ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ آج کل جاہلوں نے بزرگان دین کے مزارات پر نہایت ہی خرافات برپا کررکھی ہیں کھلم کھلا شرک وبدعت کرتے ہیں اور منع کرنے والوں کو بزرگوں کا مخالف اور نہ ماننے والا بتلاتے ہیں اجمیرہی میں دیکھ لیجئے کیسے کیسے بزرگ ہیں حضرت خواجہ معین الدین رحمتہ اللہ علیہ جیسی ہستی جنہوں نے تمام عمر توحید اور اسلام کی خدمت اور کفار سے معاملہ میں گزار دی اب ان سے عقیدت رکھنے والے اور محبت کا دعوی کرنے والے شرک وبدعت میں مبتلا ہیں یہ متبعین اور معتقدین ہیں مقام عبرت کو تماشا گاہ اور فسق فجور کا مرکز بنا رکھا ہے خوف خدا تو ان لوگوں کے قلوب میں رہا نہیں حالات سن سن کر نہایت ہی قلب دکھتا ہے یہ بدفہم بزرگوں کو بھی بدنام کرتے ہیں عوام کی تو شکایت ہی کیا جو لکھے پڑھے کہلاتے ہیں ان کو ان خرافات اور شرکیات وبدعات میں ابتلاء ہورہا ہے اناللہ وانا الیہ رجعون ۔
(ملفوظ 5)طالب کے فہم کا اندازہ لگانا:
فرمایا کہ ایک صاحب کا خط آیا ہے لکھا ہے کہ میں بیعت ہوکر باطنی اصلاح چاہتا ہوں میں نے لکھا کہ وہ باطنی اصلاح کیا چیز ہے اور کیا وہ بیعت پر موقوف ہے اس پر فرمایا کہ دیکھئے کیا جواب آتا ہے اس سے اس کے فہم کا اندازہ بھی ہوجائے گا اور طلب صادق کی حقیقت بھی منکشف ہوجائے گی میں تو پہلے ہی خط سے اصلاح کا کام شروع کردیتا ہوں اگر فہم ہوگا تو سمجھ جائیں گے اور بدفہمی کا کوئی علاج نہیں ۔
(ملفوظ 4)حق تعالی شانہ سے تعلق بڑھانے کی برکت :
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ جتنا تعلق حق تعالی سے بڑھتا جاتا ہے اتنا ہی مخلوق سے طمع اورخوف گھٹتا رہتا ہے اس کی یہ حالت ہوجاتی ہے جس کو فرماتے ہیں ۤ
موحد چہ برپائے ریزی زرش چہ فولاد ہندہ نہی برسرش
امید وہراسش بنا شدزکس ہمیں است بنیاد توحید وبس
( موحد کے پیروں میں لالچ دلانے کے لئے سونا ڈالدو ( یا ڈرانے کے لئے تلوار اس کے سر پر رکھ دو اس کو نہ کسی سے لالچ ہوتی نہ خوف ہوتا ہے یہی توحید کی بنیاد ہوتی ہے کہ بغیر حق تعالی کے کسی سے )
ہاں کبھی طبعی ضعف ہوجاتا ہے مخلوق سے خوف کا وہ اس سے مستٖثنے ہے ایک بادشاہ نے ایک بزرگ سے گفتگو کرتے ہوئے حالت غیظ میں کہا کہ کوئی ہے بزرگ نے بھی انتقاما کہا کہ کوئی ہے اس کے کہنے کے ساتھ ہی ایک کو نے میں نہایت زبرد ست شیر نکلا اور باد شاہ پر حملہ کر نے چلا باد شاہ تو شیر کے خوف سے بھاگا ہی تھا مگر یہ بزرگ بھی ٖڈر کر بھاگے یہ طبعی خوف ہوتا ہے ایسے ہی موسی ؑ نے جس وقت اپنا اعضا زمین پرٖ ڈالا اور اس کا اژدھا بن گیا تو خود ہی خوف کھا کر بھاگے حق تعالی فرماتے ہیں لاتخف انی لا یخاف لدی المرسلون (اے موسی ڈرو نہیں اور ہمارے حضور میں پیغمبر ڈرا نہیں کرتے ) تو موسی علیہ السلام پر بھی خوف طاری ہوا یہ طبعی خوف ہوتا ہے بعض لوں نے زمانہ تحریک خلافت میں میرے متعلق
کہا کہ یہ گورنمنٹ تو پھر قوت کی چیز ہے میں توسانپ سے ڈرتا ہوں بچھوں سے ڈرتا ہوں بھڑ سے ڈرتا ہوں تو یہ خوف طبعی ہے مستثنے ہے ۔
(ملفوظ 3)مسئلہ تصور شیخ نہایت نازک ہے :
ایک مولوی صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ تصور شیخ کا مسئلہ نہایت نازک مسئلہ ہے تصور شیخ کو جوبعض حضرات نے منع کیا ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ بعض کی قوت خیالیہ بڑھی ہوئی ہوتی ہے اس سے کبھی شیخ کی صورت متمثل ہوکر منکشف ہوجاتی ہے اور اس کو حاضر ناظرسمجھنے لگتا ہے اسی لیے حضرت حاجی صاحب ؒ فرمایا کرتے تھے کہ عامی شخص کو کبھی ایسے اشغال نہ بتلائے جائیں جن سے کشف ہونے لگے صرف اور اولاد کی تعلیم مناسب ہے اس صورت میں اگرشیخ کی ہیت منکشف ہوگئی اسی طرح شیخ کی صورت متمثل ہونے پر شاغل اگر عالم آدمی ہے تو حقیقت سمجھے گا چونکہ اس حقیقت کے مبادی اس کے ذہن میں ہیں مگر جاہل نہ سمجھے گا اس کا اعتقاد خراب ہوگا ۔
(ملفوظ2) وساوس کی طرف التفات کرنے کی مثال :
ایک مولوی صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ وساوس کی طرف التفات اور توجہ کرنا ہی مضر ہے اس کی مثال بجلی کے تار کی سی ہے بجلی کے تار کو ہاتھ لگانا چاہئے خواہ جزبا (پکڑنے کے لئے ) ہو یا دفعا ہو (الگ کرنے کے لئے ) ہروہ صورت میں لپٹے ہی گاہاں اس کی ایک صورت ہے وہ یہ کہ درمیان میں کوئی ایسی چیز حائل ہوجائے کہ بجلی کو دور کردے جسے لکڑی کے حائل ہونے سے اثر نہیں کرتی یہ ایک تدبیر نافع ہے اسی طرح یہاں بھی ایسی چیز کی ضرورت ہے اس کی صور ت یہ ہے کہ وساوس کے دفع کی طرف تو توجہ نہ ہو بلکہ یہ کرے کہ مثلا قرآت کے وقت اس کے الفاظ کی طرف متوجہ رہے اس طرح سے کہ الحمد للہ رب العلمین کے بعد الرحمن الرحیم ہے اس کے بعد مالک یوم الدین ہے چند روز تو اس صورت میں تعجب ہوگا مگر پھر سہولت سے عادت ہوجانے پر تعجب بھی نہ ہوگا مگر یہ سب باتیں کرنے سے تعلق رکھتی ہیں محض زبانی جمع خرچ سے کچھ نہیں ہوتا اور نہ ہاتھ لگتا ہے یہ زبانی جمع خرچ ایسا ہے جیسے ایک مہاجن مفلس تھا مزاحا فرمایا کہ میں ان کو مہاجن کہا کرتا ہوں بیٹھا ہوا کارخانہ کا حساب کررہا تھا ایک مہزب سائل آیا خاموش کھڑا رہا اس خیال سے کہ اس وقت سیٹھ جی حساب میں مشغول ہیں فارغ ہونے پر سوال کرونگا دیرتک کھڑا ہوا حساب کے الفاظ سنتارہا دوا اور دو چار اور چھ دس دس کا صفر حاصل ہوا ایک دس اور دوبارہ بارہ کے دو ہاتھ لگا ایک غرض کہ کہیں حاصل اور کہیں ہاتھ وہ سائل گنتا یا پانچ ہوئے دس ہوئے بچاس ہوئے سو ہوئے اب سائل خوش تھا کہ یہ تو اقراری مجرم ہے یعنی تمول کا اقراری ہے ٹھہر کر وصول کروں گا دینے سے عذر کرہی نہیں سکتا اب لالہ جی حساب سے فارغ ہوکر بیٹھے تو سائل نے کہا سیٹھ جی میں حاجت مند ہوں مجھے بھی کچھ دلوایئے لالہ جی بولے کہ میاں میرے پاس کیا رکھا ہے اس نے کہا کہ کیوں جھوٹ بولتے ہو خود میرے ہی سامنے سینکڑوں ہزاروں حاصل ہوئے اور ہزاروں ہاتھ لگے دو گھنٹہ سے تو میں کھڑا ہوا سن رہا ہوں اور برابر جوڑتا رہا ہوں کئی سو بلکہ کئی ہزار تک نوبت پہنچ چکی ہے اس اقرار کے بعد جھوٹ کہ میرے پاس کو ایک پیسہ بھی نہیں لالہ جی نے کہا کہ میاں مجھ کو جوحاصل ہوا اور ہاتھ لگے وہ لفظوں ہی میں حاصل ہوا حقیقت میں نہ کچھ حاصل ہو ااور نہ ہاتھ لگے تو حضرت نرے زبانی جمع خرچ سے نہ کچھ حاصل ہوگا اور نہ کچھ ہاتھ لگے گل اس سے کام نہیں چل سکتا کام چلتا ہے کام کرنے سے کام کرو سب دشواریاں آسان ہوجائیں گی وساوس کے زیادہ ہجوم کاسبب بے فکری ہے کسی خام (کچے ) یا دوالے حافظ سے جورمضان شریف میں قرآن شریف تراویح میں سناتا ہو اور بولنے کے خوف سے سوچ سوچ کر یڑھ ریا ہو دریافت کرو کہ تجھ کو بھی قرات کے وقت کوئی وسوسہ آتا ہے یا نہیں وہ یہی کہے گا کہ تم وساوس لیے پھرتے ہو یہاں اپنی بھی خبر نہیں رہتی بجزکلام پاک کے کہ اس میں غرق ہوجاتا ہوں کہیں متشابہ نہ لگ جاوے توزیادہ سبب وساوس کا بے فکری ہے ۔
(ملفوظات 1 )قوت حافظہ کے لئے مجرب عمل :
ایک صاحب نے عرض کیا کہ حضرت میرے ایک لڑکا ہے اس کو قوت حافظہ کی کمی کی شکایت ہے فرمایا کہ ہمارے حضرت حاجی صاحب رحمتہ اللہ علیہ اس کے لئے یہ فرمایا کرتے تھے کہ صبح کے وقت روٹی پر الحمد شریف لکھ کر کھلایا جائے حافظہ کے لئے مفید ہے میں نے اس میں بجائے روٹی کے بسکٹ کی ترمیم کردی ہے کیونکہ بوجہ ملاست (چکنا ہونیکے ) اس پر لکھنے مین سہولت ہوتی ہے پھر ایک سوال پر فرمایا کہ حضرت کم ازکم چالیس روز کھانے کو فرمایا کرتے تھے اسی سلسلہ میں فرمایا کہ ان تعویز گنڈوں میں عامل کی قوت خیالیہ کا بہت زیادہ اثر ہوتا ہے کلمات کی قید نہیں چنانچہ حضرت سید صاحب بریلوی تعویذ میں صرف یہ لکھ دیا کرتے تھے خدا وند اگر منظور داری حاجتش رابر آری جس کام کے لئے دیتے حق تعالی پورا فرمادیتے ایک صاحب نے حضرت حاجی صاحب رحمتہ اللہ علیہ سے عرض کیا کہ حضرت اس عبارت کو یوں کردیا جاوے موزوں شعر ہوجائے
خدا وند اگر منظورداری بفضلت حاجت اورا براری حضرت نے فرمایا کہ ہاں بھائی تم شاعر ہو تم اسی طرح کرلیا کرو ہم بزرگوں کے کلام میں تصرف کرنا خلاف ادب سمجھتے ہیں ان کو حضرت نے بے ادب بنادیا مگر نہایت لطیف عنوان سے جیسے قرآن میں حق تعالی فرماتے ہیں ومالی لااعبد الذی فطرنی والیہ ترجعون (اور میرے پاس کونسا عذر ہے کہ میں اس کی عبادت نہ کروں جس نے مجھ کو پیدا کیا ) ان حضرات کی ہربات میں لطافت ہوتی ہے اگر معمولی سے معمولی بھی فرماتے ہیں اس میں بھی نور ہوتا ہے اثر ہوتا ہے ایسے ہی ایک شخص حضرت مولانا گنگوہی کی خدمت میں آیا اس نے ایک ضرورت کیلئے تعویز مانگا غالبا نکاح کرنا چاہتا تھا آپ نے انکا ر کردیا اس نے اصرار کیا آپ نے لکھ کردے دیا اے اللہ یہ مانتا نہیں میں جانتا نہیں آپ جانیں اور آپ کا بندہ بہت جلد وہ شخص اپنے مقصد میں کامیاب ہوگیا اور جیسے ان کی معمولی باتوں میں نور اور اثر ہوتا ہے ایسے ہی معمولی باتوں میں علوم بھی ہوتے ہیں ۔
( ملفوظ 558 )کفار کے لئے دائمی سزا کی وجہ
فرمایا بظاہر اس پر کہ کفار جہنم میں ہمیشہ رہیں گے یہ اعتراض ہوتا ہے کہ انہوں نے اتنا بڑا گناہ کون سا کیا کہ سزائے دائمی تجویز کی گئی کیونکہ زندگی محدود گناہ محدود ـ پھر سزائے غیر محدود کا کیوں حکم ہوا ـ جواب یہ ہے کہ کفر و شرک کی حقیقت ہے بغاوت ـ دنیا میں بھی قاعدہ ہے کہ سلاطین باغی کو جلا وطن عبور دریائے شور وغیرہ سزا دیتے ہیں ـ کیونکہ سلاطین اس کے کہ عمر بھر کے لئے دے سکیں زیادہ پر قدرت نہیں رکھتے اس وجہ سے زائد سے مجبور ہیں مگر اتنا ظاہر ہو گیا کہ بغاوت کی سزا غیر محدود ہونا چاہئے اور یہ امر بمقتضائے عقل ہے چناچہ جو سلاطین پابند ملت بھی نہیں وہ بھی ایسا کرتے ہیں یہ جواب تو الزامی ہے اس کی حقیقت میں غور کرنا چاہئے حق تعالی مالک حقیقی ہیں اور ان کے صفات غیر متناہی ہیں اور ہر صفت کا ایک حق ہے اب جو شخص ایسے مالک جامع کمالات غیر متناہی کے حقوق کو ضائع کے گا اس کی سزا بھی غیر متناہی ہونا چاہئے پس یہ سزا عین موافق عقل کے ہوئی ـ
الحمدللہ حصہ سوم الافاضات الیومیہ کا تمام ہوا ـ
( ملفوظ 557 )اسلام تلوار سے نہیں پھیلا
فرمایا یہ اعتراض کہ اسلام بزور شمشیر پھیلا ـ محض غلط ہے اس وجہ سے کہ اسلام میں اول جزیہ حکم ہے جب جزیہ قبول کر لیا اب تلوار مسلمان نہیں اٹھا سکتا ـ اور اس سے بھی قطع نظر کی جائے تو قابل غور ہے کہ اسلام نے مخالفین کے ہاتھ میں ایک بہت بڑی ڈھال دے رکھی ہے وہ یہ کہ جب کوئی کلمہ پڑھ لے فورا چھوڑ دو تو اس طرح پر ہر کافر وقت پر مسلمان کی تلوار کو بند کر سکتا ہے مثلا کسی کافر نے کسی مسلمان پر خوب ظلم کیا ہو ـ ہاتھ پاؤں کاٹ دیئے ہوں اس کے اہل و عیال کو قتل کر ڈالا ہو غرض ہر طرح کا ظلم کیا ہو ـ اور باوجود ان مظالم کے پھر کون ایسا ہے کہ موقع ملے اور قدرت ہو اور بدلہ نہ لے ـ مگر اسلام میں ایسا حکم ہے کہ اگر اس شخص کا یا اس کے کسی یا رو مددگار کا اس پر قابو پڑ جائے اور وہ اس کا کام تمام کرنا چاہئے اور زبان سے کلمہ شریف پڑھ لے اور قرائن سے معلوم بھی ہو کہ دل سے نہیں پڑھا تب بھی حکم ہے کہ تلوار مت اٹھاؤ یہ کتنی بڑی ڈھال مخالف کے ہاتھ میں ہے پس جس مذہب کا یہ قانون ہو اس میں کیسے ممکن ہے کہ اسکی ترقی تلوار سے ہو سکے اب فرمائیے کہ اسلام بزور شمشیر کیونکر پھیلا ـ
( ملفوظ 556 ) سلطنت شخصی یا جمہوری ؟
فرمایا بعض لوگ آیت : وشاورھم فی الا مر سے یہ استدلال کرتے ہیں کہ سلطنت شخصی ہو ما خلاف قرآن کے ہے شاورھم سے کثرت رائے مفہوم ہوتی ہے جو حاصل ہے سلطنت جمہوری کا مگر اس استدلال کی غلطی خود اس آیت کے اگلے جزو سے ظاہر ہے ـ واذا عزمت فتوکل علی اللہ جس سے ثابت ہوتا ہے کہ گو مشورہ مطلوب ہے مگر بعد مشورہ مدار محض آپ کے عزم اور رائے پر ہے اس سے تو بالعکس سلطنت کا شخصی ہونا ثابت ہوا البتہ یہ ضروری ہے کہ شخصی واحد پر مشورہ کا وجوب ثابت ہوتا ہے لیکن مدار کثرت رائے پر نہیں رکھا گیا بلکہ اس مستشیر ( مشورہ لینے والے ) اطلاق آیت سے اس کی بھی اجازت ہے کہ وہ بمقابلہ جماعت کے ایک کے مشورہ کو قبول کر کے اس کے موافق عزم کے لے ـ
( ملفوظ 555 )کھانے کے بعض مسنون آداب کی تحقیق
فرمایا حدیث شریف میں آیا ہے کہ : ما اکل رسول ا صلی اللہ علیہ وسلم علی خوان ولا سکرجۃ ولا خبز لہ رقاق یعنی رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے چوکی اور تشتری پر کھانا نہیں کھایا اور کبھی آپ کے لئے چپاتی پکی ـ مشہور یہ ہے کہ جس کام کو آپ نے نہیں کیا وہ نہ کرنا چاہئے اور اس قاعدہ کی اس سے تائید کی کہ عیدین میں مثلا اقامت اور اذان آپ کے وقت میں نہیں ہوئی لہذا جماعتا نہ کرنا چاہئے لیکن قاعدہ کلیہ یاد رکھنا چاہئے کہ ایک تو ہے عدم الفعل ( کسی کام کو نہ کرنا ) اور ایک ہے ترک الفعل ( کسی کام کو چھوڑنا ) ان دونوں میں بڑا فرق ہے پس عدم الفعل تو عدم قصد سے بھی ہوتا ہے اور ترک میں اس کے اعدام ( مٹانے ) کا قصد ہوتا ہے پھر یہ قصد جس مرتبہ کا ہوگا اسی قدر عدم الفعل سے تو اس کا کرنا نا جائز نہیں ہوتا بشرطیکہ اور کوئی قباحت شرعی لازم نہ آئے اور ترک الفعل البتہ نا پسندیدگی پر دال ہے اس حدیث میں اس امر کا بیان ہے کہ اس وقت ایسے تکلفات نہ تھے پس مدلول اس کا عدم الفعل ہے نہ کہ ترک الفعل اب اگر کوئی تشتری میں کھائے یا چپاتی کھائے جائز ہے مگر از راہ افخار نہ ہو میز پر کھانے میں چونکہ افخار و تشبہ کا قبح ہے وہ اس مستقل دلیل سے ممنوع ہوگا

You must be logged in to post a comment.