(ملفوظ 47)تربیت میں ہر بات کی دقیق رعایت :

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ آج کل عدل اور حفظ حدود کی بے حد کمی ہے مجھ کو بحمداللہ اس کا بڑا خیال رہتاہے مثال کے طریق پر ایک بات عرض کرتا ہوں گو بظاہر ایک معمولی سی بات معلوم ہوتی ہے کہ جب کوئی طالب علم داخل ہونے آتا ہے تو میں خود اس کو ساتھ لے کر استاد کے سپرد کرکے آتا ہوں استاد کو یہاں پر بلا کر نہیں سپرد کرتا اس میں ان کے احترام اور اعزاز کو ملحوظ رکھتا ہوں اور کبھی کھبی جو بلا لیتا ہوں وہ اس لئے کہ کہیں ان میں عجیب نہ پیدا ہوجائے اور یہ نہ سمجھنے لگیں کہ ہم میں بھی مخدومیت کی شان ہے یہ باب تربیت بھی نہایت ہی دقیق ہے ہر باکی دقیق دقیق رعایت کرنی پڑ تی ہے ۔

( ملفوظ 46)نفع کا دار ومدار مناسبت پرہے :

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ میں تو کہا کرتا ہوں کہ یہاں پر رہ کر جب بصیرت بڑھ جائے اور پھر وطن واپس پہنچ کر مکاتبت کرے تو طویل مکاتبت سے مناسبت پیدا ہوجاتی ہے جومدارہے نفع کا مگر یہاں پر جورہے خاموش ہرے مکاتبت مخاطبت نہ رکھے تجربہ سے یہ طرزبہت ہی مفید
ثابت ہو ا ہے لوگ اول وہلہ میں اس کی قدر نہیں کرتے مگریہاں سے وطن واپس جاکر بہت لوگ لکھتے ہیں کہ پہلے تو سمجھ میں نہیں آیا تھا مگر چند روز خاموش رہنے سے جو نفع ہوا وہ نفع چند برس ک مجاہدہ سے بھی
نہ ہوتا یہ سب تجربہ کی باتیں ہیں حق تعالی دل میں وہی چیزیں ڈال دیتے ہیں جو
مفید ہیں بدفہم لوگ اس کو میری طرف ٹالنا سمجھتے ہیں لیکن اگر میں ٹالتا تو رہنے کی اجازت ہی کیو﷽ں دیتا کیا میرے ذمہ کسی کا کچھ قرض آتا ہے مگر رسوم کا غلبہ ہورہا ہے دماغوں میں وہی رسمی باتیں رچی ہوئی ہیں کہ مجلس آرائیاں ہوں قیل وقال ہوتعظیم وتکریم اور مجھ کو ان باتوں سے طبعی نفرت ہے میں چاہتا ہوں کہ نہ میری آزادی میں تم مخل ہو اور نہ تمہاری آزادی میں مخل ہوں کام میں لگو وقت کو بیکار نہ جانےدو ۔
5/ربیع الاول 1351 ھ مجلس بعد نماز ظہر یوم دوشنبہ

(ملفوظ 44)برکت فلوس میں نہیں خلوص میں ہے :

ایک صاحب نے عرض کیا کہ ایک ناظم مدرسہ فرماتے تھے کہ جو طلبہ روسا کے وظائف سے تعلیم پاتے ہیں وہ اکثر ناکامیاب ہوتے فرمایا کہ اگر بظاہر کا میابی بھی ہو جائے تب بھی ان کے علم میں برکت نہیں ہوتی اس پرفرمایا کہ اس کا راز سمجھ میں نہیں آیا ہاں ایک وجہ تو بظاہر یہ معلوم ہوتی ہے کہ ایسے طلبہ کی اول ہی سے مخلوق پر نظر ہوتی ہے دوسری بات یہ معلوم ہوتی ہے کہ اس کی وجہ سے خیال ہوتا ہے کہ فلاں شخص ہم کو وظیفہ دیتا ہے تو ہم کو کیا تعلق مہتمم صاحب سے اور کیا تعلق استاد صاحب سے اسکی وجہ سے اپنے بزرگوں سے بھی تعلق میں کمی پیدا ہوتی ہے یہ سب میں زیادہ مضر ہے اور یہ جو بزرگوں نے مکانوں سے کھانا لانا طلبہ کےلئے جائز رکھا تھا
اس میں نفس کا معالجہ تھا مگر اب عرفا ذلت کے سبب یہ صورت بھی باپسندیدہ ہوگی مگر اس جائز رکھا تھا اس میں نفس کا معالجہ تھا مگر اب عرفاذلت کے سبب یہ صورت بھی باپسند یدہ ہوگی مگر اس میں بھی ذلت کی دو صورتیں ہیں ایک تو یہ کہ کھانا دینے والا ذلیل سمجھے اور ایک یہ کہ کھانا دینے والا تو ذلیل نہیں سمجھتا مگر لانے والا اس میں اپنی ذلت سمجھتا ہے تو پہلی صورت تو ناجائز اور دوسری صورت جائز کیونکہ اس میں اس کے نفس کا معالجہ ہے اور اس ہی وجہ سے بزرگوں نے اس صورت کو جائز رکھا تھا مدرسہ دیوبندی ہی کے واقعات ہیں کہ بعض لوگ مہتمم صاحب اور مدرسیں اور مولویوں کے مخالف تھے مگر طلبہ کی نہایت عزت احترام کرتے ہیں ایک وکیل تھا نہایت بددین مگر تین طلبہ کو کھانا دیتا تھا اور جس وقت طلبہ اس کے مکان پرجاتے تو کرسی سے تعظیم کیلئے کھڑا ہوجاتا یہ حالت تو اس وقت کے فاسقوں اور فاجروں کی تھی تو اس وقت طلبہ کے مکانوں سے طلبہ کوکھانا نہیں لانا چاہیے اس میں علم اور اہل علم کی تحقیر ہے یہ مضمون آج ہی سمجھ میں آیا اس سے پہلے کبھی ذہن میں نہ آیا تھا اور یہ سب تفصیل تو غربا سے امداد لینے کے متعلق تھی باقی یہ تجربہ ہے کہ نرے امراء کے پیسہ میں برکت نہیں ہوتی اب اس کے اسباب جو بھی ہوں میں نے ایک مرتبہ سہارنپور مدرسہ مظاہر علوم میں یہی مضمون وعظ میں بیان کیا تھا جب مدرسہ کے دارلطلبہ میں مسجد ہوئی اس مسجد کے لئے ایک بی بی نے روپیہ دیاتھا وہ وعظ میں تھیں میں نے کہا کہ امراء نازنہ کریں کہ ہم نے فلاں مدرسہ بنوادیا فلاں مسجد بنوادی یا د رکھو کہ تمہارے پیسہ میں برکت نہیں ہوتی اگر برکت پیدا کرنا چاہتا ہوتو اس کی صورت یہ ہے کہ چند غرباء سے پیسہ مانگ کر اپنے پیسوں میں شریک کرلیا کرو تب برکت ہوگی اس کی وجہ یہ ہے امراء کے پاس تو فلوس ہی فلوس ہوتا ہے اور غرباء کے پاس خلوص ہوتا ہے تو فلوس میں برکت ہوتی ہے خلوص میں ۔

(ملفوظ 43)عوام کی اطاعت واجب نہیں خیر خواہی واجب ہے :

ایک صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ جی ہاں اوروں کی طرح یہاں سے بھی یہی امید رکھتے ہیں کہ ہمارا مطیع ہوکررہے ہماری اطاعت کرے سب کو ایک ہی لکڑی سے ہانکتے ہیں میں کہتا ہوں کہ تمہاری اطاعت واجب نہیں خیر خواہی واجب ہے اس اور چونکہ اطاعت واجب نہیں اس لئے تمہارا کہنا نہیں مانتا اور چونکہ خیر خواہی واجب ہے اس لئے مفید مشورہ دیدیا اب عمل کرنا نہ کرنا تمہارا اختیاری فعل ہے اور میں بھی تم کو اپنی اطاعت پر مجبور نہیں کرتا جب خود میرا یہ طرز ہے تو تم کو کیا حق ہے مجھ کو مجبور کرنے کا اور میں تم سے کیوں مجبور ہوں جب تم کو شریعت کی اطاعت سے عارہے تومیں تمہاری کیوں اطاعت کروں کیوں مجبور ہوں مجھ کو کیا غرض مجھ کو الحمداللہ اپنے بزرگوں کی دعاء کی برکت سے اس کی پرواہ نہیں کہ کوئی معتقد رہے گا یا غیر معتقد وجاوے گا جس طرح جس کا جی چاہے کرے یہ سبق کسی اور کو پڑھنا اگر سارا عالم بھی ایک طرف ہوجائے مجھ کو بفضل ایزدی اس کی پرواہ کی صرف ایک ہی چیز ہے وہ رضاحق ہے اگر یہ حاصل ہے تو پھر سارا عالم اس کے سامنے گرد ہے مسلمان کے لئے یہ ہی ایک چیز ہے کہ وہ خدا کے راضی کرنے کی سعی میں لگا رہے اگر وہ عارضی ہیں تو اس نے سب کچھ پالیا اور حاصل کرلیا اوراگریہ نہیں تو اگر تمام دنیا ومافیہما بھی اس کو مل جائے تو ایک مچھر کے پرکی برابر بھی عقعت نہیں رکھتی ۔

(ملفوظ 42)حکایت حضرت بایزید بسطامی :

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ آج کل کے جاہل صوفی نہایت ؎
ہی نددین ہیں ان کا صرف ایک کام رہ گیا ہے وہ یہ کہ امردوں اور عورتوں سے
اختلاط بس یہ ہی ان کا تصوف رہ گیا ہے مراقبہ ہےتو اسی کا مکاشفہ ہےتو اسی کا استغراق ہے تو اسی کا یہ لوگ تو فاسق وفاجر ہیں اور پہلے لوگ بھی
بدعتی تھے مگر بد دین نہ تھے یہ تو حلف کا حال تھا اورسلف تو دین کے عاشق
تھے چنانچہ حضرت بایزید بسطامی کا واقعہ مثنوی کے دفتر چہارم کے نصف پرمذکور ہے کہ وہ سبحانی ما اعظم شافی کہہ دیتے تھے مریدوں نے ایک روز کہا یہ آپ کیا کہتے ہیں فرمایا کہ اگر اب کی مرتبہ کہوں تو مجھ جو چھریوں سے ماردینا مرید بھی ایسے نہ تھے جیسے آج کل کے ہیں چھریاں کے کر تیار ہوگئے ان سے غلبہ حال میں پھر وہی کلمہ نکلا کلمہ کا نکلنا تھا کہ چہارم طرف سے مریدوں نے مارنا شروع کیا مگر نتیجہ یہ ہوا کہ ان کوتو ایک زخم
بھی نہ آیا اور مریدین تمام اپنی ہی چھریوں سے زخمی ہوگئے ولانا اس کا راز
فرماتے ہیں کہ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ نہیں کہتے تھے ایسے لوگ صاحب حال گزرے ہیں جن کی حالت مولانا کے اس قول کی مصداق ہوتی تھی
عشق آمد عقل او آوارہ شد صبح آمد شمع اوبیچارہ شد
عقل خود شحنہ است چوں سلطان رسید شحنہ بیچارہ در کنجے خزید
(صرف عقل اور سمجھ کو تیز کرنا راہ حق نہیں ہے حق تعالٰی کا فضل اسی کی دستگیری کرتا ہے جو شکستی اختیار کرے ۔ پرانی شراب بہت تیز ہوجاتی ہے خاص کروہ جومحبوب کے پاس کی ہو )
لیکن اس حالت میں بھی اگر کوئی فعل خلاف شریعت یا خلاف سنت سرزد ہوجاتا تھا تو اس پراصرار نہ تھا اس کو اسرار نہ سمجھتے تھے اور یہ سمجھنا تو بڑی چیز ہے ان کو اور الٹی ندامت اور شرمندگی ہوتی تھی بخلاف آج کل کے بدینوں کے بددینی پر فخر ہے ناز ہے اصرار ہے ضد ہٹ ہے ۔ استغفراللہ ۔

(ملفوظ 41)فطری باتیں دل کو اچھی لگتی ہیں :

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا جو چیزیں فطری ہیں ان میں تعلیم کی ضرورت نہیں دیکھ لیجئے بچوں کی باتیں اور ان کی حرکات کیسی پیاری معلوم ہوتی ہیں جو بات بھی ہوتی ہے بے ساختہ اور بے تکلف ہوتی ہے اس لئے کہ فطری بات ہے بناوٹ کا ذرا نام نہیں ہوتا یہ تو بڑے ہوکر بگڑتے ہیں خدا معلوم کہ کیا زہر مل جاتا ہے ایک بچہ کو میں نے چھیڑا اس نے کو سا اللہ
کرے بڑے ابا مرجائیں میں نے اپنے دل میں کہا کہ تو خوش ہوگا کہ میں نے
بہت بڑی بد دعاء کی حالانکہ اس کی ایسی مثال ہے جیسے کوئی مسافر اپنے گھر سے نکل کر بھٹکتا پھرتا ہو اور اس کو کوئی کہے کہ خدا کرے تو اپنے
گھر چلا جایہ تیری بددعا ء ایسی ہی ہے خیر یہ تو جو کچھ بھی سہی اس وقت اس بے ساختہ یہ کہنا ایسا پیارا معلوم ہوا کہ میں بیان نہیں کرسکتا ۔

(ملفوظ40) پہلے زمانہ کے بدعتی :

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ پہلے زمانہ کے بدعتی بھی اللہ اللہ کرنیوالے ہوتے تھے مجھ کو اکثر ملنے کا اتفاق ہوا ان میں شرارت نہ تھی جیسے آج کل کے اکثر بدعتی ہیں بلکہ بعضے فاسق فاجر تک ہیں ان کو کبائر تک میں ابتلا ہے اور ایک بات بزرگوں میں اور بھی تھی کہ مدار نہ تھے اوراہل علم سے نفرت نہ تھی اہل علم کا ادب واحترام قلب میں تھا آج کل کے اکثر بد عتیوں میں یہ سب باتیں مفقود ہیں ہمارے ایک ماموں صاحب صوفی تھے ان کا قدم تصوف میں درجہ غلو تک پہنچ گیا تھا مولانا شہید رحمتہ اللہ علیہ کے عاشق تھے اوریہ فرمایا کرتے تھے کہ پیرزادے جو حضرت شہید صاحب رحمتہ اللہ علیہ کو برا کہتے ہیں محض اس وجہ سے کہ ان کی روٹیوں میں کھنڈت پڑگئی بھلا جس شخص نے اپنا مال اور جان سب اللہ کے واسطے صرف کردیا ہو کیا اس کو برا کہا جائے اور اس پرطعن کیا جائے ماموں صاحب میں یہ بات خاص تھی کہ تارک الدنیا سے ان
کو عشق کا درجہ ہوتا تھا یہ اس وقت کے بدعتیوں کی حالت تھی اب تو نہایت ہی بدین ہیں دلوں میں اہل علم سے بغض و عداوت ہے شب وروز فسق وفجور
میں مبتلاء ہے مراد ہے امر دپرستی تو ان کی مثل شیر شکر کے ہے الاماشاءاللہ ۔

(ملفوظ 39)اہل علم کو کوئی کام دستکاری وغیرہ ضرور سیکھنا چاہئے :

ایک سلسلہ گفگو میں فرمایا کہ جی چاہتا ہے کہ علماء کو علاوہ پڑھنے پڑھانے کے اور بھی کوئی کام آنا چاہئے جو ذریعہ معاش ہوسکے
بدون ظاہر ی وجہ معاش کے لوگ ان کو ذلیل سمجھتے ہیں اس ذلت سے بچنے کے لئے مولویوں کو کوئی کام دستکاری سیکھنا چاہے پھر سیکھنے کے بعد چاہے اس سے کام نہ لیں مگر سیکھ لیں ضرور اہل علم کی ذلت کسی طرح گوارہ نہیں ہوتی آج کل بد دینوں کا زمانہ ہے اہل دین اور اہل علم دین کو نظر
تحقیر سے دیکھتے ہیں بحمد اللہ یہاں پر آکر تو سب کا مزاج درست ہوجاتاہے
خرد ماغوں کو یہ معلوم ہونا چاہئے کہ طلبہ اور اہل علم میں بھی اسپ دماغ
ہیں جواہل دینا خصوص اہل مال سے اس قسم کا برتاؤ کرتا ہوں جس کو لوگ خشکی کہتے ہیں اس کی وجہ ہی یہ ہے کہ ان کے دماغوں میں خناس بھرا ہے
ان کے دماغوں کو درست کرتا ہوں اگر تمام اہل علم اور اہل دین ان کے دروازوں پر جانا چھوڑ دیں تو ایک دن میں ان کے دماغ صحیح ہوجائیں گے اور
پھر یہ خود ان کے دووازوں پر آنے لگیں خصوص اہل مدارس اگر ذرا صبر سے کام لیں تو یہ خرابی نہ رہے بڑے پیمانے پر اہل دنیا خصوص اہل مال کے دماغ
درست ہوجائیں مجھے اہل علم کی ذلت ایک لمحہ کیلئے گوارا نہیں مگردل کس
طرح ڈال دوں ۔

(ملفوظ 38)افراط وتفریط سے عالم بھرا پڑا ہے :

ایک صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ اسی واسطے میں کہا کر تا ہوں کہ اعمال کی ظاہری صورت کی بھی حفاظت کی سخت ٖضرورت ہے مگر صرف صورت ہی پر قناعت مت کرو اس کی بھی کو شش کرو کہ رو ح
پیدا ہوا اگر آپ کسی پر عاشق ہوجائیں تو کیا آپ یہ پسند کریں گے کہ محبوب
کے آنکھ نہ ہو کان نہ ہوں ناک نہ ہو یا یہ سب ہوں مگر محبوب میں روح نہ ہو اس وقت تو اس کی طرح رخ کرتے کو بھی جی نہ چاہے گا اور اس کے پاس
کھڑے ہونے کو بھی پسند نہ کر وگے خلاصہ یہ ہے کہ ظاہر اور باطن دونوں
کے اہتمام کی ضرورت ہے نہ ظاہر بدون باطن کے ٹھیک اور نہ باطن بدون ظاہر ک ٹھیک اس جسد بلا روح کے غیر محبوب ہونے پر استطر اد و تفریعا ایک اور
مضمون یاد آگیا کہ محبوباب مجازی کا اخیر انجام یہی جسد بلا ورح ہے تو اس حالت کا استحضار کر کے ان سے محبت کا تعلق قطع کردینا چاہئے اسی کو مولانا فرماتے ہیں
عاشق بامرد گان پابند نیست زان کہ مردہ سوی مائندہ نیست
عشق بامردہ نہ باشد بائدار عشق را باجی باقیوم دار
عشق ہائے کزپئے رنگے بود عشق نبود عاقبت ننگے بود
( مردوں کے ساتھ عاشقی پائدار نہیں ہے کیونکہ مردہ ہماری طرف ( لوٹ کر ) آنے والانہیں ( جب عشق مردوں کے ساتھ پائدار نہیں ہے توحی وقیوم کے ساتھ عشق کرو کیونکہ جو عشق رنگ و روغن کی وجہ سے ہوتا ہے وہ عشق
نہیں ہوتا (اس کا نتیجہ ) آخرکار شرمندگی ہوتی ہے اس کے عشق میں غرق ہوجاؤ جس کے عشق میں اولین و ٖآخرین سب غرق ہیں )
آگے اس کی ضد پر ضد کی تفریح اور محبت اصلی محل فرماتے ہیں
غرق کیشقے شوکہ غرقست اندریں عشق ہائے اولین و آخریں
اب یہ سوال ہوتا ہے کہ یہاں پر تو عاشق اس لئے ہوتے ہیں کہ محبوب تک رسائی کی امید ہے وہاں ہماری رسائی کہاں مولانا اس شبہ کا جواب فرماتے ہیں
تو مگو مارا بدں شہ باز نیست باکریماں کارہا د شوار نیست
اس مصر عہ ثانیہ میں شبہ کی جڑ قطع کردی یعنی بے شک ہماری کوشش سے رسائی مشکل ہے لیکن وہاں تو ان کے کرم سے رسائی ہوتی ہے اور کریم کو کچھ مشکل نہیں وہ اپنے کرم سے خود ہی سب کچھ کردیتے ہیں مگر شرط یہ ہے کہ طلب کو ضرور دیکھتے ہیں ورنہ بدون طلب کے یہ فرماتے ہیں
انلزمکموھا وانتم لھا کارھون خواہ طلب ضعیف ہی ہو اٹھ کر چلو تو سہی آگے
وہ سب کچھ کر لیں گے صورت تو بناو روح بھی خود ہی پھونک دیں گے آج کل تو چاہتے یہ ہیں کہ تعویزوں گنڈوں سے یا کسی کے تصرف سے کام چل
جائے خود کچھ نہ کرنا پڑے اگر یہ ہے تو پھر روٹی سامنے رکھ کر بھی بیٹھے
رہا کر و خوبخود منہ میں جاکر حلق کے نیچے اتر جایا کرے گی کیا بیہودگی ہے
اگر آدمی کو خود عقل نہ ہو فہم نہ ہو تو دوسرے کا اتباع توکرے جووہ تعلیم کرے اس پرعامل ہو اب تو حالت یہ ہے کہ اول تو اس راہ کی طرف آتے ہی نہیں اور اگر آئے بھی تو یا تو طریق میں غلطی کرتے ہیں جیسا ابھی بیان ہوا
یا ثمرات میں غلطی کرتے ہیں یعنی یہ چاہتے ہیں کہ کشفیات ہوں لذات ہوں
کچھ نظر آنے لگے سو ایسی توجہ کی توہ وہ حالت ہوئی ہے
اگر غفلت سے بازآیا جفا کی تلافی کی ظالم نے تو کیا کی
غرض کہ اعتدال نہیں افراط و تفریط سے ایک عالم کاعالم بھرا پڑا ہے اس حالت میں اگر کوئی طبیب شفیق چاہتا بھی ہے کہ ان کے گلے سے نیچے کچھ
زبرد ستی ہی پہنچا دیا جائے تو اس پر جبڑا بند کرکے دانت پیستے ہیں اور ادنی چرکہ کی بھی برداشت نہیں اسی کو مولانا رومی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں
گر بہر زخمے تو پر کینہ شوی پس کجا بے صیقل آئینہ شوی
( اگر برزخم سے تم کو گواری ہو تو آئینہ کی طرح تم کس طرح صاف شفاف ہوسکتے ہو ۔ 12)
4/ ربیع الاول 1351 ھ مجلس خاص بوقت صبح یوم یکشنبہ

(ملفوظ 37)اہل بدعت کا غلط طریق :

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ یہ اہل بدعت ہمشہ اہل حق کے پیچھے پڑے رہتے ہیں اور یونہی اڑنگ بڑنگ ہانکتے رہتے ہیں ایک سب انسپکڑ میرے ایک عظ میں شریک تھے وعظ کے بعد انہوں نے مجھ سے گیارہویں کے متعلق سوال کیا کہ بدعت ہے
کہنے لگے آپ اس کو بدعت کہتے ہیں اور فلاں مولوی صاحب اس کو اچھا بتلاتے ہیں تو ہم کیا کریں میں نے کہا جیسے ہم سے یہ سوال کیا جاتا ہے کبھی
ان سے بھی تو یہ سوال کیا ہوتا کہ تم اچھا کہتے ہو اور فلاں اس بدعت کہتے ہیں ہم کیا کرین اس سے معلوم ہوتا ہے کہ دل میں کرنے کی خود ہے اور دوسروں کو آڑ بناتے ہو پھر کچھ نہیں بولے ۔