(ملفوظ 26)چو کفر از کعبہ برخیزد

ایک صاحب نےعرض کیا کہ حضرت مکہ معظمہ اور مدینہ منورہ میں بھی انگریزی مدارس کھل گئے فرمایا کہ جہاں برہمن وہیں قصائی سنا کرتے تھے کہ چو کفراز کعبہ بر خیز و کجا ماند مسلمانی وہی ہوگیا ۔

(ملفوظ 25)دین کے لئے ایک بڑا فتنہ

ایک صاحب نے عرض کیا کہ بعض حضرات قوت خیالیہ سے مرض کو سلب کرلیتے ہیں فرمایا کہ یہ ایک مستقل فن ہے مگر اس میں خرابی یہ ہے کہ لوگ ایسے شخص کو بزرگ سمجھنے لگتے ہیں اور اگر یہ عامل عامی شخص ہے اور غیر محقق ہے تو یہ بھی اپنے کو بزرگ سمجھ بیٹھتا ہے اس میں دین کے لئے بڑا فتنہ ہے اور آج کل ان ہی وجوہ سے گمراہی کا دروازہ کھلا ہے ان اطراف میں تو بحمداللہ بہت ہی امن ہے ادھر ادھر جا کر دیکھیے بڑے بڑے راہ زن جاہل بددین مخلوق خدا کو گمراہ کر رہے ہیں یہاں پرتو پھر اپنے بزرگوں کا اثر ہے گو ہمارے قصبات میں عمل آوارگی ہے مگر بددینی نہیں عقائد صحیح ہیں اس میں اپنے بزرگوں سے متبع ہیں ۔

(ملفوظ 24)تعویز میں کس کا اثر زیادہ ہوتا ہے :

ایک صاحب نے سوال کیا کہ حضرت تعویز میں الفاظ کا اثر ہوتا ہے یا حامل کے خیال کا فرمایا کہ دونوں کا تھوڑا تھوڑا اثر ہوسکتا ہے اصل قاعدہ کی رو سے دونوں ہی چیزیں موثر ہیں مولوی غوث علی صاحب پانی پتی ایک بار سماع میں موجود تھے حالت وجد میں تھے یہ پڑھا جارہا تھا کہ ایسا ٹونا کردے ایسا ٹونا کردے اسی حالت وجد میں ایک عورت نے آکر خاوند کی شکایت کی اپنے خادم سے فرمایا کہ تعویز میں یہ لکھ دو کہ ایسا ٹونا کردے ایسا ٹونا لکھ دیا گیا کا م ہوگیا
حضرت سید احمد صاحب تعویز میں صرف یہ لکھا کرتے تھے خداوند اگر منظور داری حاجتش را براری جس کام کو دیتے پورا ہوجاتا ۔

( ملفوظ 23)سلوک تعویز سے طے ہوتا :

ایک صاحب نے عرض کیا کہ حضرت میں جس وقت تھا نہ بھون آنے کے ارادہ سے چلا تو ایک جج صاحب جو ذاکر شاغل ہیں مجھ سے کہنے لگے آپ وہاں جارہے ہیں
واپس میں ایک تعویذ حضرات سے لیتے آیئے گا جس سے اللہ کی محبت پیدا ہو اور سلوک ہو جائے فرمایا کہ نا واقفیت کی بات ہے اتنی معلوم ہو ا کہ طلب ہے مگر نا واقف ہیں اگر تعویز سے سلوک طے ہو ا کرتا تو ان مجاہدات اور ریاضات کی کیا ضرورت تھی اور اس ناواقفی میں ان عوام بیچاروں کا کوئی قصور نہیں اس راہ میں راہزن اس قدر پیدا ہوگئے کہ حقائق پر پردہ پڑ گیا ان دکاندارو ں کی بدولت حقیقت طریق گم ہوگئی مگر بحمداللہ اب مدتوں کے بعد پھر وضوع کا ہو ا اور حقیقت کا انکشاف ہو ا۔

(ملفوظ 22)حضرت سیدھا صاحب کو راہ نبوت سے سلوک طے کرانا :

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ یہ حضرات کیسے مخلص تھے ان کی ہربات میں خلوص اور نور معلوم ہوتاہے حضرت سید صاحب کو حضرت شاہ عبدالعزیز صاحب نے تصور شیخ کا حکم دیا عرض کیا کہ حضرت اس سے معاف فرما ویں کیوں کہ اس شرکت کا شائبہ ہے حضرت شاہ صاحب نے یہ شعر پڑھا
سجے سجادہ رنگین کن گرت پیر مغاں گوید کہ سالک بے خبر نبودز راہ رسم منزلہا ( اگر شیخ کامل کوئی حکم ایسا دے جو بظاہر خلاف طریقت ہوتب بھی اس پر عمل کر لیجیو کیوں کہ جوراستہ کو طے کرچکا ہے وہ اس راستہ کے نشیب و فراز سے واقف ہوتا ہے )
سید صاحب نے عرض کیا کہ اگر اس شعر میں تاویل نہ کی جائے تو اس میں معصیت کا ذکر ہے سو کسی معصیت کا حکم فرمادیجئے میں کرنے کو تیار ہوں مگر شرک سے معاف فرمایئے حضرت شاہ صاحب نے اٹھ کر سینے سے لگایا اور فرمایا کہ ایسا ہی ہونا چاہئے میں یہ چاہتا ہوں کہ راہ ولایت سے سلوک طے کراؤں مگر اب راہ نبوت سے کراوں گا تمہارا مزاج اور قسم کا ہے غرض کہ تیرہ دن میں سلوک طے کرادیا اور یہ تو الوان کا اختلاف ہے باقی اصل چیز عشق ومحبت ہے خواہ محبت عقلی ہو یا طبعی ہو آگے اس میں گفتگو ہے کہ ان میں افضل کو ن ہے مگر واقع بات یہ ہے کہ جس کو جو عطا ہوجائے اس کے لئے وہی افضل ہے یہ محبت ہی کا کرشمہ ہے کہ سوائے محبوب کے سب کو فنا کر دیتی ہے اسی کو مولانا رومی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں
عشق آں شعلہ است کو چوں برفروخت ہرکہ جز معشوق باقی جملہ سوخت
عشق کی آتش ہے ایسی بدبلا دے سوائے معشوق کے سب کو جلا
دیکھیئے جب ایک ناچیز مخلوق لیلیٰ کے عشق میں مجنوں کی حالت ہوئی جو مشہور ہے تو کیا مولا کا عشق اس سے کم ہے اسی کو مولانا فرماتے ہیں
عشق مولا کے کم از لیلی بود گوئے گشتن بہر او اولی بود

(ملفوظ 21) حضرت مولانا خلیل احمد صاحب کی نرالی شان :

ایک صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ جی ہاں حضرت مولانا خلیل احمد صاحب رحمتہ اللہ علیہ کی نرالی شان تھی چہرہ سے انوار برستے تھے ایک مرتبہ میری نسبت فرمایا تھا ایک مولوی صاحب نے مجھ سے یہ روایت بیان کی تھی کہ مجھ کو اشرف علی سے اس وقت سے محبت ہے کہ وہ مجھے جانتا بھی نہ تھا میں نے سن کر کہا کہ اورمیرے پاس ہے ہی کیا چیز سوائے اہل اللہ کی محبت کے یہی ایک چیز میرے پاس ہے ۔

(ملفوظ 20)اصل مقصود پر بے توجہی سے اظہار افسوس :

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ آج کل تحقیقات اور فلسفیات کو مقصود بنارکھا ہے اور اصل مقصود کی طرف سے بے توجہی ہے سو ان فلسفیات میں کیا رکھا ہے ایک نحوی کشتی میں سوار ہوئے نحودانی کا جوش اٹھا ملاح سے دریافت کیا کہ میاں تم نے نحو پڑھی اس نے کہا نہیں آپ بولے کہ افسوس تم نے اپنی آدھی عمر یونہی برباد کی جب کشتی چل تو بیچ دریا پہنچ کر اتفاق سے گرداب میں آگئی اس ملاح نے دریافت کیا کہ میاں تیرنا بھی سیکھا ہے کہا کہ نہیں اس نے کہا کہ تم نے اپنی ساری عمریونہی کھوئی کشتی گرداب میں ہے اس کے ساتھ تم بھی ڈوبو گے اور میں تیرنا جانتا ہوں تیر کر نکل جاوں گا تو صاحب یہاں پر نحو سے کام نہ چلے گا محو کی ضرورت ہے جیسے اگر کوئی محاسب اعلی درجہ کا ہوتو دریا میں محاسبی کیا کام دے سکتی ہے وہاں تو غواصی (غوطہ لگانا جاننے ) کی ضرورت ہے اور محو سے مراد یہ ہے کہ اپنے کو اہل اللہ کے سپرد کرو اپنی رائے اور تحقیقات کو اٹھا کر طاق میں رکھو اس راہ میں اس سے کامیابی مشکل ہے یہ فن ہی دوسرا ہے اس میں تو دوسرے ہی کے اتباع کی ضرورت ہے اس کی تقلید کرنا پڑے گی یعنی شیخ کامل کی اسی کو مولانا رومی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں
قال راہگزار مرد حال شو پیش مرد کاملے پامال شو
واقع یہ طریق نازک ہے اس میں قدم بدون راہبر کے رکھنا خطرہ سے خالی نہیں ۔

( ملفوط19)آنے والوں کیلئے ہدایات :

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ یہاں آنے والوں اور رہنے والوں اور جو مجھ سے تعلق رکھنے والے ہیں ان سب سے یہ چاہتا ہوں کہ میری آزادی میں خلل نہ ڈالیں اورحدود شریعت سے تجاوز نہ کریں عمل کا التزام رکھیں ہدیہ کی پابندی نہ کریں اس سے مجھ پر گرانی ہوتی ہے پھر خدا کی ذات سے امید رکھتا ہوں کہ ان شاء اللہ تعالی محرومی نہ ہوگی۔

(ملفوظ 18)اصل نظر بزرگوں کے طریق پررہتی ہے :

ایک مولوی صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ میں جو کتاب دیکھتا ہوں تو بوجہ غیر محقق ہونے کے اصل نظر اپنے بزرگوں کے طریق پر رہتی ہے اور فن کو اس کے تابع کرتا ہوں اور وہ حضرات بوجہ محقق ہونے کے کتابوں کو اصل سمجھتے تھے اوراس پر بزرگوں کے طریق کو منطبق کرتے تھے ۔

(ملفوظ 17)سوء ظن کے لئے دلیل کی ضرورت ہے :

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ سوء ظن کے لئے دلیل کی ضرورت ہے حسن ظن کے لیے دلیل کی ضرورت نہیں الحمد اللہ سوء ظن تو میرے اندر قریب قریب باپید کے ہے اور حسن ظن بڑے درجہ تک بڑا ھا ہو اہے اسی کے تحت میں میرا ایک یہ بھی معمول ہے کہ میں کسی کی روایت پر عمل نہیں کرتا جب تک کہ صاحب واقعہ سے تحقیق نہ کرلوں اس باب میں آج کل لوگ بہت کم احتیاط سے کام لیتے ہیں ۔