ہوجائے کبھی کسی کی تفسیق وتجہیل وتحقریروتذلیل کی نیت ہوتی پھربھی مجھ پراعتراضات کئے جاتے ہیں اور سب کچھ اس وجہ سے ہے کہ میں کچھ بولتا نہیں غیریب کی جو روسب کی بھابی ، ایک مولوی صاحب کانام لے کر فرمایا کہ ان سے کوئی نہیں بولتا نہ ان کےکوئی درپے ہوتا ہے اس لئے کہ وہ بولتے ہیں میں لے کرفرمایا کہ ان سے کوئی نہیں بولتا نہ ان کے کوئی درپے ہوتا ہے اس لئے کہ وہ بولتے ہیں میں بولتا نہیں وجہ یہ ہے اس جرات اور بیبا کی کی مگر اللہ کا لاکھ لاکھ شکرہے کہ پھرخودہی آکر سرنگوں ہوتے ہیں اور یہ میں فخرسے نہیں کہتا بلکہ میں تو یہ سمجھتا ہوں کہ مظلوم اگرکافربھی ہوتو حق تعالی اس کی نصرت فرماتے ہیں اس میں کسی کمال اور بزرگی کوکیا دخل ۔
(ملفوظ 56) بدسلیقگی اوربے اصولی پرعتاب :
ایک صاحب مجلس خاص کے وقت آکر باوجود قریب جگہ ہونے کے مجلس سے فصل پر بیٹھ گئے حضرت والانے دیکھ کر فرمایا کہ اور ہٹ وہاں کنارے پربیٹھئے اس طرف سے بھڑنہ جاؤ اور کہیں کو ئی نیک بات کانو ں میں نہ پڑجائے بلکہ اس طرف سے پشت کرے بیٹھئے اس طرف دیکھنا بھی گناہ ہے اس پران صاحب نے عرض کیا کہ غلطی ہوئی معاف فرمائیں فرمایا معاف ہے مگرکیا بدتمیزی پرمطلع بھی نہ کروں تم جیسے اس کو غلطی سمجھتے ہومیں مطلع نہ کرنے کو غلطی سمجھتا ہوں بندہ خدایہ تو موٹی موٹی باتیں ہیں اتنی بھی تمیز نہیں کیا بدفہمی کا کوئی خاص مدرسہ ہے کہ وہاں پر تعلیم پاکر آتے ہو یا سارے بدفہم اور بدعقل میرے ہی حصہ میں آگئے یا چھٹ چھٹ کرآتے ہیں اس سے کوئی پوچھے کہ آخرآنے سے نتیجہ کیا جب اتنے فاصلہ پربیٹھے کہ جہاں آواز بھی نہ پہنچ سکے خدانا س کرے ان رسوم کا بے حدلوگوں کو اس میں ابتلاء ہورہاہے بے ادب اس کو ادب سمجھتے ہیں حالانکہ یہ حرکت بالکل خلاف ادب ہے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ کسی کا کچھ لے کربھاگیں گے آپ کی
ہیت ملاخطہ ہو جیسے کوئی چورآکر بیٹھ جاتا ہے ایسے ایسے بدفہم یہاں پر آتے ہیں دل آتے ہی مکدرکردیتے ہیں پھر کیا خاک نفع حاصل کرینگے اب مجھ کو تو بدنام کریں گے جاکر کہیں گے کہ بہت ہی بدخلق ہے اوراپنی حرکت کا خفاء کریں گے یہ نہیں کہیں گے کہ میں نے یہ خوش خلقی کا برتاؤ کیا تھا اس پر اس کی یہ بدخلقی ہوئی خیر کریں
بدنام میرا تو نفع ہی ہے وہ یہ کہ پھرایسے بدفہم تونہ آئیں گے یہ عرفی دل جوئی اورجگہ ہوتی ہے میرے یہاں تودل شوئی ہے اگرمیرا طرزپسندنہ ہو نہ آؤ بلانے کون جاتا ہے اس پربھی اگر آؤ گے تو میں ضرور بدتمیزیوں سے آگاہ کروں گا روک ٹوک کروں گا میں خاموش رہنے کو خیانت سمجھتا ہوں خاموش رہنے پر اصلاح کیسے ہوسکتی ہے یہ تو آسان ہے کہ اصلاح کاکام بندکردوں مگر اصلاح کاکام کرتے ہوئے خاموشی اختیار کروں اور بدتمیزیوں پرمطلع نہ کروں یہ مجھ سےنہیں ہوسکتاچاہے کسی کو اچھا معلوم ہو ا یا برا معلوم ہو میں کسی وجہ سے اپنی طرز کو بدل نہیں سکتا اور اس موقع پر میں یہ پڑھاکرتا ہوں
ہاں وہ نہیں وفاپرست میں تویہ جاؤ وہ بیوفا سہی جسکو ہوجان ودل عزیز اسکی گلی میں جائے کیوں
اور یہ پڑھا کرتاہوں
دوست کرتے ہیں شکایت غیرکرتے ہیں گلہ کیا قیامت ہے مجھے کو سب برا کہتے ہیں
مجھ کو بحمداللہ اس کی پرواہ نہیں میں ہی سب کی طرف سے یہ فرض کفایہ ادا کررہاہوں اور مگردوسروں کے اخلاق تو خراب ہوئے آخرکہاں تک صبر سے کام لیا جائے
کوئی حدبھی ہےبدوں اس طریق اورطرز کے اس فعل کی قباحت ان کے ذہن میں نہیں آسکتی تھی جوبات دل میں بٹھلانا چاہتا ہوں بدوں اس طرز کے بیٹھ نہیں سکتی اور اگر یہ طرز پسند نہیں تو کیا یہ چاہتے ہیں کہ ہاتھ جوڑکر سامنے حاضرہوکر عرض کروں کہ حضور آپ سے یہ غلطلی ہوئی جوبات جس طرح ہےاور جس طریق
سے کہنے کی ہوگی اسی طرح کہی جائے گی اس پر بھی اگرکوئی نہ سمجھے تومیں کسی کی بدفہمی کا کیا علاج کر سکتاہوں اور یہ تو آج نئے نہیں آئے نہ معلوم یہ نئی حرکت کہاں سے سیکھ کے آئے اوراس وقت ممکن ہے کہ ان کے دل میں یہ شکایت ہوکہ میرے ساتھ ایسابرتاؤ کیوں کیا بات یہ ہے کہ جتنی تہذیب کی توقع ان کو مجھ سے تھی اس
سے زائد مجھ کو ان سے تھی مگر انتداء انہوں نے کی اسی پرمیں کہہ رہاہوں توذمہ دار یہ ہیں میں نہیں ہوں اور کیا سلیقگی اور بے اصولی سے مجھ کو فہم کا اندازہ نہیں ہوسکتا ذراسی بات سے آدمی کے فہم کا پتہ چل جاتا ہے اوریہ تو بہت کھلی ہوئی بات ہے جس کا ان سے صدور ہوا اب باہر جاکر مجھکو بدنام کریں گے کہ بدخلق ہے سخت ہے میں بحمداللہ سخت نہیں ہوں اس سختی کو یہاں کے رہنے والوں سے دریافت کرو وہ بتلائیں گے مزاحافرمایا کہ میرے مزاج میں درشتی نہیں ہے درستی ہے میں سخت نہں ہو ں مضبوط ہوں جیسے ریشم کا رسہ کہ نرم تواس قدر کہ چاہے جس طرح موڑ توڑ لو اور جس طرح گرہ لگالو مگرمضبوط اس قدر کہ اگر اس میں ہاتھی کو بھی باندھ دو
تو وہ بھی نہیں توڑسکتا لوگ سختی اور مضبوطی ہی میں فرق نہیں سمجھتے چکنی چپڑی باتیں بنانے کو یا آہستہ بولنے ہی کو خوش خلقی نہیں کہتے ۔
( ملفوظ 55) بدعتی اور وہابی کے معنی :
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کی کتنے غضب اور ظلم کی بات ہے کہ ہمارے بزرگوں کو بدنام کرتے ہیں اوروہابی کے لقب سے یاد کرتے ہیں ہمارے قریب میں ایک قصبہ ہے جلال آباد وہاں پرایک جبہ شریف ہے جو حضورﷺکی طرف منسوب ہے اس کی زیارت حاجی صاحب ؒ اورمولانا محمد صاحب ؒ کیا کرتے تھے اور حضرت مولانارشید احمد صاحب گنگوہی رحمتہ اللہ علیہ نے اس کے متعلق میرے خط کے جوا ب میں تحریرفرمایاتھا کہ اگر منکرات سے خالی وقت میں زیار ت میسر آنا ممکن ہوتو ہرگز دریغ نہ کریں بتلایئے یہ باتیں وہابیت کی ہیں ان بدعتیوں میں دین توہوتا نہیں جس طرح جی میں آتا ہے جس کو چاہتے ہیں بدنام کرنا شروع کردیتے ہیں خود تو بددین دوسروں کو بددین بتلاتے ہیں میں تو مولانا فیض الحسن صاحب کا قول نقل کیا کرتا ہوں بدعتی کے معنی ہیں باادب بے ایمان اور وہابی کے معنی ہیں بے ادب ایمان ، مولانا بڑے ظریف تھے کیا لطف کی تفیسرکی ۔
( ملفوظ 54)متاخرین نے مجاہد ات میں جو چیزیں حدف کردیں :
ایک صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ متقدمین نے تو مجاہدات میں چارچیزوں کو فرمایا تھا قلت طعام ، قلت منام ، قلت کلام ، قلت اختلاط مع الانام مگر متاخرین نے دوحذف کردیا ہے ایک تو قلت طعام اور ایک قلت منام کیونکہ یہ دونوں آج کل مضر ہیں پہلے لوگوں کے قوی مضبوط ہوتے تھے ان کے مناسب تھے اور دو کو باقی رکھا ایک قلت الکلام اورایک قلت اختلاط مع الانام اوران ہی دونوں میں لوگوں کو زیادہ بے فکری ہے حالانکہ قلت کلام از حد ضروری ہے اس لئے کہ کثرت کلام کی بدولت کسی کی حکایت کسی کی شکایت کسی کی غیبت ہوجاتی ہے بلکہ مباحات کی کثرت میں کدورت ہوتی ہے عطار اسی کو فرماتے ہیں
دل زپرگفتن بمیرو دربدن گرچہ گفتا ر ش بود درعدن
( بے ضرورت زیادہ بولنے سے بدن کے اندر دل مرجاتا ہے اگرچہ ظاہری طور پر تیری گفتگو کیسی ہی عمدہ ہو 12)
غر ض کم ملوکم بولواور کسی قدرلذات کوکم کردو غلو اس میں بھی نہیں چاہئے ایک درویش نے میرے سامنے خربوزہ کھایا اوریہ کہا کہ آج سترہ برس میں کھایا ہے سویہ غلو بھی برا ہے ضرورت اس کی ہے کہ آدمی حرام سے بچتا رہے باقی اچھی طرح کھائے پئے مجاہدہ یہ نہیں کہ حلال کو چھوڑدے مجاہدہ کی حقیقت ہے خواہشات مذمومہ سے نفس کو روکنا اور حلال چیزوں کے ترک سے اندیشہ ہے عجب کے پیدا ہوجانے کا کیونکہ اس میں ایک شان امتیاز کی ہوتی ہے جیسے ایک شخص نے کہا تھا اپنے پیرکے متعلق کہ وہ کچھ کھاتے ہی نہیں میں نے کہا کہ آخرکچھ توکھاتے ہی ہوں اس لیے کہ اس کے بدوں تو زندگی ہی دشوار ہے ۔
اس پرکہتے ہیں کہ جی ہاں کچھ یوں ہی تھوڑا ساکھالیتے ہیں پوچھا گیا تو کہنے لگے کہ ایک سیردودھ اورآدھ پاؤ بالائی اور کچھ سیب اور انگور ایک دوست نے کہا کہ اور کھاتے صرف اتنی کسر رہی کہ تجھے اور مجھے نہیں کھایا اور یہ بھی کہاکہ بندہ خدا ! اگرمجھ کو یہ چیزیں ساری عمر کھانے کو ملیں تومیں روٹی وغیرہ کے پاس بھی نہ جاؤں ۔ اب بتلایئے کہ یہ بھی کوئی مجاہدہ ہے بجز شہرت اور جاہ کے صاف دوسرو ں کی نظروں میں بڑا ہونا ہے سویہ خودکتنی بڑی بلاہے یہ غیرمحقق ایسی ہی ٹھوکر یں کھاتے ہیں اور کبھی منزل مقصود تک نہیں پہنچتے اصل چیزعبدیت ہے اور ان باتوں سے عبدیت کے خلاف فرعونیت پیدا ہوتی ہے کہ یہ تو لوگوں کو ذلیل اور حقیر سمجھے اور دوسرے اس کو بزرگ اورولی اور بڑی جانیں اور یہ جوقلت اختلاط مع الانام کی تعلیم فرمائی اس میں بھی ایک حد ہے ورنہ اس سے بھی انسان کی ایک امتیازی شان معصوم ہوتی ہے اورحد کے اندررہ کر یہ خرابی نہیں ہوتی اعتدال کے ساتھ ملنے میں اس کو اوروں سے اور دوسروں کو اس سے نفع پہنچتا رہتا ہے جس کے متعلق ارشاد ہے
طریقت بجز خدمت خلق نیست بہ تسبیح وسجادہ ودلق نیست
( طریقت میں اصل نافع چیز خدمت خلق ہے صرف تسبیح لے لینا اور گڈری پہن لینا طریقت نہیں ہے 12)
شریعت کا یہ کیسا عجیب فیصلہ ہےکسی نے خوب کہا ہے شریعت پر بلکل صادق آتا ہے
زفرق تابقدم ہر کجا می نگرم کرشمہ دامن دل می کشد کہ جا اینجا ست
(اے محبوب تیرے سرسے پیرتک جہاں بھی نظرکرتا ہوں تیری ہرادا دامن کو کھینچتی ہے کہ بس مجھی کو دیکھے جا۔ 12)
یہ چیزیں کسی کی صحبت میں رہنےاور جوتیاں سیدھیاں کرنے سے نصیب ہوتی ہیں اور بدوں کسی کامل کے اس راہ میں مقصود تک پہنچنا صرف مشکل ہی نہیں بلکہ محال ہے اور صحبت کامل کے بعد یہ شان ہوجاتی ہے
بینی اندر علوم انبیاء بے کتاب ومعیدواوستا
اور یہ شا ن ہوجاتی ہے
جملہ اوراق وکتب درنارکن سینہ راا نو رحق گلزار کن
(علوم کے اسباب ظاہری ) اوراق وکتب کو فنا کردو اور نورحق سے سینہ کو گلزار بنالو تاکہ علوم وہبی ہم کو عطاہوں ۔ 12)
ایسوں ہی کے پاس جاکر یہ برتاؤ کرو جس کومولانا فرماتے ہیں
قال را بگذر مرد حال شو پیش مردے کاملے پا مال شو
اور اس کے نرم وسرد کا تحمل کرو جس کو مولانا فرماتے ہیں
گربہر زخمے تو پرکینہ شوی پس کجابے صیقل آئینہ شوی
( اگرچہ ہرچیز چرکہ سے تم باراض ہوگے تو بغیررگڑے اورماتجھے تم آئینہ کی طرح صاف شفاف کیسے ہوگے )
اس کے بعد پھر دیکھوگے کہ تمہارے اندر خود ایک چمن ہےجب جی چاہے گا اس کو سیر کرلو گے اسی کو مولانا رومی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں
اے برادر عقل یک دم باخود آر دمبدم درتو خزاں است وبہار
( اے بھائی اگر تم عقلی سے کام لو ، تو خود تمہاری اندر ہی ہروقت خزاں اور بہار ہوتی ہے ( یعنی مختلف حالات پیدا ہوتے رہتے ہیں )
اور ایسی صحبت کی برکت اپنی کھلی آنکھوں دیکھوں گے اور بزبان حال وہی کہوں گے جو سعدی نے کہا ہے
جمال ہمنشیں درمن اثر کرد وگرنہ من ہماں خاکم کہ ہستم
(ہمنشیں کے جمال نے مجھ میں یہ اثر پیدا کیاہے ورنہ میں وہی خاک ہوں جو پہلے تھی ۔ 12)
غرض صحبت اوراطاعت ہی وہ چیز ہے کہ جب باد صرصر چلتی ہے تو کنکریاں پتھریاں گندم میں جا پڑتی ہیں پھر وہ اس کے ساتھ ہونے کی وجہ سے گندم ہی کے نرخ پر بکتی ہیں بھلا الگ تو کوئی ان کا خرید اربن کردکھلاوے کو ئی پھوٹی کوڑی کو بھی نہ خریدا گا یہ ایک نہایت مفید اور کا ر آمد نسخہ میں نے تم کو بتایا اس کو استعمال کرو اور اس کے فوائد دیکھو ۔
6/ربیع الاول 1351 ھ مجلس خاص بوقت صبح ہوم سہ شنبہ
( ملفوظ 53)خاتمہ ایمان پربڑی دولت ہے :
ایک مولوی صاحب کے تعریفی جملوں پر فرمایا کہ اجی حضرت کہاں کی بزرگی اور کہاں کا تبرک ! اگر ساتھ ایمان کے چلے جائیں یہ ہی سب کچھ ہے اسی کا خطرہ ہے نہ معلوم قسمت میں کیا لکھا ہے کسی نے خوب کہا ہے ایمان جوسلامت بلب گور بریم احسنت بریں چستی و چالاکی ما
( لب گورتک ایمان سلامت لے جاو یں توہم شاباش کے قابل ہیں ۔ 12)
(ملفوظ 51 )حقیقی آزادی خاصا ن حق کو حاصل ہے :
ایک صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کی جی ہاں لوگ آزادی اور حریت کی حقیقت سے ناواقف ہیں اس لیے یہ مرض ایسا عام ہوگیا کہ سلطنت اور حکومت سے تو آزادی حاصل کرنا چاہتے ہیں خدا سے بھی آزا د ہوگئے خدا کا بھی خوف قلوب سے جاتا رہا یہ سب الحاد ہے بدفہمی کی بھی کوئی حد نہیں رہی حریت کس آزادی کو کہتے ہیں آیا حق سے آزاد ہونے کو یا غیر حق سے اس لیے کہ ایمان والے کیلئے تو حق کی غلامی ہی باعث فخر اور باعث فلاح اور بہودی ہے اور یہ آزادی بھی اللہ والوں ہی کو میسر ہے اور جومدعی ہیں آزادی ہزاروں طوق اور زنجیروں میں جکڑے ہوئے ہیں حقیقی آزادی خاصان حق ہی کو حاصل ہے ان کی یہ حالت ہے کہ وہ دنیا سے
öö öööö 47 öööö
آزادی اور حق کے پابند اور غلام ہیں اس غلامی پر لاکھوں کروڑں آزادیاں قربان جن کو اس غلامی کا رازمنکشف ہوگیا وہ تو بزبان حال یہ کہتے ہیں
اسیرش نخواہد رہائی زبند شکاری نجوید خلاص از کمند
( اس کا قیدی قید سے رہائی نہیں چاہتا اس کا شکاراس کے جال سے نکلنا نہیں چاہتا12)
میں اس پر ایک حکایت بیان کر تا ہوں وہ یہ کہ ایک عاشق جواپنے محبوب کی تلاش میں برسوں سرگرداں اور پریشان پھرتا تھا اتفاق سے ایک روزہ یہ چلا جارہا تھا کہ اس محبوب نے خاموشی سے آکر پیچھے سے آغو ش میں لے کر اس زور سے دبایا کہ اس کی پسلیاں دوسری طرف کی پسلیوں سے جاملیں آنکھیں نکل آئیں دم گھٹنے لگا اس حالت میں محبوب دریافت کرتا ہے کہ اگرمیرے دبانے سے تم کو تکلیف ہوتی ہے تو میں تم کو چھوڑکر اور کسی کو جاکراپنی آغوش میں دبا لوں اس وقت وہ اگر عاشق صادق ہے تو یہ کہے گا
نشودنصیب دشمن کہ شود ہلاک تیغت سرد وستاں سلامت کہ تو خنجرآزمائی
( تیری تلوار سے ہلاک ہونا خدا کرے دشمن کے نصیب میں نہ ہو، تیری خنجر آزمائی کے لئے دوستوں کا سرحاضرہے ۔ 12)
( ملفوظ 52) حقیقت مجاہدہ :
ایک مولوی صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ حقیقت مجاہدہ کی ہے نھی النفس عن الھوی ( نفس کو اس کی خوہشات (مذمومہ ) سے روکنا ۔ 12) اوراس کے حاصل ہونے کی تدبیر یہ ہے کہ خاف مقام ربہ ( اور جو شخص اپنے رب کے سامنے کھڑے ہونے سے ڈرتا ہے ) اگریہ کہا جائے کہ شریعت میں مجاہدہ سے مراد مجاہدہ مع الکفار ہے تو اس حدیث کے کیا معنی ہونگے المجاھد من جاھد نفسہ ( مجاہد وہ ہے جو اپنے نفس سے جہاد کرے ) بلکہ مجاہدہ ظاہری میں مشغول ہونا آسان اور سہل ہے اور مجاہدہ باطنی میں مشغول ہونا سخت کام ہے اور اس میں تسامل کرنا ایسا ہے کہ باہر کے دشمن کو تو مار دیا مگر اندر کے دشمن کی طرف التفات ہی نہیں اسی کو فرماتے ہیں
دربہ بست ودشمن اندر خانہ بود حیلہ فرعون زیں افسانہ بود ( دشمن تو گھر کے اند رموجود تھا اور دروازہ بند کرلیا ، فرعون کی تدبیر کی ناکامی کی وجہ یہی ہوئی )
اور فرماتے ہیں
اے شہاں کشتیم ما خصم برون ماند خصمے زو بتر در اندرون
کشتن ایں کار عقل وہوش نیست شیر باطن بحرہ خرگوش نیست
( اے حضرت ہم نے باہر کے دشمن کو تو ماردیا مگر باہر کے دشمن سے بدترین اندرہ گیا ہے اس اندر کے دشمن کے مارنے کی تدبیر عقل کے بس کی نہیں ہے کیونکہ یہ باطنی شیر،خرگوش عقل و ہوش کے بس میں آنے والا نہیں ہے ( اس کے مسخرے کرنے کے لئے تائید غیبی کی ضرورت ہے اور وہ تمہاری طلب اور شیخ کامل کے اتبا ع
سے حاصل ہوگی )
اور سب میں بڑی چیز جو اس کی بھی اصل ہے وہ ہے کسی کامل کی صحبت ، بدوں اس کے اس راہ میں کامیابی مشکل ہے بدوں راہبر اس میں قدم رکھنا خطرہ سے خالی نہیں اسی کو مولانا فرماتے ہیں
یار باید راہ تنہا مرو بے قلاؤ زاندریں صحرا مرو
( سلوک طے کرنے کےلئے ساتھی کی ضرورت ہے تنہا مت چلوبغیررہبرکے اس جنگل میں مت جاؤ )
اپنے کو اس کے سپرد کردو اور زبانی سپرد کرنے سے بھی کچھ نہ ہوگا بلکہ وہ جو تجویذ کرے گا اس پر عمل کرنا ہوگا اور اگر ہرچرکہ پرقلب میں کدورت پیدا ہوگئی تو بس مقصود حاصل ہوچکا اسی کو مولانا فرماتے ہیں
توبیکے زخمے گریزانی ز عشق تو بجز نامے چہ میدانی زعشق
( تو ایک چرکہ سے عشق کے بھاگتاہے تو معلوم ہو اکہ عشق کانام ہی نام جانتا ہے (حقیقی عشق تجھ کو حاصل نہیں ۔ 12)
(ملفوظ 50) عرفات میں خطبہ سنت ہے :
ایک صاحب نے عرض کیا کہ حضرت عرفات میں اب خطبہ نہیں ہوتا فرمایا یہ کیوں یہ تو سنت ہے اور نجدیوں کو اتباع سنت کا دعوی ہے پھر سنت کو کیو ں ترک کیا عرض کیا عرفات میں نجدی روتے تو بہت ہیں فرمایا کہ رونا تو خطبہ کا قائم مقام نہیں ہوسکتاخطبہ کا ٹھیک طریقہ تو جب تھا کہ روتے بھی اور خطبہ بھی ہوتا اور بے خطبہ رونا تو ایساہے جیسے ایک میاں جی بے محل روئے تھے ایک میاں جی ایک متوسط الحال شخص کے یہاں بچے پڑھانے پر ملازم تھے وہ شخص کہیں باہر جاکر پانچ سو روپے ماہوار کے ملازم ہوگئے انہوں نے گھراطلاع خط بھیجا میاں جی کے سوا اور کوئی خط پڑھنے والا نہ تھا گھر والوں نے میاں جی کوخط پڑھنے کو دیا خط پڑھ کر میاں جی نےرونا شروع کردیا گھروالوں کو پریشانی ہوئی اور وجہ پوچھی کہا کہ وجہ تو بعد میں بتلاوں گا پہلے تم بھی رؤو ۔ وہ بھی رونے لگے غل مچا ۔
محلہ والے سن کر آگئے رونے کی وجہ پوچھی میاں نے کہا کہ تم بھی رؤو ۔ محلہ والے بھی رونے لگے پھر لوگوں نے رونے کا سبب دریافت کیا میاں جی نے کہا خط میں لکھا ہے کہ میاں پانچ سو روپیہ کے ملازم ہوگئے لوگوں نے کہا اس میں رونے کی کیا بات ہے یہ تو خوش ہونے کی بات ہے کہنے لگے نہیں رونے ہی کی بات ہے چنانچہ سنو ! میں تویوں رویا کہ اب وہ بچوں کو انگریزی پڑھائیں گے بجائے ان کے اب وہ کسی میم صاحبہ کو لائیں گے میرا روزگار گیا اور گھروالوں کے رونے کی یہ بات ہے کہ بجائے ان کے اب وہ کسی میم صاحبہ کو لائیں گے ان کے ورٹی کپڑے میں کھنڈت پڑے گی اور اہل محلہ کے رونے کی یہ بات ہےکہ میاں کو موٹرکیلئے اور گھوڑوں کے لئے مکان اور اصطبل کی ضرورت ہوگی تو اہل محلہ ہی سے مکانا ت خالی کرایہ جائیں گے اس لئے سب کو رونا چاہئے میاں جی تھے بڑے دوراندیش کیا جوڑ لگایا ہے تو بعض رونا بھی بے جوڑ ہوتا ہے ۔
بندہ خدا خطبہ کیوں ترک کیا سنت کو تو بدعت نہیں کہہ سکتے خدا معلوم کیا ذہن میں آیا ہوگا جس کی بناء پریہ کیا گیا ویسے تو عقائد میں نہایت ہی پختہ ہیں ہاں ! ایک کمی ہے جس کو میں اکثر کہاکرتاہوں کہ نجدی ہیں تھوڑے سے وجدی بھی ہوتے تب بات ٹھیک ہوتی خشک زیادہ ہیں کھراپن ہے ۔
(ملفوظ 49 ) انگریزی تعلیم کا ثر :
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ یہ انگریزی تعلیم اکثر بے ادب ہوتے ہیں حضرت مولانا دیوبندی رحمتہ اللہ علیہ نے ایک حکایت بیان فرمائی تھی کہ دو انگریزی داں باپ بیٹے آمنے سامنے کرسی پر بیٹھئے تھے بیٹے کو انگڑائی آئی تو اس طرح سے پیر پھیلائے کہ جوتا باپ کی ڈاڑھی میں جاکر لگا اس حرکت پر ایک شخص نے کہا کہ یہ کیا بدتمیزی ہے باپ ابھی بیٹا کچھ نہ بولا تھا باپ صاحب کہتے ہیں کہ کیا حرج ہو ا کیا جو تہ کو گوبر لگا تھا یہ ہےنرمی انگریزی تعلیم کا اثر صرف چند الفاظ اور چند فیشن کا نام تہذیب رلکھ لیا ہے اور وہ فیشن ہی معیار لیاقت سمجھا جاتا ہے اس پر ایک حکایت یاد آئی ایک دیہاتی شخص متمول تھا اس نے اپنے لڑکے کو انگریزی پڑھائی کسی نے پوچھا کہ تیرا بیٹا کہاں تک انگریزی پڑھ چکا ہے کہنے لگا ہے اس سے تم ہی سمجھ لو کہ کس درجہ تک پہنچ گیا ہے تھا بڑا ذہین کیا بات کہی ان دیہاتیوں کے دماغ بڑے صحیح ہوتے ہیں الفاظ تو بوجہ بے علمی کے ان کے پاس ہوتے نہیں مگر ترجمانی نہایت صحیح اور پر مغز ہوتی ہے ( ایک دیہاتی کو کہتے سنا تھا کہ خدا کی تو وہ شان ہے کہ کئے جاؤ اور لئے جاؤ کیسے پاکیزہ اور مختصر الفاظ میں کتنے بڑے علمی مضمون کو ادا کیا ۔ 12 جامع )
ایک اور دیہاتی کی حکایت ہے میں ریل میں سفر کررہاتھا اسی ڈبہ میں چند دیہاتی مسلمان تحریکات حاضرہ کے متعلق آپس میں گفتگو کررہے تھے میں بھی سن رہا تھا ان میں سے ایک بولا میاں اتنے جھگڑوں اور بکھیڑوں کی کیا ضرورت ہے صرف دوباتوں کی ضرورت ہے وہ یہ کہ ایک رہو اور نیک رہو پھر کوئی بھی مسلمانوں کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔
کیسی عجیب بات کہی تمام حکمت دو لفظوں میں بیان کر گیا بڑے بڑے علامہ کو بھی نہ سوجھتی اب بتلائیے کیا کوئی اپنے علم پر ناز کرے یہ تو سب خدا ہی کی طرف سے ہے اسی واسطے میں کہا کرتا ہوں کہ ناز نہ کرو نیاز پیدا کرو ۔
(ملفوظ 48)قواعد وضوابط دوسروں کی راحت کیلئے ہیں :
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ میرے یہاں جو قواعد اور ضوابط مقرر ہوئے ہیں اگر ان کے مصالح لکھواؤں تو اچھا خاصہ ایک رسالہ تیار ہوجائے جیسے آیات کا شان نزول ہے اسی طرح ان قواعد اور ضوابط کا بھی شان نزول ہے اور یہ سب کچھ اپنی اور دوسروں کی راحت رسانی کے واسطے ہے ورنہ میں سچ عرض کرتا ہوں کہ ان قواعد اور ضوابط کی وجہ سے مجھ پر ہروقت خوف طاری رہتا ہے کہ قیامت میں تجھ سے بھی قواعد دقیقہ کا مواخذہ نہ ہونے لگے اس لئے نہ مجھ کو ان پر ناز ہے اور نہ میں اپنی اصلاح سے بے فکر ہوں ہمیشہ دعاء کرتا ہوں کہ اے اللہ ! میں ضعیف ہوں اس لئے میں نے ضوابط مقرر کئے ہیں کہ بے ضابطگی کا متحمل نہیں آپ تو ضعیف نہیں آپ ضابطہ سے کام نہ لیجئے ۔ غرض ! مجھ کو سخت خوف ہے میں بے فکر نہیں بلکہ ڈرتا ہوں کہ اگر حق تعالٰے نے میرےساتھ اسی طرح ضابطہ کا برتاؤ کیا تو میرا تو کوئی بھی ٹھکانہ نہیں اور یہ چیز یں کی نہیں بلکہ خود ذلیل ہیں ضعف کی ناز کی ان میں کوئی بات نہیں ہے اس لئے ڈرتا ہوں اور اپنی اصلاح کا خیال رکھتا ہوں ۔

You must be logged in to post a comment.