ارشاد فرمایا کہ ایک صوفی غیر متشرع الہ آباد کے میرے پاس گنگوہ میں آئے اور پھولوں کا ایک ہار مجھے دے کر کہا کہ آج ایک باغ میں سے پھول لایا تھا کچھ تو حضرت شاہ عبدلقدوس صاحب کے ہاں چڑھائے اور کچھ اس میں کا بچا ہوا تمہارے پاس لے آیا ـ میں نے ان سے ان کے مذاق کے موافق کہا کہ اگر کوئی شخص نہایت لطیف المزاج اسی روپیہ تولہ کا عطر لگاتا ہو اور آپ اس کے پاس بالکل معمولی اور خراب چار آنہ تولہ کا عطر لے جاکر اس کے کپڑوں میں لگا دیں تو کیا اس کو ناگوار نہ ہوگا ـ سو یہ حضرت اولیاء اللہ جنت کے روائح ( خوشبوؤں ) سے مشرف ہو چکے ہیں اور ان روائح اور دنیا کے پانچ پھولوں میں یہی نسبت ہے تو ان کے قبور پر ان پھولوں کا چڑھانا ان کو کیسے گوارا ہوگا ـ یہ بات ان کی سمجھ میں آگئی اور توبہ کر لی اور کہنے لگے آئندہ ایسا نہیں کروں گا ـ
( ملفوظ 543)ایمان میں خوف عقلی کافی ہے
ارشاد فرمایا کہ ایک شخص نے شبہ لکھا تھا کہ حاکم مجازی کے سامنے بہت ڈرتا ہوں ـ اور اللہ تعالی سے اتنا خوف نہیں معلوم ہوتا اس سے شبہ ضعف ایمان کا ہوتا ہے ـ میں نے اس کا جواب لکھا تھا کہ یہ خوف طبعی ہے جس کا مدار مشاہدہ ہے تو حاکم مجازی کا زیادہ خوف بوجہ مشاہدے کے ہے اور اللہ تعالی کا چونکہ مشاہدہ نہیں ـ اس لئے زیادہ خوف نہیں معلوم ہوتا مگر انسان اس کا مکلف نہیں ـ وہ خوف عقلی ہے جو سب سے زیادہ خدائے تعالی ہی کا ہے اس لئے شبہ ضعف ایمان کا نہ کرنا چاہئے ـ
( ملفوظ 542)کافر بتانے اور کافر بنانے میں فرق
ارشاد فرمایا کہ بعض آزاد منش لوگ علماء پر اعتراض کرتے ہیں کہ یہ لوگوں کو کافر بناتے ہیں ـ میں یہ جواب دیا کرتا ہوں کہ بناتے نہیں ـ بتاتے ہیں ـ کافر بنتے تو وہ خود ہیں ـ
علماء بتلا دیتے ہیں ـ
( ملفوظ 541)تقلید شخصی کی ضروری ہونے کی وجہ
ارشاد فرمایا کہ قنوج میں ایک سب رجسٹرار ملے ـ ان کو تقلید شخصی اور طریق تصوف کے متعلق اس قسم کا تردد تھا کہ ان کو کسی تقریر تحریر سے شفا نہیں ہوتی تھی ـ انہوں نے وہ شبہات میرے سامنے پیش کئے ـ میں نے ان کو جواب دیا کہ اس سے بفضلہ تعالی ان کی بالکل تسلی ہو گئی ـ طریق تصوف کے متعلق ان کو یہ غلط فہمی تھی کہ وہ اشغال اور قیود کو تصوف سمجھے ہوئے تھے اور چونکہ وہ کتاب و سنت میں وارد نہیں ـ اس لئے تصوف کو بے اصل سمجھتے تھے ـ ان کو تصوف کی حقیقت سمجھا کر یہ سمجھایا کہ یہ قیود امور زائد ہیں کہ مصلحتا ان کو علاج کیطور پر برتا جاتا ہے ـ اس سمجھانے سے ان کی تسلی ہوگئی ـ اور تقلید کے بارے میں اس وقت ان سے وجوب اور عدم وجوب تقلید پر بحث نہیں کی گئی ـ صرف ان کو ایک مصلحت تقلید کی بتلائی ـ جس سے اس امر میں بھی ان کا پورا اطمنان ہو گیا ـ وہ مصلحت یہ تھی کہ پہلے زمانہ میں جبکہ تقلید شخصی شائع نہ تھی اتباع ہوا ( خواہش نفسانی ) کا غلبہ نہ تھا ـ اس لئے ان لوگوں کو عدم تقلید مضر نہ تھی بلکہ نافع تھی کہ عمل احتیاط کی بات کرتے تھے ـ بعد اس کے ہم لوگوں میں غلبہ اتباع ہوا کا ہو گیا ـ طبیعت ہر حکم میں اپنی نفسانی غرض کی موافقت کو تلاش کرنے لگی ـ اس لئے عدم تقلید میں بالکل اتباع نفس و ہوا نفس و ہوا کا رہ جائے گا جو کہ شریعت میں سخت مذموم ہے ـ سو تقلید مذہب معین اس مرض اتباع ہوا کا علاج ہے ـ
( ملفوظ 540)نا بالغ کا ایصال ثواب معتبر ہے
مولوی محمد صاحب متوطن بنگال نے پوچھا کہ نا بالغ کچھ پڑھ کر کسی کو بخش سکتا ہے یا نہیں فرمایا کہ ہاں بخش سکتا ہے ـ اس پر انہوں نے شبہ کیا کہ نا بالغ کا تبرع جائز نہیں ـ اس پر حضرت نے ارشاد فرمایا کہ وہ حکم مخصوص مال کے ساتھ ہے خواہ مال حقیقی ہو یا مال حکمی ہو اور ثواب مال نہیں جو اس کا تصرف غیر معتبر ٹھرایا جاوے دوسرے اس سے قطع نظر تصرف تین قسم کے ہیں ـ ایک نافع محض دوسرے ضار ( مضر ) محض تیسرے وجہ ضار من وجہ نافع ( یعنی ایک طرح نافع اور ایک طرح مضر ) سو نافع محض تو بدون ولی کی اجازت کے بھی معتبر ہیں اور ضار محض ولی کی اجازت سے بھی معتبر نہیں اور جو من وجہ ضار اور من وجہ نافع ہیں ـ وہ ولی کی اجازت سے معتبر ہو سکتے ہیں اور ایصال ثواب نافع محض ہے کیونکہ نا بالغ کا اس میں ذرا بھی ضرر نہیں ـ بلکہ اس کو ثواب ملے گا ـ
اس لئے اس کے درست ہونے میں شبہ نہیں ـ
( ملفوظ 539)شش عید کے دنوں میں فضائے روزہ
ارشاد فرمایا کہ بعض فقہائے متاخرین نے جو شوال کے چھ روزوں کے بارے میں یہ جزئیہ لکھا ہے کہ اگر ان ایام میں قضائے رمضان یا کفارہ یا نزر کا روزہ رکھ لے تو اس کے مضمون میں شش عید کی فضیلت بھی حاصل ہو جائے گی ـ سو یہ خلاف تحقیق ہے اور اس مسئلہ کی اصل صاحب مذہب سے کہیں منقول نہیں ـ محض متاخرین نے اس کا قیاس تحیہ الوضوء اور تحیۃ المسجد پر کیا ہے یعنی اگر وضو کر کے فرض پڑھ لے یا دخول مسجد کے بعد فرض پڑھ لے تو تحیۃ المسجد بھی ادا ہو گیا مگر یہ قیاس عند التامل الصادق ( پوری طرح غور کرنے کے بعد ) ٹھیک نہیں کیونکہ تحیتہ الوضوء اور تحیتہ المسجد کی مشروعیتہ میں حکمت و علت ہے ـ بخلاف صیام ایام مذکورہ کے کیونکہ یہاں خود فضیلت ان ایام کے صوم کی الگ مقصود ہے اور فرضیت اور وجوب قضائے رمضان و نذر کفارہ جدا مقصود ہے پس یہ قیاس مع الفارق ہے چناچہ حدیث میں جو وارد ہے کہ رمضان کے بعد ان چھ روزوں کے رکھنے سے ( ایسا ہوگیا ) گویا تمام سال روزے رکھے تو حدیث ہی میں اس کی وجہ بھی ارشاد ہوئی ہے کہ حق تعالی نے فرمایا کہ من جاء بالحسنۃ فلہ عشر امثالھا لہذا رمضان تو برابر دس ماہ کے ہو گیا اور یہ چھ دن برابر ساٹھ دن دو ماہ کے ہو گئے ـ سو جب چھ روزہ رمضان مثلا قضا ہو گئے اور ان کو شوال میں ادا کیا تو رمضان کے روزے تو اب پورے ہوئے دس مہینے کا ثواب اب ملا تو یہ ہی چھ روزے دو ماہ بقیہ کے قائم مقام کیسے ہو جائیں گے ـ
( ملفوظ 538) حدیث سید اشباب اھل الجنۃ پر ایک شبہ کا حل
ارشاد فرمایا کہ حدیث میں مضمون ہے : شباب اھل الجنۃ الحسن والحسین و سیدا کھول اھل الجنۃ ابوبکر و عمر :
امیں خدشہ ہو کرتا ہے کہ عمر تو مرد و امامین کی بھی کہولت کو پہنچی ہے کیونکہ حضرت حسن کا انتقال تقریبا پینتالیس برس کی عمر میں ہوا اور حضرت حسین قریبا چھپن ستاون برس کی عمر میں شہید ہوئے ـ پھر ان کو شباب کیسے فرمایا اور اگر اس کا جواب یہ دیا جائے کہ یہاں شباب شیخوخت ( بڑھاپے ) کے مقابلہ میں ہے چونکہ امامین کی عمر سن شیخوخت تک نہیں پہنچی اس لئے ان کو شباب فرمایا تو اس کی توجیہ تو ہو جائے گی مگر یہ وجہ شیخین میں بھی مشترک ہے پھر ان کو کہول کی کیا حکمت ہے ـ سو توجیہ اسکی یہ مناسب معلوم ہوتی ہے کہ حضرات شیخین وفات کے وقت کہول تھے ان کے مجموعہ وفاتین کے وقت یعنی جب حضرت عمر کی وفات ہوئی ہے ـ حضرت حسین شباب تھے پس لفظ شباب اپنے معنے پر رہے گا ـ
( ملفوظ 537)سورۃ یسین پڑھنے سے دس قرآن پڑھنے کا ثواب
ارشاد فرمایا کہ یہ جو حدیث شریف میں آیا ہے کہ ایک دفعہ یسین پڑھنے سے دس قرآن پڑھنے کا ثواب ملتا ہے ـ ایسے ہی بعض اور دوستوں کے پڑھنے کا ثواب مثلا ثلث قرآن یا ربع قرآن کا آیا ہے ـ اس پر ایک اشکال وارد ہوتا ہے کہ اگر ایک دفعہ یسین پڑھنے کا ثواب دس قرآن پڑھنے کا ہوا تو دس قرآنوں میں بھی تو یسین ہے ـ تو ان میں بھی یہی حساب ہوگا ـ پھر ان میں بھی چونکہ یسین ہے اس لئے یہ سلسلہ الی غیرالنھایہ چلے گا ـ اور یہ تسلسل محال ہو جائے گا ـ پس یہ تضاعف اجر ( اجر کا بڑھنا ، مستلزم ہے ) تسلسل محال کو اور مستلزم محال کو محال ہے ـ اس کو جواب مشہور یہ ہے کہ تضاعف اجر میں وہ دس قرآن مراد ہیں جن میں سورۃ یسین نہ ہو مگر میرے نزدیک یہ اس لئے بعید ہے کہ یسین جزو قرآن ہے اور انتفائے جزو سے انتفائے کل لازم ہے تو جب ان میں یسین نہ ہوئی تو وہ پورا قرآن کیسے ہوگا بلکہ اسکی قریب توجیہ یہ مناسب ہے کہ تضاعف اجر قراۃ حقیقیہ پر ہے پس جو یسین پڑھی گئی ہو اس کی قراۃ تو حقیقی ہے ـ اور جن دس قرآن کا ثواب اس میں ملا ہے ان کی قرات حکمی ہے اور اس حکمی پر تضاعف موعود نہیں ـ پس تسلسل لازم نہیں آیا ـ
( ملفوظ 536)ولا یفلح الساحر پر شبہ
ارشاد فرمایا ولا یفلح الساحرمیں شبہ ہوتا ہے کہ ساحر تو اکثر کامیاب ہوتا ہے پھر باوجود اس کے یہ ارشاد ہوتا ہے کہ ولا یفلح الساحر ـ میرے نزدیک یہاں پر ایک قید محذوف ہے جو قصہ موسی علیہ السلام و ساحرین سے معلوم ہوتا ہے ـ وہ یہ کہ ولا یفلح الساحر فی معارضتہ اممجزۃ ( یعنی ساحر معجزہ کے مقابلہ میں کامیاب نہیں ہو سکتا )
( ملفوظ 535)بروں کی صحبت سے اجتناب ہو تو ان کی اصلاح کیسے ہو گی ؟
ارشاد فرمایا کہ ایک صاحب نے پوچھا کہ شریعت میں نیک صحبت کا امر ـ اور بد صحبت سے نہیں آئی ہے ـ پس اگر کوئی برا آدمی کے پاس بیٹھے تو یہ برا آدمی تو بیشک نیک صحبت میں ہوگا ـ اس نے تو اس امر پر عمل کیا مگر وہ نیک اس برے آدمی کے پاس سے اگر نہیں بھاگتا تو نیک نہیں رہ سکتا کیونکہ مخالف ہوا صحبت بد سے نہیں اور اگر بھاگتا ہے تو وہ بد آدمی پھر نیک صحبت سے کیسے فائدہ حاصل کرے ـ حاصل یہ کہ اس طرح تو نیک صحبت کسی طرح میسر نہیں آ سکتی ـ میں نے جواب دیا کہ تجربہ اس کی شہادت دیتا ہے کہ طالب ہمیشہ متاثر ہوتا ہے اور مطلوب موثر یہاں بن کر اس نیک آدمی کے پاس آتا ہے بوجہ طالب ہونے کے وہ متاثر ہوگا ـ بس اس اجتماع سے وہ برا مشفع ہوا اور یہ نیک متضرر نہ ہوا اور اس نہی شرعی کا مقصود یہ ہے کہ تم بد کے طالب یعنی تابع بن کر اس کے پاس مت بیٹھو ـ اب اشکال نہ رہا ـ

You must be logged in to post a comment.