ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ بیبیوں کے باب میں جو ارشاد : وجعل بینکم مودۃ ورحمۃ ہے میں اس کے متعلق کہا کرتا ہوں کہ دو وقت ہیں ایک تو جوانی کا اس میں تو جوش خروش کا غلبہ ہوتا ہے یہ حاصل ہے مودت کا اور جب ڈھل گئے تو اس وقت ہمدردی کا غلبہ ہوتا ہے یہ حاصل ہے رحمت کا اور یہ بھی لغتہ محبت ہی کی ایک فرد ہے مگر عرف و محاورہ میں اس کو محبت کہتے نہیں اس کا نام عرف میں ہمدردی رحم مہربانی ہے اور یہ نکتہ اسی محاورہ پر مبنی ہے ـ
( ملفوظ 503)دوستوں کے ساتھ صبر و تحمل نہ کرنا
ایک صاحب کی غلطی پر مواخزہ فرماتے ہوئے فرمایا کہ دشمن کے ساتھ صبر و تحمل کرنا کمالات میں سے ہے مگر دوستوں کے ساتھ صبر و تحمل کرنا جب کہ اس سے ان کا دینی ضرر ہو عیوب میں سے ہے اس سے وہ جہل اور غلطی میں مبتلا رہیں گے اور اس غلطی میں مبتلا رہنے سے ان سے کدورت اور انقباض بھی پیدا ہوگا صورت دیکھتے ہی خیال ہوگا کہ پھر ستانے کو آئے ہیں اس لئے ضرورت ہے کہ دوستوں سے کبھی تحمل نہ کرے ان کی غلطیوں پر متنبہ کر دینا ہی دوستی اور موجب بقاء تعلق ہوگا اور یہ امور علم معاملات میں سے ہیں یہ اسرار نہیں البتہ امور مکاشفہ اسرار ہیں اس لئے اگر امور معاملہ کو چھپائے تو خیانت ہے اور امور مکاشفہ کو اگر ساری عمر بھی ظاہر نہ کرے تو کوئی مضرت نہیں ان پر کسی مقصود کا مدار نہیں
( ملفوظ 502)علماء کی اصلاح باطن کی طرف متوجہ نہ ہونا
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ علماء اکثر درس و تدریس میں مشغول رہتے ہیں مگر اس طرف توجہ نہیں کہ باطن کی اصلاح کریں گو درس و تدریس بھی بڑی عبادت ہے مگر اس کی بھی تو ضرورت ہے بلکہ خود درس و تدریس وغیرہ سب کچھ ان ہی اعمال مامور بہا کے لئے کرایا جاتا ہے ـ
( ملفوظ 501) عقل اور ذہانت میں فرق ہے
ایک صاحب نے عرض کیا کہ حضرت کیا ذہن سے عقل کو کوئی واسطہ نہیں فرمایا کہ عقل اور چیز ہے ذہانت اور چیز ہے اور بعضونکا ذہن چلتا ہے مگر حقیقت کو نہیں پہنچتا یہ کام عقل کا ہے ـ
( ملفوظ 500)اصل مدرسہ کو توکل کرنا چاہیئے
ایک صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ توکل بھی تو تقوی ہی کی ایک فرد ہے اور مثل کلی کے اس جزئی کی مستقل فضیلت بھی آئی ہے چناچہ جیسے یحب المتقین آیا ہے اسی طرح یحب المتوکلین بھی آیا ہے
یعنی جیسی محبت متقین کے ساتھ ہے ویسی ہی متوکلین کے ساتھ ہے تو اہل مدرسہ جیسے تقوی پر عمل کرتے ہیں ویسے ہی توکل پر عمل ہونا چاہئے دوسرے یہ کہ غیرت دین کو مصلحت مدرسہ پر غالب رکھنا چاہئے مدرسہ بھی تو تحفظ دین ہی مقصود ہے خود فی نفسہ تو مدرسہ مقصود نہں ہاں مقصود کا معین ہے ـ
( ملفوظ 499)محبت اور عشق کے ساتھ صحبت کامل ضروری ہوتی ہے
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ نری محبت اور عشق سے کام نہیں چلتا جیسے انجن کہ اس میں نری آگ ہونے سے کام نہیں چلتا انجن میں آگ تو رہے مگر یہ بھی شرط ہے کہ اسکو پیچھے کو نہ لیجائے سیدھا آگے کو لے جائے اسی کے لئے صحبت کامل کی ضرورت ہے وہ اس فن کا ماہر ہوتا ہے مشتبہ مواقع میں حقیقت کو جانتا ہے حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے سامنے جس وقت فارس کے سامنے جس وقت فارس کے خزائن پیش کئے گئے تو آپ نے حق تعالی سے عرض کیا آپ کا ارشاد ہے : زین للناس حب الشھوات الخ ۔ تو ان چیزوں کی محبت فطری ہے اے اللہ ہم اس کا ازالہ نہیں چاہتے اور ان کا یہ قول بڑے عارف ہونے کی دلیل ہے کیونکہ جب یہ فطری ہے تو اس کے پیدا کرنے میں مصلحت ہے تو اس کا ازالہ خلاف حکمت ہوگا اس لئے گو وہ محبت رہے مگر اے اللہ ہم یہ چاہتے ہیں کہ وہ محبت آپ کی محبت میں معین ہو جاوے کتنے بڑے کام کی بات ہے ہمارے حضرت حاجی صاحب رحمتہ اللہ علیہ فرمایا کرتے تھے کہ اخلاق رذیلہ امور فطریہ ہیں ان کے ازالہ کی ضرورت نہیں امالہ کی ضرورت ہے مثلا بخل ہے تو یہ اپنی ذات میں مذموم نہیں اگر مصرف صحیح میں اس کا استعمال ہو تو محمود بھی ہے مثلا کسی نے زکوٰۃ دینے میں بخل کیا تو یہ مذموم ہے اور اگر معصیت کے لئے کسی نے روپیہ مانگا اور اس کو نہ دیا تو یہ بھی لغتہ بخل ہی ہے مگر محمود ہے کیونکہ غیر مصرف میں صرف نہیں کیا ـ
26 صفر المظفر 1351 ھ مجلس بعد نماز ظہر یوم شنبہ
( ملفوظ 498)فضولیات سے قلب میں ظلمت پیدا ہوتی ہے
ایک صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ فضول کلام لغو کلام عبث کلام سب ایک ہی ہیں اس سے قلب میں ظلمت پیدا ہوتی ہے نورانیت فنا ہوتی ہے باطن کی استعداد برباد ہوتی ہے اس استعداد کے ضعیف ہونے کو بعض احادیث میں موت قلب کہا گیا ہے جسکا حاصل یہ ہے کہ قلب میں ایک نور ہوتا ہے وہ ضعیف ہو جاتا ہے اسی فرماتے ہیں ـ
دل زپر گفتن بیمرد در بدن گرچہ گفتارش بود در عدن
( ملفوظ 497)اللہ تعالی کا کاموں میں سہولت پیدا فرمانا
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ جس کام کا ارادہ کیا جاتا ہے اللہ تعالی اکثر اس میں سہولت پیدا فرما دیتے ہیں گاڑی نہیں اٹکتی سب کام ہو جاتے ہیں یہ ان کا فضل ہے احسان ہے ـ
( ملفوظ 496) دوسروں کے پیچھے بالکل نہ چلنا چاہیئے
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ لوگ بالکل اسکا خیال نہیں کرتے کہ ہمارے کسی کام سے کسی بات سے دوسروں کو تکلیف نہ ہو ایک شخص کو میں نے بالکل سیدھ میں ہو کر پیٹھ پیچھے چلنے سے منع کیا ممکن ہے کہ آگے چلنے والے کو جوتہ میں کوئی کنکر وغیرہ آ جائے اس کا نکالنے کے لئے یا اور کسی ضرورت سے رکنا پڑے اور پیچھے چلنے والا بے فکری سے چلتا رہے اور اس طرح تصادم ہو جائے اس پر ایک صاحب نے بیان کیا کہ ایک ڈپٹی صاحب آئے تھے میں انکے اوپر گرا ان کے چوٹ آئی فرمایا کہ جی ہاں ایسا ہی ہوتا ہے دو صاحب مرادآباد کے یہاں پر آئے تھے جو لوگ یہاں چارپائی بچھا کر طلبا ہوں یا ذکرین لیٹتے ہوں یہ قاعدہ ہے کہ نماز فجر سے قبل اٹھا لیجاویں ایک شخص نے نہیں اٹھائی میں نے مواخزہ کیا تو ان دو صاحبوں میں سے ایک صاحب نے دوسرے سے کہا کہ بڑی سختی ہے پھر وہ یہاں سے وطن کی واپسی کے ارادہ سے گئے سہارنپور جامع مسجد میں نماز کے لئے گئے وہاں اطراف میں برآمدے بنے ہیں مغرب کے بعد کسی ضرورت سے وہاں گئے کس قدر اندہیرا ہو گیا تھا اس برآمدہ میں ایک پلنگ بچھا ہوا تھا اس میں یہ ہی معترض صاحب الجھ کر گرے تو کہنے لگے کہ لوگ بڑے نا لائق ہیں یہ کوئی وقت تھا پلنگ بچھانیکا دوسرے صاحب نے کہا کہ وہی تھانہ بھون کا واقعہ یاد کرو تب کہا کہ بالکل ٹھیک ہے اب حکمت سمجھ میں آئی جب اپنے اوپر گزری ـ
( ملفوظ 495)اہل حاجت کی فوری ضرورت فورا پوری کرنا
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ بعض لوگ خلوت کی حفاظت کے لئے کواڑ بند کر کے بیٹھتے یہں اور میں لڑابھڑ کر جلوت میں خلوت کی حفاظت کر لیتا ہوں میں اس قسم کی حفاظت کو پسند نہیں کرتا اس لئے بعض اہل حاجت کو فوری ضرورت ہوتی ہے تو اسوقت اسکو نظر آنا چاہیئے فوری حاجت کی مثال یاد آئی ایک مرتبہ غالبا نصف شب کا وقت تھا پڑوس میں ایک مکان سے آواز آئی کراہنے کی برداشت نہ کر سکا اٹھ کر باہر آیا اس مکان کے دروازہ پر پہنچ کر پوچھا معلوم ہوا کسی کے درد زہ ہو رہا ہے مکان پر واپس آ کر تعویذ لکھ کر لے گیا سو ضرورت کے وقت تو اگر کوئی آدھی رات بھی آواز دے ذرہ برابر گرانی نہیں ہوتی جان بھی حاضر ہے مگر طریقہ سے لیکن اگر کوئی کام موخر ہو سکتا ہے یا پہلے سے کر سکتا تھا مگر نہیں کیا اسکی رعایت کرنے کو جی نہیں چاہتا باقی ضرورت کے وقت کبھی تساہل نہیں کرتا ـ

You must be logged in to post a comment.