(ملفوظ 36)سوءادب سے بچنا ضروری ہے :

ایک صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ ایسی خشکی بھی نہیں چاہئے کہ جس سے سوء ادب لازم آئے جیسا کہ ایک نجدی کا واقعہ ہے کسی مجوز توسل سے کہا کہ تم رسول اللہ ﷺ کا واسطہ دیتے ہو اس کا کوئی بھی اثر نہیں اور اس کے بعد یہ کیا کہ اونٹ بیٹھا تھا اس سے خطاب کیا کہ میں تجھ کو رسول اللہ ﷺ کا واسطہ دیتا ہوں تو کھڑا ہوجا وہ نہیں کھڑا ہو ا پھر ایک ڈنڈا مارا کھڑا ہوگیا کہنے لگا یہ ڈنڈا موثر ہے جناب رسول اللہ کے توسل سے دیکھیے کہ کیسا برا عنوان ہے اس مجوز نے جواب میں یہ کیا کہ ایک بیٹھے ہوئے اونٹ سے کہا کہ میں تجھ کوخدا تعالی کا واسطہ دیتاہوں کھڑاہوجا وہ نہیں کھڑا ہو ا پھر ایک ڈنڈا مارا توکھڑا ہوگیا اورکہا کہ کیا ڈنڈا اللہ تعالی کے واسطہ سے بھی زیادہ موثر ہے افراط وتفریط دونوں ممنوع ہیں یہ باتیں جہل کی بدولت ہوتی ہیں جہل بہت ہی بری چیز ہے یہ کہیں سے کہیں پہنچا دیتا ہے کانپور کا واقعہ ہےکہ میرے پاس دو شخص آئے ایک مولوی صاحب اور ایک عامی باہمی جھگڑا یہ تھا کہ مولوی صاحب تو یہ کہتے تھے کہ حضرت غوث پاک رحمتہ اللہ علیہ شاہ عند القادر جلانی کو قطعی جنتی نہیں سمجھنا چاہئے اور وہ جاہل یہ کہتا تھا کہ جب وہ جنتی نہیں تو اور کون جنتی ہوگا میں نے مولوی صاحب سے کہا کہ عام لوگوں سے ایسے واقعات میں گفتگو کرنا ہی مناسب نہیں یہ لوگ خالی الذہن ہوتے ہیں ان کا سمجھانا مشکل ہے بخلاف اہل علم کے کہ ان کے ذہن میں مبادی ہوتے ہیں ان کا سمجھا دینا آسان ہے اور میں نے اس عامی شخص سے کہا کہ واقعہ اگر وہ جنتی نہ ہوں گے تو اور کون ہوگا اس میرے کہنے پرمولوی صاحب کو پریشانی پید ا ہوئی اور سوچنے لگے کہ کیا دلیل بیان ہوگی جنتی ہونے کی پھر میں نے اس شخص سے دریافت کیا کہ پہلے یہ بتلاو کہ سیدنا حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ
بھی جنتی ہیں یا نہیں اس نے کہا ہقیقنا جنتی ہیں میں نے دریافت کیا کہ سیدنا حضرت صدیق رضی اللہ عنہ کا جنتی ہونا کیسے ثابت ہو ا کہا کہ حضور ﷺ
کے فرمانے سے پھر میں نے دریافت کیا کہ حضرت غوث پاک رحمتہ اللہ علہ کا جنتی ہونا کیسے ثابت ہوا کہا کہ اولیا ء امت کی شہادت سے میں نے دریافت کیا کہ حضورﷺ کے اور اولیا ء کے ارشاد میں کچھ فرق سمجھتے ہو یا نہیں کہ زمین آسمان کا فرق ہے میں نے دریافت کیاکہ جب حضورﷺ کے اولیاء کے
دونوں کے ارشاد میں فرق سمجھتے ہو تو ان کے اثر میں بھی فرق سمجھتے ہو کہا کہ ضرور میں نے دریافت کیا تو پھر سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ
کے اور حضرت غوث پاک کے جنتی ہونے میں بھی وہی فرق سمجھتے ہوگے کہا کہ ہاں تب میں نے مولوی صاحب سے کہا کہ لیجئے حضرت جو عقیدہ
آپ کا ہے وہی اس شخص کا ہے فرق دونوں میں صرف عنوان کا ہے یہ جس کو یقین کہتا ہے آپ اس کو غلبہ ظن کہتے ہیں مگر بات ایک ہی ہے اس پر مولوی صاحب بہت خوش ہوئے میں نے کہا کہ مولوی صاحب عوام الناس کو
بلا ضرورت اور بلاوجہ پریشان کرنا اور متوحش بنانا اور بدون دلیل کے ان پر گمانی کرنا اور سوءظن کرنا جائز نہیں دیکھیئے اٖصل مقصد میں دونوں متفق تھے اس لئے کہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے جنتی ہونے سے
حضرت غوث پاک رحمتہ اللہ علیہ کے جنتی ہونیکا درجہ کم سمجھتا تھا اسی فرق کا نام عدم قطعیت ہے جس پر مولوی صاحب اس سے الجھ رہے تھے حدود کے نہ سمجھنے سے اس قسم کی تشویشات پیدا ہوتی ہیں ۔

( ملفوظ 35)خلوص میں دوستوں سے باتیں کرنا بھی عبادت ہے

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ اگر خلوص ہوتو دوستوں سے ملنا ان سے باتیں کرنا بھی عبادت ہے حضرت حاجی صاحب کا یہ مزاق تھا فرمایا کرتے تھے کہ دوستوں سے باتیں کرنا بھی عبادت ہے مگر شرط یہی ہے کہ خلوص ہو اور نیت اچھی پر ایک حکایت یاد آئی دو بزرگ تھے درمیان میں دونوں میں کے دریا حائل تھا ایک بزرگ کے پاس کھانے کو نہ تھا دوسرے بزرگ کو مکشوف ہوا اپنی بیوی نے کہا کہ درمیان میں دریا حائل ہے کیسے
جاؤں فرمایا کہ یہ کہنا کہ بہ برکت فلاں شخص کی ( یہ اپنی طرف اشارہ تھا )
جس نے چالیس سال سے اپنی بیوی سے ہمبستری نہیں کی راستہ مل جائے بیوی کو بڑا تعجب ہو ا کہ جھوٹ کی بھی کوئی حد ہے ہر وقت تو سینے پر سوار رہتا ہے مگر ان کے کہنے سے یہی کہہ دیا پایاب ہوگیا کھانا پہنچا دیا ان بزرگ نے اس کے سامنے ہی کھالیا واپسی کے وقت اس دریا کے حائل ہونے کا اشکال کیا انہوں نے دعا ء سکھلائی کہ بہ برکت اس شخص کے ( یہ اشارہ تھا اپنی طرف ) جس نے چالیس سال سے کھانا نہیں کھایا راستہ مل جائے اس پر مکرر تعجب ہوا کہ میرے سامنے کھانا کھایا اتنا جھوٹ کہنے سے پھرراستہ مل گیا اپنے شوہر سے یہ اشکال پیش کیا انہوں نے فرمایا کہ مطلب اس کا یہ تھا کہ ہمبستری اور تناول طعام امر کے تحت تھا خظ نفس کے لئے نہ تھا اسی کو مولانا فرماتے ہیں
کار پاکان را قیاس از خود مگیر گرچہ باشد در نوشتن شیر وشیر
اس خلوص پر ایک مناظرہ یاد آیا ایک مرتبہ مولوی تراب صاحب لکھنوی اور مفتی سعداللہ صاحب رامپوری میں گفتگو ہوئی مولوی تراب صاحب مولود متعارف کے حامی تھے اور مفتی صاحب مانع تراب صاحب نے مفتی صاحب سے کہا کہ کیوں صاحب ابھی تک آپ کا انکار چلا ہی جاتا ہے مفتی صاحب نے کہا کہ ابھی تک آپ کا اصرار چلاہی جاتا ہے مولوی تراب صاحب نے کہا واللہ ہمارے اس فعل کا منشا بجز محبت رسول ﷺ کے اور کچھ نہیں سعداللہ صاحب نے کہا واللہ ہمارے منع کا منشابجز متابعت رسول ﷺ کے اور کچھ نہیں مولوی تراب صاحب نے کہا الحمدللہ ہم تم دونوں ناجی ہیں یہ رنگ تھا اہل اخلاص کے مناظرہ کا ۔

( ملفوظ 34)انسان کو کبھی ناز نہیں کرنا چاہئے :

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ انسان کو کبھی ناز نہیں کرنا چاہئے ہمیشہ نیاز پیدا کرنے کی سعی میں لگا رہنا چاہئے اسی میں خیر ہے جہاں آگے بڑھا فورا ٹپک دیا جاتا ہے اسی
ناز کی بدولت ہزاروں لاکھوں کے زہد اور تقوے برباد کردیئے گئے پیر صاحب کو اس پر ناز نہیں ہونا چاہئے کہ میں ہی مریدوں کا ذریعہ نجات ہو ں بلکہ کبھی مرید پیر کے لئے ذریعہ نجات ہوجاتے ہیں جیسے باپ کبھی محتاج ہوتا ہے بیٹے کا کہ بھائی لاٹھی پکڑ لو اور کبھی بیٹھے کو باپ کی حاجت ہوتی ہے اسی طرح اگر مرید پر رحمت ہوگی پیر کو ہمراہ لے لے گا اور اگر پیر پر رحمت ہوگی مرید کو ہمراہ لےلے گا اسی بناء پر حضرت حاجی صاحب رحمتہ اللہ علیہ فرمایا کرتے تھے کہ ہم تو اس نیت سے مرید کر لیتے ہیں کہ اگر اپنے تعلق والے پر رحمت ہوگئی تو ہم بھی اس کے ساتھ ہوجائیں گے واقعہ یہ حضرات اپنے کو مٹائے ہوتے ہیں ۔

(ملفوظ 33)کہاں تک سب کو خوش رکھا جاسکتا ہے ۔

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ کہاں تک سب کو خوش رکھا جاسکتا ہے تحریک خلافت کے زمانہ میں لوگ چاہتے تھے کہ جس طرح ہم بے قاعدہ اور بے اصولے چل رہے ہیں نہ شریعت کے حدود کا تحفظ نہ احکام کی پرواہ اسی طرح یہ بھی شرکت کرلے میں نے کہا کہ اگر تمہاری موافقت کی جائے تو ایمان جائے اس لیے کہ اس میں شریعت کا تحفظ نہیں اور اگر مخالفت کی جائے تو جان جائے اس لیے کہ مقاومت کی قوت نہیں اور ایمان اور جان دونوں چیزیں ایسی سستی نہیں ہیں کہ ان دونوں کو خطر ہ میں ڈالوں بے موقع اور بے محل جان کا صرف کرنا بھی جائز نہیں حرام ہے جان خدا کی راہ میں
دینے سے انکار نہیں مگر اصول اور قاعدہ کے ساتھ تو ہو ا اگر اصول اور قاعدہ کے موافق ہوتو ایک ایسی ایک جان کیا کروڑوں جانیں قربان ہیں اور بے ڈھنگے پن سے تو اس کا خیال کرنا بھی میں جرم خیال کرتا ہوں اس لئے کہ خیال بھی تو ان ہی کی دولت اور نعمت ہے اس کو بھی فضول اور عبث میں صرف کرنا باعث مواخذاہ ہے ۔

( ملفوظ 32) پرانی باتوں میں نور اور برکت ہے :

ایک صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ لوگ کہتے ہیں کہ پرانی باتوں کو چھوڑ دینا چاہئے اب زمانہ ترقی کررہا ہے نئی باتیں اختیار
کرنا چاہئے صاحب پرانی باتوں میں نور ہے برکت ہے اور پرانی توز میں بھی آسمان بھی ہے ان کو بھی چھودو اور خود اپنا وجود بھی تو پرانا ہوگیا اس کو بھی چھوڑ دو کیا لغوی باتیں ہیں کام کی چیز تو پرانی ہوکر ایسی ہوجاتی ہے جس
کو مولانا فرماتے ہیں
خود قوی ترمی شود خمر کہن خاصہ آں خمرے کہ باشد من لدن
( جس کے پاس عشق آگیا اس کی عقل پراگندہ ہوگئی جب صبح آجاتی ہے تو شمع روشنی پھیلا نے میں مجبور ہو جاتی ہے عقل مثل کو توال کے ہے جس سلطان عشق آگیا تو بیچارہ عقل کوتوال کو نہ میں دبک جاتا ہے ۔ 12)

(ملفوظ 31)بدفہمی اور بد سلیقگی سے تکلیف :

فرمایا کہ ایک صاحب کا خط آیا لکھا ہے کہ میں مرض د ق میں مبتلا ہوں طب یونانی کا علاج تو کرالیا کچھ فائدہ نہ ہو ا اب طب ایمانی کی طرف رجوع کرتا ہوں فرمایا کہ یہ سمجھتے ہوں گے کہ میں نے بڑی ذہانت کا کام کیا مگر طب ایمانی کی طرف رجوع کرتا ہوں فرمایا کہ یہ سمجھتے ہوں کہ میں نے بڑی ذہانت کا کام کیا مگر طب ایمانی اور بخار کا کیا جوڑ میں نے لکھا ہے کہ یہ بھی خبر ہے کہ طب ایمانی میں کس کس چیز کا علاج لکھا ہے اس
فرمایا کہ ذہانت سے کام نہیں چلتا پھر ذہانت بھی ٹیڑھی جس چیز سے کام چلتا ہے وہ اور ہی چیز ہے جس کو فرماتے ہیں
فہم و خاطر تیز کر دن نیست راہ جز شکستہ می نگیر و فضل شاہ
سلیقہ اور تمیز بھی تو کوئی چیز ہے بدتمیزی سے بہت تکلیف ہوتی ہے اور یہ
بھی بدتمیزی ہی ہے کہ دین کو ذریعہ بنایا جائے دنیا کا اللہ بچائے بدفہمی اور بد سلیقگی سے ۔

(ملفوظ 30 )مرض جاہ طلبی و مال طلبی :

فرمایا کہ ایک صاحب کا خط آیا ہے دعا کے لیے لکھا ہے کہ ڈسڑکٹ بورڈ کے محکمہ کا چیئرمین کلکڑ ہوجائے جیسے پہلے تھا اور اس کی وجہ یہ لکھی ہے کہ کوئی انتظام نہیں سخت پریشانی ہے
تنخواہ وقت پر تو کیا کئ کئ ماہ تک نہیں ملتی اس پر فرمایا کہ یہ لوگ حکومت کے اہل ہی نہیں سوراج سو راج گاتے پھرتے ہیں اور اس سے بھی اکثر کا مقصود حکومت نہیں بلکہ روپیہ گھسیٹنا مقصود ہے چنانچہ کتنی ہی بڑی معقول تنخواہ کی جگہ ہو اور رشوت نہ ہو اس کو قبول نہیں کرتے ہاں تنخواہ چاہے کم ہو مگر رشوت ملتی ہو اس کو قبول کرلیں گے چرتھا ول ایک قصبہ ہے وہاں پر ایک تقریب میں عورتوں کا مجمع تھا ایک نے دوسرے سے پوچھا کہ تمہارے میاں کی کیا تنخواہ ہے تنخواہ تھی کم بتلاتے ہوئے شرم معلوم ہوئی جواب میں کہتی ہے کہ تنخواہ تو تھوڑی ہے مگر ماشاءاللہ بالائی آمدنی بہت ہے حرام کمائی پر ماشاءاللہ یہ حالت ہورہی ہے جاہ طلبی اور مال طلبی کا مرض عام ہورہا ہے حرام کھانے پر کمر باندھ رکھی ہے یہ کیا حکومت کرسکتے ہیں اور کیا ایسوں کو حکومت مل سکتی ہے جن سے گھروں کا انتظام نہیں ہوسکتا ملک کا کیا خاک انتظام کریں گے ایسے ہی خود غرض جمع ہورہے ہیں اور ملک کو تباہ اور برباد کرنے پر کمر بستہ ہیں کسی نے خوب کہا ہے
گربہ میروسگ وزیرو موش راد یوان کنندایں چنیں ارکان دولت ملک راویران کنند
ان میں بعض مخلصیں بھی ہیں مگر بہت کم ۔

(ملفوظ 29 ) عقیدہ میں خلو :

فرمایا کہ ایک صاحب کا خط آیا ہے لکھا ہے کہ میں آنکھوں کا مریض ہوں مولانا فضل الرحمن صاحب کے مرید نے کہا ہے کہ مولانا کے قبر کی مٹی بجائے سرمہ کے آنکھوں میں ڈلوا میں نے لکھ دیا کہ کہیں رہی سہی بینائی بھی نہ جاتی رہے اس پر فرمایا کہ لوگوں میں کس قدر غلو ہے ۔

(ملفوظ 28)ایک منصنف کی غیر منصفی :

فرمایا کہ ایک صاحب کا خط آیا ہے تین تعویذوں کو لکھا ہے نہ معلوم بیگاری ٹٹو سمجھتے ہیں میں نے لکھ دیا کہ ایک لفافہ میں ایک تعویذمنگاؤ اسی طرح ایک منصف ٖٖصاحب کا خط آیا تھا بات لکھی تھی غیر منصفی کی طاعون کا زمانہ تھا ایک دم چھ تعویذ منگائے تھے میں نے ایک تعویذ
لکھ کر بھیج دیا کہ آپ کی کسی سے نقل کروالیں ۔

(ملفوظ 27) نجدیوں سے متعلق ارشاد :

ایک صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ نجدی عقائد کےمعاملہ میں اچھے ہیں مگر عمل میں کچھ بودے معلوم ہوتے ہیں نرے نجدی ہیں اگر تھوڑی سے وجدی بھی ہوتے تو اچھا ہوتا ایک مولوی صاحب کہتے تھے کہ ابن سعود کے یہاں دعوت تھی دعوت میں کھانے پرتصویریں تھیں ان مولوی صاحب نے اپنے ایک شریک دعوت عالم پوچھا کہ یہ کیوں رکھی گئیں تو ایک مہمل جواب دیا ھذا الکسر انہوں نے کہا کہ کھانے سے پہلے کیوں نہیں توڑ دیا گیا جب لائے تھے تو وہ کان ہی پر ہی کیوں نہیں توڑدیا گیا کیا اس سے پہلے توڑنا جائز نہ تھا بعض بات ایسی ہوتی ہے کہ آدمی کو اپنی حماقت پر شرمندہ ہونا پڑتا ہے یہاں کے ایک قریب کے قصبہ کا ذکر ہے ایک شیعی رئیس اور ایک سنی میں گفتگو ہوئی جبہ والے جو یہاں پرآتے ہیں ان کے پاس قرآن شریف ہے اس قرآن پاک کو ان لوگوں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کی طرف منسوب کررکھا ہے کہ یہ حضرت علی کے ہاتھ کا لکھاہوا ہے وہ شیعی صاحب اس قرآن پاک کو باربار چومتے چاٹتے تھے اور جبہ کی طرف زیادہ التفا ت نہ کرتے تھے ان سنی صاحب نے کہا کہ آپ کویقین ہے کہ یہ حضرت امیر کے دست مبارک کا لکھا ہو اہے کہنے لگے اس میں شک کیا ہے اس وقت کثیر مجمع تھا جب صاحب کئی مرتبہ اقرارکرچکے تو ان سنی نے کہا کہ آج شیعیت اور سنیت کا فیصلہ ہے جب یہ قرآن جیسا ہے یا شیعوں کے قرآن جیسا ہے کیونکہ تم کہتے ہو کہ اس کو گھٹا بڑھادیا گیا ہے یہ سن کر شیعی صاحب کا منہ ذرا سا نکل آیا اور کوئی جواب نہ بن پڑا ۔