فرمایا کہ کسی نے دریافت کیا ہے کہ : لیغفرلک اللہ ما تقدم من ذنبک سے معلوم ہوتا ہے کہ نعوذباللہ آپ سے گناہ سرزد ہوئے ہیں فرمایا معاقب میں جواب میں یہ بات آئی کہ جب کوئی شخص نہایت خائف ہوتا ہے تو وہ ڈر کر کہا کرتا ہے کہ مجھ سے جو قصور ہو گیا ہو معاف کر دیجئے حالانکہ اس سے کوئی گناہ نہیں ہوا ہوتا اور دوسرا اس کی تسلی کے لئے کہدیتا ہے کہ اچھا ہم نے تمہارا سب معاف کیا اسی طرح چونکہ اس خیال سے آپ کو غم رہا کرتا تھا کہ مجھ سے کوئی لغزش نہ ہو حق تعالی نے تسلی فرمادی ـ
( ملفوظ 553 )اولاد کی موت پر رونا
فرمایا ایک شبہ ظاہری یہ ہوتا ہے کہ ہمارے حضور صلی اللہ علیہ وسلم حضرت ابراہیم علیہ السلام اپنے صاحبزادے کے انتقال پر روئے ـ اور بعض اولیاء اللہ کی حکایت ہے کہ وقت مصیبت کے انہوں نے الحمد اللہ کہا اور ظاہرا الحمد اللہ کہنے والے کا مرتبہ رونے والے سے زائد معلوم ہوتا ہے حالانکہ انبیاء کے مرتبے کو کوئی نہیں پا سکتا جواب اس شبہ کا یہ کہ حق فرزند یہ ہے کہ ایسے وقت اس پر روئے حق خالق یہ ہے کہ امر الہی پر صبر کرے ـ ہمارے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں کو جمع فرمایا حق فرزند بھی حق خالق بھی اور دونوں کو ادا فرمایا اور وہ بعض اولیاء اللہ مرتبے میں کم ہیں کہ ایک حق ان سے ادا ہوا اور دوسرا نہ ہوا اسی طرح حدیث میں ہے کہ قیامت میں بعض انبیاء بعض اولیاء اللہ پر رشک کریں گے ظاہرا اس پر بھی شبہ ہوتا ہے کہ افضل کو مفضول پر غبط کیوں ہوگا بات یہ ہے کہ غبط کئی قسم کا ہوتا ہے کبھی تو کمال کے فقدان سے سو یہ تو نہ ہوگا اور کبھی یہ سبب ایک کئی قسم کی عافیت کے مثلا کوئی بڑے عہدے پر ہو اور ذمہ داریوں کی کثرت سے یہ کہے کہ پانچ روپیہ والے مجھ سے اچھے کہ آرم سے تو ہیں اس قدر بار حساب کا تو ان پر نہیں حضرات انبیاء علیہم السلام کا رشک کرنا اسی طرح پر ہے کیونکہ انبیاء علیہم السلام کا بڑا مرتبہ ہے امت کی فکر میں مشغول ہوں گے اور بعض اولیاء اللہ ایسی مشغولی سے آزاد ہوں گے پس اس غبط کا یہ محل ہے ـ
( ملفوظ 552 )بندہ کا ارادہ کچھ نہیں
فرمایا ارادہ بندہ کا کچھ بھی نہیں حضرت علی فرماتے ہیں عرفت ربی بفسخ العزائم یعنی میں نے اپنے رب کو پہچانا ارادوں کے ٹوٹنے سے بسا اوقات انسان اپنے ارادوں میں ناکامیاب رہتا ہے ہزاروں ارادے مصمم کئے مگر کچھ نہ ہوا اسی واسطے ابن عطاء اسکندری فرماتے ہیں کہ ارید ان الا رید یعنی میں نے یہ ارادہ کر لیا ہے کہ ارادہ نہ کروں گا اس پر بعض لوگ شبہ کرتے ہیں کہ یہ عدم ارادہ بھی ازادہ ہی ہے انہوں نے خود کیا اچھا جواب دیا ہے کہ جس ارادہ کی نفی کی جارہی ہے وہ تو اس لئے قابل ترک ہے کہ وہ خلاف تفویض و رضا ہے اور عدم ارادہ کا خود عین تفویض و موافق رضا ہے اس لئے یہ منفی و قابل ترک نہیں ـ
( ملفوظ 551 ) حیات نبوی صلی اللہ علیہ پر ایک نکتہ
فرمایا ایک شخص نے حیات نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں مجھ سے گفتگو کی میں نے کہا جو لوگ مقتول فی سبیل اللہ ہیں ان کے حق میں ارشاد ہے بل احیاء عند ربھم اور جو لوگ فی سبیل اللہ سے بڑھ کر مقتول فی اللہ ہیں وہ کیونکر زندہ نہ ہوں اور اس نکتہ پر مدار مسئلہ کا نہیں اس میں حدیث صریح موجود ہے اور یہ تائید کے درجہ میں ہے ـ
( ملفوظ 550 )حضرت غوث پاک کا جنتی ہونا
فرمایا میرے پاس ایک مولوی صاحب اور ایک عامی آئے باہمی نزاع یہ تھی کہ مولوی صاحب فرماتے تھے کہ حضرت غوث پاک قطعی جنتی نہیں اور جاہل یہ کہتا تھا کہ اگر وہ جنتی نہیں تو پھر تو کون ہوگا ـ جاہل سے میں نے کہا کہ ہاں بھائی وہ جنتی نہ ہوں گے تو اور کون ہوگا مولوی صاحب مجھ سے لڑنے لگے کہ کیا دلیل ہے یقینا جنتی ہونے کی ـ میں نے کہا ذرا ٹھریئے پھر میں نے جاہل سے پوچھا کہ حضرت ابوبکر صدیق یقینا جنتی ہیں یا نہیں ـ اس نے کہا بلا شک وہ جنتی ہیں میں نے کہا کہ حضرت ابوبکر صدیق کا جنتی ہونا کیسے ثابت ہوا کہنے لگا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد سے پھر میں نے کہا کہ حضرت غوث اعظم کا جنتی ہونا کیسے ثابت ہوا کہنے لگا کہ اولیائے امت کی شہادت مقبولیت سے میں نے کہا رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد میں اولیاء اللہ کے ارشاد میں کچھ فرق ہے یا نہیں اس نے کہا کہ بہت ہے میں نے کہا اتنا ہی اثر دونوں ارشادوں کے اثر میں ہے یا نہیں کہنے لگا کہ ضرور ہے میں نے کہا کہ اتنا ہی فرق حضرت ابوبکر صدیق کے جنتی ہونے میں اور حضرت غوث پاک کے جنتی ہونے میں ہے یا نہیں کہنے لگا کہ ہاں ہے میں نے مولوی صاحب سے کہا کہ حضرت جو آپ کا عقیدہ ہے وہی اس کا بھی ہے صرف فرق عنوان کا ہے یہ اس کو یقینی کہتا ہے آپ غلبہ ظن ـ باقی اصل معنوں میں دونوں متفق ہیں جب حضرت ابوبکر صدیق کے جنتی ہونے کا مرتبہ یقینی سے حضرت غوث پاک کے جنتی ہونے کا مرتبہ متنزل مانتا ہے اسی کا نام عدم قطعیت ہے مولوی صاحب بہت خوش ہوئے مقصود اس حکایت سے یہ ہے بلا ضرورت عوام الناس کو متوحش بنانا اور بلا دلیل ان پر بدگمانی کرنا اچھا نہیں ـ
( ملفوظ 549 )واقعہ طاس اور حضرت عمر
ایک مہمان نے اس واقعہ کے متعلق استفسار کیا کہ بروقت وصال حضور رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم نے دوات قلم مانگا اور عمر نے کہا کہ کیا ضرور بجواب اس کے ارشاد فرمایا کہ یہ اعتراض صرف حضرت عمر پر نہیں بلکہ اس میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم پر بھی حق کا اعتراض لازم آتا ہے آپ پر تبلیغ احکام فرض تھی اگر کوئی حکم واجب تھا تو آپ نے کیوں نہ ظاہر فرمایا اگر اس وقت دوات قلم نہیں آئی تھی تو دوسرے وقت منگوا کر تحریر فرما دیتے ـ کیونکہ آپ کئی روز اس واقعہ کے بعد زندہ رہے ہیں چناچہ یہ واقعہ پنجشنبہ کا ہے اور وفات دہ شنبہ کو ہوئی اس سے معلوم ہوا کہ حضور کو کوئی نیا حکم ارشاد فرمانا نہ تھا بلکہ کسی امر قدیم کی جدید و تاکید تھی چونکہ حضرت عمر سمجھ گئے اس لئے آپ نے گوارا نہ کیا فرمایا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم تکلیف فرمائیں ـ اس کی ایسی مثال ہے کہ طبیب کسی کو زبانی نسخہ بتلا دے پھر براہ شفقت کہے کہ قلم دوات لاؤ لکھ دوں اور مریض یہ دیکھکر کہ اس وقت ان کو تکلیف ہو گی کہے کہ کیا حاجت ہے اس وقت تکلیف مت دو اور جواب الزامی یہ ہے کہ قصہ حدیبیہ میں حضرت علی نے صلح نامہ لکھا ہے ـ ھذا اما قاضی علیہ محمد رسول اللہ کفار نے مزاحمت کی کہ ابن عبداللہ لکھو کیونکہ اس میں تو جھگڑا ہے اگر ہم رسالت تسلم کر لیں تو نزاع ہی کس بات کی حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی کرم اللہ وجہ سے فرمایا کہ اس کو مٹا دو انہوں نے انکار فرمایا پس ایسی مخالفت تو اس میں بھی ہوئی جس طرح حضرت عمر نے مخالفت کی تھی کہ جواب الزامی مجھے پسند نہیں مگر بطور لطیفہ کے اس وقت بیان کر دیا ـ
( ملفوظ 548 )معراج جسمانی پر ایک صاحب کے شبہات کے جواب
ارشاد فرمایا کہ رام پور میں ایک شخص نے سوال کیا کہ حضور صلی اللہ علیہ کو معراج جسمانی ہوئی تھی یا روحانی ـ میں نے کہا کہ جسمانی کہنے لگے کہ ثبوت میں نے کہا ـ سبحان الذی اسریٰ بعبدہ الایۃ اور ولقد راٰہ نزلۃ اخریٰ عند سدرۃ المنتھی اور حدیثیں کہنے لگے کیا یہ ممکن ہے کہ جسم انسانی ایسے طبقہ سے عبور کرے جہاں ہوا نہ ہو ـ میں نے کہا کہ ہاں ممکن ہے کہنے لگے کہ ثبوت ـ میں نے کہا کہ امکان نام ہے عدم الوجوب وعدم لامتناع کا جب وجوب و امتناع نہ ہوگا ـ تو امکان ثابت ہو جائے اور چونکہ امکان اصل ہے لہذا جو مدعی امتناع یا وجوب کا ہو دلیل اس کے ذمہ ہے ـ ہم اصل سے متمسک ہیں ـ ہمارے ذمہ دلیل نہیں ـ انہوں نے کہا کہ آج تک کوئی اور بھی گیا ہے ـ میں نے کہا کہ یہ نظیر کا مطالبہ ہے ثبوت کا نہیں ـ اور نظیر کا پیش کرنا مدعی کے ذمہ نہیں ہے علاوہ اس کے وہ بھی ایک واقعہ ہوگا اس کے لئے بھی نظیر کی ضرورت ہوگی ـ پھر اس نظیر ثانی کے لئے بھی نظیر کی ضرورت ہوگی ـ الی غیر النہایہ تو تسلسل لازم آئے گا اور وہ محال ہے اور اگر کسی نظیر کو کہ وہ ایک واقعہ ہے بلا نظیر آپ مان لیں گے تو اسی واقعہ کو بلا نظیر کیوں نہ مان لیجیوے کیونکہ ایک کے بلا نظیر ماننے میں اور ایک کے بلا نظیر نہ ماننے میں ترجیح بلا مرجح ہے ـ انہوں نے کہا کہ صاحب یہ تو بالکل محال ہوتا ہے ـ میں کہا مستعبد ہے محال نہیں اور مستبعد کو وقوع بطور خرق عادت کے ممکن ہے اور استبعاد اور چیز ہے استحالہ اور چیز ہے مگر وہ کسی طرح نہ سمجھے اپنی ہی ہانکتے رہے ـ یہ حکایت اس پر بیان کی تھی کہ آج کل اکثر لوگ جس درجہ کا سوال کرتے ہیں ـ اس درجہ کا فہم نہیں رکھتے ـ اس لئے جواب نہیں سمجھ سکتے اور خطا نکالتے ہیں ـ اہل علم کی کہ جواب نہیں دے سکیں ـ
( ملفوظ 547 ) ریاء قرائن سے معلوم ہو سکتی ہے
بعض لوگوں کو رسوم شادی میں جو بنا پر تفاخر صاحب تقریب کرتا ہے کسی کے شریک نہ ہونے پر یہ شبہ ہو جاتا ہے کہ ریا و نمونہ متعلق قلب کے ہے اور قلب کا حال معلوم نہیں ہو سکتا ـ بجواب اس کے ارشاد فرمایا کہ ریا جس طرح اظہار سے معلوم ہو سکتی ہے اسی طرح قرائن سے بھی معلوم ہو سکتی ہے حدیث میں آیا ہے ـ نھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عن طعام المتبارین یہ ظاہر ہے کہ فخر کرنے والے زبان سے نہیں کہتے کہ ہم فخر کے لئے کر رہے ہیں ـ پس اگر قرائن اس میں معتبر نہ ہوتے تو اس حدیث پر عمل کرنے کی کوئی صورت ہی نہیں ہوتی ـ اس سے معلوم ہوا کہ قرائن سے بھی فخر معلوم ہو سکتا ہے
( ملفوظ 546) متبرک چیز کے نقشہ کا جواز و شبینہ کا عدم جواز
مغرب کے فرضوں کے بعد فرمایا کہ آج مدت کے بعد ایک بڑا شبہ نماز میں حل ہوا ـ شبہ یہ تھا کہ نقشہ نعل شریف جو بزرگوں نے واسطے تحصیل برکت کے لکھا ہے اور زادالسعید کے آخر میں میں نے بھی اس کو نقل کیا ہے ـ اس نقشہ کے مطابق اگر کوئی چمڑے کا نعل بنا کر اس کا وہی ادب و معاملہ کرنے لگے جو کہ نقش سے کیا جاتا ہے تو آیا یہ معاملہ ٹھیک ہوگا یا نہیں ـ ہر چند کہ جی اس کو قبول نہیں کرتا تھا کہ چمڑے کے نمونہ نعل کے ساتھ وہ معاملہ کیا جاوے ـ جو کہ نقش کے ساتھ کیا جاتا ہے ـ مگر وجہ فرق کی بھی دونوں کے درمیان سمجھ نہیں آتی تھی ـ چونکہ شبہ میرے خیال میں بہت قوی تھا ـ اس لئے میں نے کسی پر ظاہر نہ کیا کہ امید نہیں تھی کہ جواب شافی میسر ہو سکے ـ مگر اللہ تعالی کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ آج نماز میں وہ شبہ حل ہو گیا اس کے حل ہونے سے اور باقی باتیں حل ہو گئیں ـ حل اس کا یہ ہے کہ نقش کا ادب اس وجہ سے ہے کہ وہ دال ہے اصل پر سو نقش کی تو وضع ہی نمونہ دکھلانے کے لئے ہے تو اس میں استقلال کا شبہ نہیں ہو سکتا ـ اسی لئے اس کو مناسبت بھی اصل سے کم ہے اور چمڑے کے نمونہ بنوانے میں چونکہ وہ ایک مستقل چیز ہو جائے گی ـ اس لئے غلو کا بھی اس میں اندیشہ زیادہ ہے ـ لہذا اس کے ساتھ وہ معاملہ درست نہ ہوگا ـ اس کی ایسی مثال ہے کہ مکہ معظمہ اور بیت اللہ اور مدینہ منورہ اور روضہ اطہر کے نقشوں سے اگر کوئی معاملہ تعظیم و تکریم اور حصول برکت کا کرے تو جائز ہوگا اور اگر کوئی بیت اللہ یا روضہ اطہر کے نمونہ کے مطابق مکان بنوا لے تو اس مکان سے وہ معاملہ نا جائز ہوگا کیونکہ اس مکان میں محاض نمونہ دکھلانا ہی نہیں ہے بلکہ خود اس میں ایک گونہ استقلال بھی ہے تو اس میں شدہ شدہ غلو کا بھی اندیشہ زائد ہے کہ چند روز میں اس کا حج و طواف نہ ہونے لگے ـ
( ملفوظ 545)داڑھی سے متعلق دندان شکن جواب
ارشاد فرمایا کہ ایک مرتبہ حضرت مولانا شہید سے کسی دہریہ نے کہا کہ داڑھی ایک زائد اور فضول چیز ہے ـ دلیل یہ ہے کہ پیدا ہونے کے وقت نہ تھی اس لئے اس کو ہرگز نہ رکھنا چاہئے ـ اس پر مولانا نےجواب دیا تو دانت بھی توڑ ڈالو مولانا عبدالحی صاحب بھی موجود تھے فرماتے ہیں کہ واہ مولانا کیا دندان شکن جواب دیا ـ

You must be logged in to post a comment.